تراجم عالمی ادب

مضمون

رنگ برنگ

ریحان اسلام کا  ترجمہ

۔ ’’گمشدہ جوانی کا کیفے‘‘۔

طاہر عمیر

اس کتاب کے مطالعے کے وسیلے سے مجھے  دو اشخاص سے مل کر خوشی ہوئی۔ ایک تو اس ناول کے مصنف اور دوسرے اس کے مترجم یعنی ریحان اسلام۔

یہ  فرانسیسی ناول پیٹرک موڈیانو کا لکھا ہوا ہے، جو ادب کے نوبل انعام یافتہ ادیب ہے۔

اس ناول کا اردو ترجمہ ریحان اسلام نے کیا ہے ۔بلاشبہ یہ ان کا ترجمہ ہی ہے جو اس طرح کے ناول کو سمجھنے کی حد تک بیان کررہا ہے۔ کیونکہ یہ مختصر سا ناول یاداشت اور وقت کے بہاؤ میں بہتے ہوئے کرداروں کا ایسا ذکر ہے جس کی آخری تصویر بھی کچھ زیادہ واضح نہیں ہوپاتی۔

محض یہ ناول ہی نہیں بلکہ موڈیانو کا طرز تحریر بھی یادوں الجھے ہوئے وقت کے زاویوں ، دھندلے خوابناک ماحول،  ماضی کی طرف دوڑتے اور تلاش میں سرگرداں  بیانیے کو سموئے ہوئے رہتا ہے۔

اس ناول میں ایک کیفے کا ذکر ہے جس کا نام ’’کَونڈے‘‘ ہے۔ یہاں کچھ لوگ آکر بیٹھتے ہیں جن میں ایک کردار لوکی نام کی لڑکی کا ہے۔

کہانی چار مختلف راوی بیان کرتے ہیں لیکن ان کا موضوع ایک ہی کردار لوکی یعنی وہ لڑکی ہے۔ وہ اس کی زندگی کے مختلف زاویوں اور انداز سے اس کی شناخت واضح کررہے ہیں۔ ان راویوں میں خود لوکی بھی شامل ہے۔

یہ ناول بالکل سیدھے انداز میں واقعات کی ترتیب کو لے کر نہیں چلتا۔ اور بلکہ آخر میں بھی آپ جس دھندلی تصویر کو دیکھتے ہیں وہ اب بھی مکمل واضح نہیں ہوپاتی۔ کہانی کے نام پر کچھ زیادہ نہیں ہے۔ لیکن فرانس کی گلیوں، کیفوں، چوکوں،سڑکوں میں گھومتی پھرتی یہ ایک آوارہ گرد سی کہانی ہے۔جس کے دھندلے ماحول میں ڈوب کر آپ ایک کردار کی شناخت میں خود بھی ڈوب  جاتے ہیں۔

 ناول کی فضا، جذباتی گہرائیاں، یاداشت اور شناخت کے اس عمل کے زریعے مصنف آپ کو نہ تو بیزار کرتا ہے اور نہ ہی آپ کی دلچسپی کم ہونے دیتا ہے۔

کتاب کا پیش لفظ ہمارے کتاب دوست بھائی احمد بلال  نے لکھا ہے اور اُن ہی کی وساطت سے یہ کتاب پڑھنے کو ملی۔ اور اس کتاب کے مطالعے کے وسیلے سے مجھے  دو اشخاص سے مل کر خوشی ہوئی۔ ایک تو اس ناول کے مصنف اور دوسرے اس کے مترجم یعنی ریحان اسلام۔

۰۰۰۰

طاہر عمیر ۔ اردو مصنف ۔ نقاد ۔ Tahir Umair

طاہر عمیر

طاہر عمیر کا تعلق کمالیہ سے ہے۔ وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور لکھنے کے شوقین ہیں۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے ہی بچوں کی کہانیاں لکھنے سے کیا۔ اخبارات و جرائد میں بچوں کے لیے لکھی اُن کی کہانیوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔ بے شمار انعامات و ایوارڈز حاصل کیے۔   پھر لکھنے کا دائرہ وسیع کیا اور ماہنامہ سسپنس میں ان کے دو ناول اور کئی کہانیاں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی افسانے لکھ کر افسانہ نگاری کے میدان میں بھی اپنے قدم جمائے۔ جو مختلف فورم پر شائع ہورہے ہیں۔ مطالعہ کے حوالے سے دنیا کی مختلف ادبی و کلاسکی کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے ہیں۔

۰۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب
Exit mobile version