


اسد اللہ میر الحسنی عصرِ حاضر کے نوجوان اہلِ قلم میں سے ہیں۔ مترجم، کہانی کار اور بین الاقوامی عربی کالم نگار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ کراچی میں واقع معہد الخلیل الاسلامی میں وہ عربی ادب، لسانیات اور صحافت کے استاد ہیں اور تدریس کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی عالمی علمی و ادبی اداروں جیسے جامعۃ العرب للثقافة والأدب (بغداد)، الاتحاد الدولي للكتاب العرب (لندن) اور النورس الثقافية سے فعال وابستگی رکھتے ہیں۔ سہ ماہی عربی مجلہ ’’المجد‘‘ کے معاون مدیر ہیں۔
ان کے تراجم، مضامین اور فکری مقالات الجزائر، قطر، عراق، مصر، سعودی عرب، پاکستان اور فرانس کے موقر جرائد و مجلات میں شائع ہو کر علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ انھیں عالمی سطح پر متعدد ادبی و فکری ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا جا چکا ہے۔
اس وقت ان کے بعض تراجم سعودی عرب کے ایک عالمی ترجمہ منصوبے کے تحت زیورِ طبع سے آراستہ ہو رہے ہیں، جب کہ وہ مختلف بین الاقوامی جامعات اور پلیٹ فارمز پر لیکچرز دینے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی مجالس کی میزبانی اور ادارت بھی کرتے ہیں۔
نمایاں تصنیفات و تراجم:
۱۔سر اليد المفقودة (پاکستان و مصر)، ۲۔دراسة في المصطلحات (پاکستان)، ۳۔قناديل (پاکستان)، ۳۔على ضفاف البحر (ترجمہ ؍پاکستان) – جائزة الشيخ حمد للترجمة والتفاهم الدولي – قطر کے لیے نام زد، ۴۔أحلام ضائعة في الماء (ترجمہ ؍ فرانس)، ۵۔رحلة من الواقع إلى الجنون (ترجمہ ؍ فرانس)، ۶۔سيتا زينب (ترجمہ / فرانس)، ۷۔عيد ميلاد الجثة (ترجمہ ؍ سعودی عرب) – مبادرة ترجم کے لیے نامزد، ۷۔بارش تلے محبت (ترجمہ ؍ پاکستان)، ۸۔شبِ ارزاں (ترجمہ ؍ پاکستان) – زیرِ طبع،۹۔الکابوس (ترجمہ ؍ مصر) – زیرِ طبع، ۹۔الأبطال الخارقون (ترجمہ ؍ پاکستان) – زیرِ طبع، ۱۰۔زین کی شادی (ترجمہ ؍ پاکستان) – زیرِ طبع۔
۰۰۰
View all posts