تراجم عالمی ادب

روسی ناول کا باب ۔پس پردہ۔فیو در دستوفسکی۔Fyodor Dostoevsky-
ناول کا باب

پس پردہ ؍فیو در دستوفسکی؍ خالد فتح محمد

میری عمر اس وقت چالیس سال ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ چالیس سال ایک پوری زندگی ہے؛ یہ کافی عمر رسیدگی ہے۔ چالیس سال کی عمر سے زیادہ جینا ایک بد تمیزی ہے؛ بیہودگی اور غیر اخلاقی ۔ چالیس سال کے اوپر کون جیتا ہے؟ اس کا خلوص اور ایمان داری سے جواب دیں…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

جادو

اور میڈیم بلانکارڈ، مجھ پر یقین کیجیے کہ آپ اور آپ کے خاندان کے ساتھ خوش ہوں۔ یہاں ہر چیز پر سکون ہے۔ اس سے پہلے میں نے ایک کوٹھے پر کام کیا تھا — شاید آپ نہ جانتی ہوں کہ کوٹھا کیا ہوتا ہے؟ عام طور پر سبھی نے کبھی نہ کبھی اس کے بارے سنا ہوتا ہے۔…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

نتاشا

سیڑھیوں پر ہال کی دُوسری طرف نتاشا کا سامنا اپنے پڑوسی بارن وُولف سے ہُوا۔ وہ لکڑی کے ننگے تختوں پر بہ مشقّت اُوپر چڑھتے ہُوئے کٹہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہُوئے اپنے مُنھ سے نرم آواز میں سِیٹی بجا رہا تھا۔
’’نتاشا، تم اتنی تیزی سے کہاں جا رہی ہو؟‘‘…۔

مزید پڑھیے
ناول

ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب(پہلاحصہ)؍سیزر ایئرا؍منیر فیاض

موہوم تقدیر! اسے کس طرح یہ یقین تھا کہ فطرت کی ہیئتی مصوری اسے بے مصرف اور پرعناد حسن کے سامنے بے یار و مدد گار چھوڑ کر کبھی متروک نہیں ہو گی؟ اس نے اساطیری اور دیومالائی کہانیوں میں پناہ لی۔ جنھوں نے اسے کوئی عملی بات تو نہیں سنائی مگر اسے کم از کم یہ معلوم ہو گیا کہ کہانی ہمیشہ چلتی رہتی ہے اور…۔

مزید پڑھیے
ڈراما

بارش سے اوٹ

ایک ریٹائرڈ بُوڑھا نمودار ہوتا ہے۔ چلتے ہُوئے وہ اپنا مُنھ صاف کرتا ہے، ہَیٹ اُتارتا ہے، ٹھیرتا ہے اور اُوپر آسمان کو اور پھر نیچے زمین کی سمت دیکھتا ہے۔ پتّوں پر گِرنے والی بارش کی آواز دِھیرے دِھیرے سُنائی دینے لگتی ہے۔ بُوڑھا ہَیٹ پہنتا ہے اور اَوٹ لینے کے لیے سڑک کے کنارے…۔

مزید پڑھیے
افسانچہ

کتابیں ساتھ لیے پھرنے والا آدمی

سچ ہے کہ کتاب رکھنے والے شخص کو بغیر کسی ڈر کے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، چاہے وہ معاشرہ ترقی پذیر ہو یا ترقی یافتہ۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میکونگ ڈیلٹا کے گاؤں فاٹ ڈٹ میں سائیکلوں کی مرمت کا کام کرنے والا اَن پڑھ پیئرے بوئی جہاں بھی جاتا اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھتا…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

دخترِ ثانی (پہلا حصہ)؍اَنّی اَیغنو؍نجم الدّین احمد

لیکن تم میری بہن نہیں ہو، کبھی نہیں رہیں۔ ہم کبھی ساتھ کھیلے نہ کھایا، نہ اکٹھّے سوئے۔ میں نے کبھی ایک دُوسرے کو چُھوا نہ چُوما۔ مجھے تمھاری آنکھوں کا رنگ نہیں معلوم۔ میں نے کبھی تمھیں دیکھا تک نہیں۔ تم بے جسم، بے زبان ہو۔ چند سیاہ و سفید…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

اجنبی شناسا

اُس نے اپنی کمر کو سہلائے جانے دیا، جس کے نچلے حصے پر پسینے کے قطرے تھے، اُس کابدن تیزآنچ پر جلائی گئی شکر کی خوشبو خارج کررہاتھا، خاموشی تھی، اُس کے تصور میں تھاکہ ایک آواز تک اُس کی یادداشت میں داخل ہوکر سب کچھ برباد کر دے گی،….۔

مزید پڑھیے
ناول کا باب

حادثہ؍پیٹرک موڈیانو؍ریحان اسلام

آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔ یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔… جب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

گاجر (دوسراحصہ)

سنہری گاجر چھپاک سے دریا میں جا گری ۔دریا کی تہہ میں ڈوب جانے سے پہلے یہ کچھ لمحوں کے لیے سطح پر تیرتی رہی ۔ پھر ڈوب کر سنہری ریت تلے دب گئی۔ جس مقام پر یہ دریا میں گری تھی وہاں دھند سی اڑنے لگی۔… اس کے ذہن پر وہ…۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version