سخن وری
ہسپانوی نظم
پیدائش
پابلو نیرودا
Pablo Neruda
ترجمہ؍ محمد عامر حسینی
پیدا ہوا ایک آدمی
بے شمار انسانوں میں
جو پیدا ہوئے،
میں جیا ان بہت سے لوگوں کے بیچ
جو جیتے رہے،
اور اس میں کوئی کہانی نہیں
بس مٹی ہے،
چلی کے وسطی علاقے کی مٹی، جہاں
انگور کی بیلوں نے اپنی سبز زلفیں پھیلائیں،
انگور روشنی سے خوراک پاتے ہیں،
اور شراب جنم لیتی ہے
لوگوں کے قدموں سے
پَرال کہلاتا ہے وہ مقام
جہاں وہ پیدا ہوا
سردیوں میں۔
اب نہ وہ گھر باقی ہے
نہ وہ گلی:
پہاڑوں نے
اپنے گھوڑے آزاد کر دیے،
جمع ہو گئی
گہری قوت،
پہاڑ کود پڑے
اور قصبہ
ڈھک گیا
خاموشی میں
زلزلے میں۔
یوں مٹی کی اینٹوں سے بنے دیواریں،
دیواروں پر لگے تصویریں،
ٹوٹے پھوٹے فرنیچر
اندھیری کمروں میں،
خاموشی — جسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ توڑتی تھی
سب کچھ
دوبارہ
مٹی بن گیا:
بس کچھ ہی تھے
جنھوں نے شکل اور خون کو
بچا کے رکھا،
بس کچھ ہی… اور شراب۔
شراب جیتی رہی،
چڑھتی رہی
تک کہ پہنچی
ان انگوروں تک
جو خزاں نے
بکھیر دیے تھے،
پھر اُتری
گونگے کولہوؤں میں،
بیرلوں میں
جو رنگین ہو گئے
اپنے نرم خون سے
اور وہیں،
اُس ہولناک زمین
کے خوف کے نیچے
شراب برہنہ اور زندہ رہی۔
مجھے یاد نہیں
نہ منظر، نہ وقت،
نہ چہرے، نہ خدوخال،
بس نرما سا غبار
گرمیوں کی دُم
اور وہ قبرستان
جہاں مجھے لے جایا گیا
قبر کے بیچ
اپنی ماں کا خواب دیکھنے،
اور چونکہ میں نے کبھی نہیں دیکھا
اُس کا چہرہ
میں نے مُردوں کے بیچ اُسے پکارا، تاکہ دیکھ سکوں،
لیکن جیسے باقی دفنائے گئے،
وہ نہ جانتی تھی، نہ سنتی، نہ کوئی جواب دیا،
اور وہیں رہ گئی — تنہا، اپنے بیٹے کے بغیر،
خاموش، اجتناب کرتی ہوئی،
سایوں کے بیچ۔
اور میں وہیں کا ہوں
اسی پَرال سے، اُس
لرزتی ہوئی زمین سے،
ایسی زمین جو انگوروں سے لدی ہوتی ہے
وہ انگور
جو پیدا ہوئے
میری مُردہ ماں سے۔
۰۰۰

پابلو نیرودا
تین صدیوں تک اسپین کی غاصبانہ،سامراجی اور غیر انسانی اصولوں پر استوار حکومت میں قید رہنے والی سر زمین چلی نے عالمی شاعری کو پابلو نیرودا جیسا بے مثال تخلیق کاردیا۔ براعظم دکنی امریکہ کے مغربی ساحلی کنارے اورانڈس پہاڑی سلسلوں کے درمیان طویل لکیر کی طرح ۲۱۹۹۳۰ مربع کلومیٹر پر مشتمل اس ملک کی آبادی لگ بھگ دو کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ ایک طویل عرصے سے سامراجی قوتوں کے آلہ کار بنے رہے تاوقتیکہ یہاں ترقی پسند افکار کے پھیلاو نے آزادی اور خود مختاری کے احساس کو قومی سطح پر پھیلایا اور لوگوں میں آزادی کے حصول کی خواہش کو بیدار کیا۔ اس نئی فکر کے پیش کاروں میں دیگر سیاست دانوں اور قومی دانشوروں کے ساتھ نیرودا کی حیثیت ممتاز اورمنفرد رہی جس نے اپنی قومی کی آزادی اور خود مختاری کے لیے ہرممکن اور ناممکن کوشش کی۔
یوں ہمارا یہ شاعر کبھی جلا وطن کیا گیا تو کبھی بے گھری کے آزار میں مبتلا ہوا اور پھر اپنے آزاد وطن کا وزیر داخلہ بھی بنایا گیا۔ شاعر، سفیر اور سیاست دان پابلو نیرودا جولائی ۱۲، ۱۹۰۴ء کو پرل،چلی میں پیدا ہوئے اور ستمبر ۲۳، ۱۹۷۳ء کو سینٹ یاگو، چلی میں داعی مطلق کو لبیک کہا۔ ہسپانوی زبان کے بے بدل نظم نگار اور مارکسیت و اشتراکیت کے داعی پابلو کو ۱۹۷۱ء میں نوبیل امن ایوارڈ برائے نظم پیش کیا گیا۔ نیرودا کا اولین شعری مجموعہ ۱۹۲۴ء میں ’’محبت کی بیس نظمیں اور اداسی کا گیت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ نیرودا نے کم عمری میں ہی واہماتی، سیاسی،تاریخی موضوعات پر پر شکوہ اور اثر انگیز نظمیں لکھیں۔ ۰۴ مارچ ۱۹۴۵ء کو پابلو نیرودا کمیونسٹ پارٹی برائے چلی کی طرف سے سینیٹر منتخب ہوئے۔
نیرودا کی ملکیت تین گھر آج عوام کے لیے کھول دیگ گئے ہیں جن میں نیرودا کی اشیاء بطور یادگار رکھی گئی ہیں۔ نیرودا کی حیات پر مشتمل ڈرامہ ’’نیرودا‘‘ سال ۲۰۱۶ء میں پیش کیا گیا جبکہ سوانحی فلم بعنوان’’البورادا‘‘ سال ۲۰۲۱ء میں منظر عام پر آئی۔ پابلو نیرودا پر اٹلی میں سوانحی فلم ’’اِل پوستینو‘‘بنائی گئی۔ اس کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی نیرودا کے حالات و واقعات پر مشتمل فلمیں منظر عام پر آئی ہیں۔ ہسپانوی زبان میں نیرودا کی چالیس سے زائد کتب شائع ہوئیں جبکہ انگریزی میں ترجمہ شدہ کتابوں کو بین الاقوامی سطح پر بے حد شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی۔
بین الاقوامی امن اعزاز ’’لینن امن اعزاز‘‘ سمیت کئی دیگر اعزازات سے بھی پابلو نیرودا کو نوازا گیا۔ نیرودا نے اپنی عالمگیر شہرت کی حامل شاعری کے ذریعے چلی کو پوری دنیا میں متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا جو اس سے پہلے محض ایک کالونی تھی۔ یہ لاجواب شاعر اور وزارت داخلہ سے تعلق رکھنے والا بے مثل سیاستدان سرطان ایسے موذی مرض سے جنگ لڑتا ہوا آخر کار ۶۹ برس کی عمر میں اپنے گھر ایسلا نیگرا میں ۲۳ ستمبر ۱۹۷۳ء کو جہانِ فانی سے ابد آباد کو کوچ کر گیا۔
۰۰۰

محمد عامر حسینی
محمد عامر حسینی کا تعلق پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ایک اہم شہر، خانیوال سے ہے۔ وہ ایک تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت صحافی ہیں جنہوں نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستگی کے دوران صحافت کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کی تحریریں نہ صرف قومی سطح پر پڑھی جاتی ہیں بلکہ عالمی قارئین بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ محمد عامر حسینی چھے کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں تنقید، سماجیات، سیاسی تجزیے اور ادبی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف فکشن لکھتے ہیں بلکہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو غیر ملکی ادب کے اردو تراجم ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی ادب کو اردو زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ادب، صحافت اور ترجمے کے میدان میں ان کی کاوشیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
۰۰۰
براہِ کرم فیس بک (Face Book)، انسٹاگرام (Instagram)، اور ٹویٹر (Twitter) کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر— اوپر دیے گئے متعلقہ نشان (آئیکن) پر کلک کر کے — ہمارے نقشِ پا دیکھیے اور Follow کیجیے تاکہ آپ جانچ سکیں کہ ہم کس طرح اردو زبان کی ترقی و ترویج کی خاطر تراجم کے واسطے سے اس کے فروغ اور آپ کی زبان میں ہونے والے عالمی ادب کے شہ پاروں کے تراجم کی رسائی دنیا بھر میں کرنے کی سعی کر رہے ہیں ۔ ہم آپ سے ملتمس ہیں کہ آپ بھی اپنے طور پر انھیں دنیا کے ساتھ بانٹ کر (شیئر کر کے) ہماری ان کاوشوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔
