فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا
اَنّی اَیغنو
Annie Ernaux
انگریزی سے ترجمہ؍مبشر احمد میر
پہلا حصہ
’’ستم زدوں کا آخری سہارا، اُن کا قلم ہے‘‘— ژاں جینٹ
میرے سیکنڈری ٹیچرز ٹریننگ سرٹیفکیٹ کا عملی امتحان، لیون (Lyon) شہر کے پہاڑی علاقے میں واقع، ایک سیکنڈری اسکول میں ہوا۔ یہ اساتذہ اور انتظامی عملے کا ایک ایسا اسکول تھا، جِس کی عمارت میں آرائشی پودوں کے گملے سجے ہوئے تھے۔ میں اسکول کی لائبریری میں، جس کے فرش پر ہلکے خاکستری رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا، بیٹھ کر اُس وقت تک، اُن کا انتظار کرتی رہی، جِس وقت وہ مجھے، اپنے حاصل کیے گئے علم کا عملی مظاہرہ کرنے کے لیے، بلانے آئے۔ مجھے ایک انسپکٹر اور دو ممتحنوں کے سامنے، ایک سبق پڑھا کر دِکھانا تھا، دونوں ممتحن فرانسیسی کے ممتاز استاد تھے۔ ایک عورت چہرے پر رعونت لیے، کسی تذبذب کا شکار ہوئے بِنا، طالب علموں کے پرچے جانچ رہی تھی۔ میں نے اگلے صرف ایک گھنٹے کے لیے تیرنا تھا، جِس کے بعد، مجھے اپنی تمام زندگی وہی کرنے کا اِذن مِلنا تھا، جو وہ عورت کر رہی تھی۔ میں نے بالزک (Balzac) کے ناول (Le Père Goriot) کی چھتیس سطریں، سطر نمبر کے حوالے سے، چھٹی جماعت کے ریاضی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کو سمجھائیں۔ اِس مرحلے سے گزرنے کے بعد ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں، انسپکٹر نے، جو دونوں ممتحنوں کے درمیان والی نشست پر براجمان تھا، مجھ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’تمھیں چاہیے تھا، کہ اُن طالب علموں کو ہانکتیں، کیا ایسا نہیں ہے؟‘‘ ممتحنوں میں سے ایک مرد تھا، جب کہ دوسری قریبی نظر کے چشمے اور گلابی جوتوں والی عورت تھی۔ اُن کے سامنے بیٹھ کر، میں مسلسل پندرہ منٹ انسپکٹر کے اعتراضات، توصیفات اور ہدایات سنتی رہی۔ میری توجہ اُس کی باتوں پر نہیں تھی، میں تو یہ سوچ رہی تھی، کیا اِس سب کا مطلب یہ ہے، کہ میں کامیاب ہو گئی ہوں۔ اچانک، وہ تینوں سنجیدگی کے ساتھ اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ اُنھیں دیکھ کر میں بھی تیزی سے کھڑی ہو گئی۔ انسپکٹر نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا، پھر براہِ راست میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’مادام، مبارک ہو۔‘‘ اِس کے ساتھ ہی، اُن دونوں نے بھی ’’مبارک ہو‘‘ دہراتے ہوئے، مجھ سے مصافحہ کیا۔ عورت مسکرا رہی تھی۔
بَس سٹاپ کی جانب، پیدل جاتے ہوئے، اِس منظر کو یاد کر کے، غصّہ آنے کے ساتھ ہی، میں کچھ شرمندگی بھی محسوس کر رہی تھی۔ میں نے اُسی دِن شام کے وقت، اپنے امی ابا کو یہ بتانے کے لیے، کہ اَب میں ایک باضابطہ استانی بَن گئی ہوں، خط لکھا۔ اپنے جوابی خط میں، میری امی نے لکھا، وہ میری کامیابی پر بہت خوش ہیں۔
……
اُس دِن کے ٹھیک دو مہینے بعد، میرے ابا فوت ہو گئے۔ اُس وقت وہ سڑسٹھ سال کے تھے اور میری امی کے ساتھ، سین میری ٹائم (Seine-Maritime) کے قصبے ای ویتوت (Yvetot) کے ریلوےسٹیشن سے نزدیک، ایک پُرسکون علاقے میں، اشیائے خورد و نوش کی ایک دُکان اور کیفے پر مشتمل چھوٹا سا کاروبار چلا رہے تھے۔ آنے والے سال، اُن کا عملی زندگی سے رٹائر ہونے کا ارادہ تھا۔ اکثر، جَب مجھے، اپریل کا وہ طوفانی دِن، جِس وقت میں، لیون کے اڈے پر کھڑی، بَس انتظار کر رہی تھی اور دَم گھٹنے والی گرمی والا جون کا مہینہ، جِس مہینے ابا کی وفات ہوئی تھی، یاد آتے ہیں، لمحے بھر کے لیے میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں، کہ اِن دونوں میں سے، کون سا واقعہ پہلے ہوا تھا۔
……
وہ اتوار کا دِن اور تیسرے پہر کے آغاز کا وقت تھا۔
سیڑھیوں پرِ، میری امی نمودار ہوئیں۔ وہ کھانے والے اُس رومال سے اپنی آنکھیں پونچھ رہی تھیں، جِسے دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد، اوپر جاتے ہوئے، ساتھ لے گئی ہوں گی۔ اُنھوں نے کھوکھلی آواز میں کہا۔ ’’سب ختم ہو گیا۔‘‘ اِس کے بعد کے چند منٹوں کے دوران کیا ہوا؟ مجھے کچھ یاد نہیں۔ صرف ابا کی آنکھیں، جو میرے عقب میں کہیں دور، کسی نامعلوم چیز پر مرکوز تھیں اور اُن کے مڑے ہوئے ہونٹ یاد ہیں، جِن سے اُن کے مسوڑھے نظر آ رہے تھے۔ میرا خیال ہے، میں نے اپنی امی کو، اُن کی آنکھیں ڈھانپنے کا کہا تھا۔ ہمارے علاوہ پلنگ کے پاس امی کے بہن اور اُن کے شوہر بھی موجود تھے۔ اُنھوں نے، ابا کا جسم ٹھنڈا ہونے سے پہلے، اُن کا بدن صاف کرنے اور شیو کرنے کی پیشکش کی۔ میری امی کی تجویز تھی، کہ ابا کو وہ سوٹ پہنایا جائے، جو اُنھوں نے تین سال پہلے میری شادی میں پہننے کے لیے خریدا تھا۔ ماحول میں سادگی تھی، جِس میں کوئی آہ و بکا نہیں تھی، کوئی رونا دھونا نہیں تھا، بَس میری امی کا سُتا ہوا چہرہ اور سُرخ آنکھیں تھیں۔ ہم پُرسکون انداز میں، سلیقے سے، ایک آدھ لفظ بولتے ہوئے، کام کر رہے تھے۔ میری خالہ اور خالو بار بار کَہ رہے تھے۔ ’’اُس نے جانے میں جلدی کی۔‘‘ یا ’’وہ کچھ ہَٹ کر نہیں دِکھ رہا؟‘‘ امی، ابا سے اِیسے مخاطب ہو رہی تھیں، جیسے وہ اَب بھی زندہ ہوں یا وہ کسی اور دور میں رہ رہی ہیں، جِس میں، وہ کوئی نومولود بچہ ہے۔ متعدد مرتبہ امی کے منہ سے ’’میرا بیچارہ مرد‘‘ کے الفاظ نکلے۔
ابا کی شیو کرنے کے بعد، اُن کی وہ قمیص اُتارکر، جو گزشتہ کئی دنوں سے، وہ پہنے ہوئے تھے، دُھلی ہوئی قمیص پہنانے کے لیے، میرے خالو نے اُن کے جسم کو سیدھا کر کے اوپر اُٹھایا۔ ابا کا سر، اُن کی عریاں چھاتی پر جھکا ہوا تھا، جِس کی باریک وریدیں، اُبھری ہوئی تھیں۔ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ، میں نے، اپنے ابا کا عضو دیکھا، جِسے پھرتی کے ساتھ قمیص کے دامن سے ڈھانپتے ہوئے، امی نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ ’’ جانو، اپنا ننگ چھپاؤ۔‘‘ ابا کے جسم کو صاف کرنے کے بعد، اُن کے دونوں ہاتھ جوڑ کر، ایک صلیبی مالا پررَکھ دیے گئے۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، میری امی یا خالہ میں سے کس نے کہا تھا ’’اب وہ ٹھیک دِکھتے ہیں۔‘‘ جس سے اُن کی مراد، دِل کَش یا قابلِ دید لگنا تھا۔ میں نے دُکان کے شٹر گرائےاور ساتھ والے کمرے میں سوئے ہوئے بیٹے کو اُٹھایا’’ “نانا، قیلولہ کر رہے ہیں۔‘‘
……
میرے خالو نے، ای ویتوت میں رہنے والے رشتہ داروں کو اطلاع دی، سَب اُسی وقت ہمارے گھر پہنچ گئے۔ وہ میرے اور امی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئے اور ابا کے پلنگ کے گرد کھڑے ہو گئے۔ چند لمحات کی خاموشی کے بعد، بَیک وقت سبھی ابا کی بیماری اور موت کے بارے میں بولنا شروع ہو گئے۔ جِس وقت وہ سیڑھیاں اُتر کر نیچےکیفے میں آئے، ہم نے مشروبات سے اُن کی تواضح کی۔
مجھے یاد نہیں، ابا کی موت کے تصدیق نامے پر دست خط کرنے کے لیے، کِس ڈاکٹر کو بلایا گیا تھا۔
چند گھنٹوں میں، میرے ابا کا چہرہ اتنا بگڑ گیا، کہ پہچانا نہیں جاتا تھا۔
……
دِن کے پچھلے پہر، جب میں نے خود کو کمرے میں تنہا پایا۔ کھڑکی کے پردے سے چھن کر آنے والی سورج کی روشنی، کمرے میں بچھے، کرمچ کے فرش پر پڑ رہی تھی۔ اَب وہ میرے ابا نہیں دِکھتے تھے، اُن کے معدوم ہوتے نقوش، جیسے ایک بڑی ناک میں ڈھل گئے تھے۔ وہ اپنے وجود کے گرد ڈھیلے ڈھالے انداز میں لٹکتے ہوئے سیاہ سوٹ میں، کسی پُشت کے بَل لیٹے ہوئے پرندے، جیسے لگ رہے تھے۔ اپنی موت کے فوراً بعد، خلا میں گھورتی ہوئی بڑی آنکھوں والا چہرہ، کہیں دور غائب ہو گیا تھا۔ میں اَب کبھی اُن کا چہرہ نہ دیکھ پاؤں گی۔
……
ہمیں جنازے، تکفین و تدفین کی کمپنی، دعائیہ تقریب، اطلاعات اور ماتمی لباس کی فکر پڑ گئی۔ میں نے محسوس کیا،اِن باتوں کا میرے ابا سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ اُن سے متعلق ایک ایسی تقریب سے تھی، جِس میں وہ کسی وجہ سے شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ میری امی سخت جھنجھلائی ہوئی تھیں۔ اُنھوں نے مجھے بتایا، اپنی موت سے ایک رات پہلے، میرے ابا، جو اَب بول نہیں سکتے تھے، بوسہ لینے کی خاطر، اُن کی جانب بڑھے تھے۔ امی کا کہنا تھا۔ ’’تم تو جانتی ہو، اپنی جوانی میں، دہ خوب صورت تھے۔‘‘
……
سوموار کے دِن بُو پھیلنا شروع ہو گئی۔ یہ کچھ ایسی تھی، جِس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا۔ پہلے یہ ہلکی تھی، پھر تیز ہوتےہوئے، پانی والے برتن میں ڈبوئے گئے پھولوں کی خوشبو پر حاوی ہو گئی۔
