
بڑے بھائی، ہم شادی کر لیں؍مویان؍نجم الدّین احمد
اگرچہ میں نے کبھی برملا اظہار نہیں کیا لیکن مجھے اعتراف ہے کہ ذاتی طور پر مجھے خالہ کے شادی کے منصوبوں سے اختلاف تھا۔.. ہم چھوٹے تھے تبھی سے خالہ کو خاوند کی تلاش میں سرگرداں دیکھ رہے تھے۔…۔

اگرچہ میں نے کبھی برملا اظہار نہیں کیا لیکن مجھے اعتراف ہے کہ ذاتی طور پر مجھے خالہ کے شادی کے منصوبوں سے اختلاف تھا۔.. ہم چھوٹے تھے تبھی سے خالہ کو خاوند کی تلاش میں سرگرداں دیکھ رہے تھے۔…۔

میری عمر اس وقت چالیس سال ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ چالیس سال ایک پوری زندگی ہے؛ یہ کافی عمر رسیدگی ہے۔ چالیس سال کی عمر سے زیادہ جینا ایک بد تمیزی ہے؛ بیہودگی اور غیر اخلاقی ۔ چالیس سال کے اوپر کون جیتا ہے؟ اس کا خلوص اور ایمان داری سے جواب دیں…۔

سب سے نزدیکی کلیسا جنوب مغرب میں چار کلومیٹر دور،پرانے ہوخ مائس کے کھیت میں تھا۔ لیکن وہ ایک ویران کھنڈر تھا، جس میں گھنٹی تھی نہ مینار— جوجنگ کے دوران گرچکا تھا۔ اورشہر اتنا دورتھا کہ وہاں سے کوئی آواز یہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی، وہ…۔

آج بھی کبھی کبھار شاموں میں مجھے گلیوں میں سنائی دیتا ہے کہ کوئی مجھے میرے نام سے پکار رہا ہے۔ ایک گھٹی ہوئی آواز۔ یہ ایک خاص لہجے کی آواز ہوتی ہے اور میں اسے فوراً پہچان جاتاہوں۔ لوکی کی آواز۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔… جب ہم واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی ذات کی…۔

وہ عورت اپنے دونوں ہاتھ سینے کے سامنے جوڑ لیتی ہے۔بھنویں سکیڑتی ہے اور تختہ سیاہ کی طرف دیکھتی ہے۔
’’ٹھیک ہے ، یہ پڑھو ۔‘‘ موٹے شیشوں اور سرمئی فریم کی عینک والے شخص نے مسکراتے ہوئے کہا۔
عور ت کے ہونٹ پھڑکتے ہیں۔ وہ اپنی زبان کی نوک…۔

جب تک کہ وہ سبزی خور نہیں ہوئی میں اپنی بیوی کو ہمیشہ اور ہر حوالے سے ایک نہایت عام عورت خیال کیا کرتا تھا۔ سچ بتاؤں تو پہلی ملاقات میں وہ مجھے کچھ خاص محسوس نہیں ہوئی تھی درمیانہ قد، تراشیدہ زلفیں (نہ ایسی لمبی کہ شبِ فراق کا گمان ہو اور نہ ہی بالکل چھوٹی کہ جیسے…۔

میری ماں کا پہلا بچّہ فوت ہو گیا تھا، مجھے حیات میں آنے کے بعد دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں بتا دیا گیا تھا۔
مجھے بتا دیا گیا تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی، ہلالی چاند جیسے چاولوں کے کیک ایسے سپید چہرے والی۔ گو وہ بہت چھوٹی تھی، ستوانسی، لیکن اُس کے نقوش کامل تھے۔ مَیں وہ لمحہ…۔

تین دنوں کے بجائے جناب حوزے کے بُخار کو اور کھانسی کو ٹھیک ہونے میں پورا ہفتہ لگا۔نرس روزانہ اُسے ٹیکہ لگانے اور کچھ کھانے کے لیے لے کر آتا،ڈاکٹر ایک دِن کے وقفے کے بعد آتا لیکن اِسے ڈاکٹر کااحساسِ ذمہ داری نہیں کہا جاسکتااور نہ ہی محکمہ صحت کے حکام کی کسی تخیلاتی…۔