
مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)
میرے سیکنڈری ٹیچرز ٹریننگ سرٹیفکیٹ کا عملی امتحان، لیون (Lyon) شہر کے پہاڑی علاقے میں واقع، ایک سیکنڈری اسکول میں ہوا۔ یہ اساتذہ اور انتظامی عملے کا ایک ایسا اسکول تھا، جِس کی عمارت میں آرائشی پودوں کے گملے سجے ہوئے تھے۔

میرے سیکنڈری ٹیچرز ٹریننگ سرٹیفکیٹ کا عملی امتحان، لیون (Lyon) شہر کے پہاڑی علاقے میں واقع، ایک سیکنڈری اسکول میں ہوا۔ یہ اساتذہ اور انتظامی عملے کا ایک ایسا اسکول تھا، جِس کی عمارت میں آرائشی پودوں کے گملے سجے ہوئے تھے۔
سیڑھیوں پر ہال کی دُوسری طرف نتاشا کا سامنا اپنے پڑوسی بارن وُولف سے ہُوا۔ وہ لکڑی کے ننگے تختوں پر بہ مشقّت اُوپر چڑھتے ہُوئے کٹہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہُوئے اپنے مُنھ سے نرم آواز میں سِیٹی بجا رہا تھا۔
’’نتاشا، تم اتنی تیزی سے کہاں جا رہی ہو؟‘‘…۔
بُڑھیا حقیقتاً بہت خوش تھی۔ آخر اُس نے ایک اچھی زندگی گُزاری تھی اور اُسے کبھی کسی شے کی تنگی نہیں رہی تھی۔ مثلاً صرف اُس صبح ہی اُسے پارک میں ایک ایسی جگہ پر اتنی مکمل جگہ ملی تھی جو نہ بہت سایہ دار تھی اور نہ بہت دھوپ والی،…۔
ایک رات جو اندھیری تھی، ایک چاند جو پورا تھا، نیند بھرا ایک بستر تھا۔ایک حرکت جو تیز تھی، ایک وجود جو ساکن کھڑا تھا، ایک جگہ جو کہ بھری ہوئی تھی، پھر وہاں کچھ نہیں تھا….۔
پچھلے دن اس کے سیل میں ایک بوڑھے آدمی کا اضافہ ہوا۔ … اس کا بیٹا مسلح ڈکیتی میں مطلوب تھا۔ اور جب پولیس کو بیٹا نہ مل سکا تو انھوں نے اسے بیٹے کی جگہ بند کر دیا۔ اس آدمی نے کچھ نہیں کیا تھا۔ نامابیا نے بتایا۔
سچ ہے کہ کتاب رکھنے والے شخص کو بغیر کسی ڈر کے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، چاہے وہ معاشرہ ترقی پذیر ہو یا ترقی یافتہ۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میکونگ ڈیلٹا کے گاؤں فاٹ ڈٹ میں سائیکلوں کی مرمت کا کام کرنے والا اَن پڑھ پیئرے بوئی جہاں بھی جاتا اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھتا…۔
ایک اتوار جب لوگ چرچ سے نکل رہے تھے تو سردی پڑنے لگی۔ ہفتے کی رات جبس زدہ تھی۔ حتّٰی کہ اتوار کی صبح کو بھی کسی نے نہیں سوچا تھا کہ بارش ہوگی۔ واعظ ختم ہونے کے بعد عورتوں نے ابھی چھتری بھی نہیں اٹھائی تھی…۔
آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔ یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔… جب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی…۔
تین دنوں کے بجائے جناب حوزے کے بُخار کو اور کھانسی کو ٹھیک ہونے میں پورا ہفتہ لگا۔نرس روزانہ اُسے ٹیکہ لگانے اور کچھ کھانے کے لیے لے کر آتا،ڈاکٹر ایک دِن کے وقفے کے بعد آتا لیکن اِسے ڈاکٹر کااحساسِ ذمہ داری نہیں کہا جاسکتااور نہ ہی محکمہ صحت کے حکام کی کسی تخیلاتی…۔
’’عین چہرے پر اُگے مسّے کے لیے جاتے ہوں گے، لیکن اپنی گردن کے نیچے اُگے مسّے کو ہٹوانے کے لیے شاید ہی کوئی ڈاکٹر کے پاس جائے گا۔ ڈاکٹر ہنسے گا۔ اسے پتہ لگ جائے گا کہ میں اس کے پاس اس لیے آئی ہوں کیونکہ میرے شوہر کو وہ مسّا پسند نہیں ہے۔ ‘‘…۔