امی نے صرف جنازے کے وقت دُکان بند کی، ورنہ اُن کے گاہک کہیں اور چلے جاتے، جِس کی وہ متحمل نہیں ہو سکتی تھیں۔ میرے ابا کی نعش بالائی منزل میں رکھی ہوئی تھی اور زیریں منزل میں، میری امی گاہکوں کو ریڈ وائن اور سونف کی شراب پیسٹس (pastis) پیش کر رہی تھیں۔ شرفا میں پیاروں کو کھونے کے صدمے کا اظہار، وقار کے ساتھ خاموشی سے آنسو بہا کر کیا جاتا ہے، جب کہ میری امی اور اسی طرح ہمارے باقی ہم سائے، جس ماحول کے عادی تھے، اُس کا وقار یا رکھ رکھاؤ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اتوار کے دِن، میرے ابا کی موت سے، بدھ کو اُن کی تدفین تک، آنے والے مستقل گاہک ، کیفے میں بیٹھ کر مختصر الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہتے۔ ’’وہ روشنی کی مانند چلا گیا۔‘‘ کچھ ہلکے پھلکے لہجے میں تبصرہ کرتے۔ ’’بالآخر سیٹھ نے سامان باندھ لیا۔‘‘ موت کی خبر پر اپنے ردِعمل کے بارے میں، وہ ہمیں بتاتے۔ ’’ یہ سُن کر میں ہکا بکا رَہ گیا۔‘‘ یا کہتے۔ ’’مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔‘‘ وہ سب اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کرتے ہوئےمیری امی کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ یہ صرف اُس اکیلی کا دُکھ نہیں ہے ۔ اکثر گاہکوں نے، ابا کی صحت کی حالت میں، اُن سے اپنی آخری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے، اُس ملاقات کی تمام تفصیلات بیان کیں، جِن میں وہ وقت، وہ جگہ، اُس دِن کا موسم اور اُن کے ادا کیے گئے الفاظ، سب کچھ شامل ہوتا تھا۔ میرے ابا کی زندگی میں ہونے والی آخری ملاقات کی اتنی باریک تفصیلات کے بیان کا مقصد، یہ جتلانا تھا، کہ اُنھیں میرے ابا کی موت کا شدید صدمہ ہے۔ وہ شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، سیٹھ کو دیکھنے کی درخواست کرتے۔ میری امی نے ہر درخواست قبول نہ کی۔ وہ اچھے گاہکوں کے، جو سچی ہم دردی کے جذبات رکھتے تھے اور اُن بُرے گاہکوں کے درمیان تفریق کرتی تھیں، جو صرف اپنے تجسس کی تسکین چاہتے تھے۔ الوداعی احترام کا اظہار کرنے کے خواہش مند، تقریباً تمام مستقل گاہکوں کو میرے ابا کا جسدِ خاکی دکھایا گیا۔ البتہ قریب ہی رہنے والی ایک فور مین کی بیوی کو اِس بنا پر انکار کر دیا گیا، کہ ابا اُسے اور اُس کے بھنچے ہوئے ہونٹوں کو ناپسند کرتے تھے۔
تکفین و تدفین کرنے والا عملہ، پیر کے دِن آیا۔ تابوت کو باورچی خانے سے سونے کے کمرے میں جانے والی تنگ سیڑھیوں سے نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔ چناں چہ نعش کو ایک گھنٹے کے لیے بند کیے گئے کیفے میں رکھے گئے تابوت میں اُٹھا کر لانے کے بجائے، پلاسٹک میں لپیٹنے کے بعد سہارا دے کر نیچے اُتارا گیا۔ یہ ایک تھکا دینے والا کام تھا، اِس تمام عرصے میں وہاں موجود افراد، کام کو ڈھنگ سے کرنے، تنگ موڑ سے گزرنے کے بارے میں ہدایات دیتے رہے۔
اتور کے دِن سے، تکیے پر، جِس جگہ اُن کا سَر دھرا تھا، اُس جگہ گڑھا سا بَن گیا تھا۔ جَب تک اُن کا جسد وہاں موجود رہا، ہم نے کمرے کی صفائی نہیں کی۔ میرے ابا کے کپڑے اُسی کرسی پر پڑے ہوئے تھے، جِس پر اُنھوں نے رکھے تھے۔ میں نے اُن کے بالا پوش کی جیب کی زِپ کھول کر گزشتہ بدھ بنک سے وصول کیے گئے، نوٹوں کی دَتھی نکالی، دوائیاں پھینکیں اور کپڑوں کو دھلنے والے گندے کپڑوں کے ساتھ رکھ دیا۔
تدفین سے ایک دِن قبل، ہم نےتقریب کے بعد، کھانے کے لیے بچھڑے کا گوشت پکایا۔ مرنے والے کی تکریم کرتے ہوئے، تدفین میں شرکت کرنے والوں کو، خالی پیٹ واپس گھر نہیں بھیجا جا سکتا۔ میرے شوہر شام کے وقت وہاں پہنچے تو گرمی سے جھلسائے ہوئے تھے، وہ اُس سوگ میں شامل نہ ہو سکنے پر شرمندہ تھے۔ وہ خود کو اِس ماحول میں، پہلے سے بھی بڑھ کر اجنبی محسوس کر رہے تھے۔ ہم گھر میں موجود، اُس اکلوتے ڈبل بیڈ پر سوئے، جِس پر میرے ابا فوت ہوئے تھے۔
چرچ میں، ہمارے چند ہمسائے تھے، جِن میں گھر گرہستی والی عورتیں اور فیکٹری میں کام کرنے والے وہ کارکن تھے، جو ایک گھنٹے کی رخصت لے کر آئے تھے۔ قدرتی بات ہے، کسی دُکان دارنے، جنازے میں شامل ہونے کی زحمت نہیں کی، نہ ہی کسی ایسے اعلا عہدے دار نے تکلیف کی، جِن کا میرے ابا سے برسوں تعلق رہا تھا۔ ابا کبھی کسی کے لینے دینے میں نہیں پڑتے تھے، نہ ہی ٹریڈ یونین کا سالانہ چندہ دینے کے علاوہ، کسی قسم کی سرگرمیوں میں حصّہ لیتے تھے۔ تدفین کے تقریب میں اپنے خطاب کے دوران پادری نےاُنھیں محنت اور دیانت داری سے زندگی بسر کرنے والا قرار دیتے ہوئے ایک ایسا انسان کہا۔ ’’جِس نے کبھی کِسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔‘‘
اِس کے بعد مصافحوں کا دور چلا۔ تدفین کی رسوم کے نگران کی ایک غلطی کا کفارہ ادا کرتے ہوئے، ہم سے ہاتھ ملانے والے تمام افراد نے، دوبارہ ہم سے مصافحہ کیا۔ ممکن ہے، اُس نے سوگواروں کی زیادہ تعداد کا تاثر پیدا کرنے کے لیے یہ ترکیب استعمال کی ہو۔ مصافحوں کا دوسرا دور، تیزی سے، خاموشی کے ساتھ مکمل ہوا۔ جِس وقت قبر میں اتارتے ہوئے، تابوت رسوں سے لٹک رہا تھا، میری امی اُسی طرح زار و قطار رونے لگیں، جِس طرح میری شادی کے موقع پر، پادری کے خطبے کے دوران رونے لگی تھیں۔
……
ہم نے جنازے میں شریک ہونے والوں کے کھانے کا انتظام کیفے میں کیا، جہاں میزوں کو جوڑ کر ایک قطار میں کر رکھا گیا تھا۔ ہچکچاتے ہوئے، شروع ہونے والی گفتگو، بتدریج تکلفات سے آزاد ہونے لگی۔ بچہ جو پُرسکون نیند کے بعد تازہ دم ہو چکا تھا، ایک ایک مہمان کے پاس جا کر پھول، گول پتھر یا باغیچے سے ملنے والی کوئی چیز پیش کرنے لگا۔ میرے ابا کے بھائی، جو کمرے کے دوسرے سرے پر بیٹھے ہوئے تھے، چیختی ہوئی آواز میں، مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ’’یاد ہے، جب تمھارے ابا، تمھیں سائیکل پر بٹھا کر اسکول لے جاتے تھے؟‘‘ اُن کی آواز، میرے ابا کی آواز سے بہت ملتی تھی۔ تقریباً پانچ بجے مہمان رخصت ہو گئے۔ ہم نے خاموشی سے میزیں ہٹائیں۔ میرے شوہر نے شام کے وقت گھر جانے والی گاڑی پکڑی۔
……
کسی مرنے والے کے بعد کی جانے والی ضابطے کی کارروائیاں مکمل کرنے کی خاطر، میں چند دِن کے لیے امی کے پاس رُک گئی۔ جِن میں بلدیہ کے دفتر میں موت کا انداراج، تکفین و تدفین کی ادائیگی، تعزیتی خطوط کے جواب، امی کے نئے وزٹنگ کارڈ، بیوہ فلاں، چھپنے کے لیے دینا وغیرہ شامل تھیں۔ وہ دِن بے کیف، کھوکھلے اور سوچوں سے محروم تھے۔ کئی مرتبہ گلی سے گزرتے ہوئے، مجھے خیال آتا: ’’اَب میں بڑی ہو گئی ہوں۔‘‘ (میرے ماہانہ ایام شروع ہونے پر، میری امی کہا کرتی تھیں۔ ’’اَب تم بڑی ہو گئی ہو۔‘‘)۔
……
ہم نے ضرورت مندوں کو دینے کے لیے، ابا کے کپڑے جمع کیے۔ وہ جیکٹ، جسے وہ روزانہ پہنا کرتے تھے، کوٹھڑی میں لٹک رہی تھی۔ اِس میں مجھے اُن کا بٹوہ ملا، جِس میں کچھ رقم تھی، اُن کا ڈرائیونگ لائسنس تھا اور نچلی تَہ میں، اخبار کے تراشے میں لپٹی ہوئی ایک تصویر تھی۔ یہ ایک پرانی، دندانے دار کناروں والی تصویر تھی۔ تصویر میں، ٹوپیاں اوڑھے مزدور، تین قطاروں میں ترتیب سے کھڑے ہوئے تھے، سَب مزدور کیمرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ یہ ایک ایسی تصویر تھی، جو ہمیں تاریخ کی، اُن کتابوں میں ملتی ہے، جِن میں دو جنگوں کے درمیانی عرصے میں ہونے والی پاپولر فرنٹ (Front Populaire) کی صنعتی ہڑتال کی تفصیل بیان کی گئی ہو۔ میں نے پچھلی قطار میں کھڑے، پریشانی کی حد تک سنجیدہ نظر آنے والے، اپنے ابا کو پہچان لیا۔ اخباری تراشے میں، ٹیچرز ٹریننگ کالج، روئن (Rouen) میں داخلے کے امتحانات کے نتائج کی میرٹ لسٹ تھی۔ لسٹ میں، دوسرے نمبر پر میرا نام چھپا ہوا تھا۔
دھیرے دھیرے، میری امی نے حقیقت کو قبول کر لیا۔ اُنھوں نے، پہلے کی مانند گاہکوں کی خدمت جاری رکھنے کے ساتھ ہی روزانہ صبح دُکان کھولنے سے پہلے، قبرستان جانا شروع کر دیا۔ تنہا زندگی بسر کرنے کے نتیجے میں اُن کے چہرے پر قنوطیت جھلکنے لگی۔
……
اتوار کے دِن گاڑی کے ذریعے، گھر جاتے ہوئے، میں نے اپنے بیٹے کو تمیز سے بٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے، اُسے بہلانے کی کوشش کی۔ اعلا درجے میں سفر کرنے والےلوگ شور شرابے اور شرارتی بچوں کو پسند نہیں کرتے۔ اچانک مجھ پر یہ حیرت انگیز حقیقت منکشف ہوئی، کہ اَب میرا تعلق بھی بورژوا طبقے سے ہے، صرف یہی نہیں بَل کہ ایسا ہوئے، ایک زمانہ گزر چکا ہے۔
بعد میں، اُنھی گرمیوں کے دوران، جِن دنوں میں اپنی پہلی ملازمت کا انتظار کر رہی تھی، مجھے خیال آیا: ’’ایک دِن آئے گا، جب مجھے، اِس کی تفصیل بیان کرنا ہو گی۔‘‘ میری مراد اپنے والد، اُن کی زندگی اور ہمارے درمیان پیدا ہونے والی اُس خلیج کے بارے میں لکھنا تھا، جو میری نوجوانی کے ایام میں پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ اِس کا تعلق، بنیادی طور پر، طبقاتی تفاوت سے تھا، مگر یہ اُس سے کچھ ہَٹ کر بھی تھی، جیسے محبت میں کوئی ایسی دراڑ آ جائے، جس کی وضاحت نہ کی جا سکے۔
……
کچھ عرصے بعد، میں نے ایک ناول لکھنا شروع کیا، جِس کا مرکزی کردار میرے ابا تھے۔ ناول لکھنے کے دوران ہی میں بدمزگی محسوس کرنے لگی۔ تبھی مجھ پر اِس حقیقت کا ادراک ہوا کہ ناول لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر میں کسی ایسی زندگی کا احوال بیان کرنا چاہتی ہوں، جِس کی لگام ضروریات کے ہاتھ میں ہو، تو مجھے فن کاری کا مظاہرہ کرنے یا اِسے پُر کشش اور سنسنی خیز بنانے کا کوئی حق نہیں۔ مجھے اپنے والد کے الفاظ، اُن کی پسند و ناپسند، اُن کے اطور اور اُن کی زندگی کے اہم واقعات، مختصراً اُن کی شخصیت کے تمام بیرونی شواہد، جِن میں، میں بھی شامل ہوں، بیان کرنے ہوں گے۔
شاعرانہ استعاروں اور ذومعنی انشا پردازی سے گریز کرتے ہوئے، میں نے سیدھے سادے حقیقت پسندانہ اسلوب میں لکھنا شروع کیا۔ یہ وہی اسلوب تھا، جِس میں، میں اپنے والدین کو اپنی خیریت سے آگاہ کرتے ہوئے خط لکھا کرتی تھی۔
……
میرے ابا کی کہانی کا آغاز، بیسویں صدی کے آغاز سے چند مہینے پہلے، ساحلِ سمندر سے پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر، قصبے کاکس (Caux) کی ایک چھوٹی سے نواحی بستی میں ہوا۔ اُس زمانے میں بے زمین لوگ، علاقے کے زمین داروں کے ہاں ملازم ہوا کرتے تھے۔ میرے دادا، اِنھی زمین داروں میں سے ایک کی زمینوں پر گاڑی بان تھے، وہ گرمیوں میں فصلوں کی کٹائی اورخشک چارے کے گٹھے بنانے میں بھی مدد کرتے تھے۔ آٹھ سال کا ہونے کے بعد، اُنھوں نے اپنی پوری زندگی، اِس کے علاوہ کوئی، دوسرا کام نہیں کیا۔ سنیچر کی شام، وہ اپنی ہفتے کی اجرت، اپنی بیوی کے ہاتھ پر رکھ دیتے، جو اُنھیں اتوار کی چھٹی مناتے ہوئے، پانسے پھینکنے کا کھیل، ڈمینو (domino) کھیلنے اور شراب کے چند پیگ پینے کے لیے، کچھ رقم دے دیتی۔ جہاں سے، گھر لوٹتے وقت، وہ نشے میں دُھت اور شدید مایوس ہوتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر، وہ اپنی ٹوپی سے، بچوں کی ٹھکائی کرتے۔ وہ اکھڑ شخصیت کےحامل تھے، جِن سےاُلجھنے کا حوصلہ، کوئی نہیں کرتا تھا۔ یہ سَب اُن کی بیوی کو سہنا پڑتا تھا۔ اُن کا یہی گھٹیا پَن، اُن کی قوت تھا، جو اُنھیں غربت جھیلنے کی قوت دیتا اور یہ یقین دلاتا تھا، کہ وہ مرد ہیں۔ اپنے گھر میں کسی کو اخبار یا کوئی کتاب پڑھتا دیکھ کر، وہ غصّے سے آگ بگولا ہو جاتے۔ اُنھیں پڑھنا، لکھنا سیکھنے کا کوئی موقع نہیں ملا تھا۔ اِس کے برعکس وہ یقینی طور پر گِننا جانتے تھے۔
میں نے اپنے دادا کو صرف ایک مرتبہ بوڑھوں کی قیام گاہ میں دیکھا، جہاں تین مہینے بعد، وہ مرنے والے تھے۔ میرے ابا، میرا ہاتھ تھام کر، ایک بڑے کمرے میں بچھی ہوئی چارپائیوں کی قطار کے درمیان سے گزرتے ہوئے، خوب صورت گھنگریالے بالوں والے، ایک پستہ قد بوڑھے کے پاس لے گئے۔ وہ ایک مہربان دِل کا مالک انسان تھا، جو اپنی چمک دار آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے، مسلسل قہقہے لگا رہا تھا۔ میرے ابا نے چپکے سے پھلوں سے کشید کی ہوئی شراب (eau de vie) کا ایک پوا اُسے دیا، جِسے اُس نے اپنے بستر کی چادروں کے درمیان چھپا دیا۔
جب بھی میرے سامنے دادا کا ذکر ہوتا، اِس کا آغاز اِن لفظوں سے کیا جاتا تھا۔ ’’وہ پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے۔‘‘ گویا یہ تمہیدی کلمات، اُن کی زندگی اور شخصیت کو سمجھنے کی کلید ہوں۔ میری دادی نے مسیحی مشن سکول میں پڑھنا، لکھنا سیکھا تھا۔ بستی کی دوسری عورتوں کی مانند، وہ بھی روئن کی ایک فیکٹری میں کپڑا بننے لگی۔ چوں کہ بُنائی کے خام مال کو سورج کی روشنی سے بچانا ضروری سمجھا جاتا تھا، اِس لیے وہ فیکٹری کے جِس کمرے میں کام کرتی تھی، اُس میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا تھا اور سورج کی روشنی، اُن سوراخوں سے اندر آتی تھی، جو جَھریوں سے کچھ ہی بڑے تھے۔ وہ اپنے جسم اور گھر کی صفائی کا خاص خیال رکھتی تھی، جِسے ہماری بستی میں بہت بڑی خوبی سمجھا جاتا تھا۔ کپڑوں کو دھوتے وقت ہمسائے جائزہ لیتے کہ کپڑے کتنے صاف یا میلے ہیں، وہ یہ بھی جانتے تھے، کہ کس کے پیشاب کے برتن خالی کیے گئے ہیں۔ اگرچہ سبزے کی باڑ اور پتھر کی دیواروں کی مدد سے گھر، ایک دوسرے سےجدا کیے جاتے تھے، مگر لوگوں کی نظروں سے کچھ چھپا نہیں ہوتا تھا، اُنھیں یہ بھی معلوم ہوتا، کون، کِس وقت کیفے سے لوٹا ہے اور کِس عورت کی عدم موجودگی میں بھی اُس کے حیض آلود کپڑے نظر آ رہے ہیں۔
میری دادی کا اپنا انداز تھا۔ وہ تقریبات میں، اُس دور کے فیشن کے مطابق، گتے کے پیڈ والا لباس پہن کر شریک ہوتی تھی۔ دیہاتی عورتوں کی مانند، آسان سمجھ کر، کپڑے پہنے ہوئے، کھڑے کھڑے پیشاب نہیں کرتی تھی۔ اپنی زندگی کی چالیس کی دہائی تک پہنچنے کے بعد، جب وہ پانچ بچوں کو جنم دے چکی تھی، اُس پر مایوسی کے دورے پڑنے لگے، جِن کے دوران وہ دِنوں، کسی سے بات نہ کرتی تھی۔ بعد میں اُس کے ہاتھوں اور پاؤں میں گٹھیا ہو گیا۔ ٹھیک ہونے کی توقع لے کر، اُس نے سینٹ ریکیئر (Saint Riquier) اور سینٹ گلوم دی ڈیزرٹ (Saint Guillaume du Désert) کی زیارت کی، وہاں مجسمے پر کپڑے پھیر کر، اُس کپڑے کو اپنی سوجے ہوئے جوڑوں پر لپیٹا کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ اپنی ٹانگوں کو استعمال کرنے کے قابل نہ رہی۔ چناں چہ اُسے درگاہوں کی زیارت کرانے کے لیے، ایک چھکڑا کرائے پر لیا جانے لگا۔
اُن کی رہائش مٹی سے لپے فرش اور گھاس پھوس کی چھت والے، ایک چھوٹے مکان میں تھی۔ جِس کے فرش پر جھاڑو دینے سے پہلے، صرف پانی چھڑکنا کافی سمجھا جاتا تھا۔ اُن کی گزران، گھر میں پالی جانے والی مرغیوں اور صحن میں کاشت کی گئی سبزیوں پر تھی۔ میرے دادا، زمین دار کے ہاں سے، دودھ پنیر، لے آتے تھے۔ شمولیت مسیحیت (Confirmation) اور شادی کی تفریبات کے پروگرام مہینوں پہلے طے کر لیے جاتے تھے۔ اِن تقریبات میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی خاطر، تین تین دِن کھانا نہیں کھایا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ، ایک بچہ، جو سرخ بخار سےصحت یاب ہو رہا تھا، زبردستی ٹھونسی گئی، مرغی کی بوٹیاں، گلے میں پھنسنے کے نتیجے میں، قے کرتے ہوئے مر گیا۔ گرمیوں کے موسم میں، اتوار کی دوپہر، وہ لوگ گاؤں کے میلے میں جاتے، جہاں خوب کھیلتے کودتے اور ناچتے تھے۔ میلے میں، ایک دِن میرے ابا، چکنے کھمبے پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے، مگر وہاں بندھی، انعامات کی ٹوکری کھولنے سے پہلے، پھسلتے ہوئے نیچے آ گئے۔ ’’نالائق، گدھا۔‘‘ میرے دادا کو شدید غصّہ آیا، جو گھنٹوں نہ اُترا۔
مذہبی رسوم، جیسے عشائے ربانی، اتوار کی عبادت اور ایسٹر کی تقریب میں شرکت، اُن کی شخصیت میں آکسیجن کی مانند، وقار کا احساس پیدا کرتی تھیں۔ اتوار کے دِن، وہ اپنا بہترین لباس پہنتے، دولت مند زمین داروں کے ساتھ کھڑے ہو کر، مذہبی گیت گاتے اور چندے کی پلیٹ میں چند سکے ڈالتے۔ میرے ابا مذہبی گیت گانے والے لڑکوں کی منڈلی میں شامل تھے اور مذہبی تقریبات کے مواقع پر مدعو کیے جانے کی صورت میں، بڑے شوق سے پادری کے ہم راہ جایا کرتے تھے۔ اُن کو گزرتا دیکھ کر، لوگ احتراماً اپنے ہیٹ اتار لیتے تھے۔
اُس زمانے کے بچوں میں، پیٹ کے کیڑوں کا مرض عام تھا۔ جِس سے نجات کے لیے، اُن کی قمیص میں اندر کی جانب، ناف کے قریب ، لہسن سی دیا جاتا۔ سردیوں کے موسم میں، اُن کے کانوں میں، روئی ٹھنسی ہوتی تھی۔ پراؤسٹ (Proust) یا ماریس (Mauriac) کو پڑھتے ہوئے مجھے یقین نہ آتا کہ وہ اُس زمانے کے بارے میں لکھ رہے ہیں، جو میرے ابا کا بچپن تھا۔ اِس جہت سے، اُن کا زمانہ قرونِ وسطیٰ سے ملتا جلتا تھا۔
اسکول پہنچنے کے لیے اُنھیں دو کلو میٹر پیدل چل کر جانا پڑتا تھا۔ ہر پیر کے دِن، استاد اُن کے تراشے ہوئے ناخن، صفائی کا جائزہ لینے کے لیے، بنیان کا سامنے کا حصّہ دیکھنے کے علاوہ جوؤں کی عدم موجودگی کی تصدیق کرنے کے لیے، بالوں کا معائنہ کیا کرتا تھا۔ وہ سخت گیر مزاج کا حامل تھا، جو لڑکوں کی انگلیوں پر لوہے کے ڈنڈے سے ضربیں لگاتا تھا۔ لوگ، اُس کا احترام کرتے تھے، کیوں کہ اُس کے چند طالب علم اپنی میونسپلٹی سے پرائمری کلاسز میں کامیاب ہونے والے اولین طالب علم تھے، ایک یا دو تو ٹیچرز ٹریننگ کالج تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ سیبوں کی چنائی، گھاس کی کٹائی، چارے کی بندھائی اور موسم کے مطابق فصلوں کی کاشت اور برداشت کے مواقع پر میرے ابا اسکول نہ جا سکتے تھے۔ جب وہ اور اُن کے بڑے بھائی اسکول واپس جاتے، استاد اُن کی سرزنش کرتے ہوئے کہتا۔ ’’تمھارے والدین، اپنی مانند، تمھیں بھی جاہل بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ جیسے تیسے ابا نے پڑھنا اور لکھنا سیکھ لیا۔ وہ سیکھنا پسند کرتے تھے۔ ( کھانا، پینا کی مانند، اُس زمانے میں سیکھنا کی اصطلاح مروج تھی۔) اُنھیں تصویریں بنانے کا شوق تھا، انسانی چہروں کے علاوہ کبھی کبھار جانوروں کی تصویریں بھی بناتے تھے۔ بارہ سال کی عمر میں، جب وہ ابتدائی درجات کے آخری سال میں تھے، میرے دادا نے اُنھیں اسکول سے اُٹھا لیا، اور جِن زمینوں پر وہ خود کام کرتے تھے، اُنھیں بھی ملازم کروا دیا۔ کسی میں، فارغ آدمی کو کھلانے کی استطاعت نہیں تھی۔ ’’سب کا یہی حال تھا، کِسی کے ذہن میں اِس کا خیال تک نہیں آتا تھا۔‘‘
میرے ابا کی پہلی نصابی کتاب کا نام ، دو بچوں کا فرانس کا سفر (Le Tour de la France par Deux Enfants) تھا۔ اِس میں آپ کو عجیب و غریب جملے ملیں گے۔ مثال کے طور پر:
اِنسان کو اپنی برادری سے جُڑا رہنا چاہیے۔ (ایڈیشن ۳۲۶، صفحہ ۱۸۶)
غریبوں کو خیرات دینا، دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے۔ (صفحہ ۱۱)
جِس گھر میں محبت کی نعمت ہے، اُس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ (صفحہ ۲۶۰)
دولت کی سب سے اچھی بات، اِس کا دوسروں کی مشکلات کم کرنے میں کام آنا ہے۔ (صفحہ ۱۳۰)
غریب بچوں کے لیے، اِس کی نصائح درج ذیل تھیں:
محنتی آدمی، کبھی ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتا، اور دِن کے اختتام پر، اُسے معلوم ہوتا ہے، کہ ہر لمحہ اُس کے لیے کوئی نیا انعام لے کر آیا ہے۔ دوسری جانب کاہل شخص ، ہمیشہ کام ٹالنے کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے؛ وہ سوتا رہتا ہے، صرف بستر میں ہی نہیں، کھانے اور گفتگو کے دوران بھی خیالات میں کھویا رہتا ہے۔ دِن ختم ہو جاتا ہے اور اُس پر کھلتا ہے، اُسے کچھ نہیں ملا۔مہینے، سال اِسی طرح گزرتے جاتے ہیں، بڑھاپا، اچانک اُسے آ لیتا ہے، اِس کے باوجود، اُس نے، اَب تک کچھ نہیں بنایا۔
اسکول کی کتابوں میں سے صرف یہی کتاب تھی، جو اُنھیں یاد رہی۔ ’’بَہر حال، اِس میں لکھی گئی باتیں، ہمیں سَچ لگتی تھیں۔‘‘
……
اُن کے دِن کا آغاز، صبح پانچ بجے، گائیوں کا دودھ دوہنے سے ہوتا تھا، پھر اصطبل کی صفائی ہوتی، گھوڑوں کی مالش کی جاتی، شام کو ایک مرتبہ پھر دودھ دوہا جاتا۔ جس کے معاوضے میں اُنھیں سونے کی جگہ، کھانے کو روٹی اور کچھ خرچی ملنے کے علاوہ اُن کے کپڑے بھی دُھلتے تھے۔ وہ اصطبل کے اوپر، کسی چادر کے بغیر، فصلوں کی پرالی پر سوتے تھے۔ ساری رات، گھوڑوں کے فرش پر کُھر مارنے کی آوازوں میں، خواب دیکھتے گزرتی۔ اُنھیں اپنے والدین کا، وہ گھر یاد آتا، جو اَب اُن کے لیے ممنوعہ علاقہ تھا۔ جہاں بارہا، اُن کی وہ بہن، جو ایک گھر میں کُل وقتی ملازمہ تھی، اپنے سامان کی گٹھڑی اُٹھائے، ایک لفظ ادا کیے بغیر، باڑ کی دوسری جانب کھڑی دکھائی دی تھی۔ وہ کبھی بھی، ایک مرتبہ پھر، اپنے مالک کے گھر سے، بھاگنے کا سبب نہ بتا سکی۔ دادا، اُسے گالیاں دیتے۔ شام کے وقت، وہ اُسے پکڑ کر، ذلیل کرتے ہوئے، اُس کے مالکوں کے گھر چھوڑ آتے۔
