تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

ارجنٹائنی ناول

ایک فطرت نگار مصور

کی زندگی کا باب

سیزر ایئرا

César Aira

ترجمہ؍منیر فیاض

نوبیل انعام کے لیے پچھلے برسوں سے مسلسل نامزد ہونے والے معروف ارجنٹائنی ادیب سیزر ایئرا  کا مکمل ناول(قسط وار) 

پہلا حصہ

مغربی فن امتیازکے حامل معدودے چند دستاویزی مصوروں کے نام کو قابلِ فخر گردانتا ہے۔ان میں سے،جن کے نام اورکام سے ہم بخوبی واقف ہیں، رُگینڈاس بہترین تھا جس نے ارجنٹائنا کے دو دورے کیے۔دوسرے دورے میں، جواس نے ۱۸۴۷ءمیں کیا، اسے ریوڈی لا پلاٹا کے مناظر اورطبعی انواع دستاویز کرنے کا موقع ملا۔ یہ کام اتنا وافر تھا کہ ایک اندازے کے مطابق مقامی خریداروں کے پاس اس کے دوسو سے زائد نمونے تھے۔اُس کے دوست اور پرستار ہمبولٹ کی رائے کے برعکس مصور کی صلاحیت کابہترین نمونہ ’نئی دنیا‘کے اُن خطوںمیں سامنے آتا ہے جہاں نباتاتی انواع کی بہتات ہو۔اِس بیان کی تردید کے آثار ہمیں دس سال قبل رگینڈاس کے پہلے اور ڈرامائی دورے میں نظر آتے ہیں جسے ایک عجیب واقعے کی وجہ سے اسے مختصر کرناپڑا اور جس نے اس کی زندگی کا دھارا بدل دیا۔

یوہان مورٹزرگینڈاس آگس برگ کے شاہی شہر میں انتیس مارچ اٹھارہ سو دو کو پیدا ہوا۔ اس کا باپ، دادا، اور پردادااپنی اپنی طرز کے بہترین مصور تھے۔اس کے اجداد میں سے ایک،جارج فلپ رجنڈاس،جنگی مناظر کی تصویر کاری کے لیے مشہور تھا۔رگینڈاس خاندان جو کہ اصل میں فلیمش ہے،  ۱۶۰۸ ء میں قتالونیہ سے ہجرت کر کے پروٹسٹنٹ عقیدے کے لیے ایک بہتر معاشرتی ماحول کی آس پر آگس برگ آیا۔ پہلا جرمن رگینڈاس ایک گھڑی ساز تھا، باقی تمام مصور تھے۔

یوہان مورٹز رگینڈاس نے چار سال کی عمر میں فنی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ خداداد صلاحیتوں سے مالامال ایک نقشہ نویس تھا۔ وہ البریخت آدم کے سٹوڈیو کا نمایاں طالبعلم تھااور بعد ازاں میونخ آرٹ اکیڈمی میں بھی معروف ہوا۔ انیس سال کی عمر میں اسے بیرن لینگس ڈورف کی قیادت میں زارِ روس کی مالی معاونت سے امریکہ کی مہم جوئی پر جانے کا موقع ملا۔ جو مشن اسے ملا وہ سو سال بعد شاید کسی فوٹو گرافر کے حصے میں آتا۔ اس نے وہاں کے فطری مناظر اور ان تمام دریافتوں کی تصویری دستاویز بنانی تھی جہاں سے اسے گزرنا تھا۔

اِس موقع پرضروری ہے کہ ہم اس نوجوان فنکار کے کام کاایک واضح تصورکرنے کے لیے وقت میں واپس جائیں۔ یہ یوہان مورٹز کا پڑدادا جارج فلپ رگینڈاس (۱۷۴۲۔۱۶۶۶ء) تھا جس نے مصوروں کے اس خاندان کی بنیاد رکھی۔ اور ایسا اس نے نوجوانی میں اپنے دائیں ہاتھ کے ضائع ہونے کے نتیجے میں کیا۔ اس معذوری نے اسے گھڑی سازی کے خاندانی کام کے لیے غیر موزوں کر دیا، جس میں اسے بچپن سے مہارت حاصل تھی۔ اسے پنسل اور برش سے کام کرنے کے لیے اپنے بائیں ہاتھ کا استعمال سیکھنا پڑا۔ اس نے جنگوں کی عکاسی میں مہارت حاصل کی اور نقشہ نویسی کے فن میں اپنے اجداد کی مہارت اور گھڑی سازی میں اپنی تربیت کے نتیجے میں شاندار نتائج دیے۔ بائیں ہاتھ سے کام کرتے وقت، جو  اس کا ذاتی انتخاب نہیں تھا، اسے تکنیکی منصوبہ بندی کو پیشِ نظر رکھنا پڑا۔

ہیئت کی پرہول پیچیدگی اور موضوع کی متشدد ہنگامہ خیزی کے تضاد نے اس کے کام کو بے مثال بنادیا۔ اس کا سرپرستِ اعلیٰ اور پالنہار سوئیڈن کا جنگجو بادشاہ چارلس دوازدہم تھا۔ جس کی فوج کے جنگی معرکوں کی اُس نے، یونان کے برفانی میدانوں سے لے کر ترکی کے جھلستے کارزاروں تک، تصویر کشی کی۔ بعد کے سالوں میں وہ کندہ کاری کا ایک ثروت مند طباع اور ناشر بن گیاجو  اس کی عسکری دستاویز نگاری ہی کی توسیع تھی۔ اس کے تینوں بیٹوں جارج فلپ، یوہان، اور جیرمی کو اُس کا کاروبار اور صلاحیتیں دونوں میراث میں ملیں۔ جارج فلپ کا بیٹا کرسچن  (۱۸۲۶۔۱۷۷۵ء) جو کہ ہمارے رگینڈاس کا باپ تھا ایک اور جنگجو بادشاہ، نپولین، کے جنگی مناظر تصویر کرتے ہوئے مصوری کے اس انداز کا خاتم ہوا۔

نپولین کی شکست سے یورپ میں’امن کی صدی‘ کا آغاز ہوا اور یہ خاندان اپنے فن کی جس شاخ میں مہارت رکھتا تھازوال پزیر ہوئی۔ نوجوان یوہان مورٹز کو، جو واٹرلو کے وقت اپنے لڑکپن سے گزر رہا تھا، فوراً اپنی سمت بدلنا پڑی۔ وہ آغاز میں میدانِ جنگ کے مصور کی حیثیت سے آدم کا شاگرد تھا۔ لیکن بعد ازاں اُس نے میونخ اکیڈمی میں فطرت کی تصویر کاری کی تربیت لینے کا آغاز کیا۔ جس فطرت کو مصوری اور عکاسی کے خریدار پسند کرتے تھے وہ شاندار اور بعید تھی۔ چنانچہ اسے بیرونِ ملک فنی سفر کی صدا پر لبیک کہنا پڑا۔ اور اُس کے سفر کی سمت کا تعین اُس موقعے نے کیا جس کاذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔

بیسویں سال کی دہلیز پر جو دنیا اس کے سامنے کھلی وہ کسی نقشے کے بغیر اور تا حال نادیدہ تھی۔ یہ تقریباً وہی وقت تھا جب چارلس ڈارون بھی جوان تھا۔ جرمن مصورکا شاہی رفیق، بیرن جارج ہینرک وارن لینگز ڈروف، بحر اوقیانوس پار کرنے کے دوران اتنا گھمنڈی اور کند ذہن ثابت ہوا کہ جیسے ہی جہاز برازیل کے ساحل پر لنگر انداز ہوا رگینڈاس نے اس کی صحبت سے علیحدگی اختیار کی اوراُس کی جگہ لینگز ڈروف کا رفیق ایک اور باصلاحیت دستاویزی مصور، توانے، بنا۔ اس فیصلے سے اس نے خود کو ایک گہرے دکھ سے بچا لیا کیونکہ یہ سفر بدقسمتی کا حامل تھا۔ توانے جنگل کے وسط میں گواپرے دریا میں ڈوب گیا اور لینگز ڈروف نے اپنی بچی کھچی ذہانت سے بھی ہاتھ دھو لیے۔

دریں اثنا رگینڈاس نے ریوڈی جنیرو، میناس گیرائس، ماتو گروسو، اسپیریتو سانتو، اور باہیا کے صوبوں کی چار سالہ سیاحت اور کام کے بعد یورپ واپسی اختیار کی اور ’برازیل کی تصویری سیاحت‘ کے نام سے ایک شاندار با تصویر کتاب شائع کی جس کا متن وکٹر آئمے حُوبر نے مصور کی قلمی یادداشتوں سے لیا اور جس نے اسے شہرت دوام بخشی۔ اس کتاب نے اسے الیگزینڈر وارن ہمبولٹ جیسے نمایاں فطرت پسندوں سے ملاقات کا موقع دیا جس نے بعد میں اس کے اشتراک سے کئی کتابیں شائع کیں۔

رگینڈاس کا دوسرا اور آخری سفرِ امریکہ۱۸۳۱ء سے ۱۸۴۷ء تک یعنی سترہ سال جاری رہا۔ یہ تھکا دینے والا سفر اسے میکسیکو، چلی، پیرو، دوبارہ برازیل اور ارجنٹائنا لے گیا۔ اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں تصاویر پر منتج ہوا۔ (ایک نامکمل کیٹلاگ جس میں آئل پینٹنگ، واٹر کلر، اور ڈرائنگز،اور خاکے شامل ہیں جن کی تعداد۳۳۵۳ ہے)۔

گو اس کی میکسیکو کی تصویر کاری بہترین ہے۔ حارائی جنگلات اور پہاڑی مناظر میں اس کی موضوعاتی پیش کاری کمال پر نظر آتی ہے۔ مگر اس کی طویل مسافت کا مقصد، جس نے اس کی جوانی کو کھا لیا، ارجنٹائنا تھا: وہ پراسرار خلا جو نامختتم میدانوں کے ان حصوں میں پایا جاتا ہے جہاں آفا ق یکساں دوری پر نظر آتے ہیں۔ اس کے خیال میں صرف وہیں وہ اپنے فن کی دوسری جہت دریافت کر سکتا تھا۔

اس خطرناک واہمے نے تمام عمر اس کا تعاقب کیا۔ وہ دو مرتبہ اس کی دہلیز تک پہنچا: ۱۸۳۷ء میں وہ چلی سے اینڈیز آیا، اور ۱۸۴۷ء میں وہ مشرق سے ریوڈی لاپلاٹا کے رستے یہاں پہنچا۔ دوسری مہم زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئی، لیکن وہ بیونس آئرس کے نواح سے آگے نہیں جا سکا۔ اپنے پہلے سفر میں، تاہم، وہ لمحہ بھر کو اپنے اس خواب کے مرکزے کے قریب پہنچا۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ اسے اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔

رگینڈاس روزمرہ کا مصور تھا۔ اس کا روزمرہ فطرت کی ہیئت تھی جسے وہ ہمبولٹ کے وضع کردہ طریقے کار پر بناتا تھا۔ وہ عظیم فطرت پسند، ایسے اسلوب کا بانی تھا جو اس کے ساتھ ہی مر گیا: ’ارڈ تھیوریا‘ یا ’لا فزیک دو موندے‘، فنکارانہ جغرافیے کی ایک قسم، دنیا کا ایک جمالیاتی فن، فطرت نگاری کی سائنس۔ الیگزینڈر وان ہمبولٹ (۱۸۵۹۔۱۷۶۹ء) ایک ہمہ جہت دانشور تھا جو شاید اپنی نوع کا آخری آدمی تھا۔ دنیا کو کلیت میں سمجھنا اس کا مقصد تھا اور اس کے خیال میں اس کام کا راستہ، جو کہ ایک طویل روایت کے بعد اس تک پہنچا، بصیرت کے ذریعے ملتا تھا۔ تاہم اس بارے میں اس کا نکتۂ نظر نیا تھا۔

وہ  انفرادی تصاویر کو علمی علامتوں کی شکل میں تخلیق کرنے کی بجائے انھیں ایک بڑے پس منظر میں یکجا اور مربوط کرتا، جس کے لیے فطرت ایک نمونے کے طور پہ سامنے ہوتی۔ پھر اس جغرافیائی فن کار نے فطرت کی ہیئت کو اس طرح عکس بند کیا (ہمبولٹ نے یہ خیال لاواتر سے ادھار لیا تھا) کہ اس نے ان کی نمایاں ہیئتی خصوصیات کا، جنھیں وہ فطری سائنس کے مطالعے سے پہچاننے میں کامیاب ہوا تھا، انتخاب کیا۔ تصاویر میں ہیئتی عناصر کی دقیق ترتیب مشاہدہ کار کی حسیت سے آگاہ کرتی تھی۔ جس نے تصاویر کو انفرادی خدو خال کی بجائے ایک نظام کے تحت یوں باہم مربوط کیا جیسے وہ کسی الہامی طاقت کے زیرِ اثر ہو: ماحول، تاریخ، رسوم، معیشت، نسل، نباتات، باغات، بارش، ہوائیں—  اس سب کی کلید’خود روئی‘تھی۔

اس کے لیے نباتاتی عناصراہم ترین تھے۔ اور اس ہیئتی منظر نگاری کے لیے ہمبولٹ حارائی خطوں میں گیا جو نباتات کی تنوع اور نشوو نما میں یورپ سے کسی بھی تقابل کے بغیرکہیں برتر تھے۔ وہ کئی سال ایشیا اور امریکہ کے حارائی خطوں میں رہا اور ان فنکاروں کی حوصلہ افزائی کی جو اس کے اسلوب پر چل رہے تھے۔ اس نے اپنا ایک حلقہ قائم کر لیا جس نے یورپ میں ان کم معروف خطوں کے بارے میں تجسس پیدا کیا اور سفری مصوروں کے کام کے لیے مارکیٹ بنائی۔

 ہمبولٹ نوجوان رگینڈاس کی بہت قدر کرتاتھا اور اسے ’’فطرت کی ہیئتی تصویر کاری کا باوا آدم‘‘ کہتا تھا۔ یہ ایک ایسی تعریف تھی جس پر وہ خودبھی پورا اترتا تھا۔ اس نے مصور کے دوسرے سفر میں مشیر کا کردار ادا کیا اور جس اکلوتے نکتے پر ان کا اختلاف ہوا وہ ارجنٹائنا کو اپنے سفری منصوبے میں شامل کرنا تھا۔

ہمبولٹ  نہیں چاہتاتھا کہ اس کا شاگرد جنوبی حارائی منطقے میں اپنی توانائی ضائع کرے۔ اور اپنے خطوط میں اس نے ایسی نصیحتیں کیں:

’’اپنی صلاحیت کااسراف مت کرو۔ فطرت میں موجود حقیقی معنوں میں غیرمعمولی چیزوں کی تصویر کاری تمھارے لیے مناسب ہے۔ جیسا کہ برف پوش چوٹیاں؛ بانس؛ حارائی جنگل کے شگوفے؛ ایک نباتی نوع کے گروہ کی مختلف عمریں؛ فلیشا؛ لاتانیا؛ کھجور کے جھنڈ؛ بانس؛ بیلنی دھتورے سرخ پھلوں والی مغنیہ؛ لمبی شاخوں اور چوڑے پتوں والا املتاس؛ جھاڑی کی جسامت کا دستی شکل کے پتوں والاپارس پیپل؛ بالخصوص تولوکا میں ہاتھ کی ساخت والامیکسیکن پودا؛ میکسیکو شہر کے نواح میں پایا جانے والاہزار سال پرانا صنوبر؛ اشنھ کی وہ نوع جو درختوں کے تنوں پر نمودار ہونے والے کائی زدہ ابھاروں پر پھول کھلاتی ہے جس کے اردگرد ڈنڈروبین کے ابھار ہوتے ہیں۔

’’اشنھ کے پھولوں سے ڈھکی ہوئی مہاگنی کی شکستہ شاخیں اور بیلیں؛ بانس کے خاندان کی گھاس جو بیس سے تیس فٹ تک بلند ہوتی ہے؛ شہتوت کی انواع؛ زہریلی امر بیل؛ تنبے کے پُر بار درخت؛ کوکو کا ایسا درخت جس کی جڑوں سے پھول نکل رہے ہوں؛ سرو کا سدا بہار درخت جو چار فٹ لمبا ہو اور جس کی شاخیں تختوں یا ڈھیرکی شکل میں ایک دوسرے کے اوپر ہوں؛ ایسے پتھرجوبحری خشب سے اٹے ہوں؛ پانی میں تیرتے آبی سوسن کے نیلے پھول؛ پہاڑ کی بلند چوٹی پر کھڑے ہو کر حارائی جنگل کا نظارہ ایسے نکتۂ اتصال سے جہاں سے صرف پھل دار درختوں کے کشادہ تاج نظر آتے ہوں۔ اور جہاں سے کھجور کے درختوں کے عریاں تنے عمارتی ستونوں کی طرح بلند ہو رہے ہوں، جیسے ایک جنگل کے اوپر دوسرا جنگل ہو؛ کیلے اور ہیلی کون کی مختلف مادی ہیئتیں— ‘‘

ایسے بنیادی اجسام کی کثرت جو کسی فطری منظر نامے کی وضاحت کر سکیں صرف حارائی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔

جہاں تک نباتات کا تعلق ہے ہمبولٹ نے انھیں انیس اشکال تک محدود کر دیا تھا۔ انیس ہیئتی اقسام جن کا لینیئس کی نباتاتی تقسیم سے کوئی تعلق نہیں تھا او ر جو تجرید اور انفراد کے کم ترین اختلاف پر اساس کرتی ہیں۔ وہ ماہرِ نباتات نہیں تھا بلکہ فطرت کا ایسا مصور تھا جو زندگی کی تمام شکلوں میں افزائش اور بالیدگی کے عمل کا مشاہدہ حساسیت کے ساتھ کرتا تھا۔ اس نظام نے مصوری کے اس’روزمرہ‘ کی بنیاد فراہم کی رگینڈاس جس کا ماہر تھا۔

ہیٹی میں مختصر قیام کے بعد رگینڈاس نے تین سال، ۱۸۳۱ء سے۱۸۳۴ء تک، میکسیکو میں گزارے۔  پھر وہ چلی چلا گیاجہاں اسے آٹھ سال رہنا تھا، ارجنٹائنا کے مختصر سفر کی استثنیٰ کے ساتھ جو بمشکل پانچ ماہ جاری رہا۔ اس کا اصل مقصد دیہات سے براہِ راست بیونس آئر س پہنچنا تھا۔ جہاں سے وہ شمال کی طرف توکو مان( بولیویا) پہنچتا اور وہاں سے آگے۔ لیکن ایسا نہیں ہونا تھا۔

وہ ۱۸۳۷ء کے دسمبر کے اختتام پر سان فلائپے دی ایکونکاگوا (چلی) سے روانہ ہوا۔ اس کے ساتھ جرمن مصور رابرٹ کراؤس تھا جس کے ہمراہ گھوڑوں اور خچروں کا چھوٹا ساگروہ تھا اور چلی سے تعلق رکھنے والے دوگائیڈ۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ بھرپور موسم گرما کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کارڈی لیرا کے قابلِ نظارہ راستوں پر، رک رک کرنوٹس لیتے ہوئے اور تصویریں بناتے ہوئے، سست روی سے محو خرام رہیں گے۔ اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔

کچھ ہی دن میں، جن میں وہ کئی دن شامل نہیں جو انھوں نے پینٹنگ کرتے ہوئے گزارے، وہ کارڈی لیرا میں بہت آگے جا چکے تھے۔بارش کے دوران وہ اپنے کاغذ مومی کپڑوں والے غلاف میں لپیٹ کر چلتے رہتے۔درحقیقت یہ بارش نہیں بلکہ ہلکی بوندا باندی ہوتی تھی۔ جس میں تمام منظر نامہ دوپہر کے وقت نم آلود ہوائی مد و جزر سے لبریز ہو جاتا تھا۔بادل اتنا نیچے آ جاتے کہ زمین پہ اترتے دکھائی دیتے مگر ہلکی سی ہوا انھیں اڑا لے جاتی—  اور حیرت کی راہداریوں سے نئے بادل پیدا کرتی جس سے ایسے لگتا جیسے آسمان کی رسائی زمین کے وسط تک ہو گئی ہو۔

ان طلسمی تغیرات کے درمیان فن کاروں کو خواب ناک مناظر دیکھنے کو ملتے جن میں سے ہر ایک اپنے سے پہلے والے کو پرے دھکیل دیتا۔ نقشے پر ان کے سفر میں بہت خم و پیچ تھے۔ مگر ان کارخ، تیر کی طرح بالکل سیدھا، کھلے میدانوں کی جانب تھا۔ ہر دن پہلے سے زیادہ بڑا اور بعید تر تھا۔ جیسے جیسے پہاڑ بوجھل ہوتے گئے ہوا سبک اور زیادہ متلون ہو گئی۔ جس میں گہرائیوں اور بلندیوں کے مناظرواضح نظر آنے لگے۔

انھوں نے بار ش کا ریکارڈ رکھا۔ سوتی کپڑ ے کے ایک موزے سے ہوا کی رفتار کا اندازہ لگایا اور دو باریک شیشیوں میں سیال گریفائٹ کو ارتفاع پیما کے طور پر استعمال کیا۔ ان کے تھرمامیٹر کا گلابی پارہ دیوجانسن کے روزینہ چراغ (ایک پھول کا نام) ایسےایک طویل تنے سےآویزاں رہتا۔ گھوڑوں اور خچروں کی معمولی ٹاپیں بھی کہیں دور سے آتی سنائی دیتی تھیں۔ وہ بہت مدھم تھیں مگر گونج کے آفاقی نظام کا حصہ تھیں۔

اچانک، آدھی رات کے وقت پٹاخوں، ہوائیوں اور آتش بازی کے بھڑکیلے رنگوں نے گراں بار چٹانوں کے درمیان آسمان کی بے نورپہنائیوں میں رنگ بکھیر دیے۔ یہ ۱۸۳۴ء کا آغاز تھا اور دونوں ذاتی جشن منانے کے لیے آتش بازی کا سامان  اپنے ساتھ لائے تھے۔ انھوں نے فرانسیسی وائن کی ایک بوتل کھولی اور اپنے گائیڈوں کے ساتھ سالِ نوکا جام پیا۔ اس کے بعد وہ تاروں بھر ے آسمان کے نیچے چاند کے انتظار میں سونے کے لیے لیٹ گئے جو اپنے وقت پر ایک پرنور چوٹی کے عقب سے نمودار ہوا، اور ان کی مخمورگردشوں کو روک کر انھیں حقیقی نیند میں لے گیا۔

رگینڈاس اور کراؤس پیش قدمی کرتے رہے۔ ان کے پاس بات کرنے کے لیے بہت کچھ تھا تا ہم وہ دونوں قدرے خاموش تھے۔ وہ دونوں اس سے قبل بھی بہت مرتبہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اکٹھے چلی کا سفر کر چکے تھے۔

 ایک چیز جو اندر ہی اندر رگینڈاس کو دق کرر ہی تھی۔ وہ کراؤس کی مصوری کا ناقابلِ اصلاح عامیانہ پن تھا جس کی وہ حسبِ منشا تعریف نہیں کر پاتا تھا۔ اس نے خود کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ روزمرہ کی مصوری کے لیے زیادہ با صلاحیت ہونا لازمی نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ ایک ضابطے پر ہوتی ہے، مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا؛ اس کی تصویریں بے مایہ تھیں۔ تاہم وہ اپنے دوست کی تکنیکی مہارتوں اور خوش مزاجی کی تعریف کر سکتا تھا۔ کراؤس نوجوان تھا اور اس کے پاس ابھی زندگی میں کسی اور رستے کے انتخاب کا وقت تھا۔ دریں اثنا وہ ان تفریحی دوروں سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ یقیناً  ان سے اسے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

 کراؤس اپنے تئیں رگینڈاس سے مرعوب تھا۔ اور دونوں کو ایک دوسرے کی صحبت میں جو لطف ملتا وہ اس ارادت مند کی لگن کی نسبت سے کہیں زیادہ تھا۔ ان کی عمروں اور صلاحیتوں کے درمیان فرق زیادہ واضح نہیں تھا۔ کیونکہ رگینڈاس پینتیس سال کی عمر میں بھی ایک لڑکے کی طرح ڈرپوک، نسوانی اور بے چین تھا، جب کہ کراؤس حوصلہ مند، تحکمانہ اور معتدل مزاج کا حامل تھا جس کی وجہ سے ان کی عمروں کا فر ق سکڑ گیا تھا۔

پندرھویں دن انھوں نے دو آبہ پار کیا اور ڈھلان اترنے لگے، ان کی پیش قدمی تیز ہو گئی۔

انھیں خدشہ تھا کہ وہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے گائیڈوں کی طرح عادی کوہ پیما بن جائیں گے اور گائیڈز کی اجرت بڑھتی رہے گی۔ تاہم انھیں ان کے فن کی مشق نے اس خطرے سے محفوظ رکھا۔ بہر کیف کبھی کبھی وہ گرد و نواح میں گھومتے پھرتے اور مظاہر فطرت سے شناسائی حاصل کرتے۔ اس کا معکوس اثر ہوا۔ گھوڑوں پر سست رفتاری سے چلتے ہوئے یا آرام کے لیے رکتے ہوئے ان کا زیادہ تر وقت فنی اور تکنیکی نوعیت کے سوالوں میں صرف ہوتا۔ ہر نیا منظر ان کی زبان کو حرکت میں لے آتا اور وہ اس کا انفراد تلاش کرنے لگتے۔

یہ یاد رہنا چاہیے کہ ان کا اولیں مقصد ضخامت پر مبنی وہ کام تھا جو وہ کر رہے تھے: خاکے؛ نوٹس؛ یادداشتیں۔ ان کے کاغذوں میں خاکوں اور تحریروں کی آمیزش تھی۔ ان تفاصیل کا تصویروں اور کندہ کاریوں میں استعمال انھوں نے اگلے مرحلے کے لیے مؤخر کر رکھا تھا۔ کندہ کاری کا کام گردشی ہوتا، اور اس کی ممکنہ لامتناہی پیداوار کا خیال رکھتے ہوئے محتاط رہنا پڑتا تھا۔ یہ چکر ایسے مکمل ہوتا کہ کندہ کاری کے گرد عبارت کا حصار کھینچا جاتا اور اسے کتا ب میں داخل کر دیا جاتا۔

رگینڈاس کے کام کی ستائش میں کراؤس اکیلا نہیں تھا۔ یہ ظاہر تھا کہ وہ عمدہ مصوری کرتا تھا ۔ اوراس کی بنیادی وجہ اسلوب کی وہ سلاست تھی جو اسے حاصل تھی۔ اس کی تصویروں میں ہر چیز سادگی میں نہائی ہوتی تھی۔ اس سے ان میں موتیوں جیسی آب آجاتی تھی اورجو انھیں یوم   نوروز کی طرح روشنی سے بھر دیتی تھی۔ وہ واضح طور پر قابلِ فہم تھیں اور ہیئتی قوانین کی تقلید کرتی تھیں۔ اور تفہیم زیادہ پیداوارکی موجب ہوئی۔ نہ صرف اس کی واحد مطبوعہ کتاب ’برازیل کا تصویری سفر‘ نے یورپ بھر میں خطیر منافع کمایا بلکہ اس کی تصاویر پوسٹروں اور تام چینی کی پرچوں اور پیالیوں پر بھی چھاپی گئیں۔

کراؤس اکثر کارڈی لیرا کی تنہائیوں میں اس غیر معمولی کامیابی کا ذکر ہلکے سے مزاح کے ساتھ کرتا۔ رگینڈاس مسکرا کر یہ ستائش، جس میں دوستانہ استہزا کی آمیزش تو تھی مگر کسی قسم کا طنز نہیں تھا، وصول کرتا اوروہاں ان کو دیکھنے والابھی کوئی نہیں تھا۔ اسی جذبے کے تحت اس نے اس مشورے پر غور کیا کہ ایکونکا گوا کا ایک خاکہ کافی کے کپ کی آرائش کے لیے استعمال کیا جائے۔ بسیط اور خفیف اشیا کو ماہرانہ پنسل کی روزمرہ مزدوری نے یک جا کر دیا۔

تاہم ایکونکا گوا یا کسی بھی پہاڑی کی شکل کو ایک خاکے میں قید کرنا آسان نہیں تھا۔ اگر پہاڑ کو فنکارانہ بے ربطیوں کا حامل ایک مخروط تصور کیا جائے تو تناظر میں ہلکی سی تبدیلی بھی اسے ناقابلِ تشخیص بنا دے گی، کیونکہ اس کا خاکہ یکسر بدل جائے گا۔

وہ مسلسل موضوعاتی دریافتیں کر رہے تھے۔ روزمرہ کی تصویر کاری میں موضوع بہت اہم ہوتا ہے۔ دونوں فنکار اپنی صلاحیت کے مطابق منظر نامے کو فنی اور جغرافیائی طور پر دستاویز کر رہے تھے۔

وہ عمود میں واقع جغرافیائی یاا رضی سمتوں کو کسی کی مدد کے بغیر خود سے سمجھ رہے تھے۔ کیونکہ وہ معدنی چٹانوں، سلیٹوں، کاربن کے ریشوں، ستونی بسالٹوں، پودوں، کائیوں اور کھمبیوں سے واقف تھے۔ مگر جب افقی سمتوں کی بات آتی تو انھیں چلی سے تعلق رکھنے والے اپنے گائیڈوں یا رہنماؤں پر انحصار کرنا پڑتا، جو کہ عجیب و غریب ناموں کا ایک بے تکان ماخذ ثابت ہوئے۔ ایکونکا گوا اُن میں سے ایک تھا۔

منظر نامے کو بناتا ہوا افقی اور عمودی لائنوں کا گرڈ، انسان کے بنائے ہوئے نشانات سے اٹا ہواتھا جو اپنی جگہ گرڈ کی طرح نظر آتے تھے۔ گائیڈ بغیر کسی التوا کے حقیقت کی طرف متوجہ ہوتے۔ متغیر موسم اور ان کے جرمن گاہکوں کی حماقتوں نے، جنھیں وہ عزت اور حقارت کے ملے جلے جذبات سے ایسے دیکھتے کہ اس میں بدتمیزی کا عنصر نہ ہوتا، ان کی اس دنیا کو جو انھیں بلا تغیر،  زبانی یاد تھی، ایک معمے میں بد ل کے رکھ دیا۔ جرمن، آخر کار، سائنس اور فن کو برابری کی شرائط پرباہم ملا رہے تھے۔ یہ ملاقات ایسا ادغام تھا جو کسی قسم کی بوکھلاہٹ کا شکار نہیں تھا۔ اور دو یکسر مختلف علوم کو ظاہر کرتا تھا۔

سفر اور مصوری دونوں رسی کے ریشوں کی طرح آپس میں بٹے ہوئے تھے۔وہ بتدریج راہ کی مشکلات اور خطرات کو پیچھے چھوڑتے چلے آ رہے تھے۔یہ جاننا واقعی خطرنا ک تھا اور اس پر یقین کرنا بہت مشکل تھا کہ یہی وہ راستہ تھا جس پر سارا سال مسافر، تاجر اور خچروں والے سفر کرتے تھے۔ کوئی بھی صحیح الدماغ شخص اس کو خود کشی کاکوئی طریقہ سمجھتا۔ فاصلِ آب کے نزدیک تقریباً دو ہزار کلومیٹر کی بلندی پر جہاں چوٹی بادلوں میں گم ہوتی دکھائی دیتی تھی۔ وہاں نقطہ الف سے نقطہ ب تک کا راستہ، دراصل ہر نقطے سے ہر  راستے کے غائب ہونے کا اشارہ کر رہا تھا۔

نوکدار خطوط، ناممکن زاویے، چٹانوں کی چوٹیوں سے نیچے کی طرف اگتے ہوئے درخت، عمودی ڈھلوانیں جو تمازت خیز سورج کے نیچے، برفانی چوغوں میں کھو جاتی تھیں۔ اور پیلے بادلوں سے برستے ہوئے بارش کے تیر؛ کائی زدہ رنگین پتھر؛ گلابی جھاڑیاں۔ تیندوے، خرگوش اور سانپ، پہاڑوں میں افسر شاہی ترتیب دیتے تھے۔ گھوڑے بدکنا اور لڑکھڑانا شروع ہو گئے تھے۔ اس لیے آرام کا وقت ہو گیا تھا۔ خچر تو دائما ًغنودگی میں ہی رہتے تھے۔

ابرقی چوٹیاں ان کی پیش قدمی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھیں۔ ان مناظر کو قابلِ یقین کیسے سمجھا جا سکتا تھا؟ ان کی بہت ساری اطراف تھیں۔ یہاں مکعب بھی زیادہ چہروں والا تھا۔ آتش فشانوں نے آسمان کو داخلی آرائش سے مزین کیا ہوا تھا۔ طلوع اور غروب کے دھندلکے، خاموشی کے جسم پر کھینچے گئے وسیع بصری دھماکے معلوم ہوتے تھے۔ سورج کی غلیلوں اور بندوقوں سے چلنے والی گولیاں ہر گھاٹی سے ٹکرا کر واپس پلٹتی تھیں۔ سرمئی پہنائیاں، خشک ہونے کے لیے دائماًوسیع خاموشیوں میں پڑی رہتی تھیں۔

 ایک رات کراؤس نے کہا کہ اسے ڈراؤنے خواب آئے ہیں۔ اس دن اور اس سے اگلے دن ان کی ساری گفتگو خود کو مجتمع کرنے کے اخلاقی طریقوں کے بارے میں ہوتی رہی۔ وہ حیرت کے مارے سوچتے رہے کہ کیا کبھی ان پہاڑوں میں شہر بھی تعمیر ہوں گے۔ کیسا لگے گا؟

 شایدکچھ جنگوں کے اختتام پر سنگین قلعوں کو خالی چھوڑ کر، سرحدوں پر لگی باڑوں اور کان کنوں کے دیہاتوں کو خیرباد کہتے ہوئے چلی اور ارجنٹائنا کے باشندے شاید کسی دن یہاں آن بسیں اور یہاں آکے اپنی عمارات اور سازو سامان بنانا شروع کر دیں۔ یہ رگینڈاس کا خیال تھا۔ شاید اس پر اپنے آبا و اجداد کی بنائی ہوئی حربی مصوری کا اثر اب تک باقی تھا۔ دوسری طرف کراؤس اپنی دنیا داری کے باوجود کسی صوفیانہ نو آبادی کے حق میں تھا۔ اس کے خیال میں دوردراز کے تہہ خانوں میں قائم متصلہ معبدوں کا سلسلہ ان تنگ و تاریک گھاٹیوں میں بدھ مت کی نئی دنیا قائم کر سکتا تھا اور ان کے بجتے ہوئے بگل، یہاں سوئے ہوئے جنات اور بالشتیوں کو جگا دیں گے۔ ’ ہمیں اسے تصویر کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا۔’ مگر اس کا یقین کون کرے گا؟‘

بارش؛ دھوپ؛ دبیز دھند کے دو دن؛ سیٹیاں بجاتی بارش، قرب وبعید کی ہوائیں، نیلی بلور راتیں، اوزون کے جواہر۔ دن کے اوقات میں موسم کا مزاج متلون رہتا مگر غیر متوقع نہ ہوتا۔ ان کے سامنے مناظر بھی ایسے ہی تھے۔ ان کے سامنے پہاڑ، یوں تہہ در تہہ بلند ہوئے کہ ان کا ذہن انھیں از سرِ نو ترتیب دینے کے کھیل کھیلنے لگا۔

ہفتے کے بیشتر دن وہ بل دار اشکال کے مطالعے میں منہمک رہے۔ ان کی ملاقات ہر نوع کے خچر، گاڑی بانوں سے ہوئی۔ مینڈوزاسے آنے والے چلی اور ارجنٹائینی باشندوں کے ساتھ ان کی عجیب و غریب گفتگوئیں ر ہیں۔ حتّٰی کہ ان کی ملاقات پادریوں اور یورپی باشندوں سے بھی ہوئی، اور گائیڈوں کے چچاؤں اور سالوں سے بھی۔ مگر ان کی تنہائی جلد ہی بحال ہو گئی۔ نظر سے اوجھل ہوتے لوگ انھیں اپنے کام کی تحریک دینے لگے۔

چند   برسوں سے رگینڈاس نئی تکنیک کے تجربات کر رہا تھا: آئل سکیچ۔ یہ ایک اختراع تھی جسے فنی دنیا میں تسلیم کیا جاچکا ہے۔ اسے باضابطہ طور پر تأثریتی (impressionist)  مصوروں نے پچاس سال بعد استعمال کیا۔ مگر اس نوجوان جرمن فنکار کے پیشرو چند مٹھی بھر خبطی انگریز فنکار تھے، جو  ٹرنر کے مقلد تھے۔ عموماً یہ ضابطے کے تحت کیا جانے والا کام کم تر فنی سطح کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایک طرح سے ٹھیک بھی تھا، مگر یہ اس پینٹنگ کا ازسرِ نو جائزہ لینے کیا اشارہ کرتا ہے۔

رگینڈاس کی روزانہ مشق پر یہ اثر ہوا کہ وہ سلسلہ وار، (کندہ کاری اور آئل پینٹنگ) کے لیے مسلسل تخلیق ہوتے بنیادی خاکوں کو ایک آدھ پینٹنگ سے رموزِ اوقاف دیتا۔ کراؤس اس کے نقش قدم پر نہیں چلتاتھا۔ وہ ان چھوٹے پارچوں پر تیزابی رنگوں سے ابھرنے والے ہیجانی نقوش کا مشاہدہ کرنے پر قانع تھا۔

بالآخر یہ واضح ہو گیا کہ وہ پہاڑی منظر نامے کو پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ اگر وہ دوبارہ یہاں سے گزرتے توکیا ان مناظر کو شناخت کر سکتے تھے؟ (گوان کا ایسا کوئی اراد ہ نہیں تھا)۔ ا ن کے پاس یہاں کی سوغاتوں سے لبا لب بھرے ہوئے تھیلے تھے۔ ’میں اب بھی اپنے ذہن کی آنکھ سے سب دیکھ سکتا ہوں—‘۔  ان کا روز کا تکیہ کلام تھا۔ مگرصرف ذہن کی آنکھ ہی کیوں؟ انھیں ابھی تک وہ اپنے چہروں، بازوؤں، کندھوں، بالوں اور ایڑیوں میں محسوس ہوتا تھا—  اپنے سارے اعصابی نظام میں موجود محسوس ہوتا تھا۔

بیس جنوری کی شاندار شام کی روشنی میں وہ خاموشیوں اور ہوا کے اجتماع پر متحیر تھے۔ چیونٹیوں جیسا نظر آنے والاخچروں کا ایک ریوڑ خم دار راستے کے جھٹپٹے میں ستارہ وار چلتا نظر آیا۔ ان خچروں کو انسانی ذہانت، تجارتی مفاد اور نسلی افزائش کی مہارت ہانک رہی تھی۔ ہر شے انسان سے متعلق تھی؛ بعید ترین بیابان بھی ملنساری سے جھکے ہوئے تھے۔ اور ان کے بنائے ہوئے خاکے اب تک اگرکچھ اہمیت رکھتے تھے تو صرف یہ کہ وہ ان کی فطرت میں اس منظر نامے کے انجذاب کی دستاویز تھے۔ کارڈی لیرا کے پہاڑوں کے لامتناہی نقوش، ہیئت اور رنگ کی لیبارٹری تھے۔ محوِ سفر مصور کے وجدانی ذہن میں ارجنٹائنا کانقشہ کھل گیا۔

لیکن پلٹ کرآخری مرتبہ دیکھتے ہوئے اینڈیز کا شکوہ وحشی اور پراسرار نظر آیا: بے حد وحشی اور پراسرار۔ چند روز تک نشیبوں میں سست روی سے سفر کرتے ہوئے انھیں تھکا دینے والی گرمی کا احساس ہوا۔ جب اس کی روح چٹانوں کی اس کائنات کے الوداعی منظر کا خواب دیکھنے میں محو ہوتی تو رگینڈاس کا بدن پسینے میں بھیگا ہوتا۔ بلندی پر چلتی ہوا چوٹیوں پر جمی برف اتارتی اور انھیں سست خرام مصوروں کے پیروں میں پھینک دیتی، کسی وفادار خادم کی طرح جو ونیلا آئس کریم سے ان کی تواضع کرنا چاہتی ہو۔

اس عقب نگاہی سے ظاہر ہونے والا منظر ان کے ذہن میں پرانے شکوک، پرخطر وسواس  تاز ہ کردیتا تھا۔ رگینڈاس کو اکثر یہ سوال پریشان کرتا  آیاوہ زندگی گزارنے کے قابل ہو جائے گا۔ کیا اس کا کام یعنی اس کا فن اس کی مدد کرے گا؟ کیا وہ دوسرے لوگوں کی طرح زندگی گزارنے کے قابل ہو گا؟ اب تک وہ گزارا کرتا چلا آیا تھا۔ اور کافی سہولت سے کر لیتا تھا مگر اس کی وجہ اس کی نوجوانی کی توانائیاں بھی تھیں اور اکادمی میں اور دیگر جگہوں پر اس کی حاصل کی گئی تربیت بھی۔

خوش قسمتی کا ذکر بھی ضرور کرنا چاہیے۔ مگر اسے یقین تھا کہ وہ بہت عرصہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ مگر پلٹ کر جانے کے لیے اس کے پاس تھا بھی کیا؟ صرف اس کا پیشہ اور کچھ بھی نہیں۔ اور اگر وہ مصوری میں بھی ناکام ہوا؟

اس کا کوئی گھر نہیں تھا؛ بینک میں پیسے نہیں تھے؛ اور کاروبار کے لیے جو خصوصیات درکار ہوتی ہیں وہ اس میں نہیں تھیں۔ اس کا باپ مر چکا تھا، اور وہ چار سال سے اجنبی سرزمینوں میں آوارہ گردی کررہا تھا۔

اس نے اس کے ذہن میں ایک مخصوص تناظر والی دلیل کو جنم دیا: ’’اگر دوسرے لوگ کر سکتے ہیں تو— ‘‘۔ وہ تمام لوگ جن سے وہ گاؤں یا شہر، جنگل یا پہاڑ میں ملا تھا؛ کسی نہ کسی طرح گزارہ کر رہے تھے۔مگر وہ سب اپنے اپنے ماحول کے باسی تھے۔ انھیں علم تھا کہ انھیں کس صلے کی توقع کرنی چاہیے جبکہ یہ مکمل طور پر تقدیر کے رحم و کرم پر تھا۔

موہوم تقدیر! اسے کس طرح یہ یقین تھا کہ فطرت کی ہیئتی مصوری اسے بے مصرف اور پرعناد حسن کے سامنے بے یار و مدد گار چھوڑ کر کبھی متروک نہیں ہو گی؟ اس نے اساطیری اور دیومالائی کہانیوں میں پناہ لی۔ جنھوں نے اسے کوئی عملی بات تو نہیں سنائی مگر اسے کم از کم یہ معلوم ہو گیا کہ کہانی ہمیشہ چلتی رہتی ہے۔ ہیرو کو ہمیشہ نت نئے اور پہلے سے زیادہ غیر متوقع حالات کا سامنا رہتا ہے۔ اور افلاس کی اہمیت محض ایک باب کی ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی جنوبی امریکی چرچ کے سامنے بھیک مانگتے ہوئے پایا جائے۔ اس کی صورتِ حال میں کوئی بھی خوف نامعقول نہیں تھا۔

یہ تمام افکار ان اوراق کا حصہ بنے جن پر اس نے آگس برگ میں مقیم اپنی بہن لوئزے کو خط لکھا۔ پہلا خط اس نے مینڈوزا سے لکھا تھا۔

پھر اچانک وہ مینڈوزا میں تھے۔ یہ سہ رویا گلیوں والا خوبصورت قصبہ تھا۔ جہاں پہاڑ بالکل سامنے تھے اور آسمان بیزار کن حد تک نیلگوں یکسانیت کا حامل۔موسم گرما کا وسط تھا۔ گرمی سے مبہوت مقامی باشندوں نے اپنے قیلولے کا وقت شام چھ بجے تک بڑھا دیا۔خوش قسمتی سے نباتات گھنے سایہ دار تھے۔ دبیز شاخوں نے ہوا کو آکسیجن سے بھر دیا تھا۔ سو جب بھی ممکن ہو گہرے سانس لینے سے طبیعت بحال ہوتی تھی۔

چلی سے ساتھ لائے ہوئے دوستوں کے تعارفی خطوط سے لیس مسافروں نے مستعداور ملنسار گوڈوئے دی ولا نیوا خاندان کے گھر میں قیام کیا۔ یہ درختوں کے سائے میں گھرا ایک بڑا گھر تھا جس میں اک بڑا باغ اور کئی باغچے تھے۔ اس آبائی گھر میں تین نسلیں باہمی حسن سلوک کے ساتھ مقیم تھیں اور چھوٹے بچے ان کے گرد تین پہیوں والی سائیکل چلاتے تھے۔ رگینڈاس نے ان کا خاکہ اپنی نوٹ بک میں محفوظ کیا۔ اس نے پہلے یہ نہیں دیکھی تھیں۔ یہ اس کا پہلاا رجنٹینی خاکہ تھا جو ایسی سواری کا پیشرو تھا جو اچانک دنیا میں غیر متوقع طور پر رائج ہو جائے گی۔

انھوں نے مینڈوزا اور اس کے مضافات میں ایک خوشگوار مہینہ صرف کیا۔ مقامی باشندے معزز مہمان کے استقبال میں جھک جاتے جو کراؤس کی رفاقت میں چراگاہوں کی تفریح کو نکل جاتا (جو بے شک ایسے مسافر کے لیے دلچسپی کا سامان تھیں جو بہت دور سے آیا ہو)؛ مضافاتی زمینوں کا دورہ کرتا اور ارجنٹائنا کی ہوا میں بھیگ جاتا، جو سرحد کے قریب واقع چلی کے گاؤں سے بیک وقت بہت مماثل بھی تھی اور بہت مختلف بھی۔مینڈوزا دراصل مشرق کی طرف اس طویل سفر کا نکتۂ آغاز تھا جو پمپا (ارجنٹائنا کا میدانی علاقہ) کے میدانوں سے گزرتے ہوئے اساطیری شہر بیونس آئرئس تک جاتا اور جو اسے اس کے مخصوص،اچھوتے کردار میں ڈھالتا تھا۔

ایک اور قابلِ غور بات یہ تھی کہ شہر اور گرد و نواح کی تمام عمارتیں نئی نظر آتی تھیں۔ اور در اصل ایسا ہی تھاکیوں کہ زلزلے اس بات کی یقین دہانی کرتے تھے کہ انسان کی بنائی ہوئی تمام عمارتیں تقریباً پانچ سال بعد ازسر نو تعمیر کرنی پڑیں۔ اس از سر نو تعمیر سے ملکی معیشت پر اچھا اثر پڑتا تھا۔

رگینڈاس زلزلے کی تصویر کشی کرنا چاہتا تھا۔ مگر اسے بتایا گیا کہ سیاروں کے مطابق ابھی اس کا مناسب وقت نہیں آیا تھا۔ تاہم علاقے میں اپنے قیام کے دوران وہ، مسلسل اور چوری چھپے، امید کرتا رہا کہ وہ زلزلہ دیکھے گا۔ وہ ایسا کہنے سے باز رہا۔ اس معاملے میں، اور دوسرے معاملات میں بھی، اس کی خواہش نا آسودہ رہی۔ بے کشش مینڈوزا نے بہت سے وعدے کیے جو کسی وجہ سے پورے نہ ہو سکے مگر جنھوں نے بالآخر وہاں سے ان کے کوچ کا اشارہ کیا۔

اس کا دوسرا خواب انڈینز کا حملہ دیکھنا تھا۔ اس علاقے میں ان کی حیثیت واقعی انسانی طوفان جیسی تھی مگر ان کی فطرت کیلنڈر اور پیش گوئیوں سے باغی تھی۔ ان کی پیش گوئی کرنا ناممکن تھا۔ وہ اگلے گھنٹے میں بھی وارد ہو سکتے تھے اور یہ بھی ممکن تھا  وہ اگلے سال تک نہ آئیں۔ اور ابھی جنوری تھا۔ رگینڈاس ان کی تصویر بنانے کے لیے پیسے بھی دے سکتا تھا۔

اس مہینے کی ہر صبح وہ رازداری سے یہ امید دل میں لیے ہوئے بیدار ہوتا کہ شاید وہ د ن آ چکا ہے۔ زلزلے کے متعلق ایسی کسی خواہش کااظہار کرنا بدذوقی ہوتی۔ اس اخفا نے اس کو تفصیلات کے معاملے میں بہت حساس کر دیا تھا۔اسے مکمل یقین نہیں تھا کہ زلزلے کی کوئی پیش آگاہی نہیں ہوتی۔ بظاہر پیشہ ورانہ وجوہ کی بنا پر،  وہ اپنے میزبان سے زلزلے کی آمد سے قبل ملنے والے اشاروں پر سوال کرتا رہتا۔ایسا لگتا تھا کہ وہ زلزلے سے کچھ منٹ یا کچھ گھنٹے قبل نمودار ہوتے ہیں: کتوں کا بھونکنا؛ مرغیوں کا اپنے انڈوں کو ٹھونگیں مارنا؛ چیونٹیوں کا جتھے بنا لینا؛ پودوں پر اچانک پھول اگ آنا وغیرہ۔ اس وقت کچھ کرنے کا وقت نہ ہوتا۔

مصور اس بات پر قائل تھا کہ اس علاقے کی ثقافت میں انڈینز کے حملے کے بارے میں ایسی ہی فوری اور غیر متوقع تبدیلیوں کے اشارے ملتے ہوں گے۔ مگرا سے اپنے اس الہام کی توثیق کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اور فطرت کو اپنی تاخیر کاجواز بنا لینے کے باوجود، اب وقت تھا کہ وہ آگے بڑھتے۔

اس معاملے میں ہمارے مصور کے پاس صرف عملی وجوہات نہیں تھیں بلکہ برسوں سے ارجنٹائناکے بارے میں اس کی بنائی ہوئی، اس کی خود ساختہ اساطیر نے اسے ایک مہینہ ارجنٹائنا کی دہلیز پر گزارنے کے بعد بتدریج اندر سے بہت شدت سے آگے بڑھنے پر مائل کیا۔

ان کی رخصت سے کچھ دن قبل ایملیو گوڈوئے نے وہاں سے تقریباً تیس میل جنوب میں واقع ایک قصبے میں موجود بڑے جانوروں کے ایک بڑے باڑے میں ان کے لیے ایک تفریح کا بندوبست کیا۔ اس دورے کے دوران انھوں نے جن مناظر کی سیر کی اس میں سے ایک پہاڑی چوٹی بھی تھی۔ جہاں سے انھیں جنوب کی طرف پھیلتے جنگل اور گرد و نواح کا بھرپور نظارہ ملتا تھا۔ ان کے میزبان کے مطابق یہی وہ جنگلی راہداریاں تھیں جہاں سے عموماً انڈین نمودار ہوتے تھے۔ وہ اس سمت سے آتے تھے اور حملے کے بعد ان کے تعاقب میں نکلے ہوئے مینڈوزا کے باڑے کے مالکان نے عجیب و غریب مناظر کا مشاہدہ کیا: برفانی چوٹیاں؛ جھیلیں؛ دریا؛ گھنے جنگل۔ ’’آپ کو یہ پینٹ کرنا چاہیے— ‘‘۔

یہ جملہ اسے پہلی دفعہ سننے کو نہیں ملا تھا۔ کئی دہائیوں سے وہ جہاں بھی جاتا لوگ اسے یہ بات کہتے۔وہ اس نصیحت کے معاملے میں کافی محتاط ہو چکا تھا۔ ان کو کیا پتا کہ اسے کیسے پینٹ کرنا چاہیے تھا؟ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے اس مقام پر جب کہ پمپاکے وسیع میدانوں کی عریانی اس کے سامنے تھی،اس کا فن، اس نے محسوس کیا کہ اسے مخالف سمت میں کھینچ رہا ہے۔اس کے باوجود بھی گوڈوئے کی منظر کشی نے اسے خواب دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ چشم تصور سے اس نے دیکھا کہ انڈینز کی برفانی سلطنت ایسی کسی بھی تصویر سے زیادہ خوبصورت اور پرا سرار تھی جسے مصور کرنے کی وہ صلاحیت رکھتا تھا۔

دریں اثنا، اس کی مصوری کی صلاحیت نے ایک نئی اور غیر متوقع شکل اختیار کی۔ گائیڈ کا بندوبست کرنے کے دوران اس کا سامنا ایک عجیب الخلقت اور حیر ت انگیز شے سے ہوا: بڑے بڑے چھکڑے جو پمپا کے میدانوں میں سفر کے لیے استعما ل ہوتے تھے۔

۰۰۰

(ناول کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے)

سیزر ایئرا۔César Aira۔ اجنٹائنی مصنف

سیزرایئرا

سیزرایئرا کے بارے میں بیشتر احباب آگاہ ہیں کہ وہ ایک ارجنٹائنی ناول نویس ہیں اور پچھلے برسوں سے نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد ہو رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سال ۲۰۲۵ء کے نوبیل انعام کے لیے وہ دوڑ میں خاصے آگے سمجھے جا رہے تھے۔ بہت سے تجزیہ نگار انھیں ’’ہارٹ فیورٹ‘‘ قرار دے رہے ہیں جب کہ میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی اس دوڑ میں بہت پیچھے دکھائی دے رہے تھے۔ البتہ چونکا دینے والے فیصلے تو پہلے بھی نوبیل انعام کمیٹی کرتی رہی ہے۔

سیزر بکرانٹرنیشنل پرائز ۲۰۱۵ء کے فائنلسٹ رہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۵ء کے عرصے کے دوران بکر فاؤنڈیشن نے کسی ادیب کی تمام ادبی خدمات پر ساٹھ ہزار پونڈ کا ایک انعام دیتی رہی تھی اور سیزر ایئرا اسی انعام کے فائنلسٹ تھے. اتفاق دیکھیے کہ یہ انعام میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔

۰۰۰۰

منیر فیاض

اردو اور انگریزی کے ممتاز شاعر، مترجم، نقاد ہیں ۔ وہ ایف جی کالجز، اسلام آباد، پاکستان میں اسسٹنٹ پروفیسر (انگریزی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دارلحکومت کی معروف یونیورسٹی میں ’’مطالعہِ ادب و تراجم ‘‘پر لیکچر دیتے ہیں۔ اُنھوں نے حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے ’’پاکستان ادب‘‘ (پاکستان کی ہم عصرافسانے) کے ایک خصوصی شمارے کی ادارت بھی کی ہے۔

تراجم

 منیر ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے براڈکاسٹر اور پاکستان ٹیلی ویژن (ورلڈ) کے ادبی پروگراموں کے پینلسٹ بھی ہیں۔ وہ ۲۰۰۹ء سے پاکستانی شاعری اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کر رہے ہیں۔ اُردو میں اُن کے تراجم یہ ہیں: معاصر چینی مختصر کہانیاں، کرغزمصنف چنگیز ایتماتوف کے ناول، نیپالی شاعروں کی ایک مجموعہ ’’نیپال کی آواز‘‘۔ مزید برآں، اُنھوں نے بین الاقوامی شہرت کے شاعروں اور ادیبوں: نجیب محفوظ اور جان ایشبیری، اور امریکی شاعر ٹریسی کے سمتھ اور جوآن فلپ ہیریرا کی سوانح بھی رقم کی ہیں۔

۰۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب
Exit mobile version