فسوں کاریاں
ارجنٹائنی ناول
ایک فطرت نگار مصور
کی زندگی کا باب
سیزر ایئرا
César Aira
ترجمہ؍منیر فیاض
نوبیل انعام کے لیے پچھلے برسوں سے مسلسل نامزد ہونے والے معروف ارجنٹائنی ادیب سیزر ایئرا کا مکمل ناول(قسط وار)
دوسرا حصہ
(ناول کاپہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے)
وہ دیو ہیکل عجیب الخلقت مشینیں تھیں۔ جنھیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ انھیں کوئی قدرتی طاقت ٹس سے مس نہیں کر سکتی۔ جب اس نے پہلی مرتبہ اسے دیکھا تو وہ دیر تک دیکھتا رہا۔ یہاں اس نے، بالآخر، وسیع میدانوں کی تجسیم کا جادو دیکھا اور ہموار سطحوں کی میکانیات کو آخرکارعملی طور پر کامیاب ہوتے ہوئے دیکھا۔ اگلے دن اور اس سے اگلے دن وہ کاغذ اور چارکول سے لیس ہوکر بار برداری کے سٹیشن پہنچا۔ ان چھکڑوں کے خاکے بنانا بیک وقت آسان بھی تھا اور مشکل بھی۔
وہ انھیں طویل سفر پر روانہ ہوتے ہوئے دیکھتا۔ان کی کینچوے جیسی رفتار، جسے فی دن یا فی ہفتہ کے پیمانوں سے ماپا جا سکتا تھا، نے اسے کچھ خاکے بنانے کی ترغیب دی، اور یہ ایسے مصور کے لیے کچھ مشکل نہ تھا جس کی ہمنگ برڈ کے واٹر کلر کی تصویریں اپنے گہرے ادغامی تاثر کے لیے مشہور تھیں۔اس نے متحرک چھکڑوں کا مسئلہ ایک طرف رکھا کیوں کہ اسے ان کو مصروفِ عمل دیکھنے کا کافی سارا موقع سفر میں ملنے والاتھا اور اپنی توجہ ان چھکڑوں پر مرکوز کر دی جنھیں جوتا نہیں گیا تھا۔
کیونکہ اس کے صرف دو پہیے تھے (اور یہی بات ان میں عجیب تھی)، اس لیے جب وہ لدی نہ ہوتی تو پیچھے کی طرف جھک جاتی اور اس کے بم پینتالیس درجے کا زاویہ بناتے ہوئے آسمان کی طرف اٹھ جاتے۔ بموں کے سرے بادلوں میں غائب ہوتے دکھائی دیتے۔ ان کی لمبائی کا اندازہ اس با ت سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بیلوں کی دس جوڑیوں کو جوتنے کے کام آسکتے تھے۔ ان کے مضبوط تختوں کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ وہ بے تحاشا وزن اٹھا سکتے تھے۔ بعض اوقات تمام سامان اور رہائشیوں سمیت پورے گھر کو اٹھا لیتے تھے۔ مکمل طور پر خروب کی لکڑی سے بنے ان کے پہیے آسمانی پنگوڑوں جیسے تھے۔ جن کے آنکڑے چھت کے شہتیروں جتنی موٹے تھے اور ان کے درمیان میں پیتل لگا ہوا تھا جو گریس میں لتھڑا ہوتا تھا۔
ان کی اصل ساخت دکھانے کیے لیے رگینڈاس کو ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے انسانی ہیولے بنانے پڑے ۔اور اس کے لیے اس نے ان کے ڈرائیوروں کا بطور ماڈل انتخاب کیا۔ یہ بہت دبدبے والے کردار تھے اور چھکڑا بانی کے کاروبار میں ان کی دھونس چلتی تھی۔ یہ دیو قامت سواریاں عرصہ دراز سے ان کے ماتحت تھیں۔ یقیناً ان پر مینڈوزا سے بیونس آئرس تک کا سفر دو دو سو کلومیٹر فی یوم تک طے کرنے کے لیے عمر بھر کا وقت درکار ہوتا۔ یہ چھکڑا بان کئی نسلوں کے نمائندہ تھے۔ ان کی وضع قطع اور دیکھنے کا انداز اس صبر و تحمل کا آئینہ دار تھا جو ان کے اجداد سے چلا آ رہا تھا۔ ان کے کلیدی معاملات میں ان کا وزن یعنی ان پر لدا ہو ا سامان اور رفتار شامل تھے۔ جتنا وزن کم ہوتا اتنی رفتار زیادہ ہوتی۔
ظاہر ہے چھکڑا بان پمپائی میدانوں کی ہمواری کو دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وزن لے جانا چاہتے تھے۔
اورآخرکار اچانک ایک دن چھکڑے روانہ ہو گئے— ایک ہفتے بعد بھی وہ بدستور کچھ زیادہ فاصلے تک نہیں پہنچے تھے۔ یوں لگ رہا تھا وہ افق کے نیچے آہستہ آہستہ ڈوب رہے ہوں۔رگینڈاس نے اپنے دوست کو بتایا کہ اس کے اندر اس راستے سے ہٹنے کی شدید، بچگانہ خواہش پیدا ہو چکی تھی۔اسے لگ رہا تھا جیسے وہ وقت میں سفر کر رہا ہو۔ اس کا دل کررہا تھا کہ وہ اسی راستے پر گھوڑے پر سوار ہوکر گزرے اور ان چھکڑوں سے آگے نکل جائے جو اسی خطے میں ان سے پہلے روانہ ہوئے تھے اور ایسا کرتے کرتے وہ اس وقت تک جا پہنچے جہاں کائنات کا آغاز ہوا تھا (وہ مبالغہ کر رہا تھا)، اور وہ سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نامعلوم سمت میں سفر جاری رکھے۔
انھوں نے اسی راستے پر اپنا سفر جاری رکھا۔ وہ اسی خط پر چلتے رہے۔ وہ سیدھا خط جو بیونس آئرس تک جا رہا تھا۔مگر رگینڈاس کے لیے یہ اہم نہیں تھا کہ وہ کہاں ختم ہو رہا ہے بلکہ اس کاوسط کہاں ہے۔ اس کے خیال میں وسط میں بالآخر ایسا کوئی منظر نظر آئے گا جسے تصویر کرنے کے لیے اس کا قلم نئے ضابطے تخلیق کرے گا۔
گوڈوئے خاندان نے انھیں بہت محبت سے الوداع کہا۔ کیا و ہ واپس آئے گا؟ انھوں نے استفسار کیا۔ اپنے سفری منصوبے کے مطابق تو ایسا ممکن نہیں تھا۔ اسے بیونس آئرس سے ٹوکو مان جانا تھا۔ وہاں سے اس کا رخ شمالی بولیویا اور پیرو کی جانب ہونا تھا۔ وہاں سے بالآخر وہ واپس یورپ پلٹتا۔ کئی سالوں کے سفر کے بعد— مگر شاید مستقبل میں کبھی وہ جنوبی امریکا کا یہ سارا سفر الٹ ترتیب سے کرتا (یہ شاعرانہ خیال اچانک ہی اس کے ذہن میں وارد ہوا): وہ ایک مرتبہ پھر یہ مناظر دیکھتا جو اس نے اب دیکھے۔ یہ سب الفاظ بولتا جو اس نے بولے۔ وہ ان مسکراتے ہوئے چہروں سے ملاقات کرتا جنھیں وہ دیکھ چکا تھا۔ اسی طرح جیسے وہ اب تھے۔
اس سے ایک دن بھی زیادہ بڑے یا چھوٹے نہیں۔ اس کے فن کارانہ تخیل نے اس دوسرے سفر کو بڑی سی تتلی کے دوسرے پر کی طرح اس سفر کا آئینہ دار کہا۔
انھوں نے ایک بوڑھا گائیڈ، ایک لڑکا جو باورچی تھا، پانچ گھوڑے اوردو چھوٹی گھوڑیاں ساتھ لیں (بالآخر وہ سست رفتار خچروں سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو گئے تھے)۔ موسم ابھی بھی گرم تھا مگر خشک ہو چکا تھا۔ایک ہفتے کی تیز رفتار پیش قدمی کے بعد وہ درختوں دریاؤں، پرندوں کے ساتھ ساتھ اینڈیز پہاڑ کے زیریں میدانوں کو بھی بہت پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میدانی علاقوں میں خلا چھوٹی گہری اور تقریباً پاگل ہو گئی۔ اپنے ضابطے کو اس منظر نامے کے مطابق ڈھلنے کی مہلت دینے کے لیے وہ مصوری سے باز رہے۔ اس کے بجائے وہ مبہم انداز میں یہ حساب لگانے کی کوشش کرتے رہے کہ کتنا فاصلہ باقی ہے۔گاہے گاہے وہ کسی چھکڑے سے آگے نکل جاتے اور نفسیاتی طور پر یہ حساب لگاتے کہ وہ کئی ماہ کا سفر طے کر آئے ہیں۔
وہ اس نئے معمول کے عادی ہو گئے۔ بے پایاں ہمواریوں میں چھوٹے چھوٹے ابھارو ں کا سلسلہ ان کو آگے بڑھنے کا اشارہ کرتا۔ وہ منظم طریقے سے پیش قدمی کرنے لگے۔ ان کا گائیڈ انھیں رات کو کہانیاں سنا کر محظوظ کرتا۔ وہ اس خطے کی تاریخ کا ایک خزانہ تھا۔ کسی وجہ سے (بے شک وہ اپنے فن کی مشق نہیں کر رہے تھے) رگینڈاس اور کراؤس گھوڑے کی پشت پر ہونے والی گفتگو میں مصوری اور تاریخ کے تعلق کے موضوع پر بات چیت کرنے لگے۔ یہ وہ موضوع تھا جس پر پہلے بھی وہ کئی بار گفتگو کر چکے تھے۔ مگر اب انھیں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس گفتگو کے تمام سروں کو تعقل کی ڈوری کے ساتھ باندھ رہے ہیں۔
ایک بات جس پر وہ متفق تھے وہ یہ تھی کہ تاریخ اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ چیزیں بنی کیسے ہیں۔ ایک فطری یا ثقافتی منظر خواہ وہ کتناہی تفصیلی کیوں نہ ہو یہ اشارہ نہیں دیتا کہ وہ کس طرح سے تخلیق ہوا۔ یا جس ترتیب میں اس کے اجزا نظر آتے تھے، وہ کن محرکات کی عنایت کی۔اور شاید یہی وجہ تھی کہ انسان نے اپنے گرد کہانیوں کے انبار لگائے ہوئے تھے۔ یہ کہانیاں آفرینش کے بارے میں اس کے سوالات کی تسکین کرتی تھیں۔ اسے نکتۂ آغاز سمجھتے ہوئے رگینڈاس ایک قدم آگے بڑھ گیا اور ایک متناقض نتیجے پر پہنچا۔
اس نے سوچاکہ اگر تمام قصہ گو آج خاموش ہو جائیں تو بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ کیونکہ حالیہ نسل یا مستقبل کی نسل ماضی کے تمام واقعات کو موجود حقائق کی روشنی میں محسوس کر کے جان سکتی ہے اور دونوں صورتوں میں جاننے کا یہ عمل انسانی ذہن کی آمادگی ظاہر کرتا ہے۔اوریہ بھی کہ ان کہانیوں کی عدم موجودگی میں تکرار کا عمل زیادہ مستند ہو گا۔ اگر آئندہ نسلوں کو کہانیوں کی بجائے ایسے اسباب مہیا کیے جائیں جن کی مدد سے وہ ماضی میں ہونے والے واقعات کو خود دریافت کر سکیں تو قصہ گوئی کا مقصد زیادہ بہتر طریقے سے حاصل ہو سکتا ہے۔یہ انسان کا اعلیٰ ترین کام ہو گا کہ ماضی میں ہونے والی ہر چیز دوبارہ ہونے کی حقدار ہے۔ اور یہ اسباب اسلوبیاتی ہوتے۔اس کے نظریے کے مطابق فن گفتگو کی نسبت زیادہ فائدہ مند تھا۔
خالی آسمان پر ایک بڑا پرندہ بجلی کی طرح کوندا۔افق کے قریب ایک ساکن چھکڑا دوپہر کو نظر آنے والے ستارے کی طرح معلوم ہوا۔ اس طرح کا ایک میدان دوبارہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم جلد یا بدیر کوئی ان کے اس سفر پر دوبارہ روانہ ہوگا۔ اس خیال سے انھیں احساس ہوا کہ انھیں بیک وقت بہت محتاط اور بہت حوصلہ مند ہونا پڑے گا؛محتاط اس لیے کہ وہ ایسی کوئی غلطی نہ کریں جس کی آیندہ سفر میںتکرار کا امکان ہو؛ اور حوصلہ مند اس لیے کہ انھیں مہم جوئی کی طرح اس کی تکرار کا لطف آئے۔
اس میں کسی فن کارانہ ضابطے کی طرح بہت مہین توازن درکار تھا۔رگینڈاس کو، بارِ دگر، انڈینز کو مصروفِ کار نہ دیکھ سکنے پر تاسف ہوا۔ شاید انھیں کچھ دن اور انتظار کرنا چاہیے تھا— اسے مبہم سی ماضی گزیدگی کا احساس ہوا۔ اسے لگا کہ وہ اس عمل سے بہت کچھ سیکھ سکتا تھا۔ تو کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈینز بھی اس کے ضابطے کا حصہ تھے۔ ان کے حملوں کی تکرار تاریخ کا ارتکاز تھی۔
رگینڈاس اپنے کام کو التوامیں ڈالتا رہا۔ اور ایک دن اسے معلوم ہوا کہ یہ التوا بلا وجہ نہیں تھا۔ الاؤکے گرد بیٹھے ہوئے گائیڈ نے ایسی بات کی جس سے پچھلے گائیڈ کی بات کی اصلاح بھی ہو گئی۔ وہ ابھی ارجنٹائنا کے پمپائی میدانوں میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ ابھی وہ قصباتی علاقے سے گزر ہے تھے جو ان سے ملتا جلتا تھا۔ اصل پمپا کا آغاز سان لوئی سے ہوتا تھا۔ گائیڈ کا خیال تھا کہ انھیں غلط فہمی ہوئی تھی۔ اور جرمنوں کے خیال میں ایسا ممکن بھی تھا مگر اس کی کوئی اور وجہ بھی ہوسکتی تھی۔
اس نے اپنے لسانی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے محتاط اندازے میں گائیڈ سے سوال کیا۔ کیا پمپا کے میدان اس علاقے کے میدانوں سے زیادہ ہموار تھے جن سے وہ گزر رہے تھے؟ اسے شک ہوا کہ اتنے ہموار اور افقی میدان سے زیادہ ہموار اور کیا شے ہو سکتی ہے۔ بوڑھے گائیڈ نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ ایسا ہی تھا۔ ایسا کہتے ہوئے اس کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ تھی جو سنجیدگی کے حامل اس گروہ میں خال خال نظر آتی تھی۔رگینڈاس نے بعدازاں اس نکتے پر کراؤس سے اس وقت مکالمہ کیا جب وہ تاروں بھرے آسمان کے نیچے بیٹھے سگار پی رہے تھے۔ ان کے پاس، بہرحال، گائیڈ پر شک کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔ (اگر پمپائی میدانوں کا کوئی وجود تھا تواس پر یقین نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ نہ تھی) تو وہ کچھ فاصلہ آگے موجو د تھے۔
بہر حال تین ہفتے اس بے خال و خد وسیع میدان میں سفر کرنے کے بعد اس سے زیادہ بے خال و خد علاقے کا تصور کرنا محال تھا۔ بوڑھے گائیڈ کے حقارت آمیز لہجے سے انھیں یہ اندازہ ہوا کہ آگے آنے والے میدان کے مقابلے میں ان کا حالیہ سفر تو پہاڑی سفر جیسا تھا۔ ان کے لیے یہ ایک پالش کیے ہوئے ٹیبل کی طر ح، ایک پرسکون جھیل کی مانند، اور زمین کی ایسی چادر کی طرح تھا جسے کس کر پھیلا دیا گیا ہو۔ مگر کچھ ذہنی تگ و دوکے بعدا ب وہ ایسا سوچنے سے باز آ چکے تھے۔ یہ کتنا دلچسپ اور کتنا عجیب تھا! یہ کہنا بے کار ہے کہ سینٹ لوئی کی متوقع آمد نے انھیں مسلسل بے چین کیے رکھا۔
گائیڈ کی نشاندہی نے انھیں دو دن تک مسلسل اپنا سفر سست رفتار سے جاری رکھنے پر مجبور کیا۔ انھیں ہر طرف پہاڑ نظر آنا شروع ہو گئے جیسے وہ کسی جادو سے نمودار ہو گئے ہوں۔ مانی گوٹ، المانی گوٹ اور اگوا، ہیڈیونڈا، کے پہاڑی سلسلے۔ تیسرے دن وہ ایسے وسیع میدان میں پہنچے جہاں خلا گونج رہی تھی۔اس منظر کی ہیبت نے جرمنوں پر بھرپور اثر ڈالا۔ اور انھیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مقامی بھی اس سے متاثر تھے۔ بوڑھا اورلڑکا سرگوشیوں میں بات کرتے اور کبھی کبھی وہ سواریوں سے اتر کے پاؤں سے مٹی کو محسوس کرتے۔ انھوں نے دیکھا کہ وہاں گھاس نہیں تھی، ایک تنکا بھی نہیں، وہاں جھاڑیوں کے پتے بھی نہیں تھے۔ وہ سمندر میں موجود کورل کی طر ح نظر آتا تھا۔ یہ واضح تھا کہ اس علاقے میں خشک سالی کا ڈیرہ تھا۔
زمین ان کے لمس سے چرمراتی مگر مٹی نہ اڑتی۔ گو وہ اس کے بارے میں تیقن سے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے کیونکہ ہوا بالکل ساکن تھی۔ ہوا کی مہیب خاموشی میں ان کے سانسوں کی آواز گھوڑوں کی ٹاپوں اور اپنے الفاظ کی گونج سے مل کر عجیب تاثر پیدا کر رہی تھی۔ وقتاً فوقتاً انھیں یہ احساس ہوتا کہ بوڑھا گائیڈ کچھ سننے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ عمل متعدی تھا۔ وہ بھی کچھ سننے کی کوشش کرنے لگے۔ انھیں کچھ سنائی نہ دیا سوائے ایک ہلکی سی بھنبھناہٹ کے جو شاید ان کے اپنے ذہن کی پیداوار تھی۔ گائیڈ واضح طور پر کچھ محسوس کر رہا تھا۔ مگر وہ اپنے مبہم سے خوف کی وجہ سے وہ اس سے کوئی سوال نہ کر سکے۔
وہ تقریباًڈیڑھ دن اس ہولناک خلا میں محوِ سفر رہے۔ آسمان پر کوئی پرندہ نظر آتا تھا نہ ہی کوئی چوہا، ممولا، خرگوش یا چیونٹی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کرۂ ارض کا خول زرد اور خشک خاکستر سے بنا ہو۔ بالآخر وہ دریا کے کنارے پہنچے جہاں سے وہ پانی پیتے تھے وہاں گائیڈ کا خدشہ درست ثابت ہوا۔ دریا کنارے اس معمے کا حل ہونا زیادہ تشویش ناک تھا۔ صرف یہی نہیں کہ وہاں نباتات کا نام و نشان ہی نہیں تھا۔ بلکہ بیش تر درخت جن میں سے اکثر بید کے تھے پتوں سے بالکل عاری تھے۔ ایسا لگتا تھا موسمِ سرما نے اچانک ان کو مزاقاً ان کے پتوں سے محروم کر دیا ہو۔یہ بہت شاندار نظارہ تھا۔ تاحدِ نظر سرمئی ڈھانچے تھے جو کانپ بھی نہیں رہے تھے۔ایسا نہیں تھا کہ ان کے پتے جھڑ گئے ہوں کیونکہ زمین بالکل صاف تھی۔
ٹڈی دل۔ بائبل میں مذکور طاعون وہاں سے گزرا تھا۔ آخر کار گائیڈنے ان پر منکشف کیا کہ وہ جان بوجھ کر سفر کو التوا کا شکار کرتا رہا تھا کیونکہ وہ اس بات کا یقین کرنا چاہتا تھا کہ یہ آفت گزر چکی ہے۔ اس نے بزرگوں سے سنی کہانیوں کی روشنی میں اس کے آثار کا جائزہ لیا تھا گو اس نے اپنی آنکھوں سے کبھی ان کو نہیں دیکھا تھا۔اس نے ٹڈی دل کے حملوں کی کارروائی بھی سنی تھی مگر وہ ترجیحاً اس پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہ غیر حقیقی لگتی تھی۔ مگر نتائج کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ تخیل اس حقیقت سے زیادہ خطرناک نہیں ہو سکتا۔
انڈینزکونہ دیکھ سکنے کی مایوسی کا حوالہ دیتے ہوئے کراؤس نے اپنے دوست سے پوچھا کہ کہیں اس کو اس منظر پر بھی تاخیر سے پہنچنے پر افسوس تو نہیں۔ رگینڈاس نے تصور کیا۔ ایک ایسا ہرا بھرا میدان جسے اچانک ایک بھنبھناتا بادل ڈھانپ لے اور اسے کچھ لمحوں میں ملیا میٹ کر دے۔ کیا کوئی تصویر اس کا احاطہ کر سکتی تھی؟ نہیں۔ شاید ایک چلتی ہوئی تصویر۔ شایدایک متحرک تصویر ایسا کر سکے۔
انھوں نے وقت ضائع کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ یہ اندازہ لگانا بے کار تھا کہ ٹڈی دل نے کس سمت کا رخ کیا کیوں کہ متاثر ہ علاقہ بہت بڑا تھا۔ انھیں جلد از جلد سینٹ لوئی پہنچنا تھا اور اس دوران اگر ممکن ہو سکے تو اپنے سفر سے لطف اندوز ہونا تھا۔ یہ سب ان کے تجربے کاحصہ تھا۔ فضا میں ہلکا سا ارتعاش کسی متوقع خطرے کی گونج معلوم ہو تا تھا۔
کچھ عملی مشکلات نے مصوروں کے لیے لطف اندو زی کو مشکل بنا دیا۔ اس دن دوپہر کے وقت گھوڑے دو دن کے جبری فاقے کے بعد اپنی برداشت کی آخری حدتک پہنچ چکے تھے۔ وہ قابو سے باہر ہوگئے اور انھیں روکنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے جو، شاید ۱۲۲ درجے تک پہنچ چکا تھا، صورتِ حال کو مشکل ترکر دیا۔ ہوا میں کوئی ذرہ بھی متحرک نہیں تھا۔ ہوا کا دباؤ بہت گر چکا تھا۔ ان کے سروں پر سرمئی بادلوں کی چھت منڈلا رہی تھی۔ مگر اس میں گرج چمک کے کوئی آثار نہیں تھے۔ وہ کیا کر سکتے تھے؟ نوجوان باورچی خوفزدہ تھا اور وہ گھوڑوں سے ایسے دور رہتا تھا جیسے وہ اسے کاٹ لیں گے۔ بوڑھا گائیڈ کے طور پر اپنی ناکامی کے احساس ِشرمندگی سے آنکھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔
یہ اعصاب شکن صورتِ حال تھی۔ وہ پہلی مرتبہ ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جس پر ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہو۔ جرمن سرگوشیوں میں باتیں کرتے۔ و ہ پہاڑوں میں گھرے ہوئے چاندنی کے سمندر کے درمیان تھے۔ کراؤس اس حق میں تھا کہ کچھ بسکٹوں کو پانی اور دودھ میں ملا کے گھوڑوں کو کھلایا جائے اور کچھ گھنٹے انتظار کے بعد شام کی خنکی میں سفر آغاز کیا جائے۔ رگینڈاس کے لیے یہ منصوبہ اتنا احمقانہ تھا کہ اس پر بات بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس نے ایسی تجویز دی جو قدرے معقول تھی۔ سرپٹ دوڑتے ہوئے پہاڑوں کی طرف پہنچا جائے اور دیکھا جائے کہ ان کے دوسری طرف کیا ہے۔ انھیں فاصلوں کو تصاویر میں دیکھنے کی عادت تھی اس لیے وہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں تک کے فاصلے کا درست اندازہ نہ لگا سکے۔ دراصل وہ پہلے سے ان کے درمیان موجود تھے۔
اس کا مطلب یہ ہواکہ متحرک بھوکی مخلوق نے ان کی ڈھلانوں پر اُگا سبزہ بھی نہیں چھوڑا تھا۔ انھوں نے گائیڈ سے مشورہ کیا لیکن وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ انھیں یہ فرض کر لینا معقول لگا کہ پہاڑ دراصل ایک ایسی ڈھال کی طرح تھے جنھوں نے ٹڈی دل کو واپس موڑ دیا۔ اس لیے و ہ پہاڑوں کی دوسری جانب ایسے سبز میدان کی موجودگی کا امکان رد نہیں کر سکتے تھے جو ترفیل کے پتوں سے بھرا ہوا ہو۔ رگینڈاس پہلے ہی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔ وہ جنوب میں پہاڑیوں کی طرف جائے گا جبکہ اس کا دوست شمال کی طرف سفر جاری رکھے گا۔ کراؤس نے اس سے اتفاق نہ کیا۔ گھوڑوں کی حالت دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان کو بھاگنے پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس طوفان کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جو بادلوں میں بن رہا تھا۔ کراؤس نے صاف انکار کر دیا۔ بحث و تکرار سے اکتا کر رگینڈاس نے اعلان کیا کہ وہ دو گھنٹے میں واپس آ جائے گا اور گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ اس نے گھوڑے کو ایڑ دی جس نے دھماکہ خیز اعصابی توانائی کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ گھوڑا ا ور سوار دونوں پسینے میں شرابور تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ سمندر سے نمودار ہوئے ہیں۔ اس کے زمین پر پاؤں رکھنے سے قبل ان کے پسینے کے قطرے،نمکین نشانات چھوڑتے ہوئے، بخارات میں تبدیل ہو گئے۔ رگینڈاس سیدھے خط میں سفر کر رہا تھا۔
پہاڑو ں کی چوٹیاں جن پر اس نے اپنی نظریں جمائی ہوئی تھیں تبدیل ہوتی جا رہی تھیں۔ پہاڑوں کی سرمئی چوٹیاں اپنی جگہ تبدیل کرتی جا رہی تھیں۔ گو ان کا حجم نمایاں طور پر بڑھ نہیں رہا تھا مگر وہ تعداد میں زیادہ ہو کر ایک دوسرے سے دور ہٹتی جا رہی تھیں۔ ان میں سے ایک پراسرار انداز میں اس کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ پہلے سے ہی ان کے درمیان موجود تھا (یہی وجہ ہے کہ یہ’ ایل مونی گوٹ‘ یعنی ’پُتلا‘کہلاتی تھیں)۔ زمین یہاں تک بھی چٹیل تھی۔ اور ایسے کوئی آثار نہیں تھے کہ آگے یاکسی اور سمت میں بھی گھاس کانام و نشان ملے گا۔ ہوا کا ٹھہراؤ اور حرارت، اگر ایسا ممکن تھا، تو شدید تر ہو چکا تھا۔
وہ رک گیااور اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ وہ مٹی کے چولہے کی ساخت کے حامل وسیع ایمفی تھیٹر کے وسط میں کھڑا تھا۔ اسے محسو س ہوا کہ اس کا گھوڑا شدید اضطراب کا شکار تھا۔ اس کے سینے میں کھنچاؤ محسوس ہورہا تھا۔ اور اس کے محسوسات غیر معمولی حد تک شدید ہو چکے تھے۔ ہوا سرمئی رنگ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس نے ایسی روشنی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایسی تاریکی تھی جس کے آرپار دیکھا جا سکتا تھا۔ بادل اور نیچے آ گئے تھے، اور اب اسے کہیں کہیں گرجنے کی آواز بھی سنائی دیتی تھی۔ ’’کم ازکم اب ٹھنڈ ہو جائے گی۔‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ ان غیر اہم الفاظ کے ساتھ اس کی زندگی کے ایک اہم مرحلے کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ اس کی نوجوانی کے دوران اس کے ذہن میں پیدا ہونے والے آخری مربوط خیالات تھے۔
اس کے بعد جو ہوا وہ اس کے فہم میں اترنے کے بجائے براہِ راست اس کے اعصاب میں داخل ہو گیا۔ بہ الفاظِ دیگر یہ بہت جلدی ہوا۔ یہ ایسا عمل تھا جو وحشیانہ واقعات کے تسلسل کا حامل تھا۔ بجلی کی تیز چمک کے ساتھ، جس نے آسمان پر واضح طور پر ایک پیچدارقوس بنائی۔ اچانک زوردار طوفان کا آغاز ہو گیا۔ یہ چمک اتنی قریب آئی کہ رگینڈاس کے چہرے پر، جو اوپر کو اٹھا ہوا تھا، مکمل طور پر دودھیا روشنی میں نہاتے ہوئے ایک احمقانہ تاثر ثبت ہو گیا۔ اسے خیال آیا کہ بجلی کی حرارت کو اس نے اپنی جلد پر محسوس کیا ہے، اور اس کی آنکھیں بہت سکڑ گئیں۔ نیچے اترتی گرج نے اس کے جسم کو غیر ممکن طریقے سے لاکھوں کروڑوں ارتعاشات سے بھر دیا۔
اس کے نیچے موجود گھوڑا مڑنے لگا۔ وہ ابھی مڑ رہا تھا کہ بجلی اس کے سر پہ آ کے گری۔ انسان اور حیوان نکل کے بنے ہوئے ایک تابوت کی طرح بجلی سے روشن ہو گئے۔ اس بھیانک لمحے میں، جسے افسو س ناک طریقے سے بارِ دگر بھی ہو نا تھا، رگینڈاس نے اپنے جسم کو جگمگاتے دیکھا۔ گھوڑے کی گردن کے بال سورڈ فش کے چانوں کی طرح کھڑے تھے۔ اس لمحے کے بعد کسی خود ساختہ تباہی کے شکار تمام افراد کی طرح وہ یہی سوچتا رہا کہ اسے ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ برق آمیز لہو کا حامل ہونے کا احساس ہولناک مگر مختصر تھا۔ بظاہر کرنٹ اس کے جسم میں داخل ہو کر باہر نکل گیا تھا۔ اگر ایسا ہوا بھی تھا تو اس کی صحت کے لیے اچھا نہیں تھا۔
گھوڑااپنے گھٹنوں پر گر چکا تھا۔ سوار اسے جنونیوں کی طرح ٹانگیں مار رہا تھا۔ وہ اپنی ٹانگیں ہوا میں تقریباً الف کرتا اور اس کے بعد انھیں قینچی کی طرح نیچے لاتا۔ بجلی کا چارج جانور کے جسم سے بھی باہر نکل رہا تھا اور اس کے ارد گرد سنہری تھال کا ایک خاکہ سا بن چکا تھا۔ جیسے ہی برقی رو اس کے بدن سے خارج ہوئی چند ہی سیکنڈوں میں گھوڑا دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا اور چلنے لگا۔ سر پہ موجود بادلوں کی بھری ہوئی بیٹری سے دوبارہ ایک دھماکہ خیز آواز آئی۔ نصف شب جیسی تاریکی میں چھوٹی اور بڑی بجلیاں کڑکنے لگیں۔
کمروں کے حجم کی گیندیں پہاڑی ڈھلانوں سے نیچے لڑھکنے لگیں۔ شہابیوں کے اس بلیئرڈ کے کھیل میں کڑکتی ہوئی بجلیاں کھیلنے والی چھڑی کا کام کرنے لگیں ۔گھوڑا مڑ رہا تھا۔ مکمل ماؤف جسم و ذہن کے ساتھ رگینڈاس نے اس کی لگام کو پکڑنے کی کوشش کی جو اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ میدان بہت وسعت اختیار کر چکا تھا۔ اور کہیں بھی بھاگنے کی جگہ نہیں تھی۔ وہاں پیش آنے والی برق کی کارگزاری اتنی شدید تھی کہ کوئی جائے فرار نہیں تھی۔ گرتی ہوئی ہر بجلی کے ساتھ زمین گھنٹی کی طرح مرتعش ہوتی۔ گھوڑا کسی ماورائی طاقت کے زیرِ اثر اپنے سُم اٹھاتا ہوا آہستہ آہستہ چلنے لگا۔
اس پر بجلی کا دوسرا حملہ پہلے کے تقریباً پندرہ سیکنڈ بعد ہوا۔ یہ پچھلے سے بہت زیادہ طاقتور اور تباہ کن اثرات کا حامل تھا۔ گھوڑا اور سوار دونوں سرد بون فائر کی طرح چمکتے اور کڑکڑاتے ہوئے بیس میٹر دور جا کر گرے۔ گرنے سے انھیں زیادہ چوٹ نہیں آئی کیونکہ بجلی ان کے جسم کی مالیکیولی اور ایٹمی ساخت کو کچھ تبدیل کر چکی تھی۔ اٹھنے پر وہ اچھلے۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ گھوڑے کی کھال کی مقناطیسیت نے رگینڈاس کو اس وقت اپنے ساتھ چپکا ئے رکھا جب وہ ہوا میں اڑ رہے تھے۔ مگر جب وہ زمین پر پہنچے تو ان کے درمیان موجود کشش غائب ہو گئی اور رگینڈاس نے خود کو خشک زمین پر لیٹے ہوئے اور آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے پایا۔
بادلوں میں چمک کی آڑی ترچھی لکیریں بھیانک خواب جیسی شکلیں بنا اور مٹا رہی تھیں۔ان کے درمیان اسے، ایک سیکنڈ کے کچھ حصے کے دوران، ایک خوف ناک چہرہ نظر آیا: پُتلا! اس کے ارد گرد بہرہ کر دینے والاشور تھا: گرج در گرج، دھماکے پر دھماکہ۔ یہ صورتِ حال غیر معمولی طور پر شدید تھی۔
گھوڑاکیکڑے کی طرح دائروں میں چکر کھا رہا تھا۔ ہزاروں بارودی خول اس کے اردگر د پھٹ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے جسم کے گرد ہالہ بنا رہے ہوں۔ ایسا ہالہ جو جانور کے ساتھ ہی حرکت کر رہا تھا مگر اسے چھیڑ نہیں رہا تھا۔ کیا آدمی اور اس کا گھوڑا چیخے چلائے؟ صدمے سے وہ ماؤف ہو چکے تھے۔ اگر وہ چیختے بھی تو بہرحال ان کی آوازیں سنائی نہیں دے پاتیں۔ زمین پر گرے ہوئے گھڑ سوار نے ہاتھوں کے زور کو مجتمع کرتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی۔ مگر زمین پر اتنا برقی اثر تھا کہ اس پر ہاتھ رکھنا ممکن نہیں تھا۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوا کہ گھوڑا کھڑا ہوا گیا ہے۔ اسے جبلی طور پر یہ احساس ہوا کہ یہ اچھی بات تھی۔ اس کے لیے یہ عارضی جدائی تیسری مرتبہ بجلی کے ٹکرانے سے بہترتھی۔
گھوڑا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔ اس کے بدن کے بال کھڑے تھے اور وہ حجم میں بھی پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ بجلی کے جال سے گریزاں ہوتے ہوئے اس کی زرافے جیسی ٹانگیں خم زد ہ نظر آئیں۔ا س نے اپنی گردن موڑی— دیوانگی کی پکار سنی— سرپٹ دوڑ کھڑا ہوا۔
رگینڈاس بھی اس کے ساتھ ہی گیا! اسے کچھ سمجھ نہ آئی اور نہ ہی وہ کچھ سمجھنا چاہتا تھا۔یہ سب بہت دیو ہیکل تھا۔اسے محسوس ہوا کہ اسے کھینچاجا رہا تھا، بجلی نے اسے لچک دار بنا دیا تھا، کسی سیارے کی طرح جو کسی خطرناک ستارے کی کشش میں ہو۔ رفتار تیز ہوئی اور وہ ساتھ اچھلتاہوا، حیرت زدہ کھنچتا چلا گیا۔
اسےاحساس نہیں ہواکہ اس کا پاؤں رکاب میں پھنس چکا تھا، گھڑسواری کے ایک کلاسیکی، روایتی حادثے کی طرح، جو اتنی تکرار کے باوجودبدستور ہوتا رہتا ہے۔ برقی حملے اچانک رک گئے تھے۔ یہ زیادہ خطرنا ک بات تھی کیونکہ اگر بجلی اب نشانے پر گرتی تو وہ اس جانور کو بھاگنے سے روک سکتی تھی۔ اور شاید اس سے مصور کو پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ہو جاتا۔ مگر برق واپس ابر میں چھپ گئی، ہوا رک گئی، بارش ہونے لگی۔
یہ کوئی نہیں جانتا گھوڑا کتنی دور سرپٹ بھاگتا رہا، نہ ہی یہ جاننے کی ضرورت تھی۔ کم یا زیادہ فاصلہ جتنا مرضی ہو، جس تباہی نے ہونا تھا وہ ہو چکی تھی۔ کراؤس اور بوڑھے گائیڈ کو اگلی صبح تک اس کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ گھوڑے کو سبزہ مل چکا تھا۔ وہ غنودگی کے عالم میں چل رہا تھا اور اس کی رکاب کے ساتھ ایک خون آلود گٹھڑی بھی پڑی ہوئی تھی۔ تمام رات اپنے دوست کی تلاش کے بعد بچارے کراؤس کا ذہن ماؤف ہو چکا تھا اور اس نے اسے مردہ سمجھ لیا تھا۔ اس کا مل جانا بھی کوئی تسلی بخش بات نہیں تھی۔ وہ انھیں مل چکا تھا مگر شکستہ اور بے حرکت حالت میں۔ وہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس گئے۔
اورجب وہ اس کے قریب پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ منھ کے بل لیٹا ہوا تھا جیسے زمین کو چوم رہا ہو۔ و ہ حرکت کر رہا تھا۔ ان کی رہی سہی امید اس وقت غارت ہو گئی جب انھوں نے دیکھا کہ وہ خود حرکت نہیں کر رہا بلکہ گھوڑے کے خوراک کی تلاش میں اٹھنے والے قدم اسے ہلا جلا رہے تھے۔ وہ گھوڑوں سے نیچے اترے۔ رکاب سے اس کا پاؤں سیدھا کیا۔ وہ خوف سے ٹھٹک کررہ گئے۔
رگینڈاس کاساراچہرہ سوج کر خون آلود لوتھڑے میں تبدیل ہو چکا تھا۔اس کی پیشانی کی ہڈی نظر آرہی تھی اور اس کی جلد کے پارچے اس کی آنکھوں پر لٹک رہے تھے۔ اس کی عقابی ناک، جو آگس برگ سے اس کے تعلق کی پہچان تھی ، ناقابلِ شناخت ہو چکی تھی۔ اور اس کے ہونٹ دولخت ہو کر الگ الگ ہو چکے تھے۔ اس کے دانت نظر آ رہے تھے مگر وہ معجزانہ طور پر سلامت تھے۔
سب سے پہلے یہ بات دیکھنا تھا آیا وہ سانس لے رہا تھا۔ و ہ لے رہا تھا۔ اس امر نے بعد ازاں رونما ہونے والے واقعا ت کو تیز تر کر دیا۔ انھوں نے اسے گھوڑے کی پشت پر لادا اور روانہ ہو گئے۔ ان کے گائیڈ کو، جو اپنی رہبرانہ صلاحیتیں واپس حاصل کر چکا تھا، یاد آیا کہ قریب ہی کچھ باڑے ہیں اور اس نے ان کی طرف جانے والے راستوں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ اس شکستہ گٹھڑی کو لادے صبح کے وقت غریب اور دور افتادہ رہائش پذیر کسانوں کے گاؤں میں پہنچے جو ان کے لیے کافی تکلیف دہ عمل تھا۔ یہاں انھیں رگینڈاس کو کم از کم ابتدائی نوعیت کی امداد دینے اور صورتِ حال سے پیدا ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا موقع مل جاتا۔
انھوں نے اس کا چہرہ دھلوایا اوراپنی انگلیوں کی پوروں سے اسے یکجا کرنے کی کوشش کی۔ زخموں کے اندمال کے لیے انھوں نے اس کے چہرے پر طلسمی پتوں کامر ہم لگایا اور دیکھا کہ کہیں اس کی کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی۔اس کے کپڑے پھٹ چکے تھے۔ مگر کہنیوں، گھٹنوں او ر سینے پر زخموں کے علاوہ اس کا باقی بدن سلامت تھا۔ زیادہ نقصان اس کے سر کے حصے میں ہوا تھا۔ جو یہ گواہی دیتا تھا کہ اسے بہت دور تک کھینچا گیا ہے۔کیا یہ پُتلے کا انتقام تھا؟کون جانے! بدن بھی عجیب چیز ہے۔ اور جب یہ کسی ایسے حادثے کا شکار ہوجاتا ہے جس میں غیر انسانی طاقتیں ملوث ہوں تو کسی طرح بھی نتائج کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔
دوپہر کے وقت اسے ہوش آ گیا۔ یہ بہت جلد تھا اور کسی بھی طرح سے مثبت نہیں تھا۔ وہ ایسی تکلیف میں بیدار ہوا جو اس سے پہلے اسے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اور جس کے مقابل وہ بے بس تھا۔ پہلے چوبیس گھنٹے ایک طویل، دردناک چیخ تھے۔ جو تدابیر انھوں نے اختیار کیں وہ سب بے فائدہ تھیں۔ اگرچہ ان کے پاس مرہم رکھنے اور دعا کرنے کے علاوہ کوئی موثر تدبیرموجود نہیں تھی۔کراؤس اپنے ہاتھوں کو بھینچتا رہتا۔ اپنے دوست کی طرح اس نے بھی نہ کچھ کھایا تھا نہ سویا تھا۔ انھوں نے سینٹ لوئی سے ڈاکٹر کو بلایا۔ جو رات کے وقت تیز بارش میں بھیگا ہوا اور نیم مردہ گھوڑے پر نمودار ہوا۔ اگلے دن انھوں نے مریض کو اس بگھی پر جو ہزایکسی لینسی گورنر نے بھیجی تھی صوبائی دارلحکومت منتقل کیا۔ ڈاکٹر کی تشخیص بہت محتاط تھی۔
اس کی رائے میں شدید درد دراصل ایک اعصابی رگ کے تباہ ہونے کی وجہ سے تھا جو جلد یا بدیر بحال ہو جائے گی۔ مریض گویائی اور ابلا غ کی طاقت حاصل کر لے گا جس سے صورتحال کی پریشانی میں کمی واقع ہوگی۔ اس کے زخموں پر ہسپتال میں ٹانکے لگا دیے جائیں گے اور زخموں سے پیدا ہونے والے نشانوں کا دارومدار اس کی جلد کے پٹھوں کی صحت پر تھا۔ باقی معاملہ خدا کے ہاتھ میں تھا۔ وہ مارفین ساتھ لایا تھا جس کی بڑی خوراک اس نے رگینڈاس کو دی تا کہ مریض بگھی میں سو جائے اور دلدلی علاقوں میں رات کے وقت ہونے والے سفر کے دوران جھٹکوں سے محفوظ رہے۔ جب وہ بیدار ہوا تو وہ ہسپتال میں تھا اور وہ اسکو ٹانکے لگا رہے تھے اور اسے خاموش رکھنے کے لیے انھیں مارفین کی دگنی خورا ک دینا پڑی۔
ایک ہفتہ گزر گیا۔ انھوں نے اس کے ٹانکے کھولے اور اندمال کا عمل تیزی سے ہونے لگا۔ وہ پٹیاں اتارنے میں بھی کامیاب ہو گئے اور مریض ٹھوس غذا لینا شروع ہو گیا۔ کراؤس نے کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ سینٹ لوئی ہسپتال شہر میں واقع ایک باڑے میں تھا۔ جس میں نصف انسان، نصف حیوان نما درجن بھر مریض مقیم تھے جو کسی نہ کسی حادثے کے نتیجے میں وہاں پہنچے تھے۔ ان کے علاج کی کوئی سبیل نہیں تھی۔ یہ ہسپتال ہی ان کا گھر تھا۔ یہ پندرہ دن رگینڈاس کے لیے ناقابلِ فراموش تھے۔ اس کے سر کی گلابی جلد پر پیدا ہونے والے احساسات ناقابلِ فراموش تھے۔ وہ جب بھی کراؤس کا بازو تھامے کھڑا ہو تا اور چہل قدمی کے لیے باہر جاتا تو واپس آنے سے انکار کر دیتا۔
گورنر،جس نے اس عظیم فنکار کو اپنی توجہ کے گھیرے میں لے رکھا تھا، اپنی میزبانی کی پیشکش کرتا۔ دو دن بعد رگینڈاس اس قابل ہو گیا کہ وہ گھوڑے پر سواری کر سکے او ر خط لکھ سکے (اس نے پہلا خط آگس برگ میں ا پنی بہن کو لکھا اور اس میں اپنے ساتھ ہونے والی بدقسمتی کی تفصیل جزئیات کے ساتھ بتائی؛ جواب کے انتظار میں جو خطوط اپنے چلی کے دوستوں کو لکھے ان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی مکمل تفصیل لکھی)۔ انھوں نے بلا تاخیر وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ مگر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے اصل رستے سے نہیں جائیں گے۔ بیونس آئرس کی طرف جانے والا تاحال نامعلوم راستہ جو ان کے لیے ایک چیلنج تھا ملتوی کرنا پڑا۔ و ہ واپس سنتیاگو جائیں گے جو رگینڈاس کی باقاعدہ طبی امداد کے لیے قریب ترین جگہ تھی۔
اس کی بحالی گو معجزانہ طور پر ہو رہی تھی مگر تکمیل سے بہت دور تھی۔ گو اس نے موت کی گہری کھائی سے خود کوکسی جناتی طاقت کے ساتھ بچایا تھا مگر اس عمل میں ہونے والی جراحی نے اپنا خراج وصول کر لیا تھا۔
اس کے چہرے کی حالت تو ایک طرف اس کے سر کی تباہ شدہ نس جو ابتدائی دنوں میں ناقابلِ برداشت اذیت کا موجب بنی تھی گو جڑ چکی تھی مگر اس کا مطلب یہ تھا کہ در د کے صرف ابتدائی مرحلے کا اختتام ہوا ہے۔ یہ نس دوبارہ اپنے اصلی مقام سے متصل نہیں ہوئی تھی اور دماغ کے اگلے حصے سے چپک گئی تھی جس کی وجہ سے اسے شدید دردِ شقیقہ کا سامنا تھا۔ دردِ شقیقہ کی ٹیسیں دن میں بارہا اور اچانک اٹھتیں۔ سب کچھ یک دم چوپٹ ہو جاتا اور پھر ایک پردے کی طرح سمٹنے لگتا۔ اس کی شدت میں اضافہ ہو تا چلا جاتا۔ اس پر درد کا غلبہ ہو جاتا۔ وہ چیختا چلاتا اور کبھی کبھار گر بھی پڑتا۔ اس کے کانوں میں بلند بانگ چیخیں گونجتی رہتیں۔
اسےکبھی اندازہ ہی نہ تھا کہ اس کا اعصابی نظام اتنی اذیت پیدا کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ اپنے بدن کی طاقت کے متعلق یہ آگاہی اس کے لیے نئی بات تھی۔ اسے مارفین کی بھاری خوراک دینی پڑتی۔ اوردردکے یہ حملے اسے یوں بے حال کر دیتے جیسے اس کے بازو اور ٹانگیں ٹکٹکی پر بندھے ہوئے ہوں۔ بتدریج وہ اپنے حادثے کی تفصیلات یاد کرنے میں کامیاب ہوتا گیا اورکراؤس کو اس کے بارے میں بتانے لگا۔ گھوڑا بچ گیا تھا اور تا حال کارآمد تھا۔ دراصل وہ ابھی بھی اسی پر سواری کرتا تھا۔ اب کے اس نے گھوڑے کا نام ’فلیش ‘رکھا۔ اسی کی پشت پر بیٹھے ہوئے اسے خیال آتا کہ وہ پلازمہ کی آفاقی حرکت محسوس کر سکتا تھا۔ وہ دونوں برق گزیدگی میں ساتھی تھے۔
درد کش دوا کا اثر آغاز ہوتے ہی وہ ڈرائنگ کرنے پر لگ جاتا۔ اسے کچھ بھی دوبارہ سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کیونکہ اس کی کوئی صلاحیت زائل نہیں ہوئی تھی۔ یہ فن کے انفراد کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس کی زندگی ضرور دو لخت ہو گئی تھی مگر مصوری کی اقلیم ابھی بھی اس کے خوابوں کی آماجگاہ تھی۔ وہ اپنے جدِامجد کی طرح نہیں تھا جسے ازسرِ نو اپنے بائیں ہاتھ سے زندگی کا آغاز کرنا پڑا تھا۔ کاش یہ بھی اتنا خوش قسمت ہوتا! مگر یہ دونوں ہاتھ کس کام کے جب کہ اس کی دریدہ نس اس کی ذات کے عین مرکزے میں آر چبھوئے بیٹھی تھی۔
وہ مارفین کے بغیرزندہ نہ رہتا۔ اسے اس کو اپنا جزوِ بدن بنانے میں کچھ وقت لگا۔ اس نے کراؤس کو اپنے اس خفقا ن کے بارے میں بتایا جس کاسامنا اسے ابتدائی دنوں میں دوا لینے کے بعد ہوتا تھا۔ اسے اپنے چاروں طرف عفریت نما انسان منہ بسورتے، کھاتے اور رفع حاجت کرتے اتنے صاف دکھائی دیتے تھے جیسے وہ اس وقت اپنے دوست کو دیکھ رہا تھا (اور حتّٰی کہ غراہٹوں میں باقاعدہ مکالمہ کرتے!)۔ کراؤس اسے اس غلط فہمی سے باہرلایا؛ یہ جزوی حقیقت پرمبنی منظر تھا۔ یہ عفریت دراصل وہ بدبخت روحیں تھیں جو سینٹ لوئی ہسپتال میں اپنی زندگی کے دن گن رہی تھیں۔ دردِ شقیقہ کے اگلے حملے تک رگینڈاس بات پر متحیر رہا۔ کیسا عجیب اتفاق ہے! یاتعلق! جس سے ثابت ہوتاتھا کہ تمام برے خواب، حتّٰی کہ بے حد لایعنی بھی، کہیں نہ کہیں حقیقت سے منسلک ہوتے ہیں۔
اس کی یادداشت میں ایک اور واقعہ بیدارہوا جو نوعیت میں اس سے مختلف مگر پھر بھی متعلق تھا۔ جب وہ اس کے ٹانکے کھول رہے تھے تو وہ مکمل ہوش میں تھا اور اسے ہر دھاگے کے جلد سے باہر آنے کا احساس ہو رہا تھا۔ اور اس نیم غنودہ اور نیم بے ہوش حالت میں اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ان تمام دھاگوں کو ادھیڑ رہے تھے جن سے وہ اپنے محسوسات یا ان کے تاثرات کے پُتلوں کو نچاتا تھا۔ اس کی نظر سے بچتے ہوئے کراؤس نے اس بات پر کوئی تبصر ہ نہیں کیا اور عجلت میں موضوعِ گفتگو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ موضوع تبدیل کرنا بہت دقیق فن ہے اور تقریباً ہر فن کی کنجی ہے۔ اور اس معاملے میں تبدیلی ہی موضوع کی کنجی تھی۔
رگینڈاس کاچہرہ تشویشنا ک حد تک بگڑ چکا تھا۔ زخم کا ایک لمبا نشان اس کی پیشانی کے وسط سے نیچے تک آتے ہوئے اس کی ناک کو سؤر کے بچے کی ناک جیسا بناتا تھاجس کا ایک نتھنا دوسرے سے اونچا تھا۔ سرخ دھاریوں کا ایک جال اس کے ماتھے سے کان تک بچھا ہوا تھا۔ اس کادہانہ سکڑ کر جھریوں بھری تہوں والی گلاب کی کیاری جیسا ہو چکا تھا۔ اس کی ٹھوڑی دائیں جانب سرک کر سوپ کے چمچ جیسے ایک بڑے ڈمپل میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اس تباہی کا بیش تر حصہ ناقابلِ اصلاح تھا۔ کراؤس یہ سوچتے ہوئے کانپ کررہ گیا کہ چہرہ کتنا نازک ہو تا ہے۔ کسی چینی مرتبا ن کی طرح ایک ٹھوکر لگنے پر یہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ کردار زیادہ ضدی ہوتا ہے۔ اور اس تناظر میں نفسیاتی کردار دوام کاحامل ہوتا ہے۔
بہرحال، وہ اس روپ کا عادی ہو چکا تھا۔ وہ اس سے بات کرتا؛ اس کے جواب کا انتظار کرتا؛ حتّٰی کہ پیش گوئی بھی کرتا۔ مگر اس کے پٹھوں کی حالت بری تھی۔ جیسا کہ رگینڈاس نے خود دھاگوں سے متعلق خیال میں تصور کیا تھا، وہ اس کا حکم نہ مانتے۔ اس کے چہرے کی ہر بافت اپنی مرضی کے مطابق حرکت کرتی اور وہ معمول سے کہیں زیادہ متحرک رہتا۔ ایسا یقیناً اعصابی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں ہوا ہو گا۔ اتفاق سے یا شاید معجزانہ طور پر یہ نقصان صرف رگینڈاس کے چہرے تک محدو د تھا۔اس کے برعکس اس کے دھڑ اور ہاتھوں پیروں کا سکون زیادہ واضح ہو جاتا۔
یہ ارتعاش ایک چھوٹی سی کپکپی سے شروع ہوتا اور اچانک اس کے چہرے کی ساری بافتیں پھڑکنے لگتیں، سینٹ وٹس پر ہونے والے بے قابو رقص کی طرح۔ اس کے چہرے کا رنگ بھی روشن سے بنفشی، گلابی، نارنجی، اور کئی رنگوں میں تبدیل ہوتا رہتا۔جیسے کہ اس کو کالیدو سکوپ سے دیکھا جا رہا ہو۔
اگر شکل بدلتے ہوئے ربڑکی آنکھ سے دیکھا جائے تو دنیا یقیناً مختلف نظر آتی ہو گی، کراؤس نے سوچا۔ خفقان نے نہ صرف رگینڈاس کی حالیہ یادداشتوں کو متاثر کیا تھا بلکہ اس کے روزمرہ کے مناظر میں بھی اپنے رنگ بھرے تھے۔ اس موضوع پر، تاہم، وہ محتاط رہا۔ممکن ہے ابھی وہ ا ن علامتوں کا عادی ہو رہا ہو۔ اور بے شک اس کے پاس کسی ایک خیال پر براہِ راست سوچتے ہوئے نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں تھا کیونکہ اسے اوسطاً ہر تین گھنٹے بعد تکلیف کا دورہ پڑتا تھا۔ درد کی داخلی ہوا اس پر مکمل غلبہ پاتے ہوئے اسے اڑا لے جاتی۔ اسے اپنی کیفیات کی وضاحت خال ہی کرنا پڑتی۔ یہ سب بہت واضح تھا۔ گو اس کا اپنا یہ کہنا تھا کہ اس دورے کی گرفت میں وہ بے ہیئت محسوس کرتا تھا۔
۰۰۰
(ناول کا تیسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے)

سیزرایئرا
سیزرایئرا کے بارے میں بیشتر احباب آگاہ ہیں کہ وہ ایک ارجنٹائنی ناول نویس ہیں اور پچھلے برسوں سے نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد ہو رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سال ۲۰۲۵ء کے نوبیل انعام کے لیے وہ دوڑ میں خاصے آگے سمجھے جا رہے تھے۔ بہت سے تجزیہ نگار انھیں ’’ہارٹ فیورٹ‘‘ قرار دے رہے ہیں جب کہ میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی اس دوڑ میں بہت پیچھے دکھائی دے رہے تھے۔ البتہ چونکا دینے والے فیصلے تو پہلے بھی نوبیل انعام کمیٹی کرتی رہی ہے۔
سیزر بکرانٹرنیشنل پرائز ۲۰۱۵ء کے فائنلسٹ رہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۵ء کے عرصے کے دوران بکر فاؤنڈیشن نے کسی ادیب کی تمام ادبی خدمات پر ساٹھ ہزار پونڈ کا ایک انعام دیتی رہی تھی اور سیزر ایئرا اسی انعام کے فائنلسٹ تھے. اتفاق دیکھیے کہ یہ انعام میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔
۰۰۰۰

منیر فیاض
اردو اور انگریزی کے ممتاز شاعر، مترجم، نقاد ہیں ۔ وہ ایف جی کالجز، اسلام آباد، پاکستان میں اسسٹنٹ پروفیسر (انگریزی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دارلحکومت کی معروف یونیورسٹی میں ’’مطالعہِ ادب و تراجم ‘‘پر لیکچر دیتے ہیں۔ اُنھوں نے حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے ’’پاکستان ادب‘‘ (پاکستان کی ہم عصرافسانے) کے ایک خصوصی شمارے کی ادارت بھی کی ہے۔
تراجم
منیر ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے براڈکاسٹر اور پاکستان ٹیلی ویژن (ورلڈ) کے ادبی پروگراموں کے پینلسٹ بھی ہیں۔ وہ ۲۰۰۹ء سے پاکستانی شاعری اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کر رہے ہیں۔ اُردو میں اُن کے تراجم یہ ہیں: معاصر چینی مختصر کہانیاں، کرغزمصنف چنگیز ایتماتوف کے ناول، نیپالی شاعروں کی ایک مجموعہ ’’نیپال کی آواز‘‘۔ مزید برآں، اُنھوں نے بین الاقوامی شہرت کے شاعروں اور ادیبوں: نجیب محفوظ اور جان ایشبیری، اور امریکی شاعر ٹریسی کے سمتھ اور جوآن فلپ ہیریرا کی سوانح بھی رقم کی ہیں۔
۰۰۰۰
Authors
سیزر ایئرا کے بارے میں بیشتر احباب آگاہ ہیں کہ وہ ایک ارجنٹائنی ناول نویس ہیں اور پچھلے برسوں سے نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد ہو رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سال ۲۰۲۵ء کے نوبیل انعام کے لیے وہ دوڑ میں خاصے آگے سمجھے جا رہے تھے۔ بہت سے تجزیہ نگار انھیں ’’ہارٹ فیورٹ‘‘ قرار دے رہے ہیں جب کہ میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی اس دوڑ میں بہت پیچھے دکھائی دے رہے تھے۔ البتہ چونکا دینے والے فیصلے تو پہلے بھی نوبیل انعام کمیٹی کرتی رہی ہے۔سیزر ایئرا مین بکر انٹرنیشنل پرائز ۲۰۱۵ء کے فائنلسٹ رہے۔ یاد رہے کہ ۲۰۰۵ء سے ۲۰۱۵ء کے عرصے کے دوران بکر فاؤنڈیشن نے کسی ادیب کی تمام ادبی خدمات پر ساٹھ ہزار پونڈ کا ایک انعام دیتی رہی تھی اور سیزر ایئرا اسی انعام کے فائنلسٹ تھے. اتفاق دیکھیے کہ یہ انعام میگار (ہنگرین) ادیب لاسلو کراسنا ہورکارئی جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔View all posts
منیر فیاض اردو اور انگریزی کے ممتاز شاعر، مترجم، نقاد ہیں ۔وہ ایف جی کالجز، اسلام آباد، پاکستان میں اسسٹنٹ پروفیسر (انگریزی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دارلحکومت کی معروف یونیورسٹی میں ’’مطالعہِ ادب و تراجم ‘‘پر لیکچر دیتے ہیں۔ اُنھوں نے حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والے ’’پاکستان ادب‘‘ (پاکستان کی ہم عصرافسانے) کے ایک خصوصی شمارے کی ادارت بھی کی ہے۔ منیر فیاض ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے براڈکاسٹر اور پاکستان ٹیلی ویژن (ورلڈ) کے ادبی پروگراموں کے پینلسٹ بھی ہیں۔ وہ ۲۰۰۹ء سے پاکستانی شاعری اور افسانوں کے انگریزی میں تراجمم کر رہے ہیں۔ اُردو میں اُن کے تراجم یہ ہیں: معاصر چینی مختصر کہانیاں، کرغزمصنف چنگیز ایتماتوف کے ناول، نیپالی شاعروں کی ایک مجموعہ ’’نیپال کی آواز‘‘۔ مزید برآں، اُنھوں نے بین الاقوامی شہرت کے شاعروں اور ادیبوں: نجیب محفوظ اور جان ایشبیری، اور امریکی شاعر ٹریسی کے سمتھ اور جوآن فلپ ہیریرا کی سوانح بھی رقم کی ہیں۔
View all posts
