
اندھیری رات میں؍ محمود تیمور؍ ڈاکٹرعمیر رئیس الدّین
شیخ حابی اپنے گھر کے سامنے چھوٹے سے باغ میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ ایک نوجوان بوجھل قدموں کے ساتھ بڑی مشکل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چہرہ گرد…۔

شیخ حابی اپنے گھر کے سامنے چھوٹے سے باغ میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ ایک نوجوان بوجھل قدموں کے ساتھ بڑی مشکل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چہرہ گرد…۔

وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں پر سخت غصہ بھی آ رہا تھا۔
ہر رات میں گھنے اور بلند درختوں کے نیچے انہیں سمجھاتا— کبھی سختی سے، کبھی نرمی سے…۔

میری ماں کا پہلا بچّہ فوت ہو گیا تھا، مجھے حیات میں آنے کے بعد دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں بتا دیا گیا تھا۔
مجھے بتا دیا گیا تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی، ہلالی چاند جیسے چاولوں کے کیک ایسے سپید چہرے والی۔ گو وہ بہت چھوٹی تھی، ستوانسی، لیکن اُس کے نقوش کامل تھے۔ مَیں وہ لمحہ…۔

موسم بہار کا تہوار تھا۔ تنگ گلی کوچوں میں خوش گوار انسانیت نے جنم لیا، جو شکارگاہ میں سے نکلنے والے چمک دار خرگوشوں کے جھنڈ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ شہر سے باہر روشنیوں کے سمندر میں داخل ہوگئے اور میلے کی جانب چل پڑے۔