تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

فرانسیسی کہانی

واپسی

 اَنّی ایغنو 

Annie Ernaux

ترجمہ؍ خالد فرہاد دھاریوال

وہ جولائی کا ایک اتوار تھا جب میں آخری بار اپنی ماں سے اُن کے گھر میں ملی تھی۔ میں بذریعہ ٹرین وہاں گئی تھی۔ ’موٹے ویل‘ میں، ہم دیر تک اسٹیشن پر بیٹھی رہیں۔ بہت گرمی تھی۔ ڈبے کے اندر اور باہر، دونوں جگہ مکمل سکوت تھا۔ میں نے کھلی کھڑکی سے باہر جھانکا؛ پلیٹ فارم سنسان تھا۔ ’ایس۔این۔سی۔ایف‘ ریلوے روڈ کے جنگلے کی دوسری طرف، لمبی گھاس سیب کے درختوں کی زیریں شاخوں کو تقریباً چھو رہی تھی۔ تبھی  مجھے واقعی محسوس ہوا کہ میں ’ک‘ پہنچنے والی ہوں اور یہ بھی کہ اپنی ماں سے میری ملاقات ہونے لگی ہے۔ ٹرین دھیمی رفتار سے ’ک‘ کی طرف بڑھتی رہی۔

اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے،  مجھے کئی چہرے شناسا لگے، حالانکہ میں اُن میں سے کسی کا نام نہیں لے پا رہی تھی۔ شاید مجھے اُن کے نام کبھی معلوم بھی نہیں تھے۔ ہوا چلنے کی وجہ سے یہاں گرمی کم تھی۔ ’ک‘ میں ہمیشہ ہوا چلتی رہتی ہے۔ میری ماں سمیت ہر کوئی یہ مانتا ہے کہ ’ک‘ میں دیگر جگہوں کی بہ نسبت ٹھنڈ رہتی ہے، اگرچہ وہ محض پانچ کلومیٹر ہی دُور کیوں نہ ہوں۔

میں نے ریلوے ہوٹل کے سامنے کھڑی ٹیکسی نہیں لی، جیسا کہ میں کہیں اور کرتی۔ ’ک‘ آتے ہی میں اپنے سابقہ طور طریقے اپنا لیتی ہوں: ٹیکسی تو شادیوں، جنازوں اور ایسے ہی دیگر مواقع کے لیے ہوتی ہے۔ اس طرح پیسے خرچ کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں ’ریو کارنا‘ کی طرف چل پڑی، جوقصبے کا بازار ہے۔ پہلی ہی بیکری سے میں نے سیب کا مربہ، کیک اور ٹافیاں خریدیں، وہی سب جو کبھی مجھ سے دعائیہ تقریب سے لوٹتے ہوئے لانے کا تقاضا کرتی تھیں۔ میں نے کچھ پھول بھی لیے، سوسن کے وہ پھول جو زیادہ دِن تک کھلے رہتے ہیں۔ جب تک میں اُس عمارت تک نہیں پہنچی جہاں وہ رہتی تھیں، میرے ذہن میں اس کے سوا کوئی خیال نہیں تھا کہ میں انھیں دوبارہ دیکھنے والی ہوں اور وہ میرا انتظار کر رہی ہیں۔

میں نے اُن کےنچلی منزل والے مکان کے تنگ دروازے پر دستک دی۔ وہ بولیں۔ ’’ہاں، اندر آ جاؤ!‘‘

’’آپ کو دروازہ بند رکھنا چاہیے!‘‘

’’میں جانتی تھی تم ہی ہو۔ تمھارے علاوہ اور کون ہو سکتا تھا!‘‘

وہ بغیر ایپرن کے اور سُرخی لگائے ہوئے، میز کے پاس کھڑی ہنس رہی تھیں۔ انھوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، اور مجھے چومنے کے لیے اپنا چہرہ ذرا سا موڑ لیا۔ ٹھیک اسی وقت انھوں نےمیرے سفر، بچوں، کتے کے بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ میری باتوں کا انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے انھیں ہمیشہ یہ ڈر رہتا تھا کہ کہیں سامنے والا اُکتا نہ جائے۔ بعدازاں، ہمیشہ کی طرح، وہی باتیں دہرانے لگیں: ’’میں یہاں بالکل ٹھیک ہوں، اس سے بہتر کچھ نہیں۔‘‘ اور ’’مجھے کوئی شکایت نہیں۔‘‘ ٹی وی پر کچھ شکلیں بن بگڑ رہی تھیں، مگر آواز غائب تھی۔

انھوں نے تھوڑی جھجک کے ساتھ سوسن کے پھول لیے اور بناوٹی انداز میں میرا شکریہ ادا کیا۔ میں بھول گئی تھی: میرا یوں دکان سے ان کے لیے پھول لے آنا انھیں دکھاوا لگتا تھا، بہت رسمی؛ اور اس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی تھی۔ جیسے میں ان سے گھر والوں کی طرح نہیں بلکہ کسی اجنبی کی طرح پیش آرہی ہوں۔ کیک دیکھ کر وہ خوش ہوئیں، مگروہ پہلے ہی گِرجےسے واپس آتے ہوئے ہمارے لیے کیک لے آئی تھیں۔

ہم میزکے دونوں اطراف آمنے سامنے بیٹھیں، میز جو تقریباً پورے کمرے کی جگہ گھیرے ہوئے تھی۔ مجھے یاد آیا کہ جب وہ یہاں منتقل ہوئیں اور میں پہلی بار آئی تھی، تو انھوں نے کہا تھا: ’’میں نے ایک کشادہ میز لے لی ہے، دس آدمی آرام سے بیٹھ جائیں گے!‘‘ مگر ان چھ برسوں میں ایک بار بھی نہیں… پھر بھی، انہوں نے اسے موم جامے سے ڈھانپ رکھا تھا تاکہ  کوئی گزند نہ پہنچے۔

وہ بے چین تھیں، جیسے سمجھ ہی نہ آرہا ہوکہ جواتنی باتیں ہمیں کرنا تھیں، انہیں کہاں سے شروع کریں۔ کمرے میں اندھیرا تھا اور ہلکی سی سیلن کی بوبھی؛ وہ اسے پوری طرح ہوا نہیں لگنے دیتی تھیں۔ جب میں بچی تھی، وہ مجھے ساتھ لے کر ہر اتوار چند بوڑھی عورتوں سے ملنے جاتی تھیں۔ اُن کے گھر سے نکلتے ہوئے ناک سکوڑ کر کہتی تھیں: ’’بڑےبوڑھوں کے گھروں سے ہمیشہ نمی کی بو آتی ہے، وہ کبھی کھڑکیاں نہیں کھولتے۔‘‘ چونکہ وہ یہ کہاکرتی تھیں، مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ وہ بھی انہی میں سے ایک بن جائیں گی۔

وہ بہار میں ’ک‘ کے موسم کے بارے میں بتانے لگیں، اور یہ بھی کہ میری گذشتہ آمد کے بعدکتنے لوگ گزر گئے۔ میرے ان لوگوں کو یاد نہ کر پانے سے وہ چِڑ رہی تھیں۔ انھیں لگا کہ میں جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہوں: ’’اصل بات یہ ہے کہ تم انھیں یاد کرنا ہی نہیں چاہتیں۔‘‘ پھر وہ تفصیل در تفصیل بتاتی رہیں، یہاں تک کہ مجھے وہ لوگ یاد آ گئے: وہ یہاں رہتا تھا، اس کی بیٹی میرے ساتھ اسکول میں تھی، اور جانے کیا کیا!

ہم نے پونے بارہ بجے کھانا میز پر لگا لیا۔ پچھلی بار انھوں نے ساڑھے بارہ بجے تک انتظار کیا تھا۔ وہ ہر کام جلدی کر رہی تھیں۔ وہ ایک بار بولیں کہ اچھے موسم کے دن اب جلد ہی گزر جائیں گے۔

نیپکن ڈھونڈتے ہوئے مجھے دراز میں کچھ رومانوی رسالے دکھائی دیے۔ میں نے ان کے متعلق  کچھ نہیں کہا، مگر انھیں لگا کہ میں نے دیکھ لیے ہیں۔ ’’یہ رسالے مجھے پاؤلے مجھے دیتی ہے، ورنہ تمھیں معلوم ہے کہ میں یہ نہیں پڑھتی۔ وہی پڑھتی ہے یہ سب، چھوٹی چھوٹی فضول سی کہانیاں۔‘‘ انھیں اب بھی ڈر تھا کہ میں ان کی پڑھنے کی عادت پر تنقید کروں گی۔ میں کہنے ہی والی تھی کہ مجھے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر وہ لائبریری سے لائی گئی ’مالرو‘ کی بجائے ’ہم دونوں‘ پڑھ رہی ہیں۔ انھیں دُکھ ہوتا اگر میں یہ ظاہر کرتی کہ وہ ویسی کتابیں نہیں پڑھ سکتیں جیسی میں پڑھتی ہوں۔

کھانا خاموشی میں تناول کیا۔ ان کی آنکھیں تھالی پر جمی تھیں، اور ہاتھوں کی بے ترتیبی اس شخص جیسی تھی جو تنہا کھانے کا عادی ہو۔ انھوں نے مجھے برتن دھونے سے صاف منع کر دیا: ’’تم چلی جاؤ گی تو میرے پاس کرنے کو کیا بچے گا!‘‘

وہ بازو موڑے، کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔ میں نے یوں پہلے کبھی ان کے جسم کو اتنے فطری، آرام دہ حال میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ کبھی اپنے بالوں میں انگلیاں نہیں پھیرتی تھیں، نہ ہی کتاب پڑھتے ہوئے بے خیالی میں گردن سہلاتی تھیں۔ ان کے اطوار میں محض تنہائی کی تھکن کا اظہار تھا:بازو سر کے اوپر لے جا کر انگڑائی لینا، کرسی میں دھنس جانا، پاؤں پسارنا۔ ان کے چہرے پر پہلے جیسی سختی باقی نہیں رہی تھی، اور وہ تناؤ بھی کم تھا جو زندگی کو گھسیٹتے رہنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

ان کی سرمئی آنکھیں، جو ہمیشہ مجھے شک سے دیکھتی تھیں، اب ایک  نرم سی تشنہ نگاہی کے ساتھ مجھ پر ٹکی تھیں۔ وہ  دِن گِن رہی تھیں، اور صبح انھوں نے خود کو یاد دلایا تھا کہ میں آج آنے والی ہوں۔ اور اب ہم دونوں بہم تھیں، اور ہمارا آدھا وقت گزر چکا تھا۔ ہماری ملاقات خوش دلی اور شفقت سے معمور تھی۔ اب وہ تلون مزاجی نہیں لوٹ سکتی تھی جومیری صغرسنی میں تھی:’’کمبخت کے لیے میں ہلکان ہو رہی ہوں۔‘‘ ’’میں ایک دن یہاں سے بھاگ جاؤں گی۔‘‘ ’’ اے نکمی ، گھامڑ!پہلے تم جیل چلی جاؤ گی۔‘‘

وہ مزید گفتگو کے لیے نئے نئے موضوعات تلاش کرتی رہیں تاکہ میں جلدی نہ چلی جاؤں اور وہ اپنی بیٹی کے لیے مضطرب، ہمیشہ اس کے ساتھ رہنے کی آرزو سے معمور پھر اکیلی نہ رہ جائیں۔ ’’پاؤلےمیرے لیے کروندے لے آئی تھی۔ تمھیں یقین نہیں آئے گا کہ کتنے لذیذ ہیں۔ خیر، موسم ہی ایسا ہے۔جاتے ہوئے  مجھے یاد دلانا تمھیں کچھ دے دوں گی۔‘‘ پاؤلے، میری ہم عمر، ہماری پرانی پڑوسن تھی، جو ہر ہفتے ان سے ملنے آتی تھی۔ اس نے کبھی ’ک‘ چھوڑا ہی نہیں تھا۔

میں دُور سڑک پر چلتی گاڑیوں کی آواز سن سکتی تھی، اور ساتھ والے مکان میں چلتے ریڈیو کو بھی۔ شاید ’ٹور دے فرانس‘ کی نشریات تھیں۔

’یہاں بہت سکون ہے۔‘

’یہاں ہمیشہ سکون رہتا ہے۔ اتوار کو تو سب سے زیادہ۔‘

وہ بار ہا میری چھٹیوں میں  مجھے آرام کے لیے کہتی تھیں۔ اور یہی جملہ مجھے سب سے زیادہ پریشان کرتا تھا، جب میں شکایت کر رہی ہوتی  کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں: ’’تھوڑا آرام کر لو۔‘‘ مجھے پھر اپنے اندر بیزاری محسوس ہوئی، مگر اب ان کے الفاظ میرے لیے اتنے اثرانگیز نہیں تھے۔ وہ بس یادیں جگا دیتے تھے، جیسے اتوار کو سیب کا مربہ یا ریڈیو کی آوازیں جگا دیتی ہیں۔ میں ’ک‘ کی گرمیوں کی بوریت محسوس کر رہی تھی: صبح سے شام تک کتابیں پڑھنا؛ مونڈیال کے نصف خالی تھیٹر میں اتوار کو ممنوعہ یاصرف بالغوں کے لیے مختص فلمیں دیکھنا، جبکہ وہ سمجھتی تھیں کہ میں اپنی بڑی عم زاد کے ساتھ ٹہلنے گئی ہوں؛ گلی کے میلے ٹھیلے میں بچوں کے کھیل کود؛ اور عوامی رقص گاہ، جس میں جانے کی میں کبھی ہمت نہ کر سکی۔

عین دوپہر کو، باورچی خانے کی کھڑکی کی چوکھٹ پر ایک بلی آبیٹھی۔ وہ اپنی آرام کرسی سے اچھل کر اسے اندر لانے گئیں۔ وہ گود لی ہوئی بلی تھی، جو ان کے بستر پر دِن کو سونے آتی تھی۔ میری آمد کے بعد سے وہ اس  لمحے سب سے زیادہ خوش دکھائی دے رہی تھیں۔ بلی نے ہمیں دیر تک مصروف رکھا۔ ہم اسے دیکھتی رہیں اور باری باری پکڑے رکھا۔ انھوں نے مجھے اس کی ساری شرارتوں کا احوال سنایا۔ ’ننھی سورنی‘ پردوں کو پنجوں میں جکڑ رہی تھی اور ان کی کلائیوں کو بھی، جہاں کھرونچوں کے دو سرخ نشان اُبھر آئے تھے۔ جیسا کہ وہ کہا کرتی تھیں، انھوں نے وہی کہا: ’’ہر جاندار خوبصورت ہوتا ہے۔‘‘ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بھول گئی ہوں کہ میں تھوڑی دیر بعد جانے والی ہوں۔

آخری لمحے میں انھوں نے ایک فارم نکالا، جو ان کی ’سوشل سیکیورٹی‘ کے لیے بھرنا ضروری تھا۔ ’’میرے پاس وقت نہیں ہے۔ مجھے دے دیں، میں بھر کر بھیج دوں گی۔‘‘  ’’اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اسٹیشن بس پانچ منٹ دُور ہے۔‘‘ ’’میری ٹرین چھوٹ جائے گی۔‘‘ ’’تمھاری آج تک کوئی ٹرین نہیں چھوٹی۔ دوسری ٹرین پکڑ لینا۔‘‘ وہ روہانسی ہو گئیں۔ انھوں نے اپنے معمول کے جملے پر بات ختم کی: ’’مجھے اس سے بہت دُکھ ہو رہا ہے۔‘‘

دہلیز پر الوداعی بوسے کے بعد بھی وہ محوِ گفتگو رہیں۔ ان کی آخری جھلک دروازے ہی کی تھی: بازوؤں کے گھیرے میں، اپنے خوبصورت ترین پیلے لباس میں ایستادہ، جو اُن کے جسم سے چپکاہوا تھا، اور کھلی ہوئیں باچھیں، خاموش مسکراہٹ۔ اس بار مجھے پھر لگا کہ میں ایک بُرے، تقریباً بزدلانہ انداز میں رخصت لے رہی ہوں۔

میں نے ٹرین تک پہنچنے کے لیے مختصر ترین راستہ چُنا، وہی جوشیل اسٹیشن کے پاس سے گزرتا تھا۔ پرانے وقتوں میں وہاں کچھ دیر رُکاکرتی تھی تاکہ سینما سے واپس آ کر ان کی سوالیہ نگاہوں کاسامنا کرسکوں۔ ہونٹوں سے باقی ماندہ سُرخی بھی یہیں پونچھ لیتی تھی۔ ’’آخر لوگ کیا کہیں گے؟‘‘

ٹرین کے اندر بیٹھی، میں نہ چاہتے ہوئے بھی، اُن کا تصور کرتی رہی: تنہائی بھرے سناٹے میں برتن دھوتی ہوئی ایک بُڑھیا، اور وہاں میری آمد کے علائم کی جلد نابودگی۔ میں ’ک‘ کو اوجھل ہوتے دیکھتی رہی: ریلوے کی عمارتیں، پٹریوں کے ساتھ ریلوے ملازمین کے گھر۔

ایک مہینے بعد، میں اپنی ماں سے دوبارہ  ملنے آئی۔ ایک دوپہر چرچ سے واپسی پر انھیں لُو لگ گئی تھی اور’ک‘ کے ایک اسپتال میں وہ داخل تھیں۔ تازہ ہوا کی آمدورفت کے لیے میں نے ان کے مکان کی کھڑکیاں کھول دیں، دراز سے ضروری کاغذات نکالے، فریج میں رکھے گلے سڑے سامان کو باہر پھینکا۔ سبزیوں کے خانے میں، ایک گرہ لگی پلاسٹک کی تھیلی میں کروندے پڑےتھے جو میں پچھلی بار ساتھ لے جانا بھول گئی تھی۔ اب وہ ایک بُھورا، پِلپِلا ڈھیر بن چکے تھے۔

۰۰۰۰

[انگریزی متن (ترجمہ: ڈیبورا  ٹریسمین) بشکریہ ’’دی نیویارکر‘‘ ۱۴ نومبر؍۲۰۲۲ء] 

Annie_Ernuax_French_Writer_Nobel_Laureate_2022

اَنّی ایغنو

اَنّی ایغنو فرانسیسی ادیبہ ہیں جنھیں ۲۰۲۲ء کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اُنھیں نوبیل انعام سے سرفراز کرتے ہُوئے نوبیل کمیٹی نے اُنھیں اِس انعام کا حق دار اُن کے فکشن میں موجود اِن خصوصیات کی بِناء پر دیا : ’’اُن کے اُس حوصلے کے لیے جس سے وہ اپنی ذاتی یادوں کی جڑیں، بے اعتنائیاں اور اجتماعی پابندیوں کو لاتعلّق نکیلے پن سے بے نقاب کرتی ہیں۔‘‘

سوانح حیات:

 اَنّی ایغنو (پیدائشی نام: اَنّی ڈُشَّین) یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کوفرانس کے علاقے  لِلّے بون، نارمنڈی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہُوئیں۔ کچھ سال بعد اَنّی کے والدین اِزِیٹو چلے گئے، جہاں انھوں نے قصبے کے محنت کش طبقے کے علاقے میں ایک کیفے اور کریانے کی دکان کھول لی۔ اُن کے والد ایک کیفے اور والدہ کیفے سے ملحق کریانے کی دُکان چلاتی تھیں جو اُن کے گھر کے بیرونی حِصّے میں قائم کیے گئے تھے۔

اَنّی ایغنو  نے اِزِیٹوکے ایک نجی کیتھولک  ثانوی سکول میں تعلیم حاصل کی،جہاں انھیں اپنے سے زیادہ نچلے متوسط طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے واسطہ پڑا، اور پہلی مرتبہ اپنے والدین اور ماحول کے محنت کش طبقے   کے پس منظر سے تعلق ہونے پر شرمندگی کے شدید احساس اور سماجی طبقاتی جدوجہدسے سے روشناس کروایا جس نے تاحیات اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔  ۱۹۵۸ء میں، اٹھارہ سال کی عمر میں، وہ  پہلی مرتبہ سمر کیمپ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پورے موسمِ گرما کے لیے اپنے گھر سے نکلیں، جہاں انھیں اپنے ہم سن ایک گروہ کے ساتھ پہلی بار رہتے ہوئے اپنے پہلے جنسی تجربات ہوئے۔

۱۹۶۰ء میں ایک جوڑے کے طورپر لندن میں قیام کرنے کے بعدانھوں واپس فرانس لوٹ کر جامعہ  رُوآں سے فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی اور ثانوی مکتب کی فرانسیسی کی معلمہ بن گئیں۔ پھر وہ۱۹۷۷ء میں سینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن میں ایک عہدے پر متمکن ہوگئیں۔    ۱۹۶۷ء میں اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان، جس میں اُن کی صرف ایک ماں تھی،  ۱۹۷۷ء میں پیرس میں بننے والی ایک نئی آبادی سہرجی پونٹواہز میں منتقل ہو گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے آپ کو لکھنے کے لیے وقف کر دیا۔

تخلیقات:

اُنھوں نے اپنا پہلا ناول ’’صفایا‘‘۱۹۷۴ء میں شائع کیا، جو اُن کے ۱۹۶۴ء میں اسقاطِ حمل کے تجربے سے گزرنے کا افسانوی بیانیہ ہے۔ لیکن اس کے بعد  انھوں نے  روایتی تحریروں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے سوانحی موضوعات کا اپنی لکھتوں کا محورومرکز بنا لیا۔ اُن کی اب تک منصۂ شہود پر آنے والی کتب میں ’’وہ کچھ کہتے ہیں یا نہیں‘‘ (۱۹۷۷ء)؛ ’’ایک منجمد عورت‘‘ (۱۹۸۱ء)؛ ’’مقامِ مرد‘‘  (  ۱۹۸۳ء)؛ ’’کتھا ایک عورت کی‘‘  (۱۹۸۸ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’خارجی ‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’حیا‘‘ (۱۹۹۷ء)؛ ’’میں تاریکی میں رہتی ہوں  ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’بیرونِ حیات‘‘ (۱۹۹۳ء،۱۹۹۹ء،۲۰۰۰ء)؛ ’’وقوعہ؍حادثہ‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’گم شدگی ‘‘ (۲۰۰۱ء)؛ ’’پیشہ ‘‘ (۲۰۰۲ء)؛ ’’فوٹوگرافی کا استعمال‘‘ (۲۰۰۵ء)؛ ’’برس ہا برس‘‘ (۲۰۰۸ء)؛  ’’دخترِ ثانی‘‘ (۲۰۱۱ء)؛ ’’روشنیاں دیکھو، میرے پیارے‘‘ (۲۰۱۴ء)؛ ’’کتھا ایک دوشیزہ کی‘‘ (۲۰۱۶ء)؛ ’’ہوٹل کاسانووا‘‘ (۲۰۲۰ء)؛ ’’نوجوان‘‘ (۲۰۲۲ء) شامل ہیں۔

اسلوب:

اَنّی ایغنو اپنے سوانحی ناولوں کے لیے پہچانی جاتی ہیں جو سماجی طبقے، جنس اور ذاتی یادداشت کے موضوعات کو کٹھور اور معروضی انداز کے وسیلے سے کھوجتی ہیں۔ اُن کی پہچان ایک منفرد ادبی نقطۂ نظر کی حامل کے طور پر ہے، جسے ’’آٹو-سوشیو-بایوگرافی‘‘ یا ’’سماجی خودنوشت‘‘کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی تخلیقات میں اکثر اپنی زندگی کو بطور موضوع برتتے ہوئے مستقل طور پر صنف، زبان اور طبقے کے تفاوت کا جائزہ لیتی ہیں اور  ویرل، معروضی، اور بے ساختہ نثر برتتے ہوئے بغیر کسی پچھتاوے کے، چھلنی استعمال کیے بغیر مخصوص یادوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں ایک ایسا انداز جس کی وجہ سے وہ نوبیل انعام سے سرفراز ہوئیں۔

اعزازات و انعامات:

یوں تو اَنّی ایغنو کو اُن کے تخلیقی ادب پر بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے، جس کا آغاز ۱۹۷۷ء سے پرکس ایوارڈ سے ہی ہو گیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں سہرجی پونٹواہز یونیورسٹی، فرانس نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے  نوازا۔ ۲۰۱۹ء میں اُن کی خود نوشت ’’برس ہا برس‘‘ بُکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی اور ۲۰۲۲ء میں نوبیل انعام برائے ادب سے سرفراز ہوئیں۔ ۲۰۰۸ء  میں شائع ہونے والی کتاب ’’برس ہا برس‘‘ کو، جس میں ذاتی اور اجتماعی تاریخ کا ادغام کیا گیا، بیشتر ناقدین نے اس کے مواد اور اختراعی شکل دونوں کے لحاظ سے اَنّی کی اہم کامیابی گردانا ہے ۔

۰۰۰

Khalid_Farhad_Dhariwal_Punjabi_Writer_Translator_Punjabi_Fiction

خالد فرہاد دھاریوال

خالد فرہاد دھاریوال، پسرور، سیالکوٹ میں ۱۰ جولائی ۱۹۷۸ء کو پیدا ہوئے۔ وہ پنجابی کے ممتاز افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔ اپنی مادری زبان پنجابی کے علاوہ وہ اردو، ہندی اور سندھی زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’وٹانڈرا‘‘ ۲۰۰۷ء میں شائع ہوا تھا۔ ان کے مجموعے نے ادبی حلقوں سے خوب پذیرائی حاصل کی۔ ادبی نشستوں اور جرائد میں اس افسانوی مجموعے پر خاصے تبصرے کیے گئے اور بہت سے نقادوں نے اسے سراہا۔ خالد کو ان کے افسانوی مجموعے پر پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ سمیت کئی ادبی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

Leave a Comment

Authors

  • Annie_Ernuax_French_Writer_Nobel_Laureate_2022

    اَنّی ایغنو فرانسیسی ادیبہ ہیں جنھیں ۲۰۲۲ء کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اُنھیں نوبیل انعام سے سرفراز کرتے ہُوئے نوبیل کمیٹی نے اُنھیں اِس انعام کا حق دار اُن کے فکشن میں موجود اِن خصوصیات کی بِناء پر دیا : ’’اُن کے اُس حوصلے کے لیے جس سے وہ اپنی ذاتی یادوں کی جڑیں، بے اعتنائیاں اور اجتماعی پابندیوں کو لاتعلّق نکیلے پن سے بے نقاب کرتی ہیں۔‘‘

    سوانح حیات

    اَنّی ایغنو (پیدائشی نام: اَنّی ڈُشَّین) یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کو فرانس کے علاقے  لِلّے بون، نارمنڈی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہُوئیں۔ کچھ سال بعد اَنّی کے والدین اِزِیٹو چلے گئے، جہاں انھوں نے قصبے کے محنت کش طبقے کے علاقے میں ایک کیفے اور کریانے کی دکان کھول لی۔ اُن کے والد ایک کیفے اور والدہ کیفے سے ملحق کریانے کی دُکان چلاتی تھیں جو اُن کے گھر کے بیرونی حِصّے میں قائم کیے گئے تھے۔

    اَنّی ایغنو  نے اِزِیٹو کے ایک نجی کیتھولک  ثانوی سکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھیں اپنے سے زیادہ نچلے متوسط ​​طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے واسطہ پڑا، اور پہلی مرتبہ اپنے والدین اور ماحول کے محنت کش طبقے   کے پس منظر سے تعلق ہونے پر شرمندگی کے شدید احساس اور سماجی طبقاتی جدوجہدسے سے روشناس کروایا جس نے تاحیات اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔  ۱۹۵۸ء میں، اٹھارہ سال کی عمر میں، وہ  پہلی مرتبہ سمر کیمپ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پورے موسمِ گرما کے لیے اپنے گھر سے نکلیں، جہاں انھیں اپنے ہم سن ایک گروہ کے ساتھ پہلی بار رہتے ہوئے اپنے پہلے جنسی تجربات ہوئے۔

    ۱۹۶۰ء میں ایک جوڑے کے طور پر لندن میں قیام کرنے کے بعد انھوں واپس فرانس لوٹ کر جامعہ  رُوآں سے فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی اور ثانوی مکتب کی فرانسیسی کی معلمہ بن گئیں۔ پھر وہ۱۹۷۷ء میں سینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن میں ایک عہدے پر متمکن ہوگئیں۔    ۱۹۶۷ء میں اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان، جس میں اُن کی صرف ایک ماں تھی،  ۱۹۷۷ء میں پیرس میں بننے والی ایک نئی آبادی سہرجی پونٹواہز میں منتقل ہو گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے آپ کو لکھنے کے لیے وقف کر دیا۔

    تخلیقات

    اُنھوں نے اپنا پہلا ناول ’’صفایا‘‘۱۹۷۴ء میں شائع کیا، جو اُن کے ۱۹۶۴ء میں اسقاطِ حمل کے تجربے سے گزرنے کا افسانوی بیانیہ ہے۔ لیکن اس کے بعد  انھوں نے  روایتی تحریروں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے سوانحی موضوعات کا اپنی لکھتوں کا محورومرکز بنا لیا۔ اُن کی اب تک منصۂ شہود پر آنے والی کتب میں ’’وہ کچھ کہتے ہیں یا نہیں‘‘ (۱۹۷۷ء)؛ ’’ایک منجمد عورت‘‘ (۱۹۸۱ء)؛ ’’مقامِ مرد‘‘  (  ۱۹۸۳ء)؛ ’’کتھا ایک عورت کی‘‘  (۱۹۸۸ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’خارجی ‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’حیا‘‘ (۱۹۹۷ء)؛ ’’میں تاریکی میں رہتی ہوں  ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’بیرونِ حیات‘‘ (۱۹۹۳ء،۱۹۹۹ء،۲۰۰۰ء)؛ ’’وقوعہ؍حادثہ‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’گم شدگی ‘‘ (۲۰۰۱ء)؛ ’’پیشہ ‘‘ (۲۰۰۲ء)؛ ’’فوٹوگرافی کا استعمال‘‘ (۲۰۰۵ء)؛ ’’برس ہا برس‘‘ (۲۰۰۸ء)؛  ’’دخترِ ثانی‘‘ (۲۰۱۱ء)؛ ’’روشنیاں دیکھو، میرے پیارے‘‘ (۲۰۱۴ء)؛ ’’کتھا ایک دوشیزہ کی‘‘ (۲۰۱۶ء)؛ ’’ہوٹل کاسانووا‘‘ (۲۰۲۰ء)؛ ’’نوجوان‘‘ (۲۰۲۲ء) شامل ہیں۔

    اسلوب

    اَنّی ایغنو اپنے سوانحی ناولوں کے لیے پہچانی جاتی ہیں جو سماجی طبقے، جنس اور ذاتی یادداشت کے موضوعات کو کٹھور اور معروضی انداز کے وسیلے سے کھوجتی ہیں۔ اُن کی پہچان ایک منفرد ادبی نقطۂ نظر کی حامل کے طور پر ہے، جسے ’’آٹو-سوشیو-بایوگرافی‘‘ یا ’’سماجی خودنوشت‘‘کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی تخلیقات میں اکثر اپنی زندگی کو بطور موضوع برتتے ہوئے مستقل طور پر صنف، زبان اور طبقے کے تفاوت کا جائزہ لیتی ہیں اور  ویرل، معروضی، اور بے ساختہ نثر برتتے ہوئے بغیر کسی پچھتاوے کے، چھلنی استعمال کیے بغیر مخصوص یادوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں ایک ایسا انداز جس کی وجہ سے وہ نوبیل انعام سے سرفراز ہوئیں۔

    اعزازات و انعامات

    یوں تو اَنّی ایغنو کو اُن کے تخلیقی ادب پر بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے، جس کا آغاز ۱۹۷۷ء سے پرکس ایوارڈ سے ہی ہو گیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں سہرجی پونٹواہز یونیورسٹی، فرانس نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے  نوازا۔ ۲۰۱۹ء میں اُن کی خود نوشت ’’برس ہا برس‘‘ بُکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی اور ۲۰۲۲ء میں نوبیل انعام برائے ادب سے سرفراز ہوئیں۔ ۲۰۰۸ء  میں شائع ہونے والی کتاب ’’برس ہا برس‘‘ کو، جس میں ذاتی اور اجتماعی تاریخ کا ادغام کیا گیا، بیشتر ناقدین نے اس کے مواد اور اختراعی شکل دونوں کے لحاظ سے اَنّی کی اہم کامیابی گردانا ہے ۔

    ۰۰۰

    View all posts
  • Khalid Farhad Dhariwal - Punjabi Writer - Translator

    خالد فرہاد دھاریوال، پسرور، سیالکوٹ میں ۱۰ جولائی ۱۹۷۸ء کو پیدا ہوئے۔ وہ پنجابی کے ممتاز افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔ اپنی مادری زبان پنجابی کے علاوہ وہ اردو، ہندی اور سندھی زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’وٹانڈرا‘‘ ۲۰۰۷ء میں شائع ہوا تھا۔ ان کے مجموعے نے ادبی حلقوں سے خوب پذیرائی حاصل کی۔ ادبی نشستوں اور جرائد میں اس افسانوی مجموعے پر خاصے تبصرے کیے گئے اور بہت سے نقادوں نے اسے سراہا۔ خالد کو ان کے افسانوی مجموعے پر پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ سمیت کئی ادبی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

    View all posts
تراجم عالمی ادب