
بُڑھیا
بُڑھیا حقیقتاً بہت خوش تھی۔ آخر اُس نے ایک اچھی زندگی گُزاری تھی اور اُسے کبھی کسی شے کی تنگی نہیں رہی تھی۔ مثلاً صرف اُس صبح ہی اُسے پارک میں ایک ایسی جگہ پر اتنی مکمل جگہ ملی تھی جو نہ بہت سایہ دار تھی اور نہ بہت دھوپ والی،…۔

بُڑھیا حقیقتاً بہت خوش تھی۔ آخر اُس نے ایک اچھی زندگی گُزاری تھی اور اُسے کبھی کسی شے کی تنگی نہیں رہی تھی۔ مثلاً صرف اُس صبح ہی اُسے پارک میں ایک ایسی جگہ پر اتنی مکمل جگہ ملی تھی جو نہ بہت سایہ دار تھی اور نہ بہت دھوپ والی،…۔

سچ ہے کہ کتاب رکھنے والے شخص کو بغیر کسی ڈر کے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، چاہے وہ معاشرہ ترقی پذیر ہو یا ترقی یافتہ۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میکونگ ڈیلٹا کے گاؤں فاٹ ڈٹ میں سائیکلوں کی مرمت کا کام کرنے والا اَن پڑھ پیئرے بوئی جہاں بھی جاتا اپنے ساتھ ایک کتاب ضرور رکھتا…۔

منّا کا جَمان اُسے جلا دیتا، جیسے پیشانی پر کسی نے دکھ کی باریک باریک لہریں پھیلا دی ہوں، جب وہ ننگے پاؤں سیڑھیاں چڑھتا، اس کے تلوے پہلے ہی چھل چکے ہوتے— بار بار کا آنا جانا، نویں پوتر چبوترے میں پجاری کی کوٹھی سے لے کر مندر…۔

جون اور میری محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔ دونوں کے پاس قابلِ قدر اور منافع بخش ملازمت ہے جسے وہ مشکل اور متحرک کر دینے والی پاتے ہیں۔ وہ ایک خوبصورت گھر خریدتے ہیں۔ جائیداد کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بالآخر وہ اپنے دو بچوں کے لیے ایک مرد آیا کا بندوبست…۔

وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں پر سخت غصہ بھی آ رہا تھا۔
ہر رات میں گھنے اور بلند درختوں کے نیچے انہیں سمجھاتا— کبھی سختی سے، کبھی نرمی سے…۔

سیڑھیوں پر ہال کی دُوسری طرف نتاشا کا سامنا اپنے پڑوسی بارن وُولف سے ہُوا۔ وہ لکڑی کے ننگے تختوں پر بہ مشقّت اُوپر چڑھتے ہُوئے کٹہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہُوئے اپنے مُنھ سے نرم آواز میں سِیٹی بجا رہا تھا۔
’’نتاشا، تم اتنی تیزی سے کہاں جا رہی ہو؟‘‘…۔

جب تک کہ وہ سبزی خور نہیں ہوئی میں اپنی بیوی کو ہمیشہ اور ہر حوالے سے ایک نہایت عام عورت خیال کیا کرتا تھا۔ سچ بتاؤں تو پہلی ملاقات میں وہ مجھے کچھ خاص محسوس نہیں ہوئی تھی درمیانہ قد، تراشیدہ زلفیں (نہ ایسی لمبی کہ شبِ فراق کا گمان ہو اور نہ ہی بالکل چھوٹی کہ جیسے…۔

موہوم تقدیر! اسے کس طرح یہ یقین تھا کہ فطرت کی ہیئتی مصوری اسے بے مصرف اور پرعناد حسن کے سامنے بے یار و مدد گار چھوڑ کر کبھی متروک نہیں ہو گی؟ اس نے اساطیری اور دیومالائی کہانیوں میں پناہ لی۔ جنھوں نے اسے کوئی عملی بات تو نہیں سنائی مگر اسے کم از کم یہ معلوم ہو گیا کہ کہانی ہمیشہ چلتی رہتی ہے اور…۔

میری ماں کا پہلا بچّہ فوت ہو گیا تھا، مجھے حیات میں آنے کے بعد دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں بتا دیا گیا تھا۔
مجھے بتا دیا گیا تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی، ہلالی چاند جیسے چاولوں کے کیک ایسے سپید چہرے والی۔ گو وہ بہت چھوٹی تھی، ستوانسی، لیکن اُس کے نقوش کامل تھے۔ مَیں وہ لمحہ…۔

’’عین چہرے پر اُگے مسّے کے لیے جاتے ہوں گے، لیکن اپنی گردن کے نیچے اُگے مسّے کو ہٹوانے کے لیے شاید ہی کوئی ڈاکٹر کے پاس جائے گا۔ ڈاکٹر ہنسے گا۔ اسے پتہ لگ جائے گا کہ میں اس کے پاس اس لیے آئی ہوں کیونکہ میرے شوہر کو وہ مسّا پسند نہیں ہے۔ ‘‘…۔