
گاجر (دوسراحصہ)
سنہری گاجر چھپاک سے دریا میں جا گری ۔دریا کی تہہ میں ڈوب جانے سے پہلے یہ کچھ لمحوں کے لیے سطح پر تیرتی رہی ۔ پھر ڈوب کر سنہری ریت تلے دب گئی۔ جس مقام پر یہ دریا میں گری تھی وہاں دھند سی اڑنے لگی۔… اس کے ذہن پر وہ…۔

سنہری گاجر چھپاک سے دریا میں جا گری ۔دریا کی تہہ میں ڈوب جانے سے پہلے یہ کچھ لمحوں کے لیے سطح پر تیرتی رہی ۔ پھر ڈوب کر سنہری ریت تلے دب گئی۔ جس مقام پر یہ دریا میں گری تھی وہاں دھند سی اڑنے لگی۔… اس کے ذہن پر وہ…۔

’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں— کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کرسکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے— آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو اپنا کام دیانت داری، دل جمعی اور…۔

جون اور میری محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔ دونوں کے پاس قابلِ قدر اور منافع بخش ملازمت ہے جسے وہ مشکل اور متحرک کر دینے والی پاتے ہیں۔ وہ ایک خوبصورت گھر خریدتے ہیں۔ جائیداد کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بالآخر وہ اپنے دو بچوں کے لیے ایک مرد آیا کا بندوبست…۔

شیخ حابی اپنے گھر کے سامنے چھوٹے سے باغ میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ ایک نوجوان بوجھل قدموں کے ساتھ بڑی مشکل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چہرہ گرد…۔

مجھے سولہ کے سن کی اپنی وہ دہشت زدگی بھی یادہے جب چچی مَیری لوئیس نے اتوار کی شراب کے نشے میں دُھت چُپ رہنے کااپنا قول فروگزاشت کر کے ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے، جس کی طرف میں نے تکاتک نہیں، مجھے بتایا کہ…۔

ایک دولت مند خاتون کے پاس ایک خادمہ تھی۔ اُس خادمہ کے ذمے اُس کی بچّی کی نگہداشت تھی۔ بچّی چاند کی کرن کی طرح نرم و نازک، تازہ تازہ گری ہوئی برف کے مانند خالص اور سورج جیسی پیاری تھی۔ خادمہ بچّی سے اُتنا ہی پیار کرتی تھی جتنا وہ چاند، سورج اور اپنے خدا سے…۔

اُس نے اپنی کمر کو سہلائے جانے دیا، جس کے نچلے حصے پر پسینے کے قطرے تھے، اُس کابدن تیزآنچ پر جلائی گئی شکر کی خوشبو خارج کررہاتھا، خاموشی تھی، اُس کے تصور میں تھاکہ ایک آواز تک اُس کی یادداشت میں داخل ہوکر سب کچھ برباد کر دے گی،….۔

وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں پر سخت غصہ بھی آ رہا تھا۔
ہر رات میں گھنے اور بلند درختوں کے نیچے انہیں سمجھاتا— کبھی سختی سے، کبھی نرمی سے…۔

وہ جولائی کا ایک اتوار تھا جب میں آخری بار اپنی ماں سے اُن کے گھر میں ملی تھی۔ میں بذریعہ ٹرین وہاں گئی تھی۔ ’موٹے ویل‘ میں، ہم دیر تک اسٹیشن پر بیٹھی رہیں۔ بہت گرمی تھی۔ ڈبے کے اندر اور باہر، دونوں جگہ مکمل سکوت تھا۔

ابا کو ہمیشہ نامناسب صورتِ حال یا شرمندگی سے دوچار ہونے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ایک دِن غلطی سے، وہ گاڑی کے درجہ اوّل والے ڈبے میں سوار ہو گئے، انسپکٹر نے اُن سے دونوں درجوں کا فرق وصول کیا۔