تراجم عالمی ادب

Interview_László_Krasznahorkai_Nobel_Prize_Literature_2025_Urdu_Translations
نوبیل انعام یافتہ

لاسلو کراسناہورکائی: انٹرویو۔۱

یہ ناگہانی آفت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ اب مجھے نوبیل انعام ملنے کے بعد سیموئیل بیکٹ کے ردعمل کا خیال آتا ہے، کیا آپ کو اس نام نہاد رپورٹ کی کچھ یاد ہے؟ کوئی سوال نہ جواب۔ کیا آپ کو یہ جملہ یاد ہے: ’’کیسی ناگہانی آفت ہے۔‘‘

مزید پڑھیے
بُکر انعام یافتہ

بانو مشتاق، انٹرویو۔ ۱

میڈیا میں رپورٹ ہونے والے روزمرہ واقعات اور جو ذاتی تجربات میں نے خود سہے ہیں میرے لیے تحریک کا باعث رہے ہیں۔ ان عورتوں کے دکھ، تکالیف اور بے بس و بے کس زندگی میرے اندر ایک گہرا جذباتی ردعمل پیدا کر کے مجھے لکھنے پر اکساتی رہیں۔

مزید پڑھیے
بُکر انعام یافتہ

ڈیبورا سمتھ ، انٹرویو ۔ ۱

میرے خیال میں یہ اس امر کی دلالت ہے کہ کس شے نے کتاب اس قدر رسائی عطا کی۔ اس کا اب تک کم و بیش دس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔جبکہ حقیقتاً میں نہیں سمجھتی کہ خاص طور پرحقوقِ نسواں کا مطالعہ کرنا بڑی حد تک اصل کا پیغام ہے، کیونکہ جنوبی کوریا میں حقوق نسواں بہت کم مرکزی دھارے میں ہے بلکہ …۔

مزید پڑھیے
بُکر انعام یافتہ

ہن کانگ : انٹرویو۔۱

جب میں افسانہ لکھتی ہوں تو حسیات پر بہت زور دیتی ہوں۔ میں سماعت اور لمس جیسے وشد حواس بشمول بصری تصاویر کی ترسیل چاہتی ہوں۔ میں ان احساسات کو اپنے جملوں میں برقی رو کے مانند دوڑاتی ہوں، اور پھر عجب امر یہ کہ قاری اس رَو کو سمجھتا ہے۔ اس تعلق کا تجربہ میرے لیے ہر بار غیر معمولی رہا۔

مزید پڑھیے
شہرت یافتہ

ہاروکی مورا کامی: انٹرویو ۔ ۱ (دوسرا حصہ)

اسے اپنے تجربات کو زندہ رکھنا پڑتا ہے اور بالآخر وہ جس چیز کی تلاش میں ہوتا ہے اسے پا لیتا ہے۔ لیکن اسے یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہی چیز ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہی میرے ناولوں کا تحرک ہے۔ وہ چیزیں کہاں سے آتی ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ وہ مجھے…۔

مزید پڑھیے
شہرت یافتہ

ہاروکی مورا کامی: انٹرویو ۔۱ (پہلا حصہ)

اگر میں تخیلاتی ناول لکھتا رہتا تو میں ایک لکیر کا فقیر لکھاری ہی رہتا۔ لیکن میں مرکزی دھارے میں شمولیت چاہتا تھا۔ اس لیے مجھے ثابت کرنا تھا میں ایک حقیقت نگاری والا ناول بھی لکھ سکتا ہوں۔ پس میں نے وہ کتاب لکھی۔ میں جاپان کا…۔

مزید پڑھیے
نوبیل انعام یافتہ

ہن کانگ : انٹرویو – ۱

ہاں، آپ کو تو پتا ہے کہ مَیں کتابوں میں پلی بڑھی،اپنے بچپن ہی سے،کوریائی اور ترجمہ شدہ کتابوں میں بڑی ہوئی۔ پس، مَیں کہہ سکتی ہوں کہ میں کوریائی ادب کے ساتھ بڑی ہوئی، جو مجھے اپنے بہت قریب محسوس ہوتا ہے۔ اِس لیے مجھے توقع ہے کہ یہ…۔

مزید پڑھیے
نوبیل انعام یافتہ

جے ایم کوئٹزی : انٹرویو – ۱

’’وہ [مجھ پر] آشکار ہوئی…… مَیں سچ کہتا ہوں کہ حقیقی رُوح، جس کا بسیرا دل کے سب سے پوشیدہ گوشے میں ہے، اتنی شدّت سے کانپنے لگی کہ مَیں نے اُسے شدّومد سے محسوس کیا…… تب سے مَیں کہتا ہوں کہ [محبت] میری رُوح پر حکمران ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version