تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

روسی ناول کا باب

پسِ پردہ

فیو در دستوفسکی

Fyodor Dostoevsky

ترجمہ؍  خالد فتح محمد

فیو در دستوفسکی کے معروف ناول  اوراقِ زیر ز میں (نوٹس فرام دی انڈر گراؤنڈ)  کا باب 
’’اس ڈائری کامصنف اور ڈائری بذات خود، یقیناً ، تصوراتی ہیں۔ تاہم ایسے افراد جیسے اس تحریر کے، مصنف کا ہمارے معاشرے میں موجود ہونا لازمی امر ہے، خاص کر جب ہم اُن حالات کا جائزہ لیں جو ہمارے معاشرے کی بنیاد ہیں۔ میں نے عوام کے سامنے وہ حقائق واضح طور پر سامنے لانے کی کوشش کی ہے جیسا عموماً کیا جاتا ہے، اور وہ جو ماضی قریب کے کرداروں میں سے ایک ہے۔ وہ اُس نسل کا نمائندہ ہے جو ابھی زندہ ہے۔ اس مختصر تحریر میں، جس کا عنوان ’’پس پردہ‘‘ ہے۔ یہ شخص اپنا اور اپنے نظریات کا تعارف کرواتا ہے،اور یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر وہ سامنے آیا، اور اُسے ہمارے درمیان میں آنا پڑا۔ دوسری تحریر میں اس شخص کی زندگی سے وابستہ حقیقی واقعات کا بیان ہے ….“مصنف کانوٹ

میں ایک بیمار آدمی ہوں۔ میں ایک کینہ پرور آدمی ہوں، مجھے یقین ہے کہ میرا جگر خراب ہے۔ تاہم مجھے اپنی بیماری کے متعلق قطعاً علم نہیں۔ میں قطعی طور پر نہیں بتا سکتا کہ مجھے کیا بیماری ہے۔ میں کسی ڈاکٹر کے ساتھ مشورہ نہیں کرتا ، اور کبھی کروں گا بھی نہیں، گو میں ادویات اور ڈاکٹروں کی عزت کرتا ہوں ۔ اس کے علاوہ گو میں انتہا درجے کا تو ہم پرست ہوں، اتنا کہ ادویات کو اہمیت دوں ۔ بہر حال ( میں اتنا تعلیم یافتہ ضرور ہوں کہ تو ہم پرست نہیں ہونا چاہیے،لیکن میں ہوں ) ۔

میں نفرت کی بدولت ڈاکٹر سے مشاورت نہیں کرتا۔ آپ شاید سمجھ نہیں پائیں گے۔ گو میں اسے سمجھتا ہوں۔ اگر چہ میں واضح طور پر بتا نہیں سکتا کہ اپنی نفرت سے کسے شرمندہ کر رہا ہوں۔ میں یہ بخوبی سمجھتا ہوں کہ اُن کے ساتھ مشورہ نہ کر کے ڈاکٹروں کے ساتھ حساب برابر نہیں کر سکتا۔ میں یہ ہر کسی سے بہتر سمجھتا ہوں کہ اپنے اس عمل سے سوائے خود کے کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہا ہوں۔ اس کے باوجود اگر میں ڈاکٹر سے مشورہ نہ کروں تو یہ نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا جگر اچھی حالت میں نہیں ہے ….. اسے مزید بگڑ نے دو۔

میری یہ حالت ایک عرصہ سے چلی آرہی ہے۔ کوئی بیس برس ہوں گے۔اب میں چالیس سال کا ہوں۔ میں سرکاری ملازمت میں ہوا کرتا تھا، اب نہیں رہا۔ میں ایک کینہ پرور اہل کار تھا۔ میں بد تمیز تھا جس سے لطف کشید کرتا تھا۔ میں رشوت نہیں لیتا تھا، ذرا سوچو، کم از کم مجھے اس کا معاوضہ تو چاہیے تھا۔ (ایک ناموافق مذاق لیکن میں اسے کاٹوں گا نہیں، میں نے یہ سوچ کر لکھا تھا کہ یہ خاصا مزاحیہ ہوگا لیکن اس وقت میں نے محسوس کر لیا ہے میں نہایت کمینگی کے ساتھ شوخی بگھارنا چاہتا تھا، میں ارادتاً اسے نہیں کاٹوں گا!)

جب درخواست گزار معلومات کے لیے میری میز پر آتے تو میں اُنھیں غصے سے گھورتا تھا، اور بے انتہا خوشی محسوس کرتا جب وہ مایوس ہوتے۔ میں تقریباً کامیاب ہو جاتا۔ وہ زیادہ تر کمزور لوگ تھے، قدرتی سی بات ہے کہ درخواست گزار جو ٹھہرے ۔ لیکن مغرور لوگوں میں سے ایک افسر خصوصی طور پر میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اُس میں عاجزی کا پہلو تھا ہی نہیں اور ناقابل قبول انداز میں اپنی تلوار کو جھنجنا تا تھا۔ میں نے اٹھارہ مہینے تلوار کی وجہ سے اُس کے ساتھ جھگڑا رکھا۔ آخر کار میں نے اُسے مات دے دی۔ اُس نے تلوار کو جھنجھنا نا چھوڑ دیا۔ یہ اگرچہ میرے جوانی کے دنوں کی بات ہے۔

لیکن صاحبان، کیا آپ جانتے ہیں کہ میری کینہ پروری کی اصل وجہ کیا ہے؟ سوچیں، تمام وجوہات، اس کی اصل وجہ اُس درد میں ہے جو مسلسل،تلی کے شدید درد کے دوران میں بھی ، شرمساری کے سبب مجھے یہ شعوری احساس تھا کہ میں صرف کینہ پرور ہی نہیں، بلکہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر ہی چڑیوں کو خوف زدہ کر کے خود کو محظوظ کرتا ہوں۔ میرے چہرے پر جھاگ آ گیا ہوگا لیکن مجھے کھیلنے کے لیے گڑیالا دیں، چینی ملا چائے کا ایک پیالہ دے دیں،اور ممکن ہے میں خوش ہو جاؤں۔ شاید صحیح معنوں میں میرا دل نرم پڑ جائے۔ بعد میں ممکن ہے میں خود پر کڑھتار ہوں، اور شرم کے مارے کئی راتیں جاگتار ہوں۔ میرا یہی طریقہ ہے۔

میں نے غلط بیانی سے کام لیا جب میں نے کہا کہ میں ایک کینہ پرور افسر تھا۔ میں نے منافقت کی وجہ سے جھوٹ بولا تھا۔ میں درخواست گزاروں اور افسر کے ساتھ صرف دل لگی کر رہا تھا۔ دراصل میں کبھی کینہ پرور ہو ہی نہیں سکتا۔ مجھے ہر لمحے اپنے اندر متعدد، بہت سارے مخالف نیت کے عوامل کی موجودگی کا علم تھا۔ میں ان مخالف عوامل کے اپنے اندر یقینا ًاکٹھا ہونے سے باخبر تھا۔

میں جانتا تھا کہ یہ میری پوری حیات میں میرے اندرا کٹھے ہوتے رہے ہیں،اور باہر نکلنے کے لیے آرزو مند رہے ہیں، اور میں نے اُنھیں باہر نہیں نکلنے دیا، جان بوجھ کر باہر نکلنے نہیں دیا۔ اور اُنھوں نے تب تک مجھے عذاب میں مبتلا رکھا جب تک میں شرمسار نہیں ہو گیا۔ اُنھوں نے مجھے تب تک عذاب میں رکھا جب تک میں تشنج کا شکار نہیں ہو گیا، اور مجھے بیمار کر دیا، آخر کار میں کتنا بیمار ہو گیا۔ صاحبان، کیا آپ خوش نہیں ہور ہے کہ میں کسی بات کے لیے اب پچھتاوے کا اعتراف کر رہا ہوں، کہ کسی چیز کے لیے معافی کا خواست گار ہورہا ہوں؟ مجھے یقین ہے کہ آپ اسے پسند کر رہے ہیں۔ بہر حال میں آپ کو یقین دلاتا ہوں اگر آپ ….

صرف یہ نہیں کہ میں کینہ پرور نہیں بن سکتا تھا، کیا کچھ کیسے بنا جاتا ہے میرے علم میں ہی  نہیں تھا کہ کچھ کیسے بنا جاتا ہے، کینہ پرور اور نہ ہی مہربان، نہ بد معاش اور نہ ہی شریف، نہ سورما اور نہ کیڑا۔ میں اپنی تنہائی کے گوشے میں زندگی کر رہا ہوں، کینہ پروری اور بے کار قسم کی تسلی کے ساتھ اپنا مذاق اُڑاتے ہوئے کہ سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ایک ذہین آدمی کچھ بھی نہیں بن سکتا، اور صرف احمق ہی کچھ بنتے ہیں۔ انیسویں صدی میں ایک آدمی کے لیے اخلاقی طور پر خصوصاً بد کردار ہونا لازم ہے، ایک اچھے کردار کا حامل آدمی، ایک فعال شخص، خصوصی طور پر محدود مخلوق ہوگی۔ چالیس سالوں سے یہ میرا پختہ یقین ہے۔

میری عمر اس وقت چالیس سال ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ چالیس سال ایک پوری زندگی ہے؛ یہ کافی عمر رسیدگی ہے۔ چالیس سال کی عمر سے زیادہ جینا ایک بد تمیزی ہے؛ بیہودگی اور غیر اخلاقی ۔ چالیس سال کے اوپر کون جیتا ہے؟ اس کا خلوص اور ایمان داری سے جواب دیں۔ میں آپ کو بتاتا ہوں: احمق اور بے وقعتے لوگ ۔ میں تمام بزرگوں کو ان کے سامنے یہ کہتا ہوں، اُن تمام قابل احترام اور سفید بالوں والے بڑوں سے۔ میں تمام دنیا کو بغیر جھجک کے بتاتا ہوں! مجھے یہ کہنے کا حق ہے، کیوں کہ ساٹھ سال کی عمر تک میں خود بھی جیوں گا۔ ستر سال تک! اسی سال تک! ٹھہرو! میں اپنی سانس درست کرلوں ۔

صاحبان، آپ یقیناً یہ سوچتے ہوں گے کہ میں آپ کے ساتھ دل لگی کر رہا ہوں۔ آپ کو یہاں بھی غلطی لگ رہی ہے۔ میں کسی بھی طرح ایسا خوش مزاج آدمی نہیں ہوں جیسا کہ آپ سوچ رہے ہیں ، یا جیسا آپ خیال کریں، تاہم اس احمقانہ گفتگو سے جتنی بھی خفگی ہو رہی ہو (میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ جھلائے ہوئے ہیں) آپ کا یہ پوچھنا عین منطقی ہے کہ میں کون ہوں، تو میرا جواب ہوگا، میں ایک اہم سرکاری اہل کار ہوں جو بعد میں کسی خطاب کا حق دار بھی ٹھہر سکتا ہے۔

میں اس لیے ملازمت کر رہا ہوں کہ میرا نان و نفقہ چلتا رہے (صرف اسی وجہ سے) اور پچھلے سال جب میرے ایک قریبی عزیز نے اپنی وصیت میں میرے لیے چھ ہزار روبل چھوڑے، میں نے فوری طور پر ملازمت ترک کی اور اپنے گوشے میں سکونت پذیر ہو گیا۔ میں پہلے بھی یہیں رہا کرتا تھا لیکن اب سکونت اختیار کر لی ہے۔ میرا بد حال اور بھیانک کمرہ شہر کے مضافات میں ہے۔ میری ملازمہ ایک بوڑھی دیہاتن ہے؛ جہالت کی بدولت بد مزاج ہے؛ مزید ، اُس کے جسم سے ایک بو اٹھتی رہتی ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ پیٹرز برگ کی آب و ہوا میرے لیے موافق نہیں، اور دوسرا کہ میرے محدود ذرائع کے ساتھ مہنگائی میں زندہ رہنا مشکل ہے۔ میں یہ تمام بزرگوں، تجربہ کار کونسلروں اور نگہبانوں سے بہتر طور پر جانتا ہوں لیکن میں پیٹرز برگ میں ہی رہوں گا، میں یہاں سے سکونت ترک کر کے کہیں نہیں جا رہا ہوں۔ میں کہیں جا نہیں رہا ہوں، کیوں کہ…. کیوں کہ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں جا رہا ہوں یا نہیں۔

ایک نفیس شخص خوشی کے ساتھ کیا بات کر سکتا ہے؟

جواب: اپنے بارے میں ۔

سو، میں اپنے بارے میں بات کروں گا۔

میں آپ صاحبان کوبتانا چاہتا ہوں، آپ سننا گوارا کریں یا نہ کریں کہ میں اب کہ میں ایک کیڑا کیوں نہیں بن سکا۔ میں آپ کو سنجیدگی سے بتاتا ہوں کہ میں نے کئی بار کیڑا بننے کی کوشش کی ہے لیکن میں اس قابل نہیں تھا۔ صاحبان، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حساس ہونا ایک بیماری ہے… ایک حقیقی طور پر مکمل بیماری ۔ آدمی کی روزانہ کی ضروریات کے لیے، ایک عام انسانی شعور کا موجود ہونا کافی ہوتا، یعنی، آدھی یا چوتھائی رقم جو ہماری بد قسمت انیسویں صدی کے مہذب آدمی کے نصیب کا حصہ ہے، خاص کر جس کی بد قسمتی پیٹر زبرگ کا رہائشی ہونا ہو، جو دنیا کے زمینی نقشے پر سب سے زیادہ ڈرامائی اور بامقصد شہر ہے۔ (یہاں بامقصد اور بے مقصد شہر بھی موجود ہیں۔)

یہ کافی ہوتا،مثال کے طورپر، ایسا شعور ہوتا جس کی رو سے تمام نام نہاد صاف گو اور عملی اقدام والے آدمی یہاں رہائش پذیر ہیں۔میں شرطیہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کے خیال میں مَیں یہ دکھاوے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ عملی اقدام والے لوگوں کو تختہ ٔمشق بنا کر مزاح پیدا کر رہا ہوں؛ مزید یہ کہ، بدتمیزانہ دکھاوے کے باعث، میں اپنے افسر کی طرح تلوار سے بھاری آواز نکال رہا ہوں لیکن صاحبان، اپنی بیماریوں پر کون اتر اسکتا ہے، یا ان پر شیخی بگھار سکتا ہے؟

اگر چہ،بہر حال،ہرکوئی ایسے ہی کرتا ہے، لوگ اپنی بیماریوں پر نازاں ہوتے ہیں؛ اور  میں شاید ، دوسروں سے بھی زیادہ۔ ہم اس سے اختلاف نہیں کریں گے، میرا نقطۂ نظر لا یعنی تھا۔ لیکن میں پختہ یقین کے ساتھ قائل ہوں کہ ہر طرح کی حساسیت ایک بیماری ہے۔ میں اس پر قائم ہوں ۔ ایک منٹ کے لیے ہم اسے نظر انداز کرتے ہیں۔

مجھے یہ بتائیں، ایسے وقت میں یہ کیوں ہوتا ہے، جی ہاں، آخری وقت پر، جب میں اُس مخصوص وقت پر ہر شائستگی کو محسوس کرنے کا اہل ہوتا ہوں جو ’’ارفع اور خوب صورت‘‘ ہو، جیسے کہ کسی منصوبے سے ہو، میرے ساتھ وہ ہوگزرتا ہے، جو ایسی ناکارہ چیز کو نہ صرف محسوس کروں ، بلکہ کر گزروں ، جیسے …. خیر مختصراً، تمام لوگوں سے شاید جو اعمال سرزد ہوتے ہیں، مجھ سے ایسے وقت سرزد ہوئے، جب میں بہت زیادہ فکر مند تھا کہ وہ سرزد نہیں ہونے چاہئیں۔ مجھے جتنا زیادہ اچھائی کا احساس تھا اور وہ سب جو ’’ارفع اور خوب صورت‘‘ تھا، میں جتنا زیادہ اپنی ہی دلدل میں دھنستا ، اُتنا ہی زیادہ میں مکمل طور دھنسے جانے کو تیار تھا۔

لیکن اہم نقطہ یہ تھا کہ یہ تمام، میرے اندر حادثاتی طور پر نہیں ہوا، بلکہ جیسے کہ یہ ہونا ہی تھا۔ یہ اسی طرح تھا کہ جیسے یہ مکمل طور پر میری معمول کی حالت تھی، ہرگز بیماری یا محرومی نہیں، جس سے میرے اندر محرومی کے خلاف جدوجہد جاتی رہی۔ یہ میرے تقریباً یقین کرنے (شاید حقیقتاً یقین کرنے) میں اختتام پذیر ہوئی کہ یہی میری معمول کی حالت ہے۔ لیکن پہلے، آغاز میں میں نے اس جدو جہد میں کتنی اذیتیں برداشت کیں۔ میں اس میں یقین نہیں رکھتا تھا کہ اوروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا، اور اپنی تمام زندگی میں نے اپنے بارے میں یہ حقیقت بطور راز چھپائے رکھی۔

میں شرمسار تھا (شاید، اب بھی  شرمسار ہوں): میں ایک طرح مخفی غیر معمولی پن کے مقام پر پہنچ گیا، پیٹرز برگ کی مایوس کن رات کو جب قابل نفرت لطف اندوزی کے ساتھ اپنے گھر پہنچتا، اس حقیقت سے مکمل طور پر آشنا کہ میں نے اُس دن پھر ایک قابل نفرت فعل کا ارتکاب کیا ہے، جب کہ جو ہو چکا ہے کبھی الٹایا نہیں جا سکتا،جس کا احساس مجھے اندر سے کھائے جا رہا تھا، اپنے آپ کو چیرتا پھاڑتا رہا تا وقتیکہ تلخی ایک شرمناک اور حقیر مٹھاس میں تبدیل ہوگئی ، اور آخر کار … ایک حقیقی مثبت لطف اندازی میں جی ہاں، لطف اندوزی میں لطف اندوزی میں! میں اس پر اصرار کرتا ہوں۔

میں نے اس کاذکراس لیے کیا ہے، کیوں کہ میں اسے حقیقت کے طور پر جاننا چاہتا ہوں کہ آیا دوسرے لوگوں کو بھی ایسی لطف اندوزی کا احساس ہوتا ہے؟ میں اس کی توضیح: لطف اندوزی کسی کی ذلت کے شدید احساس کی بدولت ہوتی ہے، یہ اُس احساس کی بدولت ہے کہ کوئی اپنی آخری حدتک پہنچ گیا ہے، کہ یہ تکلیف دہ تھا، اس کے علاوہ کچھ  اور ہو بھی نہیں سکتا، آپ کے لیے فرار کا راستہ بھی نہیں؛ کہ آپ کبھی کوئی مختلف آدمی نہیں بن سکتے؛ اگر وقت اور یقین ابھی تک بچ گئے ہوں کہ آپ اپنے آپ کو کسی اور رنگ میں تبدیل کر لیں تو امکان یہی ہے کہ آپ تبدیل ہونا نہیں چاہیں گے؛ اگر چاہیں بھی، تو بھی کچھ نہیں کر پائیں گے؛ کیونکہ حقیقت میں آپ کے لیے تبدیل ہونے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔

سب سے برا یہ تھا ، تمام کی جڑ، کہ یہ سب احساس شعور کے تمام اصولوں کی مطابقت میں تھا، اور وہ جڑت جو ان قوانین کے براہ راست نتیجے کی وجہ سے تھی، جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا تھا بلکہ کچھ کر ہی نہیں سکتا تھا۔ چنانچہ احساس شعور کے نتیجے میں وہ اس کے اصولوں پر چلے گا کسی پر الز ام دھرا جا سکتا کہ وہ ایک بدمعاش کیوں ہے؛ گویا بدمعاش ہونے پر کسی پر الزام نہیں دھرا جا سکتا، یعنی کہ یہ کسی بد معاش کے لیے باعث تسکین ہو کہ وہ حقیقتاً ایک بدمعاش ہے…. آخ۔ میں کافی فضول بکواس کر چکا ہوں لیکن میں نے کہا کیا ہے؟ اس میں لطف کس جگہ پر ہے؟ لیکن میں یہ بتاؤں گا۔ میں اس کی تہہ تک جاؤں گا۔ میں نے اسی لیے قلم تھاما ہے….

مثال کے طور پر میں خاصا خود پسند آدمی ہوں۔ میں کسی بھی کبڑے یا بونے جیسا مشکوک ہوں۔ لیکن میں صاف گوئی سے کام لوں گا کہ بعض اوقات ایسے لمحات بھی آئے کہ اگر کسی نے مجھے تھپڑ مارا ہوتا تو شاید میں یقیناً خوش ہوتا۔ میں یہ سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ میں ایک مخصوص طرح کا لطف اُٹھاتا…. لطف، قدرتی بات ہے مایوسی کا لیکن مایوسی میں انتہا کے لطف ہیں، خاص کر جب کوئی اپنی نااُمیدی کے مقام سے بخوبی آگاہ ہو۔ اور جب کسی کے منھ پر تھپڑ مارا جائے، تو پھر اُس پر بھرکس نکالے جانے کا احساس مثبت طریقے سے کیوں حاوی ہو جائے گا۔ سب سے نامناسب پہلو یہ ہے، اس پر کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے، نتیجہ یہی برآمد ہوگا کہ ہر مسئلے کا ہمیشہ میں ہی قصور وار ہوں گا۔

سب سے شرمناک یہ ہوگا، میرے کسی قصور کے بغیر مجھے مورد الزام ٹھہرانا، اور یہ قوانین قدرت کی وجہ سے ہوگا۔ سب سے پہلے کہ اس لیے موردِ الزام ٹھہرانا کہ میں ارد گرد کے لوگوں سے زیادہ سمجھدار ہوں۔ (میں نے ا پنے اپنے آپ کو اپنے ارد گرد کے لوگوں سے زیادہ سمجھدار سمجھا ہے، اور بعض اوقات، آپ یقین کریں گے، میں اس سے یقیناً شرمسار بھی رہا ہوں۔ بہر حال، میں نے اپنی تمام زندگی، جیسا کہ ہے، اپنی نظر دوسری طرف کر لی اور لوگوں کی آنکھوں میں سیدھا کبھی نہیں دیکھا۔) اگر الزام دھرا جائے، آخر کار، کیوں کہ اگر میرے اندر اعلیٰ ظرفی ہوتی تو اس کی بے کاری کے احساس سے مجھے اور بھی اذیت پہنچتی۔

اعلیٰ ظرف ہونے سے مجھے حاصل تو کچھ ہونا نہیں تھا، معاف نہ کرنا، کیونکہ مجھ پر حملہ ہونے والے نے مجھے قانون قدرت کے مطابق تھپڑ مارا تھا، اور قوانین قدرت کو معاف نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی بھولا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ قوانین قدرت کی بدولت ہی تھا۔ آخر میں، میں نے اگر اعلیٰ ظرف کے علاوہ کچھ اور بننا ہوتا، حملہ آور سے بدلہ لینے کا سوچا ہوتا، میں نے کسی سے بدلہ نہیں لے سکنا تھا، کیوں کہ میں نے کچھ کرنے کے لیے کبھی ارادہ ہی نہیں کر سکتا تھا، بے شک میں اس کا اہل بھی ہوتا۔ میں نے ارادہ کیوں نہیں کر سکنا تھا؟ خاص کر اُس کے بارے میں کچھ الفاظ کہنا چاہوں گا۔

۰۰۰

فیو در دستوفسکی۔Fyodor Dostoevsky

فیودر دستوفسکی

فیودر دستوفسکی ۱۱؍ نومبر؍ ۱۸۲۱ء  کو ماسکو میں پیدا ہوئے۔ وہ انسانی نفسیات اور انسانی زندگی کے تاریک پہلوؤں  کو ظاہر کرنے کے لیے معروف ہیں۔ دستوفسکی نے متعدد جدید دور کی تحریکوں کو متاثر کیا جن میں وجودیت بھی شامل ہے،  اور ادبی تنقید کے نفسیاتی اور علم الحیات کے مکاتب پر ان کی تحریروں نے اپنے اثرات مرتب کیے۔ اس  نے جدید دور کے متعدد فلسفیوں اور لکھاریوں کو بھی اپنی تحریروں سے تحریک دی جن میں چیخوف،  جارج آرویل اور ژاں پال سارتر شامل ہیں۔ وہ اپنے ناولوں نوٹس فرام انڈر گراونڈ (۱۸۶۴ء)، کرائم اینڈ پنشمنٹ(۱۸۶۶ء)، دی ایڈیٹ(۱۸۶۸ء)، دی پوسسیڈ جو دی ڈیمنز (۱۸۷۱ء) کی وجہ سےپہچانےجاتے ہیں۔ لیکن انھیں دی کریمازون برادرز(۱۸۷۹ء) سے بہت شہرت ملی ۔دستوفسکی ۹؍ فروری؍ ۱۸۷۹ء  کو  ۵۹ سال کی عمر میں روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں فوت ہوئے۔

۰۰۰

Khalid_Fateh Muhammad_Urdu_Writer_Urdu Translator_خالد فتح محمد

خالد فتح محمد

خالد فتح محمد اپریل ۱۹، ۱۹۴۶ء کو پیدا ہوئے۔ خالد فتح محمد پاکستان کے ایک معروف اور معروف اردو افسانہ نگار، مترجم، نقاد اور تجزیہ کار ہیں — جو غیر معمولی سماجی مشاہدے کی کہانیاں تحریر  کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اُن کے پاس اپنی بات کو الفاظ میں سمونے کا ہمہ گیر فن ہے جسے ادبی حلقوں میں بہت سراہا جاتا ہے۔ اپنے افسانوں اور ناولوں میں، اُنھوں نے فطری، اصلی اور بول چال کے کرداروں کے ساتھ سماجی انصاف، غربت، بھوک، زور اور معاشرے میں رائج سماجی سیاسی مسائل کے بارے میں نظریات کو قائم کیا ہے۔ اُن کے کام کو اردو ناقدین نے بہت سراہا ہے۔ اُن کا خاندان مشرقی پنجاب گورداسپور سے مہاجرت کر کے ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں آباد ہوا۔

 گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ میجر کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ۱۹۹۳ء میں گوجرانوالہ کینٹ میں رہائش اختیار کی، اور لکھنا شروع کیا۔ اُنھوں نے بارہ ناول،  افسانوں کے سات مجموعے اور انگریزی سے ترجمے کی چھ کتابیں شائع کی ہیں:  چار ترکی ناول، ایک جرمن ناول اور چینی کہانیوں کا ایک مجموعہ۔ وہ گوجرانوالہ، پاکستان سے ایک سہ ماہی ادبی رسالہ ’’ادراک‘‘بھی شائع کرتے ہیں، جس کا شمار اردو کے اہم ادبی جرائد میں ہوتا ہے۔

۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب