تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

ارجنٹائنی ناول

ایک فطرت نگار مصور

کی زندگی کا باب

سیزر ایئرا

César Aira

ترجمہ؍منیر فیاض

نوبیل انعام کے لیے پچھلے برسوں سے مسلسل نامزد ہونے والے معروف ارجنٹائنی ادیب سیزر ایئرا  کا مکمل ناول(قسط وار) 

تیسرا حصہ

(ناول کادوسرا حصہ  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے)

مارفین اس کے دماغ میں جمع ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی مدد سے اس نے دوبارہ اپنے فن کی مشق شروع کی اور اس نے اپنے روزمرہ کا معمول درد کُش اور ڈرائنگ کے اردگرد ترتیب دیا۔ یوں اس نے ایک طرح کی باقاعدگی حاصل کر لی تھی۔ اس کا ہیئتی مصوری کا ضابطہ ایک ایسی صلاحیت ثابت ہوا جو ناقابلِ تخفیف تھی۔ سینٹ لوئی کے عمیق اور وجد آفریں منظر نامے نے اس کی بحالی کی مشق کے لیے مثالی موضوع فراہم کیا۔ فطرت، اپنے انیس نباتاتی مراحل کے ساتھ، عدم کی روشنی میں لپٹی ہوئی اس کے تناظر میں ڈھل گئی: مارفین زدہ منظر نامہ۔

ایک فنکاراپنے فن کی مشق سے، حتّٰی کہ بدترین حالات میں بھی، بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اور رگینڈاس نے اس معاملے میں ہیئتی مصوری کا ایسا ضابطہ دریافت کر لیا تھا جو اب تک اس کی نگاہوں سے اوجھل تھا۔ یہ موضوع کی تکرار پر اساس کرتا تھا۔ تصویر میں شامل ٹکڑوں کو بار بار اور جگہ کی تبدیلی کے بغیر پینٹ کیا جاتا تھا۔ یہ عمل فنکار پر بھی فوراً واضح نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان ٹکڑوں کا حجم بڑی حد تک متغیر رہتا۔ و ہ ایک نکتے سے لے کر چاروں اطرا ف کے منظر پر پھیل جاتا (جس سے اس کی تصویر کی سمتوں میں بے حد اضافہ ہوتا)۔ مزید یہ کہ ان ٹکڑوں کا بیرونی خاکہ تناظر کی تبدیلی کے ساتھ اپنی شکل بدل لیتا۔ وہ تاؤ کے ڈریگن کی طرح بیک وقت بہت بڑااور بہت چھوٹا ہو جاتا۔

بہت ساری دریافتوں کی طرح یہ دریافت بھی خالصتاً اتفاقیہ محسوس ہوئی۔ مگر ایک دن شاید اس کی کوئی عملی توجیہ سامنے آجائے گی۔

آخر کار، فن اس کا راز تھا۔ اس نے اسے فتح کر لیا تھا اگرچہ اس کے لیے اسے خطیر قیمت ادا کرنا پڑی۔ اس نے اپنی زندگی کی ہر چیز سے فن کی قیمت ادا کی تھی، یہ حادثہ اور اس کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی اس سے باہر کیوں رہتی؟ تکرار اور ردو بدل کے اس کھیل میں وہ بہ آسانی اپنی اس نئی حالت کو بھی خفیہ رکھ سکتا تھا اور کسی بھی دوسرے افسانوی مصنف کی طرح کام کر سکتا تھا۔ تکرار: بہ الفاظِ دگر، فن کی تعریف۔

بہترین ہونے کی یہ دیوانگی کیا تھی؟ اس نے یہ کیوں فرض کر لیا تھا کہ اعلیٰ معیار ہی اس کے کام کرنے کا جواز تھا؟ دراصل وہ معیاری کام کے بغیر کام کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔لیکن اگر وہ غلطی پر ہوا تو؟ یا کسی غیر صحت مندانہ تخیل کا شکار ہوا؟ وہ باقی لوگوں کی طرح کیوں نہیں ہو سکتا تھا۔ مثلاً (کراؤس کی طرح) جو اپنی بساط کے مطابق مصوری کرتے اور دوسری چیزوں کو بھی اہمیت دیتے؟ اس نوع کا اعتدال خاطر خواہ نتائج کا حامل ہوسکتا تھا۔ یہ اسے دوسرے فنون کی مشق کی بھی اجازت دیتا—  یا جن کی اسے خواہش ہوتی—  یا شایدسب کی۔ زندگی براہِ راست اس کا ذریعۂ اظہار بن سکتی تھی۔

یہ مطلقیت اسے ہمبولٹ سے ملی تھی جس نے مصوری کے ذاتی ضابطے کو ایک آفاقی علم کی میکانیات کے طورپر تشکیل دیا تھا۔ مگر جزئیات نگاری کی اس میکانیات کو ان کی رنگ برنگی ترتیب خراب کیے بغیر توڑا جا سکتا تھا جن میں سے ہر ایک اپنے اندر مکمل عمل کی حیثیت رکھتا تھا۔

تقریباً دس د ن کے اندر وہ واپس مینڈوزا میں تھے (یہ ڈیڑھ سو میل کا سفر تھا)۔ وہ انہی گھوڑوں اور انہی راستوں پر سفر کرتے ہوئے انہی چھکڑوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اور اسی گائیڈ اور اسی باورچی کی رفاقت میں واپس پہنچے۔ جو ایک چیز تبدیل ہوئی تھی وہ رگینڈاس کا چہرہ تھا۔ اور سمت تھی۔ انھیں بارش کی وجہ سے کچھ تاخیر کا سامنا ہوا۔ تاہم، ہوا اور راستے کے باقی مناظر ویسے ہی تھے۔

گوڈوئے خاندان کے لوگ، جنھیں اس بھیانک حادثے کے بارے میں کچھ عرصے قبل مطلع کردیا گیا تھا، اپنی میزبانی کا اعادہ کر رہے تھے۔ مگر انھوں نے ذہانت کا ثبوت دیتے ہوئے مصور کے لیے ایک الگ کمرے کا بندوبست کر دیا تھا جہاں وہ خاموشی اور سکون کے ساتھ اپنے میزبان خاندان کی ایمانداری اور دیکھ بھال سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ اس کا کمرہ چھت کی بلندی پر تھا۔ درختوں میں گھرنے سے قبل یہ کمرہ نگہداری کے لیے استعمال ہو تا تھا۔ اسے یہ کمرہ مناسب حرارت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیش کیا گیا تھا۔ (یہ مارچ کا وسط تھا)۔ موسمِ گرما میں یہ تندور میں تبدیل ہو جاتا۔

تنہائی اس کے لیے بہتر تھی۔ وہ اپنے آپ کو خود سنبھالنا چاہتا تھا، اور کراؤس کی بیک وقت تمام دن کے لیے غیر موجودگی اس کے لیے باعثِ تسکین تھی۔ وہ اپنے وفادار دوست کی موجودگی میں تنگ نہیں ہوتا تھا۔ کراؤس اس کا بہترین ساتھی تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ اس کا دوست تمام رات اس کے ساتھ جاگنے کے بعد مینڈوزا کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہے۔ اسے کسی پر بوجھ بننے کے خیال سے ہی نفرت ہوتی۔ اس گھونسلے کی تنہائی کے دوران اس نے کوشش کی کہ جتنا ممکن ہو اپنی عزتِ نفس کو بحال کرے۔

یہ دروں بینی اورخود شناسی کے دن تھے۔ اسے اپنے لیے قابلِ عمل پیش رفت ترتیب دینے کے لیے تمام واقعے کا ازسرِنو جائزہ لینا پڑا۔ اس نے اپنی داخلی مکالمے کو خطوط میں تحریر کیا جس میں اس کا بہت وقت صرف ہوا۔ اس نے اپنے مختصر، مربوط رسم الخط میں، صفحات کے دفتر بھر دیے۔ تمام عمر اسے نامہ نگاری میں فراوانی حاصل رہی: واضح، مربوط، منظم، بامعنی۔ کچھ بھی اس سے بچ نہ پاتا۔

اس کے خطوط محفوظ کر لیے گئے اس لیے اس کے سوانح نگاروں کے لیے مواد کی کوئی کمی نہیں۔ اگرچہ ان میں سے کسی نے کوشش نہیں کی مگرا س کے سارے سفر کا روزنامہ، تقریباً ہر گھنٹے، اس کے ہر جذبے ، ہر ردِّعمل، ہر قدم اور ہر حرکت کو ضبط ِتحریر میں لانا مکمل طور پر ممکن تھا۔ اس کے خطوط کا یہ گنجینہ اس کی زندگی کے ہر راز سے پردہ اٹھا دیتا ہے۔ اس کے باوجود اس کی زندگی بہت پراسرار تھی۔

مینڈوزا کے قیام کے ابتدائی ایام کے دوران اس ہیجانی کارروائی کی دو وجوہ تھیں۔ وہ اپنی نامہ نگاری میں بہت پیچھے رہ رہا تھا۔ کیونکہ اس نے سینٹ لوئی سے اپنے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ صرف کچھ مختصر تحریریں اور چند ایک خستہ تاثرات ارسال کیے تھے جن میں اطلاعات کا کال تھا اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بعد میں تفصیل سے لکھے گا۔ اور اب اس وعدے کوپورا کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ مگر اسے خود بھی کچھ چیزوں کی وضاحت چاہیے تھی۔ اوراسے اس پریشان کن صورت حال سے مفاہمت کرنی تھی۔ اور ایسا کرنے کے لیے اس کے پاس واحد ذریعہ اس کے خط لکھنے کی معمول کی مشق تھی۔

یہی وجہ ہے کہ اس کی زندگی کے اس باب کے متعلق بہت سی بالواسطہ یا بلا واسطہ معلومات دستیاب ہیں۔ جن کاتعلق نہ صرف براہِ راست واقعات کے ساتھ  بلکہ ان سے پیدا ہونے والے گہرے خدشات سے بھی ہے۔ فنکار کی یہ دستاویزی صلاحیت باقی ساری زندگی فطرتِ ثانیہ بن کر اس کے ساتھ رہی۔

اس کی پہلی اور مرکزی مکتوب الیہ آبائی علاقے آگس برگ میں مقیم اس کی بہن لوئزے تھی۔ وہ اس کے ساتھ بہت مخلص تھا۔ وہ اس سے کچھ نہیں چھپاتا اور نہ ایسا کرنے کی کوئی وجہ تھی۔ تاہم اسے ایسا لگا کہ لوئزے اس تمام ممکنہ دستاویز کو وصول کرنے کے قابل نہیں ہو گی۔ یا کسی حد تک؛ وہ ایسا کر بھی سکتی تھی (کیوں کہ ان کے درمیان کوئی راز نہیں تھا)۔ مگر اسے کچھ حصے تلف کرنے پڑتے۔ یہ ایسی صورت حال تھی جن میں تکمیل کے بعد بھی خلا کا احساس رہ جاتا ہے۔

ایسا شاید اس لیے بھی تھا کہ اس’تکمیل‘ کے اندر دیگر’تکمیلیں‘ بھی شامل تھیں جو مکتوب نگار کی ذاتی دنیا میں سیاروں کی طر ح گھوم رہی تھیں۔ اور اس گردش کے زیرِ اثر کچھ سیاروں کی مخصوص اطراف کو اخفا میں رہنا تھا۔ اگر اس با ت کو جدید اصطلاح میں بتانے کی کوشش کی جائے جو کہ خطوط میں نہیں ملتی، تو اسے ہم ’بے شکل ہیئت‘ کا مسئلہ کہہ سکتے ہیں۔

رگینڈاس نے آغاز سے ہی دنیا بھر میں بکھرے ہوئے مکتوب الیہ اکٹھے کر لیے تھے۔ اب اس نے دیگر پتوں پر خط لکھنے کا سلسلہ آغازکیا۔ اس کے اس تفصیلی مکالمے میں ہیئتی اور فطری مصور، باڑہ مالکان، کسان، صحافی، گھریلو عورتیں، متمول افراد، تارک الدنیا، حتّٰی کہ قومی ہیروز بھی شامل تھے۔ہر خط ایک مختلف لہجے کا حامل ہوتا، مگر یہ سب لہجے اس کے اپنے تھے۔ ہر تغیر ایک عجیب غیر امکانی صورت کے گرد گردش کرتا۔ وہ کسی کو یہ بتا سکتا تھا کہ ’میں ایک عفریت ہوں‘؟ کاغذ پر اس بات کو اتارنا قدرے آسان تھا۔ مگر اس بات کی اہمیت اور شدت کا ابلاغ بہر حال بہت مشکل تھا۔ اوراس کے چلی میں رہنے والے دوستوں میں یہ مسئلہ بہت اشد نوعیت کا تھا۔

ان کو لکھے جانے والے خطوط میں وہ خاص احتیاط سے کام لیتا۔ خاص کر گوٹیک کو لکھے جانے والے خطوط میں جو پہلے ہی اسے خط لکھ کر سنتیاگو میں اپنے گھر مدعو کر چکا تھا۔ جیسا کہ وہ کچھ ماہ پہلے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بھی کہہ چکا تھا۔ اب کیونکہ اس عرصے میں اس کی اس سے ملاقات ہونے جا رہی تھی تو یہ ضروری تھا کہ وہ اسے آگاہ کر دے۔ اس کے معاملے میں یہ واضح تھا کہ اسے مبالغے سے کام لینا ہو گا تا کہ اسے کوئی حیرت نہ ہو۔ مگر اس کے چہرے کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر مبالغہ آسان نہیں تھا۔ اسے کسر بیانی کا مسئلہ درپیش تھا۔ خاص طور پر اگر وہ اس کی تحریروں کو روایتی مبالغے کے تناظر میں دیکھتے تو ان کی حیرت فزوں ہونے کا خدشہ تھا۔

