تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

فرانسیسی ناولچہ

دخترِ ثانی

اَنّی اَیغنو

Annie Ernaux

تعارف و ترجمہ؍نجم الدّین احمد

دوسرا حصہ

۔’’بچّوں کی مقہوری یہ ہے کہ وہ اعتبار کرتے ہیں۔‘‘ فلینری او’کونور 

آج میں اپنے آپ سے یہ سوال دریافت کررہی ہُوں، جونہایت سادہ ہے اور جو پہلے کبھی مجھ پر وارد نہیں ہُوا: میں نے، حد یہ کہ بالغ ہو جانے اور خُود ایک ماں بن جانے کے بعد بھی، کبھی تمھارے بارے میں اُن سے استفسار کیوں نہیں کِیا؟ اُنھیں کبھی یہ کیوں نہیں بتایا کہ مجھے تمھارے متعلّق معلوم ہے؟ سوالات میں تاخیر، جزوی یا کلی، ہمیشہ خاص وقت پر سوال کی بنیادی ناامکانی کی مظہر ہوتی ہے۔ پچاس کی دہائی میں ایک مسلمہ قائدے کے طورپر اپنے والدین سے، بالعموم اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں سے بھی، ایسی باتیں پُوچھنے کی تحدید تھی جووہ چاہتے تھے کہ ہم اُن سے دریافت نہ کریں لیکن وہ ہمیں وہ قبل ازیں ہی معلوم ہوتی تھیں۔ موسمِ گرما کے اُس اتوار کو، جب میں دس برس کی تھی، مجھے کہانی پتا چلی لیکن چُپ کاقانون لاگو تھا۔

اگروہ مجھے تمھارے وجودکے بارے میں نہیں بتانا چاہتے تھے تو اِس کا مطلب تھا کہ مجھے بھی مستفسار نہیں ہونا چاہیے۔ تمھارے بارے میں میرے غفلت میں رہنے کی اُن کی خواہش کی تکمیل تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ قانون شکنی کرنا جس کامیں تصوّر بھی نہیں کر سکتی تھی اُن کے سامنے فحش کلامی کے مترادف تھا، جس کے نتائج اگر زیادہ بھیانک نہ ہوتے تو بھی اُس کا نتیجہ بہرحال ایک نوع کے طوفانِ عظیم اور کسی غیر معمولی سزا کی صُورت ہی میں نکلتا، جسے میں یہاں کافکا کے والد کے اُس جملے سے جوڑتی ہُوں جسے اُس نے ’’اپنے والد کے نام خط‘‘ درج کِیا ہے اور جسے میں نے پہلی مرتبہ اپنی عمر کے بائیسویں سن میں پڑھتے ہی فوراً اپنی یونیورسٹی کی اقامت گاہ میں اپنے پلنگ پر نقل کردیا تھا: میں تمھیں مچھلی کی طرح چیر پھاڑ کررکھ دوں گا۔

مجھے سولہ کے سن کی اپنی وہ دہشت زدگی بھی یادہے جب چچی مَیری لوئیس نے اتوار کی شراب کے نشے میں دُھت چُپ رہنے کااپنا قول فروگزاشت کر کے ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے، جس کی طرف میں نے تکاتک نہیں، مجھے بتایا کہ یہ تمھاری بہن ہے۔ بجائش میں اپنے ہی خوف و ہراس میں وہاں سے کھسک گئی کیوں کہ وہ دونوں بھی قریب ہی تھے اور اُنھوں نے بھی یہ جملہ سن لیا تھا، اوربہ ایں ہمہ یہ بھی جان گئے تھے کہ مجھے اُن کے مجھ سے پوشیدہ رکھے جانے والے بھیدکا علم تھا۔
 ہم نے فسانہ طرازی (فکشن) کوعقیدے سے پرے ہی رکھا ہے۔

جون ۱۹۶۷ء میں،میرے والدکاتابوت تمھاری قبر کے عین ساتھ دائیں جانب دفنایا گیا۔ اُنھوں(ماں) اور میں نے تمھاری قبر سے چشم پوشی کامکر کِیا۔ اگلے موسمِ گرما میں، اُن کے گھر تعطیلات بسر کرنے کے دوران، میں اپنے والد کی قبر پر رکھنے کے لیے باغچے سے پُھول چننے گئی۔ میں نے تمھاری قبر پر ایک پُھول تک نہیں رکھا کیونکہ اُنھوں نے مجھے اِس کاکہا ہی نہیں تھا۔ حد یہ کہ جس جگہ تم استراحت کر رہی ہو اُس کا کبھی کوئی نام تک نہیں رکھا گیا۔

کسی مرحلے پرتواُنھیں لازماًپتا چل جانا چاہیے تھے لیکن کب اورکن نشانیوں کے سبب، یہ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے تمھارے وجود سے آگاہی ہے۔ وہ (والد) خاموشی توڑنے میں تاخیر پر تاخیر کیے جا رہے تھے۔ راز خاصا پُرانا تھا۔ اُس پر سے پردہ اُٹھانا اب اُن کے لیے پیچاں ہوگیا تھا۔ مجھے لگتا ہے گویامیں بھید کے ساتھ ٹھیک ٹھاک رہ رہی تھی۔ بچّے رازوں کے ساتھ، اُن باتوں کے ساتھ جن کے بارے میں وہ سوچتے ہیں کہ اُنھیں نہیں کرنا چاہئیں، آپ کی سوچ سے زیادہ بہتر رہتے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ چُپ ہی نے ہمیں ، اُنھیں اور مجھے، آپس میں جوڑے رکھا۔ وہ (والد) مجھے امان فراہم کر رہے تھے؛ مجھے اُس تقدس مآبی کے بوجھ سے آزاد رکھا تھا کہ جب مجھے خاندان کے بعضے مرحوم بچّوں کو زندہ بچّوں پر دی جانے والی فوقیت، جو اُن پر غیر شعوری ظلم ہوتا تھا، کے بارے میں پتا چلا تو میرا ردِّعمل سرکش تھا۔ میری ہم نژاد ’’سی‘‘ ہی کا معاملہ دیکھیں تو اُس کی ماں اُس کی تین برس کی عمر میں فوت ہو جانے والی بہن مونیق کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی تھی کہ اُس کے کہنے کے مطابق وہ گل فام تھی۔ اُنھوں نے تمھیں ایک مثالی نمونہ بنا کر پیش کرنے سے، یہ کہنے سے کہ وہ تم سے بہت اچھی تھی ، مجھے سیدھا جہنم میں دھکیلنے سے اپنے آپ کو باز رکھا تھا۔

میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھ سے تمھاری باتیں کریں۔ مجھے توقع تھی کہ وہ خاموشی اُنھیں تمھیں فراموش کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ میں اِس مفروضے کی تصدیق ہر بار اُن کی گہری یادداشت اور بالغ ہونے پر ہر ناقابلِ صراحت مصیبت کے لمحات میں دیکھتی ہُوں۔ میں اِس شہادت کا اعتراف کرتی ہُوں: تم اُن کے اندر لافانی تھیں۔

۱۹۸۳ء میں، جب اُن کی چنپت ہوتی یادداشت کا میرے سامنے معائنہ ہو رہاتھا تو اُنھوں نے اپنے مجنونانہ جوابات میں سے ایک، بس ایک جواب بالکل درست دیا تھا: میری دو بیٹیاں تھیں۔ اُسے میری پیدائش کا سن یاد نہیں ہوتا، اِس کے بجائے وہ تمھاری وفات کا سال بتاتی ہیں: ۱۹۳۸ء۔

میں اُن پر کوئی الزام نہیں دھرتی۔ مرحوم بچّے کے والدین بے خبر ہوتے ہیں کہ اُن کے دُکھ سے اُن کے زندہ بچّے پر کیا بیتتی ہے۔
۱۹۶۵ء میں، میں اور میرا شوہر اپنے چھے ماہ کے پہلوٹھی کے بچّے کے ہمراہ، جس کے بارے میں ابھی اُنھیں (والدین کو) پتا نہیں تھا، بَوڈو سے اُن سے ملنے آتے ہیں۔ جب ہم کار سے اُترتے ہیں تو وہ (والد) سامنے ہی موجود ہوتے ہیں، اپنے نواسے کو دیکھتے ہی خُوشی سے نہال ہو جاتے ہیں اور مُسرت بھری آواز میں زور سے چِلّاتے ہیں: ننّھی لڑکی آ گئی ہے! زبان کی یہ پھسلاہٹ جس کی خُوب صُورتی کی مکمل حد میں آج ماپ رہی ہُوںکاش میرے لیے یہ ناشنیدہ رہتا۔ اِس نے میری ہمت پست کی اور مجھے تیرہ و تار کر دیا تھا۔ بلکہ شاید مجھے دہلا بھی دیا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ تم میرے بدن کے واسطے سے میرے بچّے کے اندر دوبارہ زندگی پاؤ۔

