
بڑے بھائی، ہم شادی کر لیں؍مویان؍نجم الدّین احمد
اگرچہ میں نے کبھی برملا اظہار نہیں کیا لیکن مجھے اعتراف ہے کہ ذاتی طور پر مجھے خالہ کے شادی کے منصوبوں سے اختلاف تھا۔.. ہم چھوٹے تھے تبھی سے خالہ کو خاوند کی تلاش میں سرگرداں دیکھ رہے تھے۔…۔

اگرچہ میں نے کبھی برملا اظہار نہیں کیا لیکن مجھے اعتراف ہے کہ ذاتی طور پر مجھے خالہ کے شادی کے منصوبوں سے اختلاف تھا۔.. ہم چھوٹے تھے تبھی سے خالہ کو خاوند کی تلاش میں سرگرداں دیکھ رہے تھے۔…۔

مجھے سولہ کے سن کی اپنی وہ دہشت زدگی بھی یادہے جب چچی مَیری لوئیس نے اتوار کی شراب کے نشے میں دُھت چُپ رہنے کااپنا قول فروگزاشت کر کے ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے، جس کی طرف میں نے تکاتک نہیں، مجھے بتایا کہ…۔

میں نے اس بارے میں بہت سوچا، اپنے دماغ پر زور ڈالا کہ پتا چلے اصل معاملہ کیا ہے— جیسے کہ ابھی آپ کے سامنے کوشش کر رہا ہوں— لیکن بہتر ہے اعتراف کر لوں کہ میں کامیاب نہیں ہوا: مجھے نہیں معلوم آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں،…۔

میں بستر کے اندر تک گھس گیا۔ اپنے کانوں کے گرد تکیہ رکھا۔ لیکن اگلی آواز اس سے بھی زیادہ گرج دار تھی۔ا س سے پہلی ایسی گرج نہیں سنی تھی۔ میں نے اپنے بستر سے چھلانگ لگائی۔ میں مزید وہاں نہیں رک سکتا تھا۔ میں اندھا دھند صفائی کرنے والے لڑکے کے کمرے میں بھاگ گیا۔…۔

سب سے نزدیکی کلیسا جنوب مغرب میں چار کلومیٹر دور،پرانے ہوخ مائس کے کھیت میں تھا۔ لیکن وہ ایک ویران کھنڈر تھا، جس میں گھنٹی تھی نہ مینار— جوجنگ کے دوران گرچکا تھا۔ اورشہر اتنا دورتھا کہ وہاں سے کوئی آواز یہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی، وہ…۔

آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔ یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔… جب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی…۔

ایک ریٹائرڈ بُوڑھا نمودار ہوتا ہے۔ چلتے ہُوئے وہ اپنا مُنھ صاف کرتا ہے، ہَیٹ اُتارتا ہے، ٹھیرتا ہے اور اُوپر آسمان کو اور پھر نیچے زمین کی سمت دیکھتا ہے۔ پتّوں پر گِرنے والی بارش کی آواز دِھیرے دِھیرے سُنائی دینے لگتی ہے۔ بُوڑھا ہَیٹ پہنتا ہے اور اَوٹ لینے کے لیے سڑک کے کنارے…۔

خزاں کی ایک صبح ،ہوا بہت زیادہ مرطوب تھی ۔ شبنم کے شفاف قطرے گھاس اور چھتوں کی ٹائلوں پرجمے ہوئے تھے۔ چینی سکالر درخت کے پتے پیلے ہو چکے تھے اور اس درخت کی شاخ سے لٹکی زنگ آلود گھنٹی پر شبنم جمی ہوئی تھی۔

موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔

اور میڈیم بلانکارڈ، مجھ پر یقین کیجیے کہ آپ اور آپ کے خاندان کے ساتھ خوش ہوں۔ یہاں ہر چیز پر سکون ہے۔ اس سے پہلے میں نے ایک کوٹھے پر کام کیا تھا — شاید آپ نہ جانتی ہوں کہ کوٹھا کیا ہوتا ہے؟ عام طور پر سبھی نے کبھی نہ کبھی اس کے بارے سنا ہوتا ہے۔…۔