فسوں کاریاں
انگریزی کہانی
گم شدہ بچہ
ملک راج آنند
Malik Raj Anand
تعارف و ترجمہ؍محمد عبداللہ
موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔ اُن میں کچھ پیدل تھے، کچھ گھوڑوں پر سوار تھے اور کچھ بانس لے جانے والی بیل گاڑیوں میں بیٹھ گئے۔ ایک بچہ زندگی سے بھرپور اور مسکراتے ہوئے اپنے والدین کے ہمراہ چل رہا تھا۔ صبح نے خوش گوار انداز میں سب کو پھولوں اور گیتوں سے بھرے کھیتوں میں بلا جھجک آنے کی دعوت دی۔
’’آؤ بیٹا، آؤ۔‘‘ جب بچہ کھلونے دیکھنے کے لیے اپنے والدین سے پیچھے رہ گیا تو اُنھوں نے اسے بلایا،اس کی نظریں پھر بھی کھلونوں پر مرکوز رہیں۔جب وہ اپنے والدین کے پاس پہنچا تو اپنی خواہش جو والدین سے چھپا نہ سکا حالانکہ وہ ان جی آنکھوں میں چھپے انکار کو دیکھ سکتا تھا۔
’’مجھے وہ کھلونے چاہئیں۔‘‘ اس نے اپنے والدین سے التجا کی۔ اس کے والد نے غصے سے اسے گھورا۔ اس کی ماں بہت نرم دل تھی اس نے مارے ممتا کے بچے کو انگلی پکڑائی اور اس کی توجہ دوسری جانب مبذول کرنے کے لیے اسے کہا: ’’دیکھو بیٹا، تمھارے سامنے کیا ہے۔‘‘
’’میں۔میں۔‘‘ ماں بچے نے سسکتے ہوئے اپنی تشنہ خواہش پر قابو پایا۔ خواہش پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ انھوں نے گرد آلود سڑک کو چھوڑ دیا جس پر اب تک چلتے آئے تھے۔ وہ خستہ حال سڑک گھومتی ہوئی شمال کی جانب جا رہی تھی ۔وہ ایک کھیت کی پگڈنڈی پر آگئے۔
ہر طرف سرسوں کے کھیت نظر آرہے تھےاور افق کو چھو رہے تھے۔ تیز ہوا میں لہراتے ہوئے پودوں کی حرکت پگھلے ہوئے بہتے سونے جیسی تھی۔ قریب ہی کچے گھر تھے جن کی دیواریں نیچی تھیں۔ ان کے ساتھ پیلے کپڑے پہنے دیہاتی مرد اور عورتیں کھڑی تھیں، وہ پرجوش انداز میں خوش گپیوں میں مصروف تھے اور ان کے بولنے کی آواز بھگوان شیوا کے دیوانہ وار قہقہے جیسی تھی جو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔
بچے نے خوشی اور حیرت سے لبریز اپنے والدین جی طرف دیکھا اور یہ محسوس کیا کہ وہ بھی خوش ہیں جس کا ثبوت ان کے چہروں سے مل رہا تھا۔ وہ پگڈنڈی سے اتر کر میدان میں چل پڑا۔ ہوا میں خوشبو کے جھونکوں میں وہ اچھل کود کر نے لگا۔
بھنبھیریوں کا ایک گروہ پھولوں کے میٹھے رس کی تلاش میں اپنے جامنی پروں سے ہل چل مچاتا اور ایک سیاہ تتلی کو تنگ کرتا جاتا۔ بچے نے ان پر نظریں جمائے ان کا تعاقب کیا۔ جب کوئی بھنبھیری آرام کرنے کے لیے رکتی تو انھیں پکڑنے کی کوشش کرتا۔ لیکن جب وہ تقریباً اسے پکڑلیتا وہ بھنبھیری پر پھڑپھڑاتے ہوئے اڑ جاتی۔ ایک نڈر سیاہ شہد کی مکھی اس کے کانوں کے گرد گھومتے ہوئے اسے اکساتی اور آکے ہونٹوں کے قریب بیٹھ جاتی۔ بچے کی ماں نے اسے پکارا۔ ’’بیٹا پگڈنڈی پہ آجاؤ۔‘‘
وہ خوشی سے اپنے والدین کی جانب بھاگا اور ان کے ہم قدم چلنے لگا، وہ جلد ہی میدان پیچھے چھوڑ آئے۔ پگڈنڈی کے کناروں سے کیڑے مکوڑے دھوپ لینے کی غرض سے نکل آئے۔
’’آجاؤ، بیٹا۔‘‘ اس کے والدین نے درختوں کے سائے میں کنویں کے کنارے بیٹھے ہوئے اسے بلایا۔ وہ ان کی طرف دوڑ گیا۔
برگد، کھنٹل، جامن، نیم اور سکریشہ کے درخت اپنی شاخیں پھیلائے ہوئے تھے اور ان کا سایہ سنہری اور ارغوانی رنگ جیسے کھیتوں پر گر رہا تھا جیسے دادی چھوٹے بچوں کو چادر میں چھپا لیتی ہے۔ نئے کھلے ہوئے پھولوں نے حفاظتی کانٹوں کی موجودگی میں سورج کو سجدہ کیا اور زرگل کی خوشبو سرد ہوا میں گھل مل گئی، جو ہوا کے ایک جھونکے کے ساتھ آتی اور واپس چلی جاتی۔
جب بچہ باغ میں داخل ہوا تو اس پر پھولوں کی پتیوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ اپنے والدین کو بھلا کر پتیاں جمع کرنے لگا۔ لیکن جب اس نے فاختہ کی اواز سنی تو ’’فاختہ، فاختہ‘‘ پکارتے ہوئے اپنے والدین کی طرف بھاگا۔ پتیاں اس کے ہاتھوں سے گر گئیں اس کے والدین کے چہرے تب تک متجسس رہے جب تک انھوں نے کوئل کی سریلی اواز کو سن نہ لیا۔
’’آجاؤ، بیٹا۔‘‘ بچے کے والدین نے اسے بلایا جو برگد کے گرد لکڑیاں جمع کر رہے تھے اور انھیں اکٹھا کرتے ہوئے پگڈنڈی پر آگئے۔ پگڈنڈی پر چلتے ہوئے وہ سرسوں کے کھیت تک پہنچ گئے۔
جب وہ گاؤں کے قریب پہنچے تو بچے نے دوسری بہت سی پگڈنڈیوں پر لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ بچے نے محسوس کیا جیسے وہ زندگی کی الجھنوں سے نکل کر دوبارہ ان کا شکار ہو گیا ہے۔
ایک حلوائی نے آواز لگائی: ’’ گلاب جامن، رس گلے، برفی، جلیبی!‘‘ اور بھی بہت سی مٹھائیاں سونے اور چاندی جیسی پراتوں میں ایک کونے میں سجائی ہوئی تھیں اور ایک جم غفیر حلوائی کی دکان کے پاس جمع تھا۔ بچہ انکھیں پھاڑے برفی کو دیکھنے لگا کیونکہ وہ اس کی من پسند مٹھائی تھی۔ ’’”مجھے برفی چاہیے۔‘‘ وہ آہستہ سے بڑبڑایا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی درخواست کو رد کر دیا جائے گا اور اس کے والدین اسے لالچی سمجھیں گے۔ پس وہ کوئی جواب پائے بغیر چل پڑا۔
پھول بیچنے والا آواز لگا رہا تھا: ’’گل ہار کی مالا، گل ہار کی مالا!‘‘ ایسے لگ رہا تھا جیسے بچہ ہوا میں پھیلی پھولوں کی خوشبو سے مدہوش ہو رہا تھا۔ وہ پھولوں کی ٹوکری کے پاس گیا اور آہستہ سے بڑبڑایا: ’’مجھے یہ مالا چاہیے۔‘‘ یہ جانتے ہوئے کہ اس کے والدین پھول نہیں لے کر دیں گے وہ کہیں گے یہ بہت سستے ہیں، پس وہ چپ چاپ آگے چل پڑا۔
ایک شخص پیلے،سبز اور جامنی رنگ کے غبارے لیے کھڑا تھا جو ایک ڈنڈے پر باندھے گئے تھے۔ بچہ قوس قزح کے رنگوں والے غبارے دیکھتا رہا ۔ وہ انہیں حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے والدین، یہ کہہ کر کہ وہ ایسے کھلونے سے کھیلنے کی عمر سے نکل آیا ہے، انکار کر دیں گے۔ وہ پھر خاموشی سے چلنے لگا۔
ایک سپیرا بین بجا رہا تھا اور ایک سانپ ہنس کی طرح گردن موڑے لیٹا ہوا تھا۔ بین کی دھن اسے یوں سنائی دے رہی تھی جیسے آبشار کا پانی پتھروں پر گرتا ہے۔ بچہ سپیرے کے پاس چلا گیا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے والدین نے اسے بین جیسی موسیقی سننے سے منع کیا تھا۔
ایک گول چکر والے جولے کے پاس بہت ہجوم تھا۔ مرد، عورتیں اور بچے گھومتے ہوئے ہنس رہے تھے اور چیخ و پکار کر رہے تھے۔ انھیں گھومتے دیکھ کر بچے کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی، اس کی آنکھیں جھولے کے ساتھ ساتھ گھومنے لگیں، اس کے ہونٹ سکڑ گئے اور اسے محسوس ہوا جیسے وہ بھی گھوم رہا ہے۔ اس نے اپنی انگوٹھی کو دیکھا تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ تیز تیز گھومنے کے بعد آہستہ ہو رہی ہے۔ بچے نے انگوٹھی منہ میں ڈال لی جس سے اسے محسوس ہوا جھولا رک گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کی جھولا لینے کی خواہش کو اس کے والدین روندتے اس نے ہمت کی اور اپنے والدین سے التجا کی۔ ’’امی،ابو، براہِ مہربانی مجھے گول چکر کا جھولا لینے دیں۔‘‘
انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنے والدین کو دیکھنے کے لیے مڑا تو وہاں نہیں تھے۔ انھیں دیکھنے کے لیے دوسری طرف مڑا، وہ وہاں بھی نہیں تھے۔ اس نے پیچھے دیکھا، وہاں بھی ان کا نام و نشان نہیں تھا۔
اس کا حلق خشک ہو گیا، وہ چیخنے لگا اور اس کا جسم لرزنے لگا اور وہ وہاں سے بھاگا۔ خوف اور گھبراہٹ سے چلا رہا تھا۔ ’’اماں،ابا!‘‘ اس کی انکھوں سے آنسو زار و قطار بہنے لگے۔ خوف و ہراس کی وجہ سے اس کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔
وہ گھبرایا ہوا اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔ ’’اماں،ابا!‘‘ اس کی آواز رندھ گئی اور وہ تیز تیز سانس لینے لگا۔ مسلسل تھوک نگلنے سے اس کا حلق گیلا ہو گیا تھا۔ اس کے کپڑے پسینے سے شرابور ہو گئے اور اس کی پیلی پگڑی کھل گئی، پسینے کی وجہ سے دھول مٹی اس کے جسم سے چپک گئی جس سے اس کا ہلکا پھلکا جسم بھاری ہو گیا۔
کچھ دیر غم و غصے میں بھاگنے رہنے سے وہ شکست خوردہ ہو کر ایک جگہ پر کھڑا ہو گیا۔ بچے کی چیخیں سسکیوں میں بدل گئیں۔ اس نے کچھ فاصلے پر گھاس پر مردوں اور عورتوں کو بیٹھے باتیں کرتے سنا۔ وہ پیلے لباس میں ملبوس لوگوں میں اپنے والدین کو ڈھونڈتا رہا لیکن وہ اسے دکھائی نہ دیے، خیالوں میں وہ ہنستےاور باتیں کرتے دکھائی دینے لگے۔
ایک بار پھر وہ تیزی سے ایک منظر کی طرف بھاگا، جہاں لوگوں کا ایک جم غفیر تھا۔ وہ ان کی ٹانگوں کے درمیان جگہ بناتا بھاگتا رہا اور سسکیوں میں ’’اماں،ابا‘‘ پکارتا رہا۔ مندر کے قریب لوگوں کے ایک بڑا ہجوم تھا جن میں صحت مند بھی تھے، سفاک اور دراز قد بھی جو ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔ بچہ رستہ بنانے کی کوشش کرتا اور لوگ اسے روند دیتے۔
بچہ بلند آواز میں چیخا۔ ’’اماں،ابا!‘‘ ہجوم سے ایک شخص نے اس کی آواز سنی اور بڑھ کر بانہوں میں لے لیا۔
’’ بچے تم یہاں کیسے آئے ہو؟ تم کس کے بیٹے ہو؟‘‘ اس شخص نے بچے سے پوچھا اور اس کے چہرے کو صاف کرنے لگا۔ بچہ بلند آواز میں چلانے لگا۔ ’’مجھے میری ماں چاہیے، مجھے میرا باپ چاہیے۔‘‘
بچے کو بہلانے کے لیے وہ شخص اسے گول چکر جھولے کے پاس لے گیا ۔ ’’کیا تم گھوڑے پر سواری کرو گے؟‘‘ اس نے نرم لہجے میں بچے سے پوچھا۔ بچہ گلا پھاڑ کر رونے لگا اور چلایا۔ ’’ مجھے میری ماں چاہیے، مجھے میرا باپ چاہیے۔‘‘
وہ شخص بچے کو اس طرف لے گیا جدھر سانپ بین کی دھن پر ناچ رہا تھا۔ ’’بیٹا یہ دل آویز دھن سنو۔‘‘ اس نے بچے سے التجا کی اور بچے نے کانوں پر ہاتھ رکھ کے چلانے لگا۔ ’’مجھے میری ماں چاہیے، مجھے میراباپ چاہیے۔‘‘
وہ شخص، یہ سوچتے ہوئے کہ رنگ برنگے غبارے دیکھ کر وہ بہل جائے گا، بچے کو غبارے والے کے پاس لے گیا ۔ ’’کیا تم قوس قزح کے رنگوں کے غبارے پسند کرو گے؟‘‘ بچے نے غباروں سے نظریں پھیر لیں اور چلانے لگا۔ ’’مجھے میری ماں چاہیے، مجھے میرا باپ چاہیے۔‘‘
