تراجم عالمی ادب

Mujhy yahan ki kisi shay ki hajat nhi László Krasznahorkai urdu translation
افسانچہ

مجھے یہاں  کی کسی شےکی حاجت نہیں

میں سب کچھ یہیں چھوڑ جاؤں گا: یہ وادیاں، یہ جبل، یہ راہیں اور چمن کے یہ نیل کنٹھ۔ میں یہیں چھوڑ جاؤں گا، یہ طاؤس و مینا، فلک و ارض اور بہار و خزاں۔ یہاں کی خارجی راہیں یہیں چھوڑ جاؤں گا، مطبخ کی شامیں، آخری فریفتہ نگاہیں، اور لرزا طاری کر دینے والی شہر سے ہمہ سمت نکلنے والی تمام حدیں…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

آفاقی مقالہ

میں نے اس بارے میں بہت سوچا، اپنے دماغ پر زور ڈالا کہ پتا چلے اصل معاملہ کیا ہے— جیسے کہ ابھی آپ کے سامنے کوشش کر رہا ہوں— لیکن بہتر ہے اعتراف کر لوں کہ میں کامیاب نہیں ہوا: مجھے نہیں معلوم آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں،…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

گاجر (دوسراحصہ)

سنہری گاجر چھپاک سے دریا میں جا گری ۔دریا کی تہہ میں ڈوب جانے سے پہلے یہ کچھ لمحوں کے لیے سطح پر تیرتی رہی ۔ پھر ڈوب کر سنہری ریت تلے دب گئی۔ جس مقام پر یہ دریا میں گری تھی وہاں دھند سی اڑنے لگی۔… اس کے ذہن پر وہ…۔

مزید پڑھیے
ناولچہ

ناولچہ:دخترِ ثانی (دوسراحصہ)؍اَنّی اَیغنو؍نجم الدّین احمد

مجھے سولہ کے سن کی اپنی وہ دہشت زدگی بھی یادہے جب چچی مَیری لوئیس نے اتوار کی شراب کے نشے میں دُھت چُپ رہنے کااپنا قول فروگزاشت کر کے ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے، جس کی طرف میں نے تکاتک نہیں، مجھے بتایا کہ…۔

مزید پڑھیے
افسانچہ

آزادی: زندگی کی کہانی

ایک بار اس دنیا میں ایک جانور پیدا ہوا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اپنے اوپر اور اردگرد دیواریں دیکھیں۔ اُس کے سامنے لوہے کی سلاخیں تھیں جن سے ہوا اور روشنی آتی تھی۔ کیونکہ یہ جانور پنجرے میں پیدا ہوا تھا۔
وہ ایک پوشیدہ ہاتھ میں پلا بڑھا تھا۔ وہ طاقت…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

نتاشا

سیڑھیوں پر ہال کی دُوسری طرف نتاشا کا سامنا اپنے پڑوسی بارن وُولف سے ہُوا۔ وہ لکڑی کے ننگے تختوں پر بہ مشقّت اُوپر چڑھتے ہُوئے کٹہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہُوئے اپنے مُنھ سے نرم آواز میں سِیٹی بجا رہا تھا۔
’’نتاشا، تم اتنی تیزی سے کہاں جا رہی ہو؟‘‘…۔

مزید پڑھیے
افسانچہ

خادمہ

ایک دولت مند خاتون کے پاس ایک خادمہ تھی۔ اُس خادمہ کے ذمے اُس کی بچّی کی نگہداشت تھی۔ بچّی چاند کی کرن کی طرح نرم و نازک، تازہ تازہ گری ہوئی برف کے مانند خالص اور سورج جیسی پیاری تھی۔ خادمہ بچّی سے اُتنا ہی پیار کرتی تھی جتنا وہ چاند، سورج اور اپنے خدا سے…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

دل کا فیصلہ

یوسف روز صبح سات بجے گھر سے ناشتہ کیے بغیر نکل جاتا اور دوپہر کے کھانے کے لیے ہی واپس آتا۔ شام کا کھانا وہ اپنی ماں کے ہاں کھاتا، جس کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ یوسف کے گھر کے سامنے ایک بڑا کمرہ تھا۔…۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version