تراجم عالمی ادب

Author: اَنّی ایغنو

Author

  • Annie_Ernuax_French_Writer_Nobel_Laureate_2022

    اَنّی ایغنو فرانسیسی ادیبہ ہیں جنھیں ۲۰۲۲ء کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اُنھیں نوبیل انعام سے سرفراز کرتے ہُوئے نوبیل کمیٹی نے اُنھیں اِس انعام کا حق دار اُن کے فکشن میں موجود اِن خصوصیات کی بِناء پر دیا : ’’اُن کے اُس حوصلے کے لیے جس سے وہ اپنی ذاتی یادوں کی جڑیں، بے اعتنائیاں اور اجتماعی پابندیوں کو لاتعلّق نکیلے پن سے بے نقاب کرتی ہیں۔‘‘

    سوانح حیات

    اَنّی ایغنو (پیدائشی نام: اَنّی ڈُشَّین) یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کو فرانس کے علاقے  لِلّے بون، نارمنڈی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہُوئیں۔ کچھ سال بعد اَنّی کے والدین اِزِیٹو چلے گئے، جہاں انھوں نے قصبے کے محنت کش طبقے کے علاقے میں ایک کیفے اور کریانے کی دکان کھول لی۔ اُن کے والد ایک کیفے اور والدہ کیفے سے ملحق کریانے کی دُکان چلاتی تھیں جو اُن کے گھر کے بیرونی حِصّے میں قائم کیے گئے تھے۔

    اَنّی ایغنو  نے اِزِیٹو کے ایک نجی کیتھولک  ثانوی سکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھیں اپنے سے زیادہ نچلے متوسط ​​طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے واسطہ پڑا، اور پہلی مرتبہ اپنے والدین اور ماحول کے محنت کش طبقے   کے پس منظر سے تعلق ہونے پر شرمندگی کے شدید احساس اور سماجی طبقاتی جدوجہدسے سے روشناس کروایا جس نے تاحیات اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔  ۱۹۵۸ء میں، اٹھارہ سال کی عمر میں، وہ  پہلی مرتبہ سمر کیمپ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پورے موسمِ گرما کے لیے اپنے گھر سے نکلیں، جہاں انھیں اپنے ہم سن ایک گروہ کے ساتھ پہلی بار رہتے ہوئے اپنے پہلے جنسی تجربات ہوئے۔

    ۱۹۶۰ء میں ایک جوڑے کے طور پر لندن میں قیام کرنے کے بعد انھوں واپس فرانس لوٹ کر جامعہ  رُوآں سے فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی اور ثانوی مکتب کی فرانسیسی کی معلمہ بن گئیں۔ پھر وہ۱۹۷۷ء میں سینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن میں ایک عہدے پر متمکن ہوگئیں۔    ۱۹۶۷ء میں اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان، جس میں اُن کی صرف ایک ماں تھی،  ۱۹۷۷ء میں پیرس میں بننے والی ایک نئی آبادی سہرجی پونٹواہز میں منتقل ہو گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے آپ کو لکھنے کے لیے وقف کر دیا۔

    تخلیقات

    اُنھوں نے اپنا پہلا ناول ’’صفایا‘‘۱۹۷۴ء میں شائع کیا، جو اُن کے ۱۹۶۴ء میں اسقاطِ حمل کے تجربے سے گزرنے کا افسانوی بیانیہ ہے۔ لیکن اس کے بعد  انھوں نے  روایتی تحریروں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے سوانحی موضوعات کا اپنی لکھتوں کا محورومرکز بنا لیا۔ اُن کی اب تک منصۂ شہود پر آنے والی کتب میں ’’وہ کچھ کہتے ہیں یا نہیں‘‘ (۱۹۷۷ء)؛ ’’ایک منجمد عورت‘‘ (۱۹۸۱ء)؛ ’’مقامِ مرد‘‘  (  ۱۹۸۳ء)؛ ’’کتھا ایک عورت کی‘‘  (۱۹۸۸ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’خارجی ‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’حیا‘‘ (۱۹۹۷ء)؛ ’’میں تاریکی میں رہتی ہوں  ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’بیرونِ حیات‘‘ (۱۹۹۳ء،۱۹۹۹ء،۲۰۰۰ء)؛ ’’وقوعہ؍حادثہ‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’گم شدگی ‘‘ (۲۰۰۱ء)؛ ’’پیشہ ‘‘ (۲۰۰۲ء)؛ ’’فوٹوگرافی کا استعمال‘‘ (۲۰۰۵ء)؛ ’’برس ہا برس‘‘ (۲۰۰۸ء)؛  ’’دخترِ ثانی‘‘ (۲۰۱۱ء)؛ ’’روشنیاں دیکھو، میرے پیارے‘‘ (۲۰۱۴ء)؛ ’’کتھا ایک دوشیزہ کی‘‘ (۲۰۱۶ء)؛ ’’ہوٹل کاسانووا‘‘ (۲۰۲۰ء)؛ ’’نوجوان‘‘ (۲۰۲۲ء) شامل ہیں۔

    اسلوب

    اَنّی ایغنو اپنے سوانحی ناولوں کے لیے پہچانی جاتی ہیں جو سماجی طبقے، جنس اور ذاتی یادداشت کے موضوعات کو کٹھور اور معروضی انداز کے وسیلے سے کھوجتی ہیں۔ اُن کی پہچان ایک منفرد ادبی نقطۂ نظر کی حامل کے طور پر ہے، جسے ’’آٹو-سوشیو-بایوگرافی‘‘ یا ’’سماجی خودنوشت‘‘کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی تخلیقات میں اکثر اپنی زندگی کو بطور موضوع برتتے ہوئے مستقل طور پر صنف، زبان اور طبقے کے تفاوت کا جائزہ لیتی ہیں اور  ویرل، معروضی، اور بے ساختہ نثر برتتے ہوئے بغیر کسی پچھتاوے کے، چھلنی استعمال کیے بغیر مخصوص یادوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں ایک ایسا انداز جس کی وجہ سے وہ نوبیل انعام سے سرفراز ہوئیں۔

    اعزازات و انعامات

    یوں تو اَنّی ایغنو کو اُن کے تخلیقی ادب پر بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے، جس کا آغاز ۱۹۷۷ء سے پرکس ایوارڈ سے ہی ہو گیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں سہرجی پونٹواہز یونیورسٹی، فرانس نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے  نوازا۔ ۲۰۱۹ء میں اُن کی خود نوشت ’’برس ہا برس‘‘ بُکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی اور ۲۰۲۲ء میں نوبیل انعام برائے ادب سے سرفراز ہوئیں۔ ۲۰۰۸ء  میں شائع ہونے والی کتاب ’’برس ہا برس‘‘ کو، جس میں ذاتی اور اجتماعی تاریخ کا ادغام کیا گیا، بیشتر ناقدین نے اس کے مواد اور اختراعی شکل دونوں کے لحاظ سے اَنّی کی اہم کامیابی گردانا ہے ۔

    ۰۰۰

    View all posts
تراجم عالمی ادب