تراجم عالمی ادب

نوبیل خطبہ

نوبیل انعام برائے ادب ،۱۹۸۸ء

اگر میں مایوس ہوتا تو لکھتا ہی کیوں؟

نجیب محفوظ

Naguib Mahfouz

عربی سے انگریزی ترجمہ؍ محمد سلماوی

انگریزی سے اردو ترجمہ؍ محمد عامر حسینی

(دسمبر۸؍ ۲۰۲۱ء)

نجیب محفوظ اور محمد سلماوی
اس تصویر میں نجیب محفوظ کے ساتھ نظر آنے والے محمد سلماوی ہیں۔ انھوں نے ۱۹۸۸ء میں نوبیل انعام کی تقریب میں نجیب محفوظ کی جانب سے اُن کا خطبہ اور کلمۂ اختتامیہ پیش کیا تھا۔ یہ خطبہ پہلے عربی میں اور پھر انگریزی میں پڑھا گیا، کیوں کہ نجیب محفوظ خود اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔
آخر تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے انسان کو کہانیاں لکھنے کا سکونِ قلب کیسے میسر آیا؟ خوش قسمتی سے فن— ایک فیاض اور ہمدرد شے ہے۔ جس طرح وہ خوش نصیبوں کے ساتھ رہتا ہے، وہ بدحالوں کو بھی نہیں چھوڑتا۔— نجیب محفوظ
خواتین و حضرات!

سب سے پہلے میں سویڈش اکیڈمی اوراس کی نوبل کمیٹی کا شکریہ اداکرنا چاہوں گا کہ انھوں نے میری طویل اورثابت قدم جدوجہد کو توجہ کے قابل سمجھا، اور میں چاہوں گا کہ آپ میرے خطاب کو تحمل کے ساتھ سنیں، کیونکہ یہ ایک ایسی زبان میں ہے جوآپ میں سے اکثر کے لیے اجنبی ہے۔

مگردرحقیقت، یہی زبان اس انعام کی اصل حقدار ہے۔

چنانچہ یہ طے پایا ہے کہ اس کی آوازیں، اس کے نغمے، پہلی بار آپ کی تہذیب و تمدن کی بستی میں گونجیں۔

مجھے پوری امید ہے کہ یہ آخری بار بھی نہ ہو، اور میری قوم کے اہلِ قلم کو یہ سعادت حاصل ہو کہ وہ بھی آپ کے ان بین الاقوامی ادیبوں کی صف میں پوری قابلیت کے ساتھ بیٹھیں، جنھوں نے ہماری اس غم زدہ دنیا میں خوشی اور دانائی کی خوشبو بکھیری ہے۔

قاہرہ میں ایک غیر ملکی نامہ نگار نے مجھ سے کہا کہ جیسے ہی انعام کے ساتھ میرا نام لیا گیا ایک خاموشی چھا گئی، اور بہت سے لوگ سوچ میں پڑ گئے کہ میں کون ہوں۔

پس مجھے اجازت دیجیے کہ میں خودکو نہایت غیر جانب دار طریقے سے، جتنا کہ ایک انسان کے لیے ممکن ہو، آپ کے سامنے پیش کروں۔

میں دوتہذیبوں کا بیٹا ہوں، جو تاریخ کے ایک خاص لمحے میں آپس میں خوش گوار طور پر جُڑ گئیں۔ پہلی تہذیب، سات ہزار سال پرانی، فرعونی تہذیب ہے؛ دوسری، چودہ سو سال پرانی، اسلامی تہذیب۔

شاید مجھے ان دونوں کاآپ سے تعارف کروانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ خود ایک با ذوق اور دانشمند طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم، ہماری اس نئی ملاقات اورباہمی تعارف کے موقع پر، اگر ایک مختصر یاد دہانی کر دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

جہاں تک فرعونی تہذیب کا تعلق ہے، تو میں اس کی فتوحات یا سلطنت سازی کی بات نہیں کروں گا— یہ وہ فخر ہے جو وقت کے ساتھ اپنی تازگی کھو چکا ہے، اور جدید انسانی ضمیر، شکر ہے، اس کے ذکر پر شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ اور نہ ہی میں اس حقیقت کا ذکر کروں گا کہ یہ تہذیب سب سے پہلے خدا کے وجود تک پہنچی، اور انسانی ضمیر کے طلوع کا آغاز اسی نے کیا— یہ ایک طویل تاریخ ہے، اور آپ میں سے شاید ہی کوئی ہو جو نبی بادشاہ ’’اخناتون‘‘ سے واقف نہ ہو۔

میں اس تہذیب کی فنونِ لطیفہ اور ادب میں کامیابیوں کا ذکر بھی نہیں کروں گا، اور نہ ان مشہورِ زمانہ عجائبات کا، جیسے اہرامِ مصر، ابوالہول اور کرنک۔ کیونکہ جسے انھیں دیکھنے کا موقع نہ بھی ملا ہو، اس نے بھی یقیناً ان کے بارے میں پڑھا ضرور ہوگا، اور ان کی شکل و صورت پر غور بھی کیا ہوگا۔

پس آئیے، میں آپ کو فرعونی تہذیب کا تعارف کچھ کہانی کے سے انداز میں کراؤں، کیونکہ میری ذاتی زندگی کے حالات نے یہ طے کر دیا تھا کہ میں قصہ گو بنوں۔ تو سنیے، یہ ایک مستند تاریخی واقعہ ہے۔

قدیم پاپیروس تحریریں بیان کرتی ہیں کہ فرعون کو یہ اطلاع ملی کہ اس کے حرم کی کچھ عورتوں اور دربار کے چند مردوں کے درمیان ناجائز تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ اس وقت کے ماحول اور زمانے کی روح کے مطابق توقع کی جاتی تھی کہ وہ سختی سے ان سب کو ختم کرا دے گا۔ مگر اس نے اس کے برعکس کیا اس نے عدل و قانون کے بہترین ماہرین کو اپنے دربار میں طلب کیا، اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس واقعے کی تحقیق کریں جس کی خبر اسے ملی ہے۔ اس نے ان سے کہا کہ وہ صرف اور صرف ’’سچ‘‘ چاہتا ہے، تاکہ وہ اپنا فیصلہ ’’عدل‘‘ کی بنیاد پر صادر کر سکے۔

میری رائے میں، اس طرزِ عمل کی عظمت ایک سلطنت قائم کرنے یا اہرام تعمیر کرنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اُس تہذیب کی برتری کا ایسا ثبوت ہے، جو کسی مال و دولت یا شان و شوکت سے زیادہ بولتا ہے۔ اب وہ تہذیب باقی نہیں— وہ محض ماضی کی ایک کہانی بن چکی ہے۔ ایک دن وہ عظیم اہرام بھی مٹ جائے گا۔ لیکن ’’سچ‘‘ اور ’’عدل‘‘ یہ دونوں باقی رہیں گے، جب تک انسان کے پاس سوچنے والا ذہن اور زندہ ضمیر موجود ہے۔

جہاں تک اسلامی تہذیب کاتعلق ہے تومیں اس کے اس پیغام کاذکر نہیں کروں گا جو تمام انسانیت کو خالق کے زیرِ سایہ، آزادی، مساوات اوردرگزر کی بنیادپر، ایک امت میں جوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ اورنہ میں اس کے نبیﷺ کی عظمت کی بات کروں گا کہ آپ کے مفکرین میں بعض تو انھیں تاریخ کا سب سے عظیم انسان قرار دیتے ہیں۔

 میں اسلامی فتوحات کابھی ذکرنہیں کروں گا،جنھوں نے ہزاروں میناروں کوبسا دیا جو عبادت، نیکی اورخدا سے وابستگی کی دعوت دیتے ہیں یہ فتوحات ہندوستان اورچین کے کناروں سے لے کر فرانس کی سرحدوں تک پھیل گئیں۔ اورنہ ہی میں ان مختلف مذاہب اورنسلوں کے درمیان پیدا ہونے والی اخوت اورہم آہنگی کا ذکر کروں گا،جو اس تہذیب کے دامن میں پروان چڑھی ایسا رواداری کا ماحول، جونہ اس سے پہلے کبھی انسانیت نے دیکھا، نہ اس کے بعد۔

میں،اس کے برعکس،اس تہذیب کاتعارف ایک جذباتی اورڈرامائی صورتِ حال کے ذریعے کراؤں گا، جواس کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک کانچوڑ ہے۔ رومی سلطنت (بازنطین) کے خلاف ایک فتح مند جنگ کے بعد، اسلامی تہذیب نے  جنگی قیدیوں کواس شرط پر واپس کیاکہ بدلے میں اُسے قدیم یونانی ورثے کی چند کتابیں دی جائیں جن کا تعلق فلسفہ، طب، اورریاضی جیسے علوم سے تھا۔ یہ واقعہ انسانی روح کے اُس جوہرکی گواہی ہے جوعلم حاصل کرنے کا متلاشی ہوتا ہے، چاہے وہ متلاشی خود توحید پر ایمان رکھتاہو اورجس سے علم لیا جا رہا ہو، وہ ایک مشرکانہ تہذیب کا ثمر ہو۔

یہ میری تقدیرتھی،خواتین وحضرات،کہ میں ان دونوں تہذیبوں کی آغوش میں پیدا ہوا میں نے انہی کادودھ پیا، انہی کے ادب اورفن سے غذاحاصل کی۔ پھر میں نے آپ کی شاندار اورمسحور کن تہذیب کاعرق بھی چکھا۔ ان سب اثرات سے، اورساتھ ہی اپنی ذاتی فکری بے چینیوں سے، میرے اندرسے الفاظ پھوٹے، ایسے الفاظ جوشبنم کی مانند تھے۔ یہ وہی الفاظ ہیں جنھیں آپ کی محترم اکیڈمی کی قدر شناسی نصیب ہوئی، جس نے میری اس کوشش کو نوبیل انعام جیسے عظیم اعزاز سے نوازا۔ پس اس اکیڈمی کاشکریہ، میری طرف سے بھی اوران عظیم گزرے ہوئے معماروں کی طرف سے بھی جنھوں نے ان دونوں تہذیبوں کی بنیاد رکھی تھی۔

خواتین و حضرات! 

آپ یہ سوچ رہے ہوں گے: یہ شخص، جو تیسری دنیا سے آیا ہے، آخر اسے کہانیاں لکھنے کا سکونِ قلب کہاں سے ملا؟ آپ کا سوچنا بالکل بجا ہے۔ میں ایک ایسی دنیا سے آیا ہوں جو قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اور ان قرضوں کی ادائیگی اسے قحط کے دہانے تک لے آئی ہے یا کم از کم بہت قریب۔ اس دنیا کے کچھ لوگ ایشیا میں سیلابوں کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں، اور کچھ افریقہ میں بھوک سے دم توڑ دیتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں، لاکھوں انسان اس دور میں جو انسانی حقوق کا زمانہ کہلاتا ہے رد کیے جانے اور تمام انسانی حقوق سے محرومی کا شکار ہیں، گویا وہ انسانوں کی گنتی میں ہی نہیں آتے۔

مغربی کنارے اورغزہ میں کچھ لوگ اپنی ہی زمین پر،جوان کے باپ، دادااورپردادا کی زمین ہے، اجنبیوں کی طرح زندگی گزاررہے ہیں جیسے وہ گم ہو چکے ہوں۔ انھوں نے وہ پہلاحق مانگا جوقدیم انسان نے بھی تسلیم کیا تھا: کہ دوسرے انھیں اس سرزمین کے مالک کے طورپر تسلیم کریں۔ مگر ان کے اس بہادر اورباوقار مطالبے کا جواب انھیں یہ ملاکہ ان کی ہڈیاں توڑی گئیں، ان پر گولیاں چلائی گئیں، ان کے گھر مسمار کیے گئے، اورانھیں جیلوں اورکیمپوں میں اذیت دی گئی مرد، عورتیں، نوجوان، بچے سب کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔ ان کے اردگرد ۱۵کروڑ عرب بستے ہیں، جویہ سب کچھ غصے اورکرب کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔اگراس مسئلے کو اُن لوگوں کی دانائی نے نہ سنبھالا جومنصفانہ اورہمہ گیر امن کے خواہاں ہیں تویہ پوراخطہ ایک ہولناک تباہی سے دوچار ہوسکتا ہے۔

ہاں،سوال بجاہےآخرتیسری دنیاسے تعلق رکھنے والے انسان کو کہانیاں لکھنے کا سکونِ قلب کیسے میسر آیا؟ خوش قسمتی سے فن ایک فیاض اورہمدرد شے ہے۔ جس طرح وہ خوش نصیبوں کے ساتھ رہتا ہے، وہ بدحالوں کوبھی نہیں چھوڑتا۔ یہ دونوں کو،یکساں طورپر، اپنے سینے میں ابھرتے جذبات کے اظہار کے لیے ایک مناسب وسیلہ عطاکرتا ہے۔

تمدن کی تاریخ کے اس فیصلہ کن لمحے میں یہ ناقابلِ قبول اورناقابلِ تصورہے کہ انسانیت کی آہوں کو خلامیں گم ہونے دیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ انسانیت اب بلوغت کی منزل کوپہنچ چکی ہے، اورہمارا دوردوعالمی طاقتوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی کی اُمیدیں لے کرآیا ہے۔ انسانی ذہن اب یہ ذمہ داری اٹھاچکا ہے کہ وہ تباہی اورنیستی کے تمام اسباب کوختم کرے۔ اورجس طرح سائنسدان صنعتی آلودگی سے ماحول کو پاک کرنے میں جُتے ہوئے ہیں، اسی طرح دانشوروں کوچاہیے کہ وہ انسانی معاشرے کو اخلاقی آلودگی سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہماراحق بھی ہے اورفرض بھی کہ ہم مہذب اقوام کے بڑے قائدین اور ان کے ماہرینِ معیشت سے مطالبہ کریں کہ وہ ایسا حقیقی انقلابی قدم اٹھائیں جوانہیں عصرِ حاضر کی روح سے ہم آہنگ کردے، اورانھیں وقت کی قیادت کے قابل بنا دے۔

قدیم زمانوں میں ہرحکمران صرف اپنی قوم کی بھلائی کے لیے کام کرتا تھا۔ باقی تمام اقوام یا تو دشمن سمجھی جاتی تھیں یا استحصال کانشانہ۔ کسی قدریا اصول کی کوئی پروا نہ تھی، سوائے برتری اورذاتی عظمت کے۔ اسی مقصد کی خاطر بہت سے اخلاق، اعلیٰ نظریات اورانسانی اقدار کو پامال کر دیا گیا۔ بے شمار غیر اخلاقی طریقوں کوجائز قرار دیا گیا۔ ان گنت جانوں کوہلاک کردیا گیا۔ جھوٹ، دھوکہ، غداری اور ظلم یہ سب عقل مندی کی علامت اور عظمت کاثبوت سمجھے جاتے تھے۔

آج اس سوچ کو اس کی بنیاد سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ آج ایک مہذب رہنما کی عظمت اس بات سے ناپی جانی چاہیے کہ اس کی نظر کس حد تک وسیع ہے، اور اس کا احساسِ ذمہ داری پوری انسانیت کے لیے کیسا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا اور تیسری دنیا درحقیقت یہ ایک ہی خاندان کے دو حصے ہیں۔ ہر انسان پر اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جتنی اسے علم، فہم اور تہذیب حاصل ہے۔

میں اپنے فرض کی حد سے تجاوز نہ کروں گا اگر میں اہلِ ترقی یافتہ دنیا سے، تیسری دنیا کے نمائندے کے طور پر، یہ کہوں: ہماری مصیبتوں کے تماشائی نہ بنے رہیے۔ آپ پر لازم ہے کہ ان مصائب کے حل میں وہ شائستہ کردار ادا کریں جو آپ کے مرتبے کے شایانِ شان ہے۔

آپ کو، جو برتری کی پوزیشن میں ہیں، دنیا کے کسی بھی کونے میں نہ صرف انسانوں، بلکہ کسی جانور یا پودے کی بھی گمراہی یا بربادی کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ ہم باتوں سے تنگ آ چکے ہیں اب عمل کا وقت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ لٹیروں اور سُود خوروں کا دور ختم ہو۔ ہم اس زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جس میں رہنما پوری دنیا کے ذمہ دار ہیں۔

افریقہ کے جنوب میں غلاموں کو نجات دلائیے! افریقہ میں بھوک کے ماروں کو بچائیے! فلسطینیوں کو گولیوں اور اذیت سے بچائیے! نہیں اسرائیلیوں کو بھی بچائیے، تاکہ وہ اپنے عظیم روحانی ورثے کی بے حرمتی نہ کریں! قرض میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو بچائیے، انھیں سخت گیر اقتصادی قوانین کے شکنجے سے نکالیے! انھیں یہ یاد دلائیے کہ انسانیت کے لیے اُن کی ذمہ داری، اس سائنس کے قوانین سے مقدم ہے جسے شاید وقت بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے۔

معذرت چاہتا ہوں، خواتین و حضرات، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں نے آپ کے سکون میں کچھ خلل ڈال دیا ہو۔ مگر آپ ایک تیسری دنیا کے فرد سے اور توقع بھی کیا رکھ سکتے ہیں؟ کیا ہر برتن وہی رنگ نہیں دکھاتا جو اس کے اندر ہوتا ہے؟

پھر، آخر انسانیت کی آہوں کو آواز کہاں ملے گی، اگر نہیں آپ کی اس تہذیب کی نخلستان میں، جسے اس کے عظیم بانی نے سائنس، ادب، اور اعلیٰ انسانی قدروں کی خدمت کے لیے قائم کیا تھا؟ اور جیسے ایک دن اُس نے اپنے خزانوں کو خیر کے کاموں کے لیے وقف کیا تھا بخشش کی امید میں ہم، تیسری دنیا کے فرزند، اہلِ استطاعت، اہلِ تہذیب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اُس کے نقشِ قدم پر چلیں، اُس کے کردار سے سبق لیں، اور اُس کے وژن پر غور کریں۔

خواتین و حضرات!

ہمارے اردگرد جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے باوجود میں آخر تک پُرامید رہنے کا عہد کیے ہوئے ہوں۔ میں کانٹ (Kant) کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بھلائی اگلے جہان میں کامیاب ہوگی بھلائی تو ہر دن کامیاب ہو رہی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ برائی، جتنی ہمیں نظر آتی ہے، حقیقت میں اُس سے کہیں کمزور ہو۔ ہمارے سامنے ایک ایسا ثبوت موجود ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا: اگر یہ سچ نہ ہوتا کہ فتح ہمیشہ بھلائی کے ساتھ ہوتی ہے، تو انسانوں کی بے سروسامان ٹولیاں، درندوں، کیڑوں، قدرتی آفات، خوف، اور خود غرضی کے مقابلے میں کبھی نہ پنپتیں، نہ بڑھتیں، نہ ایک نسل سے دوسری نسل تک زندہ رہتیں۔ وہ نہ کبھی قومیں بناتیں، نہ تخلیق اور ایجاد میں کمال حاصل کرتیں، نہ خلا کو فتح کرتیں، اور نہ ہی انسانی حقوق کا اعلان کر پاتیں۔

حقیقت یہ ہے کہ برائی ایک شور مچانے والا، بے لگام عیاش ہے اور انسان کو تکلیفیں، خوشیوں کی نسبت زیادہ یاد رہتی ہیں۔

ہمارے عظیم شاعر ابو العلاء المعری نے کیا خوب کہا تھا:

’’موت کی گھڑی کا غم پیدائش کی گھڑی کی خوشی سے سو گنا زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

آخر میں، میں ایک بار پھر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب سے درگزر کی درخواست کرتا ہوں۔

۰۰۰

Naguib Mahfouz Nobel Laureate Literature 1988

نجیب محفوظ

نوبیل انعام  برائے ادب،  ۱۹۸۸ء   کے لیے مصری ادیب نجیب محفوظ کو  دینے کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل اکادمی نے ان کی تخلیقات کے بارے میں مؤقف اختیار کیا: ’’انھوں نے، اپنے لطافت سے بھرپور کام کی وساطت سے  جو کبھی بیّن طور پر حقیقت پسندانہ، کبھی بیّن طور پر مبہمتمام بنی نوع انسان پر لاگو ہونے والا ایک عرب فنی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔‘‘

سوانح حیات

نجیب محفوظ ۱۱؍دسمبر، ۱۹۱۱ء  کو قاہرہ میں پیدا ہوئے اور تمام زندگی یہیں بسر کی۔ وہ بچپن ہی سے پڑھنے کے شوقین تھے۔ اپنی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، محفوظ کو قاہرہ یونیورسٹی میں داخل کرایا گیا، جہاں سے انھوں نے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے  ۱۹۳۴ء میں گریجویشن کرنے کے بعد تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھنے اور پیشہ ور مصنف بننے کا فیصلہ کیا۔

نجیب محفوظ نے  اراضی اوقاف کی وزارت میں، پھر بیورو آف آرٹ میں سنسر شپ کے ڈائریکٹر، سنیما  کو سہارنے کے لیے قائم فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر، اور آخر میں وزارت ثقافت کے ثقافتی امور کے مشیر  کی حیثیت سے ۱۹۷۲ء تک اپنے سرکاری فرائضِ منصبی ادا کیے لیکن ساتھ ہی سلسلہ تصانیف بھی جاری رکھا۔ مصری نوکر شاہی سے ان کی سبکدوشی کے بعد کے برسوں میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں  زبردست وفور دیکھنے میں آیا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ تجرباتی تھا۔ اور یوں وہ تیس کے لگ بھگ ناولوں، سو سے زیادہ مختصر کہانیوں اور دو سو سے زیادہ مضامین کے مصنف بن گئے۔ ان کے نصف ناولوں پر فلمیں بنیں جنھیں عربی بولنے والے ممالک میں خوب پذیرائی ملی۔ مصر میں، ان کی  ہر نئی اشاعت کو ایک اہم ثقافتی تقریب کے طور پر منایاگیا۔جبرالطارق سے خلیج تک کسی بھی ادبی بحث میں ان کے نام تذکرہ لامحالہ فوقیت پر ہوتا ہے۔

تخلیقات

 انھوں نے سترہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ ان کا پہلا ناول ۱۹۳۹ء  میں شائع ہوا۔  انھوں نے اگلے دس ناول جولائی ۱۹۵۲ء  کے مصری انقلاب سے پہلے لکھے، پھر انھوں نے  برس ہا برس  تک لکھنا ترک کیے رکھا۔ تاہم  ان کا ایک ناول ۱۹۵۳ء میں مکرر اشاعت پذیر ہوا اور ۱۹۵۷ء میں قاہرہ کی تثلیث، بین القصرین، قصر الشوق، شکریہ (محلات کے درمیان، خواہشات کا محل، شوگر ہاؤس) کی ظاہری شکل نے انھیں پوری عرب دنیا میں روایتی شہری زندگی کے عکاس کے طور پر معروف کر دیا۔ ’’جبلاوی کے بچے‘‘ سے انھوں نے ۱۹۵۹ء میں ایک نئے طور سے دوبارہ لکھنا شروع کیا، جو اکثر سیاسی فیصلوں کو تشبیہات اور علامات میں مخفی رکھتا تھا۔ اس دوسرے دور کے کاموں میں ان کے ناولوں ’’چور اور کتا (۱۹۶۱ء)‘‘، ’’نیل پر مختصر گفتگو (۱۹۶۲ء)‘‘، ’’سمندر کا نظارہ (۱۹۶۷ء) کے علاوہ متعدد افسانوی مجموعے شامل ہیں۔ 

اسلوب

نجیب محفوظ کی تخلیقات  زندگی کے کچھ بنیادی سوالات کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں نقلِ زمان،  سماج و معیارات، علم  و عقیدہ، خرد و عشق شامل ہیں۔ وہ اکثر اپنی کہانیوں کے لیے اپنے  آبائی شہر قاہرہ کو بطور  پس منظر  برتتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کچھ ابتدائی تحریریں قدیم مصر کے پس منظر میں بھی لکھی ہیں۔ بعد ازاں، عہدِ جدید اور بدلتے ہوئے معاشرے میں زندگی ان کی لکھتوں کا محورو مرکز بن گئے۔ ان کی کچھ مابعد  تخلیقات میں صوفیانہ یا مابعدالطبیعیاتی بیانیے کے اثرات بڑھے۔

۰۰۰

نجیب محفوظ کی تحریروں کے مزید تراجم

Muhammad Amir Hussain - Urdu Translator - Urdu Journalist - Urdu Coulmnist

محمد عامر حسینی

محمد عامر حسینی کا تعلق پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ایک اہم شہر، خانیوال سے ہے۔ وہ ایک تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت صحافی ہیں جنہوں نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستگی کے دوران صحافت کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کی تحریریں نہ صرف قومی سطح پر پڑھی جاتی ہیں بلکہ عالمی قارئین بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ محمد عامر حسینی چھے کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں تنقید، سماجیات، سیاسی تجزیے اور ادبی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف فکشن لکھتے ہیں بلکہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو غیر ملکی ادب کے اردو تراجم ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی ادب کو اردو زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادب، صحافت اور ترجمے کے میدان میں ان کی کاوشیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

۰۰۰

محمد عامر حسینی کے مزید تراجم

مضامین

رنگ برنگ

محفوظ کی تحریروں میں وقت کا تصور

پروفیسر سٹورے ایلن

Professor Sture Allén

ترجمہ؍ محمد عامر حسینی

فسوں کاریاں

کنڑ کہانی

دل کا فیصلہ

بانو مشتاق

Banu Mushtaq

ترجمہ؍ محمد عامر حسینی

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب