سخن وری
سربیائی نظم
دانائی
مایا مائلوئیکو وِچ
Maja Milojković
ترجمہ؍ منیر فیاض
دانائی، زمانے کی اتھاہ گہرائی میں نہاں
کسی منارہ ٔنور کی طرح ہماری سمت نمائی کرتی ہے۔
ہر افتاد میں ایک بیش قیمت سبق،
ہم سچ کی یافت کرتے ہیں—اپنے باطن کی گہرائی میں
جو ازلی خاموشی میں گونجتا ہے۔
۰۰۰۰

مایا مائلوئیکو وِچ
مایا مائلوئیکو وِچ ۱۹۷۵ء میں پیدا ہوئیں۔ بور، سربیا میں قیام کے بعد وہ آج کل سربیا میں زاجے چار اور ڈنمارک کے وسط میں مقیم ہیں۔ وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ شاعر کا اعزاز رکھتی ہیں اور دنیا میں امن کی پرچارک ہیں ۔ وہ بلغراد، سربیا میں ’’سفیوروس‘‘ نامی پرنٹنگ ہاؤس میں ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ انجمن ’’رتانج اینڈ میسیچیو پیسکی کروگ‘‘ کی نائب صدر ہیں۔ مایا مائلوئیکو وِچ وہ ہستی ہیں جن میں لیونارڈو ڈاونچی کا یہ بیان لہو بن کر دوڑ رہا ہے: ’’مصوری قابلِ دید شاعری ہے ، اور شاعری قابلِ سماعت مصوری ہے۔‘‘ وہ ایک مصور اور تبصرہ نویس ہیں۔ بحیثیت شاعرہ، مایا مائلوئیکو وِچ کی متعدد ملکی اور غیر ملکی ادبی اخبارات، جرائد و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا میں نمائندگی ہوتی ہے، اور ان کے کچھ گیت یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔
ادبی کارنامے
مایا کئی بین الاقوامی اعزازات کی فاتح ہیں۔ وہ دنیا میں قیام امن کی، جانوروں کے خلاف تشدد اور نسل پرستی وغیرہ کے خلاف کام کرنے والی، انجمنوں اور تنظیموں کی رکن بھی ہیں۔ وہ دو کتابوں کی مصنفہ ہیں: ’’چاند کا ہالہ ‘‘ ـ ۲۰۱۹ء اور ’’خواہش کے پیڑ‘‘ـ۲۰۲۳ء ۔ ان کی نظموں کے اب تک انگریزی، ہنگری، بنگالی، اردو، پشتو، ہندی اور بلغاریائی میں تراجم ہو چکے ہیں۔
مایا مائلوئی زاجے چار، سربیا کے شاعری کے کلب ’’ایریا فیلکس‘‘ کی فعال رکن ہیں۔ اورکنجازےواک، سربیا کے ادبی کلب ’’زالٹو پیرو‘‘ کی بھی سرگرم رکن ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ پوڈگوریکا، مونٹی نیگرو کی بین الاقوامی ایسوسی ایشن’’گورسکی ویڈیکی‘‘ (’’ماؤنٹین ویوز‘‘) کے علاوہ مصنفین اور فنکاروں کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی رکن بھی ہیں۔
۰۰۰۰

منیر فیاض
اردو اور انگریزی کے ممتاز شاعر، مترجم، نقاد ہیں ۔ وہ ایف جی کالجز، اسلام آباد، پاکستان میں اسسٹنٹ پروفیسر (انگریزی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دارلحکومت کی معروف یونیورسٹی میں ’’مطالعہِ ادب و تراجم ‘‘پر لیکچر دیتے ہیں۔ اُنھوں نے حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے ’’پاکستان ادب‘‘ (پاکستان کی ہم عصرافسانے) کے ایک خصوصی شمارے کی ادارت بھی کی ہے۔
تراجم
منیر ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے براڈکاسٹر اور پاکستان ٹیلی ویژن (ورلڈ) کے ادبی پروگراموں کے پینلسٹ بھی ہیں۔ وہ ۲۰۰۹ء سے پاکستانی شاعری اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کر رہے ہیں۔ اُردو میں اُن کے تراجم یہ ہیں: معاصر چینی مختصر کہانیاں، کرغزمصنف چنگیز ایتماتوف کے ناول، نیپالی شاعروں کی ایک مجموعہ ’’نیپال کی آواز‘‘۔ مزید برآں، اُنھوں نے بین الاقوامی شہرت کے شاعروں اور ادیبوں: نجیب محفوظ اور جان ایشبیری، اور امریکی شاعر ٹریسی کے سمتھ اور جوآن فلپ ہیریرا کی سوانح بھی رقم کی ہیں۔
۰۰۰۰

1 thought on “دانائی؍مایامائلوئیکو وِچ؍منیر فیاض”
hi