[کیا یہ جسم اور خُون کی پابندی سے آزاد دوبارہ جی اُٹھنے ہی کی ایک صُورت گری نہیں جس کی میں اِس خط کے وسیلے سے جستجو کر رہی ہُوں؟]

اُنھوں نے اپنے آپ کو بھی اپنی خامُشی کی وساطت سے امان مہیا کِیا۔ وہ تمھیں مامون کر رہے تھے۔ اُنھوں نے تمھیں میری جستجو سے دُور کِیا، جو اُنھیں پارہ پارہ کر ڈالتی۔ اُنھوں نے تمھیں اپنی حد تک، اپنے اندر تبرکات سینت کر رکھنے والے صندوق کے مانند رکھا کہ جس تک میری رسائی ممنوع تھی۔ تم اُن کا تبرک تھیں۔ اُن کی آپسی تُوتکار اور عامّتہ الورود اَن بَن کے باوجود اِسی تبرک نے اُنھیں ایک دُوسرے کے ساتھ نباہ کرنے پر مجبور کیے رکھا۔
جون ۱۹۵۲ء میں، وہ (والد) اُنھیں گھسیٹتے ہُوئے تَہ خانے میں لے گئے کہ وہ اُنھیں جان سے مار ڈالنے پر تُل گئے تھے۔ میں بیچ میں آگئی۔ مجھے نہیں خبر کہ وہ میری وجہ سے باز رہے یا تمھاری وجہ سے۔ میں یہ یاد کرتے ہُوئے کہ تمھاری موت کے سانحے کے فوراً بعد بھی وہ اِسی طرح جنونی ہُوئے تھے تو اُن کی (ماں کی) قریب المرگی میںبلبلاتے ہُوئے اُن سے استفسار کرتی ہُوں۔ ’’کیا وہ ہمیشہ سے ایسے ہی تھے؟‘‘ مجھے توقع تھی کہ وہ اثبا ت میں جواب دیں گی۔ لیکن اُنھوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔

میں اُن پر کوئی الزام نہیں دھرتی۔ مرحوم بچّے کے والدین بے خبر ہوتے ہیں کہ اُن کے دُکھ سے اُن کے زندہ بچّے پر کیا بیتتی ہے۔

وہ یکے بعد دِیگرے تمھاری زندہ یاد کو، اُس سب کچھ کو جو اُن سے اپریل ۱۹۳۸ء میں چھن گیا تھا، اپنے ہمراہ اپنی قبروں میں لے گئے۔چلنے کے لیے اُٹھائے گئے تمھارے پہلے قدم، تمھارے کھیل، تمھارے بچپن کے خوف اور ناپسندیدگیاں، تمھارا مکتب میں داخلہ، تمھاری زندگی کی تمام تر تاریخ جسے تمھاری وفات نے سفاک بنا دیا تھا اور جسے، برعکس طور پر لیا جائے تو، مجھے پتا چل جانے کے بعد وہ اپنی تسکین کی خاطر دُہراتے تھے۔ میرے اپنے بچپن کا بار بار تذکرہ، جو دِلچسپ قِصّوں سے لبالب ہے، تمھارے بچپن کی نسبت کھوکھلا ہے۔

میں نے کبھی کوئی ہلکی سی بھی خطا، بچپن کی کوئی ہلکی سی حماقت بھی تم سے منسوب نہیں کی اور نہ ہی کبھی وہ افعال جنھوں نے جب میں تمھاری ہی ہم عمر تھی تو میرے لیے ’’ ناقابلِ اصلاح‘‘ کا اعزاز پایا تھا۔ مثال کے طور پر وہ دِن جب میں نے دھوکا دہی سے پڑھنے میں مصروف اپنی ہم نژاد ’’سی‘‘ کے بالوں کا ایک کنڈل کاٹ دیا تھا۔ تم ہی اصل خطاوار اور سزاوار ہو۔ تمھارے اندر ایک اصل بچّے والی خُوبیاں تھیں ہی نہیں۔مقدس ہستیوں کے مانند تمھارا تو بچپن تھا ہی نہیں۔ مجھے تو تم کبھی اصل بچّی نہیں لگیں۔

لیکن میں نے تب سوال کیوں نہیں اُٹھایا جب اِس کا وقت تھا؛ چاچے، مامے، خالو اور چاچیاں، مامیاں، خالائیں سب تمھیں جانتے تھے؟ تم سے چار پانچ سال بڑی ہم نژاد ڈینس، جو تمھارے ساتھ تصویروں میں دِکھائی دیتی ہے اور جس سے میں اپنی اور اُس کی ماں کے قبل از جنگ انتشار کی بِناء پر بچھڑنے کی وجہ سے آشنا نہیں تھی اور نہ ہی میں نے کبھی اُس سے ملنا کی خواہش کی، گزشتہ برس چل بسی۔ پس، میں آگاہ ہونا ہی نہیں چاہتی تھی۔ میں تمھیں ویسے ہی رکھنا چاہتی تھی جیسے تم مجھے میری عمر کے دسویں برس میں ملی تھیں۔ مری ہُوئی اور خالص۔ ایک اُسطورہ۔

مجھے تمھاری ایک تصویر یاد پڑتی ہے، جسے میں نے کبھی والدین کی خواب گاہ میں غیر استعمال شدہ آتش دان کے اُوپر دھرا دیکھا تھا جس کے ساتھ کنواری مریم کے دو مجسمے بھی موجود تھے جن میں سے ایک میرے صحت یاب ہونے کے بعد لودَز کی زیارت سے واپسی پر ہمراہ لایا گیا تھا، جس پر پیلے رنگ کی بُندکیاں رات کو اُسے چمک دار بنا دیتی تھیں، اور دُوسرا اُس سے پُرانا سنگِ جراحت کا بنا ہُوا جس کے ہاتھ میں گندم کی ایک عجیب و غریب بالی تھی۔ دہاتی چوکھٹے میں شیشے تلے دوبارہ مزین کی گئی ایک تصویر۔ تمھارا لوئیس برُوکس ایسے سیاہ بالوں کی ہموار لگی ہُوئی سینگیاں والا سر ایک برفیلے نیلگوں پس منظر میں اُٹھا ہُوا تھا، مُنھ گہری رنگت کا جیسے بنایا گیا ہو اور تمھاری سفید جِلد جو مجھے گالوں پر ہلکی سی گلابی دِکھائی دیتی ہے۔

یہ وہی گُم شدہ تصویر ہے جس کا تذکرہ میں اِن صفحات کے وسط میں شامل کرنا چاہا ہے، تمھاری برگزیدہ ہستی والی تصویر جو میرے تصوّر میں موجود ہے۔ باقی کوئی تصویر میرے پاس نہیں۔  اِس تبرک کو ظاہر کرنے کا خوف مجھے یُوں ساکت کر ڈالتا ہے گویا مجھ سے کسی متبرک ہستی کی بے حرمتی ہو رہی ہو۔

تمھاری ہستی کا وجود صرف مجھ میں نقش صُورت گری سے ہے۔ تمھیں خط لکھنا تمھاری عدم موجودگی کی تکرار سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

اِس خط کا آغاز کرنے سے قبل میں تمھارے حوالے سے نچنت کیفیت میں تھی جو اَب پارہ پارہ ہو چکی ہے۔ جُوں جُوں میں لکھتی جا رہی ہُوں مجھے لگتا ہے جیسے میں خواب کی حالت میں لفظوں کی دلدل میں گھستی چلی جا رہی ہُوں جہاں سے نکلنے کا کوئی سبب نہیں، ہر لفظ کے درمیان ایک غیر فیصلہ کُن معاملے کی خلیج ہے۔ مجھے یُوں لگتا ہے جیسے میرے پاس وہ لسان ہی نہیں جس میں تمھیں لکھوں، تمھیں بتاؤں نہ مجھے تمھارے وجود کے استرداد، تمھارے کبھی بھی نہ ہونے کے بارے میں بات کرنا آتی ہے۔ تم احساسات اور جذبات کی زبان کی حدود سے باہر ہو۔ تم دُشمنِ لسان ہو۔

