
دریا کنارے
وہ دونوں میری بات مان ہی نہیں رہے تھے۔ اسی بات کا تو مجھے دکھ تھا، اور اسی پر مجھے ان دونوں... Read more.

فاروق سرور کا شمار ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جو بیک وقت پشتو، اردو اور انگریزی میں تخلیق کرتے ہیں۔ ان کے دس افسانوی مجموعے پشتو، دو اردو اور ایک انگریزی زبان میں شائع ہو چکے ہیں۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی، خوشحال خان ایوارڈ اور کئی دیگر اعزازات مل چکے ہیں۔
فاروق سرور کی دو کتابیں بلوچستان یونیورسٹی کے نصاب میں اور ان کا معروف افسانہ ’’بھیڑیا‘‘ پاکستان کے فیڈرل اسکول کے نصاب برائے نویں جماعت میں شامل ہے۔
پیشہ ورانہ طور پر وہ وکالت سے وابستہ ہیں اور سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔ ان کی پیدائش 1962 میں ہوئی اور وہ کوئٹہ میں رہائش پذیر ہیں۔
۰۰۰
View all posts