تراجم عالمی ادب

Urdu_Translation_of_Natasha_Viladimir_Nabokov_Russian_Writer
افسانہ

نتاشا

سیڑھیوں پر ہال کی دُوسری طرف نتاشا کا سامنا اپنے پڑوسی بارن وُولف سے ہُوا۔ وہ لکڑی کے ننگے تختوں پر بہ مشقّت اُوپر چڑھتے ہُوئے کٹہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہُوئے اپنے مُنھ سے نرم آواز میں سِیٹی بجا رہا تھا۔
’’نتاشا، تم اتنی تیزی سے کہاں جا رہی ہو؟‘‘…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)

میرے سیکنڈری ٹیچرز ٹریننگ سرٹیفکیٹ کا عملی امتحان، لیون (Lyon) شہر کے پہاڑی علاقے میں واقع، ایک سیکنڈری اسکول میں ہوا۔ یہ اساتذہ اور انتظامی عملے کا ایک ایسا اسکول تھا، جِس کی عمارت میں آرائشی پودوں کے گملے سجے ہوئے تھے۔

مزید پڑھیے
ناول

ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب(دوسراحصہ)؍سیزر ایئرا؍منیر فیاض

گھوڑاکیکڑے کی طرح دائروں میں چکر کھا رہا تھا۔ ہزاروں بارودی خول اس کے اردگر د پھٹ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے جسم کے گرد ہالہ بنا رہے ہوں۔ ایسا ہالہ جو جانور کے ساتھ ہی حرکت کر رہا تھا مگر اسے چھیڑ نہیں رہا تھا۔ کیا آدمی اور اس کا گھوڑا چیخے چلائے؟ صدمے سے وہ ماؤف ہو چکے تھے…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

کوٹھڑی نمبر ۱؍شیما ماند رہ گوزی ایڈیجی؍عقیلہ منصور جدون

پچھلے دن اس کے سیل میں ایک بوڑھے آدمی کا اضافہ ہوا۔ … اس کا بیٹا مسلح ڈکیتی میں مطلوب تھا۔ اور جب پولیس کو بیٹا نہ مل سکا تو انھوں نے اسے بیٹے کی جگہ بند کر دیا۔ اس آدمی نے کچھ نہیں کیا تھا۔ نامابیا نے بتایا۔

مزید پڑھیے
افسانہ

بُڑھیا

بُڑھیا حقیقتاً بہت خوش تھی۔ آخر اُس نے ایک اچھی زندگی گُزاری تھی اور اُسے کبھی کسی شے کی تنگی نہیں رہی تھی۔ مثلاً صرف اُس صبح ہی اُسے پارک میں ایک ایسی جگہ پر اتنی مکمل جگہ ملی تھی جو نہ بہت سایہ دار تھی اور نہ بہت دھوپ والی،…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

مقام، ایک مرد کا (دوسرا حصہ)

ابا کو ہمیشہ نامناسب صورتِ حال یا شرمندگی سے دوچار ہونے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ایک دِن غلطی سے، وہ گاڑی کے درجہ اوّل والے ڈبے میں سوار ہو گئے، انسپکٹر نے اُن سے دونوں درجوں کا فرق وصول کیا۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

دخترِ ثانی (پہلا حصہ)؍اَنّی اَیغنو؍نجم الدّین احمد

لیکن تم میری بہن نہیں ہو، کبھی نہیں رہیں۔ ہم کبھی ساتھ کھیلے نہ کھایا، نہ اکٹھّے سوئے۔ میں نے کبھی ایک دُوسرے کو چُھوا نہ چُوما۔ مجھے تمھاری آنکھوں کا رنگ نہیں معلوم۔ میں نے کبھی تمھیں دیکھا تک نہیں۔ تم بے جسم، بے زبان ہو۔ چند سیاہ و سفید…۔

مزید پڑھیے
ڈراما

مسرت کا قرابہ

میرے پاس یہ جاننے کے لیے وقت نہیں تھا۔ سندباد، سراندیپ کے جزیرے پر جاؤ۔ چند دن پہلے مجھے ایک مرغول کاغذ ملا، جو میرے آباؤ اجداد چھوڑ گئے تھے، اس مرغول چرمی کاغذ پر ایک نقشہ بہت خوبصورت انداز میں بنایا ہوا تھا۔ اس میں سراندیپ کا ایک جزیرہ دکھایا گیا ہے، سندباد، اور…۔

مزید پڑھیے
ناول کا باب

حادثہ؍پیٹرک موڈیانو؍ریحان اسلام

آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔ یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔… جب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی…۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version