میں تمھاری کہانی بیان نہیں کر سکتی۔ میری یادداشت میں میری دسویں سالگرہ کے روز والے موسمِ گرما کے منظر کے علاوہ تمھیں یاد کرنے کے لیے کچھ نہیں اور وہ بھی ایک ایسا منظر تھا جس میں مر جانے اور زندہ بچ جانے والی دونوں ہی سراسیمہ ہیں۔ میرے پاس تمھارے وجود کو قائم رکھنے کے لیے سِوائے ساکت و جامد تصویروں کے، جو حرکت کرتی ہیں نہ بولتی ہیں، کچھ نہیں کیوں کہ اُس زمانے میں چلتی پھرتی اور بولتی تصویریں بنانے اور محفوظ کرنے کی تکنیکیں نہیں تھیں۔ تب جس طرح کی بغیر تصویروں والی اموات ہُوا کرتی تھیں، تم بھی ویسی ہی بِناء بولتی چالتی تصویروں والی اموات کا ایک حِصّہ ہو۔

تمھاری ہستی کا وجود صرف مجھ میں نقش صُورت گری سے ہے۔ تمھیں خط لکھنا تمھاری عدم موجودگی کی تکرار سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ عدم وجود ورثے کا ایک بیانیہ۔ تم ایک ایسا خلا ہو جسے تحریر سے پُر نہیں کِیا جا سکتا۔

نہ میں یہ کر سکتی تھی اور نہ ہی میں نے یہ کِیا اپنے آپ کو اُن دونوں کی رنجوری میں شامل کر کے اُنھیں یک جان کر دیتی۔  وہ پردیسن مجھ سے پہلے تھی۔ اُس نے مجھے خارج کر دیا۔
میں اِس کا قیاس اپنے تئیں نہیں کرنا چاہتی تھی جھومتا جھامتا، بے آس، کنواری مریم کے جلوسوں میں انجیل کی مناجاتوں کا خُوش الحان گایک؛ ملنے جاؤں گا ایک روز اُس سے میں۔ جس کا ٹیپ کا بول یکایک آوازوں میں چُپ کے ایک مختصر وقفے میں آسمانوں کی بے انتہا بلندیوں کو چُھوتا ہے؛ جس کی کسی سوچ میں غرق اچانک آمد ہوتی ہے اور میری مکتب سے ذرا سی تاخیر پر اُس کا دائمی خوف، کوئی فلم دیکھنے اور بائیسیکل کی سواری کے لیے جانا؛ میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا تھا جس پر میں نے تکبر اور بدمزاجی سے جواب دیا تھا: آپ کیا چاہتے ہیں کہ میرے ساتھ کیا کچھ ہو؟

لیکن میں اُن کے دُکھ کو سمجھے بغیر ایک عرصے تک سنتی رہی؛ اُن کے بیٹھی ہُوئی آواز میں شکوے کو پہچانے بغیر جانتی تھی ایک بِلّی کے شکوے ایسی آواز جس کے مروج جاہلیت کے تحت بلونگڑے کو چیر پھاڑ کر زندہ دفن کر دیا گیا تھا جسے ایک روز میں نے فوری فیصلے کے تابع کھود کر نکالا، اُسے گھسیٹتی ہُوئی اپنی ہم نژاد کے پاس لے گئی جسے وہ واقعہ اب بھی یاد ہے اور اُس سے اُسے اُس نے لے لیا جس نے اُسے دفن کِیا تھا۔ اُنھوں (والد) نے مجھے میتھیو گرجا گھر کی قربان گاہ پر پہلا اور آخری طمانچہ رسید کِیا۔

نوحہ خواں ارمیا کے یہ الفاظ: راشَیل جو تنہائی میں اپنے بچّوں کے لیے آہ و بکا کرتی ہے اور اُسے اِس لیے تسکین نہیں دی جاتی کیوں کہ وہ اب ڈُوپیریئر کے گُم شُدہ علاقے میں اب نہیں رہے، جس کی خاطر میلہبا اُس کی بیٹی کی رحلت پر ایک مرصّع و مسجع لیکن ٹھوٹھ دِل جوئی کرتا ہے، اور اِس قطعے کو شِنی کی چوکھٹ پر جاتے ہُوئے زبانی یاد رکھنا ضروری تھا جسے میں نے یاد رکھا تو وہمِیرٹو، نوجوان ٹیرینا حیات رہی۔

میں اُن کے رنج میں حیات نہیں تھی، میں تو تمھاری عدم موجودگی میں جی رہی تھی۔

جب میں تیرہ کے سن کو پہنچی تو مجھے لِلّے بون کے ایک پڑوسی لڑکے فرانسس جی، جو تمھاری وفات کے وقت نوجوان تھا، کا خط موصول ہُوا تو مجھے اُن کے غم تک پہلی مرتبہ رسائی ہُوئی۔ اُس نے لکھا تھا: ’’ وادی کے تمام لوگوں، اور بہت سے دِیگر لوگوں کو بھی، تمھارے والدین اور تمھاری بہن جِینَیٹ، جو چھے برس کی عمر میں خناق سے چل بسی تھی، بخوبی یاد ہیں۔ میرے ہم نژادوں [ اِزِیٹو اور جیکولین ایچ کے رہنے والے] نے کوئی آٹھ دس روز قبل بتایا ہے کہ اب کریانے کی دُکان پر زیادہ لوگ نہیں جاتے۔ تمھارے والدین کو غمزدہ حالت میں دیکھنا نہایت افسوس ناک تھا۔ شاید اِس کا سبب مرض کا خوف بھی رہا ہو۔‘‘ گویا مجھے اُن کی اذّیت کی سچائی جاننے کے لیے سانحے کے کسی چشم دید گواہ کے بیان کی ضرورت ہَو۔
اگر میں جذبات و احساسات کی اصطلاحیں کھنگالوں تو مجھے اپنے بچپن یا بعد کے زمانے میں تمھارے لیے کوئی اصطلاح نہیں ملتی۔ نہ نفرت کہ مجھ سے پہلے ہی تمھارے فوت ہو جانے کی وجہ سے اِس کو کوئی جواز نہیں، نہ ہی نرمی و گداز جو قریب یا دُور بسنے والوں کے دِل میں ایک دُوسرے کے پُھوٹتی ہے اور جذبات و احساسات کی شہادت ہوتی ہے۔ ناوابستگی، چاہے دُھندلی سی ہی ہوتی، اگر مجھے شبہ بھی ہوتا کہ اُن کے روّیوں میں ’’مرقد‘‘ کے حوالے سے تمھارا نام لیے بغیر بھی کبھی تمھاری موجودگی کا عکس در آتا۔

یا شاید کوئی مگھم خوف کہ تم انتقام لے رہی ہو۔

مجھے نہیں یاد پڑتا کبھی میں نے تمھارے بارے میں سوچا تک بھی ہو۔ تواتر کے ساتھ نوبہ نو علم میری بُھوک مٹانے کے لیے کافی اور میرا فخر تھا۔ مجھے لاطینی، الجبرا اور محبت و جنس کی تخیلاتی بُنت کاری نے مگن رکھا۔ جنگ سے قبل کھو جانے والی ایک لڑکی کی بے اصل شبیہ عہدِ موجود کی ایک بالغ لڑکی کے لیے، جسے اُس بچّی کو یاد رکھنے کی کوئی تمنّا بھی نہیں تھی اور جو مستقبل کے خواب دیکھتی تھی، کیا حیثیت رکھتی تھی؟

تمام کا موازنہ کرنے پر خُوش رہنے کے بہت کچھ تھا حیض کا آنا، مبتلائے عِشق ہونا، گلہائے رنج و الم  (چارلس بودلیئر کی شاعری کے مجموعے کا نام۔ مترجم) کا مطالعہ اور ناخُوشی کے لیے بھی بہت کچھ ۱۹۵۲ء کا اتوار کا دِن یعنی اِزِیٹو میں گرما کی تعطیلات میں مجہول خواب گاہ میں جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں پایا لیکن جو ہو کر رہے گا، مکتب کی سرد خُوش گوار سویروں نے جس کے ہونے کا وعدہ کِیا تھا، عشقیہ گِیت اور ہفتے کے روز کی ٹرین سے اُترنے والے طلباء سے گھُٹی ہُوئی فضا تمھاری موت زیادہ اہمیت کی حامل نہیں تھی۔

تم سدا چھے برس کی رہیں لیکن میں دُنیا میں روز افزوں آگے سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ میں اِس کی وضاحت اپنے بیس کے سن میں اَیلوار  کی ایک نظم ’’فنا کی کڑی خواہش‘‘ میں ملی۔ تم پر محض موت وارد ہُوئی تھی۔

