
گاجر (پہلاحصہ)
خزاں کی ایک صبح ،ہوا بہت زیادہ مرطوب تھی ۔ شبنم کے شفاف قطرے گھاس اور چھتوں کی ٹائلوں پرجمے ہوئے تھے۔ چینی سکالر درخت کے پتے پیلے ہو چکے تھے اور اس درخت کی شاخ سے لٹکی زنگ آلود گھنٹی پر شبنم جمی ہوئی تھی۔

خزاں کی ایک صبح ،ہوا بہت زیادہ مرطوب تھی ۔ شبنم کے شفاف قطرے گھاس اور چھتوں کی ٹائلوں پرجمے ہوئے تھے۔ چینی سکالر درخت کے پتے پیلے ہو چکے تھے اور اس درخت کی شاخ سے لٹکی زنگ آلود گھنٹی پر شبنم جمی ہوئی تھی۔
وہ جولائی کا ایک اتوار تھا جب میں آخری بار اپنی ماں سے اُن کے گھر میں ملی تھی۔ میں بذریعہ ٹرین وہاں گئی تھی۔ ’موٹے ویل‘ میں، ہم دیر تک اسٹیشن پر بیٹھی رہیں۔ بہت گرمی تھی۔ ڈبے کے اندر اور باہر، دونوں جگہ مکمل سکوت تھا۔
میرے پاس یہ جاننے کے لیے وقت نہیں تھا۔ سندباد، سراندیپ کے جزیرے پر جاؤ۔ چند دن پہلے مجھے ایک مرغول کاغذ ملا، جو میرے آباؤ اجداد چھوڑ گئے تھے، اس مرغول چرمی کاغذ پر ایک نقشہ بہت خوبصورت انداز میں بنایا ہوا تھا۔ اس میں سراندیپ کا ایک جزیرہ دکھایا گیا ہے، سندباد، اور…۔
سچ ہے کہ کتاب رکھنے والے شخص کو بغیر کسی ڈر کے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، چاہے وہ معاشرہ ترقی پذیر ہو یا ترقی یافتہ۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میکونگ ڈیلٹا کے گاؤں فاٹ ڈٹ میں سائیکلوں کی مرمت کا کام کرنے والا اَن پڑھ پیئرے بوئی جہاں بھی جاتا اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھتا…۔
گُزشتہ روز میری ایک دوست نے مجھے اپنے ایک پڑوسی کی دُکھ بھری کہانی سنائی۔ اُس کے پڑوسی کی ایک آن لائن دوستی سروس کے ذریعے ایک اجنبی سے بات چیت شروع ہو گئی۔ اُس کا وہ دوست اُس سے سینکڑوں مِیل دُور شمالی کیرولینا میں رہتا تھا۔ دونوں میں پہلے پیغامات کا، پھر تصویروں کا تبادلہ…۔
لیکن تم میری بہن نہیں ہو، کبھی نہیں رہیں۔ ہم کبھی ساتھ کھیلے نہ کھایا، نہ اکٹھّے سوئے۔ میں نے کبھی ایک دُوسرے کو چُھوا نہ چُوما۔ مجھے تمھاری آنکھوں کا رنگ نہیں معلوم۔ میں نے کبھی تمھیں دیکھا تک نہیں۔ تم بے جسم، بے زبان ہو۔ چند سیاہ و سفید…۔
شیخ حابی اپنے گھر کے سامنے چھوٹے سے باغ میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ ایک نوجوان بوجھل قدموں کے ساتھ بڑی مشکل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چہرہ گرد…۔
پچھلے دن اس کے سیل میں ایک بوڑھے آدمی کا اضافہ ہوا۔ … اس کا بیٹا مسلح ڈکیتی میں مطلوب تھا۔ اور جب پولیس کو بیٹا نہ مل سکا تو انھوں نے اسے بیٹے کی جگہ بند کر دیا۔ اس آدمی نے کچھ نہیں کیا تھا۔ نامابیا نے بتایا۔
’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں— کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کرسکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے— آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو اپنا کام دیانت داری، دل جمعی اور…۔
’’عین چہرے پر اُگے مسّے کے لیے جاتے ہوں گے، لیکن اپنی گردن کے نیچے اُگے مسّے کو ہٹوانے کے لیے شاید ہی کوئی ڈاکٹر کے پاس جائے گا۔ ڈاکٹر ہنسے گا۔ اسے پتہ لگ جائے گا کہ میں اس کے پاس اس لیے آئی ہوں کیونکہ میرے شوہر کو وہ مسّا پسند نہیں ہے۔ ‘‘…۔