
بُڑھیا
بُڑھیا حقیقتاً بہت خوش تھی۔ آخر اُس نے ایک اچھی زندگی گُزاری تھی اور اُسے کبھی کسی شے کی تنگی نہیں رہی تھی۔ مثلاً صرف اُس صبح ہی اُسے پارک میں ایک ایسی جگہ پر اتنی مکمل جگہ ملی تھی جو نہ بہت سایہ دار تھی اور نہ بہت دھوپ والی،…۔

بُڑھیا حقیقتاً بہت خوش تھی۔ آخر اُس نے ایک اچھی زندگی گُزاری تھی اور اُسے کبھی کسی شے کی تنگی نہیں رہی تھی۔ مثلاً صرف اُس صبح ہی اُسے پارک میں ایک ایسی جگہ پر اتنی مکمل جگہ ملی تھی جو نہ بہت سایہ دار تھی اور نہ بہت دھوپ والی،…۔

وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں پر سخت غصہ بھی آ رہا تھا۔
ہر رات میں گھنے اور بلند درختوں کے نیچے انہیں سمجھاتا— کبھی سختی سے، کبھی نرمی سے…۔

موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔

ایک دولت مند خاتون کے پاس ایک خادمہ تھی۔ اُس خادمہ کے ذمے اُس کی بچّی کی نگہداشت تھی۔ بچّی چاند کی کرن کی طرح نرم و نازک، تازہ تازہ گری ہوئی برف کے مانند خالص اور سورج جیسی پیاری تھی۔ خادمہ بچّی سے اُتنا ہی پیار کرتی تھی جتنا وہ چاند، سورج اور اپنے خدا سے…۔

’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں— کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کرسکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے— آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو اپنا کام دیانت داری، دل جمعی اور…۔

وہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینے کے سامنے جوڑ لیتی ہے۔بھنویں سکیڑتی ہے اور تختہ سیاہ کی طرف دیکھتی ہے۔
’’ٹھیک ہے ، یہ پڑھو ۔‘‘ موٹے شیشوں اور سرمئی فریم کی عینک والے شخص نے مسکراتے ہوئے کہا۔
عور ت کے ہونٹ پھڑکتے ہیں۔ وہ اپنی زبان کی نوک…۔

جون اور میری محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔ دونوں کے پاس قابلِ قدر اور منافع بخش ملازمت ہے جسے وہ مشکل اور متحرک کر دینے والی پاتے ہیں۔ وہ ایک خوبصورت گھر خریدتے ہیں۔ جائیداد کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بالآخر وہ اپنے دو بچوں کے لیے ایک مرد آیا کا بندوبست…۔

گھوڑاکیکڑے کی طرح دائروں میں چکر کھا رہا تھا۔ ہزاروں بارودی خول اس کے اردگر د پھٹ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے جسم کے گرد ہالہ بنا رہے ہوں۔ ایسا ہالہ جو جانور کے ساتھ ہی حرکت کر رہا تھا مگر اسے چھیڑ نہیں رہا تھا۔ کیا آدمی اور اس کا گھوڑا چیخے چلائے؟ صدمے سے وہ ماؤف ہو چکے تھے…۔

ابا کو ہمیشہ نامناسب صورتِ حال یا شرمندگی سے دوچار ہونے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ایک دِن غلطی سے، وہ گاڑی کے درجہ اوّل والے ڈبے میں سوار ہو گئے، انسپکٹر نے اُن سے دونوں درجوں کا فرق وصول کیا۔

منّا کا جَمان اُسے جلا دیتا، جیسے پیشانی پر کسی نے دکھ کی باریک باریک لہریں پھیلا دی ہوں، جب وہ ننگے پاؤں سیڑھیاں چڑھتا، اس کے تلوے پہلے ہی چھل چکے ہوتے— بار بار کا آنا جانا، نویں پوتر چبوترے میں پجاری کی کوٹھی سے لے کر مندر…۔