میرے ابا، مزاجاً زندہ دِل اور کھلنڈرے تھے۔ وہ لوگوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور کہانیاں سنانے کے شوقین تھے۔ زمینوں پر، اُن کا ہم عمر، کوئی نہیں تھا۔ اتوار کے دِن، وہ اپنے بھائی کے ساتھ، جو گائیں چرانے کا کام کرتا تھا، عبادت کی تقریب میں، شامل ہوتے تھے۔ وہ دیہاتی میلوں میں شریک ہوتے، لڑکیوں کے ساتھ رقص کرتےاور پرانے ہم جماعتوں سے ملتے۔ ’’سب مشکلات کے باوجود، ہم خوش رہتے تھے، کیوں کہ ہمیں خوش رہنا تھا۔‘‘
……
لازمی قومی خدمت کا بلاوہ آنے تک، وہ بَطور کھیت مزدور کام کرتے رہے۔ کام کرنے والے کارکنوں کے اوقاتِ کار کا حساب نہیں رکھا جاتا تھا۔ کسان پیسہ پیسہ جوڑ کر بچت کرتے تھے۔ ایک دِن، ایک بوڑھے چرواہےکو کھانے کے لیے، گوشت کا جو پارچہ دیا گیا، اُس میں کیڑے کلبلا رہے تھے۔ یہ صورتِ حال، اُس کی برداشت سے باہر تھی۔ چرواہا کھڑا ہو گیا اور مطالبہ کیا، کہ اُن کے ساتھ کتوں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ اُسے گوشت کا ایک اور پارچہ دیا گیا۔ یہ ۱۹۲۵ء میں، انقلاب کے موضوع پر بننے والی سویت فلم، جنگی جہاز پوٹیم کِن (The Battleship Potemkin) تھوڑی تھی۔ جِس میں ناقص گوشت کھلانے پر، جہازی بغاوت کر دیتے ہیں۔
اکتوبر کی بوندا باندی میں، صبح پَو پھٹنے سے شام کا دھندلکا چھانے تک، سیبوں سے بھری ٹوکریاں، رَس نکالنے والی مشین میں اُلٹائی جاتیں، مرغیوں کی بیٹیں، بیلچوں کی مدد سے بالٹیوں میں ڈالی جاتیں، اِسی طرح کے مشکل حالت میں کیے جانے والے کام، جو جسم کا درجہ حرارت بڑھا کر پیاس بڑھا دیتے۔ دوسری جانب، کرسمس کے بعد بارہوں رات، ۵ جنوری کو کھایا جانے والا، شاہی کیک (galette des rois) ملتا تھا، جِسے روایتی طور پر بادشاہ بنانے والا سمجھا جاتا ہے، وَرموٹ المانک (Vermot almanac) میں چھپنے والے لطیفے تھے، گھروں میں کشید کی گئی سیب کی شراب تھی، مینڈک تھے، جنھیں تنکوں سے چھیڑا جاتا تھا، شاہ بلوط کی بُھنی ہوئی گریاں تھیں، ایسٹر کے برتوں کی تیاری کے سلسلے میں، منگل کے دِن گناہوں کے اعتراف کی تقریبات میں گایا جانے والا گیت تھا، ’’دَبے قدموں آؤ، ایک پین کیک، مجھے دو، پھر مجھے جاتا دیکھو۔‘‘ اِن خطوط پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ موسموں کا تیزی سے گزرنا تھا، چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھیں، دیہات کا سکون تھا۔
میرے ابا، جِن زمینوں پر کام کرتے تھے، وہ کسی اور کی تھیں۔ اِس زمین میں اُنھیں کوئی حُسن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ دھرتی ماں کی عظمت اور اِس طرح کے آدرش اُن کے لیے بے معنی تھے۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران، صرف میرے ابا جیسے کم عمروں اور بڑے بوڑھوں کا لحاظ کرتے ہوئے، اُن کو جنگی خدمات سے مستثنا کیا گیا۔ وہ باورچی خانے کی دیوار پر، پِنوں کی مدد سے آویزاں کیے گئے نقشے پر، فوج کی پیش قدمی کے، اندازے لگاتے، مزاحیہ رسالے پڑھتے اور ای ویتوت کے سینما گھر میں جاتے تھے۔ اگرچہ فلم بینوں میں سے، سب متحرک تصویروں کے نیچے لکھی گئی تحریر کو بلند آواز میں پڑھتے تھے، مگر اُن میں سے اکثر سطر کے آخر تک نہ پہنچ پاتے۔ جب بھی وہ رخصت پر گھر آتے، اپنے بھائی سے سیکھی ہوئی، بازاری زبان بولتے۔ جِن عورتوں کے خاوند محاذِ جنگ پر بھیجے گئے تھے، دوسری عورتیں، اُن کے دُھلنے والے کپڑوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا کرتی تھیں۔ وہ ہر مہینے، اِس امر کو یقینی بناتیں، کہ لینن کی کوئی دَھجی کم نہ ہو۔
جنگ نے لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیا۔ لوگوں کے ہاتھوں میں ڈوری والے لٹو آ گئے، اَب وہ کیفے جا کر، بھٹی میں کشید کی گئی سیب کی ترش شراب کے بجائے، فیکٹری میں بننے والی خمیر شدہ انگور کی شراب وائن (wine) پینے لگے تھے۔ لڑکیوں نے رقص کرنے کے لیے، ساتھی چنتے ہوئے، دیہاتی لڑکوں کے بدن کا جزو بننے والی، گوبر کی بُو کی وجہ سے، اُن میں دِل چسپی لینا کم کر دی تھی۔
نیشنل سروس کے دوران، میرے ابا پر نئی دنیا منکشف ہوئی۔ اُن کو پیرس (Paris)، اِس کا ریلوے نظام، لورین (Lorraine) کا تاریخی شہر دیکھنے کے علاوہ کسی قلعے سے بڑی فوجی رہائش گاہوں میں رہنے اور امیر و غریب کا فرق مٹانے والی وردی پہننے کا موقع ملا ۔ اُنھوں نے، سیب کی ترش شراب سے خراب ہونے والے، اُن کے دانتوں کو، مصنوئی دانتوں کی پلیٹ سے بدل دیا۔ وقتاً فوقتاً، وہ اپنی تصویر بھی کھنچواتے تھے۔
گھر واپس پہنچے، تو ابا نے اُس کلچر کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا، جِس سے اُن کی مراد، ایگریکلچر یا کھیتی باڑی تھی۔ لفظ کلچر کے دوسرے معانی اور مفاہیم میں اُنھیں کوئی دِل چسپی نہیں تھی۔
……
ظاہر ہے، اِس کا ایک ہی متبادل تھا، فیکٹری میں کام کیا جائے۔ جنگ کے اختتام پر، ای ویتوت میں صنعتی عمل شروع ہو رہا تھا۔ میرے ابا کو رسیاں بنانے کی ایک، ایسی فیکٹری میں، جو تیرہ سال سے بڑے لڑکوں اور لڑکیوں کو بھرتی کر رہی تھی، ملازمت مِل گئی۔ وہ صاف اور خشک ماحول میں چھت تلے کام کرتے تھے۔ وہاں اوقاتِ کار معین تھے، مردوں اور عورتوں کے کپڑے بدلنے اور قضائے حاجت کی الگ الگ جگہیں تھیں۔ شام کو سائرن بجنے کے بعد وہ آزاد ہوتے تھے، اَب اُن کے جسم سے مویشیوں کی بُو نہیں آتی تھی اور وہ مویشیوں میں زندگی بسر کرنے کے تنگ دائرے سے باہر نکل آئے تھے۔ اُنھیں روئن اور لی ہیور (Le Havre) میں بہتر تَن خواہ والی ملازمت مِل سکتی تھی، مگر اِس کا مطلب گھر سے دوری، بوڑھی ماں کو ہجر کا آزار دینا اور تیز طرار شہری لڑکوں کا سامنا کرنا تھا۔ آٹھ سال تک، کھیتوں کھلیانوں میں گائیوں کے ساتھ نے اُن کے حوصلے کمزور کر دیے تھے۔
اُنھیں قابلِ احترام سمجھا جاتا تھا، کسی مزدور کے قابلِ احترام ہونے کا مطلب تھا، وہ کاہل نہیں، شرابی نہیں، نہ ہی فضول خرچ ہے۔ وہ فلموں اور اُس دور کسے معروف رقص چارلسٹن (Charleston) کے شوقین تھے، لیکن کیفے سے دور رہتے تھے۔ وہ غیر سیاسی ذہن رکھتے تھے اور کسی مزدور یونین سے وابستہ نہیں ہوئے، جِسے اُن کے افسران پسند کرتے تھے۔ وہ ہر ہفتے کچھ نہ کچھ رقم بچاتے تھے، اِسی طرح بچائی گئی رقم سے اُنھوں نے ایک سائیکل خرید لی۔
رسیاں بٹنے کی فیکٹری میں، جب میری امی کی، اُن سے ملاقات ہوئی، تو یقیناً وہ اِن خوبیوں سے بھی متاثر ہوئی ہوں گی۔ اِس سے پہلے، وہ مارجرین کی فیکٹری میں کام کرتی تھیں۔ سرمئی آنکھوں اور گہری رنگت والا دراز قد نوجوان، خود کو نمایاں رکھتا اور اِس پر فخر کرتا تھا۔ ’’میرے شوہر مزدور طبقے کے نہیں دِکھتے تھے۔‘‘
میری امی کے ابا فوت ہو چکے تھے۔ میری نانی ایک فیکٹری میں کپڑا بنتی تھی۔ اِس کے ساتھ ہی، اپنے چھ بچوں کو پالنے کے لیے، وہ لوگوں کے کپڑے لا کر، اِنھیں دھویا اور استری کیا کرتی تھی۔ ہر اتوار میری امی اور اُن کی بہنیں، پیسٹریوں کے چورے سے بھری ہوئی کاغذ کی پڑیاں خریدنے بیکری جایا کرتی تھیں۔ ابتدا میں، میرے والدین کو اکٹھے باہر جانے کی اجازت نہیں ملی۔ میری نانی، اتنی جلدی اپنی بیٹیوں کو خود سے جدا کرنا نہیں چاہتی تھی، ہر لڑکی کی رخصتی کا مطلب، اُس کی آمدنی کے تین چوتھائی سے محروم ہونا تھا۔
میرے ابا کی بہنیں ، جو درمیانے طبقے کے گھرانوں میں بَطور گھریلو خادمہ کام کرتی تھیں، میری امی کو حقارت سے دیکھتی تھیں۔ فیکٹری میں کام کرنے والی لڑکیوں کو، بستر بچھانا نہ آنے اور لڑکوں کے پیچھے بھاگنے کا طعنہ دِیا جاتا تھا۔ بستی کے باسی میری امی کو ناپسند کرتے تھے۔ فیشن میگزین میں، وہ جِس فیشن کے بارے میں پڑھتیں، اُس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چُست کپڑے پہنتی اور آنکھوں کا میک اَپ کرتی تھیں۔ میری امی ناخنوں پر نیل پالش لگانےاور بالوں کو ترشوانے والی، اولین لڑکیوں میں سے تھیں، وہ بلند آہنگ اور جان دار قہقہے لگاتی تھیں۔ لوگوں کی اُلٹی سیدھی بکواس سے قطع نظر، اُنھوں نے کبھی کسی کو، اپنی جانب پیش قدمی کی اجازت نہیں دی، وہ ہر اتوار عبادت کرنے چرچ جانے کے علاوہ اپنے جہیز کے کپڑوں کی کڑھائی اور چادروں کی جھالریں بنائی بھی خود کرتی تھیں۔ وہ ایک زندہ دل اور منہ پھٹ کارکُن تھیں۔ اُن کا پسندیدہ قول تھا۔ ’’میں کِون سا کسی سے کم ہوں؟‘‘
اُن کی شادی کی تصویر میں، اُن کے گھٹنے نظر آ رہے ہیں۔ اُن کے چہرے سے چمٹے، جالی دار نقاب کے عقب سے، وہ کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ رہی ہیں۔ وہ بیسویں صدی کے اوائل کی فرانسیسی اداکارہ سارا برن ہارڈ (Sarah Bernhardt) جیسی دِکھتی ہیں۔ چھوٹی مونچھوں والے میرے ابا، سفید کالر والی،کلف لگی قمیص پہنے، اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دونوں میں سے، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہے۔
……
جنس کا ذکر ہوتے ہی، امی ہمیشہ جھینپ جاتی تھیں۔ میرے والدین نے کبھی کھلم کھلا محبت کے جذبات کا اظہار نہیں کیا، نہ ہی کبھی ہم آغوش ہوئے۔ میرے موجودگی میں، امی کا بوسہ لیتے ہوئے، ابا کو تیزی سے اُن کے گال کو چھوتے ہوئے دیکھ کر یوں لگتا تھا، جیسے مجبوراً کوئی فرض ادا کر رہے ہیں۔ بارہا کوئی معمول کی بات کہتے ہوئے، ابا براہ راست امی کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوتے، جب کہ امی اپنی نگاہیں جھکا کر، مسکرانے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہوتی تھیں۔ بڑی ہونے پر، مجھے ادراک ہوا کہ، اُس وقت ابا کوئی ذومعنی بات کر رہے تھے۔ ابا اکثر تیس کی دہائی کا مشہور گانا: hum Parlez-moi d’amour (جس کا مفہوم پنجابی گیت ’’گلاں کریئے پیار دیاں‘‘ سے ملتا جلتا ہے) گنگنایا کرتے تھے۔ امی گھریلو تقریبات میں بڑے دِل کش انداز میں Voici mon corps pour vous aimer (جسے آپ، ’’تَن بھی تیرا، جان بھی تیری‘‘ کہہ سکتے ہیں) سنایا کرتی تھیں۔
ابا کو بتایا گیا تھا، اپنے والدین سے وراثت میں ملنے والی غربت سے جان چھڑانے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ کبھی کسی عورت کو حاملہ نہ کیا جائے۔
اُنھوں نے ای ویتوت کی ایک مصروف سڑک پر، ایک قطعے پر تعمیر کیے گئے مکانات میں سے ایک مکان کرائے پر لیا، جِن کا عقبی صحن مشترک تھا۔ مکان کے دو کمرے، سطحِ زمین پر اور دو کمرے، بالائی منزل پر تھے۔ یہ سیڑھیاں چڑھ کر خواب گاہ میں جانے والے، میری امی کے، دیرینہ خواب کی تعبیر تھی۔ ابا کی بچت کے طفیل، اُنھوں نے اپنی ضرورت کی تمام چیزیں خریدیں، جِن میں کھانے کےکمرے کی ڈائیننگ ٹیبل کے علاوہ خواب گاہ کےلیے، کپڑوں کی آئینے والی الماری بھی شامل تھی۔ اُن کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی، چناں چہ امی کو گھر میں رہنا پڑا، جس سے وہ اکتا گئیں۔ ابا نے رسیوں کی فیکٹری میں کام چھوڑ دیا اور بہتر معاوضے کے لیے، ایک چھتیں ڈالنے والے کے ساتھ کام کرنے لگے۔
جِس دِن ابا کے اُس چھت سے گرنے کے بعد، جِس کی وہ مرمت کر رہے تھے، لوگ اُنھیں اِس حالت میں، اُٹھا کر گھر لائے، کہ وہ زخموں سے چُور اور بولنے سے معذور تھے۔ امی نے سوچا، کیوں نہ اپنا کاروبار شروع کیا جائے؟ چناں چہ اُنھوں نے، ایک مرتبہ پھر، بچت شروع کر دی۔ اَب وہ اکثر بریڈ اور پورک کھانے لگے۔ اُس دَور کے مروجہ کاروباروں میں سے، اُنھوں نے اُس کاروبار کا انتخاب کرنا تھا، جِس کے لیے کم سرمایہ درکار ہو اور کسی مخصوص مہارت کی ضرورت نہ ہو، صرف چیزیں خریدی اور بیچی جائیں۔ یہ کوئی سستا سامان ہونا چاہیے کیوں کہ اُس پر تھوڑی رقم لگانی پڑے گی۔ اتوار کے دِن وہ اپنی سائیکلیں نکالتے اور چھوٹے کیفے ہاؤسز اور دیہاتی دُکانوں کا جائزہ لیتے۔ وہ سُن گُن لیتے، کہ گرد و نواح میں، کتنا کاروباری مقابلہ متوقع ہے۔ وہ ڈرتے تھے، کہ کاروبار کرنے کے نتیجے میں، کہیں سَب کچھ کھو کر، پھر سے مزدور طبقے کی غربت میں گُم نہ ہو جائیں۔
سردیوں کے موسم میں، لوآور (Le Havre) سے تیس کلو میٹر دور للی بون (Lillebonne) نامی قصبے پر، خصوصاً اِس کی تنگ پٹی پر، جو دریا کے پہلو میں تھی اور وادی کہلاتی تھی، دھند چھائی رہتی تھی۔ یہ کپڑے کی ایک مل کر گرد آباد، ایک صنعتی علاقہ تھا، جو پچاس کی دہائی تک گرد و نواح کے اہم ترین مقامات میں شامل تھا، پہلے یہ علاقہ ڈس چین تائیز (Desgenetais) خاندان کی ملکیت تھا، بعد میں بوساک (Boussac) نے خرید لیا۔ اسکول کی چھوڑنے کے بعد، لڑکیاں مِل میں کام کیا کرتی تھیں، جنھیں ماں بننے کے بعد صبح چھ بچے اپنے بچوں کو نرسری میں چھوڑ کر مِل جانا پڑتا تھا۔ قصبے کی آبادی کے تین چوتھائی مرد کپڑا بننے کے کارخانے میں کام کرتے تھے۔ گروسری کی واحد دُکان نیچے وادی میں تھی۔ جِس کی چھت اتنی نیچی تھی، کہ اُسے ہاتھ اُٹھا کر چھو سکتے تھے۔ کمرا اتنا تاریک تھا کہ روشن دِن میں بھی بجلی کا بلب جلانا پڑتا تھا۔ ایک چھوٹا سا احاطہ تھا، جس کے پاخانے کا فضلہ، براہ راست دریا میں گرتا تھا۔ ایسا نہیں کہ وہ اِس جگہ کو پسند کرتے تھے، لیکن اُنھیں رہنا تھا۔
چلتا ہوا کاروبار خریدنے کے لیے، اُنھوں نے قرض لیا۔
……
ابتدا میں اشیائے خورد و نوش، کھانوں کے ٹِنوں اور بسکٹوں کے پیکٹوں سے سَجے ہوئے شیلف، اُنھیں اپنے خوابوں کی تعبیر نظر آتے تھے۔ بس آرڈر دے کر، سامان کھول کر، اِسے تول کر اور رقم کا حساب کر کے اتنی آسانی سے مال کمانے پر وہ حیران تھے۔ ’’شکریہ۔ خدا حافظ۔‘‘ ابتدائی چند ایام میں جوں ہی گھنٹی بجتی، وہ دوڑتے ہوئے، دُکان میں داخل ہوتے، اُن کے ہونٹوں پر یہی سوال ہوتا: ’’کچھ اور چاہیے؟‘‘ اُنھیں اِس میں مزہ آتا۔ اُن میں سے ایک سیٹھ تھا، دوسری سیٹھ کی بیوی تھی۔
جِس دِن ایک گاہک نے خریداری کا تھیلا بھرنے کے بعد دَبی آواز میں کہا ’’اِس وقت، میں مشکل حالات سے گزر رہی ہوں، کیا آپ کو ہفتے کے دِن ادائیگی کر سکتی ہوں؟‘‘ وہ دونوں تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ ایک اور عورت نے یہی مکالمہ دہرایا، پھر ایک اور عورت نے یہی حرکت کی۔ صورتِ حال ایسی تھی، کہ وہ یا تو ادھار دیتے یا واپس فیکٹری میں چلے جاتے۔ اُنھیں لگا، ادھار، دونوں میں سے، چھوٹی برائی ہے۔
اِس صورتِ حال میں، آسائشوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ طے پایا، کہ اتوار چھوڑ کر، عام دنوں میں اشتہا انگیز مشروب اور ڈبوں میں بند، پرتکلف کھانے نہیں کھائے جائیں گے۔ اِس کا مطلب خاندان کے افراد کی دشمنی مول لینا بھی تھا، جنھیں ابتدا میں یہ ظاہر کرنے کے لیے کھلی چھٹی دی تھی کہ اُن کے پاس خوش حالی کے وسائل ہیں۔ اُنھیں یہ دھڑکا بھی لگا رہتا تھا، کہ وہ اپنے اصل زَر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
اُس زمانے میں، خصوصاً سردیوں کے دوران، میں اسکول سے بھوک کے ہاتھوں بے چین ہو کر، کچھ کھانے کے لیے، ہانپتی ہوئی گھر پہنچتی تو گھر میں کوئی بلب روشن نہ ہوتا، ابا کرسی پر بیٹھے، کھڑکی سے باہر دیکھ رہے ہوتے، جب کہ امی گیس والے چولہے کے پاس کھڑی ہوتیں۔ برفانی سرد مہری سے میرا استقبال کیا جاتا۔ بسا اوقات، دونوں میں سے کوئی ایک بولتا۔ ’’ہمیں یہ سَب بیچنا پڑے گا۔‘‘ اِن حالات میں، میں اپنا اسکول کا کام بھی نہیں کر سکتی تھی۔ لوگ کہیں اور سے، جیسے کواپریٹو سوسائٹی فیملیس ٹیئرز (Familistère) سے یا کسی دوسری جگہ سے خریداری کرتے تھے۔ اِس مرحلے پر دروازے میں سے اندر آنے والا کوئی معصوم گاہک دیکھ کر یوں لگتا، جیسے چہرے پر تھپڑ رسید کرنے آیا ہے۔ اُس سے کسی کتے جیسا سلوک کیا جاتا، اور اُن گاہکوں کی رقم بھی وصول کی جاتی، جو کبھی نہیں آئے تھے۔ لگتا تھا، دنیا نے ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔
……
وادی میں دُکان چلانے کا مطلب، فیکٹری میں مزدوری کرنے سے، برائے نام زیادہ کمانا تھا۔ ابا کو بیس سین (Basse-Seine) میں ایک تعمیراتی کمپنی میں مزدوری کرنا پڑی۔ پانی کی وجہ سے وہ ربڑ کے بڑے جوتے پہنتے تھے۔ جِس طرح تیرنے کے لیے تیراکی سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اِسی طرح، میری امی، دِن کے وقت، اکیلی دُکان سنبھالنے لگی۔
ابا بَیک وقت مزدور اور دکان دار تھے، جِس کے نتیجے میں، وہ بے بسی اور عدم اعتماد کا شکار ہو گئے۔ اُن کا مزدوریونین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ للی بون کی سڑکوں پر جلوس نکالنے والی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم، کروایکس ڈی فو (Croix-de-Feu) اور بائیں بازو کی سرخ تنظیم، جو اُن کے کاروبار کی دشمن تھی، دونوں سے خوف زدہ تھے اور اپنے خیالات کو خود تک محدود رکھتے تھے۔ ’’اگر تم کاروبار کر رہے ہو، تم کوئی نظریہ نہیں پال سکتے۔‘‘
برسوں کی محنت کے بعد، بالآخر وہ غربت کی لکیر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن اتنا کم نکلے کہ اَب بھی غربت کی لکیر کو چھوتے محسوس ہوتے تھے۔ چوں کہ وہ مزدور طبقے کے بہت سے، ایسے گھرانوں کو ادھار دیتے تھے، جنھیں ایک ایک پینی کا حساب رکھنا پڑتا تھا، چناں چہ اُنھیں اِس کا ادراک تھا کہ یہ ضرورت مند ہی ہیں، جو اُن کے کاروبار کی مدد کرتے ہیں، اور اُنھیں سمجھتے ہیں، اِس لیے شاذ کے طور پر ہی اُنھیں اُدھار دینے سے انکار کرتے تھے۔ وہ اُن لوگوں کو، جن کی جیب خالی ہو چکی ہے، اچھی گفتگو کا مستحق سمجھنے کے ساتھ ہی، دوسری جانب اُس بچے کو ڈانٹنا بھی ضروری سمجھتے تھے، جِسے اُس کی ماں نے ہفتے کا اخیر ہونے کے کارَن، خالی ہاتھ دُکان پر بھیجتی تھی۔ ’’اپنی ماں کو کہنا، بہتر یہی ہے، وہ رقم ادا کرے، ورنہ سودا دینا بند کر دیا جائے گا۔‘‘ اَب اُن کا شمار بے عزتی کروانے والوں میں نہیں ہوتا تھا۔
……
سفید کوٹ پہنے، امی ایک مثالی دُکان دار دِکھتی تھیں۔ کام کرتے وقت، ابا روزمرہ کے لباس پر بالا پوش ہوتا تھا۔ عام عورتوں کی مانند، امی یہ نہیں کہتی تھیں۔ ’’اگر میں نے یہ کیا، یا وہاں گئی تو میرے شوہر بُرا منائیں گے۔‘‘ وہ ہمیشہ اپنے خاوند کو، جس نے قومی خدمات سرانجام دینے کے دوران، عبادت میں شریک ہونا موقوف کر دیا تھا، چرچ جانے کی تلقین کرتی اور اپنے بُرے اطوار،جِن سے اُن کی مراد، کارکنوں اور مزدوروں جیسے رویے تھے، ترک کروانے کی خاطر جھگڑتی رہتی تھیں۔ ابا نے سامان وصول کرنے اور حساب کتاب رکھنے کی ذمہ داری، امی پر چھوڑ دی تھی۔ وہ ایک ایسی خاتون تھیں، جو کہیں بھی جا سکتی ہیں، دوسرے لفظوں میں، وہ ہرقسم کے لوگوں میں گھل مل سکتی تھیں۔ ابا، امی کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے تھے، تاہم، جب بھی وہ اعلان کرتیں۔ ’’میں نے ہوا چھوڑی ہے۔‘‘ وہ اُمی کو برا بھلا کہتے۔
میرے ابا کو سٹینڈرڈ آئل ریفاینری میں ملازمت مِل گئی، جو دریائے سین (Seine) کے دہانے پر واقع تھی۔ وہ رات کی شفٹ میں کام کرتے تھے، دِن میں گاہکوں کی وجہ سے، اُن کے لیے سونا مشکل ہوتا تھا۔ اِن حالات میں، اُن کا چہرہ سوج گیا اور بدن میں تیل کی بُو رَچ گئی۔ یہ بُو اُن کی واحد خوراک اور بدن کا جُزو بن گئی، جَس کے نتیجے میں اُن کا کھانا پینا چُھٹ گیا تھا۔ ابا کو معقول تَن خواہ مِل رہی تھی، ترقی کے امکانات بھی روشن تھے۔ ریفاینری کے ملازموں سے شان دار رہائشی علاقے کا وعدہ کیا گیا، جِس کی رہائشی مکانات کے اندر پاخانے اور غسل خانے ہوں گے، اِس کے علاوہ ایک پرائیویٹ پارک بھی ہو گا۔
خزاں کے موسم میں، دِن بھر، وادی پر دھند چھائی رہتی تھی۔ شدید بارشوں کے دوران، دریا کا پانی، گھر میں داخل ہو جاتا۔ پانی کے ساتھ بَہ کر آنے والے دریائی چوہوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ابا چھوٹے بالوں والی ایک کتیا لے آئے، جو اپنے جبڑے کے ایک ہی جھٹکے سے اُن کی کمر توڑ دیتی تھی۔
’’وہاں اِس سے بھی بدتر مسائل تھے۔‘‘
۱۹۳۶ء کا سال، ایک خواب کی مانند یادگار سال تھا۔ اگرچہ اُنھیں نئے سیاسی انتظام کی کامیابیوں پر حیرت تھی، تاہم، وہ دُکھے دِل کے ساتھ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ صورتِ حال برقرار نہیں رہے گی۔
لشٹم پشٹم کاروبار چَل رہا تھا۔ تَن خواہ سمیت ملنے والی چھٹیاں، ابا دُکان کے کاؤنٹر کے پیچھے گزارتے تھے۔ دُکان میں رشتہ داروں کی آمد پر، اُن سے اچھا سلوک کیا جاتا۔ ابا اپنے نسبتی بھائیوں کو، بھلے وہ ریلوے مزدور ہوتا یا بوائلر بنانے والا، وافر مقدار میں ضروریاتِ زندگی فراہم کر کے خوشی محسوس کرتے تھے۔ اُن کی عدم موجودگی میں، اُنھیں ’امیر‘ کہہ کر یاد کیا جاتا، جو کِسی فرد کی ممکنہ بدترین توہین سمجھی جاتی تھی۔
ابا شرابی نہیں تھے۔ وہ معاشرے میں اپنا وقار برقرار رکھنا چاہتے تھے، مزدور کے بجائے، دُکان دار نظر آنا پسند کرتے تھے۔ آئل ریفاینری میں، اُن کی فورمین کے عہدے پر ترقی ہو گئی تھی۔
……
مجھے یہ کتاب لکھنے میں ، معمول سے، کہیں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ ابا کی زندگی کا تانا بانا دکھانے کے لیے، مخصوص حقائق اور تفصیلات کا انتخاب کرتے ہوئے، مجھے احساس ہوتا ہے، کہ بَتدریج میں اپنے ابا کی شخصیت سے انحراف کر رہی ہوں۔ کتاب کا خاکہ، میرے ذہن پر حاوی ہو جاتا ہے اور نظریات اپنے ضوابط نافذ کرنے لگتے ہیں۔ دوسری جانب اگر میں ذاتی یادوں کو لے کر یہ بتانے لگوں کہ وہ کیسے تھے، کیسے ہنستے تھے، کیسے چلتے تھے، کیسے میرا ہاتھ پکڑ کر، میلے میں، چکر کاٹنے والے قوی ہیکل جھولے دکھانے لے جاتے تھے، جن میں جھولتے ہوئے، خوف سے چکر آتے تھے، تو میں معاشرے کے جِس طبقے سے اُن کا تعلق تھا، اُس طبقے سے، اُن کے تعلق کے بارے میں، سب کچھ فراموش کر دوں گی۔ جب بھی، میرا اِس صورتِ حال سے سامنا ہوتا ہے، مجھے خود کو اپنے جذبات و خیالات سے جدا کرنا ہوتا ہے۔
خود سے کیے گئے اِس عہد کے نتیجے میں، جِس کے مطابق مجھے اُن الفاظ اور بیانات سے چمٹے رہنا ہے، جو میں نے خود سُنے۔ ظاہر ہے، مجھے اِس کتاب کو لکھتے ہوئے مزہ نہیں آ رہا۔ کہیں کہیں میں نے زیریں لکیر کا استعمال کر کے کچھ چیزوں کو نمایاں کیا ہے۔ اِس کا مقصد یہ نہیں، کہ میں قاری کی توجہ ذومعنویت کی جانب مبذول کر کے، اُس کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہوں— ایہام گوئی، مظلومیت کے رونے اور ماضی میں گم رہنے کو میں نے ہمیشہ ناپسند کیا ہے— بَل کہ اِس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ یہ مخصوص الفاظ اور جملے، اُس دنیا کی نوعیت اور حدود کو بیان کرتے ہیں، جِس دنیا میں میرے ابا رہتے تھے اور جِس میں، میں بھی اُن کی شریک تھی۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی، جس کی حقیقت کا عکس، اُس کی زبان میں نظر آتا ہے۔
……
ننھی بچی، ایک دِن، جب اسکول سے لوٹی، اُس کا گلا سوجا ہوا تھا، اُس کا بخار، مسلسل تیز رہا۔ یہ خناق تھا، حالاں کہ وادی کے دوسرے بچوں کی مانند، اُسے بھی حفاظتی ٹیکا لگایا گیا تھا۔ جِس وقت وہ فوت ہوئی، میرے ابا آئل ریفاینری میں تھے۔ جب وہ گھر واپس پہنچے، گلی کے دوسرے سرے تک، اُن کی آہ و بُکا سنائی دے رہی تھی۔ صدمے کے نتیجے میں، وہ اپنے حواس کھو بیٹھے، ہفتوں یہی کیفیت رہی،اِس کے بعد، اُن پر مایوسی طاری ہو گئی، جِس کے دوران وہ میز پر بیٹھے، کسی بات کا جواب نہ دیتے ہوئے، کھڑکی سے باہر تکتے رہتے تھے، چھوٹی چھوٹی بات پر، خود کو نوچنے لگتے تھے۔ میری امی اپنے ایپرن کی جیب سے رُومال نکال کر، آنسو پونچھتے ہوئے لوگوں کو بتایا کرتی تھیں۔ ’’جِس وقت وہ فوت ہوئی، صرف سات سال تھی، کسی مقدس ہستی کی مانند معصوم تھی۔‘‘
گھر کے عقب میں، دریا کے کنارے، کھینچی گئی ایک تصویر میں، ابا غالباً فلالین کا پاجامہ اور سفید قمیص پہنے کھڑے ہیں، جِس کی چڑھی ہوئی آستینوں سے اُن کے ڈھلکے ہوئے کندھےاور بانہوں کے پٹھے نظر آ رہے ہیں۔ اُن کے چہرے سے بے چینی جھلک رہی ہے، شاید وہ تصویر کھنچوانے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ اُس وقت اُن کی عمر چالیس سال تھی۔ تصویر میں نہ تو ماضی کی تلخیوں کے آثار دِکھائی دیتے ہیں، نہ ہی مستقبل کی آس نظر آتی ہے۔ صرف اُن کی عمر کے شواہد، چہرے پر کچھ کرختگی اور بالوں کی پسپا ہوتی جھالر کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ پہلوؤں سے چپکے ہوئے لٹکتے بازو اور پس منظر میں دکھائی دینے والے غسل خانے اور پاخانے سے اُن کے معاشرتی مقام کا پَتا چلتا ہے، اِس پس منظر میں درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد تصویر کھنچوانا پسند نہیں کرے گا۔
……
۱۹۳۹ء میں ابا کی عمر، قومی خدمت کے لیے مطلوبہ عمر سے زیادہ ہو چکی تھی، اِس لیے اُنھیں قومی خدمت کے لیے طلب نہیں کیا گیا ۔ جرمنوں نے آئل ریفاینری کو جلا کر راکھ کر دیا، چناں چہ عافیت کی تلاش میں، وہ اپنی سائیکل لے کر سڑک پر، نِکل کھڑے ہوئے۔ امی چھ مہینے کی حاملہ تھیں، کسی نے اُنھیں کار میں لفٹ دے دی۔ دورانِ سفر، پونٹ آڈیمر (Pont-Audemer) میں ابا کا چہرہ بم کے ٹکڑوں سے چھلنی ہو گیا، جہاں، قصبے میں، کیمسٹ کی، بَچ جانے والی واحد دکان پر، اُن کی مرہم پٹی کی گئی۔ بم باری مسلسل جاری تھی۔ لیزیکس (Lisieux) پہنچنے کے بعد، بیسیلیکا چرچ کی سیڑھیوں پر، ابا کی اپنی ساس سے ملاقات ہوئی، جو اپنی بیٹیوں اور اُن کے بچوں کے ہم راہ وہاں آئی ہوئی تھی۔ اُن لوگوں نے اپنے سامان سے ٹھونسے ہوئے تھیلے اُٹھائے ہوئے تھے۔ چرچ کی سیڑھیوں پر اور کھلے میدان میں پناہ لینے والوں کا ہجوم تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ وہاں محفوظ رہیں گے۔ جِس وقت جرمن قصبے میں داخل ہوئے، ابا للی بون واپس چلے گئے۔ اُن کی عدم موجودگی میں، قصبے میں، پیچھے رَہ جانے والے لوگوں نے، ان کی دُکان کی ہر چیز لوٹ لی تھی۔ میری امی کے واپس پہنچنے کے اگلے مہینے میں پیدا ہوئی۔اگر ہم اسکول میں جمع تفریق نہ کر سکتے، ہمیں جنگ کے بچے کہہ کر پکارا جاتا۔
پچاس کی دہائی کے وسط تک، کرسمس کی دعوتوں اور شمولیتِ مسیحیت کے استقبالیوں میں، سب مِل کر جنگی ترانے گاتے تھے، جن میں ۱۹۴۲ء کے خزاں کے دوران پائی جانے والی دہشت، سردی اور بھوک کا ذکر کیا جاتا تھا۔ ’’جیسے بھی بَن پڑے، انسان کو زندہ رہنا ہو گا۔‘‘ ہر ہفتے میرے ابا تیس کلو میٹر سائیکل چلا کر، ایک پرانے گودام تک جاتے، جسے مقامی تھوک فروشوں نے استعمال کرنا ترک کر دیا تھا۔ اپنے سائیکل کے ساتھ بندھی ہوئی ایک ریڑھی میں، وہ کریانے کا سامان لاد کر واپس آتے۔ ۱۹۴۴ء میں نارمنڈی کے اِس علاقے میں ہونے والی شدید بم باری کے دوران بھی، وہ مال لینے کی خاطر جاتے اور عمر رسیدہ بزرگوں، کثیرالعیال خاندانوں اور ایسے تمام افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ سامان حاصل کرنے کی خاطر، منت سماجت کرتے، جو چور بازار میں مہنگی چیزیں نہیں خرید سکتے تھے۔ وادی کے لوگ اُنھیں ایک ہیرو سمجھتے تھے۔ یہ سَب وہ اِس لیے کرتے تھے کیوں کہ اُنھیں ایسا ہی کرنا تھا، ایسا نہیں کہ اُنھوں نے خود اِس کا انتخاب کیا تھا۔ ماضی کا ذکر کرتے ہوئے، وہ سمجھتے تھے، جنگ کے دوران، بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے، اُنھوں نے بھی اپنے حصّے میں ٓنے والی ذمہ داری ادا کی تھی۔
اتوار کے دِن وہ دُکان بند کر کے، جنگل میں سیر کرنے جاتے، جہاں وہ کسٹرڈ سے بنی، بغیر انڈوں کی پیسٹریاں کھا کر لطف اندوز ہوتے۔ مجھے کندھے پر اُٹھا کر چلتے ہوئے، ابا گنگناتے اور سیٹیاں بجاتے تھے۔ تیز ہوا کے جھکڑوں کی صورت میں، ہم اپنے کتے سمیت، بلیئرڈ کی میز کے نیچے چھُپ جاتے۔ اُن وقتوں کو یاد کرتے ہوئے وہ سمجھتے تھے۔ ’’مقدر میں یہی لکھا تھا۔‘‘ آزادی کے موقع پر اُنھوں نے مجھے فرانس کا قومی ترانہ (La Marseillaise) یاد کروایا، ترانے میں ٹیپ کے مصرے کے اختتام پر، کھیت کی نالی (silons) کے بعد خنزیروں کا ریوڑ (tas de cochons) کا اضافہ کرتے ہوئےیاد کروایا۔ اپنے اردگرد، دوسرے لوگوں کی مانند، اُن کا مزاج بے فکرے جوانوں جیسا تھا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد، ایک مرتبہ ہوائی جہاز کی آواز سنائی دینے پر، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر باہر سڑک پر لے گئے اور مجھے آسمان پر اُڑتا ہوا پرندہ دکھایا۔
۱۹۴۵ء میں، امید کی جِس لہر نے فرانس کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، اُس سے حوصلہ پا کر ابا نے وادی سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ میں اکثر بیمار رہتی تھی، ڈاکٹر کا مشورہ تھا، کہ مجھے سینی ٹوریم میں بھیجا جائے۔ میرے والدین نے اپنا بزنس فروخت کیا اور واپس ای ویتوت چلے گئے، وہ سمجھتے تھے، ای ویتوت میں کوئی ندی یا دریا نہ ہونے کی وجہ سے، رہنے والے خشک موسم اور تیز ہواؤں کا، میری صحت پر مثبت ااثر ہو گا۔ ہم سامان ڈھونے والے چھکڑے میں بیٹھ کر، اکتوبر میں ہونے والے میلے کے دوران ای ویتوت پہنچے۔ قصبے کو جرمنوں نے جلا کر تباہ کر دیا تھا، میلے کی دکانیں اور جھولے، عمارتوں کے بِکھرے ہوئے ملبے پر کھڑے کیے گئے تھے۔ تین مہینے تک وہ کچے فرش والے دو کمروں کے ایک ایسے مکان میں رہے، جس میں بجلی نہیں تھی، اُنھیں یہ مکان، ایک رشتہ دار نے، عارضی رہائش کے لیے دیا تھا۔ میرے والدین جو کاروبار کر سکتے تھے، اُن میں سے کوئی، برائے فروخت نہیں تھا۔ ابا نے بم باری کے نتیجے میں، عمارتوں میں پڑنے والے سوراخوں کو بھرنے کا کام شروع کر دیا۔ شام کے وقت میری امی، گیس کے چولہے پر نصب، برتن پونچھنے والی صافیاں لٹکانے کی سلاخ پر ہاتھ رکھ کر معروف تلخ قول کہتی تھیں۔ ’’تم کتنا گِر سکتے ہو؟‘‘ ابا نے کبھی جواب نہ دیا۔ پچھلے پہر، امی مجھے قصبے کی سیر کرانے لے جاتیں۔ ای ویتوت کے صرف مرکزی حصے پر بم باری ہوئی تھی، لوگوں نے رہائشی مکانوں میں دکانیں کھول لی تھیں۔ ایک منظر، جِس سے اُن محرومیوں کا، جن محرومیوں سے، ہم اُس زمانے میں گزر رہے تھے، اندازہ کیا جا سکتا ہے؛ ایک دِن، سیر کے دوران، رات کا اندھیرا چھا چکا تھا، ایک تنگ کھڑکی سے آنے والی روشنی میں، جو تاریک گلی میں واحد روشن جگہ تھی، سیلوفین کی ایک تھیلی میں، سفید نکتوں والی، گلابی رنگ کی بیضوی میٹھی گولیاں چمک رہی تھیں، مگر وہ ہمارے لیے نہیں تھیں، کیوں کہ اُنھیں حاصل کرنے کے لیے، ہمارے پاس کوئی کوپن نہیں تھا۔
اُنھیں قصبے کے نواح میں سٹیشن اور بوڑھے افراد کی اقامت گاہ کے وسط میں ایک جگہ مل گئی۔ یہ ایک کیفے اور گروسری سٹور تھا، جہاں جلانے والی لکڑی اور کوئلا بھی ملتا تھا۔ اپنے بچپن میں، میری امی سودا سلف خریدنے، وہاں جایا کرتی تھیں۔ یہ ایک دیہاتی مکان تھا، جس کے ایک جانب سرخ اینٹوں کا کمرا اور ایک باغیچہ تھا، عقب میں وسیع احاطہ تھا، جِس میں سامان رکھنے کی کوٹھڑیاں تھیں۔ دکان سے، کیفے میں جانےکے لیے، ایک چھوٹے کمرے سے گزر کر جانا پڑتا تھا، جِس کی سیڑھیاں، اوپر سونے کے کمرے اور چوبارے کو جاتی تھیں، اِس چھوٹے کمرے کو باورچی خانہ بنانے کے بعد بھی گاہک اِسے بطور راہ گزر استعمال کرتے رہے۔ چینی اور چائے جیسی اشیا، جنھیں خشک جگہ رکھنا ضروری ہوتا تھا، سیڑھیوں اور سونے کے کمرے کی دیواروں کے ساتھ رکھی جاتی تھیں۔ نچلی منزل پر، کبھی تخلیہ میسر نہیں ہوتا تھا۔ پاخانہ عقبی صحن میں تھا۔ بالآخر، کم از کم، ہم کھلی فضا میں رَہ رہے تھے۔
اِس مرحلے پر، ابا کی زندگی کےاُس دور کا اختتام ہوتا ہے، جِس میں اُنھیں بطور ایک مزدور کے جانا جاتا تھا۔
……
گرد و نواح میں بہت سے کیفے تھے، مگر پورے علاقے میں، گروسری سٹور، صرف یہی تھا۔ قصبے کا مرکز، کافی عرصے تک کھنڈر کا منظر پیش کرتا رہا، جنگ سے پہلے، وہاں فروخت ہونے والی نفیس اشیائے صرف، اَب پیلے رنگ کے عارضی کیبنوں میں بکتی تھیں۔ اب اُنھیں کسی سے نقصان پہنچنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ (بہت سے تاثرات کی مانند، یہ تاثر بھی میرے بچپن سے جُڑا ہے۔ مجھے اپنی توجہ کو، اُس زمانے کے خوف کی اِس کیفیت سے نکلنے پر، مرکوز کرنا ہو گا۔) للی بون کی مزدور آبادی کے برعکس، ہماری ہم سائیگی میں رہنے والے دست کاروں اور گیس بورڈ یا درمیانے درجے کی فیکٹریوں میں ملازم کارکنوں کے علاوہ عمر رسیدہ پنشنر تھے، جِن کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے تھا۔ یہاں رہنے والے، اپنے خاندان کے دائرے تک محدود رہتے تھے۔ پتھر کی چنائی والے گھروں کی حدود کا تعین باڑ کی مدد سے کیا گیا تھا۔ اِنھی مکانات کے پہلو میں، مشترکہ صحن والے ایک منزلہ چھوٹے مکانوں کی قطار تھی۔ ہر جگہ سبزیوں کی کیاریاں نظر آتی تھیں۔
یہ کیفے، پینے کے عادی، اُن افراد کا مستقل ٹھکانا تھا، جو کام پر جانے یا کام سے فارغ ہونے کے بعد، باقاعدگی سے پینے آیا کرتے تھے اور جِن کی تکریم واجب تھی۔ تعمیراتی مزوروں کے جتھوں کے علاوہ کچھ ایسے گاہک بھی تھے، جن کی حیثیت سے ظاہر ہوتا تھا کہ اُنھوں نے بَرضا و رغبت اپنے لیے کم تر حیثیت والے پرولتاری ماحول کا انتخاب کیا ہے، اِن میں ایک نیوی کا رٹائرڈ آفیسر اور دوسرا نیشنل ہیلتھ سروس کا انسپکٹر تھا، بالفاظِ دیگر یہ وہ لوگ تھے، جن میں عجز پایا جاتا تھا۔ اتوار کے دِن، آنے والے گاہک، مختلف نوع کے ہوتے تھے۔ گیارہ بجے کے لگ بھگ، گھر کے چھوٹے بڑے افراد پرمشتمل خاندان آتے، جو اپنے لیے اشتہاء انگیز شراب اور بچوں کے لیے لیموں پانی لیتے۔ پچھلے پہر عمر رسیدہ افراد کی رہائش گاہ کے بڑے بوڑھے آتے، جنھیں چھ بجے تک باہر رہنے کی اجازت تھی۔ وہ مستیاں کرتے، شور مچاتے اور اُس دور کے مشہور گیت گاتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا، کہ اُن میں سے کسی کو زیادہ چڑھ جاتی، اِس صورت میں اُسے عقبی گودام میں کمبل دے کر بٹھا دیا جاتا، تاکہ اِس قابل ہو سکے کہ اُسے راہباؤں کے پاس واپس بھیجا جا سکے۔ اتوار کے دِن، اُن کا باہر گھومنا پھرنا، اپنے عزیزوں، رشتہ داروں سے ملنے کے مترادف تھا۔ میرے ابا، اُن لوگوں کو، اپنی مرضی کرتے ہوئے، خوشیاں منانے کی آزادی فراہم کرنے کے اپنے کردار کی معاشرتی اہمیت سے آگاہ تھے، جواُن کے مطابق: ’’ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔‘‘ اگرچہ وہ معین طور پر، یہ نہیں بتا سکتے تھے، کہ وہ ایسے کیوں ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے، اُن لوگوں کے نزدیک، جنھوں نے کبھی کیفے میں قدم نہیں رکھا تھا، وہ ایسے شرابی تھے، جو اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ زیر جامے بنانے والی، ہمسایہ فیکٹری میں ملازمت کرنے والی لڑکیاں، کام سے فراغت کے بعد، سال گرہ ، شادی کی دعوتوں اور کسی کولیگ کی الوداعی ضیافت کے لیے وہاں آتی تھیں۔ بالعموم وہ اسپنچ فنگر نامی کیک کے پیکٹ خریدتیں، گَپ شپ کرتے ہوئے، اُنھیں موسکس (mousseux) نامی میٹھی شراب میں ڈبو کر، ہنستے ہنستے، میز پر دُہری ہو جاتی تھیں۔
……
یہ سب لکھتے ہوئے میری کوشش رہی ہے کہ میں کم تر سمجھے جانے والے طبقے کے طرزِ حیات یا رہن سہن کی بازیافت کرتے ہوئے، اِس کے اور اِسے بیان کرتے ہوئے، پیدا ہونے والے کراہت کے تاثر کے درمیان توازن برقرار رکھوں۔ یہ وہ زندگی تھی، جو ہم بسر کرتے اور اِس میں خوش رہتے تھے، حالاں کہ ہم اپنے طبقے کی ذلت آمیز حدود سے واقف تھے۔ (ہم اچھی طرح جانتے تھے، کہ ہماری حیثیت ، کسی جہت سے، قابلِ ذکر نہیں ہے۔) چناں چہ، میں کوشش کروں گی، کہ اُس مسرت اور اُس اجنبیت، دونوں کا احوال بیان کروں، جو ہم پر گزرتی تھی۔ تاہم، مجھے ایسا لگتا ہے، جیسے میں اِن دونوں کے درمیان، مسلسل ڈگمگا رہی ہوں۔
……
ابا اگرچہ پچاس کے ہو رہے ہیں، اِس کے باوجود، تنی ہوئی گردن کے ساتھ، بھر پور توانا نظر آتے ہیں۔ اُن کے چہرے پر فکرمندی جھلکتی ہے، جیسے تصویر خراب ہونے سے ڈر رہے ہوں۔ وہ گہرے رنگ کی پتلون اور لائٹ جیکٹ میں ملبوس ہیں، جو قمیص اور ٹائی کے اوپر پہنی ہے۔ یہ تصویر کسی اتوار کو کھینچی گئی تھی۔ ہفتے کے باقی دِنوں، وہ بالا پوش پہنا کرتے تھے۔ بہر حال لوگ ہمیشہ اتوار کے دِن تصویر کھنچوایا کرتے تھے، کیوں کہ اُس دِن اُن کے پاس وقت بھی ہوتا تھا اور اُن کا لباس بھی مناسب ہوتا تھا۔ خوبصورت کڑھائی والے کپڑے پہنے، میں اُن کے پہلو میں نظر آ رہی ہوں، میرے پھیلے ہوئے، دونوں ہاتھوں نے، میری پہلی سائیکل کا ہینڈل پکڑا ہوا ہے، میرا ایک پاؤں زمین پر ہے۔ ابا کا ایک ہاتھ، اُن کی پتلون کی پیٹی پر ہے، دوسرا اُن کی پہلو میں جھول رہا ہے۔ پس منظر میں کیفے کا کھلا دروازہ، کھڑکی میں لگے پھول اور شراب کے لائسنس والا ایک فریم نظر آ رہا ہے۔ ہمیشہ لوگ اپنی قابلِ فخر چیز کے ساتھ تصویر کھنچوانا پسند کرتے ہیں۔ ابا کے معاملے میں، اُس وقت یہ مقام اُن کے کاروبار اور میری سائیکل کو حاصل تھے، جب کہ بعد میں، جب یہ مرتبہ اُن کی کار سٹرن (Citroën 4CV) کو حاصل ہو گیا، اُس وقت کی تصویر میں، اُنھوں نے ایک ہاتھ کار کی چھت پر رکھا ہے، جِس کے نتیجے میں، اُن کی جیکٹ کندھے پر سے اُٹھی ہوئی ہے۔ کسی تصویر میں ابا مسکراتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
اُن کے آغازِ جوانی میں، آئل ریفاینری کی شفٹوں اور وادی کے چوہوں سے جُھوجھتی زندگی کی نسبت، اب ہم پُر آسائش دور سے گزر رہے تھے، ہمارے پاس ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز تھی۔ بالفاظِ دیگر اب ہم بھوکے نہیں سوتے تھے، ہفتے میں چار دِن، قصاب سے گوشت خریدتے تھے۔ ہمارے پاس، رہنے کے لیے دو کمرے تھے، گرم باورچی خانہ تھا، کیفے تھا۔ میرے پاس دو قسم کے کپڑے تھے، ایک اسکول کے ایام کے لیے، دوسرے اتوار کو پہنے والے۔ (کاشت کاروں کے معاشی حالات خراب ہوتے تو اتوار والے کپڑے باقی دنوں میں بھی پہن لیتےتھے۔) میرے پاس دو اسکول یونیفارم تھے۔ ’’بچی کے پاس اُس کی ضرورت کی ہر چیز ہے۔‘‘ کونونٹ اسکول میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا، میں دوسری لڑکیوں جیسے اچھے حلیے میں نہیں ہوں۔ میرے پاس ، وہ سب چیزیں ہوتی تھیں، جو کسی کیمسٹ یا زمین دار کی بیٹی کے پاس ہوتی تھیں، رومَن کیتھولک دعائیہ گیتوں کی کتاب اور وظائف کی مالا کا کیا ذکر کریں، گڑیا، ربڑ، پنسل تراش، فَر کے جوتے، سب کچھ میرے پاس تھا۔
اَب وہ اِس جگہ کا حلیہ بدل سکتے تھے، ہر متروک نظر آنے والی چیز سے چھٹکارا حاصل کر سکتے تھے۔ شہتیر، آتش دان، لکڑی کی میزوں اور بھوسے کی گدیوں والی، سیدھی کرسیوں کے بجائے، آرائشی پھول دار اَبری، تازہ پینٹ والے نئے کاؤنٹر اور مصنوئی سنگِ مَر مَر کے تختوں والی میزیں لگانے کے نتیجے میں کیفے روشن اور صاف ستھرا نظر آنے لگا۔ سونے کے کمرے میں، لکڑی کے فرش پر، خاکستری اور زرد رنگ کے چوکھٹوں والی کرمچ کی چٹائی بچھا دی گئی۔ کافی عرصے تک اُن کی جھنجھلاہٹ کا واحد سبب، لکڑی کے چوکھٹے سے بنی، سامنے کی سفید اور سیاہ دھاریوں والی دیوار تھی۔ عمارت کی بیرونی دیوار پر، از سرِ نو پلستر کرنے کے اخراجات، اتنے زیادہ تھے، جنھیں وہ ادا نہیں کر سکتے تھے۔ ایک دِن، میری اسکول کی ایک استانی کا وہاں سے گزر ہوا تو کہنے لگیں۔ ’’کتنا خوبصورت مکان ہے، نارمنڈی کا ایک مثالی دیہاتی مکان دِکھتا ہے۔‘‘ میرے ابا سمجھے، شاید دِل رکھنے کے لیے کہہ رہی ہیں۔ قدیم اشیا کی ستائش کرنے والے وہ لوگ، جو ہمارے پاس موجود پرانی چیزوں، صحن میں پانی کے پمپ اور سادہ لکڑی کی بلیوں کے ڈھانچے کی تعریفیں کرتے تھے، صرف یہ چاہتے تھے، کہ ہم نَل کے پانی اور قلعی کی ہوئی صاف ستھری دیواروں، جیسی اُن سہولتوں سے استفادہ نہ کریں، جو اُن کے پاس پہلے سے موجود تھیں۔
ابا نے وہ مکان اور اِس سے ملحق زمین خریدنے کے لیے قرض لیا۔ ہمارے خاندان میں، اُن سے پہلے، کوئی صاحبِ جائیداد نہیں تھا۔
……
اگرچہ وہ خوش تھے، مگر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے، سخت محنت کرنے پر، جھنجھلائے بھی رہتے تھے۔ ابا کا کہنا تھا، میرے صرف دو ہاتھ ہیں، جو اتنے مصروف رہتے ہیں، کہ پیشاب کرنے کے لیے زِپ کھولنے کی فرصت بھی نہیں ہوتی۔ یہی روز مرہ کا معمول تھا۔
میں اُس ماحول کا احوال کیسے بیان کر سکتی ہوں، جس میں ہر چیز کی کوئی قیمت تھی۔ ایک اکتوبر کی صبح، تازہ دُھلے ، لینن کے کپڑوں سے خوشبو اُٹھ رہی تھی، ریڈیو سے بجنے والی موسیقی کے دھن، میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ اچانک میری فراک، سائیکل کے ہینڈل میں پھنس کر پھٹ گئی۔ ایسے لگا، جیسے آسمان ٹوٹ پڑا ہو، سارا دِن برباد ہو گیا۔ سخت ڈانٹ پڑی۔ ’’لڑکی ذرا نہیں سوچتی۔‘‘
ضرورت کی اشیا، خریدتے خریدتے، ہم اپنے اثاثےبنانے لگے۔ میرے والدین، کو ہر چیز میں، بھلے اُن کی اپنی بیٹی ہو، حِرص اور حَسد دِکھتا تھا۔ جب میں نے اُنھیں بتایا کہ ایک لڑکی لوئر کے شاہی محلات (châteaux of the Loire) دیکھنے گئی ہے۔ اُنھوں نے سختی سے مجھے ڈانٹا۔ ’’تم کبھی بعد میں بھی جا سکتی ہو۔ جو تمھیں ملا ہے، اُس میں خوش رہنا سیکھو۔‘‘ مسلسل خواہشات، کبھی اطمینان نہیں دیتیں۔
آرائش کا سامان، وہ صرف اُس کی افادت کے پیش نظر، حاصل کرنا چاہتے تھے، جب کہ حقیقت میں، وہ نہیں جانتے تھے، کہ کون سی چیز خوب صورت ہے یا کس چیز کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ میرے ابا رنگوں اور ڈیزائن کا انتخاب کرتے ہوئے، ہمیشہ پینٹر اور کار پینٹر کے مشورے پر عمل کرتے تھے۔ اُن کا خیال تھا: ’’ چیز نفیس نہیں، معیاری ہونی چاہیے۔‘‘ ابا کو یہ ادراک بھی نہیں تھا کہ لوگ ایک ایک کر کے چیزیں جمع کرتے ہیں۔ اُن کے سونے کا کمرا سجا ہوا نہیں تھا، بَس فریم کی ہوئی، چند تصویریں تھیں، ماؤں کے دِن سجانے والی میز کی چٹائیوں کے علاوہ آتش دان پر دھرا، بچے کا ایک مجسمہ تھا، جو دیواری نشست خریدنے پر، کارپینٹر نے ابا کو تحفے میں دیا تھا۔
اُن کا پسندیدہ قول تھا: ’’شیر کی دم بننے سے، کتے کا سر بننا بہتر ہے۔‘‘
۰۰۰

اَنّی ایغنو
اَنّی ایغنو فرانسیسی ادیبہ ہیں جنھیں ۲۰۲۲ء کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اُنھیں نوبیل انعام سے سرفراز کرتے ہُوئے نوبیل کمیٹی نے اُنھیں اِس انعام کا حق دار اُن کے فکشن میں موجود اِن خصوصیات کی بِناء پر دیا : ’’اُن کے اُس حوصلے کے لیے جس سے وہ اپنی ذاتی یادوں کی جڑیں، بے اعتنائیاں اور اجتماعی پابندیوں کو لاتعلّق نکیلے پن سے بے نقاب کرتی ہیں۔‘‘
سوانح حیات
اَنّی ایغنو [پیدائشی نام: اَنّی ڈُشَّین (Annie Duchesne)] یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کو فرانس کے علاقے لِلّے بون، نارمنڈی (Lillebonne, Normandy) میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہُوئیں۔ کچھ سال بعد اَنّی کے والدین اِزِیٹو (Yvetot) چلے گئے، جہاں انھوں نے قصبے کے محنت کش طبقے کے علاقے میں ایک کیفے اور کریانے کی دکان کھول لی۔ اُن کے والد ایک کیفے اور والدہ کیفے سے ملحق کریانے کی دُکان چلاتی تھیں جو اُن کے گھر کے بیرونی حِصّے میں قائم کیے گئے تھے۔
اَنّی ایغنو نے اِزِیٹو کے ایک نجی کیتھولک ثانوی سکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھیں اپنے سے زیادہ نچلے متوسط طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے واسطہ پڑا، اور پہلی مرتبہ اپنے والدین اور ماحول کے محنت کش طبقے کے پس منظر سے تعلق ہونے پر شرمندگی کے شدید احساس اور سماجی طبقاتی جدوجہدسے سے روشناس کروایا جس نے تاحیات اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ۱۹۵۸ء میں، اٹھارہ سال کی عمر میں، وہ پہلی مرتبہ سمر کیمپ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پورے موسمِ گرما کے لیے اپنے گھر سے نکلیں، جہاں انھیں اپنے ہم سن ایک گروہ کے ساتھ پہلی بار رہتے ہوئے اپنے پہلے جنسی تجربات ہوئے۔
۱۹۶۰ء میں ایک جوڑے کے طور پر لندن میں قیام کرنے کے بعد انھوں واپس فرانس لوٹ کر جامعہ رُوآں (Rouen) سے فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی اور ثانوی مکتب کی فرانسیسی کی معلمہ بن گئیں۔ پھر وہ۱۹۷۷ء میں سی نیڈ (Cned ـسینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن) میں ایک عہدے پر متمکن ہو گئیں۔ ۱۹۶۷ء میں اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان، جس میں اُن کی صرف ایک ماں تھی، ۱۹۷۷ء میں پیرس میں بننے والی ایک نئی آبادی سہرجی پونٹواہز (Cergy-Pontoise) میں منتقل ہو گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے آپ کو لکھنے کے لیے وقف کر دیا۔
تخلیقات
اُنھوں نے اپنا پہلا ناول ’’صفایا‘‘ ۱۹۷۴ء میں شائع کیا، جو اُن کے ۱۹۶۴ء میں اسقاطِ حمل کے تجربے سے گزرنے کا افسانوی بیانیہ ہے۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے روایتی تحریروں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے سوانحی موضوعات کا اپنی لکھتوں کا محورومرکز بنا لیا۔ اُن کی اب تک منصۂ شہود پر آنے والی کتب میں ’’وہ کچھ کہتے ہیں یا نہیں‘‘ (۱۹۷۷ء)؛ ’’ایک منجمد عورت‘‘ (۱۹۸۱ء)؛ ’’مقامِ مرد‘‘ ( ۱۹۸۳ء)؛ ’’کتھا ایک عورت کی‘‘ (۱۹۸۸ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’خارجی ‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’حیا‘‘ (۱۹۹۷ء)؛ ’’میں تاریکی میں رہتی ہوں ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’بیرونِ حیات‘‘ (۱۹۹۳ء،۱۹۹۹ء،۲۰۰۰ء)؛ ’’وقوعہ؍حادثہ‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’گم شدگی ‘‘ (۲۰۰۱ء)؛ ’’پیشہ ‘‘ (۲۰۰۲ء)؛ ’’فوٹوگرافی کا استعمال‘‘ (۲۰۰۵ء)؛ ’’برس ہا برس‘‘ (۲۰۰۸ء)؛ ’’دخترِ ثانی‘‘ (۲۰۱۱ء)؛ ’’روشنیاں دیکھو، میرے پیارے‘‘ (۲۰۱۴ء)؛ ’’کتھا ایک دوشیزہ کی‘‘ (۲۰۱۶ء)؛ ’’ہوٹل کاسانووا‘‘ (۲۰۲۰ء)؛ ’’نوجوان‘‘ (۲۰۲۲ء) شامل ہیں۔
اسلوب
اَنّی ایغنو اپنے سوانحی ناولوں کے لیے پہچانی جاتی ہیں جو سماجی طبقے، جنس اور ذاتی یادداشت کے موضوعات کو کٹھور اور معروضی انداز کے وسیلے سے کھوجتی ہیں۔ اُن کی پہچان ایک منفرد ادبی نقطۂ نظر کی حامل کے طور پر ہے، جسے ’’آٹو-سوشیو-بایوگرافی‘‘ یا ’’سماجی خودنوشت‘‘کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی تخلیقات میں اکثر اپنی زندگی کو بطور موضوع برتتے ہوئے مستقل طور پر صنف، زبان اور طبقے کے تفاوت کا جائزہ لیتی ہیں اور ویرل، معروضی، اور بے ساختہ نثر برتتے ہوئے بغیر کسی پچھتاوے کے، چھلنی استعمال کیے بغیر مخصوص یادوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں— ایک ایسا انداز جس کی وجہ سے وہ نوبیل انعام سے سرفراز ہوئیں۔
اعزازات و انعامات
یوں تو اَنّی ایغنو کو اُن کے تخلیقی ادب پر بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے، جس کا آغاز ۱۹۷۷ء سے Prix d’Honnneur for Ce qu’ils dissent rien سے ہی ہو گیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں سہرجی پونٹواہز یونیورسٹی، فرانس نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ ۲۰۱۹ء میں اُن کی خود نوشت ’’برس ہا برس‘‘ بُکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی اور ۲۰۲۲ء میں نوبیل انعام برائے ادب سے سرفراز ہوئیں۔ ۲۰۰۸ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’برس ہا برس‘‘ (The Years) کو، جس میں ذاتی اور اجتماعی تاریخ کا ادغام کیا گیا، بیشتر ناقدین نے اس کے مواد اور اختراعی شکل دونوں کے لحاظ سے اَنّی کی اہم کامیابی گردانا ہے ۔
۰۰۰
اَنّی ایغنو کی تحریروں کے مزید تراجم

مبشر احمد میر
۳؍ اکتوبر۱۹۵۳ء کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔بچپن بہاول پور میں گزرا، بسلسلہ ملازمت مختلف شہروں میں رہنے کا موقع ملا۔محکمہ تعلیم، کمرشل ونگ سے بطور چیف انسٹرکٹر ۲؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو سبکدوش ہوئے۔ ۲۰۱۳ء میں گجرات سے ریٹائر ہونے کے بعد راولپنڈی میں قیام ہے۔ چند افسانے لکھے، جو اجرا، زیست اور تناظر میں شائع ہوئے۔ بدیسی ادب کو سمجھنے کی کوشش میں ترجمے کا رخ کیا۔ جو نقاط، تناظر، مکالمہ، اجرا اور زیست کی زینت بنے۔ حوزے سارا ماگو کے ایک ناول کا ترجمہ اکادمی ادبیات سے شائع ہو چکا ہے۔ جب کہ دو مزید ناولوں کے تراجم زیرِ طبع ہیں۔
۰۰۰

1 thought on “مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)”
سلیس ترجمہ