فسوں کاریاں
امریکی افسانچہ
گھر سے خط
جمیکا کنکیڈ
Jamaica Kincaid
تعارف و ترجمہ؍طوبیٰ اسماعیل
میں نے گائے کادودھ دھویا،مکھن نکالا،پنیرکوذخیرہ کیا، روٹی پکائی، چائے بنائی،کپڑے دھوئے، بچوں کو کپڑے پہنائے۔ بلی نے میاؤں میاؤں کی، کتابھونکا، گھوڑا ہنہنایا، چوہے نے چیں چیں کی، مکھی بھنبھنائی،پیالے میں مقیم سنہری مچھلی نے اپنے جبڑے پھیلائے۔ دروازہ زور سے بند ہوا، سیڑھیاں چرچرا ئیں، فریج نے گھوں گھوں کی، پردے اوپر کی طرف لہرائے، برتن ابل پڑا، چولھے سے گیس نے سُوں سُوں کی، برف سے لدی درختوں کی شاخیں چھت سے ٹکرا گئیں۔ میرا دل زور سے دھڑکا: دھک دھک! میری ناک پر پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے جمع ہو گئے، میرے بال روکھے ہو گئے، میری کمر پر تہیں جم گئی ہیں۔ میں ایک نئے وجود میں ڈھل گئی ہوں، ہونٹ کپکپانے لگے، گئے، آنکھوں سے پانی بہنے لگاہے، گال سوج گئے، پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے ہیں۔
میں گاؤں گئی تو کار خراب ہو گئی، میں واپس چلی آئی۔ کشتی چلی تو لہریں اٹھیں، افق ٹپکنے لگا، گودی چھوٹی پڑ گئی، ہوا چبھنے لگی۔ کچھ سر جھک گئے، کچھ رومال پھڑ پھڑائے۔ دراز بند نہیں ہوئے، نل ٹپک پڑے، پینٹ چھلکے کی طرح اترنے لگا، دیواروں میں شگاف پڑ گئے،کتابیں لڑھک گئیں۔ قالین اب سیدھا نہیں بچھتا۔ میں نے کھانا کھالیا، ہر نوالے کو بتیس بار چبایا،اور احتیاط سے نگلا۔ میرا ٹخنہ ٹھیک ہو گیا ہے۔
ایک رات جو اندھیری تھی، ایک چاند جو پورا تھا، نیند بھرا ایک بستر تھا۔ایک حرکت جو تیز تھی، ایک وجود جو ساکن کھڑا تھا، ایک جگہ جو کہ بھری ہوئی تھی، پھر وہاں کچھ نہیں تھا۔ ایک آدمی دروازے پر آیا اور پوچھا۔ ’’ کیا بچے ابھی تیار ہیں؟ کیا وہ اپنی ماں کے نام سے جانے جائیں گے؟ مجھے لگتا ہے کہ آپ بھول گئی ہیں کہ اگلے پیر کو میری سالگرہ ہے؟ کیا آپ مجھے ہسپتال میں ملنے آئیں گی۔‘‘ میں کھڑی ہوئی اور بیٹھ گئی اور پھر کھڑی ہو گئی۔ گھڑی سست ہو گئی۔ ڈاک دیر سے آئی۔ سہ پہر کو ٹھنڈبڑھ گئی۔ بلی نے اس کے کوٹ کو چاٹا،کرسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور دراز میں سو گئی جو بند نہیں ہوتا تھا۔
میں ایک کمرے میں گئی تو مجھے اپنی جلد میں کپکپی محسوس ہوئی اور پھر وہ تحلیل ہو گئی۔میں نے موم بتی جلائی اور کسی چیز کو حرکت کرتے دیکھا۔مجھے پتا چلا کہ وہ سایہ میرا اپنے ہی ہاتھ کا ہو سکتا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو ایک چیز کے طور پر محسوس کیا۔ ہوا تند تھی، گھر ہلنے لگا، مچ گئی، پھول دار پودے پھلنے پھولنے لگے ہیں۔ ممالیہ جیسے رینگنے والے جانور ختم ہو گئے۔ (کیا جنت اوپر ہے؟ کیا جہنم نیچے ہے؟ کیا میمنا اب بھی مسکین ہے؟ کیا شیر دھاڑتا ہے؟ کیا ندیاں شفاف بہہ رہی ہیں؟ کیا ہم بعد میں ایک دوسرے کو گہرا بوسہ دیں گے؟)جزیرہ نما میں اب بھی کچھ قدیم بحری جہاز لنگر انداز ہیں، کھیت میں بیل ساکت کھڑا ہے، گاؤں میں تیندوا اپنے شکار کا تعاقب کرتا ہے۔
مکان اونچا، ڈھانچہ مضبوط ہونے، زینہ خم دار بنانے والا ، اورکمرے میں کبھی کبھار روشنی لانے والی ہے۔ ہَیٹ اپنے سٹینڈ پر ٹنگے رہتے ہیں، کوٹ کھونٹیوں سے مردہ لٹکتے رہتے ہیں۔ سنبل ایسے لگتے ہیں جیسے وہ کھلیں گے، میں جانتی ہوں ان کی خوشبو زبردست ہوگی۔ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے، محور نہایت خیالی ہے۔ وادیاں پہاڑوں سے ملتی ہیں اورپہاڑ سمندر سے، سمندر دھرتی سے، اور دھرتی سانپ سے مماثلت رکھتی جس کے اعضاء اب گھٹا دیے گئے ہیں۔ میں نے چادر میں لپٹے ہوئے ایک آدمی دیکھا۔میں ایک کشتی میں بیٹھی تھی،اس نے مجھے دیکھ کر پیار بھری سیٹی بجائی۔ میں نے اپنی آنکھیں سکیڑیں، اس نے مجھے اپنے پاس بلانے کا اشارہ کیا۔ میں مڑی اور دور چلی گئی گویا مجھے پتا ہی نہ ہو کہ میں کیا کر رہی ہوں۔
۰۰۰

جمیکا کنکیڈ
جمیکا کنکیڈ (اصل نام: ایلین سنتھیاپورٹررچرڈسن) مئی؍ ۲۵؍ ۱۹۴۹ء میں سینٹ لوئیس میں پیدا ہوئیں ۔ آج کل وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں افریقی اور افریقی–امریکی ادب کی پروفیسر ہیں۔ وہ ایک مشہور کیریبین، امریکی مصنفہ ہیں جو اپنی زیرک اور ترنم سے بھر پور نثر کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے نو آبادیات ،شناخت ،جنس اور مادریت کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ایک برطانوی کالونی میں پروان چڑھنے کی وجہ سے ان کا عالمی نظریہ گہرائی سے تشکیل پایا ۔ ان کی تحریریں اکثر نو آبادیاتی زندگی کی پچیدگیوں اور سامراج کے نفسیاتی اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ نو عمری میں امریکا چلی گئیں ۔ نیویارک میں اشاعت شروع کی، جہاں ان کی مخصوص آواز کو اہمیت حاصل ہوئی۔
کینکیڈ کے بڑے کام بشمول اینی جون (۱۹۸۵)، لوسی (۱۹۹۰) اور اے سمال پلیس(۱۹۸۸) ، سوانح عمری، فکشن اور سیاسی تنقید کو یکجا کرتے ہوئے ذاتی بیانیے کو وسیع تر سماجی تبصرے کے ساتھ مدغم کرتے ہیں۔ ان کی تحریرں جذبات سے بھر پور ہیں۔ لیکن قارئین کو طاقت ، تاریخ اور مال واسباب پر سوال کرنے پر اکساتی ہیں ۔ کنکیڈ اپنے کام کے ذریعے نسائی ادب اور معاصر کریبین ادب میں سب سے زیادہ بااثر آوازوں میں سے ایک بن گئی ہیں۔
۰۰۰
طوبیٰ اسماعیل
طوبیٰ اسماعیل اگست؍۱۴؍۲۰۰۲ء کو ضلع لودھراں کی تحصیل دنیاپور کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد محمد اسماعیل خان ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ میٹرک کی تعلیم الااسلام پبلک گرلز ہائی سکول اڈہ ذخیرہ سے حاصل کی ۔ پھر انٹرمیڈیٹ کےلیے ابنِ سینا کالج دنیاپور کا انتخاب کیا۔ تعلیمی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گورنمنٹ گریجویٹ کالج دنیا پور سے اردو ادب میں بی ایس کیا اور اب NCBA&E ملتان کیمپس سےایم فل کر رہی ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے ہی اسکول وکالج میں منعقد ہونے والے علمی وادبی پروگراموں میں شرکت کرتی ہیں۔
طوبیٰ ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتی ہیں اور اب ترجمہ نگاری کر رہی ہیں۔ انھوں نے اپنے استاد ریحان اسلام صاحب سے متاثر ہو کر ترجمہ نگاری میں پہلی بار قلم آزمائی کی ہے۔ وہ لڈیا ڈیوس ڈیوس کی کہانی ’’انلائٹنمنٹ ‘‘ کا ترجمہ ’’روشن خیال‘‘ کے عنوان سے کر چکی ہیں۔ اپنے اس علمی و ادبی ذوق کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
۰۰۰
6 thoughts on “گھر سے خط ؍ جمیکا کنکیڈ ؍ طوبیٰ اسماعیل”
Congratulations Tooba
Thankio Sir g.❤️
Nice work. Umda trjma
شکریہ ۔
Fantastic flow nd marvellous story
Thanks.