تراجم عالمی ادب

Author: ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

Author

  • معروف پاکستانی ادیب ڈاکٹر ناصر عباس نیّر افسانہ نویس اور نقاد ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج ، لاہور میں اردو زبان و ادب کےمعلم اور اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر ۲۵ اپریل ۱۹۶۵ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی۔ ۱۹۸۷ء میں بی اے اور ۱۹۸۹ء میں ایم اے (اردو) جامعہ پنجاب، لاہور سے کیا۔۲۰۰۳ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ’’اردو تنقید میں جدیدیت اور مابعد جدیدیت‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ایم فل کیا سے اور بہاء الدّین ذکریا یونیورسٹی، ملتان سے ’’اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا۔۲۰۰۱ء میں انھیں ہائیڈل برگ یونیورسٹی، جرمنی کی طرف سے ’’اردو ادب کا نوآبادیاتی دور‘‘ کے موضوع پر پوسٹ ڈاکٹورل اسکالرشپ ملی۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کو جرمنی میں قیام کے دوران نو آبادیاتی عہد کی سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا جس نے اُن کے وژن کو تبدیل کر دیا اور وہ بالکل نئے زاویے سے اردو ادب کے تخلیقی عمل کی ترجیحات کو دیکھنے لگے۔ وہ کئی علوم کے تناظر میں اُس عہد کی ادبی سرگرمی اور تخلیقی عمل کو دیکھتے ہیں جس کے سبب ان کے ہاں ایک الگ تنقیدی جہت آ جاتی ہے۔ انھوں نےنئی اصطلاحات کی حامل ایک نئی تنقیدی زبان اردو ادب میں متعارف کروائی ہے ۔ تنقید کا یہ انداز اگر چہ مغرب سے مستعار لیا گیا ہے مگر اس کی وجہ سے اردوکے فکشن نگاروں اور شاعروں کے تخلیقی کام کی نئی جہات سامنے آئیں۔ اُنھوں نےتنقید کی بے شمار کتب تخلیق کیں جن میں ’’دن ڈھل چکا تھا‘‘ (۱۹۹۳ء)، ’’چراغِ آفریدم‘‘ (۲۰۰۰ء)، ’’جدیدیت سے پس جدیدیت تک‘‘ (۲۰۰۰ء)، ’’نظیر صدیقی: شخصیت اور فن‘‘ (۲۰۰۳ء)، ’’جدید اور ما بعد جدید تنقید‘‘ (۲۰۰۴ء)، ’’ساختیات:ایک تعارف‘‘ (۲۰۰۶ء)، ’’مابعد جدیدیت:نظری مباحث‘‘ (۲۰۰۷ء)، ’’مجید امجد: شخصیت اور فن‘‘ (۲۰۰۸ء)، ’’لسانیات اور تنقید‘‘ (۲۰۰۹ء)، ’’مابعد جدیدیت: اطلاقی جہات‘‘ (۲۰۱۰ء)، ’’آزاد صدی مقالات‘‘(بہ اشتراک ڈاکٹر تحسین فراقی) (۲۰۱۰ء)، ’’متن، سیاق اور تناظر‘‘ (۲۰۱۳ء)، ’’مابعد نوآبادیات اردو کے تناظر میں‘‘ (۲۰۱۳ء)، ’’مجید امجد حیات: حیات، شعریات اور جمالیات‘‘ (۲۰۱۴ء)، ’’ ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری‘‘(۲۰۱۴ء)، ’’عالمگیریت اور اردو‘‘ (۲۰۱۵ء)، ’’اردو ادب کی تشکیلِ جدید‘‘(۲۰۱۶ء)، ’’اس کو ایک شخص سمجھنا تو مناسب نہیں‘‘(۲۰۱۷ء)، ’’نظم کیسے پڑھیں‘‘ (۲۰۱۸ء)، ’’جدیدیت اور نو آبادیات‘‘ (۲۰۲۱ء)، ’’یہ قصہ کیا ہے معنی کا‘‘(۲۰۲۲ء)، ’’نئے نقاد کے نام خطوط‘‘ (۲۰۲۳ء)؛ انگریزی میں تنقید کی کتاب’’Coloniality, Modernity and Urdu Literature‘‘ (۲۰۲۰ء)؛سفرنامہ: ’’ہائیڈل برگ کی ڈائری‘‘ (۲۰۱۷ء)؛ اُن کے افسانوی مجموعوں میں: ’’خاک کی مہک‘‘ (۲۰۱۶ء)، ’’فرشتہ نہیں آیا‘‘ (۲۰۱۷ء)، ’’ایک زمانہ ختم ہوا ہے‘‘ (۲۰۲۰ء) شامل ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی علمی و ادبی خدمات کو ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی میں جنوب ایشیائی زبانوں کے سربراہ ڈاکٹر ہنس ہارڈر اور بھارت کے ممتاز اردو نقاد پروفیسر شمیم حنفی جیسی شخصیات نے سراہا ہے۔

    View all posts
تراجم عالمی ادب