انٹرویو
نوبیل انعام یافتہ، ۲۰۲۵ء
لاسلو کراسناہورکائی
László Krasznahorkai
انٹرویو کنندہ ؍ جینی رائیڈن
تعارف و ترجمہ؍نجم الدّین احمد
’’مجھے کچھ حقیقی عظیم مصنفوں اور شاعروں کی صف میں شامل ہونے پر نہایت فخر ہے۔‘‘
— لاسلو کراسناہورکائی
زیرِ نظر انٹرویو میں نوبیل کے نو انعام یافتہ لاسلو کراسناہورکائی نے اپنے لیے حیران کن مسرت کا اظہار کیا۔ کراسناہورکائی تلخی کا تذکرہ کرتے ہیں کہ یہ کس طرح ان کے لیے ایک اہم محرک ہے اور ساتھ اپنی فنتاسی کے برتنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ ’’فنتاسی کے بغیر تو یہ زندگی قطعی طور پر مختلف ہے۔ کتابوں کے مطالعے سے ہمیں زمین پر اس نہایت مشکل وقت میں جینے کا حوصلہ ملتا ہے۔‘‘
جینی رائیڈن:
ہیلو؟
لاسلو کراسناہورکائی:
جی۔
جینی رائیڈن:
میں نوبیل انعام کی طرف سے جینی رائیڈن ہوں۔
لاسلو کراسناہورکائی:
ہیلو، جی۔
جینی رائیڈن:
کیا آپ لاسلو کراسناہورکائی ہیں؟
لاسلو کراسناہورکائی:
جی، میں ہی ہوں۔
جینی رائیڈن:
سب سے پہلے تو آپ کو ادب کے نوبیل انعام پر مبارکباد۔
لاسلو کراسناہورکائی:
آپ کا بہت شکریہ۔ بہت بہت شکریہ۔
جینی رائیڈن:
آپ اس وقت کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
:لاسلو کراسناہورکائی
یہ ناگہانی آفت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ اب مجھے نوبیل انعام ملنے کے بعد سیموئیل بیکٹ کے ردعمل کا خیال آتا ہے، کیا آپ کو اس نام نہاد رپورٹ کی کچھ یاد ہے؟ کوئی سوال نہ جواب۔ کیا آپ کو یہ جملہ یاد ہے: ’’کیسی ناگہانی آفت ہے۔‘‘ جب انھیں اپنے نوبیل انعام ملنے کے بارے میں پتا چلا تو یہ ان کا پہلا جملہ تھا’’کیسی ناگہانی آفت ہے۔‘‘ اسی لیے میں نے آپ کو آغاز ہی میں بتا دیا کہ یہ ناگہانی آفت سے بھی کہیں بڑھ کر ہے ، فخر و انبساط ہے۔ میں نہایت مسرور ہوں اور مجھے ازحد فخر ہے، کیونکہ اس صف میں شامل ہونا، جس میں بے شمار حقیقی عظیم مصنفین اور شاعر شامل ہیں، مجھے اپنی اصل زبان، ہنگری زبان برتنے کی قوت عطا کرتا ہے۔ مجھے اس چھوٹی سی زبان برتنے پر واقعی بے حد فخر اور بہت خوشی ہے۔ میں سب سے پہلے قارئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری ہر ایک کے لیے خواہش ہے کہ وہ اپنی فنتاسی کو برتنے کی صلاحیت واپس پالے، کیوں کہ فنتاسی کے بغیر یہ قطعی ایک مختلف زندگی ہے۔ وہ کتابوں کا مطالعہ کریں اور لطف اندوز ہوں اور دولت مند بنیں، کیونکہ مطالعہ ہی ہمیں زمین پر اس انتہائی مشکل وقت میں جینے کا حوصلہ بخشتا ہے۔
جینی رائیڈن:
بے شک۔ کیا آپ ہمارے لیے منظر کشی کریں گے؟ آپ ابھی کہاں ہیں، اور جب آپ کو انعام کے بارے میں پتا چلا تو کیا احساسات تھے؟
لاسلو کراسناہورکائی:
میں ایک دوست کے فلیٹ میں ہوں جو بیمار ہے، اور میں فرینکفرٹ ایم مین میں اس سے ملنے آیا ہوں۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ میں نوبل انعام یافتہ ہوں، لیکن میں واقعی خوش ہوں۔
جینی رائیڈن:
آپ کو اس کی بالکل توقع نہیں تھی؟
:لاسلو کراسناہورکائی
میں واقعی ششدر ہوں۔ میں نے یہ سوچا تک نہیں تھا۔
جینی رائیڈن:
کیا آپ ہمیں اپنی پریرتا کے سب سے بڑے ذرائع بتا سکتے ہیں؟
لاسلو کراسناہورکائی:
تلخی۔ میں جب بھی دنیا کی موجودہ حالت کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت دکھی ہو جاتا ہوں۔ یہی میری گہری پریرتا ہے۔ یہ ادب سے وابستہ ہونے والی آئندہ نسل یا نسلوں کے لیے بھی ایک پریرتا ہو سکتی ہے۔ اگلی نسل کو کچھ دینے کی پریرتا، کسی نہ کسی طور عہدِ موجود زندہ رہنا کیونکہ یہ بہت، بہت تاریک زمانہ ہے اور ہمیں اس جینے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ہمت کی ضرورت ہے۔
جینی رائیڈن:
تو، جیسا کہ آپ کہتے ہیں، اس تاریک عہد میں زندہ رہنے کے لیے لکھنا آپ کے نزدیک کتنی اہمیت کا حامل ہے ؟
لاسلو کراسناہورکائی:
دراصل یہ، لکھنا، میری نجی چیز ہے۔ میں عام طور پر جو کچھ لکھتا ہوں اس کے متعلق کبھی بات نہیں کرتا، اور نہ ہی دوسرے شان دار ادیب و شاعر دوستوں کو دکھاتا ہوں۔ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوتا ہوں اور اس کے بعد میں اسے اپنے ناشر کے حوالے کر دیتا ہوں اور اس کے بعد مجھے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ اور پھر یہ ایک دن آتا ہے جب میں دوبارہ ایک نئی کتاب پہلے سے بہتر لکھنے کی خاطر شروع کر دیتا ہوں۔
جینی رائیڈن:
میرا خیال ہے کہ آپ مختلف مقامات پر قیام کرتے ہیں۔ صرف ایک جگہ نہیں، کیا یہ درست ہے؟
لاسلو کراسناہورکائی:
یہ درست ہے۔ میں ہنگری میں رہ رہا ہوں، پھر بڈاپیسٹ، ایک پہاڑکی چوٹی پر۔ اور میں ٹریسٹ میں قیام کرتا ہوں اور کبھی کبھار ویانا میں، جو دراصل قدیم آسٹریا ہنگری کی بادشاہت ہے۔
جینی رائیڈن:
آپ اس کا جشن کیسے منانا چاہتے ہیں؟
:لاسلو کراسناہورکائی
میں ایک نام نہاد، جرمن میں، نام نہاد مترجم کے پاس جا رہا ہوں۔ میں نے اپنی جگہ تبدیل کی ہے، تو اپنی دوسری جگہ جا رہا ہوں ، اور میں جرمنی میں اپنے نئے پتے، ڈاک خانے کے پتے کی اطلاع دینے کے لیے منتظم کے پاس جاؤں گا۔
جینی رائیڈن:
یہ آپ کا آج کا منصوبہ تھا، اور اب آپ یہی کرنے جا رہے ہیں؟
لاسلو کراسناہورکائی:
مجھے ان عمدہ خبروں پر اعتبار نہیں آیا تھا ، اور یہی سبب ہے کہ میں بدل نہیں سکتا۔ شاید شام کو ہم یہاں فرینکفرٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ پورٹ وائن اور شیمپین کے ساتھ رات کا کھانا کھائیں۔
جینی رائیڈن:
یہ اچھی بات ہے۔ ٹھیک ہے، آپ کا بہت شکریہ. آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔
لاسلو کراسناہورکائی:
آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ بہت مہربان ہیں۔
جینی رائیڈن:
شکریہ۔ اور ایک مرتبہ پھر مبارکباد۔
لاسلو کراسناہورکائی:
آپ کا دوبارہ شکریہ۔ بہت بہت شکریہ۔
جینی رائیڈن:
الوداع۔
لاسلو کراسناہورکائی:
شکریہ۔ الوداع۔
۰۰۰
[‘‘انگریزی متن بشکریہ’’نوبیل پرائز آرگنائزیشن]

لاسلو کراسناہورکائی
نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۲۵ء کے حق دار کا اعلان اکتوبر ۹؍۲۰۲۵ء کیا گیا۔ منصفین نے ہنگریا کے ادیب لاسلو کراسناہورکائی کو نوبیل انعام سے سرفرازی کے لیے مؤقف اختیار کیا۔ ’’ان کی دل کش اور بصیرت افروز تخلیقی کاوشوں پر، جو کشفی دہشت میں فن کی قوت کی توثیق کرتی ہیں۔‘‘
مختصر سوانح
لاسلو کراسناہورکائی ۵ جنوری؍ ۱۹۵۴ء کو رومانیہ کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ہنگری کی بیکیس کاؤنٹی کے ایک چھوٹے سے قصبے گیولا میں ایک متوسط یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح کا ایک بعید دیہی علاقہ کراسناہورکائی کے ۱۹۸۵ء میں منصۂ شہود پر آنے والے پہلے ناول ’’شیطانی تانگو‘‘ کا منظر نامہ ہے، جسے ہنگری میں ایک سنسنی خیز ادبی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد، گیؤرگی کراسناہورکائی، ایک وکیل جب کہ والدہ، جولیا پیلنکاس، ایک سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ انھوں نے ۱۹۷۲ء میں ایرکل فیرینس ہائی سکول سے گریجوایشن کرنے کے بعد ۱۹۷۳ء تا ۱۹۷۶ء کے دوران جوزف اطالیہ یونیورسٹی (اب یونیورسٹی آف سیگیڈ) اور ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء کے دوران اَیّوٹ ووس لورینڈ یونیورسٹی (ای ایل ٹی ای) سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۳ء کے دوران ای ایل ٹی ای ہی سے ہنگری زبان و ادب میں ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ معروف مصنف و صحافی سینڈور مارائی (۱۹۰۰ء تا ۱۹۸۹ء) کی ۱۹۴۸ء میں کمیونسٹ حکومت سے فرار کے بعد کی تخلیقات اور تجربات پر مبنی تھا۔
عملی زندگی
ادب کی متعلمی کے عرصے میں لاسلو کراسناہورکائی نے ایک اشاعتی ادارے ’’گون ڈولاٹ کونی کیاڈ‘‘ میں بھی ملازمت کی۔ ۱۹۸۵ء میں بطور مصنف عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۱۹۸۷ء میں پہلی مرتبہ کمیونسٹ ہنگری سے ڈاڈ کی فیلوشپ پر جرمنی گئے اور کئی برس مغربی برلن میں بسر کیے، جہاں انھوں نے چھے ماہ کے لیے فری یونیورسٹی آف برلن میں بطور ایس فشر گیسٹ پروفیسر کے خدمات بھی سرانجام دیں۔ سوویت بلاک کے ٹوٹنے کے بعد متعدد مقامات پر قیام کیا۔ ۱۹۹۰ء میں انھوں خاصا وقت مشرقی ایشیا میں، چین اور منگولیا میں، گزارا۔ وہ ہنگری زبان کے ساتھ ساتھ جرمن بھی جانتے ہیں۔
ذاتی زندگی
۱۹۹۰ء ہی میں لاسلو کراسناہورکائی نے اَنیکو پیلیہی سے شادی کی، جس سے طلاق کے بعد ڈورا کاپسانیی ان کی بیوی بنیں۔ ان تین بچے ہیں: کاٹا، ایگنیس اور پانّی۔ آج کل وہ ہنگری کے پہاڑی علاقے سینتلاسلو میں خلوت نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
تصانیف
ناول
· شیطانی تانگو۔۱۹۸۵ء
· مزاحمت کی افسردگی۔۱۹۸۶ء
· جنگ ہی جنگ۔۱۹۹۹ء
· فلک تلے بربادی اور غم۔۲۰۰۴ء
· وہاں نیچے، سیوبو۔۲۰۰۸ء
· بیرَون وینکہم کی گھر واپسی۔۲۰۱۶ء
· ہرشاہٹ۰۷۷۶۹۔۲۰۲۱ء
· سوملے کو لگتا ہے وہ بیکار ہو گیا۔۲۰۲۴ء (ابھی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا)۔
ناولچے
· شمالی پہاڑ۔۲۰۰۳ء
· آخری بھیڑیا۔۲۰۰۹ء
· اندر کا وحشی۔۲۰۱۰ء
· محل کی تیاری۔۲۰۱۸ء
· ہومر کے تعاقب میں۔۲۰۱۹ء
افسانوی مجموعے
· وقار بھرے مراسم۔۱۹۸۶ء
· اُرگا کا اسیر۔۱۹۹۲ء
· دنیا چلتی جائے۔۲۰۱۳ء
فلمی سکرین پلے
· عذاب۔۱۹۸۸ء
· آخری کشتی۔۱۹۸۹ء
· شیطانی تانگو۔۱۹۹۴ء
· ویرکمیسٹر ہم آہنگیاں۔۱۹۹۱ء
· لندن سے آیا ہوا آدمی۔۲۰۰۷ء
· ٹورین گھوڑا۔۲۰۱۱ء
اسلوب
لاسلو کراسناہورکائی جدید یورپی ادب کے نمایاں مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پیچیدہ اسلوب لیکن مانگ والے مصنف سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے اسلوب کو ’’مابعد جدیدیت‘‘ کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے ناول اداسی، بربادی اور انسانی وجود کے بحران جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔
اعزازات
نوبیل انعام سے قبل لاسلو کراسناہورکائی کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں ہنگری کے سب سے مؤقر اعزاز ’’کوسُوتھ پرائز‘‘ سے لے کر ’’مَین بکر انٹرنیشنل پرائز تک شامل ہیں۔
o وِلینیکا پرائز۔۲۰۱۴ء
o دی نیویارک پبلک لائبریری ایوارڈ۔۲۰۱۵ء
o مَین بکر انٹرنیشنل پرائز۔۲۰۱۵ء
o ایگان آرٹ ایوارڈ۔۲۰۱۷ء
o نیشنل بک ایوارڈ فار ٹرانسلیٹڈ لٹریچر۔۲۰۱۹ء
o لٹریچرـجی آر فریز آف دی ایئر پرائزـ ۲۰۱۸ء۔ ۲۰۲۰ء
o آسٹرین سٹیٹ پرائز فار یورپین لٹریچر۔۲۰۲۱ء
لاسلو کراسناہورکائی کی تحریروں کے مزید تراجم

نجم الدّین احمد
نجم الدین احمد ۰۲ جون ۱۹۷۱ء کو بہاول نگر ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ انگریزی ادب میں ایم اے ہیں۔ وہ ناول نویس، افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔ اُن کے اب تک تین ناول: ’’مدفن‘‘،’’کھوج‘‘ اور ’’سہیم‘‘؛ دو افسانوی مجموعے: ’’آؤ بھائی کھیلیں‘‘اور ’’فرار اور دوسرے افسانے‘‘؛عالمی افسانوی ادب سے تراجم کی سات کتب: ’’بہترین امریکی کہانیاں‘‘، ’’نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی منتخب کہانیاں‘‘، ’’عالمی افسانہ-۱‘‘، ’’فسانۂ عالم (منتخب نوبیل کہانیاں)‘‘، ’’پلوتا (سرائیکی ناول از سلیم شہزاد)‘‘، ’’کافکا بر لبِ ساحل (جاپانی ناول ازو ہاروکی موراکامی)‘‘، ’’کتاب دَدَہ گُرگود (ترک/آذر بائیجان کی قدیم رزمیہ داستان‘‘شائع ہو چکی ہیں۔
علاوہ ازیں نجم الدین احمد نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے انگریزی زبان میں’’ڈسٹرکٹ گزٹیئر ضلع بہاول نگر ۲۰۲۱ء‘‘بھی تحریر و تالیف کیا، جسے حکومتِ پنجاب کی سائٹ پرشائع کیا گیا ہے۔ اُن کی تصانیف پر اب تک انھیں رائٹرز گلڈ ایوارڈ۔۲۰۱۳ء، یو بی ایل ایوارڈ۔ ۲۰۱۷ء اور قومی ادبی ایوارڈ۔ ۲۰۱۹ء سے نوازا جا چکا ہے۔اُن کا ناول یوبی ایل ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ بھی ہوا۔
۰۰۰

3 thoughts on “لاسلو کراسناہورکائی: انٹرویو۔۱”
Good work
نجم صاحب تسلیمات بہت شکریہ ، نوبل انعام حاصل کرنے والے ادیب سے آپ نے متعارف کرایا ، موثر تعارف ۔ بہت شکریہ ۔
نجم صاحب، بہت شکریہ
لکھاری کی گفتگو پڑھ کے اچھا لگا ۔
اس نے اپنی مادری زبان پہ فخر کی بات کی تو ایک طرح سے حوصلہ افزائی بھی محسوس ہوئی ۔
خوش رہیں جناب