سخن وری
کوریائی نظم
اِک چیز جسے دل کہتے ہیں
ہن کانگ
Han Kang
ترجمہ؍ ناصر کریم
میں دیکھتی ہوں
بکھرتے لفظوں، پگھلتے حرفوں، خمیدہ گوشوں کو دیکھتی ہوں
خمیدہ گوشوں کے بیچ پھیلے خلا کو اندر سے دیکھتی ہوں
میں خود کو ایسی تمام جگہوں پر استخواں بھر کی کوزہ پشتی کا ڈر اٹھائے خمیدہ شانوں سے دیکھتی ہوں—
میں دیکھتی ہوں
وہ دل جو اب تک دھڑک رہا ہے
وہ دل جو مدھم نہیں ہوا ہے
وہ ٹھہر جائے
اور ایک ہلکا بلیڈ میرے لبوں کے اندر مزید گہرا اترتا جائے
زبان از کار رفتہ ہو کر
مزید تاریکیوں کے اندرسمٹتی جائے!
۰۰۰۰

ہن کانگ
ادب کے نوبیل انعام ۲۰۲۴ء کا اعلان کرتے ہوئے منصفین نے ہن کانگ کو نوبیل انعام کا حق دار قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کِیا: ’’اُن کی پُرزور شاعرانہ نثر کے لیے جو تاریخی صدمات کا مقابلہ کرتی ہے اور انسانی زندگی کی بے ثباتی کو عیاں کرتی ہے۔‘‘ وہ نوبیل انعام پانے والی پہلی کوریائی شاعرہ/ مصنفہ ہیں جب کہ کل نوبیل جیتنے والے کل ۱۱۹ شعرا و ادبا میں سترھویں خاتون ہیں — اُن سے قبل ۱۶ خواتین یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں — اور ایشیا سے نوبیل انعام کے فاتحین میں اُن کا نمبر نواں ہے۔
تصانیف
ہن کانگ نے اپنے ادبی کیریئر کا آغاز ۱۹۹۳ء میں ’’ادب اور معاشرہ‘‘ نامی کوریائی میگزین میں متعدد نظموں کی اشاعت سے کیا۔ اُن کی نثر کی شروعات ۱۹۹۵ء میں افسانوی مجموعے ’’یوہسُو کی محبت‘‘ سے ہوئی (یوہسُو ، جنوبی کوریا کا ایک ساحلی شہر)۔ جس کے فوراً بعد اُن کے بہت سے نثری کام، ناول اور افسانوں کے مجموعے منصۂ شہود پر آئے۔ جن میں سے قابل ذکر ناول ’’تمھارے یخ ہاتھ‘‘ ۲۰۰۲ء ہے۔ ہن کانگ کو نمایاں بین الاقوامی شہرت ۲۰۰۷ء میں اشاعت پذیر ہونے والے اُن کے ناول ’’سبزی خور‘‘ سے ملی جس کا ۲۰۱۵ء میں انگریزی زبان میں ترجمہ ’’دی ویجیٹیرین‘‘‘ کے عنوان سے ہوا۔ اگلی کتاب ’’ہَوا چلتی ہے، جاؤ‘‘ہے، جو ۲۰۱۰ء میں منظرِ عام پر آئی اور دوستی اور فن کے بارے میں ایک ضخیم اور پیچیدہ ناول ہے، جس میں دُکھ اور تبدیلی کی آرزو اپنی بھرپور شدت کے ساتھ موجود ہیں۔
کوریائی زبان میں ۲۰۱۴ء میں شائع ہونے والے ناول ’’انسانی افعال‘‘، جس کا انگریزی میں ترجمہ ۲۰۱۶ء میں ’’ہیومن ایکٹس‘‘کے عنوان سے ہوا۔ ’’یونانی اسباق‘‘- ۲۰۲۳ء، دو غیر محفوظ افراد کے درمیان غیر معمولی تعلق کی ایک دلکش تصویر کشی ہے۔۔ ۲۰۱۳ء کے ناول ’’رُوبہ صحت‘‘ میں ٹانگ کا السر شامل ہے جو ٹھیک ہونے سے انکار کرتا ہے، اور مرکزی کردار اور اس کی مردہ بہن کے مابین ایک تکلیف دہ رشتہ۔ ۲۰۱۶ء میں ہن کانگ کا اگلا پڑاؤ تھا: ’’سفید کتاب‘‘۔ جس کا ترجمہ انگریزی میں اگلے ہی برس ۲۰۱۷ء میں ’’سفید کتاب‘‘ کے عنوان سے ہو گیا۔ اُن کی ایک اور خاص تخلیق اُن کا ۲۰۲۱ء میں منصۂ شہود پر آنے والا تازہ ترین ناول ’’ ہم جدا نہیں ہوتے ‘‘ الم و حزن کی تصویر کشی کے حوالے سے گہرے طور پر ’’ سفید کتاب‘‘سے جڑی ہوئی ہے۔
۰۰۰۰

ناصر کریم
ناصر شاعر اور ماہر تعلیم ہیں۔ وہ ۰۳ ستمبر ۱۹۷۰ء کو میانوالی، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے انگریزی زبان و ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۹۷ء میں پاکستان ایمبیسی کالج میں انگلش لینگویج کے لیکچرر، ۲۰۰۰ء میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بہاول نگر میں انسٹرکٹر اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں کمیونیکیشن سکلز کی حیثیت سے پڑھانے کے بعد اُنھوں نے ۲۰۰۵ء میں اسپرنگ ٹائیڈ سکول کی بنیاد رکھی۔ اُنھوں نے ۲۰۰۰ء میں اردو نظموں کا مجموعہ ’’یہاں بس ریت اُڑتی ہے‘‘ شائع کیا۔ ناصر کریم خان اردو نظموں اور مختصر کہانیوں کے انگریزی میں تراجم بھی کرتے رہتے ہیں۔ اُنھیں ۱۹۸۹ء میں بی بی سی لندن سے بہترین ابھرتے ہوئے شاعر کا ایوارڈ ملا۔
۰۰۰
براہِ کرم فیس بک (Face Book)، انسٹاگرام (Instagram)، اور ٹویٹر (Twitter) کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر— اوپر دیے گئے متعلقہ نشان (آئیکن) پر کلک کر کے — ہمارے نقشِ پا دیکھیے اور Follow کیجیے تاکہ آپ جانچ سکیں کہ ہم کس طرح اردو زبان کی ترقی و ترویج کی خاطر تراجم کے واسطے سے اس کے فروغ اور آپ کی زبان میں ہونے والے عالمی ادب کے شہ پاروں کے تراجم کی رسائی دنیا بھر میں کرنے کی سعی کر رہے ہیں ۔ ہم آپ سے ملتمس ہیں کہ آپ بھی اپنے طور پر انھیں دنیا کے ساتھ بانٹ کر (شیئر کر کے) ہماری ان کاوشوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔

3 thoughts on “اک چیز جسے دل کہتے ہیں ؍ ہن کانگ؍ ناصر کریم”
Khoobsurat
نظم کائناتی المیہ کو اپنے وجود کی علامت بنا کر پیش کرتی ہے
شاعر کا کام بیان بازی نہیں ہوتا شاعر لفظ جزبہ اور کیفیت کو ایکسپیریمنٹ کرتا اس ایکسپیریمنٹ کو شاعری کہتے ہیں
اس تجربہ کے اظہار کا ذریعہ چونکہ زبان ہوتی ہے لہٰذا شاعر کی زبان وبیان پر دسترس ہونا ازبس ضروری ہے ۔۔۔ورنہ یہ تجربہ ان ٹرینڈ شیف کے ہاتھوں بے لذت اور بے ذائقہ ٹونا مچھلی جیسا ہو جائے گا ۔۔۔کہ سیزن آغاز میں اگر دفعہ بدذائقہ مچھلی کھا کر پورا سیزن مچھلی کھانے کو طبیعت مائل نہیں ہوتی
ناصر کریم چونکہ بنیادی طور پر شاعر اور استاد ہیں جنھوں نے لٹریچر کو بطور شاعر جانا اور بطور استاد اس رنگ میں سمجھا کہ وہ اوروں کو سمجھا سکیں ۔۔۔۔۔یہی وہ نکتہ ہے جو کسی ادیب اور شاعر کو ٹروپوئٹ بننے کی منزل تک رسائی دیتا ہے۔۔۔۔ناصر کریم کی اپنی شاعری میں ان کا اسلوب بہت جاندار اور رواں ہے۔۔۔
نظم کائناتی المیہ کو اپنے وجود کی علامت بنا کر پیش کرتی ہے
شاعر کا کام بیان بازی نہیں ہوتا شاعر لفظ جزبہ اور کیفیت کو ایکسپیریمنٹ کرتا اس ایکسپیریمنٹ کو شاعری کہتے ہیں
اس تجربہ کے اظہار کا ذریعہ چونکہ زبان ہوتی ہے لہٰذا شاعر کی زبان وبیان پر دسترس ہونا ازبس ضروری ہے ۔۔۔ورنہ یہ تجربہ ان ٹرینڈ شیف کے ہاتھوں بے لذت اور بے ذائقہ ٹونا مچھلی جیسا ہو جائے گا ۔۔۔کہ سیزن آغاز میں ایک دفعہ بدذائقہ مچھلی کھا کر پورا سیزن مچھلی کھانے کو طبیعت مائل نہیں ہوتی
ناصر کریم چونکہ بنیادی طور پر شاعر اور استاد ہیں جنھوں نے لٹریچر کو بطور شاعر جانا اور بطور استاد اس رنگ میں سمجھا کہ وہ اوروں کو سمجھا سکیں ۔۔۔۔۔یہی وہ نکتہ ہے جو کسی ادیب اور شاعر کو ٹروپوئٹ بننے کی منزل تک رسائی دیتا ہے۔۔۔۔ناصر کریم کی اپنی شاعری میں ان کا اسلوب بہت جاندار اور رواں ہے۔۔۔