بہرحال اس نے خود کو مقید نہیں کر لیا۔ اس کے جسم کی قدرتی طور پر بحالی کے لیے تازہ ہوا کی کثیر مقدار اور ورزش لازمی تھی۔ اور اس نیم مفلوج حالت میں بھی، متواتر دردِ شقیقہ، اعصابی حملوں، اور مستقل ادویات کے باوجود اس پر یہ لازم ہو گیا کہ وہ فراواں دھوپ کے اوقات میں کچھ گھنٹے گھڑ سواری اور قدرتی دنیاکی تصویر کشی پر صرف کرے۔ باوفا کراؤس نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ اس پر درد کا حملہ گھر سے کہیں دور بھی ہو سکتا تھا۔ ایسی صورت میں وہ رگینڈاس کو، اس کی چیخوں سے بے نیاز، اپنے گھوڑے کی پشت پر اٹھائے واپس لے آتا۔ یہ عظیم مسائل، تاہم، ان کی تفریحات کا شاندار حصہ نہیں تھے۔

رگینڈاس اپنے نشست و برخاست میں کمال درجہ سکون اور سلیقے کے باوجود بہت سارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لوگ اسے دیکھنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے۔ مینڈوزا کے اس نیم مہذب ، خوش نظارہ علاقے میں ادب کے قاعدے کی خال ہی توقع کی جا سکتی تھی۔ بچے ہی کچھ کم نہ تھے مگر بڑے تو بچوں سے بھی زیادہ بچگانہ تیور دکھا رہے تھے۔ وہ بڑے انہماک سے اسے آبپاشی میں استعمال کیے جانے والے بڑے بڑے آبی آلات کی ڈرائنگ بناتے دیکھتے(یہ اس کا نیا جنون تھا)، اور وہ اس کے کاغذات کو دیکھنے کی خواہش کی شدت میں گھلے جا رہے تھے۔ وہ کیا تصور کرتے تھے؟ جہاں تک رگینڈاس کا تعلق ہے وہ جب بھی اپنی پنسل اٹھاتا اسے تصویر کرنے کی اپنی ترغیب کچلنا پڑتی۔

موسمِ گرما کے اختتام پر موسم درجۂ کمال کو پہنچ چکا تھا۔ منظر ناموں میں لامتناہی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں۔ کارڈی لیرا کی بدلتی ہوئی روشنیاں انھیں ساعت بہ ساعت ڈھانپ لیتیں؛انھیں شفاف بناتیں؛ انھیں لامتناہی جزئیات کی سدا بہتی ہوئی آبشار میں تبدیل کر دیتیں۔ اینڈیز کی سنگین فصیلوں سے چھنتی ہوئی دوپہر کی دھوپ اپنی ہی صبح کا ہیولیٰ نظر آتی۔ وسط دوپہر کی بے وقت گلابیوں کا مسکن معلوم ہوتی۔

 دس سے بارہ گھنٹے تک جھٹپٹے کا سماں رہتا۔اور دوستوں کے ساتھ شب خرامی کے دوران بادِ بے سمت کے جھونکے ستار وں اور پہاڑوں کی ترتیب بد ل جاتے۔اگر یہ سچ تھا، جیسا کہ بدھ کہتے ہیں، کہ ہر چیز، حتّٰی کہ ایک پتھر بھی، برگِ خشک یا ایک پتنگا، پہلے بھی کہیں موجود تھا اور دوبارہ بھی ہو گا۔ سب کچھ جنموں کے چکر کا حصہ ہے۔ پھر یہ کہ سب کچھ ایک ذات تھا، وقت کے پیمانے پر ایک اکیلا آدمی۔ کوئی بھی آدمی، بدھ یا کوئی بھکاری، کوئی خدا یا کوئی غلام۔ اگر کوئی مناسب وقت دیا جائے تو شاید کائنات کے ساتوں اجزا مل کر ایک آدمی بنا دیں۔ اس کے ضابطے پر اس کے اہم اثرات تھے: جیسا کہ یہ ماورائی میکانیکی نظام کی طرح خود کار نہیں ہو سکتا تھا۔

ہر پرزہ پہلے سے متعین شدہ جگہ میں جڑا ہوا؛ ہر پرزہ دوسرے کی جگہ لے سکتا تھا۔ اور اس کے ذریعے رونما ہونے والی تبدیلیاں زمانی نہیں بلکہ معنوی جہات کی حامل ہوتیں۔ ا س خیال سے حقیقت کا ایک بالکل مختلف تصور نظر آتا ہے۔ اپنے کام میں رگینڈاس اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ ایک ڈرائنگ میں موجودخطوط حقیقت میں نظر آنے والے خطوط کے من و عن نمائندہ نہیں ہونے چاہئیں۔ خط کا مقصد، اس کے برعکس، تعمیری تھا۔ یہی وجہ تھی اس کی ڈرائنگ کی مشق اس کی سوچ کے مقابل ناقابلِ تخفیف رہی۔ اور اس کے باوجود کہ وہ اپنے ضابطے پر مکمل دسترس رکھتا تھا، وہ بدستور خاکے بناتا گیا۔

گوڈوئے خاندان کے افرادابھی تک اس کے نئے چہرے کے عادی نہیں ہوئے تھے۔ یہ مستقبل قریب میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں ایک دلچسپ اشارہ تھا۔ لوگ عموماً خطرناک ترین بد ہیئتی کے بھی عادی ہو جاتے ہیں، مگر اس کے ساتھ چہرے کی غیر ارادی حرکات، سیال مادہ، بے حس تاثرات بھی شامل ہوں تو عادت کے قائم ہونے کے لیے کوئی قرار واقعی بنیاد فراہم نہیں ہوتی۔ ایسے میں انسانی ادراک بھی سیال مادے کی طرح ہو جاتا ہے۔ فطرتاً ملنسار اور باتونی ہونے کے باوجود رگینڈاس شام کے کھانے کے فوراً بعد تخلیہ کر لیتا اور اپنی شامیں تنہا گزارتا۔ اس کے ایسا کرنے میں کوئی عجیب بات نہیں تھی کیونکہ اس کے پاس معقول جواز تھا۔

وہ انسانی قوت برداشت سے ماورا دردِ شقیقہ کا شکا ر تھا۔ ابتدا میں اس کے پاس اپنے اٹاری نما کمرے میں لیٹے کراہتے رہنے کے علاوہ اور کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں تھی— اور یہ کام وہ صرف بستر میں نہیں کرتا تھا بلکہ فرش پر، دیواروں کے ساتھ اور چھت کے ساتھ بھی کرتا تھا—جب دوا کا اثر ہوتا تو وہ خطوط نویسی کی طرف پلٹ آتا۔

اپنی تحریروں میں وہ حتّٰی الامکان سچ لکھنے کی کوشش کرتا۔ اس کے لیے اس کی وجوہات کچھ یوں تھیں: سچ اور جھوٹ دونوں کو بتانے کے لیے، اصولی طور پر، ایک ہی جتنی کوشش درکار ہوتی ہے، تو کیوں نہ سچ بتایا جائے؛ بغیرکسی ابہام کے، بغیر کسی اسقاط کے؟ چلیں صرف تجرباتی طور پہ ہی ایسا کر کے دیکھتے ہیں۔ مگر ایسا کہنا ایسا کرنے سے بہت آسان تھا۔ خاص طوپر، اس کے معاملے میں جہاں کرنا بھی کہنے کی ہی کی ایک شکل تھا۔

شاید مارفین کبھی بھی اس کے جسمانی نظام کا حصہ نہیں بنی تھی۔ شاید وہ ووسرے یا تیسرے مرحلے میں داخل ہورہا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ افیونی دوا، دردِ شقیقہ اور فطرت کے ہیئتی مصور کے اعصابی نظام کی شکست و ریخت کسی یکسر نئے نتیجے کا موجب ہو رہی تھی؟ بہر حال سچ کا تصور اس کے تخیل میں دیوقامت بنتا جا رہا تھا اور چھت پر واقع چھوٹے سے کمرے میں اس کی راتیں صرف کر رہا تھا۔

اس دور کے اس کے خطوط بظاہر تو زیادہ تر ایک خارجی معاملے سے متعلق تھے جس کی طرف رگینڈاس کسی جنونی کی طرح بار بار پلٹتا تھا۔ یورپ میں اس کی شہرت کی بنیاد بننے والی کتاب’برازیل کی تصویری سیاحت‘ دراصل کسی اور نے لکھی تھی۔ اسے فرانسیسی صحافی اور فن کے نقاد وکٹرایم اے ہوبر (۱۸۶۹۔۱۸۰۰) نے رگینڈاس کی قلمی یادداشتوں سے ترتیب دیا تھا۔ گو اس وقت اسے یہ عجیب نہیں لگا تھا۔ مگر اب ایسا لگ رہا تھا، اور وہ حیران تھا کہ وہ اس منصوبے پر کیوں رضامند ہوا۔ یقیناً یہ دھوکہ دہی تھی کہ جب ایک کتاب زیدنے لکھی ہے تو اسےبکر کے نام سے شائع کیا جائے۔

اشاعت کے عمل نے اس کے ذہن کومنجمد کیے رکھا۔ کیونکہ وہ بہت سی احمقانہ پیچیدگیوں کا شکا تھا، اور کیونکہ وہ بغیر سوچے سمجھے ہامی بھر چکا تھا۔ اس میں پراجیکٹ کے لیے مالی معاونت سے لے کر پلیٹوں کو رنگ کرنے تک بہت سارے معاملات درپیش تھے۔ متن کو تحریر کرنا تو محض تفصیل معلوم ہوتا تھا۔ لیتھوگراف اس کتاب کو پرکشش بناتے تھے۔ تقریباً سو کے قریب لیتھوگراف تھے جنھیں فرانسیسی مصورو ں نے بنایا تھا۔ صرف تین ایسے تھے جو رگینڈاس نے خود بنائے تھے۔ گو ’اینگل مین اینڈ کو‘ یورپ کی معروف اور بہترین لیتھوگراف کمپنی تھی مگر اس کے باوجود اسے ذاتی طور پر لیتھوگراف کی تیاری کی جزوی تفاصیل کے ساتھ نگرانی کرنی پڑی۔ اس عمل میں بہت سارے مسائل تھے جہاں جا بجا غلطی کا احتمال تھا۔

اس کے خیال میں متن تصاویر کامعاون تھا۔ مگر اس وقت وہ جس حقیقت کا ادراک نہیں کر سکا، جواسے بعد میں ہوئی۔ وہ یہ تھی کہ وہ متن کو محض معاون گردان کر اسے تصویری مواد سے الگ کر رہا تھا۔ اورجو حقیقت، جیسا کہ وہ اب دیکھ رہا تھا، یہ تھی کہ وہ دونوں دراصل ایک ہی تصویر کے دو رخ تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس کے فرضی مصنف، نیگرے، نے ا س کے کام کے جوہر میں خالصتاً تکنیکی مقصد کے تحت دراندازی کی تھی۔ اس نے اس کے بے ترتیب فقروں سے مربوط متن کی دستاویز تیار کر لی تھی۔اصل میں دستاویز ہی سب کچھ تھی! اسی سے سب کچھ شروع ہوتا تھا اور ختم بھی۔ خاص طور پر آغاز یہیں سے ہوتا تھا (کیونکہ اختتا م تو سائنس اورفن کی تاریخ کی دھندلی راہداریوں میں کہیں دور جاکے چھپا ہوا تھا)۔

فطرت بذاتِ خود بھی، جو کہ ایک ضابطے کے تحت کام کرتی ہے، ایک دستاویز ہی تھی۔ اس میں کوئی بھی مواد خالص یا انفرادی نہیں تھا۔ مظاہرِ عالم کے انکشافات میں ایک واضح ترتیب موجود تھی۔ کلام کی ترتیب بجائے خود اشیاء کو متشکل کرتی تھی۔ اور کیونکہ اس کی موجودہ ذہنی صورتِ حال بھی اسی نظامِ ترتیب کا حصہ تھی، اس بظاہر ہذیانی، بے ترتیبی کی عقلی توجیہ تلا ش کرنے کے لیے اسے اس کا بغور معائنہ کرنا تھا۔ یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ رگینڈاس خالص مارفین کے ذریعے اپنا علاج نہیں کر رہا تھا— اس کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے— وہ برومائیڈ کے محلول میں افیون کا ٹنکچر ملا کر استعمال کرتا تھا۔ اس میں بہترین درد کش اور بہترین سکون آور کے خصائص یک جا ہو گئے تھے۔

اس کاچہرہ مہاتما بدھ کے دوسرے جنم کو ابدیت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے والے ہاتھ کی طرح پھڑکتا تھا۔ یہ ان’اشاعتی تکالیف‘سے نجات کا ایک ذریعہ تھا جو ماضی کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں اسے برداشت کرنا پڑ رہی تھیں۔

گو ووٹینگر خاندان کے اس کے دوست خطوط کے ذریعے مسلسل اس سے چلی واپسی کا تقاضا کر رہے تھے مگر اس نے اس پہاڑ ی سفر کومسلسل التوا میں ڈالے رکھا۔ وہ اپنے نامہ نگاری کے کام میں منہمک تھا اور ابھی تک اپنے اس نئے چہرے کے ساتھ اپنے شناساؤں کا سامنا کرنے سے کترا رہا تھا۔ اس کی طبی ضروریات فوری نوعیت کی نہیں رہی تھیں۔ جس کی وجہ جزوی طور پر یہ تھی اس کی اذیتیں ایک ترتیب میں ڈھل چکی تھیں۔ اور جزو ی طور پر اس لیے کہ اس نے کسی طور معالجے کے بے فائدہ ہونے کو قبول کر لیا تھا۔ مگر اس التوا کی بنیادی وجہ مینڈوزا کی صورتِ حال تھی جو  سال کے ان دنوں میں مصوری کے لیے مثالی حیثیت رکھتی تھی۔

اس امرنے دونوں دوستوں کواپنی تفریح کا دورانیہ، جہاں تک رگینڈاس کی صحت اجازت دیتی، بڑھانے کی ترغیب دی۔ وہ ہمیشہ جنوب میں واقع جنگلوں اور جھیلوں کی طرف جاتے جہاں خنکی کے باوجودپراسرارحارائی منطقے میں نیلی روشنی اور نباتات کا سلسلہ سدا آغاز پر نظر آتا۔ وہ راتیں سان رافیل میں گزارتے جو صوبائی دارلحکومت سے تیس میل دور واقع ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ یا گوڈوئے خاندان کے دوستوں یا رشتہ داروں میں سے کسی کے باڑے میں رہتے، اور پھر چل پڑتے۔ بعض اوقات سارا سارا دن پیچ دار وادیوں میں مناظر کی تلاش میں سرگرداں رہتے جنھیں وہ عجیب و غریب آبی رنگوں میں تصویر کرتے۔ ایسے کچھ شاندار دوروں کے بعد وہ خود کو ان سے روک نہ سکے۔

اس ہفتے کے دوران رگینڈاس نے جو خطوط تحریر کیے ان میں موجود ابہام نے ایسی اساطیری داستانوں کو جنم دیا جن کے مطابق وہ جنوب کے ان خطوں میں دور تک گیاجہاں آج تک کسی سفید آدمی کا گزر نہیں ہوا تھا۔ شاید یہ وہی دیو مالائی برفانی پہاڑ تھا جو اپنی جگہ بدلتا رہتا تھا اور جس کے اندر دوسری دنیا کی گزر گاہیں موجود تھیں۔ اس عرصے کے دوران اس کی بنائی گئی میدانی مصوری اساطیر پر اعتماد قائم کرنے کے کام آتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ جگہ اتنے فاصلے پر تھی کہ جہاں پہنچنا ناممکن تھا۔اگر یہ داستان درست تھی تو رگینڈاس کو یہاں پہنچنے کے لیے کسی دیوتا کی طرح معلوم سے نا معلوم کی طرف اڑ کے جانا پڑا ہوگا۔ یہ کام تو وہ، ذہنی طور پر، ہر وقت کر رہا تھا۔ لیکن یہ اس کے لیے روزمرہ کے معمول کی بات تھی جس کے پس منظر میں ناقابلِ یقین واقعات داستانیں، اور ابواب تھے۔

اس معاملے کی حقیقت کچھ بھی ہو، دونوں جرمنوں نے خودکونامانوس مگر انتہائی خوش کن قدرتی ماحول میں گھرا  پایا۔ یہ ماحول اتنا نامانوس تھا کہ رگینڈاس کو اپنے دوست کوتوثیق کی خاطر پوچھنا پڑا کہ جو وہ دیکھ رہا تھا وہ واقعی معروضی وجود کا حامل تھا یا اس کے ذہنی خفقان کی پیداوار تھا۔ بے چین اور بے قرار پرندے بلند آواز میں چیختے ہوئے گھنے درختوں سے نمودار ہوتے، چتکبرے گنی پرندے اور گھنیرے بالوں والے چوہے ان کے سامنے لوٹنیا ں لگاتے، طاقتور زرد تیندوے انھیں چٹانوں سے گھورتے رہتے۔ گدھ گھاٹیوں کے اوپر بلند ہوتے ہوئے انھیں غور سے دیکھتے۔ وہاں تہ در تہ گھاٹیاں تھیں جہاں سے درخت زیرِ زمین سے میناروں کی طرح بلند ہوتے نظر آتے۔ انھوں نے چھوٹے بڑے دبیز پھولوں کو کھلتے ہوئے دیکھا۔ کچھ پنجوں کی طرح نظر آتے اورکچھ سیب کے گودے میں موجود گردے کی شکل کے۔

جھرنوں میں بھونپو کی شکل جیسے گھونگھے تھے اور ان کی تہ میں ہمیشہ پانی کے بہاؤکی مخالف سمت بہتی ہوئی، گلابی سالمن مچھلیوں کی فوج ہوتی تھی۔ گہرے سبز رنگ کے صنوبر نما درخت دبیز ہو کر ریشمی سیاہ رنگ میں ڈھل جاتے۔ درمیان موجود فاصلوں میں معلق مناظر ہمیشہ الٹے نظر آتے۔ جھیلوں کے اطراف میں مہندی کے نازک پودے تھے جن کی پیلے ربڑ کی نالیاں ہاتھی کی سونڈ جیسی ہموار نظر آتیں،اور جو چھونے پر برف کی طرح خنک ہوتیں۔ تہ در تہ کائی نے بیابان میں صوفوں کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ہوا چلتی تو ان کے اطراف بڑے بڑے پتوں کی جھالر لرزتی رہتی۔

اور پھر ایک دن اسے یاد آیا۔ جب انڈین اپنے خونخوار، گرجدار حملوں کے لیے گھوڑوں پر سوار آتے تو وہ انہی خطوں سے نمودار ہوتے تھے۔ انھیں یہ بات جان کر اب حیرت نہ ہوتی کہ وہ ہوا میں سے ظاہر ہوتے ہیں۔ مگر یہ بات ظاہر ہے کہ وہ زمین میں ہی کسی جگہ سے آتے تھے جو یہاں سے بہت آگے تھی۔ اور کسے معلوم کہ وہ کہاں تھی۔ اور کارڈلیرا کی کوکھ میں چھپے یہ جنگل انھیں تہذیب میں اچانک دراندازی اوراچانک فرار کے راستے مہیا کرتے تھے۔

انھیں ان واقعات کی یادآئی جن کی مشقِ بسیار رگینڈاس نے اپنے تصور میں حادثے سے بہت پہلے کی تھی۔ اوریہ خیال کے انسلاک کا نتیجہ نہیں بلکہ حقیقت خودتھی جواُن کے سامنے بے ساختگی کے ساتھ موجود تھی۔ وہ تین دن بہت بلند چوٹی پر جنت کے سبزہ زار میں گھرے کیمپ میں گزارنے کے بعد سان رافیل کے نزدیک ایک باڑے میں رات گزار رہے تھے۔ نیچے اترتے ہوئے وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ واپس سیدھے مینڈوزا جائیں گے۔ مگر پھر انھیں تصویر کشی کے لیے رکنا پڑا اور ایک رات باڑے میں گزارنا پڑی۔ جس کا مالک اپنی املاک پر گرمیوں کا دورانیہ گزارنے کے بعد قصبے میں واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا جہاں اس کے بچے سکول میں پڑھتے تھے۔

رگینڈاس اپنے درد کے بہت شدید مرحلے سے گزر رہا تھا۔ جس میں اسے شدید چکر آئے اور پوری رات اس کے دماغ میں بجلیاں کڑکتی رہیں۔ اسے مجبورا مارفین کی بھاری خوراک لینا پڑی اور صبح نے اسے نیند کی حالت میں چلتا ہوا اور پسینے میں بھیگا ہوا پایا۔ اس کے چہرے پر درد کا رقص تھا۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں یوں سکڑی ہوئی تھیں جیسے وہ سورج کے مرکز میں موجود ہو۔ اور جب سورج بلند ہوا تو دالان سے گھوڑوں کی ہنہناہٹ کے ساتھ چلا نے کی آوازیں سنائی دیں۔

انڈینز! انڈینز! کیا؟

انڈینز!انڈینز!

ساراگھر ایک لمحے میں متحرک ہو گیا۔ یوں لگتا جیسے گھر کے سب افراد جنونیوں کی طرح خود کو دیواروں میں ماررہے ہوں۔ دونوں دوست اپنے کمرے کے دروازے میں آئے جو کہ دالان کے پچھلی طرف راہداری میں کھلتا تھا۔ کراؤس یہ معلوم کرنا چاہتاتھا کہ کیا ہورہا تھا۔ اور جاننا چاہتا تھا کہ پریشانی کتنی اشد نوعیت کی تھی۔ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا ان کا مینڈوزا کی جانب سفر آغاز کرنا ممکن تھا جب کہ ان کا دوست واپس بستر میں چلا گیا۔ مگر رگینڈاس نیم ملبوس، لڑکھڑاتا ہوا باہر نکلا۔ کراؤس اس پر حکم چلاتے ہوئے اسے واپس بھیج سکتا تھا۔ مگر یہ اتنی بڑی افتاد نہیں تھی۔ کوئی بھی اس نیم خوابیدہ عفریت نما انسان کی بڑبڑاہٹوں پر توجہ نہیں دے گا۔ مزید برآں اس کے پاس ضائع کرنے کا وقت نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے اسے آزادی سے گھومنے دیا۔

مرد دفاعی انتظامات میں مصروف تھے۔ پہلا موقع نہیں تھا کہ انھوں نے انڈینز کو پرے دھکیلنے کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوں اور نہ ہی آخری۔ اور ان کے انداز میں تساہل جھلکتا تھا۔ بس یہ ان کے روزمرہ کا حصہ تھا۔ مگر اس واقعے کی رسمی نوعیت نے اس کے دفاعی انتظام کو بہتر نہیں کیا تھا۔ ان کا ردعمل منظم کیسے ہو سکتا تھا جب کہ حملے اچانک اور غیر متوقع ہوتے تھے۔ وہ کم ترین معلومات کی بنیاد پر تیزی سے جوابی حملے کا بندوبست کرتے اور فوری طور پر مشترکہ جائزے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ کیونکہ ان کا بنیادی مقصد مویشیوں کے نقصان کو کم ترین سطح پر رکھنا تھا۔

ایک پیغام رساں کے مطابق حملہ علی الصبح ڈاکخانے سے شروع ہوا تھا۔ اور پھر گرد و نواح میں پھیلتا چلا گیا کیونکہ انڈینز مویشیوں کو ہانک رہے تھے۔ وہ زیادہ دور نہیں جا سکے ہوں گے۔ تعاقب کرنے والی ٹولیاں ارد گرد باڑوں سے پہلے ہی ان کے تعاقب میں نکل چکی تھیں۔ انڈینز حملہ آوروں کی تعدادکا تخمینہ ایک ہزار کے قریب تھا۔ یہ درمیانی سے بڑی سطح کا حملہ تھا۔

فارم پر کام کرنے والوں کی ایک مختصر ٹولی بچوں اور عورتوں کو ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے رک گئی۔ جیسا کہ مالکِ مکان نے کراؤس کو بتایا تھا کہ اس گھر کو کبھی بھی آہنی چادروں کی مدد سے قلعے میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔  آہنی چادریں پہلے ہی اپنی جگہوں پر لگائی جا رہی تھیں۔ اس نے پوچھا کہ جرمن دوستوں کا اب کیا کرنے کا ارادہ تھا۔ وہ دونوں طرح سے کار آمد تھے۔ چاہتے تو چلے جاتے یا وہیں رک جاتے۔

اس گفتگو میں چلانے اور حکم دینے کی آواز سے مداخلت ہوئی۔ (یہ ایک توانا اشارہ تھا) جودالان کے وسط میں ہو رہی تھی۔ جہاں پہلے ہی لوگ اپنی بندوقوں سمیت جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ کراؤس جو ابھی تک نیم غنودہ اور متردد تھا، یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کا دوست واپس آیا ہے یا نہیں، کمرے میں چلا گیا۔ مگر نہیں وہ وہاں موجود تھا۔ اس نے ہیٹ سے اپنا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا۔ وہ ایک درخت کی طرح ایستادہ تھا۔جب کراؤس نے اس کو تھاما تو وہ برہم ہو گیا۔ جب اس سے سوال کیا گیا کہ اس نے تازہ خبر سنی تو اس نے بڑبڑاتے ہوئے جواب دیا کہ— نہ اس نے کچھ سنا اور نہ اسے کچھ سمجھ آ ر ہی ہے کہ کیا ہوا۔

کراؤس نے فیصلہ کیا اگر نوبت آئی تو وہ فوراً اسے بستر میں لٹا دے گا۔ اور خود دفاع میں گھر والوں کی مدد کرے گا۔ اسے دل میں ہلکا سا تاسف ضرور ہوا۔ انڈینز کو مصروفِ عمل دیکھنا ان کا خواب تھا، اور اس خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے کا امکان نظر آرہا تھا مگر انھیں اس موقعے کو ضائع کرنا پڑے گا۔

جب اس باڑے کا مالک اور اس کے آدمی شور مچاتے ہوئے گھر سے باہر جا رہے تھے کراؤس نے اس کا بازو تھاما اور اسے واپس گھر میں لے آیا۔ اسے دوسر ی طرف گرنے سے بچانے کے لیے پیچھے سے دونوں بازوؤں کی مدد سے پکڑے رکھنا پڑتا تھا۔ رگینڈاس بہت مضبوطی سے چل رہا تھا۔ مگر اس کے جسم کے تمام اعضاء ڈھیلے پڑے جا رہے تھے۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے چلتا رہا ۔ کراؤس اسے نظر انداز کرتا رہا۔ وہ اپنی آواز بلند کرتے ہوئے چلانے لگا۔ وہ واپس راہداری میں آ چکے تھے۔ کراؤس واپس آیا اور اس نے، قدرے شرمندگی سے، پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ وہ منٹیلا کے بارے میں کچھ کہہ رہا تھا۔ (منٹیلا: ریشمی کپڑے یا لیس کا بنا ہواسکارف جسے عورتیں سر اور کاندھوں کو ڈھانپنے کے لیے پہنتی تھیں۔ مترجم)۔

کراؤس نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ رگینڈاس تیر کی طرح اندر داخل ہوا۔ وہ سیدھا اپنی مصوری کی کٹ کی جانب بڑھا، اور اپنے دوست کو اشارہ کیا۔ کراؤس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، مگر اسے اپنی عینی شہادت سے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔ اپنی قابلِ رحم حالت کے باوجود عظیم رگینڈاس باہر جا کر انڈینزکے حملے کو تصویر کرنا چاہتا تھا۔ کراؤس بے آرامی سے بستر پر بیٹھ گیا۔ یہ ناممکن ہے، اس نے کہا۔ رگینڈاس نے کوئی توجہ نہ دی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ پابرہنہ تھا۔ اس نے بوٹ پہننے کا مشقت انگیز کام شروع کر دیا۔ اس نے کراؤس کی طرف دیکھا۔ ’گھوڑے‘، اس نے کہا۔ کراؤس نے اسے باز رکھنے کی خاطر دلیل دی جو ابھی ابھی اس کے ذہن میں آئی تھی: وہ چند گھنٹے آرام کے بعد دوپہر کو روانہ ہو سکتے تھے۔

یہ کارروائی دوپہر کے بعدتک جاری رہنے کا امکان تھا۔ مگر رگینڈاس کوئی بات نہیں سن رہا تھا؛ وہ کسی اور دنیا میں موجود تھا۔ اس کی حرکت نے کمرے کو کسی پاگل سائنس دان کی لیبارٹری میں تبدیل کر دیا تھا جہاں سے دنیا کی تبدیلی کا آغا زہو رہا تھا۔ وداع ہوتی ہوئی رات کی نیم روشنی نے کمرے کے اندرونی منظر کو ولندیزی فضا میں رنگ دیاتھا۔ بنفشی چہرے والے شیر کی طرح وہ چاروں ہاتھوں پیروں پر جھکا ہوا بوٹ چڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

کراؤس بھاگتا ہوا اصطبل کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے پیچھے پیچھے اس کا دوست آدھے چڑھے ہوئے جوتوں کے ساتھ لڑکھڑاتا ہوا آ رہا تھا: مین! مینٹی!! مینٹیلا!!! وہ صرف فلیش کو اور بھوری رنگت والے گھوڑے ڈیش کو ساتھ لے جارہے تھے۔ یہ کسی تفریح سے زیادہ نہ ہوتا؛ آخر کار، یہ مصوروں کی پکنک تھی؛ اور شاید گھڑ سواری اور کارروائی سے رگینڈاس کا ذہن صاف کرنے میں مدد ملتی۔ شاید گزشتہ دنوں میں اس نے زیادہ محنت کی تھی۔ اس کی وجہ حسن کی وہ بہتات تھی جس کا اسے سامنے تھا۔ حملہ ایک برے وقت پر پیش آیا تھا۔ اور ابھی بھی اس سے اپنا مقصد حاصل کیا جا سکتا تھا: مصور کی توانائیاں خشک کرنے کے لیے، یا شاید، عمل کی تکمیل کی خاطر؛ اس کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے بہتری کی توقع کہیں بہت گہرائیوں سے نکالنی پڑتی۔

رگینڈاس صحن میں چارکول کی سلائیوں والا چھوٹا ڈبہ تھامے اس کا منتظر تھا اور اس کا ہیٹ اس کے چہرے کو چھپائے ہوئے تھا۔ وہ مسلسل مینٹیلا کے بارے میں بات کر رہا تھا اور بالآخر کراؤس کو سمجھ آ گیا کہ اس کا کیا مطلب تھا۔ یہ ایک اچھا خیال تھا؛ اسے خود اس کا خیال آنا چاہیے تھا۔ اس کا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ اس کے پاس سوچنے کے لیے اور بہت سی چیزیں تھیں۔ میں دیکھ لوں گا، اس نے کہا، اور اپنی میزبان کو اپنے منصوبے سے آگاہ کر دوں گا۔ رگینڈاس اس کے ساتھ گیا۔

اور جب انھوں نے خاتونِ خانہ کو کچن میں موجود پایا، تو ان دونوں میں سے یہ معذور تھا جس نے اپنی بچی کھچی ہمت مجتمع کر کے اس سے ایسے لیس والے منٹیلا کی درخواست کی جو مذہبی عبادات کے موقع پر پہنا جاتا ہے، چنانچہ یہ کہنا غیر ضروری تھا کہ وہ سیاہ رنگ کا ہو۔ جنوبی امریکی خواتین کے پاس ایسی کیتھولک اشیا کی فراوانی ہوتی ہے۔ اس نے یہ وضاحت نہیں کہ اسے یہ کیوں چاہیے تھا۔ اور خاتون یقیناً یہ سمجھی ہو گی کہ اس کو اپنا مکروہ چہرہ اور اس پر نمودار ہونے والے بھیانک زخموں کے نشان چھپانے کے لیے اس کی ضرورت ہو گی۔ اگر ایسا تھا تو اسے اس بات پر حیرت ہونی چاہیے تھی کہ اسے اس ضروری بہروپ سے لیس ہونے میں اتنا وقت کیوں لگا۔

مینڈوزا کے رہائشیوں کے (اور چلی والوں کے لیے بھی)، ایک مرد کا مینٹیلا پہننا کوئی عجیب بات نہیں تھی، کیونکہ اس خطے میں ’نقاب پوش مردوں‘ کی طویل اورمعتبر روایت موجود تھی۔ بہرحال، یہ ایسی صورتِ حال تھی جس میں لوگ عجیب و غریب قسم کی اشیا بغیر کسی وضاحت کے فوری طلب کر سکتے تھے۔ اس نے کسی کو مینٹیلا لانے کے لیے بھیج دیا۔ اور جب  وہ اس کا انتظار کر رہے تھے، اس نے انھیں اشارتاً بتایا کہ لڑائی کہاں کہاں ہو رہی تھی اور کس طرح دونوں اطراف مصروفِ کار تھے۔

اسے باہر جا کے کارزار کی تصویر کشی کا خیال بہت شاندار لگا۔ اسے یقین تھا کہ یہ تصاویر بہت دلچسپ ہوں گی۔ مگر انھیں احتیاط سے کام لینا چاہیے اور یہ کہ وہ ان کے بہت نزدیک نہ جائیں۔ کیا وہ مسلح تھے؟ ا ن کے پاس ریوالور موجود تھے۔ انھیں اس کے اور گھر والوں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی؛ گھر محفوظ تھا۔ وہ پہلی دفعہ اس مشق سے نہیں گزر رہی تھی اور اب وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتی تھی۔ انھوں نے ایک دوسرے کو لطیفے بھی سنائے؛ انھوں نے عصری حماقتوں کو ہلکے پھلکے مزاح میں تبدیل کر دیا۔ ان کے اقداری پیمانوں میں کراہت آمیز باتیں بھری ہوئی تھیں۔ ان کے لیے انڈینز بس روزمرہ حقیقت کا حصہ تھے۔ اچھا! یہ غیر ملکی ان کی تصویر بنانا چاہتے تھے؟ انھیں اس میں کوئی عجیب بات نہیں لگی۔

مینٹیلا آ گیا؛ یہ مہین کالی لیس کا بنا ہوا تھا۔ رگینڈاس نے احترام سے اسے وصول کیا اور اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اس کی شفافیت کو جانچا۔ جو، اس کے مطابق، اطمینان بخش تھی۔ اس نے مزید کسی حرکت کے بغیر یہ وعدے کرتے ہوئے کہ وہ رات کو مینٹیلا کو صحیح سلامت واپس کر دے گا، اجازت طلب کی۔ تب تک، خاتون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، میں تب تک’مادام پی ہُن چے‘ بنی رہوں گی۔ ’خدا کی پناہ! ‘ کراؤس نے جھک کر اس کے باہر نکلے ہوئے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے کہا۔

سو وہ روانہ ہو گئے۔ فارم کے معاون نے ان کے لیے دروازہ کھولا؛ اسے دوبارہ مضبوطی سے بند کر دیا جائے گا۔ ان کے نکلنے کے بعد اسے دوبارہ مضبوطی سے بند کر دیا جائے گا۔ رگینڈاس کسی جنونی کی طرح مینٹیلا کو لہرا رہا تھا، اور وہ راہداری میں واقع ایک ستون کے ساتھ ٹکرا گیا۔ وہ دونوں چھلانگ مارکے اپنے گھوڑوں پر سوار ہوئے۔ مگر رگینڈاس گھوڑے پراس کی عقبی سمت یعنی گھوڑے کی دم کی طرف منھ کر کے بیٹھ گیاتھا۔ جانوروں نے چلنا شروع کیا۔

 اس نے اپنا چہرہ مینٹیلا سے ڈھانپ لیا۔ اس نے اپنا ہیٹ اس کے اوپر رکھا اور اسے اپنی گردن کے ارد گرد باندھ لیا— مگر جب وہ گھوڑے کی لگام ڈھونڈنے لگا تو اسے وہ نہ ملی۔ گھوڑا بے سر تھا! تب ہی اسے معلوم ہوا کہ وہ گھوڑے پر الٹا بیٹھا تھا اور اس کے لیے بیٹھے بیٹھے مڑنا سرکس میں دکھائے جانے والے بھیانک کرتب جیسا تھا۔ کراؤس آگے جا چکا تھا اور اس کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے وہ شرمندگی سے واپس آیا۔ اس نے سیدھے بیٹھنے میں اس کی مدد کی، جب یہ صحن سے باہر نکلے تو ان کے پیچھے ایک بڑا آہنی دروازہ ایک شور کے ساتھ بند کیا گیا جس کا ارد گرد بیٹھے پرندوں نے جواب دیا۔

۰۰۰

(ناول کا چوتھا؍آخری حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے) 

سیزر ایئرا۔César Aira۔ اجنٹائنی مصنف

سیزرایئرا

ایئراکے بارے میں بیشتر احباب آگاہ ہیں کہ وہ ایک ارجنٹائنی ناول نویس ہیں اور پچھلے برسوں سے نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد ہو رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سال ۲۰۲۵ء کے نوبیل انعام کے لیے وہ دوڑ میں خاصے آگے سمجھے جا رہے تھے۔ بہت سے تجزیہ نگار انھیں ’’ہارٹ فیورٹ‘‘ قرار دے رہے ہیں جب کہ میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی اس دوڑ میں بہت پیچھے دکھائی دے رہے تھے۔ البتہ چونکا دینے والے فیصلے تو پہلے بھی نوبیل انعام کمیٹی کرتی رہی ہے۔

سیزر بکرانٹرنیشنل پرائز ۲۰۱۵ء کے فائنلسٹ رہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۵ء کے عرصے کے دوران بکر فاؤنڈیشن نے کسی ادیب کی تمام ادبی خدمات پر ساٹھ ہزار پونڈ کا ایک انعام دیتی رہی تھی اور سیزر ایئرا اسی انعام کے فائنلسٹ تھے. اتفاق دیکھیے کہ یہ انعام میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔

۰۰۰۰

منیر فیاض اردو شاعر ۔ Munir Fayyaz نقاد ۔ مترجم ۔

منیر فیاض 

اردو اور انگریزی کے ممتاز شاعر، مترجم، نقاد ہیں ۔ وہ ایف جی کالجز، اسلام آباد، پاکستان میں اسسٹنٹ پروفیسر (انگریزی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دارلحکومت کی معروف یونیورسٹی میں ’’مطالعہِ ادب و تراجم ‘‘پر لیکچر دیتے ہیں۔ اُنھوں نے حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے ’’پاکستان ادب‘‘ (پاکستان کی ہم عصرافسانے) کے ایک خصوصی شمارے کی ادارت بھی کی ہے۔

تراجم

 منیر ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے براڈکاسٹر اور پاکستان ٹیلی ویژن (ورلڈ) کے ادبی پروگراموں کے پینلسٹ بھی ہیں۔ وہ ۲۰۰۹ء سے پاکستانی شاعری اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کر رہے ہیں۔ اُردو میں اُن کے تراجم یہ ہیں: معاصر چینی مختصر کہانیاں، کرغزمصنف چنگیز ایتماتوف کے ناول، نیپالی شاعروں کی ایک مجموعہ ’’نیپال کی آواز‘‘۔ مزید برآں، اُنھوں نے بین الاقوامی شہرت کے شاعروں اور ادیبوں: نجیب محفوظ اور جان ایشبیری، اور امریکی شاعر ٹریسی کے سمتھ اور جوآن فلپ ہیریرا کی سوانح بھی رقم کی ہیں۔

۰۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب