تراجم عالمی ادب

Urdu_Translation_of_The_Mole_Yasunari_Kawabata_Nobel_Prize_Winner_1968_ Japanese_Writer
افسانہ

مسّا

’’عین چہرے پر اُگے مسّے کے لیے جاتے ہوں گے، لیکن اپنی گردن کے نیچے اُگے مسّے کو ہٹوانے کے لیے شاید ہی کوئی ڈاکٹر کے پاس جائے گا۔ ڈاکٹر ہنسے گا۔ اسے پتہ لگ جائے گا کہ میں اس کے پاس اس لیے آئی ہوں کیونکہ میرے شوہر کو وہ مسّا پسند نہیں ہے۔ ‘‘…۔

مزید پڑھیے
ناول کا باب

وہی نام سارے

تین دنوں کے بجائے جناب حوزے کے بُخار کو اور کھانسی کو ٹھیک ہونے میں پورا ہفتہ لگا۔نرس روزانہ اُسے ٹیکہ لگانے اور کچھ کھانے کے لیے لے کر آتا،ڈاکٹر ایک دِن کے وقفے کے بعد آتا لیکن اِسے ڈاکٹر کااحساسِ ذمہ داری نہیں کہا جاسکتااور نہ ہی محکمہ صحت کے حکام کی کسی تخیلاتی…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

اپریل۲۳، افسانہ ایک تعطیل کا

تئیس اپریل کو ہمارے سکول میں قومی خودمختاری اور بچوں کا عالمی دن منانے کی تیاری عروج پر تھی۔ چنیدہ طالب علم تقریب کے لیے ادارے کے نمائندہ تھے جب کہ اساتذہ نے کئی طالب علموں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق تقریب کی تیاریوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ منتخب…۔

مزید پڑھیے
افسانچہ

خادمہ

ایک دولت مند خاتون کے پاس ایک خادمہ تھی۔ اُس خادمہ کے ذمے اُس کی بچّی کی نگہداشت تھی۔ بچّی چاند کی کرن کی طرح نرم و نازک، تازہ تازہ گری ہوئی برف کے مانند خالص اور سورج جیسی پیاری تھی۔ خادمہ بچّی سے اُتنا ہی پیار کرتی تھی جتنا وہ چاند، سورج اور اپنے خدا سے…۔

مزید پڑھیے
ناول کا باب

سبزی خور

جب تک کہ وہ سبزی خور نہیں ہوئی میں اپنی بیوی کو ہمیشہ اور ہر حوالے سے ایک نہایت عام عورت خیال کیا کرتا تھا۔ سچ بتاؤں تو پہلی ملاقات میں وہ مجھے کچھ خاص محسوس نہیں ہوئی تھی درمیانہ قد، تراشیدہ زلفیں (نہ ایسی لمبی کہ شبِ فراق کا گمان ہو اور نہ ہی بالکل چھوٹی کہ جیسے…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

کوٹھڑی نمبر ۱؍شیما ماند رہ گوزی ایڈیجی؍عقیلہ منصور جدون

پچھلے دن اس کے سیل میں ایک بوڑھے آدمی کا اضافہ ہوا۔ … اس کا بیٹا مسلح ڈکیتی میں مطلوب تھا۔ اور جب پولیس کو بیٹا نہ مل سکا تو انھوں نے اسے بیٹے کی جگہ بند کر دیا۔ اس آدمی نے کچھ نہیں کیا تھا۔ نامابیا نے بتایا۔

مزید پڑھیے
ناول کا باب

ان کے آنے کی خبر؍ ‌ لاسلو کراسناہورکائی؍ محمد عامر حسینی

سب سے نزدیکی کلیسا جنوب مغرب میں چار کلومیٹر دور،پرانے ہوخ مائس کے کھیت میں تھا۔ لیکن وہ ایک ویران کھنڈر تھا، جس میں گھنٹی تھی نہ مینار— جوجنگ کے دوران گرچکا تھا۔ اورشہر اتنا دورتھا کہ وہاں سے کوئی آواز یہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی، وہ…۔

مزید پڑھیے
ڈراما

مسرت کا قرابہ

میرے پاس یہ جاننے کے لیے وقت نہیں تھا۔ سندباد، سراندیپ کے جزیرے پر جاؤ۔ چند دن پہلے مجھے ایک مرغول کاغذ ملا، جو میرے آباؤ اجداد چھوڑ گئے تھے، اس مرغول چرمی کاغذ پر ایک نقشہ بہت خوبصورت انداز میں بنایا ہوا تھا۔ اس میں سراندیپ کا ایک جزیرہ دکھایا گیا ہے، سندباد، اور…۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version