تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

عربی کہانی

اندھیری رات میں

محمود تیمور

Mahmud Taymur

تعارف و ترجمہ؍ ڈاکٹر عمیر رئیس الدّین

شیخ حابی اپنے گھر کے سامنے چھوٹے سے باغ میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ غور سے دیکھا تو محسوس ہوا کہ ایک نوجوان بوجھل قدموں کے ساتھ بڑی مشکل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چہرہ گرد و غبار میں اٹا ہوا تھا اور آنکھوں میں خوف و دہشت نمایاں تھی۔ نوجوان کے ہاتھ میں بانسری تھی۔ شیخ حابی اُس نوجوان کے قریب جانے میں ہچکچانے لگے۔ وہ آہستہ آہستہ شیخ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کی دھیمی آواز اب صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ شیخ حابی کو پکار رہا تھا۔ ’’آپ ہی شیخ حابی ہیں؟‘‘

’’کیا مطلب ہے تمھارا، بیٹا؟‘‘

نوجوان شیخ حابی کے سامنے گر گیا۔ وہ فوراً اس کی طرف لپکے اور اپنے دونوں بازوؤں سے اُٹھا کر اسے سینے سے لگا لیا اور پوچھا۔ ’’کیا تم بیمار ہو؟‘‘

’’نہیں… مجھے بھوک لگ رہی ہے۔

’’شیخ حابی اُسے لے کر فوراً اپنے گھر کی طرف آئے اور دروازے کے پاس کھلی چھت کے نیچے بٹھا کر دودھ سے بھرا ہوا ایک گلاس لے آئے۔ اُس انجانے نوجوان نے سیر ہو کر دودھ پیا، پھر لمبی سانس بھری اور شیخ کا شکریہ ادا کیا۔کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ پھر نوجوان نے سر اُٹھایا اور حیرانی سے شیخ کو دیکھنے لگا۔ شیخ صاحب نے محبت و شفقت سے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’بولو بیٹا، کیا بات ہے! ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ تمھارا کیا مسئلہ ہے؟ شیخ حابی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتے!‘‘

نوجوان نے شیخ کا ہاتھ تھام لیا اور گرمجوشی سے دباتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ صاحبِ کرامت ہیں… میں آپ سے ایک کرامت چاہتا ہوں!‘‘

شیخ حابی نوجوان کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگے۔ وہ اس غبار آلود اور تھکے ہوئے شخص کے دل میں چھپے راز کو جانچنے کی کوشش کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد شیخ نے کہا۔ ’’کرامت؟ اے میرے بچے، میں نجومی نہیں ہوں۔‘‘

’’آپ نجومی سے بھی بڑے ہیں!‘‘

’’تم کیا چاہتے ہو بیٹا؟ صحیح سے بتاؤ۔‘‘

’’آپ کا تعویذ اور دوا خدائی طاقت رکھتی ہے!‘‘

’’نہیں بیٹا، میں تو بس ایک عبادت گزار حکیم ہوں۔ میں لوگوں کا روحانی اور جسمانی علاج کرتا ہوں۔‘‘

’’نوجوان اپنے کپڑے سمیٹ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا ’’یہ سچ ہے کہ ایزیس میری روح کو میرے جسم سے دور لے گیا تاکہ وہ اس کی تربیت کر سکے‘‘

’’بیٹا گھبراؤ نہیں، سکون سے بیٹھ جاؤ۔‘‘

’’میں اس بےکار مردہ جسم سے نفرت کرتا ہوں۔ آپ میری نئی تخلیق کر دیں اور مجھے با رعب، طاقتور اور صاحبِ اقتدار بنا دیں!‘‘

شیخ حابی نے محبت سے نوجوان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے نرمی سے اُٹھا کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ پھر کچھ دیر بعد سنجیدگی سے کہا۔ ’’بیٹا، مجھے اپنی کہانی سناؤ۔ میں غور سے سنوں گا۔‘‘

نوجوان نے اپنا چہرہ ہتھیلیوں پر ٹکا لیا اور بڑے صحن میں ادھر اُدھر دیکھتا رہا۔ ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کچھ دیر کے بعد وہ بولا۔ ’’میں راموسی ہوں… لیکن آپ کو میرے نام سے کیا لینا! ویسے بھی راموسی ایک اسمِ نکرہ ہے جس کی موجودگی کا کسی کو احساس نہیں‘‘

’’بولو بیٹا!‘‘

’’میں یہاں سے دور ایک مہینے کی مسافت پر رہتا ہوں۔

’’اچھا…‘‘

’’ رنسی شہر میں۔‘‘ جی، چار معابد اور پانچ ستون والا شہر، جس کے ہر ستون کے چار کونے ہیں۔ جہاں شہزادی اشمس رہتی ہے۔‘‘

وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوا پھر اچانک بولا۔ ’’میں بڑا بننا چاہتا ہوں!  میں دولت مند بننا چاہتا ہوں!  میری تجوریاں مال سے بھری ہوں۔ میں چاہتا ہوں… میں چاہتا ہوں!‘‘ شیخ حابی آہستہ سے مسکرائے اور اس کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔ ’’یہ کوئی ناممکن بات نہیں۔‘‘

نوجوان خوشی سے دمک اُٹھا۔ ’’یعنی آپ میرے لیے یہ کرامت کر دیں گے؟‘‘

’’بیٹا، جس کو تم کرامت کہہ رہے ہو، میں اسے صرف ایک کام سمجھتا ہوں۔ اور یہ کام صرف چند لوگ ہی کر سکتے ہیں۔‘‘

راموسی خوشی سے اُچھل پڑا، شیخ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا۔ ’’شکریہ! شکریہ! میں آپ کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا! لیکن ابھی میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں… سوائے‘‘

وہ رک گیا۔ پھر اپنے پاس رکھی بانسری کے ساتھ ایک چھوٹی دھاتی چیز شیخ کے سامنے رکھ دی۔ ’’یہ جو کچھ بچا ہے، اسی کا میں مالک ہوں۔ یہ آپ کے لیے ہے۔ میں جانتا ہوں یہ بہت تھوڑا ہے۔‘‘

’’ہرگز نہیں، بیٹا! یہ تمھارے لیے بہت ہے۔ مجھے لوگوں کے عطیات کی ضرورت نہیں۔‘‘شیخ حابی اُٹھے۔ ’’بیٹا، ٹھنڈ بڑھ رہی ہے، آؤ اندر چلیں۔‘‘

دونوں کھلی چھت چھوڑ کر ایک کم چھت والے کمرے میں آگئے جس کی چھت گھاس پھوس سے ڈھکی ہوئی تھی۔ شیخ حابی نے تیل کا چراغ روشن کیا، دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ راموسی سامنے بیٹھ گیا۔ چراغ دونوں کے درمیان تھا۔کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر شیخ نے کہا۔ ’’بیٹا، بولو۔ میں سن رہا ہوں۔‘‘

راموسی چراغ پر نظریں جمائے بولا۔ ’’میں آپ کو اپنی کہانی کیسے سناؤں؟ کہاں سے شروع کروں؟ جس کے بارے میں میں سوچتا ہوں وہ پاگل پن ہے، دیوانگی ہے… مگر میں اس پر شرمسار نہیں۔ میں بےکار زندگی گزار رہا تھا۔ اپنے مسمار گھر سے نہر تک جاتا، شہزادوں کے باغوں کے قریب گھومتا۔ پھولوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتا۔ تھک جاتا تو ساحل کے پاس لیٹ کر اپنی بانسری بجاتا۔‘‘

’’کیا تم موسیقار ہو؟‘‘

’’نہیں… بس اپنے لیے گنگناتا ہوں۔‘‘

وہ بانسری دکھاتے ہوئے بولا۔ ’’یہ میری ساتھی ہے۔ میرے سارے راز جانتی ہے۔ میرے دل میں جو بھی لالچ یا سکون ہے… یہ سب جانتی ہے۔ شیخ، میں نے خود کو آپ کے حوالے کر دیا ہے۔ جیسے چاہیں، میری صورت گری کیجیے۔‘‘

’’کیا تم اپنی پرسکون زندگی میں خوش نہیں؟‘‘

’’بالکل خوش ہوں۔‘‘

’’پھر وہی تمھاری حالت بدل سکتی ہے۔‘‘

’’وہ کون؟‘‘

’’وہی جس کا ذکر تم نے رنسی شہر کے ساتھ کیا تھا‘‘

’’اچھا… اشمس! شہزادیوں کی شہزادی!‘‘

’’اپنی بات پوری کرو!‘‘

راموسی نے گہری سانس لی۔ ’’ایک دن میں نے اسے دیکھا… اس کے حسن نے مجھے پہلی نظر میں دیوانہ کر دیا۔ میں درختوں کے پیچھے سے اسے دیکھتا رہا۔ میرا دل روشنی سے بھر گیا۔ ایک نئی دنیا سامنے آگئی۔ میں نے وعدہ کیا کہ وہ صرف میری ہے۔ مگر میں نہ پیچھے ہٹ سکتا تھا، نہ آگے بڑھ سکتا تھا۔ اس دن کے بعد میں روز اس باغ کے راستے چلنے لگا۔ وہ مجھے نہیں دیکھتی تھی، میں اسے دیکھتا رہتا تھا۔

’’میں نے اپنے لیے اندھیرا مقام چن لیا۔ اپنی بانسری میں اپنے دکھ سمیٹا۔ کبھی کسی سرگوشی کی طرح آواز آتی: کیوں اس کے نزدیک نہیں جاتے؟ کیوں اپنی بات نہیں کہتے؟

’’شیخ! میں نے کئی راتیں اس کے خیال میں گزار دیں۔ ضروری ہے کہ آپ کوئی کرامت کریں جو میری فقیرانہ زندگی کو شہزادے کی زندگی بنا دے۔ فرعون مجھ سے خوش ہو جائے، ایزیس میری طرف متوجہ ہو جائے!

’’ایک دن جب تنگدستی حد سے بڑھی تو میں نے دریا کی طرف دوڑ لگا دی، تاکہ مگرمچھوں کے حوالے ہو جاؤں… مگر اتنے میں ایک آواز آئی۔ ’حابی حکیم کے پاس جاؤ… ان کے پاس کرامت ہوگی!‘‘‘

شیخ حابی زیرِ لب بڑبڑائے۔ ’’کیا… کیا اُس آواز لگانے والے نے یہ کہا؟‘‘

’’ایزیس کے خدا کی قسم! میں نے بالکل واضح اُس کی آواز اپنے کانوں میں سنی۔ مگرمچھ اپنے سروں کو باہر نکال کر میری طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے انھوں نے مجھے پا لیا، مگر میں نے دریا کے پار چھلانگ لگا دی۔ کیا میں ایسا کرنے کے لیے تیار تھا؟ میں نہیں جانتا! مجھے محسوس ہوا کہ ایک غیر مرئی الٰہی قوت مجھے اُٹھائے ہوئے ہے۔دوسرے دن میں نے اپنا سب کچھ بیچ دیا اور اپنا زادِ راہ لے کر آپ کے در پر چلا آیا۔‘‘

شیخ حابی نے راموسی کے دونوں ہاتھ تھام کر دباتے ہوئے کہا۔ ’’اے لڑکے! کرامت ہوگی۔ مجھ پر بھروسہ رکھو۔‘‘

’’یعنی آپ مجھے سب سے برتر شہزادہ بنا دیں گے اور اشمس میری شہزادی بن جائے گی؟‘‘

شیخ نے جواب دیا۔ ’’بیٹا! میں ایسے کام نہیں کرتا، البتہ جو کچھ میرے پاس علم ہے اُس کے ذریعے میں تمھاری نفسیات بدل دوں گا۔‘‘

راموسی بولا۔ ’’میرے شیخ! تھوڑی تو وضاحت کیجیے۔‘‘

شیخ نے کہا۔ ’’میں تمھارے اندر سب کچھ بدل دوں گا۔ تمہاری اصل خصوصیات یکسر تبدیل ہوجائیں گی۔ سستی و کاہلی کی جگہ چستی اور سرگرمی لے لے گی۔ قناعت چمکدار لالچ میں بدل جائے گی۔ رحمت سختی کے لیے اپنے دروازے کھول دے گی۔ تمھاری زندگی، اے راموسی! بھڑکتے آتش فشاں کی طرح ہوجائے گی جس کی دہاڑ اور شعلے کبھی کم نہیں ہوں گے۔‘‘ راموسی نے سر جھکا کر کہا۔ ’’اے شیخ! مال و دولت، عزت اور فخر و شرف حاصل کرنے کا اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔‘‘ پھر کچھ دیر خاموش رہ کر بولا۔ ’’ لیکن میری محبت؟ میری محبت کا کیا ہوگا؟ کیا میرا پیار بھی بدل جائے گا؟‘‘

شیخ نے کہا۔ ’’تمھاری محبت ہمیشہ تمھاری روح کے ساتھ رہے گی۔ لیکن‘‘

راموسی بے چین ہوا۔ ’’لیکن کیا؟‘‘

شیخ نے فرمایا۔ ’’میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ کرامت کے بعد تم نئی حالت میں خوش رہوگے۔ یہ تمھاری پرانی یادیں کبھی تمھیں تنگ نہیں کریں گی۔‘‘

راموسی نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے شیخ، آپ جیسی صورت گری کرنا چاہتے ہیں کر گزریں۔‘‘

وقت گزرتا گیا۔ یورپ کے بادشاہ نے مصر پر قبضہ کی لالچ میں لشکر روانہ کیا۔ شمالی علاقوں پر حملہ کرنے میں اسے کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ عظیم کمانڈر رودا جنگ میں مارا گیا، جسے فرعون نے دفاع کے لیے بھیجا تھا۔ اس کے بعد کوئی بڑا کمانڈر باقی نہ رہا۔ اگر اللہ ان جنگجوؤں میں سے ایک نوجوان کو رہنما نہ بناتا تو فوج بکھر جاتی۔اسی نوجوان نے فوج کو متحد کیا، شکست کو حملوں میں بدلا اور دشمن کو پسپا کردیا۔ وہ نوجوان ’’امیرِ اسود‘‘ کہلایا، کیونکہ وہ سیاہ لباس پہنتا تھا۔ اس نے ریاستیں فتح کیں اور یورپ کو فرعون کے سامنے سرنگوں کردیا۔

جب امیرِ اسود فتح سے لوٹا تو رنسی شہر میں جشن منایا گیا۔ قیدیوں کے ہاتھ کاٹ کر ساتھ لائے گئے تاکہ فرعون کے سامنے علامتی طور پر جھکائے جائیں۔ ہر طرف تیاری مکمل تھی مگر شہزادی اشمس محفل میں شریک ہونے سے کتراتی رہی۔ادھر امیرِ اسود نے پیغام بھیجا کہ وہ غروبِ آفتاب سے پہلے شہزادی سے ملنا چاہتا ہے۔ شہزادی نے معاملے کی نزاکت دیکھتے ہوئے محل کو تیار کرنے کا حکم دیا۔

سورج غروب ہونے لگا تو محل موتیوں کی طرح جگمگا اٹھا۔ خوشبوئیں پھیل گئیں۔ شہزادہ محل میں داخل ہوا تو اس کے قدموں کی چاپ سے پورا محل گونج اٹھا۔ وہ بڑی لابی میں داخل ہوا تو شہزادی کو درمیان میں کھڑا دیکھا۔ وہ رک گیا، دیر تک دیکھتا رہا۔ساتھی نے سرگوشی کی۔ ’’میرے آقا! شہزادی آپ کی منتظر ہے۔‘‘وہ آگے بڑھا مگر قدموں کی چاپ نہ سنائی دی۔ وہ شہزادی کے سامنے ایسے جھکا جیسے خدا کے حضور جھکا ہو۔

شہزادی نے اُسے اٹھایا اور کہا۔ ’’ہمارا فرض ہے کہ ہم عظیم بچانے والے کے سامنے جھکیں۔‘‘

شہزادہ نے جواب دیا۔ ’’معاف کیجیے ملکہ عالیہ! اس خدائی حسن و جمال کے آگے ایک عظیم رہنما بھی خود کو چھوٹا پاتا ہے۔ ہم سب آپ کے مخلص پیروکار ہیں۔‘‘

مجلس ختم ہونے لگی۔ کمانڈر نے جنگی واقعات سنائے اور کہا۔ ’’فرعون کا کوئی وارث نہیں، کاہنوں نے اس سے ایک شہزادہ مقرر کرنے کو کہا ہے۔‘‘

شہزادی نے پوچھا۔ ’’کیا بادشاہ نے اُس خوش قسمت کا انتخاب کرلیا ہے؟‘‘

شہزادہ مسکرایا۔ ’’وہ اسے مخفی رکھے ہوئے ہیں۔ کل اعلان ہوگا۔‘‘

پھر شہزادی نے کہا۔ ’’کیا ہم  شہ نشین پر چلیں؟ میں آپ کو ایک کہانی سنانا چاہتی ہوں۔‘‘

اس نے قدیم زمانے کی ایک لڑکی کی کہانی سنائی جو دولت مند تھی مگر محبت کی تلاش میں تھی۔ دولت مند شہزادوں نے شادی کی پیشکش کی مگر اس نے سب ٹھکرا دیا کیونکہ اس کے دل میں کسی اَن جانے غریب شاعر کا مقام تھا۔ایک ایسا نوجوان جو باغوں میں پھرتا، دریا کے کنارے بیٹھتا، فطرت سے باتیں کرتا اور اپنی بانسری کی دھنیں چھیڑتا۔

شہزادہ لرز گیا۔شہزادی نے بتایا کہ وہ شاعر کبھی نہ ملا۔ لوگ کہتے تھے کہ اسے مگرمچھوں نے کھا لیا۔ لڑکی دو سال تک غم میں رہی، پھر بڑی مشکل سے شادی پر آمادہ ہوئی مگر اس کا دل ہمیشہ اس غریب شاعر کے ساتھ رہا۔کہانی ختم ہوئی تو وہ بولی۔ ’’کیا تم چاہتے ہو کہ میں اس کہانی کو مکمل کردوں؟‘‘

شہزادہ بولا۔ ’’اگر تم چاہو تو میں مکمل کردوں۔‘‘

شہزادی نے پوچھا۔ ’’کیسے؟ کیا تم اسے جانتے ہو؟‘‘

شہزادے نے جواب دیا۔ ’’میں نے تمھاری ذہانت سے اس کا انجام جان لیا ہے۔‘‘ اس نے ستاروں کی طرف دیکھا، شہزادی کے سامنے جھکا، اُس کا ہاتھ چوما اور کہا۔ ’’جو کچھ آپ نے میرے اچھے استقبال کے لیے کیا، میں کبھی نہیں بھولوں گا۔‘‘

پھر وہ بغیر پلٹے رخصت ہوگیا، اپنا رتھ لیا اور تنہا اندھیروں کو چیرتا صحرا کی طرف روانہ ہوگیا۔

۰۰۰۰

محمود تیمور Mahmud Taymur عربی افسانہ نگار

محمود تیمور

 محمود تیمور افسانوی ادب کے بانی و موجد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ وہ ۱۸۹۴ء میں قاہرہ کے قدیم قصبہ دربِ سعادۃ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا گھر علمی و ادبی مجالس کا مرکز تھا۔ آپ کے والد احمد تیمور پاشا مصر کی اُن نمایاں ادبی شخصیات میں سے تھے جو قدیم علمی و ادبی سرمایہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ آپ ’’الخزانة التيمورية‘‘ اور ’’القاموس اللغة العامية‘‘ کے مؤلف تھے۔ محمود تیمور کی پھوپھی عائشہ تیمور بھی نمایاں شاعرہ تھیں جنھوں نے عربی و ترکی دونوں زبانوں میں دیوان تحریر کیے۔ ان کے بھائی محمد تیمور بھی معروف ادیب و قلمکار تھے، جنھوں نے فرانس میں رہ کر ڈرامہ نگاری میں کمال حاصل کیا۔

قومی و بین الاقوامی سطح پر محمود تیمور کے افسانوں کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کے بیشتر افسانوی مجموعے انگریزی، فرانسیسی، جرمن، روسی، چینی، ہسپانوی اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔

اعزازات

 محمود کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں مختلف انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔  ۱۹۴۷ء میں مجمع قاہرہ برائے عربی زبان نے فصیح عربی میں لکھے گئے ان کے افسانوں کے اعتراف میں انھیں ایوارڈ سے نوازا۔ ۱۹۴۹ء میں محمود تیمور اسی مجمع کے تاحیات رکن مقرر ہوئے اور طٰہ حسین جیسی قدآور شخصیت نے ان کا استقبال کیا۔ ۱۹۵۰ء میں ان کو دو نمایاں افسانوی مجموعوں ’’إحسان لله‘‘ اور ’’وكل عام وأنتم بخير‘‘ کے اعتراف میں ملکی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۱۹۵۱ء میں انھیں ملک فؤاد اول ایوارڈ دیا گیا۔ اسی سال پیرس میں مصر و فرانس کی مشترکہ ادبی وسائٹی نے ان کے فرانسیسی ترجمہ ’’عزرائيل القرية وقصص أخرى‘‘ کے اعتراف میں واصف غالی ایوارڈ سے نوازا۔ درحقیقت، افسانہ نگاری میں محمود تیمور کو بڑا مقام حاصل تھا۔

اسلوب

محمود تیمور کے افسانوں کا بنیادی موضوع انسان اور اس کے مسائل ہیں۔ وہ انسانی جذبات، سماجی رویّوں اور نفسیاتی کیفیات کو نہایت حقیقت پسندانہ اور سادہ اسلوب میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں علاقائی حدود سے بلند ہو کر فطرت کے حسین مناظر، موسیقی کی دلکشی اور انسانی زندگی کی رنگینیوں کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔

۰۰۰۰

ڈاکٹر عمیر رئیس الدّین۔ ترجمہ نگار

ڈاکٹر عمیر رئیس الدّین ایک ماہر تعلیم، محقق، ترجمہ نگار اور کالم نویس کی حیثیت سے جانے جاتےہیں۔  مختلف علمی، ادبی اور تحقیقی مجلات میں بحیثیت انتظامی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔  انھوں نے جامعہ کراچی سے عربی زبان وادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ تدریس کے ساتھ ساتھ ادب، تحقیق اور ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ڈاکٹر عمیر ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے تسلیم شدہ سپروائزر بھی ہیں۔ مختلف علمی، ادبی اور تحقیقی مجلات میں بحیثیت انتظامی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ تاریخ، ادبیات اور لسانیاتی مطالعات آپ کے نمایاں موضوعات ہیں۔

۰۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب