تراجم عالمی ادب

The_White_Book_Han_Kang_Nobel_Prize_2024_Excerpt_from_Novel_Urdu_Translation
ناول کا باب

ابیض— ذہنی حالت

میری ماں کا پہلا بچّہ فوت ہو گیا تھا، مجھے حیات میں آنے کے بعد دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں بتا دیا گیا تھا۔
مجھے بتا دیا گیا تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی، ہلالی چاند جیسے چاولوں کے کیک ایسے سپید چہرے والی۔ گو وہ بہت چھوٹی تھی، ستوانسی، لیکن اُس کے نقوش کامل تھے۔ مَیں وہ لمحہ…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

گم شدہ بچہ

موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔

مزید پڑھیے
افسانہ

اجنبی شناسا

اُس نے اپنی کمر کو سہلائے جانے دیا، جس کے نچلے حصے پر پسینے کے قطرے تھے، اُس کابدن تیزآنچ پر جلائی گئی شکر کی خوشبو خارج کررہاتھا، خاموشی تھی، اُس کے تصور میں تھاکہ ایک آواز تک اُس کی یادداشت میں داخل ہوکر سب کچھ برباد کر دے گی،….۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)

میرے سیکنڈری ٹیچرز ٹریننگ سرٹیفکیٹ کا عملی امتحان، لیون (Lyon) شہر کے پہاڑی علاقے میں واقع، ایک سیکنڈری اسکول میں ہوا۔ یہ اساتذہ اور انتظامی عملے کا ایک ایسا اسکول تھا، جِس کی عمارت میں آرائشی پودوں کے گملے سجے ہوئے تھے۔

مزید پڑھیے
افسانچہ

مجھے یہاں  کی کسی شےکی حاجت نہیں

میں سب کچھ یہیں چھوڑ جاؤں گا: یہ وادیاں، یہ جبل، یہ راہیں اور چمن کے یہ نیل کنٹھ۔ میں یہیں چھوڑ جاؤں گا، یہ طاؤس و مینا، فلک و ارض اور بہار و خزاں۔ یہاں کی خارجی راہیں یہیں چھوڑ جاؤں گا، مطبخ کی شامیں، آخری فریفتہ نگاہیں، اور لرزا طاری کر دینے والی شہر سے ہمہ سمت نکلنے والی تمام حدیں…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

ناولچہ:دخترِ ثانی (دوسراحصہ)؍اَنّی اَیغنو؍نجم الدّین احمد

مجھے سولہ کے سن کی اپنی وہ دہشت زدگی بھی یادہے جب چچی مَیری لوئیس نے اتوار کی شراب کے نشے میں دُھت چُپ رہنے کااپنا قول فروگزاشت کر کے ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے، جس کی طرف میں نے تکاتک نہیں، مجھے بتایا کہ…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

جادو

اور میڈیم بلانکارڈ، مجھ پر یقین کیجیے کہ آپ اور آپ کے خاندان کے ساتھ خوش ہوں۔ یہاں ہر چیز پر سکون ہے۔ اس سے پہلے میں نے ایک کوٹھے پر کام کیا تھا — شاید آپ نہ جانتی ہوں کہ کوٹھا کیا ہوتا ہے؟ عام طور پر سبھی نے کبھی نہ کبھی اس کے بارے سنا ہوتا ہے۔…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

دریا کنارے

وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں پر سخت غصہ بھی آ رہا تھا۔
ہر رات میں گھنے اور بلند درختوں کے نیچے انہیں سمجھاتا— کبھی سختی سے، کبھی نرمی سے…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

آفاقی مقالہ

میں نے اس بارے میں بہت سوچا، اپنے دماغ پر زور ڈالا کہ پتا چلے اصل معاملہ کیا ہے— جیسے کہ ابھی آپ کے سامنے کوشش کر رہا ہوں— لیکن بہتر ہے اعتراف کر لوں کہ میں کامیاب نہیں ہوا: مجھے نہیں معلوم آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں،…۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version