
گھر سے خط ؍ جمیکا کنکیڈ ؍ طوبیٰ اسماعیل
ایک رات جو اندھیری تھی، ایک چاند جو پورا تھا، نیند بھرا ایک بستر تھا۔ایک حرکت جو تیز تھی، ایک وجود جو ساکن کھڑا تھا، ایک جگہ جو کہ بھری ہوئی تھی، پھر وہاں کچھ نہیں تھا….۔

ایک رات جو اندھیری تھی، ایک چاند جو پورا تھا، نیند بھرا ایک بستر تھا۔ایک حرکت جو تیز تھی، ایک وجود جو ساکن کھڑا تھا، ایک جگہ جو کہ بھری ہوئی تھی، پھر وہاں کچھ نہیں تھا….۔

گُزشتہ روز میری ایک دوست نے مجھے اپنے ایک پڑوسی کی دُکھ بھری کہانی سنائی۔ اُس کے پڑوسی کی ایک آن لائن دوستی سروس کے ذریعے ایک اجنبی سے بات چیت شروع ہو گئی۔ اُس کا وہ دوست اُس سے سینکڑوں مِیل دُور شمالی کیرولینا میں رہتا تھا۔ دونوں میں پہلے پیغامات کا، پھر تصویروں کا تبادلہ…۔

میں نے اس بارے میں بہت سوچا، اپنے دماغ پر زور ڈالا کہ پتا چلے اصل معاملہ کیا ہے— جیسے کہ ابھی آپ کے سامنے کوشش کر رہا ہوں— لیکن بہتر ہے اعتراف کر لوں کہ میں کامیاب نہیں ہوا: مجھے نہیں معلوم آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں،…۔