فسوں کاریاں
میگار (ہنگرین) کہانی
آفاقی مقالہ
اب آخرکار: سیموئل بیکٹ کے لیے
۱:۱۵۰
لاسلو کراسناہورکائی
László Krasznahorkai
ترجمہ؍ محمد عامر حسینی
پہلا لیکچر
۱
میں نہیں جانتا آپ حضرات کون ہیں۔
آپ کی تنظیم کا نام بھی میں پوری طرح نہیں سن سکا۔
اور کھلے دل سے اقرار کرتا ہوں کہ مجھے یہ بھی پوری طرح معلوم نہیں کہ آپ مجھ سے یہاں کس نوعیت کا لیکچر دینے کی توقع رکھتے ہیں۔
آخرکار، آپ کو معلوم ہوگا کہ میں لیکچرار نہیں ہوں۔
میں نے اس بارے میں بہت سوچا، اپنے دماغ پر زور ڈالا کہ پتا چلے اصل معاملہ کیا ہے— جیسے کہ ابھی آپ کے سامنے کوشش کر رہا ہوں— لیکن بہتر ہے اعتراف کر لوں کہ میں کامیاب نہیں ہوا: مجھے نہیں معلوم آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں، اور دل کے کسی کونے میں ایک برا سا احساس ہے کہ شاید خود آپ بھی اس بارے میں پوری طرح واضح نہیں۔
یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ شاید آپ مجھے کسی اور کے ساتھ خلط ملط کر رہے ہیں۔ آپ نے کسی مخصوص شخص کو بلانے کا ارادہ کیا تھا، وہ میسر نہ آیا، اور اسی سبب آپ نے مجھے چن لیا، اس لیے کہ میں آپ کو اُس شخص کی سب سے زیادہ یاد دلاتا ہوں۔
آپ کچھ نہیں کہہ رہے۔ اچھا، میرے لیے یکساں ہے۔
جناب صدر، حضرات— میں ملال پر گفتگو کروں گا۔ اور ابتدا بہت پیچھے سے کروں گا۔
۲
بیسویں صدی کی آخری کچھ دہائیوں میں سے ایک کے دوران، اس دہائی کے عین گہرے جہنم کدے میں، نومبر کے آخر کی ایک کڑی یخ رات کو، جنوب مشرقی ہنگری کے زیریں میدانوں میں واقع ایک چھوٹے قصبے کی مرکزی شاہراہ سے بازار چوک کی سمت ایک بھوت سا ٹرالر آگے بڑھا۔ سرسری نظر میں وہ کوئی تیس میٹر لمبا دکھتا تھا، اور اس کی اونچائی…… اس کی اونچائی، اس کی لمبائی اور چوڑائی کے تناسب سے بے حد زیادہ معلوم ہوتی تھی، اور یہ دیوقامت تناسب لازماً ایک بہت بھاری وزن سے مناسبت رکھتے تھے— سب کچھ دو سیٹوں میں آٹھ آٹھ جڑے پہیوں پر ٹکّا تھا۔ اطراف نیلے نال دار ٹین کی تھیں جن پر کسی اناڑی ہاتھ نے پیلے رنگ سے معمّا خیز اشکال تھوپی ہوئی تھیں؛ اور اگرچہ یہ سارا لاغر دھڑا کسی مال بردار ریل ڈبّے کے مانند ہونا چاہیے تھا، مگر ذرا سا بھی اس جیسا نہ لگتا تھا— نہ صرف اپنی جسامت، وزن اور پہیوں کے سبب، نہ صرف اُن بھونڈی شکلوں اور ان کی خوفناک ناقابلِ فہمیت کے سبب جنھوں نے فوراً اسے کسی ریل ڈبّے سے ملتی جلتی شبیہ سے محروم کر دیا تھا— بلکہ بنیادی طور پر اس لیے کہ اس میں دروازے ہی نہیں تھے، کوئی چیز بھی دروازے کی طرف اشارہ نہیں کرتی تھی؛ گویا اصل منصوبہ ہی یہ تھا کہ کسی زیرِ زمین ورکشاپ کو حکم دیا جائے کہ نیلے نال دار ٹین سے دو سیٹوں میں آٹھ آٹھ جڑواں پہیوں والی ایک نقل و حمل کی گاڑی بنائے— مگر دروازوں کے بغیر؛ پچھلی طرف بھی نہیں— جی ہاں، دروازہ ایک بھی نہیں، شکریہ!— کیونکہ اگر آپ یہ کام کریں گے صاحبان، تو یہ بطور ٹن اسمتھ آپ کی شاہکار ساخت ہوگی؛ غالباً یہی انداز تھا اس حکم کا۔ یہ آپ کی عارضی شاہکار تخلیق ہوگی— یعنی زیرِ زمین کاریگروں کو دی گئی ہدایات کا خلاصہ کچھ یوں رہا ہوگا— کہ یہ سواری آپ ایسے نہیں بنا رہے کہ کوئی بھی اسے کھولے اور بند کرے؛ بس اتنا کافی ہوگا کہ میں— جس نے یہ کام دلوایا— جب چاہوں اسے کھولوں اور بند کروں، اور وہ بھی اندر سے، ایک ہی اشارے میں، بس میں۔
غالباً کچھ ایسا ہی تھا، اس لیے کہ پہلی نظر کا تاثر صاف یہی کہتا تھا کہ زیرِ زمین ورکشاپوں، پراسرار ٹن کاریگروں، اور ایک ایسے گاہک کے بارے میں قیاس آرائی پوری طرح بجا ہے جس کی ہستی ہی معمّا ہے؛ اس پر مزید یہ کہ یخ ہوا کے مقابل اس کھٹارا ٹریکٹر— ٹرالر کے دم خم، اور اس غیر معمولی ڈھانچے کی وہ اذیت ناک طویل شبانہ مسافت جس کے بعد وہ آکر بازار کے بیچ چرچراہٹ کے ساتھ رکا— یہ سب بھی اسی خیال کو تقویت دیتے تھے۔
آپ کے صبر کا امتحان نہ لیتے ہوئے تفصیل میں جائے بنا اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ مکمل طور پر ایک بھوتیا نمود تھی— ہوا سے لڑتا، چوک میں آ کر ہانپتا رکا— اور یہ بتانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں کہ اس کی ساری بھوتناکی کی اوّلین وجہ وہ شے تھی جو اس کے اندر پوشیدہ تھی— وہ بار جو اس کی ترسیل کے لیے تجویز اور تیار کیا گیا تھا— اور یہ بھوتناکی اُن لوگوں کے سبب بھی تھی جو اُس ہولناک مسافر کے ہمراہ تھے، مشرق سے، کارپیتھین پہاڑ عبور کرتے ہوئے، اس کے ساتھ جھنجھناتے چلے آئے تھے— یعنی عملہ— اور آخر میں اس کے ساتھ وہ بڑا اور شگون آلود جلوس بھی، قریباً تین سو دراز قامت ہستیاں، جو آس پاس کے دیہات اور کھیت کھلیانوں سے اس ڈراؤنی گاڑی کے کھنچاؤ میں ٹھٹھرے ہوئے نیند میں چلنے والوں کی طرح آ نکلی تھیں؛ جو سحری کے ٹرینوں سے اتر کر، پوسٹروں کی رہنمائی میں، چھوٹے قصبے کی مین اسٹریٹ پر اتر آئے تھے اور صبح صادق میں کھڑے تھے— سب کے سب— گویا مسحور۔
یقیناً مقامی لوگ پوسٹروں سے ہی نہیں بلکہ اُن افواہوں سے بھی باخبر تھے جو اس قافلے سے بہت پہلے پہنچ چکی تھیں؛ سو جب انھوں نے صبح بازار میں اس عجیب بار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو بس اتنا کہا: آہ، تو پھر یہ سچ تھا، محض سُنی سنائی بات نہیں؛ بے بنیاد گپ نہیں؛ ہاں واقعی، پورا سیّار سرکس آ پہنچا ہے— وہیل سمیت اس کا سارا جلوس۔
معزز ڈائریکٹر جنرل صاحب، معزز حاضرین! مقامیوں نے ادھر اُدھر کی سنی سنائی سے اس ٹولی کے بارے میں جو کچھ معلوم ہو سکتا تھا تقریباً سب جان لیا تھا— پوسٹر دوبارہ پڑھنے کی چنداں حاجت نہ تھی— کہ اُس عظیم الجثہ سرکس ٹرک میں، جو چوک کے عین بیچ کھڑا تھا، دنیا کی سب سے بڑی وہیل موجود ہے۔ وہ اس نہایت فربہ ڈائریکٹر کے بارے میں بھی جانتے تھے جس کی انگلیوں میں ہمیشہ سلگتا سگار دبا رہتا تھا اور جو اسے وقتاً فوقتاً تنبیہی اشارے میں بلند کرتا؛ اور اُس غیر متحرک، سنگ دل ’’فکٹوٹم‘‘ (Factotum۔ ہر فن مولا معاون) کے بارے میں بھی، جیسا کہ افواہوں نے عملے کے دوسرے اور پہلوان مانند رکن کو نام دیا تھا؛ اور یہ بھی کہ یہ دونوں اور وہ مبینہ ’’دنیا کی سب سے بڑی وہیل‘‘ راستے میں خوب گل کھلا چکے ہیں۔
سو مقامی بہت کچھ جانتے تھے؛ اور اگر میں کہوں کہ وہ اس سب کے باعث تشویش کے عذاب میں مبتلا تھے تو کوئی متعجب نہ ہوگا؛ آخر وہ ایسے جہان کے باشندے تھے جس میں انسانی فطرت کے خوف سے ابھرتی نفرت کی موج میں ہر کوئی اس یقین میں تھا کہ انسانیت خود کو تباہ کر ڈالے گی۔ اس لیے وہ بہت سے امور سے واقف تھے— جزویات سے بھی اور اصول سے بھی— یعنی اُس نال دار ٹین کی دیوار کے پیچھے کیا چھپا ہے؛ وہ متفق تھے کہ اس کے پیچھے ایک ہولناک، عظیم وہیل ہے؛ مگر یہ کہ یہ وہیل کسی شے کو چھپانے کے لیے ہے— درحقیقت خود وہیل کسی اور شے کی جگہ دار ہو— یعنی یہ عظیم لاش بیک وقت پیامبر بھی ہے اور پیام بھی…… بھلا…… اس سے تو وہ مکمل ناواقف تھے۔
اب شروع ہوئی ایک اذیت ناک، طویل انتظار کی گھڑی جو دوپہر تک دراز ہوئی، جب بالآخر اس عظیم الجثہ بند ڈبّے کو آدھے جمع ہوئے تماش بینوں کے لیے کھولا گیا۔ سست قدم، گھسٹتی قطار اندرونِ ڈبّہ کی طرف بڑھی— ایک داخلی راستے سے جو یکایک وجود میں آیا جب اندر سے فکٹوٹم نے پچھلی ٹینی دیوار نیچے گرائی— اور یہ سب جلد ہی ختم بھی ہو گیا، اس لیے کہ اندر چکر کاٹ کر یہ مسحور خلقت پھر باہر چوک میں آ کھڑی ہوئی۔ پھر بھی کوئی ٹس سے مس نہ ہوا؛ کوئی مین اسٹریٹ سے واپس اسٹیشن کی طرف نہ پلٹا؛ سب وہیں ٹھہرے رہے؛ اُس کھلے دہانے— وہیل کے دہانے— کو تکتے۔ ایک ہی جھلک پہلے کافی ہو چکی تھی: جیسے ہی ان تین سو آوارہ قدموں نے اس وہیل کی لاش پر نظر ڈالی— جو نچلی لکڑی کے پٹّوں پر دھری تھی— وہ اسی وقت پلٹنے لگے، گھسٹ گھسٹ کر باہر آئے، اور پھر حسبِ توقع وہیں وہیل کے آس پاس جم گئے— بغیر ایک انچ ہلے۔
معزز صدر— جنرل ڈائریکٹر— (غلط خطاب پر معذرت)— اور معزز حاضرین: مقامی باشندوں کے برعکس، ان تین سو نے اپنی اس سرسری دید اور پھر جنبش سے قطعی انکار کے ذریعے یہ اشارہ دیا کہ اندر کی وہیل کسی اور شے پر پردہ ڈال رہی ہے؛ اور وہ خود وہیل کے لیے نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود کسی شے کے لیے آئے ہیں۔
ایک کتاب ہے جو صراحت سے کہتی ہے کہ اسی لمحے سے اس قصبے میں ہر شے بدترین جہنمی انداز میں الٹ گئی— گویا واقعی جہنم ٹوٹ پڑا— اور کتاب اشارہ دیتی ہے کہ اسے معلوم ہے کہ جہنم کیسا ہو سکتا ہے؛ اسے معلوم ہے کہ بعد میں کیا پیش آیا کہ اس وہیل نے درحقیقت اس بازار چوک میں— انیس سو ساٹھ یا ستر کے عین جہنم کدے میں— کیا چھپا رکھا تھا۔
اگر آپ میرے اس خودسر، گستاخانہ ’’ہم‘‘ کے استعمال کو معاف کریں تو یوں کہنے دیجیے: حتمی معنی نہ پاتے پاتے ہم اتنے نڈھال ہو چکے ہیں کہ ایسی ادب آفرینی سے اُوب گئے ہیں جو مسلسل حتمی معنی کا دعویٰ کرے یا اس کی طرف اشارہ بازی دکھائے۔ ہم ایسے ادب کو برداشت کرنے سے انکار کرتے ہیں جو اپنی رگ و پے میں، اپنی اصل میں، اس قدر بنیادی طور پر جھوٹا ہو؛ ہمیں حتمی معنی کی ایسی کلفت ہے کہ ہم اب یہ جھوٹ برداشت نہیں کر پا رہے؛ دراصل غصہ نہیں بلکہ ان جھوٹوں کی پست سطح اور ادنیٰ پن ہمیں متلایا دیتا ہے۔ سو اوپر کی روشنی میں— آپ حضرات کی کامل تائید کے ساتھ— میں خود اعلان کرتا ہوں کہ یہ کہنا کہ کوئی کتاب جانتی ہے، اور ہمیں— بس ہمیں— یہ سب منکشف کرے گی کہ ایسی دیوقامت وہیل کے پیچھے کیا قیامت برپا ہوتی ہے— یا تو عیّارانہ جسارت ہے یا سفلی بکواس— یک لفظی فیصلہ: جھوٹ۔ کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ ایسے اوقات میں کیا آزاد ہو جاتا ہے— کوئی نہیں— اور کوئی کتاب بھی نہیں جانتی— کہ وہ ’’کچھ‘‘ مکمل طور پر وہیل کی اوٹ میں چھپا ہوا ہے۔
جنابِ چیف کاؤنسلر، معزز حضرات!
۳
اگر یہ سب ساٹھ کی آخری دہائی میں ہوا تھا تو میری عمر کوئی دس برس رہی ہوگی؛ اور اگر ستر کی ابتدائی میں تو پندرہ کے قریب؛ بہرکیف مجھے صاف یاد ہے کہ میں اس صبح اسکول جا رہا تھا— ہلکا سا کپکپایا— اور سارا معاملہ جھٹک دیا— سوچا: کیا بودا فریب ہے— سڑی ہوئی لاش— اور پچاس فورنٹ بھی اوپر سے— ہرگز نہیں کہ اپنی عیدِ بہار (ایسٹر) کی جیب خرچ سے اتنا اڑاؤں— یہی سوچتا ہوا میں کوشوتھ اسکوائر کے اس ٹینی دیو کے پاس سے گزرا جو اسی فٹ پاتھ کے کنارے کھڑا تھا جہاں سے میں اسکول کو جاتا تھا۔
یہ صبح یوں شروع ہوا؛ مگر اسکول کے بعد— غالباً اس دن جلدی اندھیرا ہو گیا تھا— گھر کی طرف آتے آتے میری تجسّس بڑھتی گئی، یہاں تک کہ آخرکار میں بھی، بہت سوں کی طرح، دبک کر واپس کوشوتھ اسکوائر جا پہنچا— جیب میں پچاس فورنٹ دبائے— گھر سے نکلتے ہوئے ماں باپ کی نظر بچا کر۔
میں کوشوتھ اسکوائر لوٹا، اور پچاس فورنٹ فکٹوٹم کی ہتھیلی پر گن کے رکھے؛ اور صرف فکٹوٹم کے قریب کھڑے ہونے ہی سے یہ احساس پیدا ہوا کہ جیسے میں نے ایک ایسی حد پار کر لی ہے جس کے پار یا تو کچھ شاندار ہے یا معمولی— مگر بہر صورت پر ہول اور خطرناک۔ ظاہر ہے مجھے اب یاد نہیں کہ میں نے اندر کیا دیکھنے کی توقع باندھی تھی؛ جب تختوں پر قدم رکھ کر میں اس سواری کے اندر گیا؛ مگر یقیناً میں سمجھ رہا تھا کہ تماشا یا تو شاندار ہوگا یا معمولی— بہر حال ہیبت ناک اور خطرناک— اور غالباً میرے پاس اپنے واضح تصوّرات تھے کہ وہ لازماً مکمل طور پر ان میں سے ایک ہوگا۔
لیکن جو کچھ ہوا وہ سراسر غیر متوقع تھا— نہ اس لیے کہ وہیل میری توقع سے بہت ملتی جلتی یا بہت مختلف تھی— نہیں، بالکل نہیں— بلکہ اس لیے کہ مجھے فوراً محسوس ہوا کہ وہ کتنی بے بسی سے اس نچلے بھاری گارڈر فریم پر پڑی ہے— کچھ دھندلائی ہوئی— چند مدھم لیمپوں کی روشنی میں— اور تقریباً اسی پل مجھے یہ بھی سمجھ آ گیا کہ یہ معمّا— یہ وہیل— کسی بھی قسم کی توضیح سے انکاری ہے— ہمیشہ انکاری رہے گی۔
وہیل کے گرد گھومنے کے لیے بہت قریب جانا پڑتا تھا— خصوصاً اس کے سر کے پاس— جہاں سے مڑ کر باہر نکلنا تھا— اور یہ قربت— اتنی بڑی محبوسیت کی قربت— مجھے تقریباً کچل ہی دیتی جب میں سر تک پہنچا اور نکلنے کو مڑا۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا؛ گلا جیسے دبا؛ اور پلٹتے وقت— میرے خیال میں— میں نے ترس، صدمہ اور شرم سا کچھ محسوس کیا؛ مگر پھر چند قدم کے بعد، باہر، میں ذرا رکا— عام گھورنے اور گھسٹنے کے بیچ— کہ وہیل کو ایک نگاہ میں سمیٹ لوں؛ اور جب یہ ہو گیا تو میرے ذہن میں کچھ نہ رہا؛ نہ میں رکھنا چاہتا تھا؛ اور ویسے بھی میں اس احساس کا کوئی نام نہ دے سکتا— کیا واقعی ترس تھا؟ کیا تھا؟— اور میرا دماغ کاٹ دیا گیا— ذہن نے کام چھوڑ دیا— صرف جذبات بے قابو ہو کر دوڑنے لگے— جیسے اچانک گھٹن کی لہر یا غشی یا تہہ ناپید سستی آپہنچے۔ تب طبعاً میں ایک لفظ بھی نہ بول سکا— نہ اندر، نہ باہر— اور تختوں سے دھیرے دھیرے اتر کر مجھے ان بے حس و حرکت لوگوں کی بھیڑ— لحاف جیکٹوں، بوٹوں اور بھیڑ کی کھال کی ٹوپیوں میں— چیر کر نکلنا پڑا کہ اسکوائر سے جان چھوٹے۔ اُس وقت ایک لفظ کہنے سے قاصر، اب آخرکار کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت مجھ پر— اور میرا خیال ہے دوسروں پر بھی— کیا بیتی— ساٹھ یا ستر کے کسی برس— کیونکہ آج میں بلا جھجھک کہہ سکتا ہوں کہ وہ وہیل— جو اُن بیموں اور گارڈروں کے پلیٹ فارم پر کمزور روشنی میں پڑی تھی— نے گویا مجھے (اور شاید دوسروں کو بھی) ملال کی حالت میں دیانتاً شامل کر لیا؛ میں جب اس وہیل کو دیکھ رہا تھا اور اس گھٹن ذدہ اندرون میں اس کے گرد گھسٹ رہا تھا تو ایک لامتناہی ملال نے میری روح کو آ دبوچا…… اسے کس چیز سے تشبیہ دوں— یہ شہد جیسا تھا— وہ جس کی ایک چمچی ہی کسی کو مار ڈالنے کو کافی ہو۔
ایک طرح کا مہلک شہد— یہی ذائقہ تھا اس ملال کا— مگر میں چاہوں گا کہ میری یہ تشبیہ آپ کو گمراہ نہ کرے؛ کیوں کہ اس تشبیہ کا مقصد یہ نہیں کہ یہ ملال اپنے اندر ناقابلِ تعیّن ہے یا یہ کہ اس کے باہر کوئی حوالہ جاتی مواد چھپا ہے— کوئی چھوٹی حکایت، خفیہ ہدایت یا راہنامہ اس چمچی شہد میں— ہرگز نہیں؛ اس ملال کو اٹھنے کے لیے کسی اور شے کی حاجت نہ تھی؛ وہ بس روح میں داخل ہو گیا؛ لہٰذا اس کو— جیسا کہ میں نے پہلے کیا— ’’مہلک مٹھاسِ شہد‘‘ سے مثل دینا اور بعد ازاں اسے اس چمچی شہد کے ساتھ جوڑ دینا— یہ صرف مجھ گھٹیاانسان کی حرکت ہے— جو اپنی رسوائی سے بڑھ کر اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ یہاں موجود سب اس مضحکہ خیز ناگزیریت سے اتنے ہی واقف ہیں جتنا کہ اس تشبیہ کو پیش کر کے پھر واپس لینے کی نا قابلِ پردہ ناکامی سے۔
معزز سیکریٹری جنرل صاحب، معززحاضرین!— ’’مہلک شہد‘‘— ابھی دی گئی مشروط معنویت میں— یہی وہ ملال تھا جو تب مجھ پر اترا— جب میں نے اس چھوٹے قصبے میں اس مشرق— بلقان— سے آئے سیّار سرکس کی خاص کشش دیکھی۔ اور اس سے میری مراد یہ ہرگز نہیں کہ یہیں سے میری ملال کے لیے خاص حساسیت کی ابتدا ہوئی، اور کہ میں اس وہیل کے قضیے کو اس لیے چھیڑ رہا ہوں کہ ڈگڈگی بجا کر اعلان کروں کہ دیکھیے— یہی میرا مبدأ الفہم ہے— کہ ’’امورِ بنیادی‘‘ کی راہ— جیسا میں انھیں کہتا— ملال سے گزرتی ہے؛ نہیں— بالکل نہیں— یہ کوئی نکتۂ صفر نہ تھا؛ نہ ہی فہمی کا ’’فونس ایٹ اوریگو‘‘؛ یہ تو مجھ میں پہلے سے رچ بس چکا تھا؛ یہ حساسیت شاید میری پیدائش کے ساتھ ہی آئی؛ یا شاید کسی دوپہر جب اندھیرا جلد اتر آیا اور شام نے مجھے ایک چھوٹے کمرے میں کھڑکی کے پاس تنہا پایا؛ یا کون جانے اس سے بھی پہلے— جب میں جھولے میں تھا— ان ہی دوپہروں میں سے کسی میں جب شام آگے بڑھ آتی ہے— آخرکار اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کب پہلی بار اس کی طرف جاگا— اور جب جاگ گیا اور یہ شروع ہوا تو میں نے اس مہلک مٹھاس کا ذائقہ چکھنا سیکھ لیا؛ پھر وقتاً فوقتاً یہ مجھ پر اترتا رہا— خاص طور پر ساٹھ یا ستر کے کسی برس میں— اس کوشوتھ اسکوائر میں— اس نیلے نال دار ٹین کے پیچھے۔
چنانچہ اس کی ابتدا گھنے دھند میں لپٹی ہوئی ہے— یہ جھولے کے زمانے سے بھی پہلے ہو سکتی ہے— کون جانے اس جیسی حساسیت کے ظہور کے مواقع کتنے جلدی پیدا ہو جاتے ہوں۔ بہرکیف اس کے بعد وہ بالکل معمولی تجسّس— جو انسان میں بہت جلد نشوونما پاتا ہے— شاید اسی عمر سے جب آدمی کسی شے کی کھوج میں گردن ہلا ہلا کر کچھوے کی طرح چاروں ہاتھ پاؤں کے بل فرش پر رینگنا شروع کرتا ہے— ممکن ہے اسی دوران اس تجسّس کی سمت— اور حتّٰی کہ رفتار— میرے اندر بنیادی طور پر بدل دی گئی۔ ملال کے لیے میری مناسبت یا میلان نے اس بالکل معمولی تجسّس کے لیے ایک یکسر مختلف راستہ مقرر کر دیا، یہاں تک کہ کہنا پڑتا ہے کہ اس حساسیت نے میرے اس معمولی تجسّس کو کھا لیا— ہمیشہ اسے ایک ہی نقطے کی طرف داغتی— ایک ہی سمت موڑتی— دنیا کے ’’جوہر‘‘ کی طرف— جیسا کہ میں نے بعد میں اسے کہا— حالانکہ کسی بھی حال میں یہ تجسّس— اگر اب بھی اسے تجسّس کہا جا سکتا تھا— ہمیشہ اسی ملال سے آ ٹکراتا— دنیا کے جوہر سے نہیں۔
یقیناً اسے سادہ تر الفاظ میں بھی کہہ سکتے ہیں: مثلاً آپ چل پڑتے ہیں اور اپنی توجہ دنیا کے اس جوہر پر مرکوز کرتے ہیں— جہاں— جیسا کہ میں نے بعد میں سمجھا— فرشتے اور دیو ایک ساتھ بسا کرتے ہیں— تب یہی پہلا اشارہ، یہی پہلی لہر— کہ اس جوہر تک پہنچا جائے— فوراً روح کو ملال میں جکڑ لیتی ہے…… ہاں، اسے سادہ کہا جا سکتا ہے؛ مگر کہنے والی بات سادہ ہو نہیں جاتی۔
مجھے معلوم نہیں آپ اس لیکچرار کے اس اعتراف کو— جو آپ کے روبرو کیا جا رہا ہے— کیسے لیں گے؛ ایسی باتیں ہمیشہ الجھن خیز ہوتی ہیں؛ میں مانتا ہوں؛ لیکن معزز حضرات، معزز جنرل— اور اگر پھر غلط خطاب کر بیٹھوں تو معاف کیجیے— مجھے اس ایک بار کی خطا درگزر کیجیے کہ میں ذوقِ سلیم کے برخلاف یہ کلیدی اطلاع افشا کر دوں: ساری زندگی میں نے اسی مخصوص ملال کے سایے میں بسر کی ہے— اور کرتا ہوں— ایک بے قابو جنون کے ساتھ کہ میں دنیا کے عین محور پر نگاہ ڈالوں— جو مگر اس ملال کے ہمہ گیر کہر کے پیچھے پوری طرح چھپا ہوا ہے۔ اس نے میری پوری زندگی برباد کی— اور آج بھی مجھے چاٹ رہا ہے— اس لیے کہ ابتدا ہی سے ایسا نہ تھا کہ میں نے اس سے بچنے کی کوشش کی ہو— اس کے برعکس— میں نے عملاً…… کیا کہوں…… اس کا شکار کیا— اگرچہ یہ شکار طاقتور کے کمزور کا تعاقب کرنے کے روایتی مفہوم میں نہیں تھا— بلکہ یوں کہ جیسے بہت کمزور بہت طاقتور کا شکار کرنے نکلے۔
ہاں، دنیا کا محور، جناب ڈائریکٹر جنرل، معزز سامعین!
۴
اگر میں اب یہ دعوٰی کروں کہ ملال سب سے پراسرار کشش ہے— جو ہمیں اشیا کے ناقابلِ حصول مرکز کی طرف کھینچتی ہے— تو آپ کو مسکرانے کا حق ہوگا؛ کیونکہ آپ نے اس لیکچرار سے پہلے ہی اتنی متناقض باتیں سن لی ہیں کہ ملال ایک طرف دید کے لیے آخری رکاوٹ ہے، اور دوسری طرف وہ شام ڈھلے کا وہی آرزومند مقام؛ اور خدا جانے کیا کیا اور— سب ایک دوسرے پر ڈھیر۔
میرے خیال میں اب آپ پر واضح ہو چکا ہوگا کہ یہ لیکچرار اپنے موضوع پر آپ کو کوئی نئی بات نہیں بتا سکتا۔
یہ بات تو تب بھی سچ تھی جب آپ نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ایک گفتگو کیجیے—اور بڑے معنی خیز لہجے میں موضوع کے انتخاب کی آزادی بھی دے دی—’ ’بالکل آزاد رہیں‘‘— اور میں نے سوچا: اچھا، جب سب کے لیے یکساں ہے تو میں ملال چن لیتا ہوں؛ مگر یہ نہ سوچا کہ اپنے عہدے سے کیسے سبکدوش ہوں گا؛ دماغ پر ایک ہی سوال سوار رہا: میں ہی کیوں؟ آخر سب میں سے میں ہی کیوں؟
اور پھر— سچ مچ— میں نئی بات کہوں بھی کیسے— جب سورج تلے کوئی نئی بات ہے ہی نہیں؟
آخر وہ ملال جس کی میں بات کر رہا ہوں— اور جسے ترتیب کی خاطر اب سمیٹ کر پیش کرتا ہوں— ہم سب کے لیے آشنا ہے؛ وہ زندگی پر— جسے وہ تباہ کرنا چاہتا ہے— تین ذرائع سے یلغار کر سکتا ہے۔ پہلا اور لا انتہا ذریعہ ہے خود ترحمی؛ نہ صرف وہ جس کے بارے میں کھیل کے میدان کی ضرب الامثال کہتی ہیں ’’بدبو دیتی ہے‘‘؛ بلکہ وہ بھی جب آپ بلا وجہ خود پر ترس کھائیں۔ کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ رہا؛ آپ خیریت سے ہیں؛ بارش کے بعد کسی سنسان پارک میں خاموش بیٹھے؛ یا پردیس کے کسی آرام دہ کمرے میں؛ سحَر سے ذرا پہلے یا شام ڈھلے—اور یہ خود ترحّمی گھات لگا کر آپ پر ٹوٹ پڑتی ہے— کھا جانے والی اور ناگزیر— کیونکہ تب آپ— سمجھے بغیر— یہ جان لیتے ہیں کہ کچھ بھی موجود نہیں۔
دوسرا ذریعہ ہے موسیقی میں بڑے سے چھوٹے سُر کی طرف سرکنا۔ جہاں کہیں، جب کبھی مجھے یہ لمحہ محسوس ہوتا ہے— کہ کسی دھن میں میجر اچانک مائنر میں ڈھل جاتا ہے— مثلاً سی کے بعد اے— تو وہ موسیقی ایک دم میرا دل چیر دیتی ہے؛ میں اسے ذاتی طور پر لیتا ہوں— گویا یہ خاص طور پر میرے لیے ہوا ہو— میرے چہرے پر ایک سُر درد آمیز لذت کی طرح مڑ جاتا ہے؛ ایک لفظ میں: میں ملال میں ڈوب جاتا ہوں— بیٹھا سنتا ہوں اور سوچتا ہوں: آہ، کیا حسن ہے— حالانکہ وہ محض ملال ہوتا ہے۔
مگر سب سے پائیدار اور سب سے گہرا ملال محبت سے پھوٹتا ہے۔
تاہم اس باب میں میں مزید کچھ نہ کہوں گا؛ اگر میں اس موضوع کو پھیلا دوں تو کوئی بڑا انکشاف رونما ہونے کی توقع نہیں۔
لہٰذا، اجازت ہو تو میں اپنا لیکچر یہیں ختم کرتا ہوں۔
۵
میں فارغ ہوا— اگرچہ مجھے معلوم نہیں کہ کیا یہی وہ تھا جس کی آپ نے اس شام مجھ سے توقع رکھی تھی— یا کیا اب بھی میں وہی شخص دکھائی دیتا ہوں جسے آپ ذہن میں لائے تھے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ نہیں۔
خیر، اس سے چنداں فرق نہیں پڑتا۔ ہم نے اسے کر لیا۔ میں نے کہا؛ آپ نے سن لیا؛ کوئی نقصان نہیں ہوا۔
حضرات! میرا بیان ختم ہوا۔
حضورِ عالی! معزز مہمانو!
یہ لیکچر ملال کے بارے میں تھا۔
۰۰۰

لاسلو کراسناہورکائی
نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۲۵ء کے حق دار کا اعلان اکتوبر ۹؍۲۰۲۵ء کیا گیا۔ منصفین نے ہنگریا کے ادیب لاسلو کراسناہورکائی کو نوبیل انعام سے سرفرازی کے لیے مؤقف اختیار کیا۔ ’’ان کی دل کش اور بصیرت افروز تخلیقی کاوشوں پر، جو کشفی دہشت میں فن کی قوت کی توثیق کرتی ہیں۔‘‘
مختصر سوانح
لاسلو کراسناہورکائی ۵ جنوری؍ ۱۹۵۴ء کو رومانیہ کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ہنگری کی بیکیس کاؤنٹی کے ایک چھوٹے سے قصبے گیولا میں ایک متوسط یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح کا ایک بعید دیہی علاقہ کراسناہورکائی کے ۱۹۸۵ء میں منصۂ شہود پر آنے والے پہلے ناول ’’شیطانی تانگو‘‘ کا منظر نامہ ہے، جسے ہنگری میں ایک سنسنی خیز ادبی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد، گیؤرگی کراسناہورکائی، ایک وکیل جب کہ والدہ، جولیا پیلنکاس، ایک سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ انھوں نے ۱۹۷۲ء میں ایرکل فیرینس ہائی سکول سے گریجوایشن کرنے کے بعد ۱۹۷۳ء تا ۱۹۷۶ء کے دوران جوزف اطالیہ یونیورسٹی (اب یونیورسٹی آف سیگیڈ) اور ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء کے دوران اَیّوٹ ووس لورینڈ یونیورسٹی (ای ایل ٹی ای) سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۳ء کے دوران ای ایل ٹی ای ہی سے ہنگری زبان و ادب میں ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ معروف مصنف و صحافی سینڈور مارائی (۱۹۰۰ء تا ۱۹۸۹ء) کی ۱۹۴۸ء میں کمیونسٹ حکومت سے فرار کے بعد کی تخلیقات اور تجربات پر مبنی تھا۔
عملی زندگی
ادب کی متعلمی کے عرصے میں لاسلو کراسناہورکائی نے ایک اشاعتی ادارے ’’گون ڈولاٹ کونی کیاڈ‘‘ میں بھی ملازمت کی۔ ۱۹۸۵ء میں بطور مصنف عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۱۹۸۷ء میں پہلی مرتبہ کمیونسٹ ہنگری سے ڈاڈ کی فیلوشپ پر جرمنی گئے اور کئی برس مغربی برلن میں بسر کیے، جہاں انھوں نے چھے ماہ کے لیے فری یونیورسٹی آف برلن میں بطور ایس فشر گیسٹ پروفیسر کے خدمات بھی سرانجام دیں۔ سوویت بلاک کے ٹوٹنے کے بعد متعدد مقامات پر قیام کیا۔ ۱۹۹۰ء میں انھوں خاصا وقت مشرقی ایشیا میں، چین اور منگولیا میں، گزارا۔ وہ ہنگری زبان کے ساتھ ساتھ جرمن بھی جانتے ہیں۔
ذاتی زندگی
۱۹۹۰ء ہی میں لاسلو کراسناہورکائی نے اَنیکو پیلیہی سے شادی کی، جس سے طلاق کے بعد ڈورا کاپسانیی ان کی بیوی بنیں۔ ان تین بچے ہیں: کاٹا، ایگنیس اور پانّی۔ آج کل وہ ہنگری کے پہاڑی علاقے سینتلاسلو میں خلوت نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
تصانیف
ناول
· شیطانی تانگو۔۱۹۸۵ء
· مزاحمت کی افسردگی۔۱۹۸۶ء
· جنگ ہی جنگ۔۱۹۹۹ء
· فلک تلے بربادی اور غم۔۲۰۰۴ء
· وہاں نیچے، سیوبو۔۲۰۰۸ء
· بیرَون وینکہم کی گھر واپسی۔۲۰۱۶ء
· ہرشاہٹ۰۷۷۶۹۔۲۰۲۱ء
· سوملے کو لگتا ہے وہ بیکار ہو گیا۔۲۰۲۴ء (ابھی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا)۔
ناولچے
· شمالی پہاڑ۔۲۰۰۳ء
· آخری بھیڑیا۔۲۰۰۹ء
· اندر کا وحشی۔۲۰۱۰ء
· محل کی تیاری۔۲۰۱۸ء
· ہومر کے تعاقب میں۔۲۰۱۹ء
افسانوی مجموعے
· وقار بھرے مراسم۔۱۹۸۶ء
· اُرگا کا اسیر۔۱۹۹۲ء
· دنیا چلتی جائے۔۲۰۱۳ء
فلمی سکرین پلے
· عذاب۔۱۹۸۸ء
· آخری کشتی۔۱۹۸۹ء
· شیطانی تانگو۔۱۹۹۴ء
· ویرکمیسٹر ہم آہنگیاں۔۱۹۹۱ء
· لندن سے آیا ہوا آدمی۔۲۰۰۷ء
· ٹورین گھوڑا۔۲۰۱۱ء
اسلوب
لاسلو کراسناہورکائی جدید یورپی ادب کے نمایاں مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پیچیدہ اسلوب لیکن مانگ والے مصنف سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے اسلوب کو ’’مابعد جدیدیت‘‘ کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے ناول اداسی، بربادی اور انسانی وجود کے بحران جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔
اعزازات
نوبیل انعام سے قبل لاسلو کراسناہورکائی کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں ہنگری کے سب سے مؤقر اعزاز ’’کوسُوتھ پرائز‘‘ سے لے کر ’’مَین بکر انٹرنیشنل پرائز تک شامل ہیں۔
o وِلینیکا پرائز۔۲۰۱۴ء
o دی نیویارک پبلک لائبریری ایوارڈ۔۲۰۱۵ء
o مَین بکر انٹرنیشنل پرائز۔۲۰۱۵ء
o ایگان آرٹ ایوارڈ۔۲۰۱۷ء
o نیشنل بک ایوارڈ فار ٹرانسلیٹڈ لٹریچر۔۲۰۱۹ء
o لٹریچرـجی آر فریز آف دی ایئر پرائزـ ۲۰۱۸ء۔ ۲۰۲۰ء
o آسٹرین سٹیٹ پرائز فار یورپین لٹریچر۔۲۰۲۱ء
لاسلو کراسناہورکائی کی تحریروں کے مزید تراجم

محمد عامر حسینی
محمد عامر حسینی کا تعلق پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ایک اہم شہر، خانیوال سے ہے۔ وہ ایک تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت صحافی ہیں جنہوں نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستگی کے دوران صحافت کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کی تحریریں نہ صرف قومی سطح پر پڑھی جاتی ہیں بلکہ عالمی قارئین بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ محمد عامر حسینی چھے کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں تنقید، سماجیات، سیاسی تجزیے اور ادبی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف فکشن لکھتے ہیں بلکہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو غیر ملکی ادب کے اردو تراجم ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی ادب کو اردو زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادب، صحافت اور ترجمے کے میدان میں ان کی کاوشیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
۰۰۰
