تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

چینی ناول کا باب

بڑے بھائی، ہم شادی کر لیں

مو یان 

MO YAN

تعارف و ترجمہ؍  نجم الدّین احمد

سال ۲۰۱۲ء کے نوبیل انعام یافتہ چینی ادیب مویان کے ناول ’’مینڈک‘‘ کا باب 

اگرچہ میں نے کبھی برملا اظہار نہیں کیا لیکن مجھے اعتراف ہے کہ ذاتی طور پر مجھے خالہ کے شادی کے منصوبوں سے اختلاف تھا۔ میرے والد، بھائی اور بھابیاں بھی میری ہم خیال تھیں۔ سیدھی بات ہے کہ ہمارے خیال میں وہ مناسب جوڑ نہیں تھا۔ ہم چھوٹے تھے تبھی سے خالہ کو خاوند کی تلاش میں سرگرداں دیکھ رہے تھے۔ وانگ ژِیاؤتی کے ہمراہ اُن کا تعلّق باعثِ افتخار تھا لیکن بدنامی پر ختم ہوا۔ اگلا شخص یانگ لِن تھا جو وانگ ژیاؤتی کے مقابلے میں ذرا بھی جوڑ کا نہیں تھا۔ بہرحال وہ ایک سرکاری اہل کار تھا اور یہی چیز اُسے شادی کے لیے مناسب اُمیدوار بناتی تھی۔

وہ چِن ہَے سے شادی کر سکتی تھیں جس کی سوچوں پر وہ سوار تھیں اور وہ ہاؤ داشو سے بہتر تھا… تب تک ہمارا خیال تھا کہ اُنھوں نے اُس بُوڑھے سے جان چھڑا لی ہے اور شادی کا کوئی معقول منصوبہ بنا لیا ہے۔ ہم یہ بحث بھی کیا کرتے تھے کہ جب وہ بُوڑھی ہو جائیں گی تو اُن کی دیکھ بھال کرنے والا کون ہو گا۔ لیکن تبھی، اُنھوں نے ذرا سی بھی بھِنک دیے بغیر ہاؤ داشو سے شادی کر لی۔ اُس وقت میں اور لٹل لائن بیجنگ میں رہتے تھے اور جب ہم نے یہ خبر سُنی تو ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ تاہم جب یہ حماقت حقیقت بن کر سامنے آئی تو ہم پر اُداسی و افسردگی نے غلبہ پا لیا۔

سالوں بعد خالہ ٹی وی کے ایک پروگرام ’’مہ زادہ‘‘ میں نمودار ہوئیں جس کے بارے میں گمان تھا کہ وہ پروگرام مجسمہ ساز ہاؤ داشو کے بارے میں ہے لیکن کیمرہ ہمہ وقت اُن پر رہا۔اُنھوں نے صحافیوں کو ہاؤ کے گھر کے صحن میں خُوش آمدید کہتے ہوئے باتوں اور اشاروں سے اُن کی رہنمائی اُس کے کام کرنے کی جگہ اور اُس سٹور تک کی جہاں وہ اپنے مٹّی سے بنے مجسمے رکھتا تھا۔جب کہ وہ اپنے کام کرنے والے بنچ پر خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں چمک اور چہرہ خوابیدہ بُوڑھے گھوڑے کی طرح سپاٹ تھا۔

میں حیران تھا کہ کیا تمام ماہرین فن مشہور و معروف ہو جانے کے بعد خوابیدہ بُوڑھے گھوڑوں کی طرح ہو جاتے ہیں؟ اگرچہ میں اُس سے صرف چند مرتبہ ملا تھا لیکن ہاؤ داشو کا نام میرے کانوں میں گونجا۔ میں اُس سے رات گئے اُس وقت ملا تھا جب میرا بھتیجا ژِیان چُوان نے ہَواباز کی نوکری ملنے پر رات کے کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ پھر کئی برسوں کے بعد میں اُس ایک بار اَور ملا تھا اور اب وہ ٹی وہ پر تھا۔ اُس کے بال اور داڑھی سفید ہو چکی تھی لیکن اُس کا رنگ ہمیشہ کی طرح سُرخ و سپید اور وہ ٹھنڈے مزاج کا اور باوقار تھا۔ وہ ایک اہم شخصیت تھا۔ اُس پروگرام کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ درحقیقت خالہ نے اُس نے شادی کیوں کی تھی۔

خالہ نے ایک سگریٹ سلگایا، گہرا کش لیا اور بولنے لگیں تو اُن کی آواز میں اُداسی در آئی۔ ’’شادیاں۔‘‘ وہ بولیں۔’’ آسمان پر طے ہوتی ہیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوانوں کے لیے مثالیت کی وجہ کی ترویج کر رہی ہوں کیوں کہ کسی زمانے میں خُود  پُرجوش مادہ پرست رہی ہوں لیکن جب شادی کا معاملہ ہو تو آپ کو تقدیر پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اِس سے پُوچھ لیں۔‘‘ اُنھوں نے ہاؤ داشو کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیا اِس نے کبھی خواب میں بھی سوچا تھا کہ ایک روز میں اِس کی بیوی بنوں گی؟‘‘

’’۱۹۹۷ء میں جب میں ساٹھ برس کی تھی تو۔‘‘ اُنھوں نے بتایا۔ ’’میرے افسرانِ بالا نے مجھے کہا کہ خواہ میں چاہتی ہوں یا نہیں لیکن ریٹائر ہو جاؤں۔ میں نے کہا کہ مجھے اِس سے فرق نہیں پڑتا کیوں کہ میں پہلے ہی ریٹائرمنٹ کی عمر سے پانچ سال زائد گُزار چکی ہوں۔ آپ ہسپتال کے ڈائریکٹر کو تو جانتے ہی ہیں، ہیگزی گاؤں کے ہُوانگ پی کا بیٹا وہی حرامی ناشُکرا ہُوانگ جَن۔ تمھیں معلوم ہے کہ اُس غلاظت کو… جسے لوگ ہُوانگ تربوز کہتے ہیں… کس نے اُس کی ماں کے پیٹ سے نکالا تھا؟

خیر، اُس نے میڈیکل سکول میں کچھ عرصہ گزارا اور جب وہ وہاں سے نکلا تو اُتنا ہی احمق تھا جتنا داخلے کے وقت۔ اُسے ٹِیکہ لگاتے ہوئے نَس اور سٹیتھوسکوپ سے دِل کی دھڑکن نہیں ملتی تھی۔ مریض کی نبض دیکھنے کے لیے وہ ’’اِنچ، گز اور دِراع ‘‘ جیسی اصطلاحات تک کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ تو ہسپتال کے ڈائریکٹر کی تقرری کے لیے کون بہتر تھا! اُسے سکول میں داخلہ بیورو آف ہیلتھ کے ڈائریکٹر شَین کو میری ذاتی سفارش کی وجہ سے ملا تھا۔ جب تک وہ ادارے کا سربراہ رہا اُس نے اُسے نظر انداز کیے رکھا۔ اُس حرامی کی صلاحیتیں محدود تھیں: دعوتیں کرنا، تحائف دینا، للّو پتّو کرنا اور عورتوں کو ورغلانا۔

اِس مرحلے پر خالہ نے سِینہ کوبی کی اور زمین پر پیر مارے۔ ’’میں بھی کتنی احمق تھی کہ۔‘‘ اُنھوں نے طیش بھرے لہجے میں کہا۔ ’’بھیڑیے کو گھر کی رکھوالی پر چھوڑ دیا۔ میں نے اُس کی ہسپتال کی تمام لڑکیوں تک رسائی سہل بنا دی تھی۔ وانگ ژیاؤمی کی، وانگ گاؤں کی ایک سترہ سالہ دوشیزہ جس کی آواز پیاری، چوٹیاں گھنی، دِلکش بیضوی چہرہ اور جِلد بالائی جیسی تھی۔ اُس کی پلکیں تتلیوں کی طرح رقص کرتیں، آنکھیں بولتیں اور جو بھی اُسے دیکھتا یہ یقین رکھتا کہ اگر فلمی ہدایت کار زہانگ یی مؤ اُسے دریافت کر لے تو وہ گانگ لی یا زہانگ زی یی سے زیادہ گرم مصالحہ ثابت ہو گی۔

افسوس، ہُوانگ تربوز نے اُسے پہلے دریافت کر لیا۔ وہ وانگ گاؤں کی طرف دوڑا جہاں اُس نے اپنی سبز باغ دِکھانے والی ایسی زبان سے جو مُردے میں رُوح کو بھی واپس لے آئے ژیاؤمی کے والدین سے بات چیت کی کہ اُس کو مجھ سے نسوانی مسائل کا علاج سیکھنے کے لیے ہسپتال بھیج دیا جائے۔ اُس نے کہا کہ وہ میری طالبہ ہو گی لیکن اُس نے کبھی ایک دِن بھی میرا پاس نہیں گزارا۔ اِس کی بجائے اُس ہوس کے مارے نے اُسے اپنے تک دِن کی ساتھی اور رَات کی محبوبہ کے طور پر محدود رکھا۔ اگر رات ناکافی ٹھیرتی تو وہ اُسے دِن میں بھی لے جاتا۔ لوگوں نے اُنھیں دِن میں جاتے دیکھا تھا۔ پھر ایک بار پھر وہ اُس سے خُوب مزے اُٹھاتا۔

 وہ ایک دُوردراز کے دیہی علاقے میں تعینات تھا جہاں اُس نے سرکاری فنڈ کی رقم سے اعلیٰ عہدیداروں کے اعزاز میں شاندار عشائیہ اِس توقع پر دیا کہ اُس کاکسی بڑے شہر میں تبادلہ کردیا جائے گا۔ شاید آپ نے اُسے دیکھا نہیں: اُس کا چہرہ لمبوترا اَور گدھے جیسا، ہونٹ کالے سیاہ، غلیظ دانت اور بدبُودار سانس۔ ایسے مُنھ کے باوجود بھی وہ توقع رکھتا تھا کہ اُس کے پاس بیورو آف ہیلتھ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر بننے کا موقع موجود ہے! ہر بار وہ وانگ ژیاؤمی کو بھی اہلکاروں کو کھلانے، پلانے اور تواضع کے لیے اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے جاتا۔ غالباً وہ اُسے اُنھیں اُن کی عیاشی کے لیے تحفے کے طور پر بھی پیش کرتا تھا۔ شیطان، وہ واقعی اصلاً نسلاً شیطان تھا۔

’’ایک روزاُس چھوٹے شیطان نے مجھے اپنے دفتر بُلایا۔ اُس کے ہسپتال میں کام کرنے والی دُوسری عورتیں اُس کے دفتر جاتے ہوئے ڈرتی تھیں۔ لیکن میں نہیں۔ میرے پاس ہر وقت ایک چھوٹا سا خنجر تیار ہوتا تھا اور میں اُسے اُس حرامی پر استعمال کرنے سے کبھی نہ ہچکچاتی۔ خیر، اُس نے کپ میں چائے اُنڈیلی، مُسکرایا اور اُسے تپائی پر رکھ دیا۔ ’’ڈائریکٹر ہُوانگ، تم مجھے کیوں ملنا چاہتے تھے؟ ہمیں مطلب کی بات کرنا چاہیے؟‘‘

’’ہے،ہے۔‘‘وہ کھسیانی ہنسی ہنسا۔ ’’بڑی خالہ۔‘‘… اگر وہ مجھے’ بڑی خالہ‘ نہ کہتا تو لعنتی ہوتا۔ ’’تم نے مجھے جنم دِلایا تھات اور مجھے بلوغت تک پہنچتے دیکھا ہے۔ اِس لیے میں تمھارے بیٹے کی مانند ہوں۔ ہے، ہے۔‘‘

’’میں اِتنی عزّت افزائی کی مستحق نہیں ہوں۔ تم ایک بڑے ہسپتال کے ڈائریکٹر ہو جب کہ میں محض عورتوں کی ایک عام سی ڈاکٹر۔ اگر تم میرے بیٹے ہوتے تو اِس عزّت افزائی کی وجہ سے مرجاتی۔ اِس لیے براہِ مہربانی، وہ بات بتاؤ جوتمھارے دماغ میں ہے۔‘‘ 

مجھے بلانے کی بے حیا وجہ بتانے سے قبل اُس کی مزید ہے، ہے، ہے۔ ’’مجھ سے وہی غلطی سرزد ہو گئی جو جلد یا بدیر تمام اعلیٰ عہدیدار کرتے ہیں… میری غلطی کی وجہ سے وانگ ژیاؤمی حاملہ ہو گئی ہے۔‘‘

’’مبارک ہو۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’اب ژیاؤ می تمھارا عفریتی نطفہ اُٹھائے پھِر رہی ہے جس سے ہسپتال کو خاندانی سربراہی کی ضمانت میسر آگئی ہے۔‘‘

’’بڑی خالہ،  میرا مذاق مت اڑاؤ۔ میں پچھلے کئی روز سے اِتنا پریشان ہوں کہ کھا سکا نہ سو سکا ہوں۔‘‘ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ اُس حرامی نے واقعی یہ کہا تھا کہ اُسے کھانا چھا لگ رہا ہے نہ نیند آرہی ہے؟ ’’وہ مجھ سے مطالبہ کر رہی ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں اور اُس نے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے ایسا نہیں کیا تو وہ کاؤنٹی ڈسپلن کمیشن سے رجوع کرے گی۔‘‘

’’واقعی؟‘‘ میں نے پُوچھا۔ ’’میرا خیال ہے کہ آج کل ’عقدِ ثانی‘ تم اہلکاروں میں رواج پا چکا ہے۔ ایک بنگلہ خریدو، اُسے اُس میں رکھو اور تمھارا مسئلہ حل۔‘‘

’’بڑی خالہ، میں نے تمھیں یہ نہیں کہا کہ میرے ساتھ تمسخر کرو۔‘‘ وہ بولا۔ ’’اگر میری بنگلہ خریدنے کی استطاعت ہو تب بھی میں ’دوسری‘ یا ’تیسری‘ بیوی رکھنے کی بدنامی مول نہیں لینا چاہتا۔‘‘

’’پھر حوصلہ کر کے طلاق حاصل کر لو۔‘‘ میں بولی۔

اُس نے گدھے جیسا لمبا مُنھ لٹکایا اور بولا۔ ’’بڑی خالہ، تم بخوبی واقف ہو کہ میرا سسر اور میرے قصائی سالے ظالم قسم کے بدمعاش ہیں۔ اگر اُنھیں اِس معاملے کی بھنک بھی پڑ گئی تو میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔‘‘

’’لیکن تم ڈائریکٹر ہو، ایک سرکاری اہلکار!‘‘

’’ٹھیک ہے بڑی خالہ۔ بہت ہو گیا۔ تمھاری عمر رسیدہ نگاہوں میں ایک ہسپتال کا ڈائریکٹر بے وقعت ہے لیکن ایک گُم نام قصبے کی لڑکی تمھارے نزدیک بہ آوازِ بلند رِیح جیسی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا میری ہنسی اُڑانے کی بجائے تم کسی طور میری مدد کیوں نہیں کرتیں!‘‘

’’میں تمھاری کیا مدد کر سکتی ہوں؟‘‘

’’وانگ ژیاؤ می تمھاری معتقد ہے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’اُس نے بے شمار مرتبہ تمھاری تعریف کی ہے۔ وہ صرف تمھاری بات مانے گی۔‘‘

’’تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’اُس  سے اسقاطِ حمل کے بارے میں بات کرو۔‘‘

’’تربوز ہُوانگ۔‘‘ میں نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ ’’میں دوبارہ اپنے ہاتھ اِس گھناؤنے کام سے گندے نہیں کروں گی! اپنی زندگی میں مَیں پہلے ہی دو ہزار سے زائد بچّوں کے جنم ساقط کر چکی ہوں اور اب میں یہ کبھی نہیں کروں گی۔ بس بچّے کا تب تک انتظار کرو جب تک تم باپ نہیں بن جاتے۔ ژیاؤ می اِتنی حسین لڑکی ہے کہ وہ یقیناً تمھیں ایک پیارے لڑکے یا لڑکی کی تحفہ دے گی جو تمھیں خُوش کر دے گا۔ اُسے جا کر بتا دو کہ جب وقت آئے گا تو میں بچّے کی پیدائش کے لیے آجاؤں گی۔‘‘

’’اِس کے ساتھ ہی میں اپنی ایڑیوں پر گھومی اور دفتر سے نہایت آسودہ خاطر نکلی۔ لیکن وہ احساس میرے اپنے دفتر پہنچنے اور پانی کا ایک گلاس پینے تک برقرار رہا۔ میری بشاشت غارت ہو گئی۔ تربوز ہُوانگ جیسا بدترین شخص کوئی نہیں تھا کہ وہ وارث کا حق دار بنتا اور کتنی شرمناک بات تھی کہ ژیاؤ می کے پیٹ میں اُس کا بچّہ تھا۔ میں نے جتنے بھی بچّوں کی پیدائش کروائی تھی اُس سے یہی سیکھا تھا کہ ہر شخص کی فطرت… اچھی یا بُری… تربیت سے زیادہ قدرتاً متعین ہوتی ہے۔ آپ تمام قوانینِ وراثت کو تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں لیکن یہ علم تجربے کی بنیاد پر ہے۔

آپ اُس تربوز ہُوانگ کے بیٹے کو گوتم بُدھ کے معبد میں رکھ لیں تو بھی وہ بڑا ہو کر ایک جنسی ہوس پرست بھکشو بنے گا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وانگ ژیاؤ می کے لیے کتنا دُکھ ہوا تھا یا میں اُس کے ذہن میں یہ خیالات ڈالنے کے لیے کتنی غیر رضامند تھی۔ میں بس اِتنا کر سکتی تھی کہ اُس جنسیت زدہ کو اُس کی پریشانی سے بہ آسانی نہ نکلنے دوں خواہ دُنیا میں ایک اَور جنس پرست بھکشو کا اضافہ ہو جائے، جو کہ ہونا ہی تھا۔

’’لیکن ایک روز خود ژیاؤ می میرے پاس چلی آئی۔ وہ میری ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ اُس نے میرا پائجامہ اپنے آنسوؤں اور اپنے ناک کی رِینٹ سے گندا کر دیا۔ ’’خالہ۔‘‘ اُس نے سسکیاں بھریں۔ ’’پیاری خالہ، اُس نے مجھے دھوکا دیا، مجھ سے جھوٹ بولا۔ میں اُس سے شادی نہیں کروں گی چاہے وہ مجھے آٹھ نشستوں والی سیڈان بھیج دے۔ خالہ، میری اِس کام میں مدد کرو۔ میں اُس شیطان کا بیج اپنی کوکھ میں نہیں رکھنا چاہتی۔‘‘

’’تو یہ یُوں ہوا تھا۔‘‘ خالہ نے ایک اَور سگریٹ سلگائی اور وحشیانہ انداز میں کش لیا کہ گہرے دھوئیں نے اُن کا چہرہ ڈھانپ لیا۔ ’’میں نے بچّے سے جان چھڑانے میں اُس کی مدد کی۔ وانگ ژیاؤ می جو کبھی گلاب کی مانند کھِلی ہوتی تھی اب لٹی پٹی سی عورت تھی۔‘‘ خالہ نے ہاتھ اُٹھا کر اپنے آنسو صاف کیے۔

 ’’میں نے عہد کیا کہ آئندہ کبھی یہ کام نہیں کروں گی۔ میں اِسے زیادہ عرصے تک کسی کی بھی خاطر ساتھ لے کر نہیں چل سکتی تھی خواہ کوئی عورت کسی بن مانس کا بچّہ پیٹ میں لیے ہو، لیکن میں یہ کام نہیں کروں گی۔ بوتل  پینے کے دوران مشروب کھینچنے کی تیز آواز ایسی تھی جیسے کوئی آسیب سختی سے میرا کلیجہ دبا رہا ہو۔ یہاں تک کہ میں پسینے میں شرابور ہو کر ستاروں کو تکنے لگی۔ کام ختم کرتے ہی میں فرش پر ڈھے گئی۔

’’تم ٹھیک کہتے ہو کہ میں بات کرتے ہوئے گالم گلوچ کرتی ہوں… میں بُوڑھی ہو گئی ہوں نا! اِس تمام گپ شپ کے باوجود میں نے تمھیں ابھی تک نہیں بتایا کہ میں ہاؤ داشو سے شادی کیوں کی۔ خُوب، میں نے ساتویں قمری مہینے کے پندرھویں روز اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو وہ حرام زادہ تربوز ہُوانگ چاہتا تھا کہ میں وہیں رہوں اور اُس نے اصرار کیا کہ میں رسماً ریٹائر ہو جاؤں لیکن آٹھ سو یوآن ماہوار تنخواہ لے کر کام کرتی رہوں۔ میں نے اُس کے منھ پر تھوک دیا۔

 ’’حرامی، میں نے تمھاری بہت غلامی کر لی۔ تمھیں میرا شکر گزار ہونا چاہیے کہ میرے کام کرنے سے سالہا سال کے دوران ہر دس یوآن میں سے آٹھ تم نے کمائے ہیں۔ اردگرد کے علاقوں سے آنے والی عورتیں اور لڑکیاں میری وجہ سے آتی تھیں۔ اگر میں دولت کے پیچھے بھاگتی تو روزانہ کے ایک ہزار بنا سکتی تھی۔ تربوز ہُوانگ، کیا تم واقعی یہ سمجھتے ہو کہ تم میری خدمات آٹھ سو ماہوار پر خرید سکتے ہو؟ باہر سے کام کے لیے آنے والی بھی اِس سے زیادہ لیتی ہے۔ میں نے اپنی آدھی زندگی غلامی میں بسر کر دی۔ اب میرے آرام کا، شمال مشرقی گاؤمی قصبے واپس جانے کا وقت ہے۔‘‘

’’وہ میری وجہ سے پریشان تھا اور گزشتہ دو برسوں سے مجھے تنگ کرنے کی کوششیں کرتا رہا تھا۔ مجھے، تنگ کرنے کی؟ میں وہ عورت ہوں جس نے تمام اُونچ نیچ دیکھی ہے۔ جب میں چھوٹی تھی تو جاپ (Jap) بھُوتوں سے ڈرتی تھی لیکن اُسے نجانے یہ گُمان کیوں ہوا کہ میں اپنی عمر کی ساتویں دہائی میں اُسے جیسے چھوٹے حرامی سے ڈروں گی۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، میں موضوع کی طرف واپس آتی ہوں۔

’’اگرتم یہ جاننا چاہتے ہو کہ میں نے ہاؤ داشو سے شادی کیوں کی تو مجھے آغاز مینڈکوں سے لینا پڑے گا۔ میں نے اپنی ریٹائرمنٹ کااعلان کیا توکچھ پُرانے دوست دعوت کے لیے جمع ہو گئے اور پینے سے میں ہَوا میں اُڑنے لگی… میں نے زیادہ نہیں پی تھی، ایک جام سے بھی کم لیکن وہ کوئی گھٹیا شراب تھی۔ ریستوران کے مالک ژائی بائی رہُوا کابیٹا ژائی ژیاؤک نے، جو ۶۳‘ کے قحط کے میٹھے آلوؤں جیسے لڑکوں میں سے ایک تھا، میرے اعزاز میں بہت تیز دُلیانگے کی ایک بوتل نکالی لیکن وہ نقل دُلیانگے تھی۔ میرا سر گھوم رہاتھا، ہر شخص جھوم رہا تھا اور بمشکل کھڑا ہونے کے قابل تھا اور ژائی ژیاؤک نے سب سے پہلے اُسے خود منھ سے لگایا اوراُس وقت تک لگائے رکھا جب تک کہ اُس کی آنکھیں اُبل کر حلقوں سے باہر نہ آگئیں۔

خالہ نے بتایا کہ وہ لڑکھڑاتی ہوئیں ریستوران سے نکلیں اور اُنھوں نے ہسپتال کے رہائشی علاقے کا رُخ کیا لیکن وہ بدحواسی میں ایک دلدلی علاقے کے ایک تنگ اور ہَوا کے تیز جھکڑوں والے راستے پر جا نکلیں۔ جس کے دونوں طرف سر تک بلند نرسل اُگے ہوئے تھے۔ اُن کے گرد پانی میں چاندنی شیشے کی طرح چمک رہی تھی۔ بڑے اور بچّہ مینڈکوں کے ٹرانے کی آوازیں پہلے ایک طرف اور پھر دُوسری طرف، آگے اور پیچھے سے یُوں آرہی تھیں جیسے وہ راگ الاپ رہے ہوں۔ پھر وہ ٹرٹراہٹیں ہر سمت سے آنے لگیں جن کی گُونج لہریں بن کر فضاء کا خلا بھر رہی تھیں۔ اچانک ہی مکمل سکوت چھا گیا جس میں جھینگروں کی چِر چِر شگاف ڈال رہی تھی۔

خالہ نے بتایا کہ طبی امداد دینے والی کی حیثیت سے اُنھوں نے آدھی آدھی رات اور اُس کے بعد تک بھی دُور دراز کے پہاڑی اور میدانی راستوں پر سفر کیا تھا لیکن اُنھیں کبھی خوف محسوس نہیں ہوا۔ مگر اُس رات خوف نے اُن کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ عموماً مینڈکوں کی ٹر ٹر کو ڈھولک کی تھاپ سے تشبیہ دی جاتی ہے لیکن اُس شب وہ اُنھیں انسانی چیخوں سے مشابہ لگ رہی تھیں جیسے ہزاروں نوزائیدہ بچّے رو رہے ہوں۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ اُن کی پسندیدہ آواز رہی تھی کہ ایک دایہ گیر ڈاکٹر کے لیے نومولود کے رونے کی آواز سے زیادہ دُنیا کی کوئی آواز رُوح پرور موسیقی کی حیثیت نہیں رکھتی۔ اُنھوں  نے کہا کہ اُنھوں نے اُس رات جو شراب پی تھی وہ اُن کے بدن سے ٹھنڈا پسینہ بن کر بہہ نکلی تھی۔ ’’یہ مت سمجھو کہ میں نشے میں دھت تھی اور مجھے تخیلاتی چیزیں نظر آرہی تھیں کیوں کہ جیسے ہی شراب میرے سر میں ہلکا ہلکا درد چھوڑتی ہوئی میرے مساموں سے نکلی میرا ذہن صاف شفاف ہو گیا تھا۔‘‘

دلدلی راستے پرچلتے ہوئے اُن کی محض اِتنی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح اُس ٹر ٹر سے جان چھڑا لیں۔ لیکن کیسے؟ اُنھوں نے اُس سے جتنا بھاگنے کی کوشش کی اُتناہی کپکپی طاری کردینے والی ٹرٹر… ٹرٹر… ٹرٹر کی چہارسُو سے آنے والی غم زدہ چیخیں اُن کے گرد حصار تنگ کرتی چلی گئیں۔ اُنھوں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن بھاگ نہ پائیں۔ اُن کے جوتوں سے سریش دار رَاستہ چپک گیا کہ پیر تک اُٹھانا مشکل ہوگیا اور قدم اُٹھانے پر جوتوں کو راستے سے چپکانے والے چاندی جیسے دھاگے تڑ تڑ کی آواز سے ٹُوٹتے تھے۔ لیکن جیسے ہی وہ دوبارہ پاؤں زمین پر رکھتیں مزید دھاگے بن جاتے۔ لہٰذا اُنھوں نے ننگے پاؤں چلنے کے لیے جوتے اُتار دیے لین اِس اقدام نے کیچڑکی گرفت زیادہ مضبوط کر دی۔

خالہ نے بتایاکہ وہ ایک عظیم الجثہ مینڈک کی مانند ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگنے لگیں۔ اب کیچڑ اُن کے گھٹنوں، رانوں اور ہتھیلیوں سے چمٹ گیا لیکن وہ پروا کیے بغیر آگے کی طرف رینگتی رہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ عین اُسی لمحے چاندنی میں دمکتے نرسلوں اورللّی کے پودوں کے گہرے پردے کے عقب سے لاتعداد مینڈک کودے۔ اُن میں کچھ زمردیں اور کچھ پیلگوں سنہرے تھے۔ کچھ برقی استری جتنے بڑے اورکچھ کھجور جتنے چھوٹے تھے۔ اُن میں کچھ کی آنکھیں سونے کی گانٹھ جیسی تو کچھ کی سُرخ بیضوی منکوں جیسی تھیں۔

 وہ اُن پر سمندر کی لہروں کی طرح آ کر گرے کہ اُنھوں نے اپنی اشتعال بھری ٹرٹر سے اُنھیں ڈھانپ لیا اور لگتا تھا کہ اُن سب نے اپنے اپنے دانت اُن کے بدن میں گاڑ دیے ہوں اور بدن نوچنے کے لیے اُن کے تیز دھار ناخن اُگ آئے ہوں۔ جب وہ اُن کی پشت، گردن اور سر پر چھلانگیں لگا کر بیٹھے تو وہ اُن کے بوجھ سے کیچڑ بھری زمین پر گر گئیں۔اُنھوں نے بتایا کہ اُن کا بے تحاشا خوف اُن کے مستقلاً دانت گاڑنے یا بدن نوچنے کی بِناء پر نہیں بل کہ اُن کی سرد اور جھِلّی نُما جلد کی رگڑ کے کراہت آمیز اور ناقابلِ برداشت احساس کی وجہ سے تھا۔ ’’اُنھوں نے میرا جسم پیشاب سے بھر دیا تھا یا شاید وہ اُن کا مادۂِ تولید تھا۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ اُنھیں اچانک اپنی دادی کی سنائی ہوئی ایک دیو مالائی کہانی یاد آگئی جو ورغلا کر آبروریزی کرنے والے ایک مینڈک کے بارے میں تھی۔ ایک شب ایک دوشیزہ کی دریا کے کنارے ٹھنڈی ٹھنڈی ہَوا کے جھونکوں میں آنکھ لگ گئی۔ اُس نے خواب دیکھا کہ سبز لبادے میں ملبوس ایک نوجوان نے اُس کے ہمراہ مواصلت کی۔ جب وہ بیدار ہوئی تو حاملہ تھی۔ نتیجتاً اُس نے مینڈکوں کا ایک جھول کو جنم دیا۔ اِس دہشت ناک تصوّر نے اُن کے اندر توانائی بھر دی اور اُنھوں نے اچھل کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو کے مینڈکوں کو کیچڑ کی ڈلیوں کی مانند جھاڑا۔ لیکن تمام نہ جھڑے… کچھ اُن کے کپڑوں اور بالوں سے چمٹے رہے۔ دو تو اپنے منھوں میں اُن کے کانوں کی لویں لیے خوف ناک بُندوں کے جوڑے کی طرح لٹکے ہوئے تھے۔

 اُنھوں  نے دوڑنا شروع کیا تو اُنھیں محسوس ہوا کہ آہستہ آہستہ کیچڑ کی چپک ختم ہو رہی ہے۔ بھاگتے بھاگتے اُنھوں نے اپنا جسم جھٹکا، اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور بدن دونوں ہاتھوں سے نوچ ڈالا۔ ہر بار مینڈک ہاتھ میں آنے پر اُن کی چیخ نکلی۔ وہ اُن مینڈکوں کو دُور پھینکتی چلی گئیں۔ اپنے کانوں سے شیر خوار بچّوں کی مانند چمٹے ہوئے دونوں مینڈکوں کو اُنھوں نے کھینچ کر اُتارا تو وہ اپنے ساتھ جلد کا کچھ حصہ بھی لے گئے۔

خالہ چلاتی اور دوڑتی رہیں لیکن وہ اپنے آپ کو اُس رینگے والے جتھے سے آزاد نہیں کروا سکیں اور جب وہ دیکھنے کے لیے مُڑیں تو نظارے نے اُن کی تقریباً جان نکال دی۔ اُن کے عقب میں ہزاروں لاکھوں مینڈکوں کی ٹرٹراتی، اُچھلتی کُودتی، ایک دُوسرے سے ٹکراتی، ایک دُوسرے کے کندھے سے کندھا جوڑے ہوئے ایک عظیم الشّان فوج موجود تھی جیسے کوئی کالا سیاہ طوفان دِیوانہ وار اُن کی طرف بڑھ رہا ہو۔ اُن کے دوڑنے کے دوران راستے کے اطراف کے مینڈک اُن کا راستہ روکنے کے راستے پر کُودتے رہے اور باقی نرسلوں کے عقب سے چھلانگیں لگا کر انفرادی حملے کرتے رہے۔

اُنھوں نے ہمیں بتایا کہ اُس رات وہ سیاہ رنگ کا ڈھیلا ڈھالا ریشمی لباس زیب تن کیے ہوئے تھیں جو مینڈکوں کے حملوں میں دھجی دھجی ہو گیا۔ اُن حملہ آور مینڈکوں نے ریشم کی دھجیاں تک نگل لیں جنھیں وہ اضطرابی حالت میں اپنے گال نوچتے ہوئے پھینکتی رہی تھیں اور وہ زمین پر لڑھکنیاں کھاتے ہوئے اپنے سفید سفید پیٹ دِکھاتے رہے۔

وہ  تمام راستے کسی دریا کے کنارے بھاگتی رہیں کہ اُنھیں وہاں چاندنی میں نہایا ہوا پتھّروں کا ایک پُل دِکھائی دیا۔ اُس وقت تک اُن کے بدن پر لباس کی ایک کترن تک نہیں بچی تھی اور جب وہ مکمل عریاں حالت میں پُل پر پہنچیں تو اُنھوں نے ہاؤ داشو کو دیکھا۔ اُس وقت اُنھیں شرم و حیا کا خیال تک نہیں رہا اور نہ ہی اُنھیں پتا تھا کہ وہ عریاں ہیں۔ اُنھوں نے چِیڑ کے درخت کی چھال کی برساتی، شال اور بانس جیسے لمبا ہَیٹ پہنے ایک شخص کو پُل کے وسط میں اپنے ہاتھوں میں کسی شے کو بھینچتے ہوئے دیکھا۔

’’مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ گندھی ہوئی مٹی کا لوتھڑا بھینچ رہا تھا۔ ایک مہ زادہ چاندنی میں نہائی ہوئی ُندھی مٹی ہی سے بنایا جا سکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہے اور مجھے اِس چیز کی پرواہ بھی نہیں تھی۔ وہ جو کوئی بھی ہوتا میرا نجات دہندہ ہوتا۔‘‘

وہ دوڑ کر اُس شخص کی آغوش میں جا گریں اور اُس کی شال میں دبک گئیں اور جب اُن کے پستان اُن کی پشت کے مینڈکوں کی گیلی چپچپاہٹ اور سرد بدبُو کے برعکس اُس کے گرم گرم سینے سے ٹکرائے تو وہ چِلّا اُٹھیں۔ ’’بڑے بھائی، مجھے بچا لو!‘‘ اُس کے بعد وہ فوراً بے ہوش ہو گئیں۔

خالہ کے فصیح و بلیغ بیان نے ہمارے ذہنوں میں مینڈکوں کے غول کی ایسی تصویر بنائی کہ سرد لہر ہماری ریڑھ کی ہڈّیوں میں دوڑ گئی۔ کیمرا ہاؤ داشو پر گیا جو اَب بھی مجسمہ بنا بیٹھا تھا۔ خالہ چہرے پر کیمرا واپس آنے اور اُن کے مُنھ پر دوبارہ مرکوز ہونے قبل اگلے مناظر مٹّی کے چند مجسموں اور پتھر سے بنے چھوٹے پل کے تھے۔

 وہ  بولیں۔ ’’میں اُٹھی تو میں نے خُود کو مردانہ لباس پہنے ہاؤ داشو کے اِینٹوں کے بستر پر پایا۔ اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر مجھے پھلیوں کی یخنی کی پیالہ پکڑایا جس کی مہک نے میرا دماغ صاف کر دیا۔ ایک ہی پیالہ پینے کے بعد میں پسینے میں شرابور ہو گئی اور مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں کس قدر زخمی ہوں اور میرا بدن کتنا تپ رہا ہے۔ ٹھنڈک اور ناخُوش گواریت کا وہ احساس جس نے مجھے چیخنے پر مجبور کر دیا تھا ، دِھیرے دِھیرے رفع ہو رہا تھا۔ میرے جسم پر خارش اور دُکھتے ہوئے پھوڑے پڑے ہوئے تھے۔ میرا بخار بڑھ گیا اور میں سُدھ بُدھ کھو بیٹھی تھی۔ مجھے ہاؤ داشو کی پھلیوں کی یخنی پینے میں بھی خاصی اذیّت سہنا پڑی۔ میرے بدن سے کھال اُتری اور میری ہڈّیاں درد سے چٹخنے لگیں۔

میں نے ایک دیومالائی کردار کے دوبارہ جنم کے بارے میں سنا ہوا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ میں ایک نئی شخصیت بن جاؤں گی۔جب میں صحت یاب ہوئی تو میں نے ہاؤ داشو سے کہا: ’’بڑے بھائی، ہم شادی کر لیں۔‘‘

۰۰۰

Mo_Yan_Chinese_Writer_Nobel_Laureate_2012 مویان ۔ نوبیل انعام برائے ادب ۲۰۱۲ء

مویان

نوبیل انعام برائے ادب۔۲۰۱۲ء سے چینی النسل ناول نگار اور افسانہ نگار مویان کو نوازا گیا کہ’’ وہ اپنی تحریروں میں تخیّلاتی حقائق نگاری کا ادغام فوک داستانوں، تاریخ اور عصرِ حاضر سے کرتے ہیں۔‘‘ سویڈش اکیڈمی کے سربراہ پیٹر این گلنڈ کے مطابق: ’’اُن کا اسلوب اِس قدر لاثانی ہے کہ آدھا صفحہ پڑھتے ہی آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ مویان ہیں۔‘‘ 

سوانح حیات

گیارہ اَکتوبر ۲۰۱۲ء کو سویڈش اکیڈمی کے اعلان کے بعد مویان یہ انعام جیتنے والے دُنیا کے یک صد نویں اور چین کے دُوسرے ادیب ہیں لیکن چین ہی میں قیام پذیر پہلے ادیب ہیں۔ مویان سے قبل ۲۰۰۰ء میں ایک چینی ادیب گاؤ چنگ جیان کو یہ انعام مل چکا ہے لیکن وہ فرانس کے شہری تھے۔ مو یان کا اصل نام گُوآن موئے ہے۔ گُوآن اُن کا خاندانی نام ہے جب کہ گھر میں اُنھیں صرف مو کہہ کر پُکارا جاتا ہے لیکن دُنیا بھر میں اُن کی شہرت اُن کے قلمی نام مویان سے ہے۔ مویان کا چینی زبان میں مطلب ہے: ’’چُپ یا خاموش رہو۔‘‘

نیشنل انڈوومنٹ فار ہیومینیٹیز کے چیئرمین جِم لِیچ کو انٹرویو دیتے ہوے گُوان موئے نے بتایا کہ یہ نام اُن کے ذہن میں اپنے ماں باپ کی تنبیہ سے آیا تھا کہ گھر سے باہر اپنے دِل کی بات زبان پر مت لاؤ کیوں کہ اُن کے لڑکپن میں ۱۹۵۰ء سے چین میں سیاسی انقلاب کی صُورتِ حال تھی۔ اُن کے قلمی نام مویان کا اُن کی تحریروں سے گہرا تعلّق ہے جو چین کی سیاسی اور جنسی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔ گُوان موئے ۱۷ – فروری ۱۹۵۵ء کو مویان شندونگ صوبے کے گاؤمی ضلع کے دیہی علاقے ڈالان (جسے اُنھوں نے اپنے ناولوں میں گاؤمی ضلع کے ’’شمال مشرقی قصبہ‘‘ کا نام دیا ہے) میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ثقافتی انقلاب کے دوران وہ سکول چھوڑ کر پٹرولیم مصنوعات کی ایک فیکٹری میں کام کرنے لگے۔

تخلیقات

انقلاب کے بعد مویان پیپلز لِبریشن آرمی میں بھرتی ہوئے اور فوج کی ملازمت کے دوران ہی اُنھوں نے لکھنا شروع کر دیا۔ تین سال بعد اُنھیں پیپلز لِبریشن آرمی کی اکادمی برائے فن و ادب کے شعبۂِ ادب میں استاد کی نشست مل گئی جہاں سے ۱۹۸۴ء میں اُنھوں نے اپنا ناولچہ ناول ’’ایک شفاف مولی‘‘ شائع کیا۔ اُنھوں نے ادب میں ماسٹر ڈگری بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے حاصل کی۔ مویان نے بطور مصنف اپنے کیریئر کا آغاز چینی زبان میں اصلاح اور ایک نئے عہد کا آغاز کرنے والی ہزاروں کہانیاں اور ناول لکھ کر کیا۔ اُن کا پہلا ناول ’’موسمِ بہار کی رات کو برف باری‘‘ ۱۹۸۱ء میں اشاعت پذیر ہوا۔ اُن کے لاتعداد ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔اُن کے ناول ’’سرخ جوار‘‘ پر اسی نام سے فلم بھی بنائی گئی۔

توانائی سے بھرپُور مویان نے اپنا ناول ’’حیات و موت مجھے نوچ رہی ہیں‘‘ صرف ۴۲ دِنوں میں ہاتھ سے لکھ کر مکمل کیا ۔ وہ اپنے ناولوں کو ٹائپ کرنے کی بجائے ہاتھ ہی سے لکھنے پر ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ اُن کا خیال ہے کہ ٹائپ ’’ ذخیرۂِ الفاظ کو محدود کردیتی ہے۔ ویان بین الاقوامی ادب کے تراجم کا مطالعہ کرتے ہیں (کیوں کہ مویان کی تصانیف کو انگریزی میں ترجمہ کرنے والے ہاورڈ گولڈ بلیٹ کے بقول اُنھیں چینی کے علاوہ کوئی اَور زبان نہیں آتی)اور دُنیا بھر کے ادب کے مطالعے کے بہت بڑے حامی ہیں۔ اُنھوں نے فرینکفرٹ بُک فیئر ۲۰۰۹ء کی افتتاحی تقریر میں گوئٹے کے نظریے کو یہ کہتے ہوے بیان کیا: ’’ادب ملکوں اور قوموں کے درمیان موجود سرحدوں پر غلبہ پا سکتا ہے۔‘‘

اسلوب

مویان کی تحریریں رزمیہ تاریخی اسلوب رکھتی ہیں جس میں تخیّلاتی حقائق نگاری اورمزاح کی پُرکاری کی آمیزش موجود ہے۔ اُنھوں نے انسانی حرص و طمع اور بدعنوانی کو اپنا مستقل موضوع بنایا ہے۔

اعزازات و انعامات

مویان کو ملنے والے انعامات و اعزازت کی طویل فہرست ہے ۔ جن میں کِری یاما۔۲۰۰۵ء، ڈاکٹر آف لیٹرز۔۲۰۰۵ء، فیوکوکا ایشین کلچر پرائز۔XVII، نیومین پرائز برائے چینی ادب۔۲۰۰۹، آنریری فیلو ماڈرن لینگوایج ایسوسی ایشن۔۲۰۱۰ء، ماؤ ڈن لٹریچر پرائز۔۲۰۱۱ء اور نوبیل انعام برائے ادب۔۲۰۱۲ء شامل ہیں۔

۰۰۰

Najam_uddin Ahmad_Urdu_Novelist_Urdu_Short_Story_Writer_Urdu_Translator

نجم الدّین احمد

نجم الدین احمد انگریزی ادب میں ایم اے ہیں۔ وہ ناول نویس، افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔ اُن کے اب تک تین ناول: ’’مدفن‘‘،’’کھوج‘‘ اور ’’سہیم‘‘؛ دو افسانوی مجموعے: ’’آؤ بھائی کھیلیں‘‘اور ’’فرار اور دوسرے افسانے‘‘؛عالمی افسانوی ادب سے تراجم کی سات کتب: ’’بہترین امریکی کہانیاں‘‘، ’’نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی منتخب کہانیاں‘‘، ’’عالمی افسانہ-۱‘‘، ’’فسانۂ عالم (منتخب نوبیل کہانیاں)‘‘، ’’پلوتا (سرائیکی ناول از سلیم شہزاد)‘‘، ’’کافکا بر لبِ ساحل (جاپانی ناول ازو ہاروکی موراکامی)‘‘، ’’کتاب دَدَہ گُرگود (ترک/آذر بائیجان کی قدیم رزمیہ داستان‘‘شائع ہو چکی ہیں۔

 علاوہ ازیں نجم الدین احمد نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے انگریزی زبان میں’’ڈسٹرکٹ گزٹیئر ضلع بہاول نگر ۲۰۲۱ء‘‘بھی تحریر و تالیف کیا، جسے حکومتِ پنجاب کی سائٹ پرشائع کیا گیا ہے۔ اُن کی تصانیف پر اب تک انھیں رائٹرز گلڈ ایوارڈ۔۲۰۱۳ء، یو بی ایل ایوارڈ۔ ۲۰۱۷ء اور قومی ادبی ایوارڈ۔ ۲۰۱۹ء سے نوازا جا چکا ہے۔اُن کا ناول یوبی ایل ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ بھی ہوا۔

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب