تراجم عالمی ادب

نوبیل خطبہ

نوبیل انعام برائے ادب ،۲۰۲۵ء

اُمید کے آغاز اور انجام کے بارے میں

لاسلو کراسناہورکائی

László Krasznahorkai

(دسمبر۷؍ ۲۰۲۵ء)

انگریزی سے اردو ترجمہ؍ خالد فرہاد دھاریوال

László Krasznahorkai - delivering Nobel Prize Lecture 2025
لاسلو کراسناہورکائی نوبیل پرائز خطبہ ۲۰۲۵ء دیتے ہوئے
پھر میں نے خود سے کہا: نہیں، جس بغاوت کا میں سوچ رہا ہوں۔ وہ مختلف ہوگی۔کیونکہ وہ بغاوت پورے نظام کے خلاف ہوگی۔—لاسلو کراسناہورکائی 

محترم خواتین و حضرات!

۲۰۲۵ء کا نوبل انعام برائے ادب ملنے کے بعد، میں نے سوچا تھا کہ آج آپ سے اُمید کے بارے میں بات کروں گا۔ مگر سچ کہوں تو میرے اندر اب ذرہ بھی اُمید باقی نہیں۔ اِس لیے میں نے طے کیا ہے کہ آج میں آپ سے فرشتوں کے بارے میں بات کروں گا۔

۱

میں اِدھر اُدھر ٹہل رہا ہوں اور فرشتوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ ہاں، اب بھی ٹہل ہی رہا ہوں، اُوپر تلے، ایک طرف سے دوسری طرف۔ اپنی آنکھوں پر زیادہ بھروسا مت کیجیے، آپ کو لگ رہا ہوگا کہ میں یہاں کھڑا ہو کر مائیکروفون میں بول رہا ہوں، مگر سچ یہ ہے کہ میں مسلسل کمرے میں چہل قدمی کر رہا ہوں، ایک کونے سے دوسرے کونے تک، پھر واپس۔ بار بار۔ اور اس دوران میرا دماغ فرشتوں میں اُلجھا ہوا ہے۔

اور میں سب سے پہلے آپ کو یہ بتا دوں کہ جن فرشتوں کی میں بات کر رہا ہوں، وہ پرانے والے فرشتوں جیسے بالکل نہیں ہیں۔ اِن کے پر نہیں ہوتے۔ اِس لیے اب ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کہ اگر دو بڑے پر اُن کی پُشت سے نکلے ہوں، یا خلعت سے باہر پھیلے ہوں، تو جنت کا درزی اُنہیں کپڑے کیسے پہناتا ہوگا؟ اُوپر اُس کے کارخانے میں کیا عجب کاریگری ہوتی ہوگی!

پرانے فرشتوں کے بارے میں تو یہ سوال بھی تھا کہ جب وہ موہوم سی نرم عبا اوڑھتے تھے، تو اپنے پر چھپا لیتے تھے یا پھر وہ اُن کے پروں کو ڈھانپ لیتی تھی؟ افسوس! بیچارے ساندرو بوٹیچلی! بیچارے لیونارڈو ڈا ونچی! بیچارے مائیکل اینجلو! یہاں تک کہ بیچارے جیوتو ڈی بوندونے اور فرا آنجیلیکو بھی! سب نے فرشتوں کو پروں کے ساتھ مرتسم کرنے میں کتنی محنت کی۔ مگر اِن باتوں کا اب کوئی مطلب نہیں رہا۔ کیونکہ جن فرشتوں کی میں بات کر رہا ہوں، وہ بالکل نئے ہیں۔

میں اپنی بات یہیں سے شروع کرنا چاہتا ہوں۔ چاہے آپ مجھے اِس وقت مائیکروفون کے سامنے کھڑا ہوا دیکھیں، جبکہ میں دراصل اپنے کمرے میں چکر لگا رہا ہوں۔ اور یہ اعلان کر رہا ہوں کہ اِس سال ادب کا نوبل انعام پانے والا میں، جو اُمید پر بولنے والا تھا، اب اُمید پر نہیں بولوں گا۔ میں فرشتوں کے بارے میں بولوں گا۔

اب میں پھر اُسی جگہ لوٹتا ہوں جہاں مجھے یہ خیال پہلی بار پنپا تھا اور میرے دماغ میں آہستہ آہستہ متشکل ہونے لگا تھا، جب میں اپنے چھوٹے سے مطالعہ کے کمرے میں دھیان جمائے بیٹھا تھا۔ کمرا محض چار بائی چار میٹر کا ہے۔ اگر اُس حصے کو ہٹا دیں جہاں سے سیڑھیاں زیریں منزل کی طرف جاتی ہیں، تو جگہ اور بھی کم پڑ جاتی ہے۔ اور ہاں، اِسے کسی قیمتی ہاتھی دانت کے مینار جیسا مت سمجھئے گا۔ یہ بُرج نما کمرہ ناروے سپروس کی سستی لکڑی سے بنا ہوا ہے، ایک منزلہ لکڑی کی عمارت کے دائیں کونے میں۔

میری زمین ڈھلوانی ہے، اِس لیے یہ کمرا تھوڑا اُوپر اُٹھا ہوا دکھائی دیتا ہے، جیسے کوئی چھوٹا سا مینار ہو۔ جب زیریں منزل میں کمروں کو بڑھانے کی ضرورت پیش آئی، کیونکہ کتابیں ہر طرف پھیلتی جا رہی تھیں اور اُنہیں اب سمیٹے بغیر کام نہیں چل سکتا تھا۔ تو اسی ڈھلوان کی وجہ سے نیا کمرا بنتے بنتے اُوپر کی طرف اُٹھ گیا اور مینار جیسا لگتا ہے، جیسے زیریں منزل پر کسی نے ایک بھاری چیز رکھ دی ہو۔ خیر، میں یہاں صرف فرشتوں کی بات کرنا چاہتا ہوں۔

اور میں اُمید کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔

جی نہیں،میں پرانے فرشتوں کے بارے میں بات نہیں کررہا۔ یعنی اُن قدیم فرشتوں کے بارے میں، جنھیں آپ قرونِ وسطیٰ اور نشاۃِ ثانیہ کی بیش بہا ’بشارتی تصویروں‘ میں دیکھتے ہیں۔ وہ پروں والے فرشتے ہوتے تھے، جو ایک ہی کام پر متعین تھے۔ اُوپر سے بھیجا گیا پیغام سنانا۔ یہ بتانا کہ جسے پیدا ہونا ہے، وہ پیدا ہوگا۔ وہی پرانے آسمانی قاصد۔ جو ہمیشہ کسی نہ کسی پیغام کے ساتھ زمین پر اُترتے تھے۔

فرشتہ شناسی بتاتی ہے کہ وہ اکثرزبانی پیغام سناتے تھے،یاپھر جیسانویں دسویں صدی کی مصوری میں دکھائی دیتا ہے، ایک لہراتی ہوئی لوح سے پڑھتے تھے، ایک ایسی تختی جس پر لکھا ہوا ہر لفظ نہایت اہم مانا جاتا تھا۔ جو بھی ہو، اُن کا بنیادی کام یہی تھا۔ اُوپر والے کے پیغام کو اُس کے چنیدہ لوگوں تک پہنچانا۔ پیغام کبھی روشنی میں آتا تھا اور کبھی کان میں آہستہ سے پھسپھسا دیا جاتا تھا۔

فرشتے خودایک طرح سے وہی پیغام بن جاتے تھے۔اُس ہستی کی طرف سے آیاہوا، جسے کوئی پکار سکتاہے، نہ ملتجی ہو سکتا ہے۔ اُسی نے اُنہیں بھیجا تھا۔ ہمارے لیے، ہم لوگوں کی طرف، ہم جو خاک بسر ہیں، بھٹکتے ہوئے ہیں اور ناقابلِ تصور نتائج کے لیے گویا مجبورِ محض ہیں۔ کیا دن تھے وہ!

مجموعی طوپر،ہر پرانافرشتہ کسی اورکی طرف سے کسی اورکو دیاگیاپیغام تھا۔ جس کالہجہ کبھی تحکمانہ ہوتا، کبھی عرضداشت جیسا۔ مگر یہاں، آپ کے سامنے کھڑے ہو کر یا کہئے کہ اپنے برج نما کمرے میں مسلسل چکر لگاتے ہوئے میں اِس موضوع میں نہیں جانا چاہتا۔ وہ کمرا جسے آپ جانتے ہیں۔ سستی ناروے سپروس کی لکڑی سے بنا، جسے گرم رکھنا قریباً ناممکن ہے، اور جو صرف اِس لیے ’بُرج‘ کہلاتا ہے کیونکہ پوری زمین ڈھلوان پر ہے۔

جی نہیں، میں پرانے فرشتوں کی بات نہیں کرنے والا۔ اُن تصویروں کے باوجود جو اب بھی ہمارے اندر بسی ہوئی ہیں، قرونِ وسطیٰ اور ابتدائی جدید دور کے عظیم مصوروں— جیوٹو اور اُن کے متاخرین کے سبب۔ وہ پرانے فرشتے آج بھی اپنے لیے وہی صفات لیے کھڑے ہیں: پرجوش، درخشاں، اور آتشیں۔

حتّٰی کہ آج بھی وہ ہمیں اندر تک چھو سکتے ہیں۔ ہماری اُس روح کو، جو اب کسی بات پر آسانی سے یقین نہیں کر پاتی۔ صدیوں تک اُنہی فرشتوں کی نادر موجودگی نے ہمیں یہ فرض کرنے کا موقع دیا کہ بہشت نام کی کوئی جگہ ہے۔ اور اسی کے سہارے ہم ’سمت‘ کا مطلب سمجھ پائے کیونکہ سمت ہوتی ہے تو فاصلہ ہوتا ہے؛ اور جہاں فاصلہ ہے، وہاں وقت بھی ہے۔ اور اِس طرح صدیوں یہاں تک کہ ہزاروں سالوں تک وہی دنیا بنی رہی، جسے کائنات مانا گیا، وہ دنیا جہاں اِن فرشتوں سے ہوئی ملاقاتوں نے ہمیں ’عرش‘ اور ’فرش‘ کو ایک حقیقی، محسوس کرنے کے قابل تجربہ دیا۔

تو اگر میں آپ سے پرانے فرشتوں کے بارے میں بات کرتا، تو شاید میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر لگاتا رہتا۔ مگر نہیں، پرانے فرشتے اب نہیں رہے۔ اب صرف نئے فرشتے ہیں۔ اور جہاں تک میری بات ہے، میں یہاں آپ کی متوجہ نگاہوں کے بیچ، کھڑا ہوں اور اُن نئے فرشتوں پر غور کر رہا ہوں۔ بغیر اِدھر اُدھر چہل قدمی کیے، کیونکہ جیسا کہ میں شاید پہلے بھی کہہ چکا ہوں:

ہمارے فرشتے اب یہ نئے والے ہیں۔

اور اپنے پر کھو دینے کے بعد، اب اُن کے پاس وہ نرم، لپٹے ہوئے غلاف بھی نہیں بچے ہیں۔ وہ ہمارے درمیان بالکل عام کپڑوں میں آتے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اُن کی تعداد کتنی ہے، مگر کسی دھندلے سے اشارے سے لگتا ہے کہ جتنے پہلے تھے، آج بھی شاید اتنے ہی ہیں۔ اور جیسے ازمنہ قدیم میں پرانے فرشتے اچانک کہیں بھی ظاہر ہو جایا کرتے تھے، ویسے ہی یہ نئے والے بھی کسی انجان پہر، کسی انجان جگہ پر، ہماری زندگی میں شامل ہو جاتے ہیں، بس یونہی، بتائے بغیر۔

اور سچ کہوں تو اگر وہ چاہیں کہ ہم اُنہیں پہچان لیں، اگر وہ اپنے اندر پنہاں بات کو چھپائیں نہیں تو اُنہیں پہچاننا مشکل بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جس طرح وہ ہمارے درمیان چلتے ہیں، اُن کی چال ڈھال، اُن کی لے، اُن کا پورا وجود کسی الگ ہی سُر میں چلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ہم سے تھوڑا ہٹ کر، کسی دوسری دُھن میں۔

ہم، جو اِس زمین کی دھول میں بھٹکتے، اُلجھتے، گرتے پڑتے رواں دواں ہیں، ہم تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ نئے فرشتے کہیں ’اُوپر‘ سے آ رہے ہیں۔ کیونکہ اب تو یوں بھی نہیں لگتا کہ کوئی ’اُوپر‘ بچا ہے۔ گویا وہ بھی قدیم فرشتوں کے ہمراہ کسی لامتناہی، مجہول جگہ کھو گیا ہو۔ ایک ایسے کہیں میں، جہاں آج کل ایلن مسک جیسے لوگوں کے ہلچل بھرے منصوبے ہی وقت اور خلاء کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔

اوراسی سے یہ عجیب سامنظر بنتاہے کہ آپ اپنے سامنے ایک بوڑھے آدمی کوسن رہے ہیں۔ جوادب کا نوبل انعام لے رہا ہے، اور جو آپ ہی کی زبان جیسی کسی عجیب سی زبان میں آپ سے بول رہا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ یہ بوڑھا آدمی— جو کہ میں ہوں، دراصل اب بھی اُسی بُرج نما کمرے میں ٹہل رہا ہے، ناروے سپروس کے چوبی تختوں اور ناقابلِ برداشت مزاحمِ حدت دیواروں کے بیچ، اسی سردی میں کانپتے ہوئے۔ اور میں اپنی چال تیز کر دیتا ہوں، گویا یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اِن نئے فرشتوں کے بارے میں سوچنے کے لیے خیالات کو بھی کسی دوسری رفتار کی ضرورت ہے۔ قدموں کی کسی دوسری تال کی۔

اورجیسے ہی میں تیزچلتا ہوں، مجھے یکایک احساس ہوتاہے کہ اِن نئے فرشتوں کے پاس نہ صرف پر نہیں ہیں بلکہ اُن کے پاس کوئی پیغام بھی نہیں ہے۔ ایک بھی نہیں۔ وہ ہمارے درمیان صرف اپنے عام لباس میں موجود ہیں۔ اور اگر وہ چاہیں، تو پہچان میں بھی نہ آئیں؛ اور اگر آشنائی دینا چاہیں، تو اچانک ایک شخص کو چُن لیتے ہیں۔ اُس کے پاس آتے ہیں اور اسی لمحے ہماری آنکھوں سے گویا موتیا بند ہٹ جاتا ہے، دل پر جمی ہوئی گرد کی تہیں جھڑ جاتی ہیں۔

یعنی کہ ایک طرح سے روشناسی ہوتی ہے۔ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ارے،یہ تو فرشتہ ہے۔ وہ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ مگر… وہ ہمیں کچھ بھی نہیں دیتا۔ کوئی لفظ نہیں، کوئی درخشاں لوح نہیں، کوئی سرگوشی نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ وہ بس کھڑا رہتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے۔ ہماری آنکھوں میں کچھ تلاش کرتا ہوا۔ اور اُس تلاش میں ایک التجا ہوتی ہے کہ ہم اُس کی آنکھوں میں جھانکیں،تاکہ…

شاید

ہم ہی اُسے کوئی پیغام دے سکیں۔

مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاس ترسیل کے لیے کوئی پیغام ہوتا ہی نہیں۔ کیونکہ جو کچھ کبھی کہا جا سکتا تھا، وہ بہت پہلے کہا جا چکا ہے۔ تب سوال بھی تھے اور جواب بھی۔ اب تو نہ سوال بچا ہے نہ جواب۔

تو پھر یہ کیسی ملاقات ہے؟ یہ کیسا منظر ہے۔ فرشتہ اور انسان روبرو، دونوں خاموش، دونوں اُلجھن میں؟ وہ ہمیں دیکھتا ہے، ہم اُسے دیکھتے ہیں۔ اگر اُسے اِس خاموشی کا کوئی مطلب سمجھ آتا ہوگا، ہمیں تو نہیں آتا۔ خاموشی اور بہرے پن سے بھلا مکالمہ کیسے پھوٹے؟ کیسے فہم پیدا ہو؟ سماوی موجودگی کا تجربہ تو دُور کی بات ہے۔

تبھی، اور یہ ہر تنہا، تھکے ہوئے، دُکھ میں ڈوبے، حساس شخص کے اندر ہوتا ہے، کچھ یکایک کوندھتا ہے۔ اب میرے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہاں، اگر میں خود کو بھی آپ کے درمیان شمار کروں تو یہ بات میرے اندر بھی اٹھتی ہے۔ میں، جو آپ کو مائیکروفون میں بولتا نظر آ رہا ہوں، مگر حقیقت میں اُوپر اُس بُرج نما کمرے میں چل پِھر رہا ہوں، سستے چوبی تختوں اور شرمسار کر دینے والی مزاحمِ حدت دیواروں کے بیچ چکر کاٹتا ہوا۔

تبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ نئے فرشتے اپنی لامتناہی خاموشی میں شاید اب فرشتے بھی نہیں رہ گئے۔ یہ تو دست کش ہیں۔ اُس قدیم، مقدس معنی میں تیاگی۔

میں فوراً اپنا سٹیتھوسکوپ نکال لیتا ہوں کیونکہ میں اُسے ہمیشہ ساتھ رکھتا ہوں اور بہت آہستگی سے اُس کا سرد ڈایافرام آپ کی چھاتی پر رکھتا ہوں۔ اور فوراً میں سُن لیتا ہوں— قسمت کی آواز۔ آپ کی— ہم سب کی قسمت کی دھڑکن۔

اور اسی لمحے میں ایک ایسی سرحد پار کر لیتا ہوں، جہاں ایک نئی تقدیر  دھڑک رہی ہوتی ہے۔ ایک ایسا لمحہ، جو اگلے لمحے کو بدل دیتا ہے۔ وہ اگلا لمحہ، جو آنے والا تھا، آتا ہی نہیں۔ اُس کی جگہ ایک اور لمحہ آتا ہے۔ تصادم کا، ڈھے جانے کا۔ کیونکہ میرا سٹیتھوسکوپ اِن نئے فرشتوں کی ہولناک کہانی سُن لیتا ہے۔ یہ کہ وہ تارک الدنیا ہیں۔ تیاگی۔ صرف ہمارے لیے نہیں، بلکہ ہمارے سبب؛ ہم میں سے ہر ایک کی وجہ سے۔

پروں کے بغیر فرشتے، پیغام کے بغیر فرشتے۔ اور ہمارے سبب زخمی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دُنیا حالتِ جنگ میں ہے۔ ہر طرف جنگ و جدال۔ فطرت سے جنگ، معاشرے میں جنگ۔

اور یہ جنگ صرف ہتھیاروں، ایذارسانی اور بربادی سے نہیں لڑی جا رہی۔ وہ تو اِس کی انتہا ہے۔ جنگ تو اور طرح کی بھی ہوتی ہے۔ صرف ایک بُرا لفظ کافی ہے۔ ایک طعنہ، ایک زخم، ایک توہین… بس ایک ہی کافی ہے اِن نئے فرشتوں کو اندر تک مجروح کر دینے کے لیے۔ کیونکہ وہ اِس دنیا میں یہ سب برداشت کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے۔

وہ بے بس ہیں۔ ظلم کے سامنے، تمسخر کے سامنے، اُس تشدد کے سامنے جو اُن کی نزاکت اور تقدس کو روند دیتا ہے۔

ایک ہی گھاؤ کافی ہے۔ حتیٰ کہ ایک بُرا لفظ بھی، کہ وہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائیں۔ اور میں دس ہزار لفظ بول کر بھی اُسے درست نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ایسے زخم کی کوئی اندمال ممکن نہیں۔

۲

فرشتوں کاکافی ذکرہوچکا!

اب آئیے انسانی عظمت کے گُن گاتے ہیں۔

اے انسان۔عجیب،معجزاتی حیوان۔آخرتم ہوکون؟

تم نے پہیہ ایجاد کیا،آگ دریافت کی،یہ جاناکہ تنہاجینا ممکن نہیں، باہمی تعاون ہی بچنے کاایک طریقہ ہے۔ تم نے مردارخوری تک اپنا لی تاکہ دنیا پر قابو پا سکو۔ تم نے ایسی دماغی صلاحیت حاصل کی کہ اسی کے بھروسے تم نے اِس زمین پر، محدود ہی سہی ایک طاقت حاصل کر لی۔ تم نے اِس دنیا کونام دیے، اُسے سمجھا، اور ایسی ایسی ’حقیقتوں‘ پر اعتقاد کیا جوبعد میں جھوٹ نکلیں، مگر اُنہوں نے تمھیں آگے بڑھنے میں مدد کی۔ تمھارا ارتقاء جھٹکوں، ذقندوں اورچھوٹے چھوٹے دھماکوں کی طرح آگے بڑھا اور تم پورے کرہ ارض پر پھیلتے چلے گئے۔

تم گروہوں کی شکل میں رہنے لگے،معاشرے وجودمیں آئے، تہذیبیں کھڑی ہوئیں۔ تم ناپید بھی ہو سکتے تھے، مگر تم نے بقاء کا طریقہ ڈھونڈ لیا۔ پھر تم دو پیروں پر سیدھے کھڑے ہوئے، ہومو ہابیلس بنے۔ پتھر کے اوزار بنائے۔ پھر ہومو ایریکٹس ہوئے۔ آگ کی دریافت کی۔ اور صرف ایک چھوٹے سے فرق کی وجہ سے کہ تمہارا نرخرہ اور نرم تالو چمپینزی کی طرح آپس میں نہیں ٹکراتے، تم زبان بول پائے، ٹھیک اُسی وقت جب دماغ کا لسانی حصہ پروان چڑھ رہا تھا۔

تم خداکے ہم نشیں ہوئے۔اگربائبل کی عہدنامہ قدیم کی محذوف سطروں پر بھروسا کریں؛ تم نے خدا کی بنائی چیزوں کو نام دیے۔

 

پھرتم نے لکھناسیکھا۔تب تک تم سوچنے سمجھنے اورچیزوں کومربوط دیکھنے لگے تھے۔ پہلے واقعات کو، پھر مذہب سے باہر نکل کردُنیا کو۔ تم نے اپنے تجربے سے وقت کی تخلیق کی۔ تم نے گاڑیاں بنائیں، کشتیاں بنائیں، زمین کے ’نامعلوم‘ منطقے فتح کیے، جو ممکن تھا لوٹ لیا۔ تم جان گئے کہ طاقت اور قوت کو کیسے مجمتع کیا جاتا ہے۔

تم نے اُن سیاروں تک کوسراغ لگایا جنھیں جاننا کبھی ناممکن ماناجاتا تھا۔ سورج اب تمھارے لیے دیوتا نہیں رہا، نہ ستارے تمھاری قسمت لکھتے ہیں۔ تم نے، یا یوں کہئے، تمہاری تہذیب نے جنسیت کو بدلا، عورت مرد کے کردار بدلے؛ اور دیر سے سہی، محبت کو دریافت کیا۔

تم نے جذبات کوسمجھا،ہمدردی کوجنم دیا، علم کے متعدد رُوپ تیار کیے۔

اور پھر تم نے اڑنا سیکھ لیا۔ پرندوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تم چاند تک پہنچ گئے۔ ایسے ہتھیار بنائے جو زمین کو کئی بار مٹا سکتے ہیں۔

اور پھر تم نے سائنسی ایجادات کیں۔ اتنی لچکدار، اتنی سریع کہ ہر نیا کل، آج کے تخیلات کو مات دیتا ہے۔

تم نے فن اختراع کیا۔ غاروں کی مصوری سے لے کر لیونارڈو ڈا ونچی کی ’آخری عشائیہ‘  تک؛ پُر اثر، جادوئی موسیقی سے لے کر یوہان سبسٹیان باخ تک۔

اور بالآخر، وقت کے ساتھ، تم نے اچانک کسی بھی چیز پر یقین کرنا چھوڑ دیا۔ اور اُن آلات کی مدد سے جنہیں تم نے خود بنایا، تخیل کی دنیا کو کمزور کر دیا۔ اب تمہارے پاس صرف عارضی یادداشت بچی ہے۔

اور اِس طرح تم نے علم، جمالیات اور اخلاقی بھلائی جیسی بلند، مشترکہ میراث کو بھی چھوڑ دیا۔ اب تم ہموار زمین کی طرف بڑھ رہے ہو جہاں تمہارے قدم دھنستے چلے جائیں گے۔

ہلّو مت۔ کیا تم مریخ پر جا رہے ہو؟

خبردار! رُک جاؤ۔ یہ دلدل تمہیں کھینچ لے گی، پورا نگل جائے گی۔ مگر ہاں، یہ سچ ہے۔ تمہاری ارتقائی مسافت حیرت انگیز تھی، دم سادھ لینے جتنی خوبصورت۔

بس افسوس یہ ہے کہ اِسے پھر سے دہرایا نہیں جا سکتا۔

۳

چلیے،انسانی عظمت کاقصیدہ بھی پڑھ لیا۔

اب ذرابغاوت پربات کرتے ہیں۔

میں نے اِس بارے میں اپنی کتاب The World Goes On میں کچھ لکھنے کی کوشش کی تھی، مگر اُس سے میں خود مطمئن نہیں تھا۔ اِس لیے آج پھر کوشش کرتا ہوں۔

انیس سو نوے کی دہائی کے آغازکی بات ہے۔ ایک امس بھری، بوجھل سی دوپہر تھی۔ میں برلن میں تھا، یو بان میٹرو کے ایک اسٹیشن پر کھڑا انتظار کر رہا تھا۔ وہاں، جیسے ہر اسٹیشن پر ہوتا ہے، ٹرین جس طرف جاتی ہے، اُس سمت میں تھوڑا آگے ایک بڑا سا آئینہ لگا تھا، جس میں قمقمے لگے رہتے تھے۔ اُس کے دو کام تھے:

ڈرائیورپوری ٹرین کوایک نظر میں دیکھ سکے۔

اوراُسے ٹھیک ٹھیک پتہ چل سکے کہ ٹرین کوکتنے سینٹی میٹر پرروکنا ہے۔

پلیٹ فارم پرایک موٹی،چمکدارپیلے رنگ کی لکیرکھنچی ہوئی تھی۔ اُس کا مطلب تھا: اِس لکیر کو کسی بھی حال میں پار مت کرو۔ چاہے پلیٹ فارم آگے تک پھیلا ہو۔ اِس لکیر اور سرنگ کا درمیانی حصہ پوری طرح ’ممنوعہ علاقہ‘ تھا۔ وہاں کسی مسافر کا جانا مکمل ممنوع تھا۔

میں کراؤتس برگ سے آنے والی ٹرین کا انتظار کرہی رہاتھا کہ اچانک میری نظر پڑی۔ کوئی آدمی اُس پیلی لکیر کے اندر، بالکل ممنوعہ جگہ پر کھڑا تھا۔

وہ ایک کلوشار(بے گھر فقیر) تھا۔بے گھر، کبیدہ خاطر، درد سے خمیدہ۔ اُس کا چہرہ گویا ہماری طرف مدد کی اُمید میں مڑا ہوا تھا۔ وہ پٹری کے اُوپر بنے راستے پر کھڑا ہو کر بہت مشکل سے پیشاب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہر قطرہ اُس کے لیے عذاب جیسا تھا۔

 

جب تک میں سمجھ پاتا،آس پاس کے لوگ بھی اِس کی طرف دیکھنے لگے۔ اُس دوپہر کی خاموشی کو توڑتا ہوا ایک بے چین منظر۔

اچانک، ہم سبھی کی گویاایک ہی رائے بن گئی کہ یہ بہت غلط ہے۔ اِسے فوراً روکا جانا چاہیے۔ کلوشار کوہٹنا ہی ہوگا، اوراُس پیلی لکیر کی ’حکمرانی‘ پھر سے قائم ہونی چاہیے۔ اگر وہ اپنا کام جلدی پورا کرلیتا، بھیڑ میں واپس گھل مل جاتا، اوربالائی سیڑھیاں چڑھ کر غائب ہو جاتا تو شاید کوئی بات نہ ہوتی۔ مگر وہ رُک ہی نہیں رہا تھا۔ اِسی دوران سامنے والے پلیٹ فارم پر ایک پولیس اہلکار آ نکلا۔ اُس نے قریباً آنکھ سے آنکھ ملاتے ہوئے اُسے ڈانٹ کرحکم دیا کہ وہ فوراً بند کرے۔

یو بان میٹروپلیٹ فارم کے درمیان قریباً دس میٹر چوڑی اورایک میٹر گہری خندق ہوتی ہے۔ یہی حفاظتی بندوبست ہے۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ پولیس اہلکار سیدھا ہمارے پلیٹ فارم پر کود کر آ ہی نہیں سکتا تھا۔ اُسے پورا چکر لگانا پڑتا۔ بالائی سیڑھیاں چڑھنا، پھر راہداری، پھر ہماری طرف والی سیڑھیاں۔ یعنی وہی راستہ جو کسی بھی مسافر کے لیے ہے۔ اور اُس سے ہٹ کر جانا سمجھ سے باہر تھا، ممنوع بھی، اور خطرناک بھی۔

پولیس اہلکار نے کئی باراُس بے گھر فقیر کوآوازدی۔ مگرکوئی اثر نہیں ہوا۔ فقیر نے اُس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اُس کا چہرہ اب بھی ہماری طرف تھا۔ درد میں جکڑا ہوا۔

اوریہ بات کہ اُس نے پولیس اہلکارکو نظرانداز کیا، کسی ’قانون‘ کے حساب سے سب سے بڑی توہین تھی۔ پولیس اہلکار کو اِس سے اور غصہ آیا۔

کلوشارسمجھ گیاتھا کہ پولیس اہلکار اُس سے کہیں تیز ہے، اورجلد ہی وہ آپہنچے گا۔ اورجیسے ہی اُس نے دیکھا کہ پولیس اہلکار سیڑھی چڑھنے کے لیے دوڑا، وہ بھی کسی طرح کراہتے ہوئے بھاگنے لگا، سیدھا ہماری طرف۔

یہ ایک ہولناک دوڑتھی۔

ہم سب دم بخودتھے۔

 

ظاہرتھاکہ یہ دوڑبے کارہے۔

کلوشار ڈگمگارہا تھا۔ گویا اُس کے پیر اُس کا ساتھ چھوڑ رہے ہوں۔ اُدھر پولیس اہلکار تیزی سے اُوپر چڑھ رہا تھا۔

یہ دس میٹر دونوں کے بیچ ایک عجیب سی دوری بن گئی تھی۔ قانون اور برائی کے درمیان، نظم اور انتشار کے درمیان۔

میں اُنھیں دیکھ رہا تھا۔ میٹروں اور سینٹی میٹروں کی اِس غیر انسانی دوڑ کو۔

اوراچانک یوں لگا، گویا وقت رُک گیا ہو۔

وہ لمحہ جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا:

پولیس اہلکار دیکھ رہا تھا کہ ’مجرم‘ کلوشار قانون توڑ رہا ہے۔

اورکلوشار دیکھ رہا تھا کہ ’قانون‘ اُس کے پیچھے پڑ چکا ہے۔

پولیس اہلکارکے ہاتھ میں ڈنڈاتھا۔ وہ دوڑنے کو تیار تھا۔ مگر ایک لحظہ رُکا، گویا سوچ رہا ہو کہ کیا وہ اُس دس میٹر کو چھلانگ لگا کر پار کر لے؟ کلوشار وہیں کانپ رہا تھا۔ بے بس۔

اورآج بھی، اُس منظر کی یاد میرے اندر اُسی نقطے پر اٹکی ہوئی ہے۔ جہاں بھلائی اور برائی آمنے سامنے کھڑے تھے۔

میں نے دیکھا:

اُدھر— تیزی سے آتا پولیس اہلکار۔

اِدھر— ایک کبیدہ خاطر، تھکا ہوا کلوشار، جو ایک ایک سُوتر آگے بڑھ رہا تھا۔

اورمجھے سمجھ آ گئی:

اِن دس میٹروں کی وجہ سے ’بھلائی‘ کبھی ’برائی‘ کو پکڑ نہیں پائے گی۔

چاہے پولیس اہلکار آخر میں اُسے پکڑ بھی لے۔ میرے اندر تو وہ دس میٹر ہمیشہ کے لیے موجود ہیں۔

کیونکہ میں صرف یہ دیکھ پاتا ہوں:

’بھلائی‘ اُس کانپتی ہوئی، کمزور ’برائی‘ تک کبھی نہیں پہنچ پاتی، کیونکہ دونوں کے بیچ اب کسی طرح کی اُمید باقی ہی نہیں ہے۔

میری ٹرین آگئی۔میں روہلیبن (برلن میں واقع ایک علاقہ) کی طرف ہو لیا۔ مگر وہ منظر میرے دماغ سے نہیں نکل سکا۔

اوراچانک، بجلی کی طرح، ایک سوال اٹھا:

یہ کلوشار اوراِس جیسے باقی دھتکارے ہوئے لوگ۔ کب بغاوت کریں گے؟ اور وہ بغاوت کیسی ہوگی؟

خونی؟

بے رحم؟

ہولناک؟

پھر میں نے خود سے کہا: نہیں، جس بغاوت کا میں سوچ رہا ہوں۔ وہ مختلف ہوگی۔کیونکہ وہ بغاوت پورے نظام کے خلاف ہوگی۔ ہر بغاوت باہم منسلک ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ کسی مکمل نظام کے تناظر میں ہی معنی خیز ہو سکتی ہے۔

خواتین و حضرات!

ہر بغاوت باہم منسلک ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ کسی مکمل نظام کے تناظر میں ہی معنی خیز ہو سکتی ہے۔ اور اب، جب میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ اور میرے قدم پھر اُسی بُرج نما کمرے میں سُست پڑ رہے ہیں۔ تو پھر وہی یو بان میٹرو کا سفر یاد آ جاتا ہے۔

اسٹیشن در اسٹیشن، روشنیاں گزرتی جاتی ہیں۔ اور میں کہیں نہیں اُترتا۔

تب سے میں اُسی میٹرو میں ہوں۔ کیونکہ کوئی ایسا اسٹیشن ہے ہی نہیں جہاں اُتر سکوں۔

میں صرف منظر کو گزرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اور محسوس کرتا ہوں کہ بغاوت، انسان کی عظمت، فرشتے۔ اور شاید ہاں، اُمید۔ سب کے بارے میں جو کہنا تھا، میں کہہ چکا ہوں۔

****

حوالہ جات

(۱) ساندروبوٹیچلی:نشاۃِ ثانیہ کے ایک عظیم اطالوی مصور تھے،جن کی فن کاری کوجمالیات، لطیف لکیروں، روحانی جذبے اوراساطیری علامت نگاری کے لیے دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔
(۲) لیونارڈوڈا ونچی:نشاۃِ ثانیہ کے بہترین جامع الصفات شخصیات میں سے ایک تھے۔وہ  اطالوی مصور، سائنسدان، انجینئر، فلسفی، موسیقار، ماہرِ علمِ الاعضاء اور موجد— سب کچھ تھے۔ فن اورسائنس دونوں میدانوں میں اُن کی کارکردگی لاجواب مانی جاتی ہے۔ اُنھیں اکثر ’جامع العلوم ہستی‘  کہا جاتا ہے۔
 (۳)  مائیکل اینجلو:نشاۃِ ثانیہ کے عظیم ترین فنکاروں میں سے ایک تھے۔وہ مجسمہ ساز، مصور، معماراور شاعر تھے۔ روم کے سیسٹین چیپل کی چھت کا کام اُن کی شہرہ آفاق تخلیق ہے۔
(۴)جیوتوڈی بوندونے:اطالوی نشاۃِ ثانیہ کے بنیادگزاروں میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔ وہ اہم اطالوی مصور اور ماہر تعمیرات تھے۔ اُنھیں اکثر ’یورپی مصوری کا باوا آدم‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اُنھوں نے مصوری میں جذباتیت، گہرائی اور حقیقت پسندی کا اغاز کیا۔
 (۵) فراآنجیلیکو:ابتدائی نشاۃ ثانیہ کے عظیم اطالوی مصور تھے۔اُن کااصل نام گوئیڈودی پیئٹرو تھا، لیکن اُن کے پاکیزہ، لطیف اورروحانی فن کی وجہ سے بعد ازاں اُنھیں ’فرا  اینجیلیکو‘ یعنی ’فرشتہ صفت‘کہا جانے لگا۔

 (۶) بشارت:مسیحی روایت کا ایک نہایت اہم لمحہ ہے— وہ لمحہ جب جبرائیل کنواری مریم کویہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کوجنم دیں گی۔ یہ واقعہ انجیلِ لوقا (لوقا 1:26-38) سے لیا گیا ہے اور قرونِ وسطیٰ سے لے کر نشاۃ ثانیہ اور جدید دور تک بے شمار فنکاروں نے اسے مصور کیا ہے۔

 (۷) ہومو ہابیلس:انسانی ارتقا کی ایک قدیم نوع ہے۔عرف عام میں اسے’ہنرمند انسان‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نوعِ بشر تقریباً ۲۱ لاکھ سے ۱۵ لاکھ سال پہلے افریقہ میں رہتا تھا۔
 (۸) ہومواریکٹس:انسانی ارتقامیں نہایت اہم نوع ہے۔ اسے’سیدھا کھڑا ہونے والا انسان‘ یا ’دو پایہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً ۱۹ لاکھ سال پہلے نمودار ہوا اور ۱,۱۰,۰۰۰ سال پہلے تک موجود رہا۔
 (۹آخری عشائیہ: لیونارڈو ڈا ونچی کی بنائی ہوئی ایک عالمی شہرت یافتہ دیوارنگاری (مرل پینٹنگ) ہے۔ یہ تصویر ۱۴۹۵ سے ۱۴۹۸ کے درمیان اٹلی کے شہر میلان کے سانتا ماریا دے لی گراتسیے کی خانقاہ کے طعام خانے کی دیوار پر بنائی گئی تھی۔
 (۱۰یوہان سبسٹیان باخ: جرمنی کے عظیم موسیقار اور سازندہ تھے۔ وہ باروک موسیقی کی سب سے مؤثر اور اہم شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ باخ کو مغربی کلاسیکی موسیقی کی ’روح‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اُن کی موسیقی گہری، پیچیدہ، تخلیقی اور روحانی ہے۔
 (۱۱برلن یو بان: جرمنی کے دارالحکومت برلن کا تیز رفتار اور جدید میٹرو نظام ہے۔ یہ شہر کے بڑے حصوں کو آپس میں ملاتی ہے اور روزانہ آمد و رفت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
 ۲کراؤتس برگ: برلن (جرمنی) کا ایک مشہور اور ثقافتی طور پر نہایت زندہ دِل علاقہ ہے۔

۰۰۰۰

László_Krasznahorkai_Nobel_Prize_Literature_2025

لاسلو کراسناہورکائی

نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۲۵ء کے حق دار کا اعلان اکتوبر ۹؍۲۰۲۵ء کیا گیا۔  منصفین نے ہنگریا کے ادیب لاسلو کراسناہورکائی کو نوبیل انعام سے سرفرازی کے لیے  مؤقف اختیار کیا۔ ’’ان کی دل کش اور بصیرت افروز تخلیقی کاوشوں پر، جو کشفی دہشت میں فن کی قوت کی توثیق کرتی ہیں۔‘‘

مختصر سوانح

لاسلو کراسناہورکائی ۵ جنوری؍ ۱۹۵۴ء کو رومانیہ کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ہنگری کی بیکیس کاؤنٹی کے ایک چھوٹے سے قصبے گیولا میں ایک متوسط یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح کا ایک بعید دیہی علاقہ کراسناہورکائی کے ۱۹۸۵ء میں منصۂ شہود پر آنے والے  پہلے ناول ’’شیطانی تانگو‘‘ کا منظر نامہ ہے، جسے ہنگری میں ایک  سنسنی خیز ادبی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد، گیؤرگی کراسناہورکائی، ایک وکیل جب کہ والدہ، جولیا پیلنکاس، ایک سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ انھوں نے ۱۹۷۲ء میں ایرکل فیرینس ہائی سکول سے گریجوایشن کرنے کے بعد ۱۹۷۳ء تا ۱۹۷۶ء کے دوران  جوزف اطالیہ یونیورسٹی (اب یونیورسٹی آف سیگیڈ) اور ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء   کے دوران اَیّوٹ ووس لورینڈ یونیورسٹی (ای ایل ٹی ای) سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔

 ۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۳ء کے دوران ای ایل ٹی ای ہی سے ہنگری زبان و ادب میں ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ معروف مصنف و صحافی سینڈور مارائی (۱۹۰۰ء تا ۱۹۸۹ء) کی ۱۹۴۸ء میں کمیونسٹ حکومت سے فرار کے بعد کی تخلیقات اور تجربات پر مبنی تھا۔

عملی زندگی

ادب کی متعلمی کے عرصے میں لاسلو کراسناہورکائی نے ایک اشاعتی ادارے ’’گون ڈولاٹ کونی کیاڈ‘‘ میں بھی ملازمت کی۔ ۱۹۸۵ء میں بطور مصنف عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۱۹۸۷ء میں پہلی مرتبہ کمیونسٹ ہنگری سے ڈاڈ کی فیلوشپ پر جرمنی گئے اور کئی برس مغربی برلن میں بسر کیے، جہاں انھوں نے چھے ماہ کے لیے فری یونیورسٹی آف برلن میں بطور ایس فشر گیسٹ پروفیسر کے خدمات بھی سرانجام دیں۔ سوویت بلاک کے ٹوٹنے کے بعد متعدد مقامات پر قیام کیا۔ ۱۹۹۰ء میں انھوں خاصا وقت مشرقی ایشیا  میں، چین اور منگولیا میں، گزارا۔ وہ ہنگری زبان کے ساتھ ساتھ جرمن بھی جانتے ہیں۔

ذاتی زندگی

 ۱۹۹۰ء ہی میں لاسلو کراسناہورکائی نے اَنیکو پیلیہی سے شادی کی، جس سے طلاق کے بعد ڈورا کاپسانیی ان کی بیوی بنیں۔ ان تین بچے ہیں:  کاٹا، ایگنیس اور پانّی۔   آج کل وہ ہنگری کے پہاڑی علاقے سینتلاسلو میں خلوت نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

تصانیف

ناول

·       شیطانی تانگو۔۱۹۸۵ء

·       مزاحمت کی افسردگی۔۱۹۸۶ء

·       جنگ ہی جنگ۔۱۹۹۹ء

·       فلک تلے بربادی اور غم۔۲۰۰۴ء

·       وہاں نیچے، سیوبو۔۲۰۰۸ء

·       بیرَون وینکہم کی گھر واپسی۔۲۰۱۶ء

·       ہرشاہٹ۰۷۷۶۹۔۲۰۲۱ء

·       سوملے کو لگتا ہے وہ بیکار ہو گیا۔۲۰۲۴ء (ابھی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا)۔

ناولچے

·       شمالی پہاڑ۔۲۰۰۳ء

·       آخری بھیڑیا۔۲۰۰۹ء

·       اندر کا وحشی۔۲۰۱۰ء

·       محل کی تیاری۔۲۰۱۸ء

·       ہومر کے تعاقب میں۔۲۰۱۹ء

افسانوی مجموعے

·       وقار بھرے مراسم۔۱۹۸۶ء

·       اُرگا کا اسیر۔۱۹۹۲ء

·       دنیا چلتی جائے۔۲۰۱۳ء

فلمی سکرین پلے

·       عذاب۔۱۹۸۸ء

·       آخری کشتی۔۱۹۸۹ء

·       شیطانی تانگو۔۱۹۹۴ء

·       ویرکمیسٹر ہم آہنگیاں۔۱۹۹۱ء

·       لندن سے آیا ہوا آدمی۔۲۰۰۷ء

·       ٹورین گھوڑا۔۲۰۱۱ء

اسلوب

لاسلو کراسناہورکائی جدید یورپی ادب کے نمایاں مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ  پیچیدہ اسلوب لیکن مانگ والے مصنف سمجھے جاتے ہیں۔  ان کے اسلوب کو ’’مابعد جدیدیت‘‘ کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے ناول اداسی، بربادی اور انسانی وجود کے بحران جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔

اعزازات

نوبیل انعام سے قبل لاسلو کراسناہورکائی  کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں ہنگری کے سب سے مؤقر اعزاز ’’کوسُوتھ پرائز‘‘ سے لے کر ’’مَین بکر انٹرنیشنل پرائز تک شامل ہیں۔

o      وِلینیکا پرائز۔۲۰۱۴ء

o      دی نیویارک پبلک لائبریری ایوارڈ۔۲۰۱۵ء

o      مَین بکر انٹرنیشنل پرائز۔۲۰۱۵ء

o      ایگان آرٹ ایوارڈ۔۲۰۱۷ء

o      نیشنل بک ایوارڈ فار ٹرانسلیٹڈ لٹریچر۔۲۰۱۹ء

o      لٹریچرـجی آر فریز آف دی ایئر پرائزـ ۲۰۱۸ء۔ ۲۰۲۰ء

o      آسٹرین سٹیٹ پرائز فار یورپین لٹریچر۔۲۰۲۱ء

:لاسلو کراسناہورکائی کی تحریروں کے مزید تراجم

انٹرویو
نوبیل انعام یافتہ، ۲۰۲۵ء
لاسلو کراسنا ہور کائی
تعارف و ترجمہ؍ نجم الدّین احمد
Khalid_Farhad_Dhariwal_Punjabi_Writer_Translator_Punjabi_Fiction

خالد فرہاد دھاریوال

خالد فرہاد دھاریوال، پسرور، سیالکوٹ میں ۱۰ جولائی ۱۹۷۸ء کو پیدا ہوئے۔ وہ پنجابی کے ممتاز افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔ اپنی مادری زبان پنجابی کے علاوہ وہ اردو، ہندی اور سندھی زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’وٹانڈرا‘‘ ۲۰۰۷ء میں شائع ہوا تھا۔ ان کے مجموعے نے ادبی حلقوں سے خوب پذیرائی حاصل کی۔ ادبی نشستوں اور جرائد میں اس افسانوی مجموعے پر خاصے تبصرے کیے گئے اور بہت سے نقادوں نے اسے سراہا۔ خالد کو ان کے افسانوی مجموعے پر پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ سمیت کئی ادبی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب