فسوں کاریاں
نائیجیرین انگریزی کہانی
کوٹھڑی نمبر ۱
شیما ماند رہ گوزی ایڈیجی
Chimamanda Ngozi Adichie
تعارف و ترجمہ؍ عقیلہ منصور جدون
ہمارے گھر جب پہلی دفعہ چوری ہوئی تو چور ہمارے پڑوسی کا بیٹا او سیتا تھا۔ جو ڈائینگ روم کی کھڑکی سے کود کر آیا تھا۔ اس نے ہمارا ٹی وی، وی سی آر، پر پل رین (Purple Rain) اور تھرلر (Thriller) گیتوں کی ویڈیو ٹیپ جو ہمارے والد امریکہ سے لائے تھے، چوری کی تھیں۔
دوسری دفعہ جب چوری ہوئی تو چور میرا اپنا بھائی نامابیا تھا۔ جس نے نقب لگائے جانے کا جھوٹا ڈرامہ رچایا اور میری والدہ کا زیور چرا لیا۔ یہ واقعہ اتوار کا تھا۔ ہمارے والدین گاؤں دادا دادی کو ملنے گئے ہوئے تھے۔ اس دن میں اور بھائی خود ہی چرچ گئے۔ بھائی نے میری والدہ کی سبز رنگ کی پیجو ۵۰۴ (Peugeot 504) چلائی تھی۔ ہم ہمیشہ کی طرح چرچ میں اکھٹے بیٹھے تھے۔ لیکن اس دن ہم نے نہ تو آپس میں دھینگا مشتی کی اور نہ ہی کسی کے بدنما ہیٹ؍ ٹوپی پر اور نہ ہی کسی کے پرانے پاجامے پر اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کی تھی،اس لیے کہ نامابیا دس منٹ بعد ہی بغیر کچھ بتائے اٹھ گیا تھا۔ اور واپس اس وقت آیا جب پادری اپنے واعظ کا اختتامی فقرہ ادا کر رہا تھا۔ ”وعظ ختم ہو گیا ہے، سکون سے جاؤ۔‘‘
میں تھوڑی ناراض تھی،میرا خیال تھا کہ وہ یا تو سگریٹ پینے یا کسی لڑکی سے ملنے گیا تھا۔ کیوں کہ اسے کار بھی کبھی کبھار ہی ملتی تھی۔ لیکن اسے مجھے بتا کر جانا چاہیے تھا۔ ہم گھر واپسی تک خاموش رہے۔ جب بھائی نے گاڑی گھر کی لمبی ڈرائیو وے پر کھڑی کی، تو میں اگزورا کے پھول چننے کے لیے رک گئی۔ بھائی نے گھر کا صدر دروازہ کھولا، جب میں اندر داخل ہوئی تو اسے دیوان خانے کے درمیان ساکت کھڑا دیکھا۔
’’ہم لوٹ لیے گئے ہیں۔“ اس نے انگریزی میں کہا۔
مجھے بات سمجھنے اور بے ترتیب بکھرے پڑے کمرے تک پہنچنے میں کچھ وقت لگا۔ اس کے باوجود میں نے محسوس کیا کہ جس طرح دراز کھولے گئے ہیں، سب کچھ محض ڈرامہ ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ جس کسی نے یہ حرکت کی ہے وہ صرف دیکھنے والے کو چوری کا تاثر دینا چاہتا تھا۔ یا پھر اس وجہ سے کہ میں اپنے بھائی کو بہت اچھی طرح جانتی تھی۔بعد میں جب والدین گھر آ گئے، اور ہمسائے گروپ کی صورت میں چوٹیں کستے،کندھے اچکاتے افسوس کے لیے آئے۔ تو میں اوپری منزل میں بنے کمرے میں تنہا بیٹھی سوچتی رہی کہ میرے اندر یہ کیسی بے قراری ہے۔یہ سب بھائی کا کیا دھرا ہے، اتنا تو میں جانتی تھی، میرا باپ بھی جانتا تھا۔
میرے والد نے توجہ دلائی کے کھڑکیوں کے لوورز (Louvers) اندر سے باہر کی طرف پھسلائے گئے ہیں۔ اور چور کو یہ بھی معلوم تھا کہ والدہ اپنے زیورات کہاں رکھتی ہے، دھاتی ٹرنک کے بائیں کونے میں۔ نامابیا نے والد کی طرف ڈرامائی زخمی آنکھوں سے دیکھا اور کہا۔ ”مجھے معلوم ہے، میں نے آپ کو ماضی میں بہت خوفناک دکھ دیے ہیں، لیکن میں اس طرح آپ کا اعتماد نہیں توڑ سکتا۔وہ انگریزی بول رہا تھا اور غیر ضروری الفاظ جیسے کہ ’’خوفناک دکھ“ اور ’’اعتماد توڑنا“ استعمال کر رہا تھا۔ایسا وہ ہمیشہ اپنا دفاع کرتے ہوئے کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ پچھلے دروازے سے گھر سے باہر نکل گیا۔
اس رات اس سے اگلی رات اور پھر اس سے بھی اگلی رات وہ گھر نہیں آیا بلکہ پورے دو ہفتوں بعد گھر آیا۔ مریل اور بئیر کی بو سے بھرا ہوا۔ روتا ہوا اور یہ کہتا ہوا کہ اسے بہت افسوس ہے۔ اس نے زیورات اینوگوکے ہاؤسا ( نائیجیرین باشندے) تاجران کے پاس گروی رکھے ہیں۔ اور ساری رقم ختم ہو چکی ہے۔
’’انھوں نے تمھیں میرے سونے کی کیا قیمت دی؟“ میری ماں نے پوچھا۔ جب اس نے بتایا تو میری ماں دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر چلائی۔ ” آہ— آہ— میرے خدا نے مجھے مار ہی ڈالا۔ “ مجھے ایسا لگا جیسے وہ چاہتی تھی کہ کم از کم وہ زیورات کی قیمت تو بہتر وصول کرتا۔ اس وقت میں والدہ کے منھ پر چانٹا لگانا چاہتی تھی۔ والد نے نامابیا سے اس بارے میں رپورٹ لکھنے کے لیے کہا، جس میں وہ یہ لکھے کہ اس نے زیورات کیسے بیچے اور رقم کہاں کہاں خرچ کی۔
مجھے معلوم تھا نامابیا کبھی سچ نہیں لکھے گا۔اور میرا خیال تھا کہ والد کی بھی یہی سوچ تھی۔لیکن میرے والد کو رپورٹیں لکھوانا پسند تھا۔میرے پروفیسر والد کو لکھی ہوئی دستاویز پسند تھیں۔ اس کے علاوہ نامابیا سترہ سال کا تھا تراشی خراشی داڑھی تھی۔ وہ سیکنڈری سکول اور یونیورسٹی کے درمیانی عرصے والی عمر میں تھا۔ یہ ایسی عمر تھی کہ اسے مارپیٹ نہیں کی جا سکتی تھی۔ہمارا والد کیا کر سکتا تھا۔ جب نامابیا نے رپورٹ لکھ دی تو والد نے اسے اپنی سٹڈی میں دراز میں رکھ دیا، جہاں وہ ہمارے سکول کے باقی کاغذات رکھتے تھے۔اور اس معاملے میں آخری بات کہی۔ ” وہ کیسے اپنی ماں کو اس طرح تکلیف دے سکتا ہے۔‘‘
لیکن یہ سب کرنے کا مقصد نامابیا کا والدہ کو تکلیف دینا نہیں تھا۔ بلکہ یہ سب اس لیے ہوا کہ ہمارے گھر میں والدہ کے زیورات کے علاوہ کوئی اور قیمتی چیز تھی ہی نہیں۔ ماں کی ساری زندگی کی جمع پونجی یہی سونے کے ٹکڑے تھے۔ اس میں نامابیا کا قصور نہیں تھا۔ دوسرے پروفیسروں کے بچے بھی یہی کچھ کر رہے تھے۔ ہمارے پرسکون نسوکہ کیمپس میں یہ چوریوں کا موسم تھا۔ لڑکے جو سیسم سٹریٹ (امریکی ٹیلیویژن سیریز) دیکھ کر اور اینیڈ بلیٹن ( بچوں کا مصنف) کی کتابیں پڑھ کر، ناشتے میں کارن فلیکس کھا کر،یونیورسٹی سٹاف کے پرائمری سکول، بہترین پالش کیے گئے جوتوں کے ساتھ حاضر ہوتے رہے، اب اپنے ہمسایوں کی کھڑکیوں کی مچھر دانیاں کاٹ رہے تھے،شیشے کے لوورپھسلا رہے تھے۔ کھڑکیوں سے کود کر گھروں سے ٹی وی اور وی سی آر چرا رہے تھے۔
ہم سب چوروں کو جانتے تھے۔ قطار در قطار لگے درختوں والی سڑک پر ایک دوسرے سے جڑے گھروں کو جنھیں چھوٹی چھوٹی باڑیں علیحدہ کرتیں، ہم سب جانے بغیر نہیں رہ سکتے تھے کہ کون چوری کر رہا ہے۔ نسوکہ کیمپس بہت چھوٹی جگہ تھی،اس کے باوجود جب پروفیسر والدین ایک دوسرے سے سٹاف کلب یا شعبہ جاتی اجلاس میں ملتے تو اپنے مقدس کیمپس میں شہر سے آ کر چوری کرنے والے نیچ ذات والوں کے بارے میں اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے۔
چوری کرنے والے لڑکے ہر دلعزیز تھے۔شام کے وقت وہ اپنے والدین کی کاریں چلاتے۔کار کی سیٹیں پیچھے کی ہوتیں۔بازو پھیلا کر گاڑی کے ہینڈل تک پہنچتے۔اوسیتا جس نے نامابیا والے واقعے سے قبل ہمارے گھر چوری کی تھی، لوچدار، نرم اور وجیہ تھا۔ اس کی چال کی وجاہت بلی کی چال جیسی تھی۔ اس کی قمیض ہمیشہ بہت اچھی طرح استری شدہ ہوتی۔ میں اسے باڑ کے پار دیکھتی۔ آنکھیں بند کرکے تصور کرتی کہ وہ میری طرف مجھ ہر اپنا ہونے کا دعوی کرنے آرہا ہے۔ لیکن اس نے مجھے کبھی توجہ نہیں دی۔ جب اس نے ہمارے گھر چوری کی تو میرے والدین، پروفیسر ایبوبے کے گھر اپنے سامان کی واپسی کا مطالبہ لے کر کبھی نہ گئے۔ انھوں نے ہر جگہ یہی کہا کہ کسی دیہاتی نیچ ذات کاکام ہے۔ جبکہ انھیں یقین تھا کہ یہ کام اوسیتا کا ہی تھا۔
اوسیتا نامابیا سے دو سال بڑا تھا۔ چوری کرنے والے اکثر لڑکے نامابیا سے بڑے تھے۔ اسی وجہ سے نامابیا نے کبھی دوسروں کے گھر چوری نہیں کی۔ شاید وہ اپنے آپ کو اپنی والدہ کے زیورات سے بڑی واردات کا اہل نہیں سمجھتا تھا۔
نامابیا بالکل ہماری والدہ جیسا تھا۔ وہی شہد جیسی صاف رنگت، بڑی بڑی آنکھیں۔
جب والدہ ہمیں بازار لے کر جاتی تو دوکاندار کہتے، مادام آپ نے اپنی صاف رنگت لڑکے پر کیوں ضائع کی۔ اور لڑکی کو گہرا رنگ کیوں دیا؟ لڑکے نے اس ساری خوبصورتی کا کیا کرنا ہے؟ والدہ اپنی ہنسی دباتیں جیسے کے وہ نامابیا کی خوبصورتی کی ذمہ داری لے رہی ہوں۔جب دن گیارہ بجے نامابیا نے اپنے کلاس روم کی کھڑکی کا شیشہ پتھر مار کر توڑا تھا۔ تو والدہ نے اسے وہ شیشہ بدلنے کے لیے رقم فراہم کی۔ اور والد کو ہوا تک لگنے نہیں دی۔
جب وہ جماعت دوئم میں تھا اور اس نے سکول لائبریری کی کتابیں گم کر دی تھیں تو والدہ نے سکول ٹیچر کو بتایا کہ کتابیں ان کے گھریلو ملازم نے چرا لی ہیں۔ اور جب وہ جماعت سوئم میں تھا تو مقدس عیسائی تقریب ہولی کمیونین میں شرکت کے سوالنامے کی تیاری کے لیے جلدی چلا جاتا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کبھی وہاں گیا ہی نہیں اس طرح وہ تقریب میں شمولیت کا اجازت نامہ حاصل نہ کر سکا۔ لیکن والدہ نے دوسرے بچوں کے والدین کو بتایا کہ اسے ملیریا ہو گیا تھا۔
جس دن اس نے والد کی کار کی چابی اٹھائی اور اسے صابن پر دبایا اور پھر اسے چابی بنانے والے کے پاس لے جانے سے قبل ہی والد نے دیکھ لیا، تب میری والدہ نے مبہم بہانے بنانے کی کوشش کی۔ جب اس نے والد کی سٹڈی سے امتحانی پرچے چرا کر والد کے شاگردوں میں بیچ دیے، تو وہ اس پر چلائیں لیکن میرے والد کو کہا کہ اب وہ سولہ سال کا ہے اور اب اسے زیادہ جیب خرچ ملنا چاہیے۔
مجھے نہیں معلوم کہ نامابیا کوماں کے زیورات بیچنے پر کوئی ملال تھا؟ میں عموماً بھائی کے چہرے سے اندازہ نہیں لگا سکتی کہ وہ حقیقتاً کیا محسوس کر رہا ہے اور ہم اس حوالے سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔ اگرچہ میری خالاؤں نے انھیں سونے کے بندے بھیجے اور ماں نے خود بھی مسز موزی (ایک فیشن ایبل خاتون جو اٹلی سے سونے کے زیورات منگواتی تھی) سے بندے اور لاکٹ سیٹ خرید لیا۔ اور ہر مہینے اس کی اقساط ادا کرنے اس کے گھر جاتی۔لیکن اس دن کے بعد سے ہم نے کبھی نامابیا کی چوری کے حوالے سے بات نہیں کی۔تا کہ اسے نئے سرے سے اپنے آپ کو سنوارنے کا موقعہ مل جائے۔اس چوری کا دوبارہ کبھی بھی تذکرہ نہ ہوتا اگر وہ تین سال بعد، جب یونیورسٹی کے تیسرے سال میں تھا، گرفتار ہو کر پولیس سٹیشن بند نہ کر دیا جاتا۔
ہمارے نسوکہ کیمپس میں یہ وقت فرقوں کے عروج کا وقت تھا۔ اس وقت تمام یونیورسٹی سائین بورڈز پر جلی حروف میں ’’فرقوں کا انکار کریں‘‘ لکھ دیا گیا تھا۔ ان میں مشہور عام ’’سیاہ کلہاڑا“، ’’ بحری ڈاکو‘‘ اور ’’قزاق‘‘ تھے۔ یہ شروع میں بے ضرر رہے ہوں گے،لیکن اب وہ نشونما پا کر طاقت پکڑ چکے تھے۔اٹھارہ سالہ لڑکے جنھوں نے امریکی ریپ (rap) ویڈیوز میں مہارت حاصل کی تھی وہ خفیہ اور عجیب و غریب سرگرمیوں میں ملوث ہو رہے تھے جن کی وجہ سے کبھی کبھار ایک یا دو اوپن ہل پر مردہ پائے جاتے۔ بندوقیں، اذیت ناک وفاداریاں اور کلہاڑیاں عام ہو رہی تھیں۔ فرقہ پرست لڑائیاں بھی عام ہو رہی تھیں۔
اگر کوئی لڑکا اس لڑکی کو جو ’’سیاہ کلہاڑا“ کے بدمعاش کی گرل فرینڈ ہوتی نفرت سے دیکھتا تو جب وہ سگریٹ خریدنے کھوکھے تک پہنچتا تو اس کی ران میں چھرا گھونپا جا چکا ہوتا۔ اور معلوم ہوتا کہ وہ خود ’’بحری ڈاکو‘‘ فرقے کا بدمعاش تھا۔ اب اس کا ساتھی شراب خانے جا کر قریبی ترین ’’سیاہ کلہاڑا“ کے لڑکے کو کندھے میں گولی مار دیتا۔ اگلے دن ’’بحری ڈاکو‘‘ کا لڑکا جواباً گولی سے اڑا دیا جاتا۔اور اس کا جسم سوپ کے پیالے کے پاس گرا پڑا ملتا۔ اسی شام ’’سیاہ کلہاڑا‘‘ کا لڑکا لیکچرزکوارٹرز میں اپنے کمرے میں قتل کر دیا جاتا۔اس کا سی ڈی پلئیر اس کے خون کے چھینٹوں سے بھرا ہوتا۔
یہ سب بے حسی کی انتہا تھی۔ لڑکیاں لیکچرز کے بعد اپنے ہوسٹل کے کمروں میں رہتیں۔ لیکچرارز کانپ رہے ہوتے۔ اگر مکھی ذرا بھی اونچا بھنبھناتی تو لوگ ڈر جاتے، پولیس بلوا لی جاتی۔ پولیس اپنی کمزور نیلی پیجو۵۰۵ میں پہنچ جاتی۔زنگ آلود بندوقیں گاڑی کی کھڑکیوں سے باہر نکلی طلباء پر تنی ہوتیں۔نامابیا لیکچر سے کھل کھلاتا ہوا گھر آتا۔ وہ تبصرہ کرتا کہ پولیس کو بہتر ہتھیار ملنے چاہئیں،ہر کوئی جانتا ہے کہ فرقوں کے پاس جدید بندوقیں ہیں۔
والدین نامابیا کے ہنستے چہرے کو تشویش بھری خاموشی سے دیکھتے۔میں جانتی تھی کہ دونوں پریشان ہیں کہ نامابیا کہیں کسی فرقے میں شامل تو نہیں۔ بعض اوقات مجھے بھی شک ہوتا کہ وہ رکن ہے کیونکہ فرقوں کے لڑکے ہر دلعزیز تھے اور نامابیا تو بہت زیادہ مقبول تھا۔لڑکے اس کا عرفی نام ’’ڈرپوک“ چیخ کر پکارتے، وہ جب بھی ان کے پاس سے گزرتا تو اس سے ہاتھ ملاتے، لڑکیاں خصوصاً بڑی لڑکیاں گرم جوشی سے زیادہ دیر بغل گیر رہتیں۔ وہ تمام تقریبات میں شامل ہوتا، کیمپس کی مہذب تقریبات میں بھی اور شہری ہلے گلے والی میں بھی۔وہ بہ یک وقت لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں مقبول تھا۔ وہ گولڈ لیف ( سگریٹ) کی ڈبیا ایک دن میں ختم کر دیتا۔
اورکبھی میں سوچتی، نہیں وہ کسی فرقے کا رکن نہیں، وہ اس لیے اتنا مقبول ہے کہ یہ اس کا سٹائل ہے کہ اس نے ہر فرقے کے لڑکوں کو دوست بنایا ہوا ہے۔ اور کسی سے بھی اس کی دشمنی نہیں،لیکن پھر بھی میں اس کے بارے میں کوئی یقینی رائے قائم نہیں کر سکتی تھی۔ صرف ایک بار میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کسی فرقے میں شامل ہے؟ اس نے حیران ہو کر مجھے دیکھا اور کہا۔ ’’ ہرگز نہیں۔“ میں نے اس پر یقین کر لیا۔ میرے والد کو بھی اس پر یقین تھا۔ لیکن ہمارے اس یقین اور اعتمادکا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ فرقہ کا رکن ہونے کے الزام میں اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اوریہ ’’ ہرگز نہیں۔“ اس نے مجھے پولیس سٹیشن میں کہا تھا جب ہم اسے گرفتاری کے بعد پہلی دفعہ ملنے گئے تھے۔
یہ سب اس طرح ہوا۔حبس زدہ سوموار کو فرقہ کے چار رکن کیمپس کے گیٹ پر کھڑے تھے۔ ایک پروفیسر کی سرخ مرسیڈیز کوروکا۔ اس کے سرپر گن سے ضرب لگا کر اسے گھسیٹ کر گاڑی سے نکالا اورخود اس کی کار چلا کر شعبہ انجنیئرنگ میں لے گئے۔ وہاں لیکچر ہال سے باہر آتے تین لڑکوں کو گولیاں ماریں۔ دوپہر کاوقت تھا۔ میں قریبی کلاس روم میں تھی جب ہم نے تیز فائرنگ کی آواز سنی تو ہمارے لیکچرار سب سے پہلے کمرے سے نکلے۔یکدم ہی سیڑھیاں چیختے چلاتے بدحواس طلباء سے بھر گئیں۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے کدھر جائیں۔ باہر لان میں بھی لاشیں پڑی تھیں۔ اور سرخ مرسیڈیز جا چکی تھی۔ بہت سے طلباء نے جلدی جلدی اپنے بیگ سنبھالے، اوکاڈا (موٹر سائیکل ٹیکسی) کے ڈرائیوروں نے روز مرہ سے دگنے کرایوں پر انھیں موٹر پارک تک پہنچایا۔
وائس چانسلر نے شام کی تمام کلاسیں منسوخ کر دیں۔ نو بجے کے بعد کسی کے بھی باہر نکلنے پر پابندی لگا دی۔ میرے خیال میں یہ کوئی سمجھ دارانہ فیصلہ نہیں تھا کہ سارا ہنگامہ تو بھری دوپہر میں ہوا تھا۔ شاید نامابیا کے لئے بھی یہ فیصلہ دانشمندانہ نہیں تھا۔ کرفیو کے پہلے دن ہی وہ رات نو بجے گھر پر نہیں تھا ۔ بلکہ اس ساری رات وہ گھر آیا ہی نہیں۔ ہمارا خیال تھا وہ کسی دوست کے گھر رک گیا ہو گا۔ وہ ہر رات گھر پر نہیں گزارتا تھا۔ اگلے دن ایک حفاظتی چوکیدار نے ہمارے والدین کو بتایا کہ نامابیا کچھ فرقہ لڑکوں کے ساتھ سٹی بار سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
میری والدہ یہ سن کر چلائی۔ ” ایسا مت کہو۔‘‘
میرے والد نے چوکیدار کا شکریہ ادا کیا، اور ہم سب والد کے ساتھ شہر کے پولیس سٹیشن پہنچ گئے۔ وہاں پر موجود کا نسٹیبل جو ایک گندا سا پین کا ڈھکن منھ میں ڈالے بیٹھا تھا بولا۔ ”تمھارا مطلب ان فرقے والے لڑکوں سے ہے جو کل رات کو گرفتار کئے گئے ہیں؟ انھیں اینوگو لے گئے ہں ۔یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے جناب۔ ہمیں یہ فرقوں کی دہشتگردی ہمیشہ کے لیے ختم کرنی ہے۔‘‘
ہم دوبارہ کار میں بیٹھ گئے۔ ایک نئے خوف نے ہمیں گھیر لیا۔ ہم اپنے خاموش الگ تھلگ کیمپس اور اس سے بھی الگ تھلگ اپنے شہر میں معاملے کو سنبھال سکتے تھے۔ والد پولیس سپرینٹنڈنٹ کو جانتا تھا، لیکن دارالخلافہ اینوگو منظم نائیجیرین فوج، پولیس ہیڈ کوارٹرز اور معروف چوراہوں پر موجود ٹریفک وارڈن کے ساتھ ہمارے لیے بالکل اجنبی شہر تھا۔ یہ ایسی جگہ تھی جہاں پولیس جو چاہے کر سکتی تھی۔جب ان پر اوپر سے دباؤ پڑتا تو وہ اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے لوگوں کو قتل بھی کر سکتی تھی۔
اینوگو پولیس سٹیشن کے ارد گرد فصیل تھی اندر عمارتوں سے بھرا بے ڈھنگا سا احاطہ تھا۔ گیٹ کے قریب گرد سے اٹی ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں جمع تھیں۔ان کے قریب کمشنر پولیس کے دفتر کا بورڈ لگا تھا۔والد گاڑی کو احاطے کے دوسرے سرے پر ایک مستطیل بنگلے تک لے گیا۔ والدہ نے وہاں موجود دو پولیس افسران کو بطور رشوت کچھ رقم اور کھانے کے لیے گوشت اور جولوف چاول دیے۔ یہ سب کالے رنگ کے واٹر پروف تھیلے میں بند تھا۔جس پر انھوں نے نامابیا کو اس کےسیل (کوٹھڑی) سے نکال کر ہمارے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ہم ایک چھتری نما درخت کے نیچے رکھے بنچ پر بیٹھے تھے۔
ہم میں سے کسی نے بھی نامابیا سے یہ نہیں پوچھا کہ اس رات کرفیو کے باوجود وہ گھر سے باہر کیوں رہا تھا۔ نہ ہی ہم نے یہ کہا کہ پولیس کا بار میں داخل ہو کر بار مین سمیت تمام شراب نوشی میں مصروف لڑکوں کو گرفتار کرنا غیر معقول تھا۔ ہم صرف نامابیا کو سننا چاہتے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ لکڑی کے بنچ پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا۔ اس کے سامنے چکن اور چاول پڑے تھے اس کی پر امید آنکھیں ایسے چمک رہی تھیں جیسے وہ کوئی تفریحی پروگرام کرنے لگا ہو۔
’’اگر ہم نائیجیریا اسی طرح چلائیں جیسے یہ سیل چلایا جا رہا ہے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔ یہاں ہر کام منظم طریقے پر ہوتا ہے۔ ہماری کوٹھڑی کے چیف کا نام جنرل ابا چہ ہے۔ اس کا ایک نائب ہے۔ جب آپ یہاں آ جاتے ہیں تو آپ کو انھیں کچھ رقم دینی ہوتی ہے، اگر نہیں دو گے تو مصیبت میں پھنسو گے۔‘‘
’’تو کیا تمھارے پاس رقم ہے؟“ نامابیا مسکرایا،اس کی پیشانی پر کسی کیڑے کے کاٹنے کے نشان کی وجہ سے اس کا چہرہ ہمیشہ سے زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔
اس نے مقامی زبان اگبو میں جواب دیتے ہوے بتایا کہ اس نے اپنی رقم گرفتاری کے فوراً بعد مقعد میں چھپا لی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ سپاہی یہ رقم چھین لیں گے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ سیل میں امن امان سے رہنے کے لیے اسے رقم کی ضرورت ہو گی۔ اس نے بھنی ہوئی مرغے کی ٹانگ کاٹتے ہوے انگریزی میں بولنا شروع کر دیا۔
”جنرل اباچہ میری رقم چھپانے کی ترکیب پر بہت متاثر ہوا۔ میں نے اپنے آپ کو اس کا تابعدار بنا لیا ہے۔ میں ہمیشہ اس کی تعریف کرتا رہتا ہوں۔ جب سپاہی ہم نئے آنے والوں کو کان پکڑ کر مینڈک والی اچھل کود کرواتے ہیں تو وہ مجھے دس منٹ بعد چھوڑ دیتا ہے۔ جب کہ باقی سب تقریباً تیس منٹ تک کرتے رہتے ہیں۔‘‘
ہماری والدہ نے اپنے آپ کو ایسے لپیٹا جیسے اسے سردی لگ رہی ہو۔ میرے والد کچھ نہیں بولے بس غور سے نامابیا کو دیکھتے رہے۔ میں نے اپنے بھائی کو نیرہ (نائیجیریا کی کرنسی) کو پتلے سگریٹوں کی شکل دے کر اپنے پاجامے کے پچھلے حصے میں ہاتھ ڈال کر درد اور تکلیف سہتے ہوئے اپنے اندر گھسا تے ہوے تصور کیا۔
جب ہم نسوکہ واپس پہنچے تو والد نے کہا۔ ”جب اس نے گھر میں چوری کی تھی تو مجھے اسے ایسے ہی کمرے میں بند کر دینا چاہیے تھا۔‘‘
میری ماں خاموش کھڑی کھڑکی سے باہر گھورتی رہی۔
’’ کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
“اس لیے کہ اس نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔کیا تم نے غور سے نہیں دیکھا؟‘‘ والد نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے پوچھا۔ میں یہ نہ دیکھ سکی تھی مجھے نامابیا بالکل ٹھیک لگا تھا۔
نامابیا کو پہلا دھچکہ ’’بحری ڈاکو‘‘ کے رکن لڑکے کو ہچکیاں بھرتے دیکھ کر لگا۔ لڑکا لمبا اور سخت جان تھا۔ اس کے بارے میں افواہ تھی کہ قتل کی وارداتوں میں سے ایک واردات اس نے کی تھی۔تا کہ وہ اگلے سمیسٹر میں ’’بدمعاش (Capone) بننے والوں کی قطار میں شامل ہو سکے۔ اب وہ یہاں چیف کی اس کے سر پر پیچھے ضرب لگانے پر سیل میں خوفزدہ بیٹھا ہچکیاں بھر رہا تھا۔
یہ بات نامابیا نے مجھے اگلے دن کی ملاقات میں بتائی تھی۔ اس کی آواز میں حقارت اور مایوسی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے اچانک اسے دکھایا گیا کہ ناقابل یقین دیو محض سبز رنگ کا پینٹ تھا۔ اسے دوسرا دھچکہ کچھ دنوں بعد سیل نمبر ایک سے لگا۔ جو ان کے سیل کے پیچھے تھا۔ دو سپاہی سیل نمبر ایک سے پھولی ہوئی مردہ لاش نکال کر لائے، نامابیا کے سیل کے پاس جان بوجھ کر رکے،تاکہ سب لاش کو دیکھ لیں۔
اس کا چیف بھی سیل نمبر ایک سے خوفزدہ دکھائی دیتا تھا۔جب نامابیا اور اس کے ساتھی پینٹ کی پلاسٹک کی خالی بالٹیوں میں پانی خریدنے کی استطاعت رکھتے تو باہر نہانے کی اجازت ملتی۔ ایک سپاہی ان کی نگرانی کرتا۔ اور عموماً چلاتا رہتا ۔ ’’ رک جاؤ، باز آ جاؤ ۔ ورنہ تمھیں سیل نمبر ایک میں بھیج دیا جائے گا۔‘‘ نامابیا کو سیل نمبر ایک کے بارے میں ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے۔وہ اپنے سیل سے بدتر جگہ کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔جو اتنی گنجان آباد تھی کہ عموماً وہ دیوار کے ساتھ چپکا کھڑا ہوتا تھا۔ دیوار کی دراڑوں میں کھٹمل رہتے، وہ بہت سخت کاٹتے اور جب وہ چیختا تو سیل کے ساتھی اسے نازک اندام یا پھر یونیورسٹی بوائے کہتے۔
ان سب کو اپنے ۔ پہلوؤں پر سر سے پاؤں تک سونا پڑتا۔ صرف چیف ہی پوری کمر زمین کے ساتھ لگا کر سو سکتا تھا۔ صرف چیف کو گاری (نائیجرین ڈِش) اور سوپ ملتا تھا۔ نامابیا نے پہلے ہفتے میں ہمیں یہ سب کچھ بتایا تھا۔ جب وہ بتا رہا تھا تو میں حیران ہو رہی تھی کہ اس کے چہرے پر کیڑوں کے کاٹنے کے نشان ہیں یا کوئی انفیکشن ہے۔ ان میں سے کچھ میں کریمی رنگ کی پیپ تھی۔ اس نے انھیں نو چتے ہوے بتایا کہ آج ٹوائلٹ بھرا ہوا تھا۔ وہ اسے صرف ہفتے کے دن صاف کرتے ہیں،اس لیے مجھے کھڑے کھڑے واٹر پروف بیگ میں فارغ ہونا پڑا۔
اس کا لہجہ فنکارانہ تھا۔ میں اسے چپ کرانا چاہتی تھی کیوں کہ وہ اپنی بے عزتی کا شکار ہونے والے اپنے کردار سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کتنا خوش قسمت تھا کہ سپاہی اسے باہر آ کر ہمارے ساتھ کھانا کھانے کی اجازت دے رہے تھے۔ اس رات باہر رہ کر شراب پینا کتنی بڑی بے وقوفی تھی۔ اس کے آزاد ہونے کے امکانات کتنے کم تھے۔
پہلے ہفتے ہم ہر روز اس سے ملاقات کے لیے جاتے رہے۔ ہم والد کی گاڑی میں جاتے تھے کہ والدہ کی گاڑی اس سے بھی پرانی تھی، اور اسے ہمارے کیمپس سے باہر لے کر جانا محفوظ نہیں تھا۔ جب ہم سڑک پر پولیس چوکی سے گزرتے تو میں محسوس کرتی کہ میرے والدین کچھ مختلف ہوتے، کچھ پراسرار سے طریقے سے مختلف۔ میرے والد نے پولیس کی جہالت اور کرپشن پر خود کلامی بالکل بند کر دی تھی۔
جیسے ایک دفعہ پولیس نے اس بس کو جس میں میری خوبصورت کزن سفر کر رہی تھی روک لیا تھا، اسے باہر نکالا، اسے فاحشہ کہا کیوں کہ اس کے پاس دو سیل فون تھے۔ اس سے اتنی زیادہ رقم کا مطالبہ کیا کہ وہ بارش میں گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر ان سے اسے جانے دینے کی بھیک مانگنے لگی۔اس کی بس کو اس کے بغیر ہی بھیج دیا گیا تھا۔ میری والدہ نے بھی بڑبڑانا چھوڑ دیا تھا۔ یہ گھبراہٹ کی علامات تھیں۔ اب میرے والدین خاموش ہو گئے تھے، شاید حسب معمول تنقید نہ کر کے وہ نامابیا کو جلد چھڑا لیں گے۔
فرقوں کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہو چکا تھا۔ ابوجا میں حکام بالا تمام واقعات کا جائزہ لے رہے تھے۔ ہر شخص اس معاملے میں اپنے آپ کو مصروف دکھانا چاہتا تھا۔
دوسرے ہفتے میں نے اپنے والدین کو نامابیا کی ملاقات کے لیے جانے سے منع کر دیا۔ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ سب کچھ کب تک چلے گا۔ پیٹرول اتنا مہنگا تھا کہ روزانہ تین گھنٹے گاڑی چلانا ممکن نہیں تھا۔ اور نہ نامابیا کو ایک دن خود اپنے بھروسے گزارنا مشکل تھا۔
والد نے میری بات سن کر مجھے حیران ہو کر دیکھا اور پوچھا۔ ”تم کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘
والدہ نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور یہ کہتے ہوے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ ”کوئی بھی مجھے ساتھ لے جانے کے لیے مجبور نہیں کرے گا۔ میں یہاں بیٹھی رہوں اور کچھ بھی نہ کروں، جبکہ میرا بھائی مصیبت میں ہے۔‘‘ وہ کار کی طرف جا رہی تھی،جب میں باہر پہنچی تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ میں کیا کروں، میں نے اگزورا کی جھاڑی کے پاس سے پتھر اٹھایا اور اسے کار کی سکرین پر دے مارا۔ سکرین پر لکیریں پڑ گئیں شیشہ تڑخنے کی آوازیں سنائی دیں۔ میں واپس مڑی اور بھاگ کر اوپر اپنے کمرے میں جا کر کمرہ مقفل کر لیا۔ تا کہ والدہ کے غصے سے بچ سکوں۔ لیکن کار سٹارٹ ہونے کی آواز سنائی نہ دی۔ اس طرح اس دن نامابیا کو ملنے کوئی نہیں گیا۔ میں اپنی چھوٹی سی جیت پر بہت حیران ہوئی۔
اگلے دن جب ہم ملاقات کے لیے گئے تو ہم نے ونڈ شیلڈ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، اگرچہ لکیریں برف سے جمی ندی پر بننے والی لہروں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں۔ سپاہی نے ہم سے پوچھا کہ ہم کل کیوں نہیں آئے۔ اس نے والدہ کے جولوف چاول یاد کیے تھے۔ مجھے توقع تھی کہ نامابیا بھی پوچھے گا اور پریشان ہو گا۔ لیکن وہ عجیب و غریب سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ اس کے چہرے کے ایسے تاثرات میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔اس نے اپنے چاول بھی ختم نہیں کیے۔ وہ مسلسل کسی اور طرف دیکھتا رہا۔ ایکسیڈنٹ سے متاثرہ ادھ جلی کاروں کو دیکھتا رہا۔
’’کیا مسئلہ ہے؟“ میری والدہ نے پوچھا اور نامابیا فوراً بولنا شروع ہو گیا۔ جیسے وہ پوچھے جانے کا منتظر تھا۔ اس کی آواز نہ بہت اونچی تھی نہ بہت آہستہ۔ پچھلے دن اس کے سیل میں ایک بوڑھے آدمی کا اضافہ ہوا۔ شاید وہ ستر کی دھائی کے وسط میں تھا۔ایک ناقابل ترمیم ریٹائرڈ سرکاری ملازم کی پرانی طرز کی تطہیر کے ساتھ۔ اس کا بیٹا مسلح ڈکیتی میں مطلوب تھا۔ اور جب پولیس کو بیٹا نہ مل سکا تو انھوں نے اسے بیٹے کی جگہ بند کر دیا۔ اس آدمی نے کچھ نہیں کیا تھا۔ نامابیا نے بتایا۔ ”لیکن تم نے بھی تو کچھ نہیں کیا۔“ والدہ بولیں ۔
نامابیا نے ایسے سر ہلایا جیسے وہ کچھ نہیں سمجھا تھا۔ آنے والے دنوں میں وہ مزید بجھا بجھا سا تھا۔ وہ بہت کم بولتا،جب بولتا بوڑھے کے بارے میں بولتا۔ ایک دفعہ بتایا کہ بوڑھے کے پاس نہانے کا پانی خریدنے کے لیے بھی رقم نہیں۔ کیسے دوسرے اس کا مذاق اڑاتے ہیں،یا اسے بیٹے کو چھپانے کا الزام لگاتے ہیں۔کیسے چیف اسے نظرانداز کرتا ہے۔ کیسے وہ خوفزدہ دکھائی دیتا ہے۔
’’ کیا اسے معلوم ہے کہ اس کا بیٹا کدھر ہے؟‘‘ والدہ نے پوچھا۔
’’اس نے پچھلے چارماہ سے بیٹے کو نہیں دیکھا۔“ نامابیا نے بتایا۔
میرے والد نے کہاکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بیٹے کے بارے میں جانتا ہے یا نہیں۔
’’بے شک۔“والدہ بولی۔ ’’یہ غلط ہے لیکن پولیس یہی کچھ کر رہی ہے۔اگر انھیں مطلوبہ شخص نہیں ملتا تو وہ اس کے باپ، ماں یا کسی بھی رشتہ دار کو اٹھا لیں گے۔‘‘
والدنے اپنے گھٹنے پر کسی چیز کو جھاڑا، یہ بے چینی کا اشارہ تھا۔
نامابیانے بتایاکہ وہ شخص بیمار ہے۔اس کے ہاتھ سوتے ہوئے بھی کانپتے ہیں۔
میرے والدین خاموش ہوگئے ۔ نامابیا نے کھانے کے برتن سمیٹے اور باپ کی طرف مڑا۔ میں یہ کھانا اسے دینا چاہتا ہوں۔ لیکن اگر میں اسے سیل کے اندر لے کر گیا تو جنرل اباچہ لے لے گا۔
میرے والداٹھ کرڈیوٹی پر موجود سپاہی کے پاس گئے۔ اور اس سے پوچھا کہ کیا ہم اس بوڑھے شخص سے کچھ منٹوں کے لیے ملاقات کر سکتے ہیں۔
وہ سپاہی تلخ زبان شخص تھا،اس نے کبھی بھی والدہ کا اس رقم اور کھانے کا شکریہ ادا نہیں کیا جو وہ اسے رشوت میں دیتی تھی۔ اب اس نے میرے والد کو طنزیہ انداز سے دیکھا اور کہا۔ ’’نامابیا کو باہر آنے کی اجازت دینے پر اس کی نوکری جا سکتی ہے اور اب ہم ایک اور شخص کو باہر بلانا چاہتے ہیں؟ کیا تم اسے بورڈنگ سکول کا ملاقات کا دن سمجھتے ہو؟ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ معاشرے کے مجرم افراد کو قید کرنے کی سخت حفاظتی جگہ ہے۔‘‘ میرے والد آہ بھرتے ہوے واپس آ کر بیٹھ گیا اور نامابیا اپنے چہرے پر کیڑوں کے کاٹنے سے بننے والے ابھاروں کو کھرچنے لگا ۔
اگلے دن نامابیا نے اپنے چاولوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اس نے بتایا کہ سپاہیوں نے سیل کی دیواروں اور فرش پر دھلائی والا پانی پھیلایا تو بوڑھا آدمی جو پانی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ جو ہفتے بھر سے نہایا نہیں تھا، وہ سیل کے اندر گیا، قمیض اتاری اور اپنی کمزور کمر اس دھلائی والے پانی سے سے گیلے فرش پر رگڑی۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کر سپاہی ہنسنے لگے۔ اسے سارے کپڑے اتار کر سیل سے باہر راہداری میں پریڈ کرنے کا کہا۔ جب اس نے ایسا کیا تو وہ اور بھی زور زور سے ہنسنے لگے اور پوچھا،کیا اس کا ڈاکو بیٹا جانتا ہے کہ اس کے پاپا کے اعضاء تناسل اتنے سکڑ گئے ہیں۔
یہ سب سناتے ہوے نامابیا اپنے رنگدار چاولوں کو گھور رہا تھا۔ جب اس نے اوپر دیکھا تو میں نے بھائی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری پائیں— میرا دنیا دار بھائی— میں نے اس کے لیے دل میں ایسا گدا ز محسوس کیا۔جو میں پوچھے جانے پر بھی کبھی وضاحت نہیں کر سکتی۔
دو دن بعد کیمپس پر ایک اور فرقہ کا حملہ ہوا۔ایک لڑکے نے دوسرے لڑکے کو شعبہ موسیقی کی عمارت کے سامنے کلہاڑی سے کاٹ ڈالا۔
’’یہ اچھا ہوا۔‘‘ جب میرے والدین نسوکہ پولیس سٹیشن دوبارہ جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے تو میری والدہ نے کہا۔ ”وہ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ فرقہ کے تمام لوگوں کو گرفتار کر چکے ہیں۔‘‘
اس دن ہم اینو گو نہیں جا سکے کہ والدین کا سارا وقت پولیس سپرنٹنڈنٹ کے پاس گزر گیا۔ لیکن وہ ایک اچھی خبر کے ساتھ واپس آئے کہ نامابیا اور بار مین دونوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ فرقہ کے لڑکوں میں سے ایک مخبر بن گیا تھا اس نے اصرار کیا کہ نامابیا کسی فرقے کا رکن نہیں تھا۔ ہم اگلی صبح روزمرہ سے جلدی بغیر جولوف چاول لیے گھر سے نکل گئے۔ سورج کی حدت اتنی زیادہ تھی کہ کار کی ساری کھڑکیاں بند کرنی پڑیں۔
والدہ ہمیشہ سفر کے دوران نچلی نہیں بیٹھتی تھی، والد کو اس طرح ہدایات دیتی رہتی تھی جیسے انھیں دوسری طرف سے آنے والی گاڑیوں کا خطرناک موڑ لینا دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔ لیکن اس دفعہ وہ مسلسل کہہ رہی تھی۔ ’’باہر دیکھو!“۔ جب ہم نویں میل (جگہ کا نام ) پہنچے، جہاں پھیری والوں نے اوکپا (نائیجرین کھانا)،ا بلے ہوئے انڈے، کاجو وغیرہ اپنے تھا لوں میں بھرے گاڑی کو گھیر لیا۔ والد نے گاڑی روکی اور تلخی سے بولے۔ ”گاڑی کون چلا رہا ہے؟‘‘
پولیس سٹیشن کے وسیع احاطے کے اندر دو سپاہی کسی شخص کو کوڑے مار رہے تھے، جو چھتری نما درخت کے نیچے زمین پر لیٹا تھا۔ پہلے پہل میرا دل ہول گیا کہ کہیں یہ نامابیا تو نہیں، لیکن یہ وہ نہیں تھا۔میں زمین پر لیٹے لڑکے کو جانتی تھی، جو سپاہی کے کوڑے کی ہر ضرب کے ساتھ چیخ چلا رہا تھا۔ اسے ابوائے کہا جاتا تھا۔ اس کا چہرہ کسی شکاری کتے جیسا سنگین اور بدصورت تھا ۔ کیمپس میں لیکسز (Lexus) چلاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ وہ ’’بحری ڈاکو‘‘ فرقے سے ہے۔ میں نے کوشش کی کہ سٹیشن میں داخل ہوتے ہوئے اس کی طرف نہ دیکھوں۔
ڈیوٹی پر موجود سپاہی کے چہرے پر اس کے قبیلے کا نشان تھا، جو ہمیشہ ہم سے رشوت لیتے ہوئے، ”آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں۔“ کہتا تھا، نے ہمیں دیکھ کر منھ پھیر لیا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ مجھے محسوس ہوا کچھ بہت غلط ہے۔ والدین نے اسے سپرنٹنڈنٹ کا رقعہ پکڑایا۔ سپاہی نے اسے دیکھا بھی نہیں۔وہ آزادی کے پروانے کے بارے میں جانتا تھا۔ اس نے والد کو بتایا کہ ’’بار مین‘‘ آزاد کیا جا چکا ہے۔ لیکن لڑکے کے معاملے میں کچھ پیچیدگی ہے۔
والدہ نے چلانا شروع کر دیا۔ ”لڑکا!کیا مطلب ہے؟ میرا بیٹا کدھر ہے؟‘‘
سپاہی کھڑا ہو گیا۔ ”میں اپنے سینیئر کو بلاتا ہوں، وہی آپ کو وضاحت دے گا۔‘‘
والدہ نے بھاگ کر اسے قمیض سے کھینچا۔ ”میرا بیٹا کہاں ہے؟ میرا بیٹا کہاں ہے؟‘‘ میرے والد نے والدہ کو پرے ہٹایا۔ سپاہی نے اپنی قمیض جھاڑی، جیسے اس کی قمیض پر والدہ نے مٹی لگا دی ہو۔
’’ہمارا بیٹا کہاں ہے؟‘‘ والد نے انتہائی پرسکون لیکن مضبوط آواز میں پوچھا۔
سپاہی رک گیا اور بولا۔ ’’وہ اسے لے گئے ہیں،جناب!‘‘
’’وہ اسے لے گئے۔‘‘ والدہ نے مداخلت کی۔وہ ابھی تک چیخ چلا رہی تھی۔
’’تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا تم نے میرے بیٹے کو مار دیا ہے؟ کیا مار دیا ہے؟ کدھر ہے وہ؟‘‘
میرے والد نے پہلے جیسی مضبوط آواز میں پوچھا۔ ”ہمارا بیٹا کہاں ہے؟“
’’میرے سینئیر نے کہا تھا کہ جب آپ آئیں تو میں اسے بلا لاؤں۔“ سپاہی یہ کہتے ہوئے تیزی سے دروازے سے نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں خوف سے منجمد ہو گئی۔ میرا جی چاہا اس کے پیچھے بھاگ کر جاؤں اور والدہ کی طرح اسے قمیض سے پکڑ کر کھینچوں جب تک وہ نامابیا کو لے نہ آئے۔ سینئیر سپاہی آیا اور میں اس کے جذبات سے عاری چہرے پر کچھ تلاش کرتی رہی۔
’’دن بخیر۔“ اس نے والد سے کہا۔ میری والدہ گہرے سانس لے رہی تھی۔
’’میرا بیٹا کہاں ہے؟‘‘ والد نے پوچھا۔
بعد میں مجھے احساس ہوا کہ اس وقت ہم میں سے ہر کوئی اپنے اندر یہ خوف لیے تھا کہ نامابیا کو مار دیا گیا ہے۔ اور اس شخص نے اس کی موت کے حوالے سے بہترین جھوٹ گھڑنا ہے۔
’’ کوئی مسئلہ نہیں جناب، صرف اتنا ہے کہ اسے منتقل کر دیا گیا ہے۔میں ابھی آپ کو وہاں لے کر جاتا ہوں۔‘‘ اس کے انداز میں کچھ گھبراہٹ تھی۔اس کے چہرے پر اب بھی کسی قسم کا کو ئی تاثر نہیں تھا۔ لیکن وہ میرے والد سے آنکھیں نہیں ملا رہا تھا۔
’’منتقل کر دیا ؟ “
’’ہمیں آج صبح ہی اس کی رہائی کا حکمنامہ ملا۔ لیکن اسے اس سے قبل ہی منتقل کیا جا چکا تھا۔ ہمارے پاس پٹرول نہیں ہے میں آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا۔ تاکہ ہم مل کر وہاں جا سکیں۔‘‘
’’وہ کدھر ہے؟‘‘
’’ایک دوسری جگہ پر،میں آپ کو وہاں لے جاؤں گا۔‘‘
’’اسے کیوں منتقل کیا گیا؟‘‘
’’میں یہاں نہیں تھا جناب، کہتے ہیں اس نے کل بدتمیزی کی تھی۔ تو وہ اسے کوٹھڑی نمبر ایک لے گئے۔ اور پھر سیل نمبر ایک کے تمام قیدیوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔‘‘
’’اس نے بدتمیزی کی؟ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’ میں یہاں نہیں تھا جناب۔‘‘
میری والدہ دل گرفتہ بولی۔ ”مجھے میرے بیٹے کے پاس لے چلو۔ مجھے فوراً اسی وقت میرے بیٹے کے پاس لے چلو۔‘‘
میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر سپاہی کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اس سے پرانے کافور کی بو آ رہی تھی۔ جو میری والدہ کے ٹرنک میں ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ ہم سب بالکل خاموش تھے ماسوائے سپاہی کے جو والد کو راستہ سمجھا رہا تھا۔ میرے والد روٹین سے ہٹ کر گاڑی تیز چلا رہے تھے۔ اتنا تیز جتنا تیز میرا دل دھڑک رہا تھا۔ ہم چھوٹے سے، بری طرح نظرانداز کیے گئے احاطے میں پہنچے۔ جس میں جگہ جگہ اونچی اونچی گھاس تھی۔ ہر طرف پرانی بوتلیں، پلاسٹک کے تھیلے اور ردی کاغذات بکھرے پڑے تھے۔ سپاہی نے میرے والد کے کار روکنے کا بھی انتظار نہیں کیا، جلدی سے دروازہ کھولا اور باہر نکلا۔ میرے حوصلے دوبارہ پست ہو گئے۔
ہم شہر کے ایسے حصے میں تھے جہا ں پکی سڑکیں بھی نہیں تھیں۔ پولیس سٹیشن کا کوئی بورڈ نہیں تھا۔ ہوا میں عجیب سا سکوت تھا۔ عجیب ویرانی تھی۔ لیکن سپاہی نامابیا کو لے کر باہر آیا۔ میرا جواں مرد بھائی ہماری طرف آ رہا تھا، یہاں تک کے وہ اتنے قریب آ گیا کہ والدہ نے اسے گلے لگا لیا۔ اس کے بائیں بازو پر کوڑے سے مارے جانے کے نشان تھے۔ خشک خون اس کے ناک کے ارد گرد جما ہوا تھا۔
’’لڑکے،انھوں نے تمھیں کیوں پیٹا؟“ میری والدہ نے پوچھا۔ پھر وہ سپاہی کی طرف مڑی۔ ”تم لوگوں نے میرے بیٹے کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟‘‘
سپاہی نے کندھے اچکائے،اس کے رویے میں گستاخی تھی گویا پہلے وہ نامابیا کی خیریت کے بارے میں بے یقینی کا شکار تھا۔ لیکن اب وہ بات کر سکتا تھا۔
’’تم لوگ اپنے بچوں کی پرورش ٹھیک طور پر نہیں کر سکتے۔تم سب یونیورسٹی میں کام کرنے والے اپنے آپ کو اہم سمجھتے ہو۔ جب تمھارے بچے بدتمیزی کرتے ہیں تو تم سوچتے ہو کہ انہیں سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تم خوش قسمت ہو،مادام، بہت خوش قسمت کہ انھوں نے اسے چھوڑ دیا۔‘‘
والد نے چلنے کا حکم دیا۔ گاڑی کا دروازہ کھولا نامابیا گاڑی میں بیٹھا اور ہم گھر کی طرف چل پڑے۔ سڑک پر کسی بھی چوکی پر والد نے گاڑی نہیں روکی۔ ایک جگہ جب ہم نے گاڑی نہیں روکی تو سپاہی نے اپنی بندوق سے دھمکی آمیز اشارہ بھی کیا۔ اس دوران والدہ نے صرف اتنا کہا۔ ” کیا نامابیا چاہتا ہے کہ ہم نویں میل پر رک کر اس کے لیے کچھ اوپکا خریدیں؟‘‘ نامابیا نے انکار کر دیا۔ جب ہم نسوکہ پہنچ گئے تب اس نے بات شروع کی۔
’’کل سپاہیوں نے بوڑھے آدمی سے پوچھا، کیا اسے پانی کی بالٹی مفت میں چاہیے۔اس نے کہا، ہاں۔ تو انھوں نے اسے کپڑے اتار کر راہداری میں پریڈ کرنے کا کہا۔ سب ہنس رہے تھے لیکن کچھ نے کہا کہ بوڑھے آدمی سے ایسا سلوک غلط ہے۔ نامابیا رکا، اس کی آنکھیں دور کہیں دیکھ رہی تھیں۔ میں سپاہی پر چلایا۔ میں نے کہا، بوڑھا آدمی بے گناہ ہے، بیمار ہے۔ اگر وہ اسے یہاں رکھیں گے تو اس کے بیٹے کو کبھی تلاش نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے کہ بوڑھا نہیں جانتا کہ اس کا بیٹا کہاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں فوراً خاموش ہو جاؤں ورنہ وہ مجھے کوٹھڑی نمبر ایک بھیج دیں گے۔ میں نے پرواہ نہیں کی، میں خاموش نہیں ہوا۔ تو انھوں نے مجھے وہاں سے گھسیٹ کر نکالا،مجھے مارا پیٹا اور سیل نمبر ایک لے گئے ۔‘‘
یہاں پہنچ کر نامابیا رک گیا۔
ہم نے اس سے مزید کچھ نہیں پوچھا۔ لیکن میں نے اسے تصور میں آواز بلند کرتے سنا، سپاہی کو بےوقوف، احمق، بدمعاش، بزدل کہتے سنا۔ سپاہیوں کو حیرت زدہ تصور کیا۔ چیف کو منھ کھولے حیران ہوتے دیکھا۔ ساتھی قیدیوں کو لڑکے کی دلیری پر دنگ ہوتے دیکھا۔ میں نے چشم تصور سے بوڑھے شخص کو خود حیران و پریشان نامابیا کو فخر سے دیکھتے پایا اور اسے کپڑے اتارنے سے انکار کر تے دیکھا۔
نامابیا نے سیل نمبر ایک میں جو اس پر بیتی نہیں سنائی اور نہ ہی نئی جگہ کے بارے میں کچھ بتایا۔ میرا اپنا خیال تھا اس جگہ انھیں رکھا جاتا تھا جو بعد میں غائب کر دیے جاتے تھے۔ اس سب سے میرا بھائی ایک بہترین ڈرامہ اور کہانی تیار کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ۔
۰۰۰۰

شیما ماند رہ گوزی ایڈیجی
مصنفہ ۱۵ ستمبر، ۱۹۷۷ء کو نائیجیریا کے شہر اینوگو میں پیدا ہوئیں ۔ وہ اگبو (Igbo) خاندان کی پانچویں یا چھٹی اولاد تھیں۔ وہ یونیورسٹی ٹاؤن نسوکا میں پلی بڑھیں۔اس وقت ان کے والد یونیورسٹی آف نائیجیریا میں شماریات کے پروفیسر تھے۔ان کی ماں یونیورسٹی کی پہلی خاتون رجسٹرار تھی۔ نائیجیرین خانہ جنگی کے دوران اس خاندان نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ مصنفہ نے سیکنڈری تعلیم یونیورسٹی آف نائیجیریا سے حاصل کی۔ ڈیڑھ سال تک یونیورسٹی میں میڈیسن اور فارمیسی پڑھی۔ انیس سال کی عمر میں امریکا آ گئیں۔ مواصلات اور سیاسیات پڑھنے کے لیے فلاڈیلفیا؍ پین سلوینیا کی ڈریکسل(Drexel) یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ ۲۰۰۳ء میں جان ہوپکنز میں ییل یونیورسٹی سے تخلیقی تحاریر میں ماسٹر کیا۔اس کے بعد افریکن سٹڈیز میں ماسٹر کیا۔
انھیں امریکہ میں پہلی بار سیاہ فام نسل پرستی سے سامنا کرنا پڑا۔ ان تجربات کوانھوں نے اپنے ناول ’’امریکانہ‘‘ میں بیان کیا۔ ۲۰۰۹ءمیں ایک نائیجیرین ڈاکٹر سے شادی کی۔
تصنیفات اور ایوارڈ
بہت سارے ناول اور مختصر کہانیاں لکھیں ۔جن پر چھ عدد یوارڈ حاصل کیے۔اس کے علاوہ نان فکشن بھی لکھا۔بہت بڑی فیمینسٹ ہیں جس کا ثبوت ان کی کتابیں ’’فیمینسٹ وی شیل بی اور مینیفیسٹو اِن ففٹین سجیشنز‘‘ ہیں۔
۰۰۰

عقیلہ منصور جدون
عقیلہ منصورجدون پاکستان کے موجودہ ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال میں پیدا ہوئیں۔ حسن ابدال سے میٹرک اوربعد ازاں واہ کینٹ سے گریجویشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ شادی کے بعد مستقل رہائش راولپنڈی میں اختیار کی اور یہیں سے باقاعدہ قانون کی پریکٹس شروع کی۔ راولپنڈی ڈویژن سے لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون وکیل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انھوں نے تدریس قانون کا آغاز انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (ویمن سیکشن ) سے کیا۔ بعد ازاں راولپنڈی ہی میں پنجاب لاء کالج اور مسلم لاء کالج میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ گھر کے ادبی ماحول کے باعث بچپن ہی سے ادب سے شغف رہا۔ زمانہ طالب علمی ( سکول و کالج ) میں روز نامہ ’’تعمیر‘‘ کے ادبی صفحے پر ان کی تحریریں شائع ہوتی رہیں۔
تراجم
(۱) خدا کے نام خط ( عالمی ادب سے منتخب کہانیاں )؛ (۲) لیوٹالسٹائی کی کہانیاں؛ (۳) کل ہو نہ ہو ( عالمی ادب سے منتخب کہانیاں)؛ (۴) زندہ مایوسیاں (میٹ ہیگ کے ناول ’’دی مڈنائٹ لائبریری‘‘ کا اردو ترجمہ)؛ (۵) میری زندگی اور دیگر کہانیاں (مصنف : انتون چیخوف)؛ (۶) ڈورین گرے کی تصویر (مصنف:آسکر والد ) (زیر طبع)۔ یہ تمام کتابیں پاکستان میں سٹی بک پوائنٹ ، کراچی نے شائع کی ہیں۔ اور ان سب کتابوں کے ہندوستانی ایڈیشن میٹرلنگ پبلشرز لکھنو سے بھی شائع ہو چکے ہیں۔
۰۰۰
