تراجم عالمی ادب

افسانہ

دل کا فیصلہ

یوسف روز صبح سات بجے گھر سے ناشتہ کیے بغیر نکل جاتا اور دوپہر کے کھانے کے لیے ہی واپس آتا۔ شام کا کھانا وہ اپنی ماں کے ہاں کھاتا، جس کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ یوسف کے گھر کے سامنے ایک بڑا کمرہ تھا۔…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

اجنبی شناسا

اُس نے اپنی کمر کو سہلائے جانے دیا، جس کے نچلے حصے پر پسینے کے قطرے تھے، اُس کابدن تیزآنچ پر جلائی گئی شکر کی خوشبو خارج کررہاتھا، خاموشی تھی، اُس کے تصور میں تھاکہ ایک آواز تک اُس کی یادداشت میں داخل ہوکر سب کچھ برباد کر دے گی،….۔

مزید پڑھیے
افسانہ

شائستہ محل کی سنگی سلیں

کنکریٹ کے جنگل سے، رنگ برنگی عمارتوں سے جو ماچس کی ڈبیوں کی طرح آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، دھواں چھوڑتی، ہارن بجاتی گاڑیوں سے جو دن رات اس طرح دوڑتی رہتی تھیں جیسے حرکت ہی زندگی کا واحد مقصد ہو، اور پھر لوگوں سے — لوگ، لوگ، لوگ — جن…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

خوشگوار انجام

جون اور میری محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔ دونوں کے پاس قابلِ قدر اور منافع بخش ملازمت ہے جسے وہ مشکل اور متحرک کر دینے والی پاتے ہیں۔ وہ ایک خوبصورت گھر خریدتے ہیں۔ جائیداد کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بالآخر وہ اپنے دو بچوں کے لیے ایک مرد آیا کا بندوبست…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

اپریل۲۳، افسانہ ایک تعطیل کا

تئیس اپریل کو ہمارے سکول میں قومی خودمختاری اور بچوں کا عالمی دن منانے کی تیاری عروج پر تھی۔ چنیدہ طالب علم تقریب کے لیے ادارے کے نمائندہ تھے جب کہ اساتذہ نے کئی طالب علموں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق تقریب کی تیاریوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ منتخب…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

مسّا

’’عین چہرے پر اُگے مسّے کے لیے جاتے ہوں گے، لیکن اپنی گردن کے نیچے اُگے مسّے کو ہٹوانے کے لیے شاید ہی کوئی ڈاکٹر کے پاس جائے گا۔ ڈاکٹر ہنسے گا۔ اسے پتہ لگ جائے گا کہ میں اس کے پاس اس لیے آئی ہوں کیونکہ میرے شوہر کو وہ مسّا پسند نہیں ہے۔ ‘‘…۔

مزید پڑھیے
افسانہ

اچھوت

میں بستر کے اندر تک گھس گیا۔ اپنے کانوں کے گرد تکیہ رکھا۔ لیکن اگلی آواز اس سے بھی زیادہ گرج دار تھی۔ا س سے پہلی ایسی گرج نہیں سنی تھی۔ میں نے اپنے بستر سے چھلانگ لگائی۔ میں مزید وہاں نہیں رک سکتا تھا۔ میں اندھا دھند صفائی کرنے والے لڑکے کے کمرے میں بھاگ گیا۔…۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب
Exit mobile version