میں زندگی کی تمنّائی تھی۔مجھے بیماریوں سے، سرطان سے خوف آتاتھا۔ تیرہ کے سن کے ایک موسمِ گرما میں، میں نے کسی کو نہیں بتایا کہ میری ہلکی سی لنگ لوٹ آئی ہے۔ اِس خوف سے کہ وہ دوبارہ سیاہ رنگ کا پلستر چڑھا کر مجھے برک پلیج   میں بھیج دیں گے، میں نے اپنے جُوتے کی ایڑی میں ایک کاغذ رکھ کر اپنی چال متوازن کی ۔ شاید میں اپنی طاقت تم سے، تمھاری موت اور اپنے زندہ بچ جانے سے لیتی تھی جسے میں ایک معجزاتی امر سمجھتی تھی۔ کہ تم نے مجھے اضافی قوّت بخشی، زندہ رہنے کابخار۔

باوجودیکہ اینٹی بائیوٹک ادویات کی دریافت کے،  ۱۹۶۰ء کی دہائی میں سینٹ ہِلیری ڈو ٹووے   کے اقامتی دارالشفا کے طلباء کے سروں پر تپ دق سے ملتی جلتی موت کا خوف سر پر سوار رہتا تھا اور میں اُن میں سے ایک ایسے ہی لڑکے سے شادی کرنا چاہوں گی جس نے اپنے روزنامچے کا عنوان ’’شدّید ذہنی آزار‘‘ رکھا تھا۔

میں اکلوتی بچّی،پہلی بچّی کی وفات کے بعد دُوسری ہونے کے باعث اپنے فوائد، اپنے لیے فکرمندی اور شدّید اشتیاق سے بخوبی آگاہ تھی۔ وہ(والد) سب سے پہلے میری خُوشی چاہتے تھے، وہ(والدہ) ایک عمدہ شخصیت تھیں۔ اُن دونوں کی خواہشات میں اضافے نے مجھے خاندان کے اندر بھی اور آس پاس کے ہم جیسے مزدور طبقے میں بھی ایک قابلِ رشک ہستی بنا دیا تھا۔ ہم نے کبھی روٹیاں فروخت نہیں کیں؛ گاہکوں کویہ بہانہ بناکر کہ اُس کی تعلیم چل رہی ہے ، وہ جواب دے دیا کرتے تھے۔ ’’ہم نہیں بیچتے۔‘‘ تم اُن کا غم تھیں لیکن مجھے پتا ہے کہ میں اُن کی اُمید، اُن کااُلجھاؤ، اُن کی مصروفیات، اُن کے حلقہ احباب میں بیچلر کی پہلی سند پانے والی، اُن کی کامیابی تھی۔ میں اُن کامستقبل تھی۔

بعض اوقات میں شمار کرتی ہُوئی تم لگ بھگ کتنی زندگی پا لیتیںکیوں کہ میں نے ایک عرصے سے تمھاری پیدائش کے سن کو نظر انداز کر رکھا ہےمجھ سے آٹھ یا دس برس بڑی ہوتے ہُوئے۔ یہ فرق تو حتمی تھا۔ میں نے ہی بڑی نوجوان لڑکی کے طور پر تمھاری نمائندگی کرنا تھی جیسا کہ دُکان پر آنے والے لوگ مجھے ایک غیر اہم بچّی سمجھتی تھی۔ مجھے کسی ایسی بہن پر افسوس نہ ہوتا جو مجھ پر محض مجھ سے بڑی ہونے، اپنی بلوغت، اپنے علم اور اپنے حقوق کے بَل بوتے پر غالب آتی۔ میں تمھارے ساتھ کبھی کوئی چیز نہ بانٹتی۔ چھوٹی بہن ہونے کا خیال، حد یہ کہ شیر خوار ہی ہوتی، مجھے ایک جیتی جاگتی گُڑیا کے مانند کشش کرتا۔

لیکن تمھیں اور مجھے لاثانی ہونا تھا۔ وہ اپنی باتوں میں ایک بچّہ رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے، پس دُوسرے کی گنجائش نہیں تھی کہ ایک بچّے کا ہونا تمھاری یا میری کسی ایک کی زندگی کی دلالت کرتا تھا نہ کہ دونوں کی۔

مجھے یہ بات سمجھنے میں لگ بھگ تیس سال لگے۔ ’’مقامِ مرد‘‘ لکھتے ہُوئے یہ دونوں حقائق میرے سامنے اکٹھّے آئے، جو قبل ازیں میرے دماغ میں الگ الگ موجود تھےتمھاری موت اور ایک بچّہ رکھنے کی معاشی مجبوری اور اِس طرح یہ حقیت مجھ پر آشکار ہُوئی: میں دُنیا میں اِس لیے آئی کہ تم فوت ہو گئی تھیں اور میں نے تمھاری جگہ لی۔

مجھے اِس سوال سے گُریز اختیار نہیں کرنا چاہیے: اگر میں اُس کتاب ’’مقامِ مرد‘‘ کو ممکنہ حد تک حقیقت کے قریب ترین تحریر نہ کرنا چاہتی تو کیا تم اُس تاریکی سے نکل سامنے آ سکتی تھیں جہاں میں نے تمھیں برس ہا برس سے رکھا ہُوا تھا؟ کیا یہ لکھنا ہو گا کہ تم نے دوبارہ نیا جنم لیا ہے، اُسی حسب نسب سے اور میری ہر کتاب سے جس کے بارے میں مجھے کوئی پیش آگاہی نہیں ہوتی، جیسے کہ یہ خط جس میں مجھے یہ تأثر مل رہا ہے جیسے میں کسی نامختتم راہداری کے ازدیاد ہوتے ہُوئے پردے ہٹا رہی ہُوں؟
یا پھر تحیل نفسی کی فضا کے پس منظر نے مجھے سمجھنے کا موقع دیے بغیر کسی طور تمھاری طرف دھکیلا ہے کہ کسی بااختیار فرمان کی تعمیل میں لکھتوں کا ایسا پس منظر تعمیر کروں جس میں سے اُس رُوح کو حیاتِ نو دوں جو وہاں سدا سے چھپی بیٹھی ہے جس سے مجھے لگتا ہے گویا لکھاری محض ایک کٹھ پتلی ہے؟ اور بعینہٖ کیا مجھے اساس کی طرف پلٹ کر اِس خط میں تمھیں تحلیل نفسی کی ایک تخلیق کے طور پر نہیں لینا چاہیے، اِس کے علی التواتر کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے کیوں کہ ہم کبھی مر جانے والوں سے فرار حاصل نہ کر پاتے؟

’’تم‘‘ ایک جال ہو۔ جس میں کچھ دم گھونٹنے والا ہے اور جو تمھارے اور میرے مابین مذمت کی حد کو چُھونے والی ملامتی جھلک کی ایک تخیلاتی قربت ہے۔ جو پراسرار طور پر قائل کرتی ہے کہ میرے وجود کا سبب تم ہو؛ تمھاری عدیم کو میری ہستی کی کلیت سے منہا کرتی ہے۔ 

یہاں میں محض ایک سائے کی متعاقب ہُوں۔

تمھارا سراغ لگانے کی لگن بڑی ہے تاہم میرے اپنے کٹھورپن کے حامل کچھ اطوار مسرت اور الم کے بیچ میں جھول رہے ہیں۔ میرا خوف اِس نوع کا ہے کہ خُوشی کے ہر لمحے کے بعد غم اور ہر کامیابی کے بعد کوئی انجانی سزا ملے گی۔ یا پھر تعدیل و شمار کے اِسی اصول کا برعکس، جس سے مجھے اپنی بلوغت ہی سے ہر معاملے میں، ماسوائے جنس کے، واسطہ پڑتا چلا آ رہا ہے: بہجت یا کامیابی پانے کے لیے کھونا پڑتا ہے۔

اِسی اصول کے تابع بیچلر کا امتحان پاس کرنے کے لیے مجھے پُرانے رواج کے پلیٹیں ڈالے ہُوئے لباس کو بھی قبولنا پڑا؛ اپنی کھوئی ہُوئی محبت پانے کے لیے رواقی طرز پر دانتوں کی تکلیف برداشت کرنا پڑی۔ جب کہ اِس قربانی کے نتیجے میں جزا ملتی ہے تو یقینا اپنے خُودغرضانہ مفادات کی خاطر عیسائیت کے عاید کردہ فرض سے انحراف کے بارے میں سوال ضرور اُٹھتا ہے جو لازم قرار دیتا ہے کہ گناہ گاروں کی نجات کے لیے اپنی قربانی پیش کر دو۔

کیا تم میرے اندر عیسائیت کے فسانہ کی طرح ہو؟ طفیلیے کی حقیقی موجودگی، جسے میں اپنی زبان کی نوک سے پھاڑ ڈالا کیوں کہ وہ میری عشائے ربانی کے باوقار تقریب والے دِن میرے تالُو سے چپکا تھا اور پھر میرا یہ عقیدہ بھی تھا کہ میں فانی گناہ کی کیفیت میں ہُوں، جسے میں عذابِ ابدی پانے کی یقینی حالت میں پادری کے روبرو اپنے اعترافِ گناہ کے خوف سے ماہ بہ ماہ گھمبیرتر کرتے ہُوئے بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہُوں۔

یہاں میں محض ایک سائے کی متعاقب ہُوں۔

اپنے اندر دیکھنے کے بجائے مجھے تمھیں اپنے باہر اُن لڑکیوں میں تلاشنا چاہیے جن جیسی میں بننا چاہتی تھی، وہ جو اُس وقت مجھ سے بڑی جماعتوں کی طالبات تھیں، جن کے نام میں یہاں رقم کیے دیتی ہُوں: میڈیلین ٹورمانٹ، فراہن چیزریھ نوہ، جینن بیل وِل۔ ایک مرتبہ پھر کبودی کُرتی میں ملبوس وسطی یا چھٹے درجے کی بچّی سامنے آرہی ہے جو اِن رمز بھری نیکیوں کے کھیل کے میدان میں دیکھ رہی تھی، جس سے میں متوقع تھی کہ وہ دیکھنے کے بجائے کچھ بولے۔ لیکن وہ بس تکتی رہتی ہے۔
یازیادہ یقینی طورپرناولوں،فلموں اورمصوّر کی ہُوئی تصاویر کے مناظر جو مجھے نہیں پتا کیوں مجھے دِق کرتے تھے کبھی نہیں بُھلائے جا سکے۔ اغلباً، جہاں تمھیں تلاشنا ہے وہ یہی تخیلاتی ہمارے ذاتی آزمودہ فنی حربے ہیں، جو باقی تمام کے ناقابلِ مطالعہ ہے، جہاں تمھاری بازیافت کی جا سکتی ہے کہ کوئی اَور یہ کام ہماری خاطر سرانجام نہیں دے سکتا۔ مجھے خبر ہے کہ جَین آئر میں تم ہی تھیں اور بلاک ہرسٹ کی مفسد اقامتی درس گاہ میں اُس میں سے کھسک کر اُس کی متدّین سہیلی ہیلن برنز میں آئی تھیں۔ ہیلن تپ دق میں گھل گئی تھی اور طلبا میں بھاری تخفیف کا باعث بننے والے سُرخ باد والے ہذیانی بخار سے کرشماتی طور پر ذرا سے بھی ضرر نہ پہنچنے والی جَین ایک شام اُس سے ملنے کے لیے شفا خانے میں جاتی ہے۔ وہ اُسے اپنے بستر کے قریب بُلاتی ہے۔

’’کیا تم مجھے یہاں خداحافظ کہنے آئی ہو؟ میرا خیال ہے کہ تم درست وقت پر آئی ہو۔

کیا تم کہیں جا رہی ہو، ہیلن؟ کیا تم اپنے گھر جا رہی ہو؟

ہاں میں اپنے قصاری قیام کے لیے مرقد میں جا رہی ہُوں جہاں کی مجھے شدّید طلب تھی۔

نہیں، نہیں، ہیلن!

لیکن تم جا کہاں رہی ہو، ہیلن؟ کیا تم نے وہ جگہ دیکھی ہے؟ کیا تم اُس مقام سے آشنا ہو؟

میرا عقیدہ ہے، میرا ایمان ہے، میں خدا کی طرف پلٹ رہی ہُوں۔

کہاں ہے خدا؟  خدا کیا ہے؟‘‘

اگلی صبح ہیلن کے ساتھ لپٹ کر سوئی ہُوئی جَین کو کھینچ کر مردہ ہیلن سے الگ کِیا جاتا ہے۔

 

۳

 

میرے سامنے ایک تصویر پڑی ہے جو میری ہم نژاد ’’سی‘‘ نے مجھے بیس برس قبل بھجوائی تھی۔ تم تین لوگ دو گلیوں کے کونے پر پیدل چلنے والے راستے پر کھڑے ہو۔ میرا طویل القامت اور ہمہ وقت مُسکراتے رہنے والا والد جنھوں نے بہترین ڈبل بریسٹ سُوٹ زیب تن کر رکھا ہے اور اُن کے ہاتھ میں ایک ہَیٹ ہے (جنھیں میں نے سدا نرم نمدے والی چپٹی ٹوپی پہنے دیکھا تھا)۔ اُن کے ساتھ عشائے ربانی کی تقریبات میں اکثر شرکت کرنے والی اُن کی بھتیجی ڈینس نقاب والی ٹوپی جڑا لمبا سفید لباس پہنے کھڑی ہے جس میں سے صرف اُس کا چہرہ اور ٹخنے ہی دِکھائی دے رہے ہیں۔ اُس کے سامنے ایک ننّھی لڑکی ہے جس کے بُھورے بال اُس کے سینے تک آتے ہیں۔

یہ تم ہو۔ تم بھی چھوٹی آستینوں والے مکمل طور پر سفید لباس، تسمے دار پیزار اور ٹخنوں تک جرابوں میں ہو۔ تمھارے بال، عین کانوں تلے سے سیدھے تراشے ہُوئے، سر کے عین وسط میں مانگ اور بائیں جانب چُٹیا کی گانٹھ جو تمھارے اُٹھے ہُوئے گول مٹول ماتھے کے چوگرد ایک عجب کاملیت کا مظہر گہرا قوس بناتے ہیں۔ تم تمکنت کے ساتھ کسی شے کو تک رہی ہو۔ تمھارا مُنھ گہرا لال دِکھائی دے رہا ہے۔ تمھاری سکنات کی نہایت مؤثر جزئیات: تم اپنے دونوں ہاتھوں کی پھیلی ہُوئی اُنگلیوں کی پوروں کو آپس میں مَس کر رہی ہو۔

سفید لبادوں کے غلبے کی وجہ سے تم بھی عشائے ربانی کی تقریبات میں شرکت کرنے والی میں گھل مل گئی ہو؛ نقاب نے تمھارے بالائی بازوؤں کو ڈھانپ رکھا ہے۔ تم لوگوں کے گروہ کے پیچھے دیوار پر جلی حروف والا ایک اشتہار ہے: مہنگائی کے باعث رخصت کے ادائی والے ایّام ۴۰ گھنٹے میں سماجی اصلاحات کے تحت خوراک کی دیہاڑی میں اضافہ۔ فاصلے پر، ایک بڑی سی عمارت ہے جس پر ’’لامیڈیٹیرانی‘‘ کا بورڈ نصب ہے اور اُس عمارت کی طرف بڑھتے ہُوئے کسی شخص کا خاکہ۔ گروہ کے پُرتکلف کپڑے اُس نیم شہری ضلع کے قدرے ویران مقام سے متناقض ہے۔ تصویر ۱۹۳۷ء میں لُو آور میں کھینچی گئی تھی۔ تمھارے پاس زندہ رہنے کے ایک سال باقی ہے۔
میں تمھارے متین چہرے، کھیل میں مگن تمھارے پھیلی ہُوئی انگلیوں اور تمھاری پتلی پتلی ٹانگوں کی طرف دیکھتی ہُوں۔ تصویر میں تم میرے بچپن کا شیطانی سایہ لگتی ہو نہ ہی کوئی بزرگ ہستی۔ تم تو ایک چھوٹی سی لڑکی ہو جسے خناق کی وبا کے حیلے سے وقت سے باہر دھکا دے دیا گیا، جو دھرتی کی سطح سے اُٹھا لی گئی ، اور جو تقریب کے اُس روز کے اُس لمحے تک معروف ضلع لُو آور کے اُس پختہ پیدل چلنے والے راستے کی کشادہ پٹّی پر اپنا وجود اور مادہ رکھتی تھی۔

