تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

فرانسیسی ناولچہ

دخترِ ثانی

اَنّی اَیغنو

Annie Ernaux

تعارف و ترجمہ؍نجم الدّین احمد

پہلا حصہ

۔’’بچّوں کی مقہوری یہ ہے کہ وہ اعتبار کرتے ہیں۔‘‘ فلینری او’کونور 

۱

ایک کتابچے کے پیلے پڑے گتّے پر چپکا ہُوا وہ بیضوی فوٹو گہرے سُرخی مائل بُھورے رنگ کا ہے جس کی لمبائی کے تین چوتھائی حِصّے میں ایک بچّی اُوپر تلے دھرے لہریے دار حاشیہ دار گبھّوں پر بیٹھی ہے۔ اُس نے سوزن کاری والی قمیص پہن رکھی ہے جس پر ایک چوڑا سا فیتہ ہے جس پر ایک بڑی گانٹھ کندھے کے ذرا سا پیچھے یُوں بندھی ہُوئی ہے جیسے کوئی جسیم پُھول یا پنکھ پھیلائے تتلی ہو۔ ایک طویل القامت بچّی، جو زیادہ  فربہ نہیں، جس کی ٹانگیں آگے کی سمت پھیل کر میز تک پہنچی ہُوئی ہیں۔ اُس کے گنبد جیسے ماتھے کے اُوپر بُھورے بال پیچھے کی طرف گوندھے ہُوئے ہیں اور اُس کی بڑی بڑی آنکھوں میں دہکتی ہُوئی شدّت ہے۔ گُڑیا کے مانند کھلے ہُوئے اُس کے ہاتھ کسمساہٹ کا شکار لگتے ہیں۔ یُوں لگتا ہے گویا وہ بچّی کُدکنے لگی ہے۔ فوٹو کے نیچے فوٹو گرافر کے دستخط ہیں: موسیو رِیڈل، لِلے بون، جس کے گندھے ہُوئے مختصر دستخط نے پوشش کے بالائی بائیں کونے کو بھی زینت بخشی ہُوئی ہے، جو بے حد گرد آلود ہے اور اُس میں سے نصف صفحات ڈھیلے ہو کر الگ ہو چکے ہیں۔

*

جب میں چھوٹی تھی تو  مجھے بخوبی یاد ہے  مجھے بتایا جاتا تھا کہ وہ میں ہُوں۔ لیکن وہ میں نہیں ہُوں، وہ تم ہو۔

لیکن اُسی فوٹو گرافر کا کھینچا ہُوا اَیک میرا فوٹو بھی تھا، عین اُسی میز کے ساتھ، عین اُسی انداز میں بُھورے بال اُوپر کی سمت گوندھے ہُوئے لیکن میں گول مٹول دِکھائی دیتی تھی کہ آنکھیں گول چہرے میں دھنسی ہُوئیں اور میرا اَیک ہاتھ میری رانوں میں دیا ہُوا۔ مجھے نہیں یاد کہ تب میں اُن دونوں تصویروں میں واضح فرق پر اُلجھاؤ کا شکار ہوتی تھی۔

اولیا کے تہوار کے روز، میں اِزِیٹو کے گورستان میں دوقبروں پرپُھول رکھنے جاتی ہُوں۔ والدین کی اورتمھاری قبر پر۔ اگلے برس تک میں قبر کی جگہ بُھول جاتی ہُوں لیکن میں ایک بلند اور نہایت سفید صلیب کی مدد سے شناخت کر لیتی ہُوں جو گرجاگھر کے وسط سے ہی دِکھائی دیتا ہے اوروالدین کی قبروں کے بالکل ساتھ واقع تمھارے مرقد پر نصب ہے۔ ہرقبر پر مختلف رنگوں کے گُلِ داؤدی دھرتی ہُوں، بعض اوقات میں تمھاری مرقد پر خلنج کی جھاڑی کا گملا آرائشی پودوں کی بڑی کیاری کے اندر رَکھتی ہُوں جو اِسی مقصد کے لیے کتبے کے قریب کھودی گئی ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ ہم قبروں کے سامنے زیادہ سوچتے ہیں۔والدین کے مرقدوں کے سامنے میں زیادہ دیر تک ٹھیرتی ہُوں۔یُوں گویامیں اُنھیں بتا رہی ہوتی ہُوں۔ ’’میں آ گئی ہُوں۔‘‘ اوریہ کہ میں نے پچھلا برس کیسے گزارا، کیا کچھ کِیا، لکھا اور لکھنے کی آس رکھی۔ پھرمیں دائیں طرف تمھاری قبر پر جاتی ہُوں، قلبِ عروقی کو دیکھتی ہُوں، ہر مرتبہ نہایت چمکیلے سنہری جلی حروف میں کندہ کی ہُوئی عبارت کوپڑھتی ہُوں جو پُرانی عبارت کے اُوپر بے ڈھنگ پن سے دوبارہ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں چھوٹے حروف میں لکھی گئی غیرواضح اوربدخط ہے۔ سنگِ مرمر والے نے اپنے طور پراصل عبارت نصف مٹا ڈالی ہے، بس تمھارے نام کا پہلااور آخری حصِّہ رہنے دیتے ہُوئے اُس نے اُس کے نیچے یقینا اِسے ضروری سمجھنے ہُوئے بس یہ ذکررہنے دیا:

 ’’وفات:ایسٹرسے پچھلی مقدس جمعرات،۱۹۳۸ء‘‘۔جب میں پہلی دفعہ تمھاری لحد پر گئی تھی تب بھی اِن الفاظ نے مجھے جھٹکا لگایا تھا گویا پتھّر پر مرقوم یہ تحریر یہ خداکا انتخاب اور تمھاری تقدیس کا ثبوت ہو۔ پچیس برسوں سے میں قبروں پر آ رہی ہُوں لیکن میں نے کبھی تم سے کوئی بات نہیں کی۔

سماجی مرتبے کے لحاظ سے تم میری بہن ہو۔ تمھارے نام کا آخری جزو بھی وہی خاندانی نام ہے جو میرے نام کا ہے یعنی جُوشَین، میری دوشیزگی والا نام۔ والدین کی عملاً کم و بیش پھٹے حالوں والی سرکاری خاندانی ریکارڈ کی کتاب میں، شادی کے بعد بچّوں کی پیدائش اور اموات کی سُرخیوں تلے ہم دونوں کے نام ایک دُوسرے کے اُوپر نیچے درج ہیں۔ تم اُوپر ہو جس پر لِلّے بون (سَین انفیریئر) کی دو ٹکٹیں چسپاں ہیں اور مَیرے نام کے ساتھ صرف ایک ٹکٹ میری موت کا اندراج کسی اَور ہی نام سے کسی اَور ہی سرکاری کتابچے کے موت کے خانے میں ہو گا، اُس کتاب میں جو میرے خاندان کے توّلد کی تصدیق کرتی ہو گی۔ 

لیکن تم میری بہن نہیں ہو، کبھی نہیں رہیں۔ ہم کبھی ساتھ کھیلے نہ کھایا، نہ اکٹھّے سوئے۔ میں نے کبھی ایک دُوسرے کو چُھوا نہ چُوما۔ مجھے تمھاری آنکھوں کا رنگ نہیں معلوم۔ میں نے کبھی تمھیں دیکھا تک نہیں۔ تم بے جسم، بے زبان ہو۔ چند سیاہ و سفید تصویروں میں محض ایک سپاٹ شبیہ۔ میرے پاس تمھاری کوئی یاد نہیں۔ جب میں پیدا ہُوئی تو تمھیں دُنیا سے رخصت ہُوئے اڑھائی برس بِیت چکے تھے۔ تم جنت کی باسی بچّہ ہو، غیر مرئی ننّھی سی لڑکی جس کا کبھی کسی نے ذکر نہیں کِیا، تمام گفتگوؤں سے غیر حاضر۔ ایک بھید۔

تم سدا مُردہ رہی ہو۔ اُس موسمِ گرما میں بھی جب میں دس برس کی تھی تو تم مُردہ ہی میری زندگی میں داخل ہُوئیں۔ جس طرح گون وِد دی وِنڈ (Gone With The Wind) میں سکارلیٹ اور رَہیٹ کی ننّھی بیٹی ہی کے مانند تم نے بھی قِصّے میں جنم لیا اور موت سے ہمکنار ہُوئیں۔

اِس کہانی کی کہانی کہنے کا مقصد ایک جیتے جاگتے تجربے کو انجام تک پہنچانا ہے جو ایسے ہی ہے گویا فوٹو فلم کے ایک ایسے اسطوانہ کو دھو کر اجاگر کرنا جو ساٹھ برسوں سے الماری میں بند پڑا ہَو اور جس کے فوٹو کبھی نہ بنوائے گئے ہوں۔

کہانی کا منظر ۱۹۵۰ء کی گرما کی تعطیلات میں جنم لیتا ہے، جو ہم نژادوں، کچھ مقامی اور اِزِیٹو میں تعطیلات بسر کرنے آئی ہُوئی شہری لڑکیوں کے ساتھ صبح تا شام کھیلنے کا آخری موسمِ گرما تھا۔ ہم نے تاجر اور بڑی عمر کے لوگ بننے کے کھیل کھیلے؛ اپنے والدین کی دُکان کے احاطے کی کئی کوٹھڑیوں میں بوتلوں کے کھانچوں، ڈبّوں اور پُرانے کپڑوں سے گھر بنائے۔ جس طرح ریڈیو کے فطری جوہر کی تلاش والے پروگرام کے مانند ہم سب نے باری باری جھولے میں کھڑے ہو کر گیت گائے: اچھا ہے گھر اپنا ہی؍تم میرے میٹرے پیرے، میرا زیر جامہ، میرا لہنگا۔ ہم آنچو چننے باہر کھسک جاتیں۔

 والدین نے اِس عذرِ لنگ پر لڑکوں پر ہمارے ساتھ کھیلنے پر پابندی لگا رکھی تھی وہ ناشائستہ کھیل کھیلتے ہیں۔ شام کے وقت ہم لوگ میل کچیل سے اَٹے کنگھوں جیسے ہو کر جُدا ہو جاتے۔ میں اپنے بازو اور ٹانگیں دھوتی اور اگلے دِن دوبارہ آغاز کا سوچ سوچ کر خُوش ہوتی رہتی۔ اگلے برس، لڑکیاں تتّربتّر ہو گئیں یا آپس میں لڑ پڑی تھیں کہ میں بے مزہ تھی اور میرے پاس واحد دِلچسپی صرف مطالعہ کرنا تھا۔

میں اُن تعطیلات کا ذکر دیر تک کرتی رہوں گی۔ اِس کہانی کی کہانی کہنے کا مقصد ایک جیتے جاگتے تجربے کو انجام تک پہنچانا ہے جو ایسے ہی ہے گویا فوٹو فلم کے ایک ایسے اسطوانہ کو دھو کر اجاگر کرنا جو ساٹھ برسوں سے الماری میں بند پڑا ہَو اور جس کے فوٹو کبھی نہ بنوائے گئے ہَوں۔

یہ اتوارکی ایک بعدازسہ پہرہے،والدین کے کریانے کی دُکان اور کیفے کی سکول والی گلی کے، جس کا یہ نام ایک نجی کنڈر گارٹن کی وجہ سے ہے جو صدی کے آغاز میں یہاں قائم تھا، پچھواڑے ایک تنگ گلی کے آغاز پر حفاظتی نقطۂ نظر سے تاروں کی بلند باڑ لگا گلاب اور گلِ کوکب کا ایک چھوٹا باغچہ گھاس پھونس کے پٹّی سے بلند دِیوار کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ گلی کی دُوسری جانب گہری جھاڑ بندی ہے۔
میری ماں بہت دیرسے کسی جوان العمرعورت کے ساتھ بات چیت میں غرق ہے، جو اپنی چار سالہ بیٹی کے ہمراہ لُوآور سے اپنے سسرال ’س‘ خاندان میں تعطیلات بسر کرنے آئی ہُوئی ہے، جن کا گھر رُوئی ڈی لاایکول سے لگ بھگ دس میٹر کی دُوری پر ہے۔ یقینا وہ دُکان سے باہر نکلی ہے، جو اُس زمانے میں کبھی اپنے گاہکوں کے ساتھ گپ شپ لگانے کی وجہ سے بند نہیں ہوتا تھا۔ میں اُن کے قریب ہی مِی ہَئیے نامی ایک چھوٹی لڑکی کے ساتھ پکڑم پکڑائی کا کھیل رہی ہوتی ہُوں۔ مجھے نہیں پتا کہ کس چیز نے میرے کان کھڑے کیے، شاید میری ماں کی آواز نے، جو یکایک دِھیمی ہو گئی تھی۔ میں نے سانس تھام کر اُس کی آواز پر کان لگا دیے۔

میں اُن کی کہانی عین بعین نہیں دُہراسکتی کیوں کہ محض اُس کامتن اور جملے ہی اِتنے برسوں سے آج تک چِپکے رہے ہیں، میرے بچپن کی زندگی میں ایک چپ چپیتے اور بے حدّت شعلے کی طرح پھیل گئے ہیں۔ میں شک نہ پڑنے کی غرض سے اپنا سر جھکائے اُس کے پاس ہی رقص کرتے ہُوئے چک پھیریاں لیتی رہی۔

[یہاں مجھے لگتاہے کہ الفاظ روشنی کے ہالے میں آگئے ہیں، مجھ پرواردہورہے ہیں اوربس معاملہ ختم۔]

وہ کہتی ہیں کہ اُن کی میرے علاوہ ایک اَور بیٹی بھی تھی جو جنگ سے پہلے چھے برس کی عمر میں خناق سے لِلّے بون میں چل بسی تھی۔ وہ اُسے گلے میں بن جانے والی جھلّی اور سانس کی گھٹن کا تذکرہ کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اُس نے ایک ننّھی سی برگزیدہ ہستی کی سی موت پائی۔

تم نے مرنے سے پہلے اُن سے جو الفاظ کہے تھے پھر وہ اُنھیں دُہراتی ہے: ’’میں مقدس کنواری اور آقا یسوعؑ سے ملنے جا رہی ہُوں۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ میرے خاوند نے جب پورٹ جیروم کے تیل صفا کاری کے کارخانے سے کام پر سے واپس لوٹ کر تمھیں مُردہ دیکھا تو وہ مجنون ہو گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اپنے ساتھی کو کھو دینے کا کوئی متبادل نہیں۔

وہ میرے بارے میں کہتی ہیں کہ اِسے کسی بات کا علم نہیں، ہم اِسے رنجیدہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔

آخر میں وہ تمھارے متعلق کہتی ہیں کہ وہ ’اِس‘ سے بہت نفیس، بھلی طبیعت کی تھی۔

وہ ’اِس‘ میں ہُوں۔

جس طرح ایک فوٹو کا منظر تبدیل نہیں ہوتا اُسی طرح کہانی کا منظر بھی تبدیل نہیں ہُوا۔ میں گلی میں اُن دونوں عورتوں کی بالکل درست جگہ اور دونوں کو ایک دُوسرے کے لیے لازم و ملزوم حیثیت میں دیکھتی ہُوں۔ میری ماں سفید کوٹ میں، اپنے رومال سے وقفے وقفے سے اپنی آنکھیں پُونچھتی ہُوئیں۔
اُس جوان عورت کا خاکہ، عام گاہکوں سے زیادہ خُوش وضع، ہلکے رنگ کے لباس میں ملبوس، بال پیچھے کی طرف موڑ کر چھوٹا سے جوڑے میں گوندھے ہُوئے اور اُس چہرہ نرم خُو بیضوی۔ (تاش کی گڈی میں ایک جیسے پتّے نکالنے والے کھیل کے مانند، بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں میں یادداشت کی بے ساختہ ہم نقش نگاری کی یہ کارکردگی مجھے معلوم ہے کہ اگرچہ اب مجھے  ۱۹۵۹ء کے موسمِ گرمامیں رُوآں کے قریب اِمار  میں لگنے والے کیمپ کی، جہاں میں نے بطور معلّم کام کِیا تھا، اُس ڈائریکٹر کے چہرے کے نقوش کی یکسانیت کے الجھاؤ میں ڈالتی ہے۔)

کسی بھی شے سے زیادہ، منظر کی حقیقی ہونے کی تصدیق ایک نوع کے مجسم فریبِ خیال سے ہوتی ہے کہ میں محسوس کرتی ہُوں کہ میں  اُن دونوں عورتوں کے بیچ چکّرا کر رہ گئی ہُوں۔ میں رُوئی ڈی لاایکول کے پتھّروں کو دیکھتی ہُوں جن پر بہت بعد میں ۱۹۸۰ء میں تارکول بچھایا گیا تھا؛ پشتے، باڑ اور مدہم پڑتی روشنیوں کو، دُنیا بھر کا تمام کا تمام منظر اپنے اندر یُوں جذب کرتے ہُوئے دیکھتی ہُوں گویا حافظے میں رہے کہ کیا کچھ وقوع پذیر ہو رہا تھا۔

میں موسمِ گرماکے اُس اتوارکی بالکل درست تاریخ نہیں بتاسکتی لیکن میں اُسے سدا اَگست کاکوئی اتوار سمجھتی ہُوں۔ پچیس برس قبل، جریدۂِ پاویسے کامطالعہ کرتے ہُوئے مجھ پر منکشف ہُوا کہ اُس عورت نے ۲۷؍اگست، ۱۹۵۰ء کو ہوٹل کے ایک کمرے میں خُود کشی کر لی تھی۔ میں نے فوراً پڑتال کی تو وہ دِن اتوار کا نکلا۔ تب ہی سے میرے دِل میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یہ یکساں ہے۔

میں برس ہابرس تک اِ س سے بھاگتی رہی لیکن یہ ایک وہم تھا۔تمھارا اَورمیرا دونوں کا وقت اکٹھّے نہیں گزرا؛ ہم دونوں کے درمیان کبھی کوئی بات چیت نہیں ہُوئی۔

شائستہ۔مجھے لگتاہے جیسے مجھے پہلے ہی معلوم تھاکہ مجھے اپنے والدین سے روزانہ کی بنیاد پر نوازے جانے والی صفات اورمیرے روّیے کوملحوظِ خاطر رکھتے ہُوئے اِس لفظ کا اطلاق مجھ پر نہیں کیا جا سکتا تھا: گستاخ، غلیظ نخریلی، حریص، مجھے سب پتا ہے، دردِسر، تمھارے اندرشیطان بستاہے۔ لیکن اُن کی سرزنشیں اُن کی اُس محبت کے ایقان کے باعث میرے سر کے اُوپر سے گزر جاتیں، جس کا بیّن ثبوت اُن کا مجھ چھوٹی سے کے لیے فکر مند ہونا اور اُن کے تحائف تھے۔ اکلوتی بیٹی، لاثانی ہونے کے سبب بگڑی ہُوئی، ہمیشہ اپنی کلاس میں بِلامحنت کے اوّل آنے والی؛ المختصر، میں سمجھتی تھی کہ میں جیسی ہُوں ویسا ہونا میرا حق ہے۔

بھلی مانس،جیساکہ اَبے’’ بی‘‘نے میری سات برس کی عمرمیں میرے پہلے اعترافِ گناہ پر، جب میں نے ’’تنہا اوردوستوں کے ہمراہ مل کر بُرے کاموں کا اعتراف کِیا تھا، مجھے دوٹوک بتا دیا تھا کہ میں خُدا کی نگاہوں میں بھلی مانس نہیں ہُوں۔ اُس کے مطابق ’دِیگران‘ جو آج معمول کے مذہبی احیاء سے مجھے جنسیت پرستی سے جوڑتے جا رہے ہیں وہ مجھے جہنم واصل کرنے کا سبب بنیں گے۔

حقیقت الفاظ کامعاملہ ہے، نکاسات کا ایک نظام۔ زیادہ، کم۔ یا،اور۔ پہلے، بعدمیں۔ وجود یا عدم وجود۔ حیات یا ممات۔

اقامتی سکول کی ہیڈمسٹریس نے بھی ایک روزمجھے اپنی چمکتی ہُوئی آنکھوں سے برہمی سے گھورتے ہُوئے اِسی بات کی توثیق کی۔ تم ہرجماعت میں اوّل آسکتی ہومگر تم اپنے خُداکو خُوش نہیں کر رہیں۔‘‘ مجھے مذہبی افعال سے کوئی رغبت نہیں تھی۔ مجھے خُداسے محبت نہیں تھی بلکہ میں اُس سے دہشت زدہ تھی لیکن میں نے کسی کواِس کا ہلکاسا بھی شبہ نہیں ہونے دیا، بس نچنت اورچُپ رہی۔ جب شنگرفی روشنی کے سامنے گھٹنوں کے بَل جھکے ہُوئے اُس نے گرجاگھر میں مجھے سرگوشی کی کہ نیک دِل یسوعؑ سے خُوب دُعاکروں تومجھے وہ حکم نُما ہدایت قدرتِ کاملہ والی ماں کے لیے طفلانہ اور احقر لگی۔

مہربان،جس کامطلب مشفق،پیارسے گلے لگانے کے لائق بھی تھا، جیساکہ ہم نارمن میں بچّوں اورکتّوں کے لیے کہتے ہیں۔ بالغوں سے دُوری رکھ کراُنھیں چُومنے کے بجائے کہ میں اپنے آپ کوایسی باتوں سے محترزرہتے ہُوئے اُن کامشاہدہ کرنے اوراُن کی باتیں دھیان سے سننے کوترجیح دیتی تھی۔ لیکن اُن دونوں کے ساتھ، دِیگر بچّوں کے موازنے پر یقینا میں بہت زیادہ قربت رکھتی تھی۔

ساٹھ برس بعد،میں اِس لفظ پرلغزیدہ ہوکرنہیں ٹھیرسکتی کہ اِس کے مفہوم کوتمھارے اوراُن کے حوالے سے سلجھانے کے جتن کروں جبکہ اِس کا مفہوم ایک فوری چکاچوند کے مانندتھا، جس نے لمحوں میں میرا مقام بدل کررکھ دیا تھا۔ اُن کے اورمیرے درمیان اب تم ہو، نادیدہ لیکن سراہے جانے والی۔ میں ایک طرف دھکیل دی گئی ہُوں؛ تمھیں باہم مربوط کرنے کی خاطر دھکیل دی گئی ہُوں۔ واپس ایک تاریک مقام پردھکیل دی گئی ہُوں تاکہ تم دائمی روشنی میں بلند اُبھرو۔ موازنے کیے گئے کیوں کہ میں اکلوتی ہونے کی حیثیت میں ناقابلِ موازنہ تھی۔ حقیقت الفاظ کامعاملہ ہے، نکاسات کا ایک نظام۔ زیادہ، کم۔ یا،اور۔ پہلے، بعدمیں۔ وجود یا عدم وجود۔ حیات یا ممات۔

میری ماں اور میرے مابین، محض دو الفاظ۔ میں نے اُنھیں اُن الفاظ کی ادائی کی۔ میں نے اُن کے خلاف لکھا، اُن کے لیے لکھا۔ وہ اپنی جگہ پر ایک مغرور اور فرومایہ کارکن تھیں۔ نہایت مشفق، میں حیران ہُوں کہ اگر اُنھوں نے مجھے میرا حق دیا نہ دیا ہوتا، کوئی تنبیہ کی ہوتی تو وہ شفیق بھی نہ ہوتیں۔ اُس اتوار کو میں اپنا تاریک پہلو نہیں دیکھتی بلکہ وہ میری ذات بن جاتی ہے۔ قرأت کا دِن روزِ حشر ہوتا ہے۔

بائیس کے سن میں، اُن کے ساتھ رات کے کھانے کی میز پر ایک مباحثے کے بعد، میں اپنے روزنامچے میں لکھتی ہُوں: ’’میں نے سدا قباحتیں ہی کیوں کرنا چاہیں اور مزید یہ کہ میں اب بھی بھگت رہی ہُوں۔‘‘

بچپن جو وقوع پذیر نہ ہو اُس کا بھی ایک نام ہوتا ہے۔ مجھے نہیں پتا میں کیا محسوس کرتی تھی لیکن میں رنجیدہ نہیں تھی۔ ’’چکمہ دیے جانے‘‘ جیسی کوئی چیز، لیکن اِس لفظ کا واسطہ کئی برسوں کے بعد میرے بووُویا کے مطالعے سے پڑا تو یہ مجھے اپنے بچپن پر لاگو کرنے کے لیے غیرحقیقی، بے وزن، اور غیرمناسب لگنے لگا۔ طویل عرصے کی جستجو کے بعد میرے ہاتھ جو ناقابلِ تردید درست لفظ لگا وہ ہے: فریب خوردہ۔ میں فریب خوردہ تھی، مقبولِ عام تشریح و فراست کے مطابق: دِلی اذّیت رسیدہ۔ میں سوءِ فہم میں مبتلا زندگی بسر کرتی رہی۔ میں لاثانی نہیں تھی۔ ایک اَور بھی موجود تھی جو عدم سے آئی تھی۔ پس، میرا خیال ہے کہ میں جتنی بھی محبت وصول رہی تھی وہ سب باطل تھی۔

مجھے یہ بھی لگتاہے کہ میں تم پر اِس لیے بھی خفاتھی کہ تم نے کہا تھا کہ تم مقدس کنواری اور آقا یسوعؑ سے ملنے جا رہی ہو۔ یہی الفاظ تھے جن کے سبب مجھے سدا بے توقیری ملی کیوں کہ یہ الفاظ میرے ہونٹوں سے کبھی ادا نہیں ہُوئے اِس لیے کہ میں خدا سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔ بعد ازاں، بلوغت پالینے پر، میں نے طیش میں آکر اُنھیں مؤردِ الزام ٹھیرایا کہ اِس فضول اَمر پر اُنھوں نے ایمان قائم کِیا تھا۔ لیکن اب مجھے کوئی خفگی نہیں، میں دِل جوئی کی خاطر اِس اندازِ فکر کو تسلیم کرتی ہُوں کہ جب عدم وجودیت کی سمت جھکاؤ ہو جائے تو کوئی ایک دُعا، کوئی ایک گِیت قدروقیمت کا حامل ہو جاتا ہے اور میں اپنی اِس سوچ کو مقابلتاً بہتر سمجھتی ہُوں کہ تم خُوش رخصت ہُوئیں۔

میری ہم نژاد’’جی‘‘کے مطابق کہ یہ’’سی‘‘ تھی،ایک اَورہم نژاد، جس نے مجھے ایک یا دو برس قبل تمھارے وجود اور تمھاری وفات کے بارے میں بتایا تھا۔ میں بہ آسانی قیاس کر سکتی ہُوں کہ میں ہمیشہ جن چیزوں سے صرفِ نظر کرتی تھی اُنھیں مجھے سب سے پہلے پڑھانے والی وہی ہوتی تھی۔ مجھے بالکل ٹھیک ٹھیک یاد ہے کہ جب وہ مجھے جنسی مظاہر کے متعلق اسباق دے رہی تھی تو اُس کی عمر محض تین برس تھی۔ اُس نے مجھے کبھی نظر انداز نہیں کِیا تھا۔ لیکن میرے پاس اب اُس کی سکھائی ہُوئی چیزوں کی یاد تازہ کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اُس کھوئے ہُوئے لمحے پر اتواروں کا یکساں سُورج بسیط ہے۔ شاید میں نے تمھارے وجود پر اعتبار کے خلاف مزاحمت کی ہو؛ اُسے کچلنے کو ترجیح دی ہو۔

[کیا میں تمھارے احیاء اورتمھیں دوبارہ ہلاک کرنے کے لیے لکھ رہی ہُوں؟] 

میں تعجب سے سوچتی ہُوں، شایدتم اُس موسمِ گرماکی سہ پہر میں وہاں موجود رہی ہو کہ میں جس سے ایک یا دو برس قبل میں قِصّے کا آغاز کررہی ہُوں۔ میں باغچے میں ہُوں اورایک کہانی لکھ رہی ہُوں، ایک ایسی لڑکی کا قِصّہ جو تعطیلات بسر کرنے ایک دیہات میں گئی ہے اوروِیلَٹ میں   جسے ہم ’’پے ڈی کو‘‘ کہتے ہیں   فصل برداشت کرنے کے بعد بھروٹوں کے ایستادہ سُوکھے ساق، نیچے دم گھٹنے سے اُس کی حادثاتی موت واقع ہو جاتی ہے۔ میں یہ کہانی اپنے والد کو پڑھواتی ہُوں، جو اپنے کیفے کے گاہکوں کے سامنے    غلو سے کام لے کر عش عش کرتے ہُوئے میری صلاحیتوں کی تعریفوں کے پُل باندھتا ہے۔ اُن کے (ماں کے) سامنے بھی، لیکن مجھے اُن کی رائے یاد نہیں۔

تم میرے اُس جاگتی آنکھوں کے خواب میں موجودرہی ہو جسے میں پانچ سے دس برس تک متواتر دیکھتی رہی تھی: میں ’’جے‘‘ کے ساتھ گلابی پردوں والے ایک پنگھوڑے میں لیٹی ہُوں۔۱۹۴۴ء میں ’’جے‘‘ للّے بون میں لُو آور سے آئی ہُوئی اَیک پناہ گزین تھی، پبلک گارڈن میں کھیل کے دوران میں میری پسندیدہ ساتھی، جہاں میں سال میں ایک مرتبہ موسمِ گرما میں انتہائی اشتیاق کے ساتھ جاتی اور ہمارے والدین کے ہمراہ اپنے ساتھ کافی مقدار میں لائے ہُوئے کھانے کھاتی تھی۔ پنگھوڑے میں ہم دونوں کو ایک دُوسرے کے ساتھ لپٹا ہُوا دیکھتی ہُوں جیسے کھلی آنکھوں والی دو گُڑیاں ہَوں۔

یہ کامل مسرت کی ایک تصویر ہے۔(اپنی ماں کے بارے میں ۱۹۸۶ء میں تحریر کرتے ہُوئے، میں اِسے ’’گلابی خواب‘‘ کے نام سے پکاروں گی لیکن یہ کتاب میں شامل نہیں ہوگا کیوں کہ تب میں نے اِسے جومعنی دیے تھے اُس وقت مجھے اِس کلیشے کامفہوم معلوم نہیں تھا جوکہ اخیافی حالت سے متعلق حسرت ناک یادیں ہے۔)

میری یادداشت میں بس یہی ایک قِصّہ باقی رہا جو مجھے نہیں سننا چاہیے تھا، جو میرے لیے نہیں تھا۔

اور قدرتی طور پر، میرے دُنیا میں آنے کے بعد کے چند سالوں پر محیط عرصے کے دوران میں تم میرے آس پاس سرگرداں رہیں، اپنی ناموجودگی میں بھی دِھیمی دِھیمی سرگوشیوں میں مجھے اپنے گھیرے میں لیے رکھا۔ دُکان پر اور پبلک گارڈن کے بنچوں پر، جہاں زمانہِ جنگ کے دوران میں گاہکوں کی قلیل آمد کی وجہ سے وہ مجھے ہر سہ پہر لے جایا کرتی تھیں، دِیگر عورتوں کو سنائی جانے والی کہانیوں میں بھی تم تھیں۔ لیکن اُنھوں نے میرے شعور میں کوئی سراغ نہیں چھوڑا۔ وہ بے تصوّر اور بے الفاظ رہیں۔

میری یادداشت میں بس یہی ایک قِصّہ باقی رہا جو مجھے نہیں سننا چاہیے تھا، جو میرے لیے نہیں تھا۔ یہ اُس خُوش وضع جوان خاتون کو مخاطب کر کے کہی گئی تھی جس نے بِلاشبہ اپنی مہیب بدقسمتی کی مسحوریت کے ساتھ اِسے دھیان سے سنا تھا۔ واحد سچا قِصّہ، اُن کے اپنے الفاظ اور اُن کی اپنی آواز میں، اُن کی اپنی مستند آواز کیوں کہ وہ وہاں تھیں اور کیوں کہ اُس جوڑے، اُن دونوں میں سے وہی توانا تھیں میں یہ بات اُس روز سمجھ پائی تھی کہ اپنے دُوسرے بچّے کی موت کون برداشت کر سکتا ہے۔ ایک چست، فیصلہ کُن، ناقابلِ تحریف کہانی جو تمھیں ایک برگزیدہ ہستی کے مانند زندہ رکھتی اور مارتی ہے، لی ژی یُو کی ٹے ہئیزو کے مانند جس کا شیشے میں جڑا بڑا سا فوٹو خواب گاہ کی دِیوار پر ٹنگا ہے۔ ایک ایسا لاثانی قِصّہ جس کے جیسا کوئی اَور کبھی نہیں ہوگا جو میرے لیے اُس دُنیا کی راہ کھولتاہے جہاں تم ایک مردہ اور ایک برگزیدہ ہستی کا وجود رکھتی ہو۔ ایسا قِصّہ جو سچ بیان کرتا ہے اور مجھے نکال باہر کرتا ہے۔

جب میں اِس کے بارے میں سوچتی ہُوں کہ میری موجودگی سے آگاہی کے باوجود کیوں کہ یہ مجھے جانشین نامزد کرتی ہے یہ کیسے ہُوا کہ وہ تمھارے متعلّق باتیں کرتی رہیں؟ کسی حیلے بہانے سے اُن کے لاشعور کی تحلیلِ نفسی کی صراحت، کہ میری ماں کو تمھارے وجود کے بھید کو مجھ پر منکشف کرنے کا یہی طریقہ سُوجھا ہو گا اور قِصّے کی اصل آخذ و شِنوا میں ہی تھی، عمومی اور خُوش نُما ہے۔ یہ ذہنی پختگی کے درجات کی تاریخ سے صرفِ نظر کر جاتی ہے۔ ۱۹۵۰ء میں، بالغ افراد ہمیں ناقابلِ لحاظ کانوں والے بچّے تصوّر کرتے تھے؛ جن کے سامنے سِوائے جنسی معاملات کے ہم ہر بات نتائج سے لاپروا ہو کے کر سکتے تھے؛ اشاروں کنایوں پر اعتراض اُٹھا سکتے تھے۔

اور یہ، جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کیوں کہ بعد میں مجھے اکثر میتوں کی اِن کہانیوں کو سننے کے مواقع ٹرین میں سفر کے دوران، گیسوساز کے دِیوان میں یا مطبخ میں کوفی کی پیالی نوش کرتے ہُوئے میسر آئے جب ایک عورت سے دُوسری عورت کو موت کو یاد دِلانے والی کسی عبرت انگیز شے کی مختلف انواع کی طرح جن میں تمام دُکھ انڈیل کر عین درست موقع پر دُکھ بانٹا جاتا اور جزئیات کے شمار سمیت منتقل ہو رہی ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ تمھاری باتیں شروع کرنے کے بعد وہ اپنے آپ کو روک نہیں پاتی تھیں، انجام تک نہ پہنچتیں بلکہ بیچ ہی میں اُس جوان ماں کو، جو اِس کہانی کو پہلی مرتبہ سن رہی تھی، تمھارے کھو جانے کے تذکروں میں کسی طرح تمھارے دوبارہ جی اُٹھنے کی تسلیاں ڈھونڈنے لگتیں۔

۲

ایک اَور کہانی بھی ہے۔

میری گول مٹول بچّی اور قوّی الجثہ لڑکی والی تصویریں گمراہ کُن ہیں۔ دس برس کی عمر میں، جب میں نے تمھاری وفات والی کہانی سنی تھی، میں ماضی میں ایک نازک اندام لڑکی رہی تھی؛ نرالے و چھوتے امراض اور حادثات کا شکار ہونے والی، جنھیں میرے سامنے تفصیل سے بیان کیا جاتا تھا اور جو مجھ میں اور خسرے و چیچک سے معمولی متأثرہ دِیگر بچّوں میں امتیاز پیدا کرتا تھا یہ بیماریاں مجھ پر بھی یورش کرتیں اور تادیر برقرار رہتیں جو سبّ و شتم اور رِعایت و چُھوٹ کے بیچ کی کوئی چیز تھی۔

میری زندگی کا آغاز ہی نہایت بُرا ہُوا تھا۔ محض چند ماہ قبل ہی کی عمر میں  مُنھ کھر کی بیماری اِس بیماری کی گائے سے بوتل والے دُودھ کے ذریعے منتقلی کی نہایت ہی نادر و نایاب نظیر پھر جب میں نے چلنا شروع کِیا تو کریانے کی دُکان پر آنے والی ایک گاہک نے میری چال میں لنگ کی نشاندہی کی جس کے باعث میری ٹانگ پر پلستر چڑھا جس نے چھے ماہ تک مجھے چلنے پھرنے سے معذور کر دیا۔ چار برس کی ہُوئی تو گھر کے عقبی آنگن میں ایک ٹُوٹی ہُوئی بوتل پر گِر پڑی جس نے میرا ہونٹ چھید ڈالا وہ اپنی شہادت کی اُنگلی اُٹھاتے ہُوئے کہتیں تو میں اُس مقام پر اپنی اُنگلی دھر لیتیجس نے  بُوند جتنا نشان چھوڑ دیا۔ مزید یہ کہ، بینائی کی کمزوری جو روزبروز بڑھتی ہی جاتی ہے اور سدا سے خراب دانت۔

 اِس شمار میں ایک نہایت ضروری بات رہ گئی ہے۔ میں پانچ برس کی عمر میں مرتے مرتے بچی تھی اور اِس کی ایک الگ ہی کہانی ہے۔ اِس کہانی کی ہیروئن میں ہُوں۔

یہ قِصّہ مجھے اُسی موسمِ گرماکے اتوارسے بخوبی یادہے جب تم میرے بچپن میں نمودار ہُوئی تھیں۔ اُنھوں نے، میری ماں نے، یہ کام چھپائے بغیر میری موجودگی میں بے شمار مرتبہ کِیاتھا، میرے والد سے بہت زیادہ مرتبہ۔ یہ عورتیں ہی ہوتی ہیں جو سدا فرحت و انبساط سے بچپن کے رجسٹر سنبھال کر رکھتی ہیں کیوں کہ یہ متشکک مبہوتیت کو مدام اُبھارتے اور شِنوا کو حیرت میں ڈالتے ہیں۔

اگست ۱۹۴۵ء میں،لِلّے بون کے پبلک گارڈن میں،میں ایک خراب ناخن سے اپنا گھٹنا زخمی کر بیٹھی۔ میری کئی روزکی غیر طبعی خستگی، اکڑی ہُوئی گردن اور مُنھ کھولنے میں دُشواری پر اُنھوں نے ڈاکٹر کوبُلانے کافیصلہ کِیا۔ وہ ایک نوآموز ڈاکٹر تھا۔ میرا معائنہ کرنے کے بعد وہ خاموش رہا، پھر کہنے لگا کہ مجھے اُمید ہے کہ میں غلطی پر ہُوں؛ میں اپنے کسی ساتھی صلاح کروں گا، لیکن یہ تشنج ہے۔ ماں اورابّا دونوں ہی نہیں جانتے تھے کہ یہ کیابَلا ہوتی ہے، اُنھوں نے اِس کے بارے میں سُن بھی نہیں رکھا تھا۔ ڈاکٹروں نے مجھے تشنج کے سِیرے کی  بڑی بڑی خوراکیں دیں اوراُنھوں نے کہا کہ اگرآج رات تک اِس نے اپنے بھنچے ہُوئے دانت وَا نہیں کیے تویہ مر جائے گی۔ پس، وہ میرے سختی سے بھنچے ہُوئے دانتوں میں سے لودَز کے آبِ مقدس کو میرے مُنھ میں ٹپکا کر پلاتی رہیں۔ میرا مُنھ دوبارہ کھل گیا۔

اگلے برس،وہ چوبی تختوں کی نشستوں والی ٹرین پر شب بھرسفر کرکے ادائے شکر کے لیے لودَز گئیں۔ اُن کے پاس پابندیوں کے باعث خوراک کے نام پر صرف رایو مچھلی کا ٹِین ایک ڈبّا تھا اور اُنھوں نے گھٹنوں کے پہاڑوں میں بَل سٹیشنز آف کراس ادا کیے۔ وہ میرے لیے ایک گُڑیا لائیں جو اپنے آپ چلتی تھی اور جس کانام بریناڈِٹ تھا۔

دونوں کہانیوں ،میری اورتمھاری کہانی کا نظم اُس عہدکا اُلٹ ہے، وقت کی رفتار اُلٹی ہے۔ یہ ایک ایسا ضبط ہے جس میں تمھاری موت ہونے سے قبل ہی میں لگ بھگ مرچکی تھی۔

بلا شک و شبہ، اِس قِصّے کو دُہرانے کا سبب یہ ہے کہ سب سے پہلے مجھے اَپنا دھیان اُس لمحے کے اُن تصوّرات پر جمانا تھا کہ مجھے اپنا واسطہ بمباری کے علاوہ بہت کم تعداد میں کسی نہایت مہیب شے سے پڑنا یاد نہیں۔ مجھے دوبارہ دُھوپیلا پبلک گارڈن دِکھائی دیتا ہے۔ میں دوڑتی ہُوئی اپنے والدین کے پاس جاتی ہُوں کیوں کہ میں ٹُوٹی ہُوئی پھٹیوں والے ایک بینچ پر چڑھتے ہُوئے اپنے آپ کو زخمی کر بیٹھی تھی۔ وہ گھاس پر لیٹے ہُوئے ہیں۔ میں اُنھیں اپنے بائیں گھٹنے کے نیچے ایک لال چھید دِکھاتی ہُوں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے؛ جاؤ، جا کر کھیلو۔

میں تہَ ہو جانے والی ایک کُرسی پر مطبخ میں بیٹھی ہُوں۔ میری ہم نژاد ’’سی‘‘ تعطیلات گزارنے ہمارے پاس آئی ہُوئی ہے۔ کھانے کے بعد وہ میز پر چڑھ جاتی ہے اور ’’لالہ کے اچھے پُھولوں جیسی عورتیں، لالہ کے اچھے نئے پُھول‘‘ گانے لگتی ہے ۔ میں حاسد ہو جاتی ہُوں۔

میں اپنی تَہ ہو جانے والی کُرسی کے گِرد گھومتا ہُوا لہنگے کا الجھاؤ میں ڈالنے والا ایک ڈورا دیکھتی ہُوں۔ میں اُن کے قریب ہی دھری اپنی پلنگڑی پر ہُوں؛ وہ مجھ پر جھکتی ہیں۔ بعد میں، غالباً کسی اَور دِن، میرے مُنھ میں خُون کی ایک ندّیا بھر جاتی ہے؛ کمرے میں لوگ موجود ہیں اور وہ دہاڑتی ہیں کہ مجھے سیدھا لیٹنا چاہیے؛ میری پُھوٹی ہُوئی نکسیر کو روکنے کے لیے میری پشت میں کوئی کلید لگاتی ہیں۔ میں بریناڈِٹ کو دوبارہ نیلے لباس میں دیکھتی ہُوں جسے ہم نے بٹھایا نہیں تھا۔

دونوں کہانیوں ،میری اورتمھاری کہانی کانظم اُس عہدکا اُلٹ ہے، وقت کی رفتار اُلٹی ہے۔ یہ ایک ایسا ضبط ہے جس میں تمھاری موت ہونے سے قبل ہی میں لگ بھگ مرچکی تھی۔ مجھے اِس کایقین ہے کہ ۱۹۵۰ء کے اُس موسمِ گرما کے اُس اتوارکا، جب میں نے تمھارے جاں بحق ہونے کی یہ کہانی سنی تھی، میں تصوّر نہیں کرسکتی۔ میں یادکرتی ہُوں۔اب اغلب طور پر میں پہلے سے زیادہ جچے تلے اندازمیں دیکھتی ہُوں لِلّے بون کی وہ خواب گاہ جس میں اُن کا بستر کھڑکی کے متوازی ہے اور چوبِ گلاب میں میرا اُن کے بالکل ساتھ۔ میں اپنے بجائے وہاں تمھیں دیکھتی ہُوں اور یہ میں ہُوں جو مر چکی ہے۔

میں ۱۹۴۹ء کی لاوِش لغت میں پڑھتی ہُوں:’’جب ایک مرتبہ تشنج ہو جائے تو یہ اکثروبیشتر مہلک ثابت ہوتا ہے۔‘‘ باوجود یکہ، معالجاتی انتظامیہ نے ردِّ تشنج کے سیرے کی زیادہ اوردُہراون مقداروں سے علاج کی نظائردی ہیں۔ تاہم جدرینی کے وجودکا تذکرہ موجود نہیں۔ انٹرنیٹ سے مجھے پتا چلا کہ ۱۹۴۰ء تک یہ تمام بچّوں کے لیے لازم تھی لیکن یہ بھی کہ ’’۱۹۴۵ء کے بعد اِس کوبرقرار نہیں رکھا گیا۔‘‘

مجھے لگتاہے گویامیں ہمیشہ لودَزکے آبِ مقدس پر سیرے کے تفوّق کی قائل رہی ہُوں اورچند ایک مرتبہ میں نے اوّل الذکر کے بارے میں اپنے بچپن کے واقعات سے صرفِ نظر کِیا ہے۔ مثال کے طورپر ۱۹۶۴ء میں طبّ کے ایک طالب علم کے رُوئی بُوقے، رُوآں میں اُس کے کمرے میں اُس نے مجھے اپنے ایک محافظ کے متعلق بتایا جو ہسپتال میں تشنج کے مرض سے ناقابلِ یقین درد سے مرے جا رہا تھا۔ پھر میری ماں کے خوف ناک الفاظ آئے کہ ماضی میں تشنج کے مریضوں کو دو گدّوں کے بیچ میں دبا کر دم گھونٹ کے ماررہے تھے۔

بے شمارسوالات میں سے ایک سوال جو میں نے اپنے آپ سے کبھی دریافت نہیں کِیا: اُنھوں نے تمھیں لودَز کے آبِ مقدس کا حق کیوں نہیں دیا؟ یا، ہاں، لیکن اُس نے اثر نہیں کِیا؟

سیرے یاآبِ مقدس، دونوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لودَز، لی ژی یُو، فاطمہ ہم سب معجزوں کے امکانات میں جیتے ہیں، جو اقامت گاہوں والے مدرسوں میں قیام پذیر پادریوں اور راہباؤں کے متواتر الفاظ میں، گرجا گھروں میں فروخت کیے جانے والے کتابچوں میں موجود ہوتے ہیں کہ اُس عہد میں لی پیلاں، لا کوا حتّٰی کہ ’’نازک اندام مَیری‘‘، جو ’’ برِیجِٹ‘‘ کی ایک بیٹی تھی وہ مثالی شخصیت جس کے نام سے مجموعہ منسوب ہے، سب سے زیادہ بِکتا ہے غار کے اُس پانی سے اپاہجی سے شفا مل گئی تھی۔

بچپن کے عقائد میں حقیقت زبردستی دخول نہیں پاتی۔ یہی صُورتِ حال معجزے والے اِس معاملے میں ہے کہ ۱۹۵۰ء میں میرا وجود دُنیا میں قائم تھا۔ مجھے زندہ رہنا تھا۔ اور بیش قدری محض اِس بات کی ہے جو پہلی کہانی نے ، یعنی میری موت کے اعلان اور میرے دوبارہ جی اُٹھنے کی کہانی، دُوسری کہانی، یعنی تمھاری فوتگی اور میری ناقدری کی کہانی، کے ساتھ کِیا۔ اُنھوں نے اِن دونوں کو کس طرح آپس میں جوڑ ڈالا۔ اُنھوں نے کیسی عین حقیقت لگنے والی سچائی گھڑی۔ کیوں کہ مجھے واقعی اِس طلسمی بے ربطی پر پُورا اُترنا تھا: تم ایک اچھی لڑکی، ایک ننّھی سی برگزیدہ ہستی لیکن تمھیں بچایا نہیں گیا اور میں، جو پُوری شیطان تھی، زندہ رہی۔ معجزاتی طور پر، زندہ سے بھی زیادہ زندہ و جاوید۔

پس تمھیں میری خاطر چھے برس کی عمر میں مرنا تھا تاکہ میں دُنیا میں آؤں اور بحفاظت زندہ رکھی جاؤں۔

ہاں، مجھے یقین ہے کہ میں دُنیا میں کسی کام کے لیے وارد نہیں ہُوئی مگر میرے اندر کوئی ایسی شے ہے جس کے بِناء پر دُنیا قائم نہیں رہ سکتی۔

تفخر و خطا کے مدِّنظر، کسی عسیرالفہم مقصد کی خاطر، مجھے زندہ رکھنے کے لیے منتخب کِیا گیا۔ شاید میرے زندہ بچ جانے میں خطا کی نسبت احساسِ برتری زیادہ ہے۔ لیکن مجھ سے کیا کام لینے کے لیے منتخب کِیا گیا ہے؟ بیس کے سن میں، جوع البقر اور ماہواری کے خشک ہونے کے بعد، مجھے قلم بند کرنے کے لیے ایک جواب مل گیا۔ والدین کے ہمراہی والے میرے کمرے میں، میں نے کلوڈل کا یہ جملہ، کاغذ کے ایک بڑے پارچے پر نقل کر کے الفاظ کے سِروں پر آتشیں حاشیہ آرائی کر کے اُسے کسی شیطانی معاہدے کی طرح چسپاں کِیا: ’’ہاں، مجھے یقین ہے کہ میں دُنیا میں کسی کام کے لیے وارد نہیں ہُوئی مگر میرے اندر کوئی ایسی شے ہے جس کے بِناء پر دُنیا قائم نہیں رہ سکتی۔‘‘

میں اِس لیے نہیں لکھ رہی کہ تم وفات پا چکی ہو۔ بلکہ اِس لیے  فوت ہوئی ہو کہ میں لکھاری بن سکوں۔ اِس میں بہت فرق ہے۔

میرے پاس تمھارے صرف چھے فوٹو ہیں، جو تمام کے تمام مجھے ہم نژادوں نے فراہم کیے ہیں جن میں سے کچھ ماں کی تدفین کے بعد اور باقی حال ہی میں۔ مجھے اُن میں سے محض دو کے بارے میں پتا تھا، جو میری ماں اپنی الماری کی درواز میں رکھتی تھیں اور جو ۱۹۸۰ء کے قریب گم ہو گئے تھے۔ بِلاشبہ، اُنھیں اُنھوں نے اپنی تباہ کُن عصبی ہیجان کی کسی لہر میں پھینک دیا ہو گیا ہوگا جو الزائمر کا پیش خیمہ تھے۔

اُن تصویروں میں تم لازماً چار پانچ سالوں کی رہی ہو گی، ماسوائے ایک کے جس میں تم شیر خوار ہو۔ یقینا اُنھوں نے وہ تصویریں اُس کیمرے سے لی ہَوں گی جنھیں اُنھوں نے قبل از جنگ کے میلے میں جیتا تھا اور جو اُن کے پاس پچاس کی دہائی کے آخیر تک موجود رہا تھا۔ میں نے بھی اُسے اکثر استعمال کِیا تھا۔ لگ بھگ ہمیشہ ہی، تم نے مُنھ چڑاتے ہُوئے اپنا سر جھکا رکھا ہے یا پھر اپنی آنکھوں کو اپنے بازو سے یُوں ڈھانپا ہُوا ہے گویا روشنی تیز چمک تمھارے لیے باعثِ تکلیف ہَو جسے تم برداشت نہ کر پا رہی ہو۔ ایک حالیہ خط میں، میری ہم نژاد ’’جی‘‘ کہ یہ امر اُس کے بھی مشاہدے میں آیا اور اُس نے اِس سے یہ استنباط کِیا: ’’لگتا ہے جیسے وہ اپنے آپ کو دیکھنا نہیں چاہتی۔‘‘

اُس کا یہ تبصرہ غضب ناک حد تک مجھے پراگندہ خاطر کرتا ہے۔ کیا تم خُوش تھیں؟ میں نے تمھارے خُوش ہونے کے متعلق اپنے آپ سے کبھی سوال نہیں کِیا گویا ایک کھو جانے والی لڑکی کے حوالے سے یہ واہیات، غیر اخلاقی سوال تھا۔ یُوں کہ تمھارا نقصان اُن کا اپنا الم اور تمھارا الطاف اُن کے اپنا پچھتاوا بن جاتا؛ اُن کی محبت کے یہ ثبوت اِس بات کی ضمانت ہیں کہ تم خُوش تھیں۔ عقیدے کی رُو سے محبت ہی مسرت بخشتی ہے تو اِس طرح تم تو صادق القول تھیں۔ برگزیدہ ہستیاں خُوش ہوتی ہیں۔ شاید، تم خُوش نہ ہو۔

خوف و ہراس اور میرے اندر کے اِس وحشی خیال کا احساسِ خطا تحیّرانگیز ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ تم زندہ رہنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھیں اور کائناتی کمپیوٹر میں تمھاری موت کا لائحہ عمل مرتب ہو چکا تھا اور تم دھرتی پر، جیسا کہ بوسیوے  لکھتا ہے، ’’ایک ہندسہ میں اضافہ‘‘ کی خاطر نہیں بھیجی گئی تھیں۔ اپنے اندر اِس عقیدے کے بار بار اُبھرنے پر مجھے شرم آتی ہے کہ تمھیں مرنا ہی تھا، اِس دُنیا میں میرے آنے کے لیے تمھیں قربانی دینا ہی تھی۔

پہلے سے کوئی منزل متعین نہیں تھی۔ محض خناق ہی تو پُھوٹا تھا اور تمھاری جد رینی نہیں ہُوئی تھی۔ وِکیپیڈیا کے مطابق، جد رینی کو نومبر ۲۵؍۱۹۳۸ء کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تم سات ماہ قبل چل بسی تھیں۔

دو لڑکیاں، ایک مُردہ اور دُوسری نیم مُردہ۔ جب تک وہ حیات رہیں، جس کی زندگی پھبکتی ہُوئی تھی، مجھے یُوں لگتی رہیں جیسے جیتے جی وہ موت بھگت رہی ہَوں۔میں اُن کی طرف راغب رہی اور اُنھیں اپنی جانب مائل رکھا۔ جب تک میں چودہ یا پندرہ کے سن کی نہیں ہو گئی میرے ذہن میں یہی خلط ملط ایقان بسا رہا کہ وہ مجھے بھی تمھاری طرح مر جانے دیتیں۔ یا پھر وہ مجھے اور میرے والد کو عمومی سزا دینے کی خاطر خُود اپنے مقصد پر جان دے دیتیں جیسا کہ وہ خُود جن دِنوں شدّید غصّے میں ہوتیں تو کہا کرتی تھیں کہ جب میں تمھیں چھوڑ کر چلی گئی تو تمھیں پتا چلے گا (لیکن کیا ہمیں چھوڑ کر چلے جانے، کہیں اور جا کر رہنے کی محض دھمکی نہیں تھی؟)

اڑوس پڑوس سے لوگ،مرنے والے کو دیکھنے اورمیت کو غسل دینے کے لیے آئے۔ وہ اُدھر کو دوڑتی ہُوئی گئیں اور پھر ایک عجیب و غریب کیفیت میں لوٹیں جہاں، میرا خیال ہے، مجھے اطمینان کا ادراک ہُوا۔ اُنھوں نے اعلان کِیا تھا کہ ایک نوجوان لڑکی  ذیابیطس سے چل بسی ہے جس کے سر پر اُس کے بستر کی چادر لپیٹی گئی ہے اور وہ لی ژی یُو کی برگزیدہ راہبہ جیسی دِکھائی دیتی تھی۔ جب پینتالیس برس کی عمر مجھے اپنے کُولہے کی جراحی کروانا پڑی تھی تو میرا گمان تھا کہ میں بے ہوشی کی حالت سے اُٹھوں گی ہی نہیں اور میں اُن سے پہلے مر جاؤں گی۔پس وہ ہم سب کوتمھیں، میرے ابّو اور اب مجھے دفنائیں گی۔

رائزر کی مصوّر کی ہُوئی ایک تصویر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی بغیر جنگلے والے ایک تنگ پُل پر ایک بچّے کا ہاتھ تھامے ایک اتھاہ گھاٹی کی جانب جا رہا ہے۔ اُن دونوں کے عقب میں بائیں ہاتھ پُل پر کٹاؤ ہے جہاں سے وہ خلا میں کھلا ہُوا ہے۔ اُن دونوں کے سامنے، بچّے کی طرف، ایک بنیادی خامی ہے۔ بالغ مرد کے قدموں کے نشانات کا مشاہدہ کرتے ہُوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اُن نشانات کے دونوں جانب دو بچّوں کے قدموں کے نشانات تھے تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ وہ باپ اپنے پہلے بچّے کو قبل ازیں ہی اتھاہ گھاٹی میں گِرا بیٹھا ہے اور لگتا ہے گویا وہ آگے چل کر وہ دُوسرے بچّے کے ساتھ بھی یہی کرنے والا ہے، جب کہ وہ خُود ٹھہراؤ کے ساتھ آخر تک پُل عبور کرنے کا عمل جاری رکھے گا۔

رائزرنے اِس تصویر کو نام دیا تھا: دی برِج آف لاسٹ چلڈرن (گُم شُدہ بچّوں کا پُل: The Bridge of Lost Children

تمھیں یہ سب لکھنے کا مطمعِٔ نظر تمھارے ساتھ اُن کے بارے میں مسلسل گفتگو ہے کہ وہی تو اِس کہانی کی ہرکارہ، فیصلہ صادر کرنے والی تھیں جن سے فیصلے پرجھگڑا کبھی نہیں تھما۔

تاہم حقائق اُس قِصّے کی تکذیب کرتے ہیں جو وہ مجھے مبالغہ آرائی سے گھڑ کر سردیوں میں سنایا کرتی تھیں کہ مجھے ہلکی سی ٹھنڈ لگنے پر اُنھوں نے میرے والد کو ڈاکٹر کے پاس بھجوایا، وہ مجھے ایک سپیشلسٹ کو دِکھانے مجھے رُوآں لے کر گئے، اُنھوں نے میرے دانتوں پر خطیر رقم خرچ کی، بچھڑے کا جگر اور گوشت محض میرے کھانے کے لیے خرید کر لائے۔ لیکن اُن کا یہ جملہ: ’’تم ہمیں بہت مہنگی پڑ رہی ہو۔‘‘ مجھے اپنی نحیفی پر ملامت لگتا۔ مجھے کھانستے ہُوئے بھی خجالت محسوس ہوتی کہ ’’تمھیں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ہُوا رہتا ہے۔‘‘ میری زندگی کی خاطر اُنھیں نہایت گراں قیمت چکانا پڑتی تھی۔

فطری امر ہے، میں اُن سے بہت محبت کرتی تھی۔ لوگ کہتے کہ وہ ایک حسین عورت ہیں اور یہ کہ میں اُن پر گئی ہُوں۔ اُن جیسی ہونے پر میں اپنے آپ پر متفاخر ہوتی۔ بعض اوقات مجھے اُن سے تنفر بھی محسوس ہوتا اور تب میں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنا مُکّا تان لیتی اور اُن کے مرنے کی تمنّا کرتی۔ تمھیں یہ سب لکھنے کا مطمعِٔ نظر تمھارے ساتھ اُن کے بارے میں مسلسل گفتگو ہے کہ وہی تو اِس کہانی کی ہرکارہ، فیصلہ صادر کرنے والی تھیں جن سے فیصلے پرجھگڑا کبھی نہیں تھما سِوائے اُن کے خاتمے کے قریب جب وہ نہایت دگرگوں حالت میں تھیں، اپنی نافہمی میں کھو چکی تھیں اور میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مر جائیں۔

اُن کے اور میرے درمیان یہ مسئلہ لفظوں کے برتاؤ کا ہے۔

آغاز میں،میں اُنھیں ہماری ماں، ہمارے والدین لکھنے سے معذور تھی؛ میں تمھیں اپنے بچپن کی دُنیا کے اُس تگڈم میں شامل کرنے سے قاصر تھی۔ ہمارا کچھ بھی مشترکہ نہیں تھا۔

[کیا تمھارے وہاں سے بدر کرنے، تمھیں واپس بیرون میں بھیجنے کا طریقہ محال تھا کیوں کہ موسمِ گرما کا وہ قِصّہ صرف میرا تھا؟]

ایک خاص نقطۂِ نگاہ سے،اُس وقت کی اہمیت کے پیشِ نظر ہمارے والدین ایک نہیں تھے۔

جب تم ۱۹۳۲ء میں پیداہُوئی تھیں تووہ جوان تھے۔ اُن کا بیاہ ہُوئے بمشکل چار برس کا عرصہ بِیتا تھا۔ محنت کرنے کے لیے اُن کے حوصلے جوان تھے کہ اُنھوں نے سُوت کاتنے والے کارخانے کی وادی لِلّے بون میں کاروبار مول لینے کے لیے قرض پکڑا۔ وہ پہلے ہوڈ میں ایک تعمیراتی مقام پر اور پھر پورٹ جیروم کے تیل صفا کاری کے کارخانے میں کام کرتے رہے۔ کمیونسٹوں، بنیاد پرستوں اور سماجیات پسندوں کے الحاق نے اُن کے ماحول اور اُن کے اپنے اُمید کی شمع روشن کر دی تھی۔ صبح کے تین بجے تک اُن پاگل گایوں سے انسانوں میں پھیلنے والی بیماریوں کے برسوں اور کیفے کی راتوں کی یادیں تازہ کرتے ہُوئے ہمیشہ اختتام اِس فقرے پرہوتا: ’’لیکن اُن دِنوں ہم جوان تھے۔‘‘

ماقبل جنگ کی ایک بِلاتاریخ تصویر میں اُنھوں (والد) نے مُسکراتے ہُوئے اُنھیں(والدہ) شانوں سے تھام رکھاہے۔ اُنھوں (والدہ) نے ایک ہلکی جھالر دار گلے کا بڑی بڑی گول بُندکیوں والا لباس زیب تن کِیا ہُوا ہے۔ ایک موٹی سی لَٹ اُن کی آنکھوں پر گِر رہی ہے۔ وہ ۱۹۲۸ء کی صاف شفاف جِلد والی ایک سرکش دُلہن دِکھائی دیتی ہیں۔ میں نے اُن کا وہ لباس یا گیسو سازی کا وہ انداز کبھی نہیں دیکھا۔ میں تمھارے زمانے والی عورت سے آشنا نہیں۔

تم بھی وہاں موجود ہو، اُن دونوں کے درمیان، غیر مرئی۔ اُن کا دُکھ بن کر۔

میرے زندگی کا آغاز کرنے کے بعد یقینا ۱۹۴۵ء کے موسمِ بہار میں کھینچی گئی تصویروں میں، جن میں شامل افراد میں سے ایک میں بھی ہُوں، اگرچہ وہ مُسکرا رہے ہیں لیکن اب اُن میں نوجوانی کی وہ شوخی اور لاپروائی نہیں رہی البتّہ کچھ با معنیت ہے۔ اُن کے خط و خال درست اور نمایاں ہیں۔ اُنھوں نے ایک پٹّی دار لباس زیب تن کر رکھا ہے جسے میں بعد میں بھی طویل عرصے تک اُنھیں پہنتے دیکھتی رہی تھی۔ اُن کے بال اُوپر کی سمت مینڈھیوں میں بنے ہُوئے ہیں۔ وہ ہجرت، کاروبار، بمباری کی سختیاں سَہ چکے تھے۔ تمھاری وفات کا صدمہ برداشت کر چکے تھے۔ اب وہ ایک ایسے بچّے کے والدین ہیں جو اُن سے چھن چکا ہے۔

تم بھی وہاں موجود ہو، اُن دونوں کے درمیان، غیر مرئی۔ اُن کا دُکھ بن کر۔

اُنھوں نے تمھیں کہنا تھا: ’’تم بڑی کب ہو گی؟‘‘۔ تمھارے لیے منصوبوں کی ایک فہرست بنانا تھی: تمھاری تعلیم ، تمھارے بائیسیکل چلانے، تنہا مکتب جانے کے معاملات پر اُنھوں نے تمھیں بتاتے ’’اگلے سال‘‘، ’’اِس گرما میں‘‘، ’’جلدہی‘‘۔ ایک شام، وہاں مستقبل کے بجائے محض ایک خالی پن تھا۔ اُنھوں نے یہی الفاظ مجھ سے دُہرائے۔ میں چھے برس، سات برس، دس برس کی ہو گئی تو میں عمر میں تم سے آگے نکل گئی۔اب اُن کے پاس تمھارے اور میرے بیچ موازنے کے امکانات مسدود ہو گئے۔ میرا مگھم سا یقین ہے کہ وہ مجھ پر میرے بچّی نہ رہنے پر بھی خفا تھیں۔ ایک روز اُنھوں نے میرے پہلے حیض آنے پر مجھے ماہواری جاذبہ دیتے ہُوئے انتہائی پریشانی کے عالم میں مجھ سے ’’نوجوان لڑکی بن گئی ہو!‘‘ کے الفاظ جس واشگاف طور میں کہے وہ لگ بھگ یکایک دہشت انگیز تبدیلی کا مظہر تھے۔

میں نے جو قِصّہ سنا تھا وہ پہلی اور آخری مرتبہ تھا کیوں کہ اُن دونوں میں سے کسی نے کبھی مجھ سے تمھارا کوئی تذکرہ نہیں کِیا تھا۔

مجھے نہیں خبرکہ کب تمھاری تصویریں کپڑوں کی الماری میں اورہمارے خاندانی شجرے کی کتاب مسقّف میں دھری ایک زنگ آلود مقفل الماری میں پوشیدہ کی گئیں جہاں سے میں نے وہ پڑھ لی تب میں کم و بیش اٹھارہ برس کی تھی کہ وہ  الماری ایک روزکھلی رہ گئی تھی۔ ہرہفتے، باری باری، وہ باغچے سے پُھول لے کر گورستان جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھار، اُن میں سے ایک دُوسرے سے نادانستگی میں دریافت کر بیٹھتا۔ ’’کیا تم قبرستان گئے تھے؍گئی تھیں؟‘‘ بہت عرصہ قبل، جب اُنھیں علم نہیں تھا کہ سات سال کے بعد ۱۹۴۵ء میں اُنھیں واپس اِزیٹو لوٹنا پڑے گا جہاں دونوں خاندانوں کے تقریباً سب ہی افراد رہائش پذیر تھے اورجو نہیں چاہتے تھے کہ تمھاری تدفین لِلّے بون میں کی جائے، پس یہ امرتو شبہ سے بالاتر ہے کہ وہ سبھی تمھاری گور پر فاتحہ خوانی کے لیے آتے تھے۔

میں نے کبھی اُن کی زبان سے تمھارا نام نہیں سنا۔ مجھے اِس کا اپنی ایک ہم نژاد ’’سی‘‘ سے پتا چلا تو یہ مجھے اپنی برنائی کی بِناء پر بُوڑھیوں والا ایک نام اور مضحکہ خیز لگا۔ مکتب میں بھی کسی لڑکی کا یہ نام نہیں تھا۔ مجھے اِسے سنتے ہُوئے ایک بے چینی، ایک مبہم ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ میں شاذ و نادر ہی یہ نام اپنی زبان سے ادا کرتی ہُوں۔  جِینَیٹ۔

وہ مجھے سات برس کی ہونے تک تمھارے چوبِ گلاب کی پلنگڑی ہی پر سلاتے رہے۔ بعد میں، وہ میرے لیے ایک پُرآسائش مسہری خرید لائے اور اُس پلنگڑی کے اجزاء کو الگ الگ کر کے، جنھیں کبھی چل بسنے والے بچّے کے لیے آپس میں جوڑا گیا تھا، اُس کے چاروں پائے، چوبی جنگلے اور لیٹنے والے آہنی تختے کو اٹاری میں رکھ دیا گیا۔ جب میری ماں ہمارے ہمراہ رہنے کے لیے اَنِّیسی میں آئیں تو وہ اپنے دِیگر فرنیچر کے ساتھ اُسے بھی لے کر آئیں۔ میں نے اُسے تَہ خانے میں رکھوا دیا جہاں سے سامان منتقل کرنے والے مجھ سے پُوچھے بغیر اُسے غلطی سے چاہنٹ میں میرے سسرال لے گئے، جنھوں نے فوراً اُس سے جان چھڑوا لی۔ یہ بات اُنھوں نے مجھے ۱۹۷۱ء کے موسمِ گرما میں سرسری سا ہنستے ہُوئے بتائی۔

چھٹی جماعت تک اُنھوں نے مجھے ایک خاکی رنگ کا مراکشی بریف کیس دے کر بھیجا، وہی جسے تم لے کر مکتب جایا کرتی تھیں۔ ایک ایسا ماڈل جو صرف میرے پاس تھا اور جسے برتنا دُشوار: جب اُسے کھولنا ہوتا تو نہایت سرعت سے دو پرتوں کو پلٹنا پڑتا تھا بصورتِ دِیگر پنسلوں کا ڈبّا اور نوٹ بُکیں نیچے گِر کر بکھر جاتیں۔ چُوں کہ میں نے اُسے سدا گھر میں دیکھا تھا تو میرا خیال تھا کہ اِسے پیشگی اقدام کے طور پر بہت پہلے میرے لیے سکول کے پیش آمدہ پہلے دِن کے لیے خرید لیا گیا تھا۔ میں لازماً بیس سے اُوپر کی ہَوں گی کہ تب مجھے پتا چلا تھا کہ وہ جو تولیہ وہ ہمیشہ کاغذوں کے ذخیرے پر لپیٹ کر رکھتی تھیں وہ تمھارا تھا۔

میں نے اپنے روزنامچہ میں اگست ۱۹۹۲ء کو لکھا ہُوا دیکھا ہے: ’’بچّہ کیا یہی میری تحریر کا مآخذ ہے؟ میرا ہمیشہ سے عقیدہ رہا تھا کہ میں کسی اَور مقام پر بسنے والی کسی اَور شخصیت کا پرتو ہُوں۔ یہ کہ میں حقیقی زندگی بھی بسر نہیں کر رہی تھی اور یہ کہ یہ افسانوی ادب لکھنے والی زندگی بھی کسی اَور کی ہے۔ اِس کا کھوج لگانا چاہیے، اپنی ذات کی اِس عدم وجودیت یا اِس مصنوعی ذات کے ہونے کا۔‘‘

شاید اِس مصنوعی خط کے رقم کرنے کا سبب بھی یہی ہے اصل خط تو زندہ لوگوں کو لکھے جاتے ہیں۔ 

۰۰۰۰

ناولچے کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Annie_Ernuax_French_Writer_Nobel_Laureate_2022

اَنّی ایغنو

اَنّی ایغنو فرانسیسی ادیبہ ہیں جنھیں ۲۰۲۲ء کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اُنھیں نوبیل انعام سے سرفراز کرتے ہُوئے نوبیل کمیٹی نے اُنھیں اِس انعام کا حق دار اُن کے فکشن میں موجود اِن خصوصیات کی بِناء پر دیا : ’’اُن کے اُس حوصلے کے لیے جس سے وہ اپنی ذاتی یادوں کی جڑیں، بے اعتنائیاں اور اجتماعی پابندیوں کو لاتعلّق نکیلے پن سے بے نقاب کرتی ہیں۔‘‘

سوانح حیات

 اَنّی ایغنو [پیدائشی نام: اَنّی ڈُشَّین (Annie Duchesne)] یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کو فرانس کے علاقے  لِلّے بون، نارمنڈی (Lillebonne, Normandy) میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہُوئیں۔ کچھ سال بعد اَنّی کے والدین اِزِیٹو (Yvetot) چلے گئے، جہاں انھوں نے قصبے کے محنت کش طبقے کے علاقے میں ایک کیفے اور کریانے کی دکان کھول لی۔ اُن کے والد ایک کیفے اور والدہ کیفے سے ملحق کریانے کی دُکان چلاتی تھیں جو اُن کے گھر کے بیرونی حِصّے میں قائم کیے گئے تھے۔

اَنّی ایغنو  نے اِزِیٹو کے ایک نجی کیتھولک  ثانوی سکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھیں اپنے سے زیادہ نچلے متوسط طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے واسطہ پڑا، اور پہلی مرتبہ اپنے والدین اور ماحول کے محنت کش طبقے   کے پس منظر سے تعلق ہونے پر شرمندگی کے شدید احساس اور سماجی طبقاتی جدوجہدسے سے روشناس کروایا جس نے تاحیات اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔  ۱۹۵۸ء میں، اٹھارہ سال کی عمر میں، وہ  پہلی مرتبہ سمر کیمپ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پورے موسمِ گرما کے لیے اپنے گھر سے نکلیں، جہاں انھیں اپنے ہم سن ایک گروہ کے ساتھ پہلی بار رہتے ہوئے اپنے پہلے جنسی تجربات ہوئے۔

۱۹۶۰ء میں ایک جوڑے کے طور پر لندن میں قیام کرنے کے بعد انھوں واپس فرانس لوٹ کر جامعہ  رُوآں (Rouen)  سے فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی اور ثانوی مکتب کی فرانسیسی کی معلمہ بن گئیں۔ پھر وہ۱۹۷۷ء میں سی نیڈ (Cned ـسینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن) میں ایک عہدے پر متمکن ہو گئیں۔    ۱۹۶۷ء میں اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان، جس میں اُن کی صرف ایک ماں تھی،  ۱۹۷۷ء میں پیرس میں بننے والی ایک نئی آبادی سہرجی پونٹواہز (Cergy-Pontoise) میں منتقل ہو گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے آپ کو لکھنے کے لیے وقف کر دیا۔

تخلیقات

اُنھوں نے اپنا پہلا ناول ’’صفایا‘‘ ۱۹۷۴ء میں شائع کیا، جو اُن کے ۱۹۶۴ء میں اسقاطِ حمل کے تجربے سے گزرنے کا افسانوی بیانیہ ہے۔ لیکن اس کے بعد  انھوں نے  روایتی تحریروں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے سوانحی موضوعات کا اپنی لکھتوں کا محورومرکز بنا لیا۔ اُن کی اب تک منصۂ شہود پر آنے والی کتب میں ’’وہ کچھ کہتے ہیں یا نہیں‘‘ (۱۹۷۷ء)؛ ’’ایک منجمد عورت‘‘ (۱۹۸۱ء)؛ ’’مقامِ مرد‘‘  (  ۱۹۸۳ء)؛ ’’کتھا ایک عورت کی‘‘  (۱۹۸۸ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’خارجی ‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’حیا‘‘ (۱۹۹۷ء)؛ ’’میں تاریکی میں رہتی ہوں  ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’بیرونِ حیات‘‘ (۱۹۹۳ء،۱۹۹۹ء،۲۰۰۰ء)؛ ’’وقوعہ؍حادثہ‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’گم شدگی ‘‘ (۲۰۰۱ء)؛ ’’پیشہ ‘‘ (۲۰۰۲ء)؛ ’’فوٹوگرافی کا استعمال‘‘ (۲۰۰۵ء)؛ ’’برس ہا برس‘‘ (۲۰۰۸ء)؛  ’’دخترِ ثانی‘‘ (۲۰۱۱ء)؛ ’’روشنیاں دیکھو، میرے پیارے‘‘ (۲۰۱۴ء)؛ ’’کتھا ایک دوشیزہ کی‘‘ (۲۰۱۶ء)؛ ’’ہوٹل کاسانووا‘‘ (۲۰۲۰ء)؛ ’’نوجوان‘‘ (۲۰۲۲ء) شامل ہیں۔

اسلوب

اَنّی ایغنو اپنے سوانحی ناولوں کے لیے پہچانی جاتی ہیں جو سماجی طبقے، جنس اور ذاتی یادداشت کے موضوعات کو کٹھور اور معروضی انداز کے وسیلے سے کھوجتی ہیں۔ اُن کی پہچان ایک منفرد ادبی نقطۂ نظر کی حامل کے طور پر ہے، جسے ’’آٹو-سوشیو-بایوگرافی‘‘ یا ’’سماجی خودنوشت‘‘کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی تخلیقات میں اکثر اپنی زندگی کو بطور موضوع برتتے ہوئے مستقل طور پر صنف، زبان اور طبقے کے تفاوت کا جائزہ لیتی ہیں اور  ویرل، معروضی، اور بے ساختہ نثر برتتے ہوئے بغیر کسی پچھتاوے کے، چھلنی استعمال کیے بغیر مخصوص یادوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں ایک ایسا انداز جس کی وجہ سے وہ نوبیل انعام سے سرفراز ہوئیں۔

اعزازات و انعامات

یوں تو اَنّی ایغنو کو اُن کے تخلیقی ادب پر بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے، جس کا آغاز ۱۹۷۷ء سے Prix d’Honnneur for Ce qu’ils dissent rien سے ہی ہو گیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں سہرجی پونٹواہز یونیورسٹی، فرانس نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے  نوازا۔ ۲۰۱۹ء میں اُن کی خود نوشت ’’برس ہا برس‘‘ بُکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی اور ۲۰۲۲ء میں نوبیل انعام برائے ادب سے سرفراز ہوئیں۔ ۲۰۰۸ء  میں شائع ہونے والی کتاب ’’برس ہا برس‘‘  (The Years) کو، جس میں ذاتی اور اجتماعی تاریخ کا ادغام کیا گیا، بیشتر ناقدین نے اس کے مواد اور اختراعی شکل دونوں کے لحاظ سے اَنّی کی اہم کامیابی گردانا ہے ۔

۰۰۰

اَنّی ایغنو کی تحریروں کے مزید تراجم

فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
دخترِ ثانی  (دوسرا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
تعارف و ترجمہ؍نجم الدّین  احمد
فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا (دوسرا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
ترجمہ؍مبشر احمد میر
فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
ترجمہ؍مبشر احمد میر
Najam_uddin Ahmad_Urdu_Novelist_Urdu_Short_Story_Writer_Urdu_Translator

نجم الدّین احمد

نجم الدین احمد انگریزی ادب میں ایم اے ہیں۔ وہ ناول نویس، افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔

تصانیف و تراجم:

 اُن کے اب تک تین ناول: ’’مدفن‘‘،’’کھوج‘‘ اور ’’سہیم‘‘؛ دو افسانوی مجموعے: ’’آؤ بھائی کھیلیں‘‘اور ’’فرار اور دوسرے افسانے‘‘؛عالمی افسانوی ادب سے تراجم کی سات کتب: ’’بہترین امریکی کہانیاں‘‘، ’’نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی منتخب کہانیاں‘‘، ’’عالمی افسانہ-۱‘‘، ’’فسانۂ عالم (منتخب نوبیل کہانیاں)‘‘، ’’پلوتا (سرائیکی ناول از سلیم شہزاد)‘‘، ’’کافکا بر لبِ ساحل (جاپانی ناول ازو ہاروکی موراکامی)‘‘، ’’کتاب دَدَہ گُرگود (ترک/آذر بائیجان کی قدیم رزمیہ داستان‘‘شائع ہو چکی ہیں۔ علاوہ ازیں نجم الدین احمد نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے انگریزی زبان میں’’ڈسٹرکٹ گزٹیئر ضلع بہاول نگر ۲۰۲۱ء‘‘بھی تحریر و تالیف کیا، جسے حکومتِ پنجاب کی سائٹ پرشائع کیا گیا ہے۔

اعزازات:

 اُن کی تصانیف پر اب تک انھیں رائٹرز گلڈ ایوارڈ۔۲۰۱۳ء، یو بی ایل ایوارڈ۔ ۲۰۱۷ء اور قومی ادبی ایوارڈ۔ ۲۰۱۹ء سے نوازا جا چکا ہے۔اُن کا ناول یوبی ایل ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ بھی ہوا۔

۰۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب