تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

میگار (ہنگرین) ناول کا باب

ان کے آنے کی خبر

لاسلو کراسناہورکائی

László Krasznahorkai

ترجمہ؍ محمد عامر حسینی

میگار (ہنگرین) نوبیل انعام یافتہ ادیب لاسلو کراسنا ہور کائی کے ناول ’’شیطان تانگو (رقصِ شیطان ‘‘  سے ایک باب 
مترجم کا نوٹ : لاسلو کراسناہورکائی ہنگرین ادیب ہیں ۔ انھیں ۲۰۲۵ء میں نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ یہاں ان کے ناول ’’رقصِ شیطان‘‘ (Satantango)  کے پہلے باب کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔ ترجمے کے لیے اصل ہنگرین متن، اور ان کے انگریزی اور اطالوی تراجم کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔  محمد عامر حسینی 

اکتوبرکی ایک آخری صبح تھی،جب مغرب کی جانب نمکین اورپھٹی ہوئی زمین پر، کارخانے کے قریب، ابھی ان تھک اور بے رحم خزانی بارشوں کی پہلی بوندیں گرنا شروع نہیں ہوئی تھیں (وہی کیچڑ کا بدبودار سمندر، جو بعد میں ہر دیہی راستے کو ناقابلِ عبور بنا دے گا اورپہلی برف باری تک شہر تک رسائی ناممکن ہو جائے گی) کہ فوتاکی گھنٹی کی آواز سے جاگا۔ سب سے نزدیکی کلیسا جنوب مغرب میں چار کلومیٹر دور،پرانے ہوخ مائس کے کھیت میں تھا۔ لیکن وہ ایک ویران کھنڈر تھا، جس میں گھنٹی تھی نہ مینار— جوجنگ کے دوران گرچکا تھا۔ اورشہر اتنا دورتھا کہ وہاں سے کوئی آواز یہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی، وہ گونجتی ہوئی فتح مندانہ آوازیں۔ کسی دوردراز گھنٹی کی بجائے بہت قریب سے آتی محسوس ہورہی تھیں (’’شاید چکی کی طرف سے……‘‘) جیسے ہوا اُنھیں لارہی ہو۔

اس نے کہنیوں کے بل تکیے پرسہارا لے کر باورچی خانے کی اس ننھی سی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ مگر  نیم دھندلے شیشے کے پار، نیلی مدھم صبح میں ڈوبا ہوا کارخانہ، جس کے گرد وہ بجتی گھنٹیاں آہستہ آہستہ ماند پڑ رہی تھیں، ابھی بھی بالکل ساکت اور خاموش تھا۔ سامنے والے مکانوں میں سے، جو ایک دوسرے سے فاصلے پر تھے۔ صرف ایک کھڑکی سے ہلکی سی روشنی چھن رہی تھی—  ڈاکٹرکے گھر کی؛کیونکہ وہ برسوں سے اندھیرے میں سونہیں سکتاتھا۔

اب وہ کچھ نہیں سن پا رہا تھا سوائے اپنے دل کی مدھم دھڑکنوں کے— جیسے یہ سب محض کسی نیم خواب کا فریب ہو (’’…جیسے کوئی مجھے ڈرانا چاہتا ہو‘‘)

فوتاکی نے سانس روک لیا تاکہ گھنٹیوں کے آخری سر بھی نہ چھوٹ جائیں۔ اورشاید اس لیے بھی کہ وہ حقیقت کااندازہ لگانا چاہتا تھا (’’تم ابھی خواب میں ہی ہو، فوتاکی……‘‘)۔ مگرایسا کرنے کے لیے ضروری تھاکہ ہر آواز، چاہے کتنی ہی مدھم او دور کیوں نہ ہو، سنی جائے۔ اپنے مشہور نرم قدموں سے وہ باورچی خانے کی ٹھنڈی اینٹوں پر لنگڑاتا ہوا کھڑکی تک پہنچا (’’کیا کوئی جاگ رہا ہے؟ کوئی اور یہ آوازیں نہیں سن رہا؟‘‘)۔ اس نے کھڑکی کھولی اور باہر جھک گیا۔

نم ہوا کا ایک تیز جھونکااس کے چہرے پرپڑا، اوراسے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کرنی پڑیں۔ لیکن اس گہرے سکوت میں، جسے صرف مرغ کی بانگ، دور کہیں کتوں کے بھونکنے اور تازہ اٹھے تیز و تند ہوا کے سسکارے نے اور گہرا کر دیا تھا، کان لگانا بےکار تھا۔ اب وہ کچھ نہیں سن پا رہا تھا سوائے اپنے دل کی مدھم دھڑکنوں کے— جیسے یہ سب محض کسی نیم خواب کا فریب ہو (’’…جیسے کوئی مجھے ڈرانا چاہتا ہو‘‘)۔

اس نے افسردگی سے منحوس آسمان کی طرف دیکھا۔ گرمیوں کے وہ سوکھے باقیات جو ٹڈی دل کے حملے کے بعد بچے تھے، اور اچانک اس نے ایک اکیلے ببول کی شاخ پر بہار، گرمی، خزاں اور سرما کو گزرتے دیکھا— اور یوں محسوس ہوا جیسے وقت کی پوری گردش ایک دھوکے بازی ہے، ابدیت کی ٹھہری ہوئی گولائی میں ایک طنزیہ جھوٹ، جو انتشار کے بیچ ایک سیدھی لکیر کا شیطانی فریب پیدا کرتا ہے، اور جھوٹی نسبتوں کے ذریعے بےمعنی کو ناگزیر دکھاتا ہے۔

اچانک اردگرد کی خاموش چیزوں میں ایک گھبراہٹ سی گفتگو شروع ہوئی (الماری چرچڑائی، دیگچی چٹخی، اور ایک پلیٹ اپنی جگہ کھسک کر رک گئی)

اس نے خودکودیکھا— گہوارے اور تابوت کی صلیب پر لٹکا ہوا— آخری جھٹکا کھاتا ہوا، اور پھر اچانک، کسی قہرآمیز اور ناقابلِ انکار حکم کے تحت، برہنہ و بےنشان حالت میں قبر کھودنے والوں کے ہاتھوں میں، ان مردہ جسموں کے چمڑے اتارنے والے مسخرہ مزدوروں کے درمیان۔ وہاں وہ انسانی حقیقت کی پوری قیمت سمجھ گیا: رحم کے بغیر، واپسی کے بغیر، کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ ہمیشہ ایسے دغا بازوں سے کھیلتا رہا ہے جن کے ساتھ جیتنا ناممکن تھا— کیونکہ کھیل کے تمام پتے پہلے سے طے شدہ تھے۔ وہ دغا بازی کا ایک ایسا کھیل تھا جس کے انجام پر اس سے آخری ہتھیار بھی چھین لیا جانا تھا: امید— گھر واپسی کی امید۔

اس نے شرقی جانب کی وہ عمارتیں دیکھیں جوکبھی آباداورشورسے بھری رہتی تھیں،مگر اب گرنے کو تھیں اورسنسان۔ اور کڑوے دل سے دیکھا کہ سرخ بھرا سورج اپنی پہلی کرنیں ایک ٹوٹی چھت والی کھلیان کی دراڑوں سے گزار رہا ہے۔

’’مجھے فیصلہ کرنا ہی ہوگا۔ میں یہاں مزید نہیں رہ سکتا۔‘‘

وہ پھرکمبل کے نیچے گھس گیا، بازو پر سر رکھا، مگر آنکھیں بند نہ کر سکا۔ وہ گھنٹیاں اب بھی اس کے دل کو ڈرا رہی تھیں، بلکہ ان کے رک جانے کا اچانک سکوت اور زیادہ ہولناک تھا— جیسے اب کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہو۔

مگر کچھ نہیں ہلا، اور وہ خود بھی اپنے بستر پر ساکت رہا۔یہاں تک کہ اچانک اردگرد کی خاموش چیزوں میں ایک گھبراہٹ سی گفتگو شروع ہوئی (الماری چرچڑائی، دیگچی چٹخی، اور ایک پلیٹ اپنی جگہ کھسک کر رک گئی)۔ اس نے کروٹ بدلی؛ مسز شمِڈ کی پسینے سے بھری بو سے رخ موڑا؛ہاتھ بڑھا کر اندھیرے میں پانی کاگلاس ڈھونڈا اور ایک ہی گھونٹ میں پی گیا۔

اس عمل سے وہ اس بچگانہ خوف سے آزادہوگیا؛ اس نے گہری سانس لی؛ پیشانی کا پسینہ صاف کیا۔ اور چونکہ وہ جانتا تھا کہ شمِڈ اور کرانر اس وقت تک جانوروں کو جمع کر کے شمالی کھیت کی طرف ہانک رہے ہوں گے تاکہ آٹھ مہینوں کی مشقت کا معاوضہ وصول کریں، اور واپسی میں کئی گھنٹے لگیں گے؛ اس نے دوبارہ تھوڑا سونے کی کوشش کی۔

آنکھیں بند کرکے وہ پہلو کے بل لیٹا اورعورت کو بانہوں میں بھر لیا۔ مگر جیسے ہی نیند آنے لگی، گھنٹیاں پھر بج اٹھیں۔

’’لعنت ہو!‘‘

اس نے کمبل ہٹایا۔مگرجیسے ہی اس کا ننگا،موٹا سا پاؤں فرش کی ٹھنڈی اینٹ کو چھوا، آوازیں اچانک رک گئیں (’’جیسے کسی نے اشارہ کیا ہو…‘‘)۔ وہ بستر کے کنارے جھکا، ہاتھ گود میں باندھے، اور خالی گلاس کو گھورتا رہا۔ حلق خشک تھا،دایاں پاؤں دکھ رہاتھا، اوراب نہ ہمت تھی کہ دوبارہ لیٹ جائے، نہ یہ کہ اٹھ کرکچھ کرے۔

’’زیادہ سے زیادہ کل نکل جاؤں گا۔‘‘ اس نے باورچی خانے کی ویرانی میں باقی بچے استعمال کے قابل سامان کو ایک ایک کر کے دیکھا: لکڑی کے چولہے پر جما ہوا چکنائی اور جلا ہوا کھانا؛ اس کے نیچے رکھا پھٹا ہوا ٹوکرا؛ ٹیڑھی میز؛ دیوار پر لٹکی مٹی سے بھری مقدس تصویریں؛ دروازے کے قریب ایک کونے میں الٹی پڑی پتیلیاں؛ اور پھر کھڑکی کی طرف— جو اب سورج کی روشنی سے نہا چکی تھی۔ باہرببول کی ننگی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں، سامنے ہالچ کے گھر کی ڈھلکی چھت اورٹیڑھی چمنی سے اٹھتا دھواں۔

’’میں اپنی حصہ لوں گا— آج رات ہی!… زیادہ سے زیادہ کل صبح۔‘‘

’’اوخدا!‘‘مسز شمِڈ اچانک چونک کرجاگ بیٹھی۔ گھبرائی ہوئی ادھ اندھیرے میں ادھر اُدھر دیکھتی رہی، پھر سکون کا سانس لے کر واپس تکیے پر گر گئی۔

عورت اب بھی خوفزدہ نگاہوں سے چھت کودیکھ رہی تھی۔ ’’ہاں،خدا کی قسم!ایسا کبھی نہیں ہواتھا!‘‘اس نے ہاتھ دل پر رکھ کر سانس بھری۔

’’کیاہوا؟کوئی براخواب دیکھا؟‘‘ فوتاکی نے پوچھا۔

عورت اب بھی خوفزدہ نگاہوں سے چھت کودیکھ رہی تھی۔

’’ہاں،خدا کی قسم!ایسا کبھی نہیں ہواتھا!‘‘اس نے ہاتھ دل پر رکھ کر سانس بھری۔ ’’سوچو تو ذرا… میں اسی کمرے میں بیٹھی تھی اور… اچانک کسی نے کھڑکی پر دستک دی۔ میں کھولنے سے ڈری، بس پردے کے پیچھے سے جھانکا۔ صرف اس کی پشت نظر آئی۔ وہ دروازے کی کنڈی پر زور سے مکے مار رہا تھا… اور منہ… چیخ رہا تھا۔ مگر سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا… ٹھوڑی پر سخت بال، شیشے جیسے آنکھیں، دونوں… ہولناک منظر…‘‘

پھریادآیا کہ شام کومیں نے دروازہ صرف ایک بار ہی بند کیا تھا۔ دوبارہ کنڈی لگانے کا وقت نہ تھا… میں نے جلدی سے باورچی خانے کا دروازہ بند کیا، مگر چابی غائب تھی۔ چیخنا چاہا، مگر آواز گلے سے نکلی ہی نہیں۔ پھر… بس یاد نہیں۔ بس اتنا کہ مسز ہالچ کھڑکی سے دیکھ رہی تھی اور ہنس رہی تھی— تم جانتے ہو، وہ کیسے ہنستی ہے نا؟… وہ باورچی خانے میں جھانک رہی تھی… پھر غائب ہو گئی۔ اوروہ دوسرا دروازے کو لاتیں ماررہا تھا، اورمیں جانتی تھی وہ کسی لمحے اسے توڑ دے گا۔تب مجھے روٹی کا چاقو یاد آیا۔ میں الماری کی طرف بھاگی، مگر دراز پھنس گئی تھی… میں اسے زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی تھی… خوف سے مرنے لگی تھی… پھر دروازہ ٹوٹنے کی آواز آئی، وہ راہداری سے آ رہا تھا… میں ابھی دراز نہیں کھول پائی تھی…

اچانک انھیں باہرپچھلا دروازہ چرچراتا سنائی دیا۔ وہ چونک کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ’’یقیناًوہی ہیں!‘‘عورت نے سرگوشی کی۔ ’’مجھے احساس ہو رہا ہے۔‘‘

اوروہ باورچی خانے کے دہانے پرتھا… آخرکار دراز کھلا، میں نے چاقو نکالا، وہ ہاتھ لہراتا ہوا قریب آیا… پھر کچھ نہیں یاد… بس اتنا کہ وہ کھڑکی کے نیچے کونے میں گرا پڑا تھا… ہاں، اس کے پاس سرخ نیلی پتیلیوں سے بھرا بورا تھا، جو ساری باورچی خانے میں بکھر گئیں… پھر لگا جیسے فرش ہل رہا ہو۔ سوچو،پورا باورچی خانہ ہلنے لگا،جیسے کوئی گاڑی ہو… پھر بس یادنہیں…۔‘‘ وہ ختم کر کے ہلکی ہنسی ہنسی۔

’’خوب مزہ ہے ہمارا!‘‘فوتاکی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

’’اورمیں جاگاتو گھنٹیاں بج رہی تھیں…‘‘

’’کیا؟‘‘عورت نے حیرت سے دیکھا۔

’’گھنٹیاں؟کہاں؟‘‘

’’بس یہی تونہیں سمجھ پارہا۔دو بارلگاتار…‘‘

عورت نے سرہلایا۔

’’آخرکوتم پاگل ہوجاؤگے۔‘‘

’’یاشایدیہ بھی خواب ہی تھا۔‘‘فوتاکی نے جھنجھلا کر کہا۔ ’’دیکھنا، آج کچھ نہ کچھ ضرور ہونے والا ہے…‘‘

عورت بیزارہوکر کروٹ بدل کراس سے منہ موڑگئی۔

’’تم ہمیشہ یہی کہتے ہو،کبھی تو بس بھی کرو۔‘‘

اچانک انھیں باہرپچھلا دروازہ چرچراتا سنائی دیا۔ وہ چونک کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

’’یقیناًوہی ہیں!‘‘عورت نے سرگوشی کی۔ ’’مجھے احساس ہو رہا ہے۔‘‘

فوتاکی جھٹکے سے بیٹھ گیا۔’’ممکن نہیں! وہ ابھی کیسے لوٹ سکتے ہیں؟‘‘

’’مجھے کیاپتاکیسے! جاؤ،جلدی جاؤ!‘‘

فوتاکی بستر سے کودا،کپڑے بغل میں دبائے، کمرے کا دروازہ بند کر کے کپڑے پہنے۔

’’عصا… میرا عصا باہررہ گیاہے۔‘‘

بہارسے اب تک وہ خواب گاہ استعمال نہیں ہوئی تھی۔ دیواریں سب سے پہلے سبز پھپھوندی سے ڈھک گئیں، پھر الماریوں میں کپڑے، تولیے، چادریں سب گل سڑ گئے۔ چند ہفتوں میں خاص مواقع کے لیے رکھی کٹلری زنگ آلود ہو گئی؛ بڑے میز کی ٹانگیں ڈھیلی پڑ گئیں؛ پردے زرد ہو گئے، اور روشنی بجھ گئی۔ تب انھوں نے مستقل طور پر باورچی خانے میں رہنا شروع کیا۔ اور کمرہ چوہوں اور مکڑیوں کی پناہ گاہ بن گیا، جسے روکنا ممکن نہ رہا۔

جب پچھلے صحن کادروازہ شمِڈکے پیچھے بند ہوا، وہ احتیاط سے باورچی خانے میں نکلا؛جھنجھلائی ہوئی مسز شمِڈ کو دیکھا جو ہاتھ نچا رہی تھی۔ اور ایک لفظ کہے بغیر دروازے کی طرف لپکا۔

فوتاکی نے دروازے کے پٹ سے ٹیک لگائی اورسوچنے لگا کہ اب بغیر دیکھے کیسے نکلے۔ مگر یہ تقریباً ناممکن تھا کیونکہ باہر جانے کا راستہ باورچی خانے سے گزرتا تھا، اوروہ کھڑکی پھلانگنے کے لیے بہت بوڑھا تھا— ویسے بھی مسز کرانر یا مسز ہالچ فوراً دیکھ لیتیں، جو ہمیشہ تاک جھانک میں رہتیں۔ اور اس کاعصا… اگرشمِڈ نے دیکھ لیاتو فوراً سمجھ جائے گا کہ وہ یہاں چھپا ہے، اور شاید پھر اس کاحصہ دینے سے بھی انکارکر دے۔ فوتاکی جانتا تھا وہ ایسے معاملات میں مذاق نہیں کرتا۔ یوں اسے بالآخر اسی طرح بھاگنا پڑے گا جیسے سات برس پہلے آیا تھا— دوسرے خوش حالی کے مہینے کے دوران اعلان کے کچھ ہی عرصے بعد، اپنے پرانے پھٹے پاجامے اوربوسیدہ کوٹ میں، خالی جیبوں اور خالی پیٹ کے ساتھ۔

مسزشمِڈراہداری میں بھاگی،جبکہ فوتاکی نے دروازے سے کان لگایا۔

’’شوربندکرو،میری بلی!‘‘شمِڈکی کھردری آواز آئی۔ ’’ویسا ہی کرو جیسا کہتا ہوں، سمجھیں؟‘‘

فوتاکی کے چہرے پرگرمی دوڑگئی۔ ’’میرے پیسے…‘‘ وہ خودکو پھنسے ہوئے محسوس کررہا تھا۔ وقت کم تھا، اس نے طے کر لیا کہ اب کھڑکی ہی سے نکلے گا— ’’کچھ نہ کچھ ابھی کرنا ہوگا۔‘‘ وہ ابھی کھڑکی کی کنڈی گھمانے ہی والاتھا کہ شمِڈ کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ ’’یہ پیشاب کرنے جا رہا ہے!‘‘ وہ دبے پاؤں واپس دروازے پرآیا اورسانس روکے کان لگایا۔

جب پچھلے صحن کادروازہ شمِڈکے پیچھے بندہوا، وہ احتیاط سے باورچی خانے میں نکلا؛جھنجھلائی ہوئی مسز شمِڈ کو دیکھا جو ہاتھ نچا رہی تھی۔ اورایک لفظ کہے بغیر دروازے کی طرف لپکا۔باہر نکل کر جیسے ہی یقین ہواکہ دوسرا واپس آچکا ہے، اس نے زور سے دروازہ پیٹا —

’’ارے،کوئی ہے گھرمیں؟ شمِڈ،میرے دوست!‘‘

وہ گرجدارآوازمیں چیخا،اور دوسرے کو بھاگنے کا موقع نہ دیتے ہوئے فوراًاندر داخل ہوگیا۔

جب شمِڈباورچی خانے سے نکل کر پچھلے دروازے کی طرف بھاگنے لگا تو فوتاکی اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔

’’ہا!دیکھوذرا!‘‘ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ ’’کہاں جا رہے ہو اتنی جلدی، میرے دوست؟‘‘

شمِڈگونگا رہ گیا۔

’’میں بتاتاہوں کہاں! میں تمہاری مددکرتا ہوں، ڈرو مت!‘‘ فوتاکی کا چہرہ سخت ہو گیا۔ ’’پیسوں سمیت فرار ہونا چاہتے تھے، ہے نا؟ ٹھیک پہچانا؟‘‘

شمِڈپلکیں جھپکاتارہا۔فوتاکی نے سر ہلایا۔

’’کمال ہے،ساتھی۔میں نے تمھیں ایسا نہیں سمجھاتھا۔‘‘

وہ واپس باورچی خانے میں آئے اورمیز کے پاس آمنے سامنے بیٹھ گئے۔

مسزشمِڈگھبراہٹ میں لکڑی کے چولہے کے اردگرد مصروف ہونے کا ڈھونگ رچانے لگی۔

’’سنو،دوست…‘‘شمِڈہکلاتے ہوئے بولا۔ ’’میں فوراً سب بتاتا ہوں…‘‘

فوتاکی نے ہاتھ سے اشارہ کیا:

’’میں سب سمجھ گیاہوں!بس یہ بتاؤ کہ کرانر بھی شامل تھا یا نہیں؟‘‘

اب پھنسے ہوئے شمِڈنے سر ہلایا:

’’آدھا آدھا۔‘‘

’’حرامزادے!‘‘ فوتاکی بھڑک اٹھا۔ ’’تم دونوں مجھے الو بنا رہے تھے!‘‘ پھر سر جھکا کر سوچ میں پڑ گیا۔

’’اب کیا؟اب کیاکریں؟‘‘ اس نے آخرپوچھا۔

شمِڈنے جبڑے بھینچ کرکندھے جھٹکے۔

’’کیاکرسکتے ہیں؟تم بھی اسی کشتی میں ہو، میرے دوست۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘فوتاکی نے دل ہی دل میں حساب لگاتے ہوئے پوچھا۔

’’تین حصے کریں گے۔‘‘شمِڈنے آہستگی سے کہا۔

’’بس شرط یہ کہ اس بات کاذکر تم کسی سے نہ کرو۔‘‘

’’فکرنہ کرو۔‘‘ مسزشمِڈنے لکڑی کے چولھے کے پاس آہ بھری۔

’’تم لوگوں کادماغ چل گیا ہے۔واقعی سمجھتے ہو کہ بچ نکلو گے؟‘‘

شمِڈنے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو،غور سے فوتاکی کو دیکھا۔

’’ہاں،اب تم یہ تونہیں کہہ سکتے کہ معاملہ صاف نہیں کیا۔ مگر میں تم سے ایک بات مانگنا چاہتا ہوں۔ دوست، مجھے برباد مت کرنا!‘‘

’’ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں،نہیں؟!‘‘

’’ہاں،اس پربحث ہی نہیں!‘‘ شمِڈ بولتا گیا، اور اس کی آواز التجا میں بدلتی گئی۔

یکایک زبان پرکھٹاذائقہ ابھرا اور اس نے سوچا کہ گویا موت کا وقت آپہنچا۔

’’میں صرف یہ مانگ رہاہوں کہ… اپنی حصے کی رقم مجھے کچھ عرصے کے لیے ادھار دے دو! بس ایک سال کے لیے! جب تک ہم کہیں جگہ بنا لیں…‘‘

فوتاکی جھلاکر اچھل پڑا۔ ’’اورپھرشایدمجھے تمھاری چاپلوسی بھی کرنی پڑے، ساتھی؟!‘‘

شمِڈآگے کوجھکا اور بائیں ہاتھ سے میز کو جکڑ لیا۔

’’میں کبھی نہ مانگتا،اگر خودتم نے ہی پرسوں نہ کہاہوتا کہ تم یہاں سے اب کہیں نہیں جاناچاہتے؛کہیں بھی نہیں! تو پھر اتنے پیسوں کا کرو گے کیا؟ اور پھر یہ تو صرف ایک سال کے لیے ہے… ایک سال!… ہمیں ضرورت ہے، سمجھو، ہمیں واقعی ضرورت ہے۔ بیس نوٹوں سے کچھ نہیں بنتا، میں تو کھنڈر سا کچا مکان بھی نہیں خرید سکتا۔ کم از کم دس تو دے دو، چلو!‘‘

’’تمھاری مشکل سے میراکوئی لینادینا نہیں!‘‘ فوتاکی نے جھڑک کر جواب دیا۔’’مجھے تمھاری فکر رتی بھر بھی نہیں۔ میں بھی تو اسی جگہ زندہ دفن ہو کر مرنا نہیں چاہتا!‘‘

شمِڈنے اس زور سے سرہلایا کہ غصے سے رونے کو ہو گیا۔پھر وہی راگ الاپا، ضد پر اتر آیا، اگرچہ پہلے سے زیادہ دل شکستہ تھا؛ اور ساتھ ساتھ وہ باورچی خانے کی ٹیڑھی میز پر کہنیاں رکھے لہرا رہا تھا— میز ہر جھٹکے پر اس کے حق میں ڈولتی محسوس ہوتی — جیسے وہ دوسرے کو ’’اس پر ترس کھانے‘‘ پر آمادہ کرنا چاہتا ہو، اور دوست کے منت بھرے ہاتھوں کے آگے ہتھیار ڈال دے۔

حقیقت یہ ہے کہ فوتاکی کے جھک جانے میں اب زیادہ دیر نہ تھی؛ اس کی نگاہیں خواب ناک ہو کر روشنی کی باریک پٹی میں کروڑوں ذراتِ غبار پر ٹھہر گئیں جو کانپ رہے تھے، اور ناک میں باورچی خانے کی باسی باس چبھ رہی تھی۔

یکایک زبان پرکھٹاذائقہ ابھرا اور اس نے سوچا کہ گویا موت کا وقت آپہنچا۔

پھر وہ تینوں زردچہروں کے ساتھ بھاپ اڑاتے پیالوں کو تکنے لگے۔

جب سے کارخانہ بند ہوا تھا— جب سے لوگ جس ہڑبڑی سے آئے تھے اسی ہڑبڑی سے وہاں سے بھاگ نکلے تھے— اور وہ خود، چند خاندانوں، ڈاکٹر اور ہیڈماسٹر کے ساتھ، جو اس ہی کی طرح کہیں جانے کا ٹھکانہ نہ رکھتے تھے، وہیں اَٹک گیا تھا— تب سے وہ روز کھانے کے ذائقے کو ٹٹولتا رہتا، کہ اسے معلوم تھا موت سب سے پہلے شوربوں، گوشت اور دیواروں میں رینگتی ہے۔

وہ ہرنوالا دیرتک منہ میں الٹتا پلٹتا، پھر نگلتا؛ شراب— جو شاذ ہی دسترخوان پر آتی— یا پانی آہستہ آہستہ گھونٹتا؛ اور کبھی کبھی اسے بے قابو ہو کر پمپ کے پرانے کمرے کی مشین ہال کی نائٹری دیوار سے پلستر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نوچ لینے اور چکھ لینے کی سوجھتی — جہاں وہ رہتا تھا — تاکہ خوشبوؤں اور ذائقوں کے نظام میں جو بے قاعدگی خلل ڈالتی ہے، اس میں وہ ‘تنبیہ’ پہچان سکے — کیونکہ اسے امید تھی کہ موت محض ایک طرح کی خبردار ی ہو، حتمی اور دل شکن انجام نہ ہو۔

وقت سست رفتاری سے کٹتارہا۔ شکر یہ کہ گھڑی بہت پہلے ہی بند ہو چکی تھی، اس لیے اس کی ٹک ٹک انہیں گزرتے ہوئے لمحوں کی طرف متوجہ نہیں کر رہی تھی؛ مگر عورت پھر بھی سوئیاں ٹک ٹک دیکھتی رہی اورکبھی کبھار لکڑی کے چمچ سے چولھے پر چڑھی دم گھٹتی یخنی کو ہلاتی رہی۔

پھر وہ تینوں زردچہروں کے ساتھ بھاپ اڑاتے پیالوں کو تکنے لگے۔ مسز شمِڈ کی بار بار کی ٹوک (’’کیا انتظار ہے؟ کیا کیچڑ میں، رات کے اندھیرے میں بھیگتے ہوئے کھاؤ گے؟‘‘) کے باوجود دونوں مردوں نے لقمہ تک نہ اٹھایا۔

انھوں نے بتی نہ جلائی؛حالانکہ اس گھٹتی ہوئی گھڑی میں چیزیں ان کے سامنے گڈمڈ ہو رہی تھیں— دروازے کے پاس رکھی پتیلیاں جیسے جان پکڑنے لگیں، دیواروں پر لٹکے مقدسین جیسے پھر جی اٹھے؛ کبھی تو یوں بھی لگتا کہ بستر پر کوئی لیٹا ہوا ہے؛ اور جب وہ ان خرافات سے جان چھڑانے کو ایک دوسرے کی طرف آنکھ بچا کر دیکھتے تو تینوں کے چہرے ایک جیسی بے بسی دکھاتے۔

اوراگرچہ وہ جانتے تھے کہ شب ڈھلے بغیر وہ جا نہیں سکتے (کیونکہ انہیں یقین تھا کہ مسز ہالچ یا ہیڈماسٹر کھڑکیوں کے پیچھے بیٹھے ’سیکیش‘ کو جاتے راستے پر نظر جمائے ہوں گے— اور شمِڈ اور کرانر کے تقریباً آدھے دن کی تاخیر نے ان کی تشویش بڑھا دی ہوگی)، پھر بھی کبھی شمِڈ اور کبھی عورت یوں اٹھ کھڑے ہوتے جیسے ہر احتیاط کو ٹھکرا کر اندھیرے میں نکل پڑیں گے۔

’’وہ لوگ سنیماجارہے ہیں۔‘‘فوتاکی نے دبے لہجے میں اطلاع دی۔ ’’ہالچ، کرانر، ہیڈماسٹر، ہالچ۔‘‘

’’کرانر؟‘‘ شمِڈجھٹکے سے اٹھا۔’’کہاں؟‘‘ اورکھڑکی کی طرف دوڑا۔

’’درست کہہ رہاہے۔بالکل درست کہہ رہاہے۔‘‘ مسز شمِڈ نے تبصرہ کیا۔

’’چپ رہو!‘‘شمِڈنے ڈانٹا۔

’’گھبراؤ نہیں،ساتھی!‘‘فوتاکی نے دلاسا دیا۔ ’’وہ عورت نری نکمّی نہیں۔ ویسے بھی ہمیں اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا ہے، ہے نا؟ تبھی توشک نہ ہوگا، تم خودسوچو!‘‘

بڑبڑاتاہواشمِڈپھر میزپر جا بیٹھا اوردونوں ہاتھوں میں منھ چھپا لیا۔

فوتاکی دل شکستہ ہوکرکھڑکی کے پاس سگریٹ پھونکتا رہا،جبکہ مسز شمِڈ نے الماری کے نچلے خانے سے رسّی نکالی؛ صندوق کی کنڈیاں، ہزار جتن کے باوجود، بہت زنگ آلود تھیں، اس لیے اس نے صندوق کو اچھی طرح باندھ دیا، دروازے کے پاس رکھ دیا، پھر آکر شوہر کے پہلو میں ہاتھ جوڑے بیٹھ گئی۔

’’کس کاانتظارہے؟‘‘فوتاکی نے پوچھا۔

’’پیسے بانٹ لیتے ہیں!‘‘

شمِڈنے عورت کی طرف دیکھا۔’’کیاجلدی ہے، ساتھی؟‘‘

فوتاکی کھڑاہوااور میز کے قریب آگیا۔ اس نے ٹانگیں پھیلا کر غیر حلاق شدہ ٹھوڑی کھجائی اور شمِڈ پر نظریں گاڑ دیں۔

’’بانٹ لیتے ہیں۔‘‘

شمِڈ نے کنپٹیاں مالش کیں۔ ’’فکر نہ کرو، وقت آیا تو دے دوں گا۔‘‘

’’کس وقت کا انتظار ہے، ساتھی؟‘‘

’’کیوں اصرار کرتے ہو؟ کرانر کے دوسری آدھی رقم لانے کا انتظار کریں۔‘‘

فوتاکی مسکرایا۔

’’بات سیدھی ہے: جو یہاں ہے اسے ابھی تقسیم کر لیتے ہیں۔ باقی جو بچتا ہے، وہ صلیب پر جا کر بانٹ لیں گے۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘ شمِڈ مان گیا۔ ’’ٹارچ لاؤ۔‘‘

’’میں لاتی ہوں۔‘‘ عورت جوش سے اچھل کھڑی ہوئی۔

شمِڈ نے ہوائی جیکٹ کی اندرونی جیب سے ڈوری سے بندھی، گیلی سی پھولی ہوئی لفافہ نکالا۔

’’ٹھہرو۔‘‘ مسز شمِڈ نے روکا، کپڑے سے میز پوش صاف اور خشک کیا۔ ’’اب رکھو۔‘‘

شمِڈ نے ایک مڑا تڑا کاغذ فوتاکی کی ناک تلے دھکیلا (’’دستاویز۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’تاکہ تم سمجھو نہیں کہ میں دھوکا دے رہا ہوں‘‘)۔

فوتاکی نے جلدی سے نظر دوڑائی، سر ہلایا اور بولا۔ ’’گن لیتے ہیں۔‘‘

اس نے ٹارچ عورت کے ہاتھ میں تھمائی اور چمکتی آنکھوں سے ہر نوٹ کی راہ دیکھی— جو شمِڈ کی موٹی انگلیوں سے ایک ہی حرکت میں میز کے دوسرے کنارے کو جا لگتا— اور وہاں پڑے ڈھیر میں اضافہ کرتا جاتا؛ اور اسی رفتار سے اس کی باقی ماندہ جھنجھلاہٹ بھی پگھلتی گئی— ’’تعجب ہی کیا ہے اگر اتنی رقم دیکھ کر آدمی الجھ جائے، اور سب کچھ داؤ پر لگا دے، بس یہ دولت سمیٹنے کے لیے۔‘‘

شمِڈنے بیوی کے ہاتھ سے ٹارچ جھپٹی، بجھادی، اورمیز کی طرف اشارہ کر کے سرگوشی کی۔ ’’جلدی، چھپا دو!‘‘

اس کے پیٹ میں اینٹھن ہوئی،منہ میں یکایک پانی بھر آیا، دل حلق میں دھڑکنے لگا؛ اورجیسے جیسے پسینے سے بھیگا موٹا گچھا شمِڈ کے ہاتھ میں پتلا ہوتا اور میز کے الٹے کونے پر پھیلتا جاتا، وہ ٹارچ کی کپکپاتی، اچھلتی روشنی سے آنکھوں کے آگے اندھا ہوتا گیا— جیسے مسز شمِڈ نے جان بوجھ کر اس کی آنکھوں میں روشنی گاڑ دی ہو؛ اس کے سر میں چکر آیا، وہ دَم لے کر سنبھلا تو شمِڈ کی بھاری آواز کان میں پڑی۔ ’’حساب پورا ہے، ٹھیک ٹھاک۔‘‘

مگر جب وہ خودبالکل آدھے شمارپر پہنچا ہی تھا کہ باہر سے— ٹھیک کھڑکی کے نیچے— کسی نے پکارا۔ ’’اور گھر میں خیریت، محترمہ شمِڈ؟‘‘

شمِڈنے بیوی کے ہاتھ سے ٹارچ جھپٹی، بجھادی، اورمیز کی طرف اشارہ کر کے سرگوشی کی۔ ’’جلدی، چھپا دو!‘‘

مسزشمِڈنے برق رفتاری سے رقم سمیٹی، سینے میں ٹھونس لی، اور ہونٹ ہلائے بغیر سرگوشی کی۔ ’’مسز ہالچ!‘‘

فوتاکی ایک جست میں لکڑی کے چولھے اور الماری کے بیچ جا گھسا، یوں پیٹھ دیوار سے لگا لی کہ اندھیرے میں بس دو چمکتے نقطے— آنکھیں— جھلملائیں، جیسے وہاں کوئی بلی دبکی بیٹھی ہو۔

’’باہرنکلواوراسے دوزخ میں بھیج دو!‘‘ شمِڈ نے سرگوشی کی اور عورت کو دروازے تک چھوڑنے لگا۔

وہ ایک لمحے کودہلیزپراَٹکی؛ ایک بڑا سا سانس لیا اور پھر گلے صاف کرتی ہوئی راہداری میں نکل گئی۔

’’آرہی ہوں!‘‘

’’اگراسے روشنی کادھیان نہیں ہواتو پھر کوئی مسئلہ نہیں!‘‘ شمِڈ نے فوتاکی سے سرگوشی کی، مگر خود اسے اس بات پر کم ہی یقین تھا؛ اسی لیے جب وہ دروازے کے پیچھے جادبکا تو اسے ایسا گھبراہٹ نے آ لیا کہ وہاں چھپا رہنا دشوار ہو گیا۔

 

’’اگراس نے گھر کے اندرقدم رکھنے کی جرأت کی تو میں اس کا گلا دبا دوں گا۔‘‘ اس نے پختہ ارادہ کیا اور نگل لیا۔

اسی لمحے مسز شمِڈ دروازے میں واپس آ گئیں۔

چہرہ زرد۔

’’چلو، باہر آؤ۔‘‘ انھوں نے مدھم آواز میں کہا اور بتی جلا دی۔

شمِڈ پلکیں جھپکتا ہوا ان کے پہلو میں اچھل کر آ کھڑا ہوا۔

’’یہ کیا کرتی ہو؟ بجھاؤ! ہمیں دیکھ لیں گے!‘‘

مسز شمِڈ نے سر ہلایا۔

’’بس کرو، چھوڑو بھی۔ میرا گھر میں ہونا سب کو معلوم ہو سکتا ہے۔ نہیں؟‘‘

شمِڈ نے بادلِ ناخواستہ سر ہلایا، پھر بیوی کا بازو پکڑ لیا۔

’’تو پھر؟ کیا ماجرا ہے؟ اسے روشنی نظر آ گئی تھی؟‘‘

’’نظر آ گئی تھی۔‘‘ مسز شمِڈ نے جواب دیا۔

’’مگر میں نے اسے بتایاکہ گھبراہٹ میں— کیونکہ تم لوگ ابھی تک لوٹے نہیں تھے— میں اونگھ گئی تھی۔ اور جب جاگی اور بتی جلانا چاہی تو بلب پھٹ کر بجھ گیا تھا۔ میں اسے ابھی بدل ہی رہی تھی کہ وہ پکار بیٹھی، اسی لیے ٹارچ جل رہی تھی…‘‘

شمِڈ نے تحسین سے سر ہلایا، مگر پھر چہرہ پھر گھپ ہو گیا۔

’’مگر ہمیں… بتاؤ… اس نے ہمیں دیکھا یا نہیں؟‘‘

’’نہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ نہیں۔‘‘

’’تو پھر اسے آخر چاہیے کیا تھا؟‘‘

عورت کے تاثرات بدل گئے۔

’’وہ پاگل ہو گئی ہے۔‘‘ اس نے آہستہ کہا۔

’’یہ تو ہونا ہی تھا۔‘‘ شمِڈ نے تبصرہ کیا۔

’’وہ کہتی ہے…‘‘ مسز شمِڈ نے ہچکچاتے ہوئے بات بڑھائی۔ کبھی شمِڈ کو دیکھتی، کبھی فوتاکی کو— جو تناؤ سے اسے دیکھ رہے تھے۔

’’وہ کہتی ہے کہ اِریمیاس اور پیترینا آ رہے ہیں۔ وہ کچّی سڑک پر جا پہنچے ہیں… یہاں — کارخانے — آ رہے ہیں!

اور یہ کہ… شاید وہ آ بھی چکے ہیں اور کوچمہ میں ہیں…‘‘

۰۰۰۰

László_Krasznahorkai_Nobel_Prize_Literature_2025

لاسلو کراسناہورکائی

نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۲۵ء کے حق دار کا اعلان اکتوبر ۹؍۲۰۲۵ء کیا گیا۔  منصفین نے ہنگریا کے ادیب لاسلو کراسناہورکائی کو نوبیل انعام سے سرفرازی کے لیے  مؤقف اختیار کیا۔ ’’ان کی دل کش اور بصیرت افروز تخلیقی کاوشوں پر، جو کشفی دہشت میں فن کی قوت کی توثیق کرتی ہیں۔‘‘

مختصر سوانح

لاسلو کراسناہورکائی ۵ جنوری؍ ۱۹۵۴ء کو رومانیہ کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ہنگری کی بیکیس کاؤنٹی کے ایک چھوٹے سے قصبے گیولا میں ایک متوسط یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح کا ایک بعید دیہی علاقہ کراسناہورکائی کے ۱۹۸۵ء میں منصۂ شہود پر آنے والے  پہلے ناول ’’شیطانی تانگو‘‘ کا منظر نامہ ہے، جسے ہنگری میں ایک  سنسنی خیز ادبی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد، گیؤرگی کراسناہورکائی، ایک وکیل جب کہ والدہ، جولیا پیلنکاس، ایک سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ انھوں نے ۱۹۷۲ء میں ایرکل فیرینس ہائی سکول سے گریجوایشن کرنے کے بعد ۱۹۷۳ء تا ۱۹۷۶ء کے دوران  جوزف اطالیہ یونیورسٹی (اب یونیورسٹی آف سیگیڈ) اور ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء   کے دوران اَیّوٹ ووس لورینڈ یونیورسٹی (ای ایل ٹی ای) سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔

 ۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۳ء کے دوران ای ایل ٹی ای ہی سے ہنگری زبان و ادب میں ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ معروف مصنف و صحافی سینڈور مارائی (۱۹۰۰ء تا ۱۹۸۹ء) کی ۱۹۴۸ء میں کمیونسٹ حکومت سے فرار کے بعد کی تخلیقات اور تجربات پر مبنی تھا۔

عملی زندگی

ادب کی متعلمی کے عرصے میں لاسلو کراسناہورکائی نے ایک اشاعتی ادارے ’’گون ڈولاٹ کونی کیاڈ‘‘ میں بھی ملازمت کی۔ ۱۹۸۵ء میں بطور مصنف عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۱۹۸۷ء میں پہلی مرتبہ کمیونسٹ ہنگری سے ڈاڈ کی فیلوشپ پر جرمنی گئے اور کئی برس مغربی برلن میں بسر کیے، جہاں انھوں نے چھے ماہ کے لیے فری یونیورسٹی آف برلن میں بطور ایس فشر گیسٹ پروفیسر کے خدمات بھی سرانجام دیں۔ سوویت بلاک کے ٹوٹنے کے بعد متعدد مقامات پر قیام کیا۔ ۱۹۹۰ء میں انھوں خاصا وقت مشرقی ایشیا  میں، چین اور منگولیا میں، گزارا۔ وہ ہنگری زبان کے ساتھ ساتھ جرمن بھی جانتے ہیں۔

ذاتی زندگی

 ۱۹۹۰ء ہی میں لاسلو کراسناہورکائی نے اَنیکو پیلیہی سے شادی کی، جس سے طلاق کے بعد ڈورا کاپسانیی ان کی بیوی بنیں۔ ان تین بچے ہیں:  کاٹا، ایگنیس اور پانّی۔   آج کل وہ ہنگری کے پہاڑی علاقے سینتلاسلو میں خلوت نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

تصانیف

ناول

·       شیطانی تانگو۔۱۹۸۵ء

·       مزاحمت کی افسردگی۔۱۹۸۶ء

·       جنگ ہی جنگ۔۱۹۹۹ء

·       فلک تلے بربادی اور غم۔۲۰۰۴ء

·       وہاں نیچے، سیوبو۔۲۰۰۸ء

·       بیرَون وینکہم کی گھر واپسی۔۲۰۱۶ء

·       ہرشاہٹ۰۷۷۶۹۔۲۰۲۱ء

·       سوملے کو لگتا ہے وہ بیکار ہو گیا۔۲۰۲۴ء (ابھی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا)۔

ناولچے

·       شمالی پہاڑ۔۲۰۰۳ء

·       آخری بھیڑیا۔۲۰۰۹ء

·       اندر کا وحشی۔۲۰۱۰ء

·       محل کی تیاری۔۲۰۱۸ء

·       ہومر کے تعاقب میں۔۲۰۱۹ء

افسانوی مجموعے

·       وقار بھرے مراسم۔۱۹۸۶ء

·       اُرگا کا اسیر۔۱۹۹۲ء

·       دنیا چلتی جائے۔۲۰۱۳ء

فلمی سکرین پلے

·       عذاب۔۱۹۸۸ء

·       آخری کشتی۔۱۹۸۹ء

·       شیطانی تانگو۔۱۹۹۴ء

·       ویرکمیسٹر ہم آہنگیاں۔۱۹۹۱ء

·       لندن سے آیا ہوا آدمی۔۲۰۰۷ء

·       ٹورین گھوڑا۔۲۰۱۱ء

اسلوب

لاسلو کراسناہورکائی جدید یورپی ادب کے نمایاں مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ  پیچیدہ اسلوب لیکن مانگ والے مصنف سمجھے جاتے ہیں۔  ان کے اسلوب کو ’’مابعد جدیدیت‘‘ کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے ناول اداسی، بربادی اور انسانی وجود کے بحران جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔

اعزازات

نوبیل انعام سے قبل لاسلو کراسناہورکائی  کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں ہنگری کے سب سے مؤقر اعزاز ’’کوسُوتھ پرائز‘‘ سے لے کر ’’مَین بکر انٹرنیشنل پرائز تک شامل ہیں۔

o      وِلینیکا پرائز۔۲۰۱۴ء

o      دی نیویارک پبلک لائبریری ایوارڈ۔۲۰۱۵ء

o      مَین بکر انٹرنیشنل پرائز۔۲۰۱۵ء

o      ایگان آرٹ ایوارڈ۔۲۰۱۷ء

o      نیشنل بک ایوارڈ فار ٹرانسلیٹڈ لٹریچر۔۲۰۱۹ء

o      لٹریچرـجی آر فریز آف دی ایئر پرائزـ ۲۰۱۸ء۔ ۲۰۲۰ء

o      آسٹرین سٹیٹ پرائز فار یورپین لٹریچر۔۲۰۲۱ء

لاسلو کراسناہورکائی کی تحریروں کے مزید تراجم

انٹرویو
نوبیل انعام یافتہ، ۲۰۲۵ء
لاسلو کراسنا ہور کائی
تعارف و ترجمہ؍ نجم الدّین احمد
Muhammad Amir Hussain - Urdu Translator - Urdu Journalist - Urdu Coulmnist

محمد عامر حسینی

محمد عامر حسینی کا تعلق پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ایک اہم شہر، خانیوال سے ہے۔ وہ ایک تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت صحافی ہیں جنہوں نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستگی کے دوران صحافت کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کی تحریریں نہ صرف قومی سطح پر پڑھی جاتی ہیں بلکہ عالمی قارئین بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ محمد عامر حسینی چھے کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں تنقید، سماجیات، سیاسی تجزیے اور ادبی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف فکشن لکھتے ہیں بلکہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو غیر ملکی ادب کے اردو تراجم ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی ادب کو اردو زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادب، صحافت اور ترجمے کے میدان میں ان کی کاوشیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب