تراجم عالمی ادب

Author: نجیب محفوظ

Author

  • Naguib Mahfouz Nobel Laureate Literature 1988

    نوبیل انعام  برائے ادب،  ۱۹۸۸ء   کے لیے مصری ادیب نجیب محفوظ کو  دینے کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل اکادمی نے ان کی تخلیقات کے بارے میں مؤقف اختیار کیا: ’’انھوں نے، اپنے لطافت سے بھرپور کام کی وساطت سے—  جو کبھی بیّن طور پر حقیقت پسندانہ، کبھی بیّن طور پر مبہم—تمام بنی نوع انسان پر لاگو ہونے والا ایک عرب فنی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔‘‘

    نجیب محفوظ ۱۱؍دسمبر، ۱۹۱۱ء  کو قاہرہ میں پیدا ہوئے اور تمام زندگی یہیں بسر کی۔ وہ بچپن ہی سے پڑھنے کے شوقین تھے۔ اپنی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، محفوظ کو قاہرہ یونیورسٹی میں داخل کرایا گیا، جہاں سے انھوں نے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے  ۱۹۳۴ء میں گریجویشن کرنے کے بعد تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھنے اور پیشہ ور مصنف بننے کا فیصلہ کیا۔

    نجیب محفوظ نے  اراضی اوقاف کی وزارت میں، پھر بیورو آف آرٹ میں سنسر شپ کے ڈائریکٹر، سنیما  کو سہارنے کے لیے قائم فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر، اور آخر میں وزارت ثقافت کے ثقافتی امور کے مشیر  کی حیثیت سے ۱۹۷۲ء تک اپنے سرکاری فرائضِ منصبی ادا کیے لیکن ساتھ ہی سلسلہ تصانیف بھی جاری رکھا۔ مصری نوکر شاہی سے ان کی سبکدوشی کے بعد کے برسوں میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں  زبردست وفور دیکھنے میں آیا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ تجرباتی تھا۔ اور یوں وہ تیس کے لگ بھگ ناولوں، سو سے زیادہ مختصر کہانیوں اور دو سو سے زیادہ مضامین کے مصنف بن گئے۔ ان کے نصف ناولوں پر فلمیں بنیں جنھیں عربی بولنے والے ممالک میں خوب پذیرائی ملی۔ مصر میں، ان کی  ہر نئی اشاعت کو ایک اہم ثقافتی تقریب کے طور پر منایاگیا۔جبرالطارق سے خلیج تک کسی بھی ادبی بحث میں ان کے نام تذکرہ لامحالہ فوقیت پر ہوتا ہے۔

    نجیب محفوظ نے سترہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ ان کا پہلا ناول ۱۹۳۹ء  میں شائع ہوا۔  انھوں نے اگلے دس ناول جولائی ۱۹۵۲ء  کے مصری انقلاب سے پہلے لکھے، پھر انھوں نے  برس ہا برس  تک لکھنا ترک کیے رکھا۔ تاہم  ان کا ایک ناول ۱۹۵۳ء میں مکرر اشاعت پذیر ہوا اور ۱۹۵۷ء میں قاہرہ کی تثلیث، بین القصرین، قصر الشوق، شکریہ (محلات کے درمیان، خواہشات کا محل، شوگر ہاؤس) کی ظاہری شکل نے انھیں پوری عرب دنیا میں روایتی شہری زندگی کے عکاس کے طور پر معروف کر دیا۔ ’’جبلاوی کے بچے‘‘ سے انھوں نے ۱۹۵۹ء میں ایک نئے طور سے دوبارہ لکھنا شروع کیا، جو اکثر سیاسی فیصلوں کو تشبیہات اور علامات میں مخفی رکھتا تھا۔ اس دوسرے دور کے کاموں میں ان کے ناولوں ’’چور اور کتا (۱۹۶۱ء)‘‘، ’’نیل پر مختصر گفتگو (۱۹۶۲ء)‘‘، ’’سمندر کا نظارہ (۱۹۶۷ء) کے علاوہ متعدد افسانوی مجموعے شامل ہیں۔

    نجیب محفوظ کی تخلیقات  زندگی کے کچھ بنیادی سوالات کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں نقلِ زمان،  سماج و معیارات، علم  و عقیدہ، خرد و عشق شامل ہیں۔ وہ اکثر اپنی کہانیوں کے لیے اپنے  آبائی شہر قاہرہ کو بطور  پس منظر  برتتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کچھ ابتدائی تحریریں قدیم مصر کے پس منظر میں بھی لکھی ہیں۔ بعد ازاں، عہدِ جدید اور بدلتے ہوئے معاشرے میں زندگی ان کی لکھتوں کا محورو مرکز بن گئے۔ ان کی کچھ مابعد  تخلیقات میں صوفیانہ یا مابعدالطبیعیاتی بیانیے کے اثرات بڑھے۔

    View all posts
تراجم عالمی ادب