
مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)
میرے سیکنڈری ٹیچرز ٹریننگ سرٹیفکیٹ کا عملی امتحان، لیون (Lyon) شہر کے پہاڑی علاقے میں واقع، ایک سیکنڈری اسکول میں ہوا۔ یہ اساتذہ اور انتظامی عملے کا ایک ایسا اسکول تھا، جِس کی عمارت میں آرائشی پودوں کے گملے سجے ہوئے تھے۔

میرے سیکنڈری ٹیچرز ٹریننگ سرٹیفکیٹ کا عملی امتحان، لیون (Lyon) شہر کے پہاڑی علاقے میں واقع، ایک سیکنڈری اسکول میں ہوا۔ یہ اساتذہ اور انتظامی عملے کا ایک ایسا اسکول تھا، جِس کی عمارت میں آرائشی پودوں کے گملے سجے ہوئے تھے۔

یوسف روز صبح سات بجے گھر سے ناشتہ کیے بغیر نکل جاتا اور دوپہر کے کھانے کے لیے ہی واپس آتا۔ شام کا کھانا وہ اپنی ماں کے ہاں کھاتا، جس کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ یوسف کے گھر کے سامنے ایک بڑا کمرہ تھا۔…۔

وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں پر سخت غصہ بھی آ رہا تھا۔
ہر رات میں گھنے اور بلند درختوں کے نیچے انہیں سمجھاتا— کبھی سختی سے، کبھی نرمی سے…۔

خزاں کی ایک صبح ،ہوا بہت زیادہ مرطوب تھی ۔ شبنم کے شفاف قطرے گھاس اور چھتوں کی ٹائلوں پرجمے ہوئے تھے۔ چینی سکالر درخت کے پتے پیلے ہو چکے تھے اور اس درخت کی شاخ سے لٹکی زنگ آلود گھنٹی پر شبنم جمی ہوئی تھی۔

ایک اتوار جب لوگ چرچ سے نکل رہے تھے تو سردی پڑنے لگی۔ ہفتے کی رات جبس زدہ تھی۔ حتّٰی کہ اتوار کی صبح کو بھی کسی نے نہیں سوچا تھا کہ بارش ہوگی۔ واعظ ختم ہونے کے بعد عورتوں نے ابھی چھتری بھی نہیں اٹھائی تھی…۔

پچھلے دن اس کے سیل میں ایک بوڑھے آدمی کا اضافہ ہوا۔ … اس کا بیٹا مسلح ڈکیتی میں مطلوب تھا۔ اور جب پولیس کو بیٹا نہ مل سکا تو انھوں نے اسے بیٹے کی جگہ بند کر دیا۔ اس آدمی نے کچھ نہیں کیا تھا۔ نامابیا نے بتایا۔

موہوم تقدیر! اسے کس طرح یہ یقین تھا کہ فطرت کی ہیئتی مصوری اسے بے مصرف اور پرعناد حسن کے سامنے بے یار و مدد گار چھوڑ کر کبھی متروک نہیں ہو گی؟ اس نے اساطیری اور دیومالائی کہانیوں میں پناہ لی۔ جنھوں نے اسے کوئی عملی بات تو نہیں سنائی مگر اسے کم از کم یہ معلوم ہو گیا کہ کہانی ہمیشہ چلتی رہتی ہے اور…۔

تئیس اپریل کو ہمارے سکول میں قومی خودمختاری اور بچوں کا عالمی دن منانے کی تیاری عروج پر تھی۔ چنیدہ طالب علم تقریب کے لیے ادارے کے نمائندہ تھے جب کہ اساتذہ نے کئی طالب علموں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق تقریب کی تیاریوں میں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔ منتخب…۔

سنہری گاجر چھپاک سے دریا میں جا گری ۔دریا کی تہہ میں ڈوب جانے سے پہلے یہ کچھ لمحوں کے لیے سطح پر تیرتی رہی ۔ پھر ڈوب کر سنہری ریت تلے دب گئی۔ جس مقام پر یہ دریا میں گری تھی وہاں دھند سی اڑنے لگی۔… اس کے ذہن پر وہ…۔

میں سب کچھ یہیں چھوڑ جاؤں گا: یہ وادیاں، یہ جبل، یہ راہیں اور چمن کے یہ نیل کنٹھ۔ میں یہیں چھوڑ جاؤں گا، یہ طاؤس و مینا، فلک و ارض اور بہار و خزاں۔ یہاں کی خارجی راہیں یہیں چھوڑ جاؤں گا، مطبخ کی شامیں، آخری فریفتہ نگاہیں، اور لرزا طاری کر دینے والی شہر سے ہمہ سمت نکلنے والی تمام حدیں…۔