تراجم عالمی ادب

ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب۔ ناول ۔ سیزر ایئرا ۔ César Aira ۔ دوسرا حصہ ۔ اردو ترجمہ۔ منیر فیاض
ناول
سیزر ایئرا

ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب(دوسراحصہ)؍سیزر ایئرا؍منیر فیاض

گھوڑاکیکڑے کی طرح دائروں میں چکر کھا رہا تھا۔ ہزاروں بارودی خول اس کے اردگر د پھٹ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے جسم کے گرد ہالہ بنا رہے ہوں۔ ایسا ہالہ جو جانور کے ساتھ ہی حرکت کر رہا تھا مگر اسے چھیڑ نہیں رہا تھا۔ کیا آدمی اور اس کا گھوڑا چیخے چلائے؟ صدمے سے وہ ماؤف ہو چکے تھے…۔

مزید پڑھیے
Urdu_Translation_of_April_23_A_Holiday_Story_Selma
افسانہ
سلمیٰ آئیڈن

اپریل۲۳، افسانہ ایک تعطیل کا

تئیس اپریل کو ہمارے سکول میں قومی خودمختاری اور بچوں کا عالمی دن منانے کی تیاری عروج پر تھی۔ چنیدہ طالب علم تقریب کے لیے ادارے کے نمائندہ تھے جب کہ اساتذہ نے کئی طالب علموں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق تقریب کی تیاریوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ منتخب…۔

مزید پڑھیے
حادثہ (ناول کا باب) از ناول گم شدہ جوانی کا کیفے از پیٹرک موڈیانو-نوبیل انعام ۲۰۱۴ء- ترجمہ- ریحان اسلام-
ناول کا باب
پیٹرک موڈیانو

حادثہ؍پیٹرک موڈیانو؍ریحان اسلام

آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔ یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔… جب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی…۔

مزید پڑھیے
دخترِ ثانی- ناولچہ دوسرا حصہ- انی ایغنو اردو ترجمہ- نجم الدّین احمد
ناولچہ
اَنّی ایغنو

ناولچہ:دخترِ ثانی (دوسراحصہ)؍اَنّی اَیغنو؍نجم الدّین احمد

مجھے سولہ کے سن کی اپنی وہ دہشت زدگی بھی یادہے جب چچی مَیری لوئیس نے اتوار کی شراب کے نشے میں دُھت چُپ رہنے کااپنا قول فروگزاشت کر کے ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہُوئے، جس کی طرف میں نے تکاتک نہیں، مجھے بتایا کہ…۔

مزید پڑھیے
ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب۔ ناول ۔ سیزر ایئرا ۔ César Aira ۔ تیسرا حصہ ۔ اردو ترجمہ۔ منیر فیاض
ناول
سیزر ایئرا

ایک فطرت نگار مصور کی زندگی کا باب(تیسراحصہ)؍سیزر ایئرا؍منیر فیاض

مرد دفاعی انتظامات میں مصروف تھے۔ پہلا موقع نہیں تھا کہ انھوں نے انڈینز کو پرے دھکیلنے کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوں اور نہ ہی آخری۔ اور ان کے انداز میں تساہل جھلکتا تھا۔ بس یہ ان کے روزمرہ کا حصہ تھا۔ مگر اس واقعے کی رسمی نوعیت نے اس کے دفاعی انتظام کو بہتر نہیں کیا تھا…۔

مزید پڑھیے
The_White_Book_Han_Kang_Nobel_Prize_2024_Excerpt_from_Novel_Urdu_Translation
ناول کا باب
ہن کانگ

ابیض— ذہنی حالت

میری ماں کا پہلا بچّہ فوت ہو گیا تھا، مجھے حیات میں آنے کے بعد دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں بتا دیا گیا تھا۔
مجھے بتا دیا گیا تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی، ہلالی چاند جیسے چاولوں کے کیک ایسے سپید چہرے والی۔ گو وہ بہت چھوٹی تھی، ستوانسی، لیکن اُس کے نقوش کامل تھے۔ مَیں وہ لمحہ…۔

مزید پڑھیے
Lydia-Devis_Meri_Aik_Dost_Ki_Sunai_Hui_Kahani_Flash_Fiction_Urdu_Translation
افسانچہ
لڈیا ڈیوس

میری ایک دوست کی۰۰۰

گُزشتہ روز میری ایک دوست نے مجھے اپنے ایک پڑوسی کی دُکھ بھری کہانی سنائی۔ اُس کے پڑوسی کی ایک آن لائن دوستی سروس کے ذریعے ایک اجنبی سے بات چیت شروع ہو گئی۔ اُس کا وہ دوست اُس سے سینکڑوں مِیل دُور شمالی کیرولینا میں رہتا تھا۔ دونوں میں پہلے پیغامات کا، پھر تصویروں کا تبادلہ…۔

مزید پڑھیے
ان کے آنے کی خبر (ناول کا باب) از ناول شیطانی تانگو از لاسلوکراسناہورکارئی-نوبیل انعام ۲۰۲۵ء- ترجمہ- محمد عامر حسینی-
ناول کا باب
لاسلو کراسناہورکائی

ان کے آنے کی خبر؍ ‌ لاسلو کراسناہورکائی؍ محمد عامر حسینی

سب سے نزدیکی کلیسا جنوب مغرب میں چار کلومیٹر دور،پرانے ہوخ مائس کے کھیت میں تھا۔ لیکن وہ ایک ویران کھنڈر تھا، جس میں گھنٹی تھی نہ مینار— جوجنگ کے دوران گرچکا تھا۔ اورشہر اتنا دورتھا کہ وہاں سے کوئی آواز یہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی، وہ…۔

مزید پڑھیے
Mujhy yahan ki kisi shay ki hajat nhi László Krasznahorkai urdu translation
افسانچہ
لاسلو کراسناہورکائی

مجھے یہاں  کی کسی شےکی حاجت نہیں

میں سب کچھ یہیں چھوڑ جاؤں گا: یہ وادیاں، یہ جبل، یہ راہیں اور چمن کے یہ نیل کنٹھ۔ میں یہیں چھوڑ جاؤں گا، یہ طاؤس و مینا، فلک و ارض اور بہار و خزاں۔ یہاں کی خارجی راہیں یہیں چھوڑ جاؤں گا، مطبخ کی شامیں، آخری فریفتہ نگاہیں، اور لرزا طاری کر دینے والی شہر سے ہمہ سمت نکلنے والی تمام حدیں…۔

مزید پڑھیے
فرانسیسی کہانی۔ واپسی۔ انّی ایغنو۔ ترجمہ خالد فرہاد دھاریوال
افسانہ
اَنّی ایغنو

واپسی؍ انّی ایغنو؍ خالد فرہاد دھاریوال

وہ جولائی کا ایک اتوار تھا جب میں آخری بار اپنی ماں سے اُن کے گھر میں ملی تھی۔ میں بذریعہ ٹرین وہاں گئی تھی۔ ’موٹے ویل‘ میں، ہم دیر تک اسٹیشن پر بیٹھی رہیں۔ بہت گرمی تھی۔ ڈبے کے اندر اور باہر، دونوں جگہ مکمل سکوت تھا۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب