مضمون
رنگ برنگ
ہم کس کے لیے لکھتے ہیں؟
ناصر عباس نیّر
آپ کا اچھا مصنف ہونا، آپ کے سچے اور دیانت دار ادیب ہونے کی ضمانت نہیں۔ — ناصر عباس نیّر
ترک نوبیل انعام یافتہ اورخان پاموک، اپنے ناول ’’سرخ میر انام‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ وہ مصور جو اپنے ناظرین ین کے ممکنہ ردِّعمل کو سامنے رکھتا ہےاور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھتا ہے، اپنے خلاف جرم کا ارتکاب کرتا ہے، نیز ایک معاہدےکی شرائط توڑتا ہے(یہ وضاحت میری ہے)۔ کیوں کہ وہ فن کے لیے نہیں، کسی اور شے کے لیے کام کرتا ہے اور یہ اس کی اپنی حقیقی ذات نہیں ہے جس کی پسند ناپسند کا وہ خیال رکھ رہا ہو۔ آدمی کی حقیقی ذات اور ’’دوسروں‘‘ کی مسلط کردہ ذات میں فرق کی لکیر کا علم ہر مصنف کو ہونا چاہیے۔
جب آپ کسی صنف میں لکھنا شروع کرتے ہیں تو گویا، اس صنف سے ایک خاموش معاہدہ کرتے ہیں کہ آ پ اس کی شعریات، اخلاقیات، جمالیات، رسمیات وغیرہ میں ایجا دپسندی کا مظاہرہ تو ضرور کریں گے ،مگر انھیں پامال نہیں کریں گے؛ اس کی پہلے سے قائم شناخت میں کچھ اضافہ کریں گے، اور اس کے لیے اس کی روایت ورسمیات کو ضرورت پڑنے پر چیلنج بھی کریں گے، ان سے انحراف بھی کریں گے مگر اس کی شناخت کو مسخ نہیں کریں گے۔
اگر آپ دوسروں کے ممکنہ ردِّعمل کو سامنے رکھ کر لکھتے ہیں، ان کی خوشی یا ناراضی کو سامنے رکھ کر لکھتے ہیں، کسی بیرونی ترغیب،لالچ،خوف کا شکار ہوکر لکھتے ہیں تو آپ کو اس سچائی کا سامنا کرنا چاہیے کہ آپ غرض مند ہیں، بزدل ہیں، مفاد پسند ہیں اور ایسے میں آپ نہ تو خود اپنی حقیقی روح کا اظہار کرسکتے ہیں، نہ آپ کے قلم سے فن اپنی اصل کے ساتھ خود کو ظاہر کرسکتا ہے۔
جب وہ آپ کے قلم یا موقلم سے نکل کر دنیا میں پہنچے گی تو وہ اپنے زخمی، مسخ، مضمحل، لولے لنگڑے وجود کے ساتھ نہیں، کہیں بہتر، تروتازہ و توانا صورت میں پہنچے گی اور آپ کوتاریخ کے نادیدہ انسانوں کے ایک عظیم سلسلے سے منسلک کرے گی ۔ یعنی آپ معاہدہ نہیں توڑیں گے۔
ناول میں تتلی نام کا ایک منی ایچر مصور، چاول کے دانوں اور ہاتھوں کے ناخنوں پر چھوٹی چھوٹی، ناقابل فہم تصویریں بنانے میں طاق ہے، اور اس کا مدِّمقابل تلاش کرنا مشکل ہے مگر استاد عثما ن کےبہ قول اس کی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی غیر معمولی فنی صلاحیت کے باوجود ،وہ فن کی محبت میں نہیں بلکہ اس خوشی کا تصور کرکے مصوری کرتا ہے، جودوسرے اس کی تصویریں دیکھ کر محسوس کیا کرتے۔ وہ بلاشبہ ’’اچھا‘‘ مصور ہے، اسے فن پر قدرت حاصل ہے،اپنے فن کے ذریعے دوسروں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت بھی ہے، مگر وہ خود سے اور فن سے ’’دیانت دار‘‘ نہیں ہے۔
فن آدمی کے وجود کی گہرائی سے ، جہاں ایک بے عیب، ہر طرح کے غیر کے احساس سے آزادخاموشی وجود رکھتی ہے، پھوٹتا ہے۔ ایک حقیقی مصنف اس لیے لکھتا ہے کہ ان آوازوں کو سنا جاسکے جو پہلی بار آپ کے توسط سے اپنا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔
آپ کا اچھا مصنف ہونا، آپ کے سچے اور دیانت دار ادیب ہونے کی ضمانت نہیں۔
اگر آپ دوسروں کے ممکنہ ردِّعمل کو سامنے رکھ کر لکھتے ہیں، ان کی خوشی یا ناراضی کو سامنے رکھ کر لکھتے ہیں، کسی بیرونی ترغیب،لالچ،خوف کا شکار ہوکر لکھتے ہیں تو آپ کو اس سچائی کا سامنا کرنا چاہیے کہ آپ غرض مند ہیں، بزدل ہیں، مفاد پسند ہیں اور ایسے میں آپ نہ تو خود اپنی حقیقی روح کا اظہار کرسکتے ہیں، نہ آپ کے قلم سے فن اپنی اصل کے ساتھ خود کو ظاہر کرسکتا ہے۔
فن آدمی کے وجود کی گہرائی سے ، جہاں ایک بے عیب، ہر طرح کے غیر کے احساس سے آزادخاموشی وجود رکھتی ہے، پھوٹتا ہے۔ ایک حقیقی مصنف اس لیے لکھتا ہے کہ ان آوازوں کو سنا جاسکے جو پہلی بار آپ کے توسط سے اپنا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ آوازیں صرف آپ کی اپنی ذات سے متعلق ہوں، یہ آپ کے ارد گرد کی حقیقی دنیا، حقیقی انسانوں، تاریخ، تہذیب سے متعلق بھی ہوسکتی ہیں۔ آدمی اپنے وجود کی آخری حدوں میں بھی اپنے ہم جنسوں اور اس کائنات کی دیگر مخلوقات سے ایک گہرے تعلق کو محسوس کرسکتا ہے اور انھیں ’’غیر‘‘ سے الگ کرسکتا ہے، اگر وہ خود کو ’’دوسروں‘‘ کے خوف، لالچ، اورمقبولیت اور اعزازات کی منھ زور خواہش سے آزاد محسوس کرسکے۔
۰۰۰۰

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر
معروف پاکستانی ادیب ڈاکٹر ناصر عباس نیّر افسانہ نویس اور نقاد ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج ، لاہور میں اردو زبان و ادب کےمعلم اور اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ ۲۵ اپریل ۱۹۶۵ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی۔ ۱۹۸۷ء میں بی اے اور ۱۹۸۹ء میں ایم اے (اردو) جامعہ پنجاب، لاہور سے کیا۔۲۰۰۳ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ’’اردو تنقید میں جدیدیت اور مابعد جدیدیت‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ایم فل کیا اور بہاء الدّین ذکریا یونیورسٹی، ملتان سے ’’اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا۔۲۰۰۱ء میں انھیں ہائیڈل برگ یونیورسٹی، جرمنی کی طرف سے ’’اردو ادب کا نوآبادیاتی دور‘‘ کے موضوع پر پوسٹ ڈاکٹورل اسکالرشپ ملی۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی تنقیدی جہات
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کو جرمنی میں قیام کے دوران نو آبادیاتی عہد کی سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا جس نے اُن کے وژن کو تبدیل کر دیا اور وہ بالکل نئے زاویے سے اردو ادب کے تخلیقی عمل کی ترجیحات کو دیکھنے لگے۔ وہ کئی علوم کے تناظر میں اُس عہد کی ادبی سرگرمی اور تخلیقی عمل کو دیکھتے ہیں جس کے سبب ان کے ہاں ایک الگ تنقیدی جہت آ جاتی ہے۔ انھوں نےنئی اصطلاحات کی حامل ایک نئی تنقیدی زبان اردو ادب میں متعارف کروائی ہے ۔ تنقید کا یہ انداز اگر چہ مغرب سے مستعار لیا گیا ہے مگر اس کی وجہ سے اردوکے فکشن نگاروں اور شاعروں کے تخلیقی کام کی نئی جہات سامنے آئیں۔
تخلیقات
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نےتنقید کی بے شمار کتب تخلیق کیں جن میں’’دن ڈھل چکا تھا‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’چراغِ آفریدم‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’جدیدیت سے پس جدیدیت تک‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’نظیر صدیقی: شخصیت اور فن‘‘ (۲۰۰۳ء)؛ ’’جدید اور ما بعد جدید تنقید‘‘ (۲۰۰۴ء)؛ ’’ساختیات:ایک تعارف‘‘ (۲۰۰۶ء)؛ ’’مابعد جدیدیت:نظری مباحث‘‘ (۲۰۰۷ء)؛ ’’مجید امجد: شخصیت اور فن‘‘ (۲۰۰۸ء)؛ ’’لسانیات اور تنقید‘‘ (۲۰۰۹ء)؛ ’’مابعد جدیدیت: اطلاقی جہات‘‘ (۲۰۱۰ء)؛ ’’آزاد صدی مقالات‘‘(بہ اشتراک ڈاکٹر تحسین فراقی) (۲۰۱۰ء)؛ ’’متن، سیاق اور تناظر‘‘ (۲۰۱۳ء)؛’’مابعد نوآبادیات اردو کے تناظر میں‘‘ (۲۰۱۳ء)؛ ’’مجید امجد حیات: حیات، شعریات اور جمالیات‘‘ (۲۰۱۴ء)؛’’ ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری‘‘(۲۰۱۴ء)؛ ’’عالمگیریت اور اردو‘‘ (۲۰۱۵ء)؛’’اردو ادب کی تشکیلِ جدید‘‘(۲۰۱۶ء)؛ ’’اس کو ایک شخص سمجھنا تو مناسب نہیں‘‘(۲۰۱۷ء)؛ ’’نظم کیسے پڑھیں‘‘ (۲۰۱۸ء)؛ ’’جدیدیت اور نو آبادیات‘‘ (۲۰۲۱ء)؛ ’’یہ قصہ کیا ہے معنی کا‘‘(۲۰۲۲ء)؛ ’’نئے نقاد کے نام خطوط‘‘ (۲۰۲۳ء)؛ انگریزی میں تنقید کی کتاب’’کالونیلٹی، ماڈرنٹی اینڈ اردو لٹریچر‘‘ؔ؛ (۲۰۲۰ء)؛سفرنامہ: ’’ہائیڈل برگ کی ڈائری‘‘ (۲۰۱۷ء)۔
اُن کے افسانوی مجموعوں میں:’’خاک کی مہک‘‘ (۲۰۱۶ء)؛’’فرشتہ نہیں آیا‘‘ (۲۰۱۷ء)؛’’ایک زمانہ ختم ہوا ہے‘‘ (۲۰۲۰ء) شامل ہیں۔
___________
‘‘ؔ Coloniality, Modernity and Urdu Literature
تحسین و توصیف
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی علمی و ادبی خدمات کو ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی میں جنوب ایشیائی زبانوں کے سربراہ ڈاکٹر ہنس ہارڈر اور بھارت کے ممتاز اردو نقاد پروفیسر شمیم حنفی جیسی شخصیات نے سراہا ہے۔
۰۰۰
1 thought on “‘‘ہم کس کے لیے لکھتے ہیں؟’’”
Loved it!