تراجم عالمی ادب

ریحان اسلام کا ترجمہ ’’گمشدہ جوانی کا کیفے‘‘۔ مضمون ۔ طاہر عمیر
رنگ برنگ
طاہر عمیر

ریحان اسلام کا  ترجمہ ’’گمشدہ جوانی کا کیفے‘‘ ؍ طاہر عمیر

یہ مختصر سا ناول یاداشت اور وقت کے بہاؤ میں بہتے ہوئے کرداروں کا ایسا ذکر ہے جس کی آخری تصویر بھی کچھ زیادہ واضح نہیں ہوپاتی۔محض یہ ناول ہی نہیں بلکہ موڈیانو کا طرز تحریر بھی یادوں الجھے ہوئے وقت کے زاویوں ، دھندلے خوابناک ماحول، ماضی کی طرف دوڑتے…۔

مزید پڑھیے
مصنوعی ذہانت اور ہراری کی نئی کتاب؍ناصر عباس نیر
رنگ برنگ
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

مصنوعی ذہانت اور ہراری کی نئی کتاب؍ ناصر عباس نیّر

مصنوعی ذہانت کے پاس اپنے جذبات نہیں ہیں۔ مگر ہراری کے مطابق، اسی سبب سے وہ انسانی جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں پہچان سکتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے جذبات کو پہچاننے میں اس لیے غلطی کرتا ہے کہ وہ خود اپنے جذبات کے جنگل میں بھٹک رہا ہوتا ہے…۔

مزید پڑھیے
فلسطین کا شاعرِ مزاحمت و انقلاب اور موت کا ہم سخن، سمیح القاسم مضمون اسد اللہ میر الحسنی
رنگ برنگ
اسد اللہ میر الحسنی

فلسطین کا شاعرِ مزاحمت و انقلاب اور موت کا ہم سخن، سمیح القاسم

فلسطین کی مزاحمتی شاعری میں اگر محمود درویش اجتماعی ضمیر کی موسیقی ہیں تو سمیح القاسم اس ضمیر کی للکار اور صریرِ خامہ ہیں۔ جنھوں نے اپنی زبان کی تلوار سے وقت کے سب سے سخت سنگِ گراں پر ضرب لگائی اور بارہا ثابت کیا کہ…۔

مزید پڑھیے
نجیب محفوظ کی تحریروں میں وقت کا تصور ترجمہ تقریر محمد عامر حسینی
رنگ برنگ
محمد عامر حسینی

محفوظ کی تحریروں میں وقت کا تصور

وقت کا تصور محفوظ کی تحریروں میں ایک اہم اور مسلسل موضوع ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سال کے نوبیل انعام یافتہ جوزف برودسکی کے ہاں وقت ایک بے رحم قوت ہے۔ محفوظ کے ناول ’’محترم جناب‘‘ میں ایک جگہ کہا گیا ہے: ’’وقت تلوار کی طرح کاٹتا ہے — اگر تم اسے ختم نہ کرو تو یہ تمھیں ختم کر دیتا ہے۔‘‘

مزید پڑھیے
Review_of_Novel_ The_Vegetarian_Han_Kang_and_its Urdu_Translation_by_Isma_Hassan_Review_by_Ghulam_Hussain_Sajid_in_Urdu
رنگ برنگ
غلام حسین ساجد

شاکا ہاری / ہان کانگ

ہان کانگ کے ناول شاکا ہاری ( سبزی خور) کو ، مترجم اسما حسین، ۲۰۱۶ء میں بُکر انٹرنیشنل پرائز سے نوازا گیا اور پھر وہ اپنے مجموعی کام کی بدولت ۲۰۲۴ء میں نوبیل انعام کی حقدار ٹھہریں۔ یہ ناول مجموعی طور پر چار کرداروں یونگھے، اُس کے شوہر، اُس کی بڑی بہن انحے اور اور اُس کے مصّور میاں کی کہانی ہے اور…۔

مزید پڑھیے
ہم کس کے لیے لکھتے ہیں؟ مضمون ناصر عباس نیّر
رنگ برنگ
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

‘‘ہم کس کے لیے لکھتے ہیں؟’’

ترک نوبیل انعام یافتہ اورخان پاموک، اپنے ناول ’’سرخ میر انام‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ وہ مصور جو اپنے ناظرین ین کے ممکنہ ردِّعمل کو سامنے رکھتا ہےاور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھتا ہے، اپنے خلاف جرم کا ارتکاب کرتا ہے، نیز ایک معاہدےکی شرائط توڑتا ہے(یہ وضاحت میری ہے)۔

مزید پڑھیے
تراجم عالمی ادب