وہ شخص بچے کو بہلانے کے لیے پھولوں والے کے پاس لے گیا۔ ’’ بیٹا، کیا تم ان خوبصورت پھولوں کو سونگھنا چاہو گے؟ کیا تم گل ہار کی مالا پسند کرو گے؟‘‘ بچے نے پھولوں سے نظریں ہٹا لی اور چلانے لگا۔ ’’مجھے میری ماں چاہیے، مجھے میرا باپ چاہیے۔‘‘
اس کا دل مٹھائی سے بہلانے کے لیے وہ اسے حلوائی کی دکان پر لے گیا۔ ’’بیٹا تمھیں کون سی مٹھائی پسند ہے؟‘‘ اس شخص نے پوچھا تو بچے نے دکان سے منہ موڑ لیا اور چلانے لگا۔ ’’مجھے میری ماں چاہیے، مجھے میرا باپ چاہیے۔‘‘
۰۰۰

ملک راج آنند
ملک راج آنند (۱۹۰۵ء۔۲۰۰۴ء) برصغیر کے ممتاز انگریزی و اردو ادیب اور ترقی پسند تحریک کے فعال رکن تھے۔ وہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۵ء کو پشاور (برٹش انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ تعلیم لاہور، لندن اور کیمبرج سے حاصل کی، جہاں ان کے خیالات میں سوشلسٹ رجحانات نے جنم لیا۔
آنند کا شمار ان اولین مصنفین میں ہوتا ہے جنھوں نے ادب کے ذریعے ہندوستانی معاشرت کے محروم، مظلوم اور نچلے طبقے کی آواز بلند کی۔ ان کی تحریروں میں انسانی مساوات، طبقاتی جدوجہد اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کا گہرا عکس ملتا ہے۔ ان کے اہم موضوعات میں ذات پات کانظام، طبقاتی استحصال، غربت، نوآبادیاتی ظلم و ستم اور انسان دوستی ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں ’’اچھوت (۱۹۳۵ء) – ایک دن کی کہانی،جس میں شودر طبقے کی زندگی دکھائی گئی؛ قلی(۱۹۳۶ء)– ایک مزدور لڑکے کی غربت اور مصائب کی داستان؛ دو پتے اور ایک جڑ(۱۹۳۷ء) – چائے کے باغات میں مزدوروں کے استحصال پر مبنی؛ اور دیگر کتب میں Across the Black Waters اور The Sword and the Sickle وغیرہم شامل ہیں۔
آنند نے کہانی کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے سماجی بیداری کے لیے استعمال کیا۔ ان کے کردار حقیقی زندگی سے قریب تر اور طبقاتی جدوجہد کا عکس ہیں۔ ان کی تحریریں عالمی سطح پر بھی مقبول ہوئیں اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئیں۔ ملک راج آنند ۲۰۰۴ء میں دہلی میں وفات پا گئے لیکن ان کا ادبی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔
۰۰۰
ملک راج آنند کی تحریروں کے تازہ تراجم:
ملک راج آنند کی تحریروں کے تمام تراجم:
محمد عبداللہ
محمد عبداللہ ۱۴ دسمبر ۲۰۰۲ء میں محمد رمضان تبسّم کے ہاں چک ۲۴ کلاں، تحصیل صفدر آباد، ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ چند سال وہاں گزارنے کے بعد وہ اپنے آبائی گاؤں ۳۴۶ ڈبلیو۔بی، تحصیل دنیاپور، ضلع لودھراں میں آ گئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں سے حاصل کی،انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ گریجویٹ کالج دنیاپور سے کرنے کے بعد آج کل اسی کالج میں بی۔ایس اردو ڈیپارٹمنٹ کے متعلم ہیں۔ انھیں اپنے بچپن ہی سے اردو شاعری اور افسانوی ادب میں بہت دلچسپی رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شوق بڑھتا رہا اور خود بھی لکھنے کی کوششیں کی ۔ اب اپنے استادذ اور معرورف مترجم ریحان اسلام کو، جن کی تراجم کی اب تک دو کتب منصۂ شہود پر آ چکی ہیں، دیکھتے ہوئے محمد عبداللہ میں بھی ترجمہ کرنے کےشوق نے جنم لیا۔ اس میں ریحان اسلام اُن کی کافی مدد کر رہے ہیں۔
۰۰۰