فسوں کاریاں
پشتو کہانی
دریا کنارے
فاروق سرور
Farooq Sarwar
تحریر و ترجمہ؍فاروق سرور
وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں پر سخت غصہ بھی آ رہا تھا۔
ہر رات میں گھنے اور بلند درختوں کے نیچے انہیں سمجھاتا— کبھی سختی سے، کبھی نرمی سے— کہ اِدھر مت آیا کرو، یہاں تمھاری جان خطرے میں ہے، کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لیکن وہ دونوں میری بات کو کوئی وقعت نہ دیتے، نہ مانتے، بس میری طرف دیکھ کر مسکراتے۔
کبھی کبھی تاریک رات میں کوئی کشتی ابھرتی، بالکل ایک سائے کی مانند۔ خاموشی سے کوئی اس سے اترتا اور درختوں میں گم ہوجاتا۔
میں ہمیشہ حیرت میں ڈوبا رہتا کہ یہ کون ہے؟ اس خاموش اور بے کنار دریا کے بیچ کہاں سے آتا ہے اور کیوں؟ اس کا مقصد کیا ہے؟
ہمارا گھر دریا کے عین کنارے پر تھا، ایک خاص کنارہ۔ ذرا فاصلے پر پورا گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کچھ ہٹ کر اس لیے تھا کہ طوفان اکثر آجاتے اور لوگ ان سے ڈرتے۔ لیکن ہمارا گھر محفوظ رہتا، کیونکہ وہ ایک بلند ٹیلے پر بنا ہوا تھا۔
مجھے طوفان ہمیشہ اچھے لگتے۔ طوفان کی گرجتی لہروں کی آواز اور درختوں کی گونج مجھے لذت دیتی تھی۔
میں اکثر اس سائے کو، جو ہمیشہ چادر میں لپٹا رہتا، اپنی کھڑکی سے دیکھا کرتا۔ ایک رات جب میں نے اُس سائے کی کشتی دیکھی، تو دبے پاؤں گھر سے نکلا کہ قریب جا کر دیکھوں کہ وہ کون ہے— اور دیکھا تو وہ ایک عورت تھی!
اس وقت میری عمر بارہ یا تیرہ برس ہوگی۔ ایک رات میں نے اُس عورت کا تعاقب کیا۔ وہ درختوں کے بیچ سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی اور میں دبے پاؤں اس کے پیچھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ ایک شخص اس کا منتظر ہے— ایک نوجوان۔ یہ منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔
وہ رات چاندنی کی تھی۔ جب دونوں کے چہرے میرے سامنے آئے تو میں اور بھی ششدر رہ گیا۔ دونوں بے حد حسین تھے۔ ایسی دلآویز خوبصورتی کہ بیان سے باہر— ایک نازنین لڑکی اور ایک جواں مرد۔
اگلی رات وہ حسین لڑکی کشتی پر نہ آئی۔ اس کی جگہ کچھ اور سائے اترے۔ وہ تین آدمی تھے۔ میں نے ان کی گفتگو سنی— وہ لڑکی کے اپنے رشتے دار تھے، مسلح تھے اور اُس نوجوان کو قتل کرنے آئے تھے۔
اس سے پہلے کہ وہ درختوں کی سمت آتے، میں نے چپکے سے اپنے کتے کو چھوڑ دیا، جو بری طرح ان پر بھونکا۔ وہ گولیاں نہیں چلا سکتے تھے ورنہ پورا گاؤں جاگ جاتا اور ان کی سازش ناکام ہوجاتی۔ سو، گھبرا کر وہ اپنی کشتی کی طرف دوڑ گئے اور اندھیری رات میں دریا کے خاموش پانیوں پر غائب ہوگئے۔
ایک رات لڑکی پھر کشتی پر آئی۔ میں نے اپنے کتے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ہم دونوں دبے پاؤں اس کے پیچھے چل دیے۔ آگے وہی نوجوان موجود تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے بے خبر، اور میں ڈرا ہوا کہ اب کیا ہوگا۔
وہ دونوں صبح تک نہر کے کنارے بیٹھے باتیں کرتے رہتے۔ میں نے رفتہ رفتہ ان سے دوستی بھی کرلی۔ میں انھیں آنے والے خطروں سے آگاہ کرتا اور آخر میں اکثر کہہ بیٹھتا کہ تم دونوں شادی کیوں نہیں کر لیتے؟
وہ پہلے مسکرا دیتے، پھر ہنس پڑتے اور کہتے: ’’ہمارے دونوں خاندانوں میں خونی دشمنی ہے۔ اب تک درجنوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ شادی ممکن نہیں۔ تم ابھی بچے ہو، تمھیں کیسے سمجھائیں؟‘‘
مگر وہ دونوں مجھے بہت اچھے لگتے۔ میں ان کا انتظار بھی کرتا رہتا۔
ایک رات وہی تین مسلح سائے دوبارہ آئے۔ میں دوڑ کر نوجوان اور لڑکی کے پاس پہنچا، میرا کتا بھی ساتھ تھا۔ میں نے دونوں کو خطرے سے آگاہ کیا اور ہم سب دبے پاؤں جھاڑیوں کے بیچ سے گزر کر ہمارے گھر تک پہنچ گئے۔ وہاں میں نے انھیں چھپنے کی جگہ دی۔ بعد میں میرا کتا اور اس کے دوسرے ساتھی کتوں نے ان تین سایوں کا تعاقب کیا اور وہ پھر کشتی کی طرف بھاگے۔ صبح گاؤں میں چرچا تھا کہ کتوں نے چاندنی رات میں دریا پر سایوں کی کشتی کا پیچھا کیا، مگر وہ بچ نکلے۔
اب لڑکی ڈری سہمی کم ہی آتی۔ اس نے ایک رات مجھے بتایا کہ میں نے گھر والوں سے کہہ دیا ہے کہ میں نیند میں چلتی ہوں اور کشتی پر سوار ہوجاتی ہوں، کیونکہ ہمارا گھر دریا کے دوسرے کنارے ہے۔ صرف تین آدمی مشکوک تھے۔ اگر وہ جان جاتے کہ میں دشمن کے لڑکے سے ملتی ہوں، تو فوراً قتل کردیتے۔
نوجوان روز دریا کے کنارے آتا، بے قرار رہتا۔ میں اور میرا کتا اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتے۔ لڑکی کبھی کبھی آتی۔
اب مجھے ان دونوں سے شکایت بھی ہونے لگی تھی۔ غصہ بھی آتا۔ نہ وہ ایک دوسرے سے الگ ہوتے، نہ لڑکی کا آنا جانا رہا، نہ وہ بدقسمت شادی کرتے اور نہ ہی خطرہ کم ہوتا۔
ان دونوں نے میرا اور میرے کتے کا سکون اجاڑ دیا تھا۔ یہ ایک خوفناک راز تھا، جسے نہ کسی کو بتا سکتا تھا، نہ بانٹ سکتا تھا— اشارے کنائے میں بھی نہیں۔ کیونکہ میرا باپ اور بزرگ بہت سخت مزاج تھا۔ اگر وہ جان جاتے تو مجھے مار ڈالتے۔ پھر ایک لڑکے اور لڑکی کو یوں ساتھ دیکھنا بھی بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔
ایک دن میں اپنے کتے کے سامنے زار و قطار رویا اور کہا: ’’ہم دونوں کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔ آخر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟‘‘ میرا کتا بڑی ہمدردی سے مجھے دیکھتا رہا۔ عجیب کتا تھا۔ بس آنسو نہ بہا سکا، باقی وہ بھی میرے ساتھ جیسے ناراض ناراض سا تھا۔
اب وہ دونوں کہیں دور ایک انجان دریا کے کنارے رہتے ہیں۔ کہاں؟ صرف مجھے خبر ہے، کسی اور کو نہیں۔ افسوس! وہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ ان کے خطوط میں لکھا ہے کہ ان کے دو خوبصورت بچے بھی ہیں اور پوچھتے ہیں: ’’تم کب آؤ گے؟‘‘
اب مجھے اپنے کتے سے نفرت ہوگئی ہے۔ اگر وہ قریب آتا ہے تو میں اسے دھتکارتا ہوں، پتھروں سے مارتا ہوں— مگر پھر بھی وہ پیچھے آجاتا ہے، جیسے کوئی بے شرم ڈھیٹ سایہ ہو۔ میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں۔
ہاں، ایک بات بتانا بھول گیا۔ ان دنوں ایک عجیب سا واقعہ بھی پیش آیا، جب لڑکا اور لڑکی آپس میں ملتے تھے۔ ایک رات، بغیر بارش یا طوفان کے، دریا کے بیچوں بیچ ایک کشتی ڈوب گئی۔ اس میں تین آدمی سوار تھے، سب مسلح۔ کسی نے اگلی صبح بتایا کہ اچانک گہرے پانیوں میں چند کتے نمودار ہوئے اور پلک جھپکتے میں کشتی الٹ دی۔
۰۰۰

فاروق سرور
فاروق سرور کا شمار ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جو بیک وقت پشتو، اردو اور انگریزی میں تخلیق کرتے ہیں۔ ان کے دس افسانوی مجموعے پشتو، دو اردو اور ایک انگریزی زبان میں شائع ہو چکے ہیں۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی، خوشحال خان ایوارڈ اور کئی دیگر اعزازات مل چکے ہیں۔
فاروق سرور کی دو کتابیں بلوچستان یونیورسٹی کے نصاب میں اور ان کا معروف افسانہ ’’بھیڑیا‘‘ پاکستان کے فیڈرل اسکول کے نصاب برائے نویں جماعت میں شامل ہے۔
پیشہ ورانہ طور پر وہ وکالت سے وابستہ ہیں اور سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔ ان کی پیدائش 1962 میں ہوئی اور وہ کوئٹہ میں رہائش پذیر ہیں۔
۰۰۰
