
گم شدہ بچہ
موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔

موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔

اور میڈیم بلانکارڈ، مجھ پر یقین کیجیے کہ آپ اور آپ کے خاندان کے ساتھ خوش ہوں۔ یہاں ہر چیز پر سکون ہے۔ اس سے پہلے میں نے ایک کوٹھے پر کام کیا تھا — شاید آپ نہ جانتی ہوں کہ کوٹھا کیا ہوتا ہے؟ عام طور پر سبھی نے کبھی نہ کبھی اس کے بارے سنا ہوتا ہے۔…۔

جب تک کہ وہ سبزی خور نہیں ہوئی میں اپنی بیوی کو ہمیشہ اور ہر حوالے سے ایک نہایت عام عورت خیال کیا کرتا تھا۔ سچ بتاؤں تو پہلی ملاقات میں وہ مجھے کچھ خاص محسوس نہیں ہوئی تھی درمیانہ قد، تراشیدہ زلفیں (نہ ایسی لمبی کہ شبِ فراق کا گمان ہو اور نہ ہی بالکل چھوٹی کہ جیسے…۔

ایک رات جو اندھیری تھی، ایک چاند جو پورا تھا، نیند بھرا ایک بستر تھا۔ایک حرکت جو تیز تھی، ایک وجود جو ساکن کھڑا تھا، ایک جگہ جو کہ بھری ہوئی تھی، پھر وہاں کچھ نہیں تھا….۔

موہوم تقدیر! اسے کس طرح یہ یقین تھا کہ فطرت کی ہیئتی مصوری اسے بے مصرف اور پرعناد حسن کے سامنے بے یار و مدد گار چھوڑ کر کبھی متروک نہیں ہو گی؟ اس نے اساطیری اور دیومالائی کہانیوں میں پناہ لی۔ جنھوں نے اسے کوئی عملی بات تو نہیں سنائی مگر اسے کم از کم یہ معلوم ہو گیا کہ کہانی ہمیشہ چلتی رہتی ہے اور…۔

ایک ریٹائرڈ بُوڑھا نمودار ہوتا ہے۔ چلتے ہُوئے وہ اپنا مُنھ صاف کرتا ہے، ہَیٹ اُتارتا ہے، ٹھیرتا ہے اور اُوپر آسمان کو اور پھر نیچے زمین کی سمت دیکھتا ہے۔ پتّوں پر گِرنے والی بارش کی آواز دِھیرے دِھیرے سُنائی دینے لگتی ہے۔ بُوڑھا ہَیٹ پہنتا ہے اور اَوٹ لینے کے لیے سڑک کے کنارے…۔

سیڑھیوں پر ہال کی دُوسری طرف نتاشا کا سامنا اپنے پڑوسی بارن وُولف سے ہُوا۔ وہ لکڑی کے ننگے تختوں پر بہ مشقّت اُوپر چڑھتے ہُوئے کٹہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہُوئے اپنے مُنھ سے نرم آواز میں سِیٹی بجا رہا تھا۔
’’نتاشا، تم اتنی تیزی سے کہاں جا رہی ہو؟‘‘…۔

گُزشتہ روز میری ایک دوست نے مجھے اپنے ایک پڑوسی کی دُکھ بھری کہانی سنائی۔ اُس کے پڑوسی کی ایک آن لائن دوستی سروس کے ذریعے ایک اجنبی سے بات چیت شروع ہو گئی۔ اُس کا وہ دوست اُس سے سینکڑوں مِیل دُور شمالی کیرولینا میں رہتا تھا۔ دونوں میں پہلے پیغامات کا، پھر تصویروں کا تبادلہ…۔

اگرچہ میں نے کبھی برملا اظہار نہیں کیا لیکن مجھے اعتراف ہے کہ ذاتی طور پر مجھے خالہ کے شادی کے منصوبوں سے اختلاف تھا۔.. ہم چھوٹے تھے تبھی سے خالہ کو خاوند کی تلاش میں سرگرداں دیکھ رہے تھے۔…۔

شیخ حابی اپنے گھر کے سامنے چھوٹے سے باغ میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ ایک نوجوان بوجھل قدموں کے ساتھ بڑی مشکل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چہرہ گرد…۔