میری حیات کی وسعت نے، جس کی لامحدودیت تمھاری مرہونِ منّت ہے، مجھے بھاری بوجھ تلے دبا رکھا ہے۔ مجھے پیچھے ہر شے شمار سے باہر ہے جو دیکھیں، سنیں، سیکھیں اور بُھولیں، مرد وزن جن سے ملاقات ہُوئی، گلیاں، صبحیں اور شامیں۔ میں اپنے آپ کو تصوّرات کے مفرط انبار تلے دبا محسوس کرتی ہُوں۔

یہ خیال ہی کس قدر عجیب ہے کہ وہ سب کچھ تمھارا بھی تھا۔

نہایت بعید، مگر نہایت صاف اور واضح، ابتدائی تصوّر لِلّے بون کے ہیں: بلیرڈ کی میز والا کوفی کا کمرہ، سنگِ مرمر کی متوازی میزیں؛ سِوائے ایک بیٹھے ہُوئے جوڑے کے، فولڈرے اور اُس کی بیوی جس کے محض دو یا تین دانت ہی بچے ہیں، گاہکوں کے غیر واضح خاکہ نُما سائے؛ کریانے کی دُکان سے شیشے کے ایک دروازے سے الگ کِیا گیا مطبخ جہاں سے پختہ آنگن اور سیڑھیوں کے اُوپر  طعام کا کمرہ جس میں شفیف سیاہ اور نارنجی پُھول ایک چھوٹے سے گملے میں لٹکے ہیں اور میز پر چھوٹے بالوں اور مستقل ہلتے رہنے والا ایک کُتّے کا کھلونا ہے جس نے دریا کنارے چوہوں کو ہلاک کِیا تھا، ڈَیسجینیٹائس سپننگ مِل کا بُھورا مواد اور اُس کی جسیم دہاتی گولائیوں والی چمنیاں، کارخانہ اور اُس کا سبزگُوں چرخا۔

میں اِن تصوّرات کو اپنی کتاب میں شامل کرتی ہُوں۔ یہ خیال ہی کس قدر عجیب ہے کہ وہ سب کچھ تمھارا بھی تھا۔ یہ بھی نہایت غور طلب بات ہے کہ ہم دونوں، تم اور میں، لوگوں کی یادوں بھی اکٹھے موجود تھے جیسا کہ ۱۹۹۷ء کا فرانسس جی کے اِس مکتوب کا یہ پارہ ظاہر کرتا ہے: ’’اِزِیٹو سے میری ہم نژاد نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ایک خُوش گوار موسم میں تمھاری بہن جِینَیٹ کو لے کر باہر جا رہی تھی تو وہ اُس کے ساتھ ٹرینِٹی ڈُو مونٹ کو جانے والی سڑک پر سیر کرنے کے بارے میں باتیں کر رہی تھی۔ جیکولین کو یاد ہے کہ جب تم شیر خوار تھیں تو وہ تمھیں اپنے بازوؤں میں اُٹھا لیا کرتی تھی اور جب تمھاری چھوٹی چھوٹی ٹانگوں پر پلستر چڑھا ہُوا تھا تو بیگم جُوشَین نے اُسے انتہائی احتیاط برتنے کا کہا۔‘‘

مجھے لِلّے بون،میرگیز، بَوڈو، وِنسینٹ، یُوڈی، ٹرانشن، ایبے لوکلیر کے لوگ اور دی بوش کارخانے کے مالکان ، جن کے پاس ایک پالتو بندر تھا، دوبارہ دُھندلے دُھندلے دِکھائی دیتے ہیں جو تم سے شناسا تھے۔ جن کے نام تمھارے آس پاس گردش کرتے رہے تھے۔ مجھے اُن گلی کُوچوں کے نام سنائی دیتے ہیں جنھیں تم سنتی رہی تھیں اور رُو سیزرائن، رُو گوبیٹ مؤلِن ، لا فینایئے  اور لی بیکوئٹ  کے نام، جہاں میں ۱۹۴۵ء کے بعد دوبارہ کبھی نہیں گئی۔

مجھے چاچے، مامے، خالو اور چاچیاں، مامیاں، خالائیں، اور تمام ہم نژاد یاد ہیں جو تمھیں یاد کرتے تھے۔ میں نے اُن کا ذکر کِیا ہے۔

ہم دونوں نے ایک ہی جیسی دُنیا میں آنکھ کھولی تھی۔ گرما اور سرما، فاقہ کشی اور پیاس، خوراک، موسم، ہر پائی جانے والی شے کا ہمارے سامنے ایک ہی جیسی آوازوں میں تذکرہ ہُوا تھا۔ وہی مہمان اور وہی زبان۔ یہی فرانسیسی زبان جس میں مجھے سکول میں پتا چلا تھا کہ یہ دنیا کوئی ’’اچھا مقام‘‘ نہیں۔   

ہمیں ایک ہی جیسے گِیت سنا کر لوریاں دی گئی تھیں۔ وہ (والد): پڑے تم پہ جب کوئی مصیبت تو لوٹ آنا میرے پاس۔ وہ (والدہ): چیریوں کا زمانہ اور افسردہ نگاہ، یہی تو محبت ہے فضا میں بکھری ہُوئی، یہ تو محبت ہے بیچاری دُنیا کو تسلی دیتی ہُوئی۔

ہم نے ایک ہی بدن سے جنم لیاتھا۔ دراصل، میں نے یہ کبھی سوچنا ہی نہیں چاہا۔

میں اپنے آپ کولِلّے بون میں باورچی خانے میں دیکھتی ہُوں۔ رات کے کھانے کے بعد کا وقت ہے، کاروبار بند کردیا گیا ہے۔ میں اُن کے (والدہ کے) گھٹنوں پر بیٹھی اُن کے سینے سے چمٹی ہُوئی ہُوں۔ وہ گانا گاتی ہیں۔ اِزِیٹو کے نارتھ برج پر اتوار کے ایک سُرمئی دِن کو وہ (والد) اُن کے (والدہ) کے سامنے بیٹھے ہیں۔ ہم چلتے ہیں تو وہ میرا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ میں اُن کے جُوتوں کو پتھّریلے فرش پر حرکت کرتے دیکھتی ہُوں اورمیرے بے حد ننّھے مُنّے جُوتے اُن کے پیچھے پیچھے ہیں۔ اِن تصوّرات میں، میں نے کبھی کسی مقام پر تمھارا تصوّر نہیں کِیا۔ میں اپنے آپ کواُن کے ہمرکاب جہاں جہاں پاتی ہُوں تمھیں نہیں پاتی۔

تمھیں میں اپنی جگہ پرنہیں رکھ سکتی۔ تمھارے وجود سے اپنے وجود کوبدل نہیں سکتی۔ وہ اجل ہے تو یہ حیات ہے۔ تم یا میں۔ مجھے اپنے وجود کے لیے تمھارے وجود کا اِسترداد کرنا ہے۔

۲۰۰۳ء میں میرے روزنامچے میں منظرپر نظرثانی کرتے ہُوئے میں نے لکھا تھا: ’’میں اُس جتنی اچھی نہیں ہُوں۔ مجھے خارج کر دیا گیا ہے۔ پس، میں محبت نہیں کروں گی لیکن تنہائی اورفطانت کامظہر بنوں گی۔‘‘

کئی برس قبل،میں وادی کے ضلع میں لِلّے بون گئی۔ میں نے ایک مرتبہ پھر باہر سے کھٹیکوں کی دُکان والی گلی، کیفے اور پرچون فروشی کی دُکان کو دیکھا، جہاں ہم دونوں پیدا ہُوئی تھیں اور جس کے بارے میں مجھے معلوم ہُوا کہ وہ جگہ ۱۹۷۰ء سے کسی کی نجی رہائش گاہ بن گئی ہے۔ اپنے ہمسایوں کے سفید گھروں میں اُس کے سامنے والے رُخ پر نہایت ہی جارح سفید پلستر کِیا گیا تھا، کریانے کی دُکان کا دروازہ مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کر کے کھڑکی بنا دیا گیا تھا پُرانی عمارت کے تمام نشانات ختم کر دیے گئے تھے۔
میں اندرونی حِصّے کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس امر سے آگاہی کی بِناء پر کہ اصل شے اپنے آپ کو خُود محفوظ نہیں رکھ سکتی تاآنکہ اِسے لازمی طور پر یکجا نہ رکھا جائے، مستقلاً بار بار رَنگ و روغن نہ کِیا جائے اور پوشش تبدیل نہ کی جائے، تزئین و آرائش اور دُوسرے لوگوں کے فرنیچر سے میری یادوں کو دھچکا پہنچنے کا خوف مجھ پر پیشگی طاری ہو گیا۔
گزشتہ موسمِ گرما میں، اِس مکتوب کو رقم کرنے کے خیال سے بھی پہلے، میری اندر شدّید خواہش نے جنم لیا کہ ایک دفعہ تو اُس گھر کے اندر جاؤں، ایک ایسی تمنّا اُتنی ہی شدّت پکڑتی چلی گئی جتنا میرے لیے اُس کے حالیہ قابضین تک رسائی کے لیے پاپڑ بیلنا پڑے۔ پھر میرے لیے اپنے دَر وَا کرنے کی اُن کی ہچکچاہٹ کا سامنا کرنا پڑا، جو جائز مگر ناقابلِ برداشت تھی۔ یہ یُوں ہی تھا گویا مجھے کسی نوع کے الہام کی توقع تھی اور مزید برآں جسے میں نے کسی ممکنہ لکھت کے لیے مواد کے طور پر استعمال میں لانے کاکوئی تصوّر نہیں کِیا تھا ، لیکن یہ ثانوی بات تھی۔

خط وکتابت اور برقی مکتوبات کے تبادلے بعد، پچاس کے پیٹے کے ایک جوڑے نے مجھے گزشتہ اپریل میں گھر میں داخل ہونے کی اجازت مرحمت کی۔ وہ ۱۹۴۵ء کے بعد پہلا موقع تھا۔

زمینی منزل پر ہر چیز کی تبدیلی نے میری کایا کلپ کر ڈالی۔ ایک کمرہ بنانے کے لیے الگ الگ حِصّوں کو توڑ دیا گیا تھا۔ میں محض نہایت نیچی چھت، جسے بچپن میں میں ہاتھ اُوپر اُٹھا کر بمشکل چُھو پاتی تھی، اور دریا کے کنارے صحن کو پہچان پائی۔ الماریاں، کپڑے دھونے کا کمرہ، خرگوشوں کا کمرہ غائب ہو چکے تھے۔ بالائی منزل پر، مجھے لگا جیسے ایک نئے حِصّے کا اضافہ کر کے ایک تنگ راہداری بنائی گئی ہے دو کمرے گلی کی جانب اور دو کمرے آنگن کی سمت کے درمیان ایسی کوئی راہداری میری یادداشت میں موجود نہیں۔

دائیں طرف والا پہلا کمرہ اُس جوڑے کی خواب گاہ ہے، جس طرح وہ کبھی میرے والدین کی ہُوا کرتا تھا۔ مسہری کھڑکی کے متوازی بعینہٖ شرقی سمت تھا۔ ہر چیز میری یادداشت سے ذرا ذرا مربوط ہُوئی۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر میری آنکھوں پر پٹّی باندھ کر اور یہ بتائے بغیر کہ مجھے کہاں لے کر جایا جا رہا ہے مجھے اُس کمرے میں لے جایا جاتا تو میں کبھی نہ بتا پاتی کہ میں کہاں ہُوں لیکن اُن حالات میں مجھے اُس کمرے کی شناخت میں کوئی شبہ نہیں تھاجس کی شہادت دریا کے رُخ والی کھڑکی دے رہی تھی جو بالکل ویسی ہی میری بصارت میں ۱۹۴۵ء سے ہمیشہ بسی رہی تھی۔

میں نے مسہری کی طرف دیکھا اور والدین کے پلنگ سے بدلنے، اور اُس کے ساتھ چوبِ گلاب کی پلنگڑی کو تصوّر کرنے کی سعی کی تو میرا تصوّر حقیقی صُورت اختیار نہیں کر پایا بس اتنا ہی کہ ’’یہاں تھا‘‘۔ اپنے آپ کو دُنیا کے اُس معقول مقام، اُن دِیواروں کے بیچ، اُس کھڑکی کے نزدیک پا کر مجھ پر تحیّر اور مبہم تشفی کے امتزاج کی حامل ایک نوع کی شدّید جذباتی و ہیجانی کیفیت طاری ہو گئی اور میری نگاہیں خیالی طور پر اُس کمرے کو جانچنے لگیں جہاں ایک دُوسرے منسلک ایک کے بعد ایک واقعہ پیش آ کر سب کچھ وقوع پذیر ہُوا تھا۔ حیات و ممات کا وہ کمرہ، ممکنات و اتفاقات کا وہ چیستاں مقام اُس سہ پہر کے آخری حِصّے میں روشنی میں نہایا ہُوا تھا۔

اِس موقع پر مجھے اپنے ساتھ کھڑے مالک مکان کی موجودگی کھلنے لگتی ہے۔ وقفے وقفے سے، کبھی میری نگاہوں کے سامنے اپریل کے آخر کا ایک روشن کمرہ پھرتا ہے تو کبھی جھٹپٹے کے خلط ملط سما میں ایک سایہ بچگانہ پلنگڑی اور دیواروں کے بیچ پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ پہلا منظر ، جس میں کچھ بھی نہیں ہوتا، جلد یا بدیر خُودبخود ختم ہو جائے گا جس کا مجھے بے شمار مرتبہ تجربہ ہو چکا ہے کہ میں بستر کی چادروں کے رنگ اور فرنیچر تک بُھول گئی ہُوں۔ دُوسرا منظر غیرفانی ہے۔

اپنے پنگوڑے پر اپنے والدین کو جھکتا دیکھ کر پیٹر پان کھلی کھڑکی سے اُڑ کر نکل گیا ہے۔ ایک روز وہ واپس آتا ہے تو اُسے کھڑکی بند ملتی ہے۔ گہوارے میں ایک اَور بچّہ ہے۔ وہ دوبارہ دوڑ جاتا ہے۔ وہ کبھی بڑا نہیں ہو گا۔ بعضے بیانیوں میں، وہ قریب المرگ بچّوں کو دیکھنے کے لیے گھروں میں آتا ہے۔ غالباً تمھیں اِس کہانی کی خبر نہیں تھی، مجھے بھی انگریزی کی چوتھے درجے کی جماعت تک اِس کا پتا نہیں تھا۔ میں نے اُسے کبھی اچھا نہیں جانا۔

۷ نومبر ۱۹۴۵ء کو، اُن کی اِزِیٹو واپسی کے تیسرے روز، اُنھوں نے گورستان میں عین تمھارے ساتھ دائیں طرف والی جگہ خرید کی۔ وہ (والد) وہاں پہلے دفن ہُوئے، ۱۹۶۷ء میں اور وہ (والدہ) اُن کے انیس برس کے بعد۔ میری تدفین تمھارے قریب نارمنڈی میں نہیں ہو گی۔ کبھی میں نے یہ چاہا بھی نہیں اور سوچا بھی نہیں۔ دخترِ ثانی میں ہُوں جو اُن سے بھاگ کر کہیں اَور چلی گئی تھی۔

میں چند دِنوں کے بعد حسبِ معمول اولیاء کے تہوار کے روز کے موقع پر قبرستان جاؤں گی۔ مجھے نہیں خبر کہ اِس مرتبہ تمھیں کہنے کے لائق میرے پاس کوئی بات ہو گی یا نہیں۔ معلوم نہیں یہ چٹھی لکھنا میرے لیے باعثِ شرم ہے یا باعثِ فخر۔ میرے لیے اِس کاتعین غیرواضح ہے۔ شاید، تمھاری اجل سے میری ہستی کے وجود میں آنے کے عوض میں ایک تخیلاتی قرض کی ادائی چاہتی تھی۔ یا شاید تمھیں دوبارہ  زندہ کر کے دو بارہ موت سے ہم کِنار کر کے تمھاری ذات سے، تمھارے سائے سے آزاد ہونا چاہتی تھی۔ فرار چاہتی تھی۔

طویل العمری اور اجل کے خلاف طویل جنگ کی ہے۔

یہ امر بیّن ہے کہ یہ مکتوب تمھارے لیے نہیں ہے اور نہ ہی تم اِسے پڑھو گی۔ یہ دِیگر لوگوں، قارئین، کے لیے ہے جو اِسے وصول کریں گے اور جو اَب جس وقت میں اِسے لکھ رہی ہُوں تو غیرمرئی ہیں۔ تاہم، میرے اندر کے طلسماتی خیال کا خزینہ تم تک تخیل سے بالاتر کسی تمثیلی واسطے سے تم تک پہنچ بھی سکتا ہے جس طرح موسمِ گرما کے ایک اتوار کو، شاید وہی اتوار تھا جس اتوار کو ٹیورِن میں پاویسےنے اپنے کمرے میں خُود کشی کی تھی، مجھ تک تمھاری ہستی کی خبر ایک کہانی کی صُورت میں مجھ تک پہنچی تھی حالاں کہ میں اُس کی وصول کنندہ نہیں تھی۔

اکتوبر، ۲۰۱۰ء 

۰۰۰۰

Annie_Ernuax_French_Writer_Nobel_Laureate_2022

اَنّی ایغنو

اَنّی ایغنو فرانسیسی ادیبہ ہیں جنھیں ۲۰۲۲ء کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اُنھیں نوبیل انعام سے سرفراز کرتے ہُوئے نوبیل کمیٹی نے اُنھیں اِس انعام کا حق دار اُن کے فکشن میں موجود اِن خصوصیات کی بِناء پر دیا : ’’اُن کے اُس حوصلے کے لیے جس سے وہ اپنی ذاتی یادوں کی جڑیں، بے اعتنائیاں اور اجتماعی پابندیوں کو لاتعلّق نکیلے پن سے بے نقاب کرتی ہیں۔‘‘

سوانح حیات

 اَنّی ایغنو [پیدائشی نام: اَنّی ڈُشَّین (Annie Duchesne)] یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کو فرانس کے علاقے  لِلّے بون، نارمنڈی (Lillebonne, Normandy) میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہُوئیں۔ کچھ سال بعد اَنّی کے والدین اِزِیٹو (Yvetot) چلے گئے، جہاں انھوں نے قصبے کے محنت کش طبقے کے علاقے میں ایک کیفے اور کریانے کی دکان کھول لی۔ اُن کے والد ایک کیفے اور والدہ کیفے سے ملحق کریانے کی دُکان چلاتی تھیں جو اُن کے گھر کے بیرونی حِصّے میں قائم کیے گئے تھے۔

اَنّی ایغنو  نے اِزِیٹو کے ایک نجی کیتھولک  ثانوی سکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھیں اپنے سے زیادہ نچلے متوسط طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے واسطہ پڑا، اور پہلی مرتبہ اپنے والدین اور ماحول کے محنت کش طبقے   کے پس منظر سے تعلق ہونے پر شرمندگی کے شدید احساس اور سماجی طبقاتی جدوجہدسے سے روشناس کروایا جس نے تاحیات اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔  ۱۹۵۸ء میں، اٹھارہ سال کی عمر میں، وہ  پہلی مرتبہ سمر کیمپ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پورے موسمِ گرما کے لیے اپنے گھر سے نکلیں، جہاں انھیں اپنے ہم سن ایک گروہ کے ساتھ پہلی بار رہتے ہوئے اپنے پہلے جنسی تجربات ہوئے۔

۱۹۶۰ء میں ایک جوڑے کے طور پر لندن میں قیام کرنے کے بعد انھوں واپس فرانس لوٹ کر جامعہ  رُوآں (Rouen)  سے فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی اور ثانوی مکتب کی فرانسیسی کی معلمہ بن گئیں۔ پھر وہ۱۹۷۷ء میں سی نیڈ (Cned ـسینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن) میں ایک عہدے پر متمکن ہو گئیں۔    ۱۹۶۷ء میں اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان، جس میں اُن کی صرف ایک ماں تھی،  ۱۹۷۷ء میں پیرس میں بننے والی ایک نئی آبادی سہرجی پونٹواہز (Cergy-Pontoise) میں منتقل ہو گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے آپ کو لکھنے کے لیے وقف کر دیا۔

تخلیقات

اُنھوں نے اپنا پہلا ناول ’’صفایا‘‘ ۱۹۷۴ء میں شائع کیا، جو اُن کے ۱۹۶۴ء میں اسقاطِ حمل کے تجربے سے گزرنے کا افسانوی بیانیہ ہے۔ لیکن اس کے بعد  انھوں نے  روایتی تحریروں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے سوانحی موضوعات کا اپنی لکھتوں کا محورومرکز بنا لیا۔ اُن کی اب تک منصۂ شہود پر آنے والی کتب میں ’’وہ کچھ کہتے ہیں یا نہیں‘‘ (۱۹۷۷ء)؛ ’’ایک منجمد عورت‘‘ (۱۹۸۱ء)؛ ’’مقامِ مرد‘‘  (  ۱۹۸۳ء)؛ ’’کتھا ایک عورت کی‘‘  (۱۹۸۸ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’خارجی ‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’حیا‘‘ (۱۹۹۷ء)؛ ’’میں تاریکی میں رہتی ہوں  ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’بیرونِ حیات‘‘ (۱۹۹۳ء،۱۹۹۹ء،۲۰۰۰ء)؛ ’’وقوعہ؍حادثہ‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’گم شدگی ‘‘ (۲۰۰۱ء)؛ ’’پیشہ ‘‘ (۲۰۰۲ء)؛ ’’فوٹوگرافی کا استعمال‘‘ (۲۰۰۵ء)؛ ’’برس ہا برس‘‘ (۲۰۰۸ء)؛  ’’دخترِ ثانی‘‘ (۲۰۱۱ء)؛ ’’روشنیاں دیکھو، میرے پیارے‘‘ (۲۰۱۴ء)؛ ’’کتھا ایک دوشیزہ کی‘‘ (۲۰۱۶ء)؛ ’’ہوٹل کاسانووا‘‘ (۲۰۲۰ء)؛ ’’نوجوان‘‘ (۲۰۲۲ء) شامل ہیں۔

اعزازات و انعامات

یوں تو اَنّی ایغنو کو اُن کے تخلیقی ادب پر بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے، جس کا آغاز ۱۹۷۷ء سے Prix d’Honnneur for Ce qu’ils dissent rien سے ہی ہو گیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں سہرجی پونٹواہز یونیورسٹی، فرانس نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے  نوازا۔ ۲۰۱۹ء میں اُن کی خود نوشت ’’برس ہا برس‘‘ بُکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی اور ۲۰۲۲ء میں نوبیل انعام برائے ادب سے سرفراز ہوئیں۔ ۲۰۰۸ء  میں شائع ہونے والی کتاب ’’برس ہا برس‘‘  (The Years) کو، جس میں ذاتی اور اجتماعی تاریخ کا ادغام کیا گیا، بیشتر ناقدین نے اس کے مواد اور اختراعی شکل دونوں کے لحاظ سے اَنّی کی اہم کامیابی گردانا ہے ۔

۰۰۰

اَنّی ایغنو کی تحریروں کے مزید تراجم

فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
دخترِ ثانی  (پہلا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
تعارف و ترجمہ؍نجم الدّین  احمد
فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا (دوسرا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
ترجمہ؍مبشر احمد میر
فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
ترجمہ؍مبشر احمد میر
Najam_uddin Ahmad_Urdu_Novelist_Urdu_Short_Story_Writer_Urdu_Translator

نجم الدّین احمد

نجم الدین احمد انگریزی ادب میں ایم اے ہیں۔ وہ ناول نویس، افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔

تصانیف و تراجم:

 اُن کے اب تک تین ناول: ’’مدفن‘‘،’’کھوج‘‘ اور ’’سہیم‘‘؛ دو افسانوی مجموعے: ’’آؤ بھائی کھیلیں‘‘اور ’’فرار اور دوسرے افسانے‘‘؛عالمی افسانوی ادب سے تراجم کی سات کتب: ’’بہترین امریکی کہانیاں‘‘، ’’نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی منتخب کہانیاں‘‘، ’’عالمی افسانہ-۱‘‘، ’’فسانۂ عالم (منتخب نوبیل کہانیاں)‘‘، ’’پلوتا (سرائیکی ناول از سلیم شہزاد)‘‘، ’’کافکا بر لبِ ساحل (جاپانی ناول ازو ہاروکی موراکامی)‘‘، ’’کتاب دَدَہ گُرگود (ترک/آذر بائیجان کی قدیم رزمیہ داستان‘‘شائع ہو چکی ہیں۔ علاوہ ازیں نجم الدین احمد نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے انگریزی زبان میں’’ڈسٹرکٹ گزٹیئر ضلع بہاول نگر ۲۰۲۱ء‘‘بھی تحریر و تالیف کیا، جسے حکومتِ پنجاب کی سائٹ پرشائع کیا گیا ہے۔

اعزازات:

 اُن کی تصانیف پر اب تک انھیں رائٹرز گلڈ ایوارڈ۔۲۰۱۳ء، یو بی ایل ایوارڈ۔ ۲۰۱۷ء اور قومی ادبی ایوارڈ۔ ۲۰۱۹ء سے نوازا جا چکا ہے۔اُن کا ناول یوبی ایل ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ بھی ہوا۔

۰۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب