تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

فرانسیسی ناول کا باب

حادثہ

پیٹرک موڈیانو

Patrik Modiano

تعارف و ترجمہ؍ریحان اسلام

فرانسیسی نوبیل انعام یافتہ ادیب پیٹرک موڈیانو کے ناول ’’ گمشدہ جوانی کا کیفے ‘‘  سے ایک باب 
آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔ یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔

ا س رات ایسا لگ رہا تھا کہ ہم میز کے گردبیٹھ کرکسی مردے کی روح کو زندوں کی دنیا میں بلانے کی رسم اداکررہے ہیں۔ہم گائی دی ویر کے دفتر میں جمع تھے اوراس نے لیمپ بند کر دیا تھا۔ہم اندھیرے میں اس کی آواز سن رہے تھے۔بلکہ نہیں،میں انصاف نہیں کر رہا۔ مجھے گائی دے ویر کا نام ایسے ہی نہیں لے لینا چاہیے۔وہ ا یسے سنتا تو اسے صدمہ پہنچتا۔ مجھے اس کا نام ادب سے لینا چاہیے۔وہ مجھے سمجھانے کے انداز میں کہتا۔ ’’ایمانداری سے ،رولینڈ۔‘‘

اس نے کارنس پر رکھے شمع دان میں موم بتی جلائی اور میز کے پیچھے اپنی کرسی میں بیٹھ گیا۔ہم بھی کرسیوں پر بیٹھ گئے جن کا رخ اس کی طرف تھا:وہ لڑکی،میں اور ایک جوڑا جو چالیس کے پیٹے میں تھا،میں انھیں پہلی بار دیکھ رہاتھا،انھوں نے مہنگے کپڑے پہنے ہوئے تھے اورلگ رہا تھا کہ ان کا تعلق اونچے طبقے سے ہے۔

میں نے لڑکی کی طرف دیکھا اورہماری آنکھیں چارہوئیں۔ گائی دے ویر ابھی بھی بول رہا تھا، اس کا سینہ آگے کی جانب ایسے جھکا ہو ا تھا جیسے وہ روزمرہ کی بات چیت کر رہا ہو۔ وہ اپنے ہر لیکچر میں ایک تحریرپڑھ کر سناتا تھا اور پھر اس کی فوٹو کاپی بھی دیتا تھا۔ اس رات والی فوٹو کاپی ابھی بھی میرے پاس ہے۔اس کی ایک وجہ تھی۔اس لڑکی نے مجھے فون نمبر دیاتھا اورمیں نے سرخ بال پوائنٹ پین  سے کاغذ کے نیچے لکھ لیا تھا۔

’’زیادہ دھیان کے لیے ضروری ہے کہ نیچے لیٹ جائیں اور آنکھیں بند کرلیں۔بیرونی ظہور کی پہلی نشانی یہ ہے کہ پراگندگی اور تحلیل کا عمل وقوع پذیر ہو گا۔ ٹانگیں اوپر کو اٹھ جائیں گی اوردرکارتوانائی کا اخراج ہو گا۔آنکھیں کھول کر دھیان کم کرتے جائیں۔‘‘

اس کی سنجیدگی مجھ میں بھی منتقل ہو گئی۔میں اپنے شروعاتی رد عمل پر شرمندگی محسوس کر رہاتھا۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اگر میں ہنس پڑتا تو کیا ہوتا۔اس کی نگاہوں میں مدد کی پکار تھی، ایک سوال تھا۔

میں صرف یہی کر سکا کہ ہنسی کے دورے کو اندر ہی روک لیااور مجھے اچھی طرح یادہے کیونکہ وہاں یہ سب میرے ساتھ پہلی بارہورہا تھا۔ موم بتی کی روشنی نے اس عمل کو مذہبی رسم کے جیسا بنا دیا تھا۔ میری اورلڑکی کی آنکھیں کئی مرتبہ چار ہو ئیں۔ اسے ہنسی نہیں آ رہی تھی۔ اس کے برعکس وہ احترام سے بیٹھی تھی اورفکرمند تھی کہ کچھ سمجھنے سے نہ رہ جائے۔

اس کی سنجیدگی مجھ میں بھی منتقل ہو گئی۔میں اپنے شروعاتی رد عمل پر شرمندگی محسوس کر رہاتھا۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اگر میں ہنس پڑتا تو کیا ہوتا۔اس کی نگاہوں میں مدد کی پکار تھی، ایک سوال تھا۔ کیا میں یہاں ہونے کے لائق ہوں؟‘‘ گائی دے ویر نے اپنے ہاتھ باندھ لیے۔اس کی آواز اور بھی پر عزم ہو گئی اور وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا جیسے صرف اسی سے مخاطب ہو۔ وہ ڈر گئی۔شاید اسے ڈر تھا کہ اس دوران وہ اس سے کوئی غیر متوقع سوال نہ کرلے: ’’اور تم،میں تمھاری رائے جاننا چاہوں گا۔ ‘‘

بلب پھر روشن کر دیے گئے۔معمول کے بر خلاف ہم کچھ دیر کے لیے دفتر میں رکے رہے۔لیکچر بیٹھک میں ہوتے تھے اوردرجن بھرلوگ شرکت کرتے تھے۔لیکن اس شام ہم صرف چارلوگ تھے اس لیے شاید گائی دے ویر نے اپنے دفتر میں اجلاس رکھا تھا۔یہ تقریب منعقعد کرنے کے لیے آپ کو روایتی طریقے سے وقت اور بستر بھیج دیا جاتا تھا اور اگر آپ باقاعدگی سے آتے تھے توویگا بک سٹور پر آپ کو معلومات فراہم کر دی جاتی تھیں جیسے ہم ریکارڈ میں فوٹو کاپی رکھتے ہیں ویسے ہی میں نے کچھ دعوت نامے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے اور کل میری نظر ایک دعوت نامے پر پڑی۔

میں جب اس ملاقات کو یاد کرتاہوں تو ایسالگتاہے کہ یہ دو ایسے لوگوں کی ملاقات تھی جن کاکوئی ٹھکانہ نہ تھا۔میرے خیال سے ہم دونوں بنجارے تھے۔

جان سے پیارے رولینڈ،

آپ کی آمد سے گائی دے ویر کو خوشی ہو گی۔جمعرات،۱۶؍ جنوری،رات آٹھ بجے۔

۵۔ لوونڈل سکوائر (۱۵)

بائیں جانب دوسری عمارت

پانچویں منزل بایاں دروازہ

یہ برسٹل بورڈکا رڈ(چارٹ کے کاغذ جیسا) تھا۔ہربار ایک ہی سائز اور وہی پھولدار لکھائی ہوتی تھی۔لگتا تھا جیسے کسی سماجی اجتماع،کاک ٹیل پارٹی یا سالگرہ کا دعوت نامہ ہو۔

اس رات وہ ہمیں نیچے عمارت کے دروازے تک چھوڑنے آیا۔گائی دے ویر اوروہ جوڑا ہم دونوں سے کم و بیش بیس سال بڑاتھا۔لفٹ چھوٹی تھی اورصرف چار لوگوں کی گنجائش تھی اس لیے ہم دونوں سیڑھیوں سے نیچے چلے گئے۔

یہ ایک شاہراہ عام نہیں تھی۔وہاں تمام گھر خاکستری رنگ کے تھے۔ قدیم طرز کے برقی قمقمے اورہرعمارت کازنگ آلوددروازہ۔ایک جیسی کھڑکیاں۔جب ہم گیٹ سے باہر نکلے تو سامنے رو الگزینڈ کابانل سکوائر تھا۔ میں ا س جگہ کا نام لکھنا چاہتا تھا کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں ہم پہلی بار ملے تھے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ کیا بات کریں ہم کچھ دیر اسکوائرپرٹہلتے رہے۔ میں نے خاموشی توڑی۔

 ’’کیا تم آس پاس ہی رہتی ہو؟‘‘

’’نہیں،اٹوائل کے آخر میں۔‘‘

میں الوداع نہ کہنے کابہانہ ڈھونڈ رہا تھا۔

’’ہم کچھ دیر ساتھ چل سکتے ہیں۔ ‘‘

دے گر ینل بولیورڈ پرہم پل کے نیچے چلتے رہے۔اس نے کہاکہ ہم میٹروکی اس لائن کے ساتھ ساتھ چلیں گے جوزمین کے اوپرچلتی ہوئی اٹوائل تک جاتی ہے۔اگر وہ تھک گئی تو باقی راستہ میٹرو میں بیٹھ کر طے کر لے گی۔یہ اتوارکی رات،چھٹی کا دن تھا،سڑک خالی تھی اورکیفے بند تھے۔جہاں تک مجھے یادہے کہاجا سکتاہے کہ ہم کسی ویرانے میں تھے۔میں جب اس ملاقات کو یاد کرتاہوں تو ایسالگتاہے کہ یہ دو ایسے لوگوں کی ملاقات تھی جن کاکوئی ٹھکانہ نہ تھا۔میرے خیال سے ہم دونوں بنجارے تھے۔

ایک شام دکاندار نے مجھے وہ دعوت نامہ دے کر کہا تھا کہ آپ بھی شرکت کر سکتے ہیں۔’’یہ تم جیسے لوگوں کے لیے ہی ہے۔‘‘میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ ’’تم جیسے‘‘ سے کیا مراد ہے۔

’’کیا تم گائی دے ویر کو پہلے سے جانتی ہو؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’نہیں، اس سال کے شروع میں ایک دوست کی وجہ سے ان سے ملاقات ہوئی تھی۔اور تم؟‘‘

 ’’ویگا بک سٹور کے ذریعے۔‘‘

یہ دکان سینٹ جرمین بولیورڈ پر واقع تھی جس کی کھڑکی پر نیلے رنگ سے لکھا تھا’’استشراق اور تقابل ادیان ‘‘ لیکن اسے اس دکان کا نہیں پتا تھا۔میں نے پہلی بار اس دکان پر گائی دے ویر کو بولتے ہوئے سنا تھا۔ایک شام دکاندار نے مجھے وہ دعوت نامہ دے کر کہا تھا کہ آپ بھی شرکت کر سکتے ہیں۔’’یہ تم جیسے لوگوں کے لیے ہی ہے۔‘‘میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ ’’تم جیسے‘‘ سے کیا مراد ہے۔وہ مجھے ہمدردی سے دیکھ رہا تھا نا کہ حقارت سے۔ا س نے پیشکش کی کہ وہ گائی دے ویر کے سامنے میرا’’اچھے الفاظ‘‘ میں تذکرہ کر سکتاہے۔

 ’’کیا یہ اچھا بک سٹور ہے؟‘‘

 اس نے جب یہ سو ال پوچھا تو اس میں طنز کا عنصر تھا۔یا شاید اس کا مقامی لہجہ تھا جس کی وجہ سے مجھے ایسا لگا۔

 ’’تمھیں وہاں ہر طرح کی دلچسپ کتابیں ملیں گی۔ کسی دن تمھیں وہاں لے چلوں گا۔ ‘‘

 میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ کیسی کتابیں پڑھتی ہے اور وہ کس وجہ سے لیکچر لینے آئی۔ پہلی کتاب جودے ویر نے اسے تجویز کی تھی وہ Lost Horizon تھی۔ اس نے یہ کتاب بہت غور سے پڑھی تھی۔ وہ پچھلے لیکچر میں بھی آئی تھی اور گائی دے ویر اسے اپنے دفتر میں لے گیا تھا ۔ اس کی لائبریری کی دو دیواریں کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس نے اسے ا یک کتاب دینے کے لیے پوری لائبریری چھان ماری تھی۔

 کچھ دیر بعد جیسے کوئی خیال اس کے ذہن میں آیا ہو، وہ سب چھوڑ کر اپنی میز پر گیا اور وہاں بے ترتیبی سے پھیلی فائلوں اورخطوں کے ڈھیر سے ایک کتاب اٹھائی۔ اس نے اسے بتایا۔’’تم یہ پڑھ سکتی ہو ۔میں متجسس رہوں گا کہ یہ پڑھ کر تم کیارائے دو گی۔‘‘ وہ کافی پریشان ہو گئی تھی۔

 گائی دے ویر دوسروں سے بات کرتے ہوئے سمجھتا تھا کہ وہ بھی اس کی طرح ذہین اور تہذیب یافتہ ہیں۔ایسا کب تک چل سکتا تھا؟ کسی نہ کسی مرحلے پر وہ ہماری حقیقت جان جائے گا۔اس نے اسے جو کتاب دی تھی اس کا نام ’’لوئس، خلاکی بہن‘‘  (Louise, Sister of the Void) تھا۔میں اس کتاب سے واقف نہیں تھا۔اس کتاب میں سترھویں صدی کی ایک راہبہ کی کہانی تھی جو خلا میں رہتی تھی،اوراس کے تمام خطوط بھی شامل تھے۔یہ کتاب اس نے ابتداء سے پڑھنا شروع نہ کی تھی بلکہ درمیان سے کہیں سے شروع کر دی تھی۔کچھ صفحات پڑھ کر وہ واقعی متاثر ہوئی ۔ Lost Horizonسے بھی زیادہ۔

گائی دے ویر سے ملنے سے پہلے بھی وہ سائنسی فکشن جیسے’’ خواب دیکھتے جواہر‘‘ ( The Dreaming Jewels) پڑھ چکی تھی اور ایک کتاب علم فلکیات پر۔عجیب حسن اتفاق تھا۔ مجھے بھی علم فلکیات میں دلچسپی تھی۔

 بیر حکیم سٹیشن پہنچ کر میں سوچنے لگا کہ وہ اب میٹرو لے گی یا پیدل چل کر ہی دریائے سین پار کرے گی ہم اپنے اوپر بار بار پل پر سے میٹرو ٹرین کے گزرنے کی آواز سن سکتے تھے۔ہم پل پر رک گئے اور بات کرنا جاری رکھی۔

’’ میں بھی اٹوائل کے پاس رہتا ہوں۔‘‘میں نے اسے بتایا۔’’شایدتمھارے گھر کے پاس ہی ۔ ‘‘

 وہ ہچکچارہی تھی۔وہ مجھے کچھ ایسا بتانا چاہتی تھی جواسے پریشان کر رہا تھا۔

وہ ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ وہ میرے لیے اچھا چاہتا ہے یہ سچ ہے وہ میرے بارے میں اچھا ہی چاہتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے وہ میرے ساتھ باپ کی طرح پیش آتا ہے۔

’’سچ یہ ہے کہ میں شادی شدہ ہوں اوراپنے شوہر کے ساتھ نوئی میں رہتی ہوں۔‘‘ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اعتراف جرم کر رہی ہے۔

’’ تمھاری شادی کو کافی عرصہ ہو گیا ہے؟‘‘

 ’’نہیں۔پچھلے اپریل میں ہوئی تھی۔ ‘‘

ہم پھرسے چلنے لگے۔ہم پل کے درمیان میں پہنچ گئے جہاں نیچے کی طرف سیڑھیاں اتررہی تھیں۔ وہ سیڑھیاں اترنے لگی اورمیں بھی اس کے پیچھے چلنے لگا۔ وہ اتنے اعتماد سے اتر رہی تھی جیسے نیچے کسی سے ملنے جا رہی ہو۔ وہ مزید تیز تیز بول رہی تھی۔

 ’’میں نوکری کی تلاش میں تھی۔میں نے ایک اشتہار دیکھا۔ کسی کمپنی میں عارضی بنیادوں پرسیکرٹری کی ضرورت تھی۔‘‘

نیچے اتر کر ہم دے سینے سٹریٹ میں چلنے لگے۔دونوں طرف دریا اور اس کے بند تھے۔ میں ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے رات کے وقت ریت میں پھنسے کسی سیاحتی جہا ز کے عرشے پر گھوم رہا ہوں

’’دفتر میں ایک آدمی نے میرے ذمے کچھ کام لگایا۔وہ میرے ساتھ اچھے سے پیش آتا تھا۔وہ عمر میں بڑا تھااور کچھ دنوں بعد وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔‘‘

 ایسالگ رہا تھا کہ وہ بچپن کے کسی ایسے دوست کو صفائی پیش کرر ہی ہے جس سے وہ کافی عرصے بعد مل رہی ہے ۔

’’اپنا بتاؤ۔کیاتم شادی کرنا چاہتی تھیں؟‘‘

 اس نے یوں کندھے اچکائے جیسے میرا سوال سمجھ سے بالاتر ہو۔اس دوران میں انتظار کررہا تھا کہ وہ کہے۔ ’’دیکھو، تم میرے بارے میں کافی جانتے ہو۔ ‘‘

 آخر کار،میں ضرور اسے پچھلے جنم میں جانتا ہوں گا۔

 

’’وہ ہمیشہ یہ کہتاتھا کہ وہ میرے لیے اچھا چاہتا ہے یہ سچ ہے وہ میرے بارے میں اچھاہی چاہتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے وہ میرے ساتھ باپ کی طرح پیش آتا ہے۔‘‘

اس نے مجھے تمام تفصیلات دیں،اس کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ گئیں جیسے وہ ایک ایک بات بتانا چاہتی ہو چاہے وہ کتنی ہی غیر اہم کیوں نہ ہو۔

مجھے محسوس ہواکہ وہ میری رائے جاننا چاہتی ہے۔لگ رہا تھاکہ وہ لوگوں پر بھروسہ نہیں کرتی تھی۔

’’اوروہ تمھارے ساتھ لیکچر لینے نہیں آتا؟‘‘

’’نہیں۔وہ کام میں مصروف ہوتا ہے۔‘‘

وہ اپنے شوہرکے ایک پرانے دوست کے ذریعے دے ویرسے ملی تھی۔وہ ایک دوست دے ویرکو نوئی میں ان کے گھر میں کھانے پر لے کر آیا تھا۔اس نے مجھے تمام تفصیلات دیں،اس کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ گئیں جیسے وہ ایک ایک بات بتانا چاہتی ہو چاہے وہ کتنی ہی غیر اہم کیوں نہ ہو۔

چلتے چلتے گلی کاخاتمہ ہو گیا۔ہمارے سامنے آزادی کا مجسمہ تھا۔دائیں طرف ایک بنچ تھا۔مجھے یاد نہیں کہ کون پہلے بنچ پر بیٹھنے کے لیے گیا تھا یا شاید ہم دونوں ہی بیٹھنا چاہتے تھے۔میں نے اس سے پوچھا کہ اسے گھر نہیں جا نا چاہیے۔وہ تیسری یاچوتھی مرتبہ لیکچر میں آئی تھی اورہرباروہ رات گیارہ بجے واپسی کے لیے میٹرولیتی تھی۔ہر بار نوئی واپس جاتے ہوئے وہ برا محسوس کرتی تھی۔حقیقت یہ تھی کہ اسے زندگی بھر کی سزا ملی ہوئی تھی کہ وہ ایک میٹرولائن سے آتی جاتی رہے۔اٹوائل سے بیٹھے اور سیبلون پر اتر جائے۔

 

اس کا کندھا میرے کندھے سے لگ رہا تھا۔اس نے بتایا کہ جب گائی دے ویر گھر کھانے آیا تھا تو کھانے کے بعد اس نے سے اودے اون کے ایک چھوٹے سے کمرے میں لیکچر میں شرکت کے لیے دعوت دی تھی۔اس دن کا موضوع’’عظیم دوپہر‘‘ اور’’سبز روشنی‘‘ تھا۔کمرے سے نکلنے کے بعد وہ وہاں آوارہ گردی کرتی رہی تھی۔وہ اس صاف سبز روشنی میں تیر رہی تھی جس کے بارے میں لیکچر میں بتایا گیا تھا۔شام کے پانچ بجے تھے۔چوراہے پر کافی ٹریفک تھی۔عوام کا جم غفیر تھا۔ہجوم اسے اس کی مرضی کے برخلاف میٹرو کی سیڑھیوں کی طرف دھکیل رہا تھا۔

وہ اب اچانک سے میرے ساتھ پر سکون محسوس کرر ہی تھی۔ نہیں، مجھے اس کے بارے میں نہیں پتا تھا۔

ایک خالی گلی جاردن دولگزمبرگ کی طرف جارہی تھی۔ وہ وہاں جاتے ہوئے ڈھلوان کے درمیان میں ایک گھر کے نیچے واقع کیفے میں چلی گئی: کیفے کونڈے ۔ ’’کیا تم کونڈے کے بارے میں جانتے ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔ وہ اب اچانک سے میرے ساتھ پر سکون محسوس کرر ہی تھی۔ نہیں، مجھے اس کے بارے میں نہیں پتا تھا۔ سچ کہوں تو مجھے حلقہ5 میں لاطینی کوارٹر اور وہاں کے سکول اور کیفے بالکل پسند نہیں۔ اس جگہ سے مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتاہے۔ جہاں میں اقامتی سکول کے ہوسٹل میں رہتاتھا اور مجھے وہاں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ یہاں رودوفائن پر سکول کینٹین تھی جہاں میں نقلی سٹوڈنٹ کارڈ دکھا کر کھانا کھاتا تھا۔ مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی۔ اس دن سے وہ اکثر کونڈے میں پناہ لیتی تھی۔

 

کونڈے میں باقاعدگی سے آنے والوں سے جان پہچان بنانے میں اسے زیادہ وقت نہ لگا، خاص طور پر دو لکھاری موریس رافیل اور آرتھر آدم۔ کیا میں نے ان کے بارے میں سن رکھا تھا؟ ہاں۔میں جانتا تھا کہ آدم کون ہے۔ میں نے اسے سینٹ جولین لے یوورے کے پاس دیکھ رکھا تھا۔ پریشان دکھائی دینے والا۔ بلکہ میں کہوں گا کہ خوفزدہ۔ وہ بغیر جراب کے سینڈل پہنے پھرتا تھا۔ اس لڑکی نے آدم کی کوئی کتاب نہیں پڑھ رکھی تھی۔ کونڈے میں وہ اکثرا سے کہتا تھا کہ اسے اس کے ہوٹل چھوڑ آئے کیونکہ وہ وہ رات کو اکیلے چلنے سے ڈرتا تھا۔ وہ باقاعدگی سے کونڈے جاتی تھی، اس لیے انھوں نے اسے ایک پیار کا نام دے دیا تھا۔

اس کااصل نام جیکولین تھالیکن وہ اسے لوکی کہتے تھے۔اگرمیں چاہتا تو وہ میرا آدم اور باقی سب سے تعارف کر واد یتی۔ ایک انگریزی گلوکار جمی کیمپبیل سے۔ایک تیونس کے باشندے علی شریف سے۔ ہم دن میں کونڈے میں مل سکتے تھے۔ اگرا س کا شوہر باہر ہوتا تو وہ رات کو بھی آجاتی۔ وہ کام سے اکثر دیر سے واپس آتاتھا۔ اس نے میری طرف دیکھا اور ایک لمحے کی ہچکچاہٹ کے بعد کہا کہ ہر بار اس کانوئی میں اپنے شوہر کے پاس واپس جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ پریشانی میں مبتلاتھی۔ اس نے مزید کچھ نہ کہا۔

آخری میٹرو کاوقت ہو گیا تھا۔ ڈبے میں صرف ہم دوتھے۔اٹوائل میں اترنے سے پہلے اس نے مجھے اپنانمبردیا۔

ــــ

آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑکر دیکھتا ہوں اورکوئی بھی نہیں ہوتا۔ نہ صرف شاموں میں بلکہ موسم گرما کی سست رفتار سہ پہروں میں بھی جب آپ کو یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ یہ کون سا سال ہے۔ سب پہلے جیسا ہوتاہے۔وہی دن، وہی راتیں، وہی جگہیں، وہی لوگ۔ ابدی تکرار (بار بار ایک جیسی چیزوں کا خود کو دہرانا)۔

 میں اکثر خواب میں یہ آوازسنتاہوں۔ یہ اتنی صاف سنائی دیتی ہے کہ جب میں جاگتاہوں تو سوچتاہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں گائی دے ویر کے گھر سے نکل رہاں ہوں، عین اسی وقت جب میں اور لوکی پہلی بار وہاں ملے تھے اور باہر آئے تھے۔ میں نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔

میرا اصل نام بہت عجیب تھا۔ ان دنوں میں لوگوں کی تو جہ اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہتاتھا۔ ’’رولینڈ ‘‘ میں نے مڑکر دیکھا۔

پہلی منزل پر ایک کھڑکی میں پلول ذیلی (Ivy plant) لگا ہوا تھا۔میں دھاتی گیٹ کے پاس سے گزرکر اوپرمیٹرو کی طرف جارہا تھاتو لوکی کی آواز سنی۔وہ مجھے آواز دے رہی تھی:’’رولینڈ‘‘ دوبار ۔میں اس کی آواز میں تمسخر محسوس کرسکتاتھا۔اس نے میرے نام کے پہلے حصے کا مذاق اڑایا تھا حالانکہ یہ میرا اصلی نام نہ تھا۔ میں نے اس نام کا انتخاب آسانی کے لیے کیا تھا، جان بوجھ کر۔ ایک ایسانام جونام کے آخری حصے کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا تھا۔ یہ عملی نام تھا اوربھر پور فرانسیسی بھی۔ میرا اصل نام بہت عجیب تھا۔ ان دنوں میں لوگوں کی تو جہ اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہتاتھا۔ ’’رولینڈ ‘‘ میں نے مڑکر دیکھا۔ کوئی بھی نہ تھا۔ میں چوراہے کے درمیان میں تھا بالکل پہلی بار کی طرح جب مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس سے کیا بات کروں۔

 

جب میں جاگا تو میں نے فیصلہ کیا کہ گائی دے ویر کے گھر کے پاس جا کر دیکھتا ہوں کہ کیا واقعی وہاں پہلی منزل کی کھڑکی پر پلول ذیلی کا پودا لگا ہوا ہے۔ میں نے کیمبرون کی طرف جانے والی میٹرولی۔ یہ وہی لائن تھی جو لوکی نوئی واپس جانے کے لیے لیتی تھی۔ میں اس کے ساتھ جاتا تھا اور اکثر ہم ارجنٹائن اسٹیشن پراتر جاتے تھے جہاں میرا ہوٹل تھا۔ اس شام وہ پوری رات میرے کمرے میں گزار سکتی تھی لیکن اس نے مکمل کوشش کی اوراپنے گھر واپس چلی گئی۔ پھر آخر کار ایک رات وہ میرے پاس رکی۔

میں پریشان ہو گیا۔ کیا کل رات واقعی میں نے خواب دیکھا تھا؟ میں کچھ دیر کھڑکی کے پاس بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ میں امید کر رہا تھا کہ مجھے لوکی کی آواز سنائی دے گی۔ وہ ایک بار پھر میرا نام پکارے گی ۔ نہیں۔کچھ بھی نہیں ہوا۔ صرف خاموشی۔

دن کے وقت گائی دے ویر کے گھر کی طرف جاتے ہوئے عجیب سا محسوس ہو رہا تھا کیونکہ ہم ہمیشہ رات کے وقت وہاں جاتے تھے۔میں نے دروازے کو دھکیلا اور خود کو بتایا کہ اب ممکن ہی نہیں ہے کہ اتنا وقت گزرنے کے بعد میرا اس سے ٹاکرا ہو گا۔سینٹ جرمین بولیورڈ سے ویگا بک سٹو ر ختم ہو چکا تھا تو اس کا مطلب گائی دے ویر پیرس سے جا چکا ہو گا۔ لوکی بھی جا چکی تھی۔ لیکن وہاں کھڑکی پر وہی پودا تھا جو میرے خواب میں آیاتھا۔

 

 میں پریشان ہو گیا۔ کیا کل رات واقعی میں نے خواب دیکھا تھا؟ میں کچھ دیر کھڑکی کے پاس بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ میں امید کر رہا تھا کہ مجھے لوکی کی آواز سنائی دے گی۔ وہ ایک بار پھر میرا نام پکارے گی ۔ نہیں۔کچھ بھی نہیں ہوا۔ صرف خاموشی۔ پھر بھی مجھے لگ رہا تھا کہ وہ وقت جب ہم یہاں آتے اور آج کا دن،اس دوران وقت نہیں گزرا بلکہ وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ وقت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ مجھے وہ تحریر یاد آئی جو میں تب لکھ رہا تھا جب میں لوکی کو جانتا تھا۔ میں نے اس کا عنوان ’’معلق علاقوں کے بارے میں‘‘ رکھا تھا۔

اگلے دن ہم نے کونڈے میں لاہوپاکی سالگرہ منائی۔ہم نے بہت ساری شراب پی۔جب ہم واپس میرے کمرے میں آئے تو ہمیں چڑھی ہوئی تھی۔میں نے کھڑکی کھولی۔ میں گلاپھاڑ کرچلایا۔

پیرس میں علاقوں کا ایک سلسلہ تھا جہاں کوئی بھی نہیں ہوتاتھا، جہاں ہم اپنے سوا سب کچھ ہوتے تھے، حالت تغیر میں، یایوں کہیے کہ معلق۔ وہاں جا کر ہم ایک خاص قسم کی مدافعت حاصل کرتے تھے۔ میں انھیں آزادعلاقے کہتا تھا، بلکہ معلق علاقے بہتر رہے گا۔ یہ جاننے کی وجہ سے کہ موریس رافیل ایک لکھاری ہے  میں نے اس کی رائے مانگی۔ اس نے کندھے اچکائے اور طنزیہ مسکرایا۔ ’’یہ پتا لگانا تمھارا کام ہے میرے دوست۔ مجھے نہیں معلوم کہ تم کیا سوچ رہے ہو۔ میں یہی کہوں گامعلق ہی ٹھیک ہے۔‘‘ کیمرون سکوائر کے علاوہ سیگر اور ڈپلیکس کا درمیانی علاقہ، اور وہ تمام گلیاں جو اوپر میٹرو تک جاتی تھیں، وہ سب معلق علاقے تھے اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ وہاںمیری اور لوکی کی ملاقات ہوئی تھی۔

بہت پہلے وہ تحریر کھو گئی تھی۔کونڈے کے ایک گاہک ذکارایس سے ٹائپ رائٹر ادھار لے کر میں نے پانچ صفحے لکھے تھے۔انتساب لکھا تھا:’’معلق علاقے کی لوکی کے نام۔‘‘ معلوم نہیں وہ میری تحریرکے بارے میں کیاخیال رکھتی تھی۔یہ ایک اکتادینے والی تحریرتھی کیونکہ اس میں ان گلیوں اورحلقوں کے ناموں کی فہرست بنائی گئی تھی جومعلق علاقوں کی حدمیں آتے تھے۔کبھی کوئی گھر،کبھی کوئی بڑا علاقہ۔ایک شام جب ہم کونڈے میں بیٹھے تھے تو انتساب پڑھ کر لوکی نے کہا۔’’جانتے ہو رولینڈ ، تم جن غیر معلق علاقوں کی بات کر رہے ہوہم دونوں جا کر ہر علاقے میں ایک ایک ہفتہ گزارسکتے ہیں۔‘‘

ــــ

میں اس بات سے آگاہ تھا کہ ایک بارمیں ٹائپ رائٹر کے سامنے لکھنے بیٹھ گیاتو ہرچیز لکھنااتنا آسان نہیں ہوگا۔عین ممکن ہے کہ میں یہ پہلا جملہ بھی کاٹ دوں اوراس سے اگلابھی۔ لیکن پھر بھی میں ہمت اورعزم سے بھرا ہواتھا۔

رودے ارجنٹائن جہاں میں نے ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لیا تھا بلاشبہ ایک معلقہ علاقہ تھا۔وہاں مجھے کون ڈھونڈ سکتا تھا؟وہاں آس پاس جوبھی لوگ رہتے تھے اگران کی حالت کو دیکھا جائے توسب کے سب مردہ تھے۔ ایک دن اخبار کے صفحے پلٹتے ہوئے میں نے (لیگل نوٹس والے خانے میں) ایک خبردیکھی:’’گم شدگی کا اعلان‘‘۔ میں نے وہ خبرلوکی کودکھائی تھی۔ وہ اس وقت میرے کمرے میں تھی ۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے مکمل یقین ہے کہ یہ بندہ میری ہی گلی میں رہتاہے،بلکہ درجنوں ایسے لوگ رہتے ہیں جنھیں ’’گمشدہ‘‘ قراردے دیا گیا ہے۔ اتفاقاًمیرے ہوٹل کے آس پاس تمام عمارتوں پرلکھا تھا:’’ سازو سامان سے آراستہ فلیٹ۔ ‘‘یہ ایسی بندرگاہ کے جیسی جگہ تھی جہاں کوئی شناخت نہیں پوچھتاتھا اورچھپنا آسان تھا۔

اگلے دن ہم نے کونڈے میں لاہوپاکی سالگرہ منائی۔ہم نے بہت ساری شراب پی۔جب ہم واپس میرے کمرے میں آئے تو ہمیں چڑھی ہوئی تھی۔میں نے کھڑکی کھولی۔ میں گلاپھاڑ کرچلایا۔’’ٹیرٹ! ٹیرٹ!‘‘ گلی ویران تھی اور اس کا نام گونج رہا تھا۔مجھے لگ رہا تھا کہ پورے علاقے مین یہ نام گونج رہا ہے۔

 لوکی میرے پاس آکر کھڑی ہو گئی۔وہ بھی چلائی۔’’ٹیرٹ! ٹیرٹ!‘‘ یہ ایک بچگانہ حرکت تھی جس پرہمیں ہنسی آگئی،لیکن مجھے یقین تھا کہ یہ شخص سن کر سامنے آجائے گااور پھرہم گلی میں پھرنے والے ان تمام مردوں کو پھر سے زندہ کریں گے۔کچھ دیربعد ہوٹل کاگارڈ آیااوردروازے پردستک دی ۔اس نے مری ہوئی آواز میں کہا۔’’براہِ مہربانی شور مت مچائیں۔‘‘ ہمیں اس کے نیچے جاتے ہوئے بھاری قدم سنائی دے رہے تھے۔اس دن کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ ٹیرٹ کی طرح گارڈ بھی ’’گمشدہ‘‘ ہے اور یہ دونوں سامان سے آراستہ فلیٹ میں چھپے ہوئے ہیں۔

میں کمرے سے نیچے جاتے اورواپس اوپرآتے ہوئے ہربار اس بارے میں سوچتا تھا۔لوکی نے بتایا کہ شادی سے پہلے وہ بھی اس علاقے کے مختلف ہوٹلوں میں رہتی رہی تھی۔پہلے شمال کی جانب رُودے ارمائی میں،پھر رُودے اٹوائل میں۔ان دنوں ضرورہم دونوں ایک دوسرے کے پاس سے گزرے ہوں گے اورہمیں پتا بھی نہ لگا ہو گا۔

ــــ

مجھے وہ رات یاد ہے جب اس نے اپنے شوہر کے پاس نہ جانے کافیصلہ کیا تھا۔اس دن کونڈے میں اس نے میراآدم اورعلی شریف سے تعارف کروایاتھا۔ ذکارایس نے مجھے جو ٹائپ رائٹر دیاتھا میں اسے ٹھیک کر رہا تھا۔ میں’’معلق علاقوں میں‘‘ لکھنا چاہتاتھا۔

میں نے اپنے کمرے میں پچ پائن کی لکڑی سے بنی میز پر ٹائپ رائٹر رکھا۔میں نے اپنے ذہن میں شروعاتی جملہ سو چا ہواتھا۔ ’’معلق علاقوں کا کم از کم ایک فائدہ تو ضرور ہے:وہ ایک نقطۂ آغازہوتے ہیں اور ہم جلدیابدیر انھیں چھوڑ یتے ہیں۔‘‘ میں اس بات سے آگاہ تھا کہ ایک بارمیں ٹائپ رائٹر کے سامنے لکھنے بیٹھ گیاتو ہرچیز لکھنااتنا آسان نہیں ہوگا۔عین ممکن ہے کہ میں یہ پہلا جملہ بھی کاٹ دوں اوراس سے اگلابھی۔ لیکن پھر بھی میں ہمت اورعزم سے بھرا ہواتھا۔

اس رات اُسے آٹھ بجے نوئی میں کھانے کی میز پر ہونا تھا لیکن وہ ابھی بھی میرے کمرے میں بستر پر تھی۔حتّٰی کہ اس نے سائیڈ ٹیبل لیمپ بھی بند نہیں کیا تھا۔آخر کارمیں نے اسے بتایا کہ وقت ہو گیا ہے۔

’’کس چیزکاوقت؟‘‘

میں اس کی آوازسے سمجھ گیاتھا کہ اب وہ کبھی بھی سیبلون کی میٹرونہیں لے گی۔ہم دونوں کافی دیرتک خاموش رہے۔میں ٹائپ رائٹر کے سامنے بیٹھ گیااورآرام آرام سے بٹنوں پر انگلیاں مارنے لگا۔

’’ہم فلم دیکھنے جا سکتے ہیں۔‘‘اس نے کہا۔’’ایسے کچھ وقت گزر جائے گا ۔‘‘

دکان پر ایک سبز الماری میں کتاب ’’ خوبصورت موسم گرما‘‘رکھی ہوئی تھی۔ ہاں، یہ ایک خوبصورت موسم گرما تھا کیونکہ یہ لامحدود تھا۔

ہمیں بس نیچے اترکرسڑک پارکرناتھی اورسامنے سٹوڈیواو بلی گاڈوسینماتھا۔اس شام ہم دونوں نے ایک پل کے لیے بھی فلم پردھیان نہ دیا۔میرے خیال سے اتنے لوگ بھی نہیں تھے۔وہ عجیب شخص جسے عدالت نے ’’گمشدہ‘‘ قراردے دیاتھا؟ اورہم دونوں کیا تھے؟ میں باربار اس کی طرف دیکھتارہا۔وہ  پردے پرنہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کا سر نیچے تھا اوروہ خیالوں میں گم تھی۔مجھے ڈرتھا کہ وہ اٹھے گی اورواپس نوئی چلی جائے گی۔ لیکن نہیں،وہ فلم کے خاتمے تک بیٹھی رہی۔

سینماسے باہرآکروہ پرسکون دکھائی دے رہی تھی۔اس نے بتایا کہ اب واپس جانے کے لیے دیرہوگئی ہے۔اس کے شوہرنے دوستوں کوبھی کھانے پر مدعوکیا ہواتھا۔گھرواپسی کاقصہ وہیں تمام ہوا۔ اب وہ نوئی میں کبھی بھی رات کاکھانا کھانے والی نہیں تھی۔

ہم میرے کمرے میں نہیں گئے۔ معلق علاقے میں آوارہ گردی کرتے رہے جہاں ہم نے کافی عرصے سے پناہ لی ہوئی تھی۔وہ مجھے وہ تمام ہوٹل دکھاناچاہتی تھی جہاں جہاں وہ رہ چکی تھی۔اس رات اس نے مجھے جوکہا تھامیں وہ یادکرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ سب گڈمڈ ہوگیا ہے۔ صرف چند خاکے ہیں(یادوں کے)۔ وہ یادیں جومیں بھول چکا ہوں انھیں یادکرنے کے لیے اب بہت دیر ہوچکی ہے۔

 اس نے کم عمری میں ہی اپنی ماں اوراس علاقے کوچھوڑ دیا تھا جہاں وہ رہتے تھے۔ اس کی ماں مرچکی تھی۔ اس کی اس زمانے میں ایک دوست بھی تھی جس سے وہ وقتاً فوقتاً ملتی رہتی تھی۔ اس کا نام جینیٹ گول تھا۔ دوتین مرتبہ، ہم نے میرے ہوٹل کے پاس رُودے ارجنٹائن میں ایک ریستوران میں جینیٹ گول کے ساتھ رات کا کھانا بھی کھایا تھا۔ وہ سنہری بال اور نیلی آنکھوں والی لڑکی تھی۔ لوکی نے بتایا کہ اس کے دبلے چہرے اور پیچ و خم والے جسم کے تضاد کی وجہ سے لوگ اسے سوکھی کہتے تھے۔

ان دنوں وہ زندگی کے اس حصے میں تھی جب جوانی ہر چیز کا بھر پور مقابلہ کرتی ہے۔ کوئی بھی چیز ہ چاہے بے خوابی ہویا ’’برف‘‘، اس کے بقول اسے متاثر نہیں کر پائی تھی۔

 بعدمیں جینیٹ گول اس سے ہوٹل روسیلس میں ملنے بھی آتی تھی۔مجھے اس وقت خبردار ہوجانا چاہیے تھاکیونکہ جب میں کمرے میں داخل ہواتھا ایتھر کی ناخوشگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔

پھرایک دن میں نوٹرے ڈیم کے پاردریاکے کنارے اُن کے انتظارمیں ایک استعمال شدہ کتابوں کی روشن اورہوادار دکان پرکتابیں کھنگال رہاتھا۔جینیٹ گول نے بتایاتھا کہ اسے رودیس گرانز ڈیکرس پر کسی سے ملنا تھا جو ’’برف‘‘ لے کر آرہا تھا۔ برف کہتے ہوئے اس کے دانت نکل رہے تھے، پھر تھابھی جولائی کامہینہ۔ دکان پر ایک سبز الماری میں کتاب ’’ خوبصورت موسم گرما‘‘رکھی ہوئی تھی۔ ہاں،یہ ایک خوبصورت موسم گرماتھا کیونکہ یہ لامحدود تھا۔ میں نے انھیں دریاکے ساتھ فٹ پاتھ پرآتے ہوئے دیکھا۔لوکی نے مجھے دیکھ کرہاتھ ہلایا۔ وہ اس دھوپ میں خاموشی سے چلتے ہوئے میری طرف آرہے تھے۔ میں اکثر خواب میں دیکھتا ہوں کہ وہ دونوں اسی اندازمیں سینٹ جولین لے پوورے کی جانب سے آرہے ہیں۔میرے خیال سے اس شام میں خوش تھا۔

میں سمجھ نہیں سکاکہ وہ کیوں جینٹ کوسوکھی کہتے تھے۔اس کے گالوں کی اٹھی ہوئی ہڈی اورترچھی آنکھوں کی وجہ سے؟پھربھی اس کے چہرے پر کہیں بھی موت کے آثارنہیں تھے۔ ان دنوں وہ زندگی کے اس حصے میں تھی جب جوانی ہر چیز کا بھر پور مقابلہ کرتی ہے۔ کوئی بھی چیز ہ چاہے بے خوابی ہویا ’’برف‘‘، اس کے بقول اسے متاثر نہیں کر پائی تھی۔ لیکن کب تک؟مجھے اس کی زیادہ پروا کرنی چاہیے تھی۔ لوکی نہ اسے کونڈے لے کر جاتی تھی اورنہ گائی دے ویرکے لیکچر میں،جیسے کہ وہ اس کاکوئی رازہو۔ میں نے اپنی موجودگی میں صرف ایک باران دونوں کو اپنے مشترکہ ماضی کے بارے میں بات چیت کرتے دیکھاتھا تو اوروہ بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں۔ مجھے لگتا تھا کہ ان دونوں کے کافی سارے راز تھے۔

میں نے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ لا پرگولا دوسرے کیفوں کے جیسا نہیں تھا،یہاں مشکوک لوگ آتے تھے اور وہ اس علاقے میں پھرنے والے سٹوڈنٹس اور آوارہ منش لوگوں سے دور رہتے تھے۔

ایک مرتبہ،نومبرکے ایک دن شام کے چھ بجے جب رات چھا چکی تھی، ہم میبلون میں میٹرو سے باہر نکلے توا س نے لاپرگولا کی بیرونی بڑی کھڑکی کے ساتھ بیٹھے کسی شناسا چہرے کو دیکھا۔ وہ ذرا سہم گئی۔ وہ پچاس کے پیٹے میں سنجیدہ چہرے اور چمکدار بالوں والا شخص تھا۔ وہ تقریباً ہماری طرف ہی منہ کر کے بیٹھا تھا اور میں آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ لیکن میرے خیال میں وہ اپنے ساتھ بیٹھے کسی شخص سے بات کر رہاتھا۔ وہ مجھے بازو سے پکڑ کر رُودے فور کی دوسری طرف لے گئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس شخص کو جینیٹ گول کے توسط سے جانتی تھی اور حلقہ9میں اس کا ایک ریسٹورنٹ تھا۔و ہ وہاں بائیں کنارے سے اسے دیکھنے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ وہ کافی پریشان نظر آرہی تھی۔

 

اس نے لفظ ’’بایاں کنارہ‘‘ ایسے استعمال کیا تھا جیسے دریائے سین کوئی آہنی پردہ تھا او رشہر کو دو حصوں میں تقسیم کر رہا تھا اور لاپر گولا پر بیٹھے اس شخص نے کسی طرح وہ پردہ عبور کر لیا تھا۔ وہ اس کی موجودگی سے واقعی پریشان تھی۔ میں نے اس سے اس شخص کا نام پوچھا۔ موچے لینی۔ وہ اس سے کیوں ڈر رہی تھی؟ اس نے کوئی واضح جواب نہ دیا۔ سادہ سی بات یہی ہے کہ اس شخص سے وابستہ نا خوشگوار یا دیں ہوں گی۔ جب وہ کسی سے ناطہ توڑتی تھی تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیتی تھی، جیسے کہ وہ اس کے لیے مر گئے ہوں۔ اگر کسی وجہ سے یہ شخص زندہ تھا اور ممکن تھا کہ اس سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو بہتر یہی تھا کہ اب کسی اور علاقے میں منتقل ہو ا جائے۔

میں نے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ لا پرگولا دوسرے کیفوں کے جیسا نہیں تھا،یہاں مشکوک لوگ آتے تھے اور وہ اس علاقے میں پھرنے والے سٹوڈنٹس اور آوارہ منش لوگوں سے دور رہتے تھے۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اس شخص موچے لینی کو حلقہ۔ ۹سے جانتی تھی۔میں سمجھ گیا تھا، لا پر گولا ایک طرح سے پگال کی توسیع تھی اور پگال سینٹ جر مین داپرے میں تھا اور کوئی یہ بات نہیں جانتا تھا۔ ہم لا پرگولا سے بیچنے کے لیے مخالف سمت والے فٹ پاتھ پر چل سکتے تھے اور کسی اور جگہ منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔

میں اسے مزیدمعلومات کے لیے مجبورکرسکتاتھالیکن میں جانتاتھا کہ اس کار ردِّعمل کیاہوگا، وہ بھی اگراس نے کوئی ردِّعمل دیاتو۔

 

میں نے بچپن اور لڑکپن کے دنوں میں کئی موچے لینی دیکھے تھے اورسالوں بعد ہم ان کے بارے میں یہی سوچتے ہیں کہ پتا نہیں وہ کس دھندے میں ملوث تھے۔ کیا میں نے اپنے باپ کو بھی ایسے لوگوں کی صحبت میں نہیں دیکھا تھا؟ میں اس والے موچے لینی کے اندرجھانک سکتا تھا۔لیکن اس کافائدہ کیا ہوتا؟ مجھے لوکی کے بارے میں کچھ بھی ایسا نہ پتاچلتا جو میں پہلے سے نہیں جانتاتھا۔ کیاہم سے ان کرداروں کے بارے میں بھی بازپرس کی جا سکتی ہے۔ جو ہمارے انتخاب کیے بغیر ہماری زندگیوں میں اس وقت آتے ہیں جب ہم بڑے ہورہے ہوتے ہیں؟ کیامیں اپنے باپ اوران مشکوک لوگوں کے لیے ذمہ دارہوں جوہوٹلوں کی راہداریوں یا کیفوں کے عقبی کمروں میں اس کے کان میں سرگوشیاں کرتے تھے اورمیں کبھی نہ جان پایا کہ ان کے سوٹ کیسوں میں کیاتھا؟

بلکہ وہ روزمرہ کی زندگی سے فرار چاہتی  تھی، جتنا ہو سکتا تھا اس سے دور چلی جانا چاہتی تھی اور اس زندگی سے ناطہ توڑ لینا چاہتی تھی تا کہ وہ کھل کر سانس لے سکے۔

اس شام کی ناخوشگوار مڈ بھیڑ کے بعد ہم سینٹ جرمین کی طرف جانے والے راستے پر چلتے رہے۔ جب ہم ویگابُک سٹور میں داخل ہوئے تو وہ پرسکون دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے پاس کچھ کتابوں کے نام تھے جو گائی دے ویر نے تجویز کی تھیں۔ میرے پاس بھی وہ فہرست تھی۔ جو بھی لیکچر میں جاتا تھا وہ اسے فہرست دیتاتھا۔ ’’انھیں ایک ساتھ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ کہا کرتا تھا۔ ’’بلکہ ایک کتاب لے لو اور ہر رات سونے سے پہلے ایک صفحہ پڑھ لو۔‘‘

یہ ہلکے سبز سرورق والے چھوٹے چھوٹے کتابچے تھے۔ پہلے پہل رُودے ارجنٹائن پر واقع میرے ہوٹل میں ہم باری باری اونچی آواز میں انھیں پڑھتے۔ یہ ایک طرح کا نظم و ضبط تھا جو ہمیں ترغیب دیتا تھا۔ میرا نہیں خیال کہ ہم ان کتابوں کو ایک ہی انداز سے پڑھتے تھے۔ وہ ان کتابوں میں زندگی کا معنی تلاش کرتی تھی جبکہ میں لفظوں کے ترنم اور جملوں کے نغموں کا متلاشی تھا۔

اس شام وہ ویگا بک سٹور پر موچے لینی اور ا س کی وجہ سے یاد آنے والی بری یادوں کو بھول چکی تھی۔ اب جب میں ماضی کے بارے میں سوچتا ہوں تو پتا چلتا ہے کہ ان ہلکے سبز رنگ کے کتابچوں اور لوئیس کی سوانح پڑھنا صرف اس کی عادت نہیں تھی۔بلکہ وہ روزمرہ کی زندگی سے فرار چاہتی  تھی، جتنا ہو سکتا تھا اس سے دور چلی جانا چاہتی تھی اور اس زندگی سے ناطہ توڑ لینا چاہتی تھی تا کہ وہ کھل کر سانس لے سکے۔

میں ان جذبات کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ میرے کندھوں پر بھی بری یادوں کا بوجھ تھا،میرے ارد گرد بھی اذیت ناک کرداروں کے سائے منڈلاتے تھے اور میں امید کرتاتھا کہ ایک دن میں انھیں کہوں گا کہ ’’بھاڑ میں جاؤ‘‘ اور زندگی میں آگے بڑھ جاؤ ں گا۔

پھر وقتاً فوقتاً اسے دورے بھی پڑتے تھے یہ سوچ کر کہ وہ تمام برے لوگ جنھیں وہ پیچھے چھوڑ آئی تھی ایک دن اسے ڈھونڈلیں گے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے پر باز پرس کریں گے۔ تو اس امید کے ساتھ ان بلیک میلروں سے چھپنا ضروری تھا کہ ایک دن آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کی پہنچ سے دور نکل جائیں گے۔ اوپر کہیں پہاڑوں پر تازہ ہوا میں۔ یا سمندر کی نمکین ہوا میں۔ میں ان جذبات کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ میرے کندھوں پر بھی بری یادوں کا بوجھ تھا،میرے ارد گرد بھی اذیت ناک کرداروں کے سائے منڈلاتے تھے اور میں امید کرتاتھا کہ ایک دن میں انھیں کہوں گا کہ ’’بھاڑ میں جاؤ‘‘ اور زندگی میں آگے بڑھ جاؤ ں گا۔

 

میں نے اسے بتایا کہ فٹ پاتھ تبدیل کرنا بیوقوفی ہے۔ میں نے اسے منا لیا۔ اس کے بعد سے ہم جب بھی میبلون میں میٹرو سے اترتے تو لاپر گولا سے بچنے کی کوشش نہ کرتے۔ ایک رات میں اسے کھینچ کر کیفے میں بھی لے گیا۔ ہم ڈٹ کر بار پر کھڑے ہو گئے اور موچے لینی کا انتظار کرنے لگے اور ساتھ ہی ماضی کے سایوں کا۔جب وہ میرے ساتھ ہوتی تھی تو اسے کسی چیز کا ڈر نہ ہوتا تھا۔

بھوتوں کو بھگانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جائے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اس کی خود اعتمادی بحال ہو رہی تھی لیکن مجھے یہ بھی شک تھا کہ موچے لینی کو دیکھتے ہی وہ دبک جائے گی۔ میں نے اسے ایک منتر بتایا جو میں بھی بچپن سے استعمال کر رہا تھا۔

بھوتوں کو بھگانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جائے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اس کی خود اعتمادی بحال ہو رہی تھی لیکن مجھے یہ بھی شک تھا کہ موچے لینی کو دیکھتے ہی وہ دبک جائے گی۔ میں نے اسے ایک منتر بتایا جو میں بھی بچپن سے استعمال کر رہا تھا۔ کسی بھی صورتحال میں اسے مکمل اعتماد کے ساتھ کہتا تھا۔ ’’میں ڈرتی نہیں ہو ں جناب۔میں وہ نہیں ہو ں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ معاف کیجئے گا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘

ہم ہر شام موچے لینی کے انتظارمیں وقت ضائع کرتے۔ اس دن بعد وہ کبھی اس کیفے میں نظر نہ آیا۔

ــــ

وہ فروری جب اس نے اپنے شوہر کے پاس جاناچھوڑدیاتھا رُودے ارجنٹائن میں بے تحاشابرف باری ہوئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم الپائن لاج میں آ گئے ہیں۔مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ معلق علاقے میں رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ سچ کہوں تو مرکز کی طرف منتقل ہونے کی معقول وجہ تھی۔ گومیں پیرس کی کافی گلیوں کو دیکھ چکاتھا لیکن رُودے ارجنٹائن کی خاص بات یہ تھی کہ یہ جس حلقے میں تھا اس سے جڑا ہوا ہی نہیں تھا۔ یہ سب سے الگ تھلگ تھا؛ سب سے کٹا ہوا۔

 

اتنی زیادہ برفباری ہو نے کی وجہ سے خلا کے دوسری طرف راستہ کھل گیا تھا۔ مجھے پیرس کی ان گلیوں کی فہرست ڈھونڈناتھی جونہ صرف معلق علاقوں میں تھیں بلکہ وہ بلیک ہول بھی تھیں۔ یا پھر وہ ڈارک میٹر سے بنی تھیں جن میں جا کر ہر چیز غائب ہو جاتی ہے اور وہ الٹروائلٹ ،انفراریڈ اور ایکس رے کو بھی جھیل سکتی ہیں۔ویسے بھی آخر میں ڈارک میٹر ہم سب کو نگل جائے گا۔

ذاتی طور پر میں دریاکی دوسری طرف حلقہ۔۶ میں جانے سے ڈر رہا تھا۔وہاں میں نے لڑکپن گزارا تھا۔بے شمار دردبھری یادیں تھیں۔

وہ اپنے شوہر کے رہائشی علاقے کے قریب نہیں رہنا چاہتی تھی۔وہ جگہ صرف دو میٹروسٹیشن کے فاصلے پر تھی۔وہ کونڈے اورگائی دے ویر کے فلیٹ کے پاس دریاکے بائیں کنارے کی طرف ہوٹل ڈھونڈ رہی تھی۔اس طرح وہ پیدل چل کر پہنچ سکتی تھی۔

ذاتی طور پر میں دریاکی دوسری طرف حلقہ۔۶ میں جانے سے ڈر رہا تھا۔وہاں میں نے لڑکپن گزارا تھا۔بے شمار دردبھری یادیں تھیںلیکن اب اس بات کاکوئی فائدہ نہیں کیونکہ اب وہاں کی گلیوں میں مہنگی چیزوں کی دکانیں اورغیرملکیوں کے خریدے ہوئے فلیٹ تھے۔اس تبدیلی سے پہلے میں وہاں جاکر اپنے بچپن میں جھانک سکتا تھا۔ وڈوفائن کے خستہ حال ہوٹل، اتوارکے سکول کا ہال؛کیفے اودے اون جہاں ایک امریکی بھگوڑا فوجی دونمبر کام کرتا تھا؛ویر گالان کی جانب جانے والی سیاہ سیڑھیاں اور رمومزارین کی گندی سی دیوارپر لکھی ہوئی ایک تحریر میں ہربار سکول جاتے ہوئے پڑھتا تھا:’’بیوقوف ہی نوکری کرتے ہیں۔‘‘

اس نے مونٹ پارنس کی طرف ذراجنوب کی طرف ایک کمرہ کرائے پرلے لیا۔میں اٹوائل میں ہی ٹھہرارہا۔میں بائیں کنارے پرماضی کے بھوتوں کاسامنا نہیں کرنا چاہتاتھا۔ کونڈے اور ویکایک سٹور کے علاوہ میں وہاں زیادہ وقت گزارنا نہیں چاہتاتھا۔

ــــ

پھر پیسوں کا مسئلہ بھی تھا۔اس نے سمورکا بناہوا ایک کو ٹ بیچ دیا تھا جوشاید اس کے شوہر نے تحفے میں دیا تھا۔اس کے پاس اب صرف ایک ہلکی سی برساتی رہ گئی تھی جوسردی کامقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔اس نے ’’ضرورت اشیاء‘‘ کا اشتہار پڑھاتھا۔جیسے کہ اس نے شادی سے پہلے پڑھا تھا۔اس کے علاوہ وہ اوٹوائے میں ایک مکینک سے ملنے جاتی تھی جو کہ اس کی ماں کا پرانا دوست تھا اور اس کی مدد کرتا تھا۔ ان دنوں میں جس نوعیت کا کام کرتا تھا وہ بتاتے ہوئے میں شرمندگی محسوس کر رہا ہوں۔ لیکن سچ کیوں چھپائیں؟

ذاتی طور پر میں دریاکی دوسری طرف حلقہ۔۶ میں جانے سے ڈر رہا تھا۔وہاں میں نے لڑکپن گزارا تھا۔بے شمار دردبھری یادیں تھیں۔

وہ اپنے شوہر کے رہائشی علاقے کے قریب نہیں رہنا چاہتی تھی۔وہ جگہ صرف دو میٹروسٹیشن کے فاصلے پر تھی۔وہ کونڈے اورگائی دے ویر کے فلیٹ کے پاس دریاکے بائیں کنارے کی طرف ہوٹل ڈھونڈ رہی تھی۔اس طرح وہ پیدل چل کر پہنچ سکتی تھی۔

ذاتی طور پر میں دریاکی دوسری طرف حلقہ۔۶ میں جانے سے ڈر رہا تھا۔وہاں میں نے لڑکپن گزارا تھا۔بے شمار دردبھری یادیں تھیںلیکن اب اس بات کاکوئی فائدہ نہیں کیونکہ اب وہاں کی گلیوں میں مہنگی چیزوں کی دکانیں اورغیرملکیوں کے خریدے ہوئے فلیٹ تھے۔اس تبدیلی سے پہلے میں وہاں جاکر اپنے بچپن میں جھانک سکتا تھا۔ وڈوفائن کے خستہ حال ہوٹل، اتوارکے سکول کا ہال؛کیفے اودے اون جہاں ایک امریکی بھگوڑا فوجی دونمبر کام کرتا تھا؛ویر گالان کی جانب جانے والی سیاہ سیڑھیاں اور رمومزارین کی گندی سی دیوارپر لکھی ہوئی ایک تحریر میں ہربار سکول جاتے ہوئے پڑھتا تھا:’’بیوقوف ہی نوکری کرتے ہیں۔‘‘

اس نے مونٹ پارنس کی طرف ذراجنوب کی طرف ایک کمرہ کرائے پرلے لیا۔میں اٹوائل میں ہی ٹھہرارہا۔میں بائیں کنارے پرماضی کے بھوتوں کاسامنا نہیں کرنا چاہتاتھا۔ کونڈے اور ویکایک سٹور کے علاوہ میں وہاں زیادہ وقت گزارنا نہیں چاہتاتھا۔

ــــ

پھر پیسوں کا مسئلہ بھی تھا۔اس نے سمورکا بناہوا ایک کو ٹ بیچ دیا تھا جوشاید اس کے شوہر نے تحفے میں دیا تھا۔اس کے پاس اب صرف ایک ہلکی سی برساتی رہ گئی تھی جوسردی کامقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔اس نے ’’ضرورت اشیاء‘‘ کا اشتہار پڑھاتھا۔جیسے کہ اس نے شادی سے پہلے پڑھا تھا۔اس کے علاوہ وہ اوٹوائے میں ایک مکینک سے ملنے جاتی تھی جو کہ اس کی ماں کا پرانا دوست تھا اور اس کی مدد کرتا تھا۔ ان دنوں میں جس نوعیت کا کام کرتا تھا وہ بتاتے ہوئے میں شرمندگی محسوس کر رہا ہوں۔ لیکن سچ کیوں چھپائیں؟

رودے ساگون جہاں میرا ہوٹل تھا وہیں بیروبدوان نامی ایک شخص رہتا تھا۔اس کے فلیٹ میں ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں۔ ہماری اکثر مڈبھیڑ ہوتی تھی اور مجھے یاد نہیں کہ ہم نے پہلی بارکب بات چیت کی تھی۔ وہ ایک مشکوک نظر آنے والا شخص تھا جس کے بال گھنگریالے تھے اوراچھے کپڑے پہنتا تھا اورایسا دکھائی دیتا تھا کہ اسے دنیا سے کچھ لینا دینا نہیں۔ایک شام جب پیرس میں برف گررہی تھی تو وہ اورمیں رودے ارجنٹائن میں ایک کیفے پر ایک دوسرے کے ساتھ والی میز پر بیٹھے تھے۔ اس نے جب وہی عامیانہ سا سوال پوچھا کہ تم کیاکرتے ہوتومیں نے اسے بتایاکہ میں لکھاری بنناچاہتاہوں۔ بیرو بدوان کی بات کی جائے تو مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیاکرتا ہے۔ اس شام میں اس کے ساتھ اس کے’’دفتر‘‘ تک گیا۔ ’’میر ادفتر پاس ہی ہے۔‘‘اس نے بتایا تھا ۔

 

برف پر ہمارے پاؤں نشان چھوڑ رہے تھے۔ رو شالگرین تک ہم سیدھا چلتے رہے۔ عرصے بعد میں نے ڈائریکٹری سے پتا لگا یاکہ بیرو بدوان کا دفتر کہاں واقع تھا۔بعض اوقات آپ کو ماضی کے کچھ لمحات یاد آتے ہیں تو تصدیق کے لیے آپ ثبوت دیکھتے ہیں کہ کہیں وہ لمحے خواب تونہیں تھے۔ روشالگرین نمبر14۔ وہاں ’’فرانس کے کمرشل پبلشر‘‘ کا دفتر تھا۔ یہی جگہ تھی۔ اب مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ جا کر پتا لگاؤں کہ کیا یہ وہی عمارت ہے۔ اب کافی عمر گزر چکی ہے۔ اس نے مجھے اپنے دفتر میں آنے کی دعوت نہ دی لیکن اگلے دن دوبارہ ہم اسی وقت اسی جگہ پر ملے۔ اس نے مجھے کام کی پیشکش کی۔

لیکن اس وقت میں کم عمر تھا اوراس عمر میں آپ زیادہ سوال نہیں کرتے۔آپ بس زندگی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

وہ کچھ کمپنیوں کی اشتہار بازی کا کام کرتا تھا اور اس مقصد کے لیے اس نے مجھے کچھ اشتہار لکھنے کا کہا تا کہ بعد میں انھیں پرنٹ کیا جا سکے۔ مجھے بدلے میں پانچ ہزار فرانک ملنے تھے۔ تحریر اس کے نام سے چھپنی تھی۔ مجھے بس یہ اس کے لیے لکھ کر دینے تھے۔ اس نے مجھے تمام معلومات مہیا کیں۔ یوں میں نے درجن بھر مختصر تحریریں لکھیں۔ اس کے علاوہ میں نے کچھ مونو گراف بھی لکھ دیے۔ میں جب بھی میز پر لکھنے بیٹھتا تو مجھے ڈر لگتا کہ اکتاہٹ سے نیند نہ آجائے۔ لیکن یہ آسان کام تھا ۔ بیروبدوان کی طرف سے مہیا کی گئی معلومات کو تبدیل کر کے لکھنا تھا۔

میں اس وقت بہت حیران ہواجب وہ مجھے ’’فرانس کے کمرشل پبلشر‘‘ کے دفتر لے گیا۔یہ پہلی منزل پر بغیر کھڑکی والا ایک کمرہ تھا۔ لیکن اس وقت میں کم عمر تھا اوراس عمر میں آپ زیادہ سوال نہیں کرتے۔آپ بس زندگی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ دوتین ماہ بعد میرا پبلشر سے رابطہ ختم ہو گیا۔اس نے مجھے طے شدہ رقم کا نصف دیا لیکن میرے لیے وہ رقم کافی تھی۔ شاید ایک دن،شایدکل، مجھ میں اتنی ہمت آجائے گی کہ رودے ساگون اورروشالگرین کے روحانی سفرپرنکل جاؤں ۔یہ دونوں علاقے معلق علاقے تھے جہاں سے ان سردیوں میں بیروبدوان اور’’فرانس کے کمرشل پبلشر‘‘ برف کی طرح بھاپ بن کر اڑ گئے تھے۔ لیکن جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں تو ذرا بھی ہمت نہیں ہوتی۔ حتّٰی کہ میں سوچتاہوں کہ کیا وہ گلیاں ابھی بھی موجود ہیں،یا ڈارک میٹرنے انھیں بھی ہڑپ کرلیاہے۔

 

ــــ

رات کے دس بجے جب ہم شانزے لیزے کی طرف جار ہے تھے تومیں سوچ رہا تھا کہ کیارات ہو گئی یا ہم روس اور شمالی ملکوں کی طرح آدھی رات کے سورج کا نظارہ کر رہے تھے؟

جلدہی میں بہار کی ایک شام شانز ا پیلنسر میں چہل قدمی کرنے جاؤں گا۔وہ تمام چیزیں اب نہیں ہیں لیکن ان کی موجودگی کا احساس ہوتاہے۔شاید شانز ا پیلنسر کے پاس مجھے اس کی آوازسنائی دے کہ وہ میرانام پکارر ہی ہے۔ جس دن تم نے سموروالا کوٹ اورزمرد بیچا تھا اس وقت میرے پاس دو ہزار فرانک بچے ہوئے تھے۔ یہ پیسے مجھے بیروبدوان سے ملے تھے۔ اس دن ہم امیر تھے۔ مستقبل ہمارے ہاتھ میں تھا۔ اس شام تم مجھ پر مہربان تھیں اورمجھ سے ملنے اٹوائل آئی تھیں۔ موسم گرما وہی موسم گرما جس میں تم، میں اورجینیٹ گول دریا کے کنارے ملے تھے اورتم دونوں میری طرف چل کر آ رہے تھے۔

پھر ہم ریستوران پر گئے تھے۔ انھوں نے فٹ پاتھ پر میز میں رکھی ہوئی تھیں۔ دن کا وقت تھا۔ٹریفک کا رش کم ہو گیا تھا اورآوازوں کی بھنبھناہٹ اورقدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ رات کے دس بجے جب ہم شانزے لیزے کی طرف جار ہے تھے تومیں سوچ رہا تھا کہ کیارات ہو گئی یا ہم روس اور شمالی ملکوں کی طرح آدھی رات کے سورج کا نظارہ کر رہے تھے؟ پوری رات پڑی تھی اور ہم بے مقصد آوارہ گردی کر رہے تھے۔ رُودے ریولی عمارت کی محرابوں پر ابھی بھی کہیں کہیں سورج کی کرنیں پڑ رہی تھیں۔

 

موسم گرماکا آغازتھا اورہم جلدہی  یہاں سے چلے جانے والے تھے۔کہاں جاناتھا؟ہم ابھی نہیں جانتے تھے۔سپین یامیکسیکو۔شایدلندن یا روم۔جگہ کا انتخاب اتنا اہم نہیں تھا کیونکہ وہ سب جگہیں آپس میں گڈ مڈ ہو چکی تھیں۔ ہمارے سفر کا مقصد ایک ایسی جگہ پہنچنا تھا جہا موسم گرما کا بھر پور مزہ لیا جا سکے ؛جہاں سمے ٹھہر جائے اور گھڑی کی سوئیاں ایک ہی وقت دکھائیں:دوپہر کے بارہ بجے۔

وہاں گلیاں اتنی سنسان تھیں کہ لگتاتھا کہ کوئی نہیں رہتا۔ ایک عمارت کی تیسری منزل پر دو لڑی روشن کھڑکیاں دکھائی دیں۔ ہم کھڑکیوں کی مخالف سمت میں ایک بنچ پر بیٹھ گئے اور کھڑکیوں کو گھورنے لگے۔

جس وقت ہم پالے رائل پہنچے تورات ہو چکی تھی۔ہم کچھ دیر کے لیے رُوک یونیورس کے صحن میں رک گئے۔ایک کتا مسلسل ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔ پھر وہ چرچ میں داخل ہو گیا۔ ہمیں ذرا بھی تھکا وٹ نہیں تھی اور لوکی کا کہنا تھا کہ وہ پوری رات چل سکتی ہے۔ ہم آرسنل سے پہلے ایک معلق علاقے سے گزر رہے تھے۔ وہاں گلیاں اتنی سنسان تھیں کہ لگتاتھا کہ کوئی نہیں رہتا۔ ایک عمارت کی تیسری منزل پر دو لڑی روشن کھڑکیاں دکھائی دیں۔ ہم کھڑکیوں کی مخالف سمت میں ایک بنچ پر بیٹھ گئے اور کھڑکیوں کو گھورنے لگے۔

کمرے کے آخر میں سرخ رنگ کالیمپ تھا جس کی روشنی کھڑکیوں پرپڑ رہی تھی ۔بائیں دیوارپرلکڑی کے سنہری فریم والا شیشہ لگا ہوا تھا۔ باقی دیواریں خالی تھیں۔ میں نے ایک سوراخ میں سے کھڑکی کے دوسری طرف دیکھا تو بظاہر وہاں کوئی نہ تھا۔ نہیں معلوم وہ بیٹھک تھی یا بیڈ روم۔

’’ہمیں گھنٹی بجانی چاہیے۔‘‘لوکی مجھ سے مخاطب ہوئی۔’’مجھے یقین ہے کہ کوئی ہمارا انتظار کر رہاہے۔‘‘

 

بنچ ایسی جگہ رکھتا تھا جہاں دو گلیاں آپس میں مل رہی تھیں۔برسوں بعد میں ٹیکسی میں آرسنل سے گزرتا ہوا دریا کے کنارے جا رہا تھا۔میں نے ڈرائیور کو رکنے کا کہا۔ میں اس بنچ اور اس عمارت کو ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ میں امید کر رہا تھا کہ وہ دو بڑی کھڑکیاں ابھی بھی روشن ہوں گی۔ لیکن میں سلسٹائن بیرک کے گرد تنگ گلیوں میں گم ہو کر رہ گیا۔ اس رات میں نے اسے بتایا تھا کہ گھنٹی بجانے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ گھر پر کوئی بھی نہیں ہو گا۔ پھر ہم بنچ پر سکون سے بیٹھے تھے۔ میں پاس ہی کسی فوارے کی غرغراہٹ بھی سن سکتا تھا۔

’’کیاتمھیں یقین ہے۔‘‘لوکی نے پوچھا۔’’مجھے تو کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ ‘‘

ہم ہی اس فلیٹ کے باشندے تھے۔ہم بتیاں بجھانا بھول گئے تھے اورچابی گم ہو گئی تھی۔شاید وہ کتاہمارا ہی انتظار کر رہاتھا۔ وہ کمرے میں سو گیا تھا اور آخری لمحے تک ہمارا انتظار کرتا رہاتھا۔

بعدمیں اس رات ہم نے شمال کی طرف چلنا شروع کردیا اوربھٹکنے سے بچنے کے لیے ہم نے منزل طے کرلی کہ پلاس دے لاری پبلک تک جائیں گے لیکن ہمیں پتا نہیں تھا کہ ہم اس سمت میں جا رہے تھے۔ لیکن اس بات سے فرق نہیں پڑتاتھا۔اگر ہم بھٹک بھی جاتے تومیٹرو لے کر واپس رودے ارجنٹائن آجاتے۔ لوکی نے بتایا کہ بچپن میں اس نے اس علاقے میں کافی وقت گزارا تھا۔اس کی ماں کے دوست گائی لیوائن کا وہاں پرگیراج تھا۔ ری پبلک کے آس پاس ہی ہم راستے میں آنے والے ہرگیراج پررکتے لیکن وہ گائی لیوائن والاگیراج نہ ہوتا۔ اسے راستہ یادنہیں آ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ گائی لیوائن بھی غائب ہو جائے اگلی باروہ اس سے اٹوائل میں  مل کر اس کے گیراج کا صحیح پتہ پوچھےگی ۔

 

یہ اہم نہیں تھا لیکن اہم لگ ر ہاتھا۔ دوسری صورت میں ممکن تھا کہ وہ جان پہچان والے ایک اورشخص کوکھو دیتی۔اسے یادتھا کہ اس کی ماں اور گائی لیوائن اسے ایسٹر کے بعد آنے والے ہفتے کے روزفیئر دوتھروںمیں میلےپر لے جاتے تھے۔ وہاں ایک ناختم ہونے والے چوراہے پر چلتے تھے جیسے کہ اب ہم چل رہے تھے۔ یہ بھی وہی چوراہا ہوناچاہیے تھا۔لیکن اگر ایسا تھا توا س کا مطلب تھا کہ ہم پلاس دے لاری پبلک سے دور جارہے تھے۔ ان دنوں ہفتے کے روزوہ اپنی ماں اورگائی لیوائن کے ساتھ بوئے دے ونسن تک پیدل چلاکرتی تھی۔

کمرے میں سنگل بیڈ تھا لیکن ہم دونوں کے لیے کافی تھا۔…اس نے میرے کان میں سرگوشی کی: تم ٹھیک کہہ رہے ہو؛ ہمیں ہمیشہ کے لیے یہاں رہنا چاہیے۔

تقریباً آدھی رات ہو چکی تھی اور چڑیا گھر کے دروازے پر پہنچنا عجیب ہوتا۔ ہم اندھیرے میں ہاتھی دیکھ سکتے تھے۔ لیکن ہمارے سامنے ایک کھلی جگہ کے مرکز میں روشنی میں ایک مجسمہ کھڑا تھا۔ یہ پلاس دے لاری پبلک تھا۔ جیسے جیسے ہم قریب پہنچ رہے تھے موسیقی کی آواز تیز ہو رہی تھی۔ کیا وہاں لوگ ناچ رہے تھے؟ میں نے لوکی سے پوچھا کہ کیا چودہ جولائی ہے۔ اسے بھی کچھ پتا نہ تھا۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ہم دونوں کے لیے دن اور رات ایک ہی جیسے تھے۔ موسیقی کی آواز قریب ہی ایک کیفے سے آرہی تھی۔کیفے کی ٹیرس پر کچھ گاہک بیٹھے تھے۔

آخر ی میٹرو کا وقت بھی نکل چکا تھا۔ کیفے کے پیچھے ایک ہوٹل تھا۔ جس کا دروازہ کھلا تھا۔ کالی بڑی سیڑھیوں کے اوپر بلب جل رہا تھا۔ استقبالیہ نے ہما رے نام تک نہ پوچھے۔اس نے بس ہمیں تیسری منزل پر واقع کمرے کا نمبر بتا دیا۔ ’’میرے خیال سے آئندہ سے ہم یہاں رہ سکتے ہیں۔‘‘ میں نے لوکی کو کہا۔

 

کمرے میں سنگل بیڈ تھا لیکن ہم دونوں کے لیے کافی تھا۔ کھڑکی پر پردے یا کواڑ کچھ نہ تھا۔ گرمی کی وجہ سے ہم نے کھڑکی کھلی  رہنے دی۔ نیچے کیفے پر موسیقی بند ہو چکی تھی اور لوگوں کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی۔ اس نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ ’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو؛ ہمیں ہمیشہ کے لیے یہاں رہنا چاہیے۔ ‘‘

کئی سالوں بعدمیں نے گائی دے ویر کوآخری بار دیکھا۔ او دے اون کی طرف جاتی ہوئی گلی کی ڈھلوان پر ایک کار میرے پاس آکر رکی اورکسی نے مجھے میرے سابقہ نام سے پکارا۔ میں مڑنے سے پہلے ہی آواز کو پہچان چکا تھا ۔

مجھے ایسامحسوس ہورہاتھاکہ ہم پیرس سے دوربحیرہ روم کی ایک بندرگاہ پرہیں۔ہرصبح ایک ہی وقت پرہم ساحل پر جانے والے راستے پرچلتے تھے۔ مجھے ابھی تک اس ہوٹل کا پتہ یاد ہے:نمبر 2 رُو دو گرینڈ پر یرے۔ ہوٹل ہائی ورنیا۔ آنے والے تاریک سالوں میں جب بھی کوئی مجھ سے میراپتہ اورفون نمبر پوچھتاتو میں کہتا۔’’آپ مجھے کبھی ہوٹل ہائی ورنیا، نمبر 2 رودو گرینڈ پر یرے کے پتے پر لکھ سکتے ہیں۔ آپ کاپیغام مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔‘‘ مجھے ضروراس ہوٹل میں جاکر ان تمام خطوں کو وصول کرنا چاہیے جو جواب کے لیے میراانتظار کر رہے ہو ں گے ۔ تم نے ٹھیک کہا تھا، مجھے ہمیشہ کے لیے وہاں رہنا چاہیے تھا۔

ــــ

کئی سالوں بعدمیں نے گائی دے ویر کوآخری بار دیکھا۔ او دے اون کی طرف جاتی ہوئی گلی کی ڈھلوان پر ایک کار میرے پاس آکر رکی اورکسی نے مجھے میرے سابقہ نام سے پکارا۔ میں مڑنے سے پہلے ہی آواز کو پہچان چکا تھا ۔ اس نے کار کی کھلی کھڑکی سے سر باہر نکالا ۔ وہ مسکرایا ۔وہ بالکل نہیں بدلاتھا ۔ بس بال ذرا چھوٹے ہو گئے تھے۔

 

 جولائی میں شام کے پانچ بجے کا وقت تھا ۔باہر گرمی تھی ۔ہم بات چیت کے لیے کار کے بونٹ پر بیٹھ گئے۔مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اسے بتاؤں کہ ہم کونڈے سے کچھ ہی فاصلے پر ہیں اور لوکی اس کے اس دروازے سے اندر جاتی تھی جو سائے میں چھپا ہوا تھا ۔ بہر حال، اب اس دروازے کا وجود ہی نہیں ہے۔ اب وہاں ایک دکان ہے جس کی کھڑکی میں مگر مچھ کی کھال کے بیگ ،بوٹ ،کاٹھی (گھڑ سواری کی ) اور گھڑ سوار والی جھڑی رکھی ہوتی تھیں۔ دی پرنس دے کونڈے ۔ چمڑے کی دکان۔

وہ خود کو گُرو یا استاد تصور نہیں کرتاتھا اورنہ ہی اس نے کبھی کسی کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کی تھی۔لوگ خودچل کر اس کے پاس آتے تھے۔

’خیر رولینڈ یہ بتاؤ کہ کیا چل رہا ہے ؟‘‘

یہ ابھی بھی وہی توانااورصاف آوازتھی جس نے ہمارے لیے مشکل سے مشکل تحریرکوبھی سمجھناآسان بنادیاتھا۔مجھے اچھالگا کہ اسے میں اورمیرا نام یادتھا۔ ان دنوں بہت سارے لوگ لیکچر سننے آتے تھے۔ کچھ تجسس کے مارے صرف ایک بارآتے تھے اورکچھ باقاعدگی سے مذہبی جذبے کے ساتھ لوکی کاتعلق مؤخر الذکر گروہ سے تھا۔ میں بھی ۔اس کے باوجود بھی گائی دے ویرکو شاگردوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔وہ خود کو گُرو یا استاد تصور نہیں کرتاتھا اورنہ ہی اس نے کبھی کسی کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کی تھی۔لوگ خودچل کر اس کے پاس آتے تھے۔ کبھی کبھی ہمیں ایسے لگتاتھا کہ وہ بالکل اکیلارہنا چاہتا ہے لیکن وہ آنے والے مہمانوں کو انکارنہیں کرتاتھا خاص طور پر جب ان مہمانوں کو خود کو سمجھنے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی تھی ۔

’’آپ بتائیں کیاآپ واپس پیرس آچکے ہیں؟‘‘

گائی دے ویرنے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا۔

’’تم بالکل نہیں بدلے رولینڈ ۔تم ابھی بھی سوال کا جواب سوال سے دیتے ہو۔ ‘‘

اسے یہ بات بھی یادتھی۔اکثروہ مجھے اس حوالے سے چھیڑتاتھا۔اس نے مجھے کا تھا کہ اگرمیں باکسرہوتا تومخالف کوجھانسہ دینے کاماہر ہوتا۔

’’میں کافی عرصے سے پیرس سے باہرہوں،رولینڈ۔میں میکسیکو میں رہ رہاہو ں۔میں تمھیں اپناپتہ دیتاہوں۔ ‘‘

جس دن میں خواب سے جاگنے کے بعدگائی دے ویرکی رہائش والی عمارت میں پلول زیلی (پودا) دیکھنے گیاتھا تومیں نے امیدنہ ہونے کے باجودبھی استقبالیہ سے گائی دی ویر کاپتہ مانگا تھا ۔ اس خاتون نے جواب دیا تھا۔’’اس نے کوئی پتہ نہیں چھوڑا ۔‘‘میں نے یہ بات اسے بتائی۔

’’تم ناقابل اصلاح ہورولینڈ۔اس وقت تم کافی جوان تھے۔کیا عمرتھی تمھاری؟‘‘

’’بیس سال۔‘‘

 

’’توایسامعلوم ہوتاہے کہ اتنی کم عمرمیں تم پلول زیلی کی تلاش میں تھے۔ایساہی ہے نا؟‘‘

میں نے اس سے پوچھاکہ کیااس کے پاس ابدی واپسی کے موضوع پرکوئی کتاب ہے ۔ ہم اس کے دفترمیں تھے۔ وہ کتابوں کی الماری کھنگالنے لگا۔اس نے کالے اورسفید سرورق والی ایک کتاب نکالی ۔ یہ اس موضوع پر جرمن فلسفی فریڈرک نطشے کی کتاب تھی۔

وہ مسلسل مجھے دیکھ رہاتھا،اس کی نظروں میں اداسی کاتاثر تھا۔ہم دونوں شاید ایک ہی چیز سو چ رہے تھے لیکن ہم دونوں میں لوکی کا نام لینے کی ہمت نہ تھی۔

’’کتنی عجیب بات ہے۔‘‘میں نے اسے بتایا۔’’ ان دنوں لیکچر کے بعدہم اُس کیفے میں جاتے تھے اوراب وہ کیفے نہیں ہے۔‘‘میں نے اسے چندگزکے فاصلے پرموجودچمڑے کی دکان کانام بھی بتایا۔

’’بے شک۔‘‘اس نے جواب دیا۔’’گزشتہ چند برسوں میں پیرس کافی تبدیل ہو گیا ہے۔ ‘‘

وہ بھنویں سکیڑکرمیراجائزہ لے رہا تھا جیسے وہ ماضی کی یادتک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہاہو۔

’’کیا تم ابھی بھی معلق علاقوں پر کام کر رہے ہو ؟‘‘

سوال اتنا اچانک تھا کہ پہلے تو میں سمجھ ہی نہ سکاکہ اس کااشارہ کس طرف ہے۔

’’معلق علاقوں کے حوالے سے تمھاری تحریرکافی دلچسپ تھی۔ ‘‘

اوہ میرے خدا،اس کی یادداشت کتنی تیزتھی۔میں توبھول چکاتھاکہ میں نے اسے یہ تحریرپڑھنے کے لیے دی تھی۔ایک شام لیکچرکے بعدصرف میں اورلوکی اس کے ساتھ تھے۔ میں نے اس سے پوچھاکہ کیااس کے پاس ابدی واپسی کے موضوع پرکوئی کتاب ہے ۔ ہم اس کے دفترمیں تھے۔ وہ کتابوں کی الماری کھنگالنے لگا۔اس نے کالے اورسفید سرورق والی ایک کتاب نکالی ۔ یہ اس موضوع پر جرمن فلسفی فریڈرک نطشے کی کتاب تھی۔ میں اگلے چنددن مکمل توجہ سے یہ کتاب پڑھتارہا۔ میری جیکٹ کی جیب میں معلق علاقوں والی ٹائپ شدہ تحریرکے چندصفحات تھے۔ میں اس کی رائے جاننے کے لیے یہ اسے دیناچاہتا تھالیکن میں ہچکچا رہاتھا ۔ لیکن جب ہم وہاں سے نکل کردروازے کے باہر آئے تو میں نے کچھ کہے بغیر یکدم چند کاغذوں والا وہ لفافہ اسے تھمانے کافیصلہ کیا۔

 

’’ تم علم فلکیات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے تھے۔‘‘ اس نے کہا۔’’ خاص طور پر ڈارک میٹر میں۔ ‘‘

میں نے کبھی نہ سوچاتھا کہ اسے یہ بھی یادہوگا۔ہاں میں جانتاتھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کوگہری توجہ دیتاتھا لیکن جب یہ سب ہورہا تھاتو محسوس نہیں ہوتاتھا ۔

’’مجھے برا محسوس ہو رہا ہے۔‘‘میں نے اسے بتایا۔’’ کہ آج رات کوئی لیکچر نہیں ہے، جیسے کہ پہلے ہوتاتھا ‘‘

 وہ حیران دکھائی دے رہاتھا۔وہ مسکرایا۔

’’اورتم اب بھی ابدی واپسی کے خبط میں مبتلاہو۔ ‘‘

اب ہم مسلسل فٹ پاتھ پر کبھی آگے جا رہے تھے اورکبھی پیچھے آجاتے اورہربارہم پرنس دے کونڈے چمڑے کی دکان کی  طرف چلے جاتے۔

’’کیاآپ کووہ رات یادہے جب آپ کے گھر بجلی نہیں تھی اورآپ نے اندھیرے میں لیکچردیاتھا؟‘‘میں نے پوچھا۔

’’نہیں۔ ‘‘

’’ میں ایک اعتراف کرناچاہتاہوں ۔ اس رات مجھے ہنسی کا دورہ پڑنے والا تھا۔‘‘

 ’’توتمھیں ہنس لیناچاہیے تھا۔‘‘اس نے ڈانٹ کرکہا ۔’’ہنسی چھوت کی طرح ہے۔تم ہنستے تواندھیرے میں ہم سب ہنستے۔ اس نے اپنی گھڑی دیکھی۔ ’’اب مجھے چلنا چاہیے ۔ مجھے اپناسامان باندھناہے۔ کل میں ایک بارپھر سے جارہا ہوں۔میں نے ابھی تک تم سے یہ بھی نہ پوچھا کہ آج کل تم کیاکر رہے ہو۔‘‘

اس نے اپنی جیب سے روزنامچہ نکالااورایک صفحہ پھاڑا۔

’’ میں تمھیں اپنا میکسیکووالاپتہ دے رہاہوں۔ ضرورآنا۔‘‘

اس کالہجہ ایک د م تحکمانہ ہوگیا جیسے کہ وہ مجھے ساتھ لے جاناچاہتاتھا اورمجھے مجھ سے بچاناچاہتاتھااورحال سے بھی۔

’’مزیدیہ کہ میں وہاں بھی لیکچردیتاہوں۔آنا۔میں تمھاراانتظارکروں گا۔‘‘

اس نے کاغذمیری طرف بڑھادیا۔

’’اس پرمیرافون نمبربھی لکھاہے۔ اس باررابطہ نہ توڑنا۔‘‘

کارمیں بیٹھ کراس نے ایک بار پھر اپنا سر باہر نکالا۔

’’مجھے بتاؤ میں اکثرلوکی کے بارے میں سوچتاہوں میں کبھی نہ سمجھ سکا‘‘

 

وہ جذباتی ہورہاتھا۔ وہ شخص جوہمیشہ ہچکچائے بغیرفرفربولتاتھا آج اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔

میں تیز تیز چل رہاتھا جیسے کہ جولائی کے مہینے میں کسی اجنبی شہر میں آگیا ہوں۔ میں نے سیٹی میں ایک میکسیکو کی دھن بجانا شروع کر دی لیکن یہ خیالی لا پرواہی والا رویہ عارضی تھا۔

’’ میں بھی کیابکواس کررہاہوں۔سمجھنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں۔جب ہم کسی سے واقعی محبت کرتے ہیں توہمیں اس کی ذات کی پر اسراریت کوقبول کرناپڑتاہے۔اسی لیے تو ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ ہے نا رولینڈ؟‘‘

اس نے یکدم کارچلادی، شایداپنے جذبات پرقابوپانے کے لیے اورشایدمیرے بھی۔ اس نے صرف اتنا کہا۔ ’’جلد ملتے ہیں، رولینڈ۔‘‘

 میں پرنس دے کونڈے چمڑے کی دکان کے سامنے اکیلا رہ گیا تھا۔ میں نے کھڑکی پر پیشانی ٹکا کر اندر جھانک کر یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ کیا اس جگہ میں ابھی بھی ماضی کی باقیات ہیں یا نہیں:ایک دیوار، عقبی دروازہ جو ٹیلی فون کی طرف جاتا تھا، مادام شیڈلے کے فلیٹ کی طرف جاتی گھومتی ہوئی سیڑھیاں۔ کچھ بھی نہیں تھا۔ ہر چیز بے شکل و صورت تھی اورنارنجی کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ پورا علاقہ ہی ایسا ہو چکا تھا۔ اب ماضی کے بھوتوں سے مڈبھیڑ ہو نے کا ڈر نہیں تھا۔ تمام بھوت مر چکے تھے۔ میبلون پر میٹرو سے نکلتے ہوئے فکر کی ضرورت نہیں تھی۔ نہ اب موچے لینی تھا اور نہ لاپر گولا۔

 

 میں تیز تیز چل رہاتھا جیسے کہ جولائی کے مہینے میں کسی اجنبی شہر میں آگیا ہوں۔ میں نے سیٹی میں ایک میکسیکو کی دھن بجانا شروع کر دی لیکن یہ خیالی لا پرواہی والا رویہ عارضی تھا۔ میں لگز مبرگ کے گرد لگی زنگ آلود باڑ کے ساتھ چل رہا تھ ۔ سیٹی بند ہو چکی تھی۔ سینٹ مشعل کے ساتھ ایک باغ کے داخلی دروازے پر ایک بڑے سایہ دار درخت پر ایک نوٹس لگا ہوا تھا۔ ’’خطرہ۔ جلد ہی یہ درخت کاٹ دیا جائے گا۔‘‘ آنے والی سردیوں میں اس کی جگہ نیا درخت لگا دیا جائے گا۔‘‘

ایک ایسی دنیاجس میں میں خودکو پرانے وقتوں کا آدمی سمجھتا تھا وہاں درخت بھی مر رہے تھے۔میں دوسری چیزوں کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا لیکن یہ آسان نہیں ہوتا۔

ایک لمحے کومجھے لگا کہ کوئی بُراخواب دیکھ رہا ہوں۔میں سکتے کی حالت میں کھڑا تھا  اور بار بار وہ موت کا فرمان پڑھ رہا تھا۔کوئی میری طرف آیا اورپوچھا۔ ’’کیا آپ ٹھیک ہیں؟‘‘ پھر وہ آگے بڑھ گیا۔ شاید میری خالی نگاہوں کی وجہ سے۔

 ایک ایسی دنیاجس میں میں خودکو پرانے وقتوں کا آدمی سمجھتا تھا وہاں درخت بھی مر رہے تھے۔میں دوسری چیزوں کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا لیکن یہ آسان نہیں ہوتا۔ وہ نوٹس اوروہ درخت جس کی موت کا فرمان جاری ہو چکا تھا، میری یادداشت میں پیوست ہو چکے تھے۔ میں اپنے ذہن میں منصفوں اور جلاد کی تصویر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے خود کو سنبھالا۔ خودکو پرسکون کر نے کے لیے میں نے تصور کیاکہ گائی دی ویر میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور اپنی مدھم آواز میں کہہ رہا ہے۔ ’’ ایسا نہیں ہے رولینڈ، یہ بس ایک برا خواب ہے۔ لوگ درختوں کا قتل نہیں کرتے۔‘‘

میں باغ کے دروازے کے پاس سے گزرکر پورٹ رائل کی طرف جانے والے چوراہے پر چل رہاتھا۔ایک رات میں اور لوکی ہماری ہی عمر کے ایک نوجوان کے ساتھ اس جگہ سے گزرے تھے۔ ہماری اس سے کونڈے میں سرسری سی جان پہچان ہوئی تھی۔ اس نے دکھ بھری آواز میں سکول آف مائنز کی طرف اشارہ کرکے بتایاتھا کہ وہ وہاں پڑھتا ہے۔ ایسالگ رہا تھا کہ وہ کسی بھاری وزن کے تلے دباہوا تھا۔

’’تمھار اکیاخیال ہے کہ مجھے یہاں تعلیم جاری رکھنی چاہیے؟‘‘

 

مجھے محسوس ہوا کہ وہ اس سکول سے جان چھڑانے کے لیے ہم سے حوصلہ افزائی طلب کر رہاہے۔میں نے اسے کہا۔ ’’بالکل بھی نہیں میرے دوست۔ زحمت مت کرو اور زندگی میں آگے بڑھو ۔‘‘

جب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی پر اسراریت کو قبول کرنا پڑتاہے۔

پھر وہ لوکی کی طرف مڑا۔وہ اس کی رائے کا بھی منتظر تھا۔اس نے اسے بتایا کہ جب سے اسے اس کی پسند کے سکول میں داخلہ نہیں ملا وہ اس بارے میں نہیں سوچتی۔ شاید یہ سن کر وہ سکول چھوڑنے پر راضی ہو گیا تھا۔ اگلے دن جب وہ کونڈے پر واپس آیاتو اس نے بتایا کہ وہ سکول آف مائنز چھوڑ چکا ہے۔

 ہم دونوں اس کے ہوٹل تک جانے کے لیے اکثر یہی راستہ اختیار کرتے تھے۔ یہ راستہ ذرالمباتھا لیکن ہمیں چلنے کی عادت تھی۔کیا ہم راستے سے ہٹ کر چلتے تھے؟ میرے خیال سے ایسا نہیں تھا۔ ہمارے لیے یہ راستہ سیدھی لکیر کے جیسا تھا ۔ رات کے وقت ڈینفر روشورو ایونیو تک ایسالگتا تھا کہ دیہاتی علاقے میں آ گئے ہیں کیونکہ وہاں مکمل خاموشی تھی اور یکے بعد دیگرے مذہبی خانقاہوں کے دروازے تھے۔ ایک دن میں شجر چنار کی قطار اور سڑک کے اطراف میں اونچی دیوار کے ساتھ چل رہا تھا جو مونٹ پارنس قبرستان کو دو حصوں میں تقسیم کرتی تھی۔ اس کے ہوٹل کے طرف بھی یہی راستہ جاتاتھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ اس راستے سے گزرنے سے گریزکرتی تھی۔

 

 اس لیے ہم عام طور پر ڈینفر روشورو ایونیو سے گزرتے تھے۔لیکن ان دنوں کے آخر میں ہم نے ڈرنا چھوڑ دیا تھا اور رات کو قبرستا ن کو تقسیم کرتے اس روڈ پر پتوں کی چھتری کے نیچے سے گزرتے ہوئے ایک دلکش احساس ملتا تھا۔ اس وقت سڑک پر نہ کوئی کار ہوتی تھی اورنہ کوئی شخص دکھائی دیتا تھا۔میں اس جگہ کو معلق علاقوں میں شامل کرنا بھول گیاتھا۔ یہ جگہ سرحد کی طرح تھی ۔ جیسے ہی ہم اسے پار کرتے ایک ایسی جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں ہم ہر چیز سے محفوظ تھے۔

گزشتہ ہفتے، جب ابھی رات نہیں ہوئی تھی، بلکہ شام کا آخری پہر تھا تو میں چل کر وہاں گیا۔ میں ان دنوں کے بعد سے پلٹ کر وہاں نہیں گیا تھا جن دنوں ہم ایک ساتھ وہاں سے گزر اکر تے تھے۔ایک لمحے کو مجھے لگا کہ جیسے ہی میں قبرستان پار کروں گا تو سامنے تم ہو گی۔ جیسے ہی میں وہاں پہنچوں گا یہ ابدی واپسی ہو گی۔ وہی معمول کے مطابق میں استقبالیہ سے تمھارے کمرے کی چابی لیتا۔ وہی عمودی سیڑھیاں۔ وہی نمبر 11 سفید دروازہ۔ وہی متوقع صورتحال۔ پھر وہی ہونٹ، وہی خوشبو، ہمیشہ کی طرح تمھارے بالوں کی گرتی ہوئی آبشار۔

مجھے ابھی بھی گائی دے ویر کے الفاظ سنائی دے رہے تھے۔’’ میں کبھی نہ سمجھ سکاجب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں توہمیں اس کی ذات کی پر اسراریت کو قبول کرنا پڑتاہے۔‘‘

کون سا اسرار؟ مجھے یقین تھا کہ میں اور لوکی ایک جیسے تھے کیونکہ اکثر ہم ایک دوسرے کا ذہن پڑھ سکتے تھے۔ ہماری ویولینتھ  ایک جیسی تھی۔ ہماری پیدائش کا سال اور مہینہ ایک تھا۔ لیکن پھر بھی،یقین کریں یا نہ کریں، ہم دونوں کے درمیان کچھ بنیادی فرق ضرور تھے۔

 

نہیں،میں بھی یہ بات نہیں سمجھ سکا۔ خاص طور پر جب میں ان آخری ہفتوں کو یاد کرتاہوں۔ نومبر کا مہینہ، چھوٹے ہوتے دن، خزاں کی بارش،کچھ بھی تو ہمارا حوصلہ پست نہ کر سکا۔ حتّٰی کہ ہم سفری منصوبے بنا رہے تھے۔ اس سب کے درمیان کونڈے کا ماحول بھی پر جوش تھا۔ مجھے اب یاد نہیں ہے کہ کونڈے پر باقاعدگی سے آنے والوں سے باب سٹارمز کا تعارف کس نے کروایاتھا۔ باب کا دعویٰ تھا کہ وہ شاعر اور آنٹورپ تھیٹر میں سٹیج ڈائریکٹر تھا۔ شاید آدم نے اس کا تعارف کروایا تھا؟ یا موریس رافیل؟

باب ہم سب کو پھنساتاتھا۔اس کے دل میں میرے اور لوکی کے لیے نرم گوشہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ہم دونوں گرمیاں سپین میں اس کے گھر میں گزار یں۔ بظاہر اس کا کوئی معاشی مسئلہ نہ تھا۔ افواہ تھی کہ وہ پینٹنگ جمع کرتا ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ پھر ایک دن لوگ اچانک غائب ہو جاتے ہیں اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ ان کے بار ے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے، حتّٰی کہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ دراصل کون تھے۔

یہ اچانک سے باب سٹارمز کا سایہ اتنے واضح انداز میں میرے دماغ میں کیوں منڈلا رہا ہے؟زندگی کے المیے بھرے لمحات میں ایک مدھم سی دھن ایسی ہوتی ہے جو باقی دھنوں سے الگ تھلگ ہوتی ہے، جیسے دربار میں مسخرہ۔ باب سٹارمز بھی اسی دھن کے جیسا تھا جو کسی بھی ناگزیر حادثے کوبھگا سکتا تھا۔وہ ہمیشہ بارپر ایسے کھڑا ہوتا تھا جیسے بیٹھاتو ا س کے بوجھ تلے لکڑی کی کرسی پاش پاش ہو جائے گی۔وہ اتنا بڑا تھا کہ اس کا موٹاپا نظر ہی نہیں آتاتھا۔ اس نے ہمیشہ مخمل کی کالے رنگ کی واسکٹ پہنی ہوتی تھی جس کی وجہ سے اس کی سرخ داڑھی اور بال نمایاں ہوتے تھے۔ اس کاچوغہ بھی اسی رنگ کا ہوتا تھا۔وہ شام جب ہم نے اسے پہلی بار دیکھا تھا، وہ ہماری میز تک آیا اور مجھے اورلوکی کو سرتا پا دیکھا۔

 

پھر وہ مسکرایا اور جھک کر سرگوشی کے انداز میں کہا۔’’نا خوشگوار وقت کے ساتھیو! میں تمھیں ایک بہترین رات کی دعا دیتا ہوں۔ ‘‘ 

میں کم و بیش ان پڑھ تھا  جسے عمومی ادبی کلچر کے بارے میں کچھ نہ پتا تھا۔ میں نے بس اتفاقاً کچھ نظمیں یاد کرلی تھیں،ان لوگوں کی طرح جو پیانو پر کوئی بھی دھن بجا لیتے ہیں لیکن انھیں میوزک تھیوری کی الف ب بھی نہیں پتا ہوتی۔

جب اسے پتا چلا کہ مجھے کچھ اچھی نظمیں زبانی یاد ہیں تو اس نے مقابلہ کرنے پر اصرار کیا۔آخری نظم سنانے والا فاتح ہو گا۔ وہ کسی نظم کا ایک مصرعہ سناتا اور بدلے میں میں بھی۔ یوں مقابلہ چلتا رہا۔ کافی دیر۔ میں اس مقابلے کے لائق نہیں تھا۔ میں کم و بیش ان پڑھ تھا  جسے عمومی ادبی کلچر کے بارے میں کچھ نہ پتا تھا۔ میں نے بس اتفاقاً کچھ نظمیں یاد کرلی تھیں،ان لوگوں کی طرح جو پیانو پر کوئی بھی دھن بجا لیتے ہیں لیکن انھیں میوزک تھیوری کی الف ب بھی نہیں پتا ہوتی۔ باب کو مجھ پر ایک برتری حاصل تھی۔ اسے انگریزی، ہسپانوی اور فلیمش شاعری بھی یاد تھی۔ بارپر کھڑے کھڑے اس نے دلیری سے مقابلے کاآغاز کیا۔

             کبھی کبھی میں اس سے تنگ آ جاتا تھا۔لیکن وہ ایک اچھا انسان تھا اور ہم سے عمرمیں کافی بڑا تھا۔اگروہ اپنی ماضی کی زندگیوں کے بارے میں بتاتاتو مجھے اچھا لگتا۔ وہ میری بات کا جواب ہمیشہ پہلو تہی سے دیتا۔جب اسے لگتا کہ میرا تجسس حد سے بڑھ رہا ہے۔کچھ چھپانے کی غرض سے اس کا سارا جوش یکدم ختم ہو جاتا۔وہ کوئی جواب نہ دیتا اور پھر خاموشی توڑنے کے لیے یکدم زور دار قہقہہ لگاتا۔

ــــ

ایک رات باب نے اپنے گھر پر نجی پارٹی کا اہتمام کیا۔میرے اورلوکی کے علاوہ ا س نے دوسروں کوبھی بلایا تھا: آنے؛ ڈان کارلوس؛ بوئنگ؛ زکارایس؛ میرئی؛لاہوپا؛ علی شریف اور وہ لڑکا جس نے سکول آف مائنز چھوڑ دیا تھا۔ کچھ لوگ اوربھی تھے لیکن میں انھیں نہیں جانتا تھا۔وہ کوائے داژُومیں رہتاتھا۔اس کے فلیٹ کی بالائی منزل میں ایک بہت بڑا سٹوڈیو تھا۔ اس نے ہمیں ایک ڈرامے[Hop Signor!(ہیلوسر!)] کی پڑھت کے لیے دعوت دی تھی۔وہ اس ڈرامے کی ہدایتکاری کرنا چاہتا تھا ۔

آخرکار مجھے اورلوکی کو محسوس ہواکہ ہم دونوں اتنے سارے اجنبی لوگوں کے درمیان کیاکر رہے تھے۔یہ تمام وہ لوگ تھے جومعلوم وجوہات کی بنیادپر ہمارے ان جوانی کے سالوں میں ہم سے ملے تھے،جو ہمیں نہیں جانتے تھے اوربعد میں ہمیں بھی ان کی شکلیں بھول جائیں گی۔

میں اورلوکی باقیوں کی نسبت پہلے آگئے تھے۔میں اس کے سٹوڈیومیں روشنی کرنے والی موم بتیوں،شہتیروں سے لٹکے سسلی اورفلیڈرز کے کٹھ پتلی اورنشاۃ الثانیہ کے دورکے انداز کے فرنیچراور شیشے کودیکھ کر ہکابکا رہ گیا۔ باب نے وہی مخمل کی کالی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ ایک بڑی کھڑکی سے دریائے سین نظر آرہا تھا۔ اس نے شفقت بھرے انداز میں میرے اورلوکی کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دائرہ بناتے ہوئے وہی الفاظ دہرائے:’’ نا خوشگوار وقت کے ساتھیو!میں تمھیں ایک بہترین رات کی دعا دیتا ہوں۔‘‘

پھراس نے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالااورمیری طرف بڑھادیا۔اس نے بتا یا کہ اس میں اس کے سپین والے گھرکی چابیاں ہیں اورہمیں جلدازجلد وہاں کادورہ کرنا چاہیے۔ ستمبرتک وہیں رہو۔اسے لگتاتھا کہ ہم دونوں کی صحت خراب ہے۔عجیب رات تھی۔ ڈرامے کاصرف ایک ایکٹ تھااور اداکاروں نے ڈائیلاگ قدرے تیزی سے ادا کیے تھے۔ ہم ان کے گردایک دائرے میں بیٹھے تھے۔ درمیان میں باب سٹارمز کے اشارے پرہم سب ایک ساتھ زور سے بولتے:’’ہوپ سائنور!‘‘

 

ایسا لگ رہاتھا کہ ہم کورس کاحصہ ہیں۔ شراب اوردوسرے نشوں کا کھلااستعمال ہورہا تھا۔ زیریں منزل پر ایک بڑے کمرے میں بوفے ڈنر لگادیا گیاتھا۔ زیبائشی پیالوں اورچمکدار گلاس میں باب سٹار مز خودجام پیش کررہا تھا۔ بہت سارے مہمان تھے۔ ایک موقع پر باب نے اپنے ہم عمرلیکن ذراپست قد شخص سے تعارف کروایا؛وہ ایک امریکی لکھاری تھا جس کانام جیمس جونس تھااور باب نے بتایا کہ وہ اس کے ساتھ والے گھر میں رہتاہے۔ آخرکار مجھے اورلوکی کو محسوس ہواکہ ہم دونوں اتنے سارے اجنبی لوگوں کے درمیان کیاکر رہے تھے۔یہ تمام وہ لوگ تھے جومعلوم وجوہات کی بنیادپر ہمارے ان جوانی کے سالوں میں ہم سے ملے تھے،جو ہمیں نہیں جانتے تھے اوربعد میں ہمیں بھی ان کی شکلیں بھول جائیں گی۔

مجھے محسوس ہوتاہے کہ میں موسموں کو گڈمڈ کر رہا ہوں۔ اس تقریب کے کچھ دنوں بعدمیں لوکی کے ساتھ اٹوائل جار ہا تھا۔ میرے خیا ل سے موسم گرما تھا یا کم از کم سردیوں کی وہ صبح تھی جو ٹھنڈی اور شفاف ہوتی ہے، سورج نکلا ہواہوتا ہے اورآسمان نیلا دکھائی دیتا ہے۔

ہم آہستگی سے بیرونی دروازے کی طرف جانے لگے۔ ہمیں یقین تھا کہ اس ہلچل میں کسی کوبھی محسوس نہ ہو گاکہ ہم جا چکے تھے۔ لیکن جیسے ہی ہم نے کمرے کا دروازہ پار کیا تو باب سٹارمز ہمارے سامنے کھڑا تھا ۔

’’توکیاتم مجھ سے بیوفائی کرنے لگے ہو۔بچو؟‘‘

اس کے چہرے پروہی بڑی سی مسکراہٹ تھی ۔ اس کی داڑھی اوراونچے قد کودیکھ کرنشاۃالثانیہ یاسترھویں صدی کاایک کردار یاد آرہاتھا، روبنز یا بکنگھم ۔ اس کی نگاہوں میں پریشانی کی بھی ایک جھلک تھی۔

’’لگتا ہے تم دونوں اکتا گئے ہو؟‘‘

’’ بالکل بھی نہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا ۔’’ہوپ سائنور‘‘شاندار تھا۔

اس نے ایک بار پھر میرے اور لوکی کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دائرہ بناتے ہوئے کہا۔ ’’چلو ٹھیک ہے ،کل ملتے ہیں۔ ‘‘

ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے وہ ہمیں خارجی دروازے تک لے گیا ۔

’’اوربھولنا مت۔ جلدازجلد سپین جا کر تازہ دم ہو جاؤ۔ تمھیں اس کی ضرورت ہے۔ میں نے تمھیں چابی دے دی ہے ۔ ‘‘

جب ہم سیڑھیاں اتر رہتے تھے تو وہ کافی دیر تک ہمیں دیکھتا رہا۔ پھرا س نے ایک مصرعہ پڑھا:

’’ آسمان فلینڈرز میں مچھیروں کے گاؤں کی سرکس کا پھٹا ہوا تنبو ہے۔ ‘‘

جب ہم سیڑھیاں اتررہے تھے وہ سیڑھیوں کی حفاظتی باڑپرجھکاہواتھا اورمیری طرف سے جوابی مصرعے کاانتظار کررہا تھا۔ لیکن میں خاموش رہا۔

 

مجھے محسوس ہوتاہے کہ میں موسموں کو گڈمڈ کر رہا ہوں۔ اس تقریب کے کچھ دنوں بعدمیں لوکی کے ساتھ اٹوائل جار ہا تھا۔ میرے خیا ل سے موسم گرما تھا یا کم از کم سردیوں کی وہ صبح تھی جو ٹھنڈی اور شفاف ہوتی ہے، سورج نکلا ہواہوتا ہے اورآسمان نیلا دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی ماں کے دوست گائی لیوائن سے ملناچاہتی تھی۔

میں نے فیصلہ کیاتھا کہ کہیں رک کر اس کاانتظار کروں گا۔ ہم نے ایک گھنٹے بعد اس کے گیراج سے آگے گلی کے نکڑپر ملنے کافیصلہ کیا۔میرے خیال سے باب سٹارمز سے چابی ملنے کے بعد ہم پیرس سے جانے کاسوچ رہے تھے۔ ایسی چیزیں جو کی جا سکتی تھیں۔ لیکن نہیں کی گئیں، کبھی کبھاران کے بارے میں سوچنے سے دل میں ہول اٹھناشروع ہو جاتے ہیں۔ میں آج بھی خودکوبتاتا ہوں کہ سپین میں وہ گھر خالی ہوگا اورہمارا انتظار کررہا ہوگا۔ اس صبح میں خوش تھا۔ مجھ پر جیسے نشہ طاری تھا، میں ہوا کی طرح ہلکا محسوس کر رہا تھا۔دور تک افق پھیلا ہوا تھا، میں ہوا کی طرح ہلکا محسوس کر رہا تھا۔

 ایک خاموش گلی کے آخرمیں ایک گیراج۔ مجھے افسو س ہورہاتھا کہ میں لوکی کے ساتھ لیوائن سے ملنے کیوں نہ گیا۔ شاید وہ ہمارے جنوب کے سفر کے لیے کار ادھار دے دیتا ۔

 

میں نے اسے گیراج کے چھوٹے دروازے سے نکلتے دیکھا۔اس نے بالکل اسی اندازمیں ہاتھ ہلایاجیسے موسم گرماکے اس دن جب میں اس کااورجینیٹ گول کاانتظار کررہا تھا۔ وہ اسی بے فکری کے انداز میں میری طرف قدم بڑھا رہی ہے، جیسے اس نے چلنے کی رفتار اور بھی دھیمی کر دی ہو،جیسے وقت کا وجود ہی نہیں۔ وہ میرا ہاتھ پکڑتی ہے اور ہم وہاں آوارہ گردی کرنے لگتے ہیں۔ ہم خوبصورت گلیوں اور ویران چوراہوں کے چکر لگاتے ہیں۔ اٹوائل کا گاؤں سکون سے پیرس سے الگ ہو جاتا ہے۔ کون جانتاہے کہ کوئے داایثرر کی خاکستری عمارتوں کے پیچھے کوئی باغ چھپا ہوا ہے یاجنگل۔ ہم میٹروسٹیشن کے سامنے پلاس دے لے گلیز پہنچ گئے۔ اس مقام پرمجھے کچھ کھونے یاچھوڑنے کادکھ نہ تھا۔ اب میں پہلی مرتبہ ابدی واپسی کامطلب جان گیاتھا۔

یہ حادثہ نومبرمیں ہواتھا۔اتوار کے دن۔اس صبح اورسہہ پہر کومیں نے رُودے ارجنٹائن میں رک کرمعلق علاقوں پر کام کیا تھا۔ میں ان چارصفحات میں اضافہ کر کے تیس صفحات لکھنا چاہتا تھا۔

اب تک میں نے اس موضوع پر کتاب پڑھ کر اپنا استاد سننے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں جیسے ہی گلیز دے اٹوائل میں میٹروکی سیڑھیوں سے نیچے اترا،میں اس کامطلب جان گیا۔تمام جگہوں کو چھوڑکر یہاں ہی کیوں؟ مجھے نہیں معلوم تھا اور مجھے فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔ میں ساکت کھڑا تھا اورمضبوطی سے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ۔ ہم دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک ساتھ ایک ہی جگہ پر کھڑے تھے، جو ہماری اٹوائل کی آوارہ گردی تھی وہ ہم گزشتہ ہزاروں زندگیوں میں بھی کر چکے تھے۔ مجھے گھڑی دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ دوپہر کاوقت تھا۔

ــــ

یہ حادثہ نومبرمیں ہواتھا۔اتوار کے دن۔اس صبح اورسہہ پہر کومیں نے رُودے ارجنٹائن میں رک کرمعلق علاقوں پر کام کیا تھا۔ میں ان چارصفحات میں اضافہ کر کے تیس صفحات لکھنا چاہتا تھا۔ یوں صفحات کی تعداد بڑھتی جاتی اور میں سو صفحات تک پہنچ جاتا۔ مجھے شام پانچ بجے کونڈے میں لوکی سے ملنا تھا۔ میں اگلے چند دنوں میں رودے ارجنٹائن کو خیر باد کہنے والا تھا۔ مجھے محسوس ہورہا تھاکہ اب وقت آگیا ہے کہ میں بچپن اورلڑکپن کے زخموں کو پیچھے چھوڑدوں اورآگے بڑھوں۔ مجھے اب معلق علاقوں میں چھپنے کی ضرورت نہیں تھی۔

میں میٹروسٹیشن تک پیدل چل کرگیا۔ یہ میٹروکی وہی لائن تھی جس میں میں اورلوکی اکثرسفر کرتے تھے، جس میں بیٹھ کر ہم گائی دے ویر کے لیکچر سننے جاتے تھے اور جس کے ساتھ ہم دونوں نے پہلی رات چہل قدمی کی تھی۔ جب میں نے دریائے سین پارکیاتومیں نے دیکھاکہ پل کے نیچے ایلے دے سین میں کافی لوگ جمع ہیں۔

 

میں میبلون پر اترگیا اورہمیشہ کی طرح لاپرگولا کی طرف دیکھا۔ کھڑکی میں موچے لینی نہیں بیٹھاتھا۔

جب میں کونڈے میں داخل ہوا تو عقبی دیوار پر لگی گھڑی پر ٹھیک پانچ بج رہے تھے۔ اس وقت کیفے سنسان ہوتا تھا۔ تمام میزیں خالی تھیں سوائے دروازے کے ساتھ والی جس پرذکارایس ،آنے اورجین مشعل بیٹھے تھے۔ وہ تینوں مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ کسی نے ایک لفظ نہ بولا۔ ذکارایس اور آنے کے چہرے پیلے لگ رہے تھے،شاید کھڑکی سے آنے والی روشنی کی وجہ سے۔ جب میں نے ہیلو کہا تو انھوں نے جواب نہ دیا۔

وہ مجھے ایسے گھو ر رہے تھے جیسے میں نے کوئی جرم کر دیا ہو۔ جین مشعل نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مجھے کچھ بتانا چاہ رہی تھی۔ ایک مکھی ذکارایس کے ہاتھ پہ آکر بیٹھی اوراس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ سے اسے اڑادیا۔ پھر اس نے اپنا جام اٹھایا اور ایک ہی گھونٹ میں پی گیا۔ وہ اٹھا اور میری طرف آیا۔ اس نے جذبات سے عاری آواز میں کہا۔ ’’لوکی۔ اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی ہے۔ ‘‘

مجھے ڈرتھا کہ میں راستہ بھول جاؤں گا۔ میں نے راسیپل سٹیشن تک میٹرو لی اور پھر وہ سڑک جو قبرستان سے گزر رہی تھی، اور پھرمیں سڑک کے آخر میں پہنچا تو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ چلتا رہوں یا رُو فراڈو اکی جانب چل دوں۔ میں رُوفراڈوا کی طرف مڑ گیا۔اس لمحے کے بعد سے میری زندگی میں ایک کسک تھی۔ ایک ایسی خالی جگہ تھی جوتنہائی کااحساس پیداکرتی تھی لیکن میں اس کی طرف دیکھ نہ سکتاتھا ۔ اس خالی جگہ کی چمکدار اور تیز روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ میرے خاتمے تک ایسا ہی رہے گا۔

جب میں کونڈے میں داخل ہوا تو عقبی دیوار پر لگی گھڑی پر ٹھیک پانچ بج رہے تھے۔ اس وقت کیفے سنسان ہوتا تھا۔ تمام میزیں خالی تھیں سوائے دروازے کے ساتھ والی جس پرذکارایس ،آنے اورجین مشعل بیٹھے تھے۔ وہ تینوں مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ کسی نے ایک لفظ نہ بولا۔ ذکارایس اور آنے کے چہرے پیلے لگ رہے تھے،شاید کھڑکی سے آنے والی روشنی کی وجہ سے۔ جب میں نے ہیلو کہا تو انھوں نے جواب نہ دیا۔

وہ مجھے ایسے گھو ر رہے تھے جیسے میں نے کوئی جرم کر دیا ہو۔ جین مشعل نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مجھے کچھ بتانا چاہ رہی تھی۔ ایک مکھی ذکارایس کے ہاتھ پہ آکر بیٹھی اوراس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ سے اسے اڑادیا۔ پھر اس نے اپنا جام اٹھایا اور ایک ہی گھونٹ میں پی گیا۔ وہ اٹھا اور میری طرف آیا۔ اس نے جذبات سے عاری آواز میں کہا۔ ’’لوکی۔ اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی ہے۔ ‘‘

مجھے ڈرتھا کہ میں راستہ بھول جاؤں گا۔ میں نے راسیپل سٹیشن تک میٹرو لی اور پھر وہ سڑک جو قبرستان سے گزر رہی تھی، اور پھرمیں سڑک کے آخر میں پہنچا تو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ چلتا رہوں یا رُو فراڈو اکی جانب چل دوں۔ میں رُوفراڈوا کی طرف مڑ گیا۔اس لمحے کے بعد سے میری زندگی میں ایک کسک تھی۔ ایک ایسی خالی جگہ تھی جوتنہائی کااحساس پیداکرتی تھی لیکن میں اس کی طرف دیکھ نہ سکتاتھا ۔ اس خالی جگہ کی چمکدار اور تیز روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔ میرے خاتمے تک ایسا ہی رہے گا۔

وہ بالکونی تک گئی۔ اس نے بالکونی کی باڑ پر ایک ٹانگ رکھی۔ دوسری لڑکی نے اس کے گاؤن کے آخرمیں سر ے کوپکڑ کراسے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ اس نے صرف چند الفاظ کہے۔

کافی دیر بعد میں بروسیاس ہسپتال کی انتظار گاہ میں بیٹھا تھا۔میرے سامنے ایک آدمی بیٹھا تھا جس کی عمر لگ بھگ پچاس سال تھی۔ اس کے بال نیم سفید تھے اور اس نے گرم کوٹ پہنا ہوا تھا۔ ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ نرس نے مجھے بتایا کہ وہ مر چکی ہے۔ وہ آدمی ہمارے پاس ایسے آیا جیسے وہ بھی لوکی کے لیے فکر مند تھا۔ مجھے لگاکہ یہ گائی لیوائن ہوگاجواس کی ماں کا دوست تھا،اوروہ اس سے اکثر ملنے جاتی تھی ۔ میں نے اس سے پوچھا:’’کیا تم گائی دی لیوائن ہو؟‘‘

 اس نے انکار میں سر ہلایا۔’’نہیں، میرا نام پائر کازلے ہے۔ ‘‘

ہم ایک ساتھ بروسیاس سے باہر نکلے۔ رات ہو چکی تھی۔ ہم رُودیدوت تک ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

’’میرے خیال سے تم رولینڈ ہو؟‘‘

اسے میرا نام کیسے پتا تھا؟ مجھے چلنے میں مشکل درپیش آ رہی تھی۔ میرے سامنے وہ خالی جگہ اور تیز روشنی تھی۔

’’کیا وہ کوئی خط چھوڑ کر گئی ہے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔

’’نہیں، کچھ بھی نہیں۔ ‘‘

اس نے ہی مجھے تمام تفصیلات بتائیں۔ وہ کمرے میں ایک لڑکی جینیٹ گول کے ساتھ تھے۔ جسے لوگ سوکھی کہتے تھے۔ لیکن اس شخص کو جینیٹ کا عرف کیسے پتا تھا۔ وہ بالکونی تک گئی۔ اس نے بالکونی کی باڑ پر ایک ٹانگ رکھی۔ دوسری لڑکی نے اس کے گاؤن کے آخرمیں سر ے کوپکڑ کراسے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ اس نے صرف چند الفاظ کہے،شاید خود کو حوصلہ افزائی کے لیے۔

’’ بہت ہو گیا اب خود کو جانے دینا ہو گا۔ ‘‘

۰۰۰۰

Patric Modiano - French Novelist - Nobel Prize 2014

پیٹرک موڈیانو

پیٹرک موڈیانو فرانسیسی ناول نگار ہیں جنھیں ۲۰۱۴ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔ ان کی وجہ شہرت ان کی نثر میں موجود پراسراریت اور بیتے دنوں کی یادوں کا سحر ہے جو کہانی کے کرداروں اور قاری دونوں کو جکڑے رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں موجود غالب موضوعات میں ماضی (خاص طور پر دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانس میں یہودیوں کے حالات) اور گُمشدگی کے احساسات، یادداشت، اور شناختی بحران شامل ہیں۔ ان کی نثر دھیمی، پراسرار اور جذباتیت سے بھر پور ہوتی ہے، جو قاری کو ایک خواب جیسی دنیا میں لے جاتی ہے۔بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ۶۰ اور ۷۰ کی دہائی میں وہ گانے بھی لکھتے رہے ہیں۔ پیٹرک مودیانو عصری فرانسیسی ادب کے اہم ستون ہیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں ’’گزری نوجوانی‘‘؛ ’’گمشدہ شخص‘‘؛ ’’ماہِ عسل‘‘ اور ’’شاہراہِ یادداشت‘‘  وغیرہ شامل ہیں۔

۰۰۰۰

پیٹرک موڈیانو کی مزید تحریریں

پیٹرک موڈیانو کی تمام تحریریں

Rehan_Islam_ Translator_from_ English_to_Urdu_and_Urdu_to_English ریحان اسلام ۔ اردو مترجم

ریحان اسلام

محمد ریحان، جو ریحان اسلام کو اپنے قلمی نام کے طور پر استعمال کرتے ہیں، کا تعلق ملتان، پاکستان سے ہے۔ انگریزی ادب میں ایم فل کرنے کے بعد، ریحان نے چین میں دو سال تک چینی زبان، ثقافت اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ واپسی کے بعد اُنھوں نے کچھ عرصہ چینی ترجمان کے طور پر کام کیا۔ اس وقت وہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج، دنیا پور، پنجاب میں انگریزی کے لیکچرار ہیں ۔

تراجم

ریحان اسلام نے چینی نوبل انعام یافتہ مو یان کی کہانیوں کے تراجم کا بعنوان ترجمہ ’’مو یان کی کہانیاں ‘‘اور جاپانی ناول نگار ہاروکی موراکامی کے ناول ’’ ساؤتھ آف دی بارڈر، ویسٹ آف دی سن‘‘  کا اردو میں  ترجمہ ’’سرحد سے پار، سورج سے پرے‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔ ریحان اسلام نے مختلف انگریزی افسانوں کے بھی اردو میں تراجم کیے ہیں جو موقر اردو ادبی جرائد کے صفحات کی زینت بن چکے ہیں۔ وہ اردو سے انگریزی میں بھی افسانوں کے تراجم کرتے ہیں جو مختلف قومی و بین الاقوامی جرائد میں اشاعت پذیر ہوتے رہتے ہیں۔

۰۰۰۰

ریحان اسلام کے مزید تراجم

ناول کا باب
درمیانی آواز
ہن کانگ
Han Kang
تعارف و ترجمہ:ریحان اسلام
ناول کا باب
درمیانی آواز
ہن کانگ
Han Kang
تعارف و ترجمہ:ریحان اسلام
افسانہ
مکونڈو میں بارش دیکھتے ہوئے ازابیل کی خود کلامی
گیبریل گارشیا مارکیز

Gabriel José García Márquez

تعارف و ترجمہ:ریحان اسلام

1 thought on “حادثہ؍پیٹرک موڈیانو؍ریحان اسلام”

  1. واہ شاندار ترجمہ

    Reply

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب