تراجم عالمی ادب

اجنبی شناسا۔ ازابیل الاندا ہسپانوی کہانی ترجمہ خالد فتح محمد
افسانہ

اجنبی شناسا

اُس نے اپنی کمر کو سہلائے جانے دیا، جس کے نچلے حصے پر پسینے کے قطرے تھے، اُس کابدن تیزآنچ پر جلائی گئی شکر کی خوشبو خارج کررہاتھا، خاموشی تھی، اُس کے تصور میں تھاکہ ایک آواز تک اُس کی یادداشت میں داخل ہوکر سب کچھ برباد کر دے گی،….۔

مزید پڑھیے
افسانہ

گم شدہ بچہ

موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔

مزید پڑھیے
افسانہ

ہائے عوام۔۔۔

’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں— کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کرسکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے— آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو اپنا کام دیانت داری، دل جمعی اور…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

جادو

اور میڈیم بلانکارڈ، مجھ پر یقین کیجیے کہ آپ اور آپ کے خاندان کے ساتھ خوش ہوں۔ یہاں ہر چیز پر سکون ہے۔ اس سے پہلے میں نے ایک کوٹھے پر کام کیا تھا — شاید آپ نہ جانتی ہوں کہ کوٹھا کیا ہوتا ہے؟ عام طور پر سبھی نے کبھی نہ کبھی اس کے بارے سنا ہوتا ہے۔…۔

مزید پڑھیے
ناول کا باب

درمیانی آواز؍ہن کانگ؍ریحان اسلام

وہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینے کے سامنے جوڑ لیتی ہے۔بھنویں سکیڑتی ہے اور تختہ سیاہ کی طرف دیکھتی ہے۔
’’ٹھیک ہے ، یہ پڑھو ۔‘‘ موٹے شیشوں اور سرمئی فریم کی عینک والے شخص نے مسکراتے ہوئے کہا۔
عور ت کے ہونٹ پھڑکتے ہیں۔ وہ اپنی زبان کی نوک…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

دخترِ ثانی (پہلا حصہ)؍اَنّی اَیغنو؍نجم الدّین احمد

لیکن تم میری بہن نہیں ہو، کبھی نہیں رہیں۔ ہم کبھی ساتھ کھیلے نہ کھایا، نہ اکٹھّے سوئے۔ میں نے کبھی ایک دُوسرے کو چُھوا نہ چُوما۔ مجھے تمھاری آنکھوں کا رنگ نہیں معلوم۔ میں نے کبھی تمھیں دیکھا تک نہیں۔ تم بے جسم، بے زبان ہو۔ چند سیاہ و سفید…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

مسّا

’’عین چہرے پر اُگے مسّے کے لیے جاتے ہوں گے، لیکن اپنی گردن کے نیچے اُگے مسّے کو ہٹوانے کے لیے شاید ہی کوئی ڈاکٹر کے پاس جائے گا۔ ڈاکٹر ہنسے گا۔ اسے پتہ لگ جائے گا کہ میں اس کے پاس اس لیے آئی ہوں کیونکہ میرے شوہر کو وہ مسّا پسند نہیں ہے۔ ‘‘…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

شائستہ محل کی سنگی سلیں

کنکریٹ کے جنگل سے، رنگ برنگی عمارتوں سے جو ماچس کی ڈبیوں کی طرح آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، دھواں چھوڑتی، ہارن بجاتی گاڑیوں سے جو دن رات اس طرح دوڑتی رہتی تھیں جیسے حرکت ہی زندگی کا واحد مقصد ہو، اور پھر لوگوں سے — لوگ، لوگ، لوگ — جن…۔

مزید پڑھیے
ناول کا باب

پس پردہ ؍فیو در دستوفسکی؍ خالد فتح محمد

میری عمر اس وقت چالیس سال ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ چالیس سال ایک پوری زندگی ہے؛ یہ کافی عمر رسیدگی ہے۔ چالیس سال کی عمر سے زیادہ جینا ایک بد تمیزی ہے؛ بیہودگی اور غیر اخلاقی ۔ چالیس سال کے اوپر کون جیتا ہے؟ اس کا خلوص اور ایمان داری سے جواب دیں…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

جمان ؍امل سنگھ ؍ محمد عامر حسینی

منّا کا جَمان اُسے جلا دیتا، جیسے پیشانی پر کسی نے دکھ کی باریک باریک لہریں پھیلا دی ہوں، جب وہ ننگے پاؤں سیڑھیاں چڑھتا، اس کے تلوے پہلے ہی چھل چکے ہوتے— بار بار کا آنا جانا، نویں پوتر چبوترے میں پجاری کی کوٹھی سے لے کر مندر…۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version