فسوں کاریاں
ہندوستانی انگریزی کہانی
جمان
امل سنگھ
Amal Singh
تعارف وترجمہ؍ محمد عامر حسینی
[’’جَمان‘‘ ایک علامتی مختصر کہانی ہے جو مندر کے درجہ بند نظام، خاموش اطاعت اور اندرونی بغاوت کو آشکار کرتی ہے۔ یہ کہانی “Himal Fiction Fest 2025” میں ’’ We Have Always Lived in the Temple‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئیہے — ہمال فکشن فیسٹ ایک پلیٹ فارم جو جنوبی ایشیائی تخیلاتی ادب کی نئی آوازوں کو سامنے لاتا ہے۔ مترجم]
ہر کوئی مندر میں کام کرتا ہے
وہ سب کچھ نہ کچھ کرتے، جیسے علم اٹھانے کا، جوتیاں جمع کرنے کا، چھوٹے درجے کا صفائی کرمی، اُچّ صفائی کرمی، ورشٹھ صفائی کرمی، گھنٹی بجانے والا، بھجن گانے والا، پَوتر بھجن گانے والا، اُچّ بھجن گانے والا، پھول چننے والا، دودھ دینے والا، پَوتر پئے (دودھ) بنانے والا، پرساد تیار کرنے والا، پجاری، اُپ پجاری، اُچّ پجاری، مکھیہ پجاری، بھگوان۔
یہاں تک کہ بھگوان ہونا بھی مندر میں ایک کل وقتی کام تھا۔
مندر کی سیڑھیاں زعفرانی مالاؤں، گیندے کے پھولوں کی پتیوں اور ادھر ادھر گرے خون کے قطروں سے بھری ہوتیں۔ الجھے ہوئے بالوں کے گچھے سیڑھیوں سے نیچے گرتے، کونوں کھدروں میں جا کر خاک کے ذرات سے لپٹ جاتے۔ جو لوگ مندر میں داخل ہوتے،پہلا قدم وہ سنبھل کر رکھتے، دوسرا عقیدت سے اور تیسرا خوف کی گرفت میں دھرتے۔
نیچے، صرف میل کچیل کی باقیات ہوتیں۔ اوپر— ایک نہ ختم ہونے والا جاپ ہوتا، کبھی لاحاصل، کبھی وجد آور۔
منّا کا جَمان اُسے جلا دیتا، جیسے پیشانی پر کسی نے دکھ کی باریک باریک لہریں پھیلا دی ہوں، جب وہ ننگے پاؤں سیڑھیاں چڑھتا، اس کے تلوے پہلے ہی چھل چکے ہوتے— بار بار کا آنا جانا، نویں پوتر چبوترے میں پجاری کی کوٹھی سے لے کر مندر آنگن تک انھیں رگڑ چکا ہوتا…۔
’’آج پجاری خوش نہیں ہوگا۔‘‘ وہ سوچتا۔ اس لیے وہ مندر کے اُس بھگوان سے، جس کے نام پر یہ مندر کھڑا ہے، دبی آواز میں کچھ بڑبڑاتا۔ وہ اُس سے پرارتھنا کرتا— کہ اُسے بچا لے اُن کوڑوں سے جو آج رات اسے سہنے ہوں گے۔
منّاکی خطا یہ تھی کہ ایک لمحے کے لیے، بس ایک مختصر سی پلک جھپک کے برابر وقت میں، جب وہ پجاری کی کوٹھی سے گیندے کے پھول، اگربتّی، پوتر جل اور کافور لانے کے بیچ دوڑتا رہا تھا— اُس کے دل میں مندر سے باہر کی دنیا کا خیال آ گیا تھا۔
’باہر‘— وہ دنیا جہاں شاید بندگی نہیں، مزدوری ہو؛ شاید کوڑے نہ ہوں، صرف تھکن ہو۔
وہ اپنے خیالات کو بھٹکنے سے روک نہ سکا۔ اور تب، وہ جَمان — جو اُس کے کان کے ذرا اوپر داغا گیا تھا، نہ صرف اس کی خدمت کی مہر تھا بلکہ نگرانی کا نگار خانہ بھی— چمک اٹھا۔ جیسے کسی نے اسے جگا دیا ہو۔ اور اُس نے پجاری کو سب کچھ بتا دیا۔
ایک نچلا صفائی کرمی ہونے کے ناتے— جسے ابھی حال ہی میں علم اُٹھانے والے کے درجہ پر ترقی دی گئی ہے— منّا کو صرف صفائی کے بارے میں سوچنے کی اجازت ہے۔
منّا صرف ایک اُچّ صفائی کرمی (اونچے درجے پر فائز صفائی کرنے والا)بن سکتا ہے، بس۔
وہ مندر کے گھنٹی بجانے والے کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے— جو اُسے ایک ترس بھری نگاہ سے دیکھتا ہے۔
شاید، کسی دن… صرف ترس میں آ کر… وہ گھنٹی بجانے والا، منّا کو مندر کی گھنٹیاں بجانے کی اجازت دے دے۔
آہ… وہ دن کیا شاندار ہوگا۔
جب منّا ضروری پوجا کا سامان لے کر پجاری کے قریب پہنچتا ہے، تب وہ اُسے دیکھے بغیر، دیوتا کی چھوٹی مورتی پر دودھ انڈیل رہا ہوتا ہے۔
’’تم پرارتھنا کر رہے تھے۔‘‘ منّا پر نگاہ ڈالے بغیر پجاری کہتا ہے۔ ’’یہ کچھ تم کبھی نہیں کرتے۔ کیا وجہ ہو سکتی ہے؟‘‘
اسی لمحے منّا کا جَمان پھر سے سنسنانے لگتا ہے، جیسے کنپٹی میں کسی نے ایک سوئی چبھو دی ہو۔ وہ اُسے نظرانداز کرتا ہے، اور اپنے پیر کی انگلی سے مندر کی ٹھنڈی زمین پر ایک چھوٹا سا ہلالی نشان کھینچتا ہے۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی ہیں۔ اس کا دل ایک ایسی رفتار سے دھڑکنے لگتا ہے، جو شاید اسے خود بھی معلوم نہ تھی۔ گال پہلے ہی اُس طمانچے کی غیر مرئی چبھن سے جلنے لگتے ہیں، جو ابھی پڑنا باقی ہے۔
’’جانتے ہو، لَلّن نے آج کیا کیا؟‘‘
’’نہیں، پنڈت جی۔‘‘ منّا دھیرے سے کہتا ہے۔
’’اس نے دودھ دینے والے کو چھو لیا۔‘‘ پجاری کہتا ہے۔ منّا کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسناہٹ دوڑ جاتی ہے۔
لَلّن ایک علم اُٹھانے والا ہے— جو روز مندر کی سیڑھیوں کے پاس دبک کر بیٹھتا ہے، جو کچھ تھوڑا بہت نذرانے میں پھینکا جاتا ہے، اُسے سمیٹتا ہے۔ کبھی نصیب اچھا ہو تو ایک جَکَراون ہاتھ آ جاتا ہے، اور کبھی صرف کیلے۔ مگر علم اُٹھانے والے کو دودھ دینے والے کے آس پاس سانس لینے کی بھی اجازت نہیں۔ منّا نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ اگر کوئی علم اُٹھانے والا کسی دودھ دینے والے کو چھو لے… تو وہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔
’’یہ کیسے ہوا، پنڈت جی؟‘‘
’’اسی طرح جیسے تم نے پرارتھنا کی۔‘‘ پجاری بولتا ہے۔ ’’اندھی، منحوس جِگیا سا کے ہاتھوں۔ عام حالات میں تو میں تمھیں اپنی کوٹھی کے پیچھے بلاتا— کوڑے کے میدان میں، جہاں باقی بگڑے ہوئے کھڑے ہیں۔ لیکن آج تو لَلّن کے ساتھ کوٹھیا اور جیون بھی قطار میں ہیں، اور میرے پاس وقت نہیں ہے۔ تو آج صرف تنبیہ کر رہا ہوں، ٹھیک ہے؟‘‘
’’دوبارہ نہیں کروں گا، پنڈت جی۔‘‘ منّا دھیمی آواز میں کہتا ہے۔
پجاری ایک بار پھر اپنی روزمرّہ کی رسم میں لگ جاتا ہے— دیوتا کی گردن سے پچھلے دن کے زیورات اتارنا، اور آج کے نئے زیورات پہنانا۔ منّا کا جَمان سارا وقت خاموش رہتا ہے، جیسے تھک کر سو گیا ہو۔
جب پجاری دیوتا کے سنگ مرمر کے چبوترے کے گرد پوتر جل چھڑک چکتا ہے، تو چند بوندیں منّا پر بھی نچھاور کر دیتا ہے— یوں جیسے ایک مختصر سا استحکام اُسے بھی عطا کر دیا ہو۔
اُسی شام، جب منّا مقامی تالاب میں خود کو میل کچیل سے پاک کر رہا ہوتا ہے، وہ پانی کی سطح پر اپنے عکس میں جھانکتا ہے۔ سورج کے ڈھلتے ہوئے سنہری کرنوں میں اُس کی کنپٹی کے کنارے پر ثبت جَمان — وہ کانسی کی مہر— چمک رہی ہوتی ہے۔
اُس کی انگلیوں میں خارش سی ہونے لگتی ہے— ایک برقی سی تڑپ— جیسے وہ اُسے نوچ کر الگ کر دینا چاہتا ہو۔ لیکن وہ جانتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ ہی پیدا ہوا تھا۔ یہ نشان اُتنا ہی اُس کا حصہ ہےجتنا اُس کا دل۔
’’جَمان جیون کی طرح ہے— یہ زندگی کا دوسرا نام ہے۔‘‘ اُس کی ماں اُس رات، روٹی بیلتے ہوئے کہتی ہے۔ ’’یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں دن ہو یا رات، کرنا کیا ہے۔ ہے نا کتنا سہل؟‘‘
منّا جانتا ہے کہ وہ الفاظ وہی ہیں جو اُس نے کئی بار سنے ہیں— دوسرے منناؤں، بھولاؤں، رنگاؤں سے— جو مندر کے آنگن میں پیدا ہوئے، وہیں جئے، وہیں مر گئے— ہمیشہ نچلے صفائی کرمی، علم اُٹھانے والے، یا چپل چننے والے بن کر۔ اپنے پجاریوں کی خدمت کرتے رہے… اور کبھی مندر سے باہر قدم نہ رکھ سکے۔
’’مہا پجاریوں کے پاس کیوں نہیں ہوتا؟‘‘ وہ پوچھتا ہے۔
اُس کی ماں کا جواب اُس کے خاموش، مشینی سے انداز میں چھپا ہوتا ہے— آٹے کو بیلنا، روٹی کو چولہے پر ڈالنا، اور پھولنے کا انتظار کرنا۔
’’ہوتا ہے، وہ کہتی ہے، بس نظر نہیں آتا۔ ایسا اس لیے کہ وہ اُن کی جلد میں بالکل مدغم ہو چکا ہوتا ہے۔ مندر میں بیٹھے دیوی دیوتاؤں کے سوا ہر ایک کے پاس جَمان ہوتا ہے… کیونکہ، ظاہر ہے، بھگوان کے پاس تو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘
منّا قائل نہیں ہوتا، مگر وہ ماں سے مزید کچھ نہیں پوچھتا— کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اب جو بھی کہا جائے گا، وہ محض تسلّی ہوگی،
کھوکھلی، رسم بن چکی تسلّی۔
وہ خاموشی سے اپنا کھانا کھا لیتا ہے۔
منّا کا باپ— ایک سہما ہوا شخص، جس کے دبلے پتلے ہاتھ مکھیہ پجاری کی کوٹھی کی صفائی کرتے کرتے سخت ہو چکے تھے— ایک دن اندر آتا ہے، خود سے بڑبڑاتا ہوا۔ وہ ایک روٹی پھاڑتا ہے، اس پر اچار لگا کر دو نوالوں میں چبائے بغیر نگل جاتا ہے، جیسے الفاظ کے بجائے فکر نگل رہا ہو۔
’’میری نوکری کسی اور کو دی جا رہی ہے۔‘‘ وہ کہتا ہے۔
کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ منّا کی ماں خامشی سے ایک اور روٹی بیلتی ہے اور اس کے آگے رکھ دیتی ہے۔
’’اب کیا کرو گے؟‘‘ منّا پوچھتا ہے۔
’’باہر کے بیت الخلا میں بیٹھ کر جاپ کروں گا۔ کیونکہ اب تو میں مندر کے اندر بھجن گانے والا بن نہیں سکتا، ہے نا؟ میں نے صفائی میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ جو بھی مکھیہ پجاری نے کہا، میں نے کیا۔ لیکن آج اُس نے مجھے کیا کہا پتا ہے؟ کہ میرے پاس تو کانسی کا جَمان ہے— اور کوئی اُچّ صفائی کرمی اس سے آگے نہیں جا سکتا۔ نیا اپگریڈ آیا ہے پچھلے ہفتے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ صرف نیلے جَمان والے اُس کی کوٹھی صاف کریں —کیونکہ وہ زیادہ طاقتور ہوتے ہیں،اور جیسا کہا جائے ویسا کرنے میں بھی زیادہ ماہر۔‘‘
’’لیکن مجھے تو لگتا ہے تم ہمیشہ کھلے ذہن والے رہے ہو۔‘‘ منّا کی ماں دھیرے سے کہتی ہے۔
’’لیکن بابا، ذرا روشنی کی طرف تو دیکھو۔‘‘ منّا بول پڑتا ہے۔ ’’اب جب تم باہر کی صفائی کرو گے… تو ’باہر‘ کو تو دیکھ سکو گے!‘‘
منّا کا باپ نوالہ چبانا چھوڑ دیتا ہے، اور اُسے گھورنے لگتا ہے۔ پھر اچار اور دال سے لتھڑے ہاتھ سے اُسے ایک طمانچہ رسید کرتا ہے۔
’’یہ خیالات تیرے دماغ میں کون بھر رہا ہے؟ میں اتنی محنت اس لیے کرتا ہوں تاکہ ایک دن تُو میری جگہ لے سکے۔ کیا تُو خواب نہیں دیکھتا کہ مکھیہ پجاری کی کوٹھی میں کام کرے گا؟ کیا تُو کبھی یہ نہیں سوچتا کہ اس جھونپڑی کو کچھ بنائے؟ کیا تُو کبھی یہ خواب نہیں دیکھتا کہ بڑھاپے میں اپنی ماں اور باپ کی خدمت کرے— نہ کہ اپنے دماغ کو اُن فضول باتوں سے بھرے جو مندر کے باہر کی دنیا کے بارے میں ہیں؟ کوئی ’باہر‘ نہیں ہے۔ دنیا صرف مندر ہے۔‘‘
منّاکو لگتا ہے، وہ ہزار بار پجاری کا کوڑا سہہ لے — مگر باپ کا ایک طمانچہ بھی اُس پر بھاری ہے۔ پجاری کا قہر کبھی ذاتی نہیں لگتا۔ منّا جانتا ہے وہ کب لکیر پار کر گیا ہوتا ہے۔ مگر وہ چاہتا ہے کہ اُس کا باپ ایک بار تو سمجھے— کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔
شاید آج رات وہ وقت نہیں تھا۔ شاید وہ غلط لمحہ چن بیٹھا۔
مجھے لگتا ہے شکھا جَمان اپگریڈ کروانے کی بات کر رہی تھی۔‘‘ ماں چولہے پر آخری برتن چڑھاتے ہوئے کہتی ہے۔ ’’شاید وہ ہمارے لیے بھی کچھ کر سکے۔‘‘
’’سب بکواس ہے۔‘‘ باپ کہتا ہے۔‘‘ چاہے ہم کانسی سے پیلے، پیلے سے نیلے ہو جائیں— فائدہ؟ وہ ہمیں جانتے ہیں— ہمارا نام، ہمارا کام۔ ان کے لیے ہم ہمیشہ کانسی ہی رہیں گے۔ وہ ایک بار ہمیں رد کر چکے ہیں— وہ دوبارہ بھی رد کریں گے۔‘‘
یہ جملہ کسی بھاری پتھر کے گرنے جیسا تھا— حتمی، غیر متزلزل۔
منّا کا باپ سونے چلا جاتا ہے۔ پیچھے بس جھینگر کی آوازیں باقی رہ جاتی ہیں — اور منّا کی دھڑکن۔
منّا کو رنگا تالاب کے کنارے دبکا ہوا ملتا ہے۔ رنگا نہا رہا ہے۔ دور سے بھی اُس کی پیٹھ پر پڑے سرخ زخم صاف دکھائی دے رہے ہیں— ایسے چمک رہے ہیں، جیسے تازہ ہوں۔
منّا آہستگی سے اُس کے قریب آتا ہے، کوشش کرتا ہے کہ پانی میں کوئی آواز نہ ہو، مگر رنگا اُسے محسوس کر لیتا ہے۔ اُس کے چہرے پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ ہے — ایسی جیسے وہ کوئی راز چھپا رہا ہو۔
’’تمھارے کارنامے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔‘‘ منّا کہتا ہے۔ ’’ایسا کیوں کیا تم نے؟‘‘
’’کوٹھیاکودیکھنا چاہیے تمھیں۔‘‘ رنگا کہتا ہے۔ ’’وہ تو پجاری کے قدموں میں رو رہا تھا۔ اور میں راکھ نہیں بنا۔ اتنا تو مانا جانا چاہیے، ہے نا؟‘‘
’’شایدتم نے صرف دودھ دینے والے کے کرتا کا کپڑا چھوا ہو۔‘‘
’’نہیں،میں نے اُس کی کلائی پکڑی تھی— صرف چھوا نہیں، زور سے تھامی تھی۔ چَوتر چار کا دودھ دینے والا ایک کُتّے کو مارنے والا تھا، اور اُسے روکنے کا یہی ایک طریقہ تھا۔‘‘
’’کیسا محسوس ہوا؟‘‘منّا پوچھتا ہے۔ جل کر راکھ ہو جانا تو صرف کہانی تھی، مگر پھر پانچویں آنگن کے پیچھے بکھری ہوئی راکھ کا کیا مطلب؟وہ راکھ جو اپورَو کی تھی— جس نے مکھیہ پجاری کو چھو لیا تھا؟
’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ رنگا کہتا ہے۔ پھر آگے بڑھ کر منّا کی کلائی تھام لیتا ہے۔ رنگا کی ہتھیلیوں سے پانی بہتا ہے۔ منّا کی کلائی سے لپٹ کر نیچے پتھروں پر ٹپکنے لگتا ہے۔
’’ایسالگا… جیسے یہ۔‘‘
’’تمھارے جَمان کا کیا ہوا؟‘‘
’’رات کوتھوڑی سی سنسناہٹ ہوئی تھی— درد کی ایک ہلکی لہر— مگر تب سے خاموش ہے۔ یقین کرو، وہ درد اُس بےزبان کُتّے کو بچانے کے مقابلے کچھ بھی نہیں تھا۔‘‘
منّاسوچتا ہے… اگر وہ صرف مندر کی گھنٹیاں بجانے کے بارے میں سوچے تو کیا اُس کی کنپٹی میں بھی کوئی چبھن اُبھرے گی؟ وہ تصور کرتا ہے— خود کو گھنٹیاں بجاتے ہوئے، بار بار… بار بار…جیسے بھکتوں کی آمد کا اعلان کر رہا ہو۔
وہ آنکھیں بندکرتا ہے… اور ایک لمحے کو سِمٹ جاتا ہے۔
منّاپوجا کاسارا سامان بڑی ترتیب سے ٹوکری میں سجاتا ہے — دل میں یہ آس لیے کہ شاید پجاری اس سے خوش ہو جائے۔
اس نے اوروں کو دیکھا ہے — نچلے صفائی کرمی، جو اسی طرح دل جیتنے کی کوشش کرتے تھے، تاکہ اپنے پجاریوں کی نظر میں آجائیں۔
منّاسیکھ لیتا ہے کہ گیندے کے پھولوں کو دھاگے سے کس طرح مالا میں پرونا ہے — تاکہ پجاری کو خود یہ زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ وہ پوتر پئے کے تمام اجزاء کو ترتیب سے ایک قطار میں رکھتا ہے — ایسی ترتیب کہ پوتر پئے بنانے والے کو کچھ سوچے سمجھے بغیر ہاتھ بڑھا کر سب کچھ مل جائے۔ وہ دیوتا کی چھوٹی مورتی کو دو بار، تین بار، چار بار رگڑتا ہے… یہاں تک کہ وہ چمکنے لگتی ہے۔ جب اسے تسلّی ہو جاتی ہے، تو وہ ٹوکری اُٹھا کر پہلے چَوتر کی جانب چل پڑتا ہے۔
سیڑھیوں کے قریب اُسے رنگا کا مانوس چہرہ دکھائی دیتا ہے— چپلیں ترتیب سے رکھتا ہوا، اوربھکتوں سے نذرانہ لیتا ہوا، جن کی صبح کی پوجا کے لیے آمد شروع ہو چکی ہے۔
گھنٹی بجانے والاکہیں نظر نہیں آ رہا، اور منّا ایک لمحے کو سوچتا ہے کہ کیوں نہ ٹوکری نیچے رکھ کر سب کچھ خود کر ڈالے۔ مگر وہ اپنے دل کی خواہش کو دبانے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اس کاباپ تو اب دوسرے پجاریوں کے بیت الخلا صاف کرنے پر لگا دیا گیا ہے —منّا کو اُس سے بہتر کچھ کرنا ہوگا۔ اگر وہ اپنے پجاری کو متاثر کر سکے، تو شاید باپ کی حالت بدل سکے۔ مگر جب وہ سیڑھیاں چڑھتا ہے — وہ دیکھتا ہے کہ اُس کا پجاری کسی نئے پوتر پئے بنانے والے کی کلائی پر مقدس دھاگہ باندھ رہا ہے۔
وہ کوئی اور نہیں، کوٹھیا ہے —چپل چننے والا — جو پہلے رنگا کے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہی کوٹھیا جو دو ہفتے پہلے کوڑوں کی سزا کے لیے قطار میں کھڑا تھا۔
منّاکے ہاتھ سے ٹوکری چھوٹ جاتی ہے۔ ساری محنت بکھر جاتی ہے۔
کوٹھیا اُسے دیکھتا ہے — پہلے ترس سے، پھر نفرت سے۔
’’میکر بھوَن کو کیا ہوا؟‘‘ منّا پوچھتا ہے۔
’’اب وہ تمھارے لیے ’مکھیہ پجاری بھوَن‘ ہیں، منّا۔‘‘ پجاری کہتا ہے۔ ’’اور اب، جا کر ’میکر کوٹھیا‘ کے پیر چھوؤ۔‘‘
یہ تو بس کوٹھیا تھا — منّا کا ہم عمر، جس کے ساتھ وہ تالاب میں تیرتا، مچھلیاں پکڑتا، گرمیوں کی شاموں میں ’پٹھّو‘، ’چور سپاہی‘، ’گُٹّی‘ جیسے کھیل کھیلتا تھا، جب دن بھر کی صفائی اور چپل چننے کی ڈیوٹی ختم ہو جاتی۔
منّا وہی کرتا ہے جو اُسے کہا گیا۔ پھر، وہ ٹوکری کھولتا ہے — جس میں پوجا کا سامان بکھرا پڑا ہے۔
یہ دیکھ کر کوٹھیا کے چہرے پر حقارت کی ایک سرد نظر آتی ہے۔ پجاری سر جھٹکتا ہے، جیسے منّا کی موجودگی بھی اُسے گوارا نہ ہو۔
تبھی منّا کی نظر پڑتی ہے — کوٹھیا کے جَمان پر۔ وہ ہرا ہے — تالاب کی کائی جیسا سبز۔ کانسی جیسا نہیں — جیسا باقی صفائی کرمیوں کا ہوتا ہے۔
’’کوٹھیا نے پجاری کو قائل کر لیا کہ پیدائش کے وقت اُس پر جو جَمان لگا تھا وہ خراب تھا۔‘‘ رنگا کہتا ہے۔ ’’یہی ایک وضاحت ہو سکتی ہے۔‘‘
’’مگر اُس کے ماں باپ کے پاس بھی کانسی والے جَمان ہیں — بالکل ہمارے ماں باپ جیسے۔‘‘ منّا دلیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے سے وہ روز اپنے باپ کو گھر آتے دیکھ رہا ہے — اُس بدن سے بدبو آتی ہے جو پیشاب اور گندگی میں بھیگا ہوتا ہے —ایک ایسی بدبو، جو صبح تک بھی نہیں جاتی۔ تب بھی، منّا کو گیندے کے پھولوں کی ٹوکری میں منہ ڈالنا پڑتا ہے، جس کی تیز خوشبو اُسے سخت ناپسند ہے — مگر گندگی کی بساند سے کم ناپسند۔
’’ہرمکھیہ پجاری کے پاس ایسے جَمان ہوتے ہیں جو جلنے سے بچ جاتے ہیں۔‘‘ رنگا کہتا ہے۔ ’’جب کوئی مرتا ہے اور اُس کے جسم کو چتا پر جلایا جاتا ہے — تو سب راکھ بن جاتا ہے، سوائے جَمان کے۔ اور تب وہ ویسا نہیں لگتا جیسے ہمارے ماتھوں پر دکھتا ہے — بلکہ جیسے کوئی رگ ہو۔ ایک بالکل الگ شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
منّا کو لگتا ہے رنگا یہ سب بنا رہا ہے۔ یہ صرف انکار ہے —سراسر انکار۔ جَمان کا بدلنا، راکھیں، اور ’باہر‘ کے دوسرے مندر — یہ ہمیشہ صرف کہانیاں رہی ہیں۔
منّا کو صرف سر جھکا کر اپنا کام کرتے جانا ہے — اور اُمید رکھنی ہے کہ ایک دن اُس کا پجاری اُس پر مہربان ہو گا۔
’’آگمن کی رسم دو ہفتے میں ہے۔‘‘ رنگا تھوڑی دیر بعد کہتا ہے۔ ’’اگر یقین نہیں تو تب دکھا دوں گا۔‘‘
’’کیا فائدہ ہوگا؟‘‘ منّا جواب دیتا ہے۔ ’’تم جو کہہ رہے ہو، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کہیں زنگ آلود لوہے کا ایک ڈھیر موجود ہے۔ یہ تو ثابت نہیں کرتا کہ کوٹھیا کیسے پوتر پئے بنانے والا بن گیا۔ جانتے ہو کیا؟ آج میں سیڑھیوں کے گرد دوہری ڈیوٹی لوں گا۔ یقیناً، وہ گہری سفید ہوں گی— میرے پجاری کے قدموں کے لائق۔ انعام محنت کو ملتا ہے، نہ کہ افسانوں سے چمٹے رہنے کو۔ تم ہمیشہ محنت سے کترا جاتے ہو، رنگا۔ چپلیں الٹی ترتیب سے رکھتے ہو، نذرانہ لینے سے انکار کرتے ہو جب وہ عزت سے دیا جائے — آخر چاہتے کیا تھے تم؟‘‘
منّا کے الفاظ رنگا پر ویسا اثر نہیں ڈالتے جیسے اُس نے سوچا تھا۔ رنگا چپ چاپ اپنے ناخنوں سے میل کھرچتا رہتا ہے۔
وہ پتھر جیسا دیوتا، جس کی روز پوجا منّا کا پجاری کرتا آیا ہے، اپنے سنہری، بلند تخت سے الگ ہوتا ہے — اور کوارٹروں سے باہر آکر چلنے لگتا ہے۔
اس دیوتاکی چال میں ایک ہلکی سی روانی ہے، جیسے پورا سال ایک جگہ بیٹھنے سے اُس کے جوڑوں میں کوئی جمود نہ آیا ہو۔
دس دھڑکنوں کے بعد، ایک اور دیوتا — کسی اور چوتر سے — سیڑھیاں اُترتا ہے اور یاتریوں کے ساتھ جا ملتا ہے۔
جلدہی،مندر کے دس تخت خالی ہو جاتے ہیں — ہر تخت کا دیوتا اپنے ہم جنسوں میں گھل مل چکا ہوتا ہے۔
پھرایک یاتری آگے بڑھتا ہے۔ ایک مکھیہ پجاری گھٹنے ٹیکتا ہے۔ یاتری اپنے پاؤں سے اُس کے سر کو چھوتا ہے — اور مکھیہ پجاری پتھر بن جاتا ہے۔ پھر بکھر جاتا ہے۔ پھر دوبارہ پتھر کی صورت میں جُڑتا ہے۔ اور پھر دوبارہ گوشت و پوست کا انسان بن جاتا ہے۔
پھردوسرایاتری آتا ہے — دوسرا مکھیہ پجاری گھٹنے ٹیکتا ہے۔ پھر تیسرا۔ پھر چوتھا۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے — یہاں تک کہ تمام دس مکھیہ پجاری اپنی اپنی نئی ہئیت میں ’’اصلاح‘‘ پا چکے ہوتے ہیں۔
تب یاتری مندرکی سیڑھیاں چڑھتے ہیں —اور اپنے اپنے سنہرے تختوں پر براجمان ہو جاتے ہیں —ایک سال کے لیے
دیوتا بننے کے لیے۔
مندرکے اندریہ چکر یونہی جاری رہتا ہے — سال در سال… یوگ در یوگ۔
آخرکار،یاتری ایک قطار میں خامشی سے مندر سے باہر نکلتے ہیں۔
رنگامنّا سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ اُس کے ساتھ مکھیہ پجاری کی ایک خالی کوٹھی میں جانا چاہے گا۔ وہ اُسے ترک شدہ جَمان ہائے دکھانا چاہتا ہے۔مگر منّا انکار کر دیتا ہے، اور اُس کی بجائے وہی کام کرنے میں جُت جاتا ہے جو وہ پہلے کر چکا ہے — پوجا کی ٹوکری کو سجانا۔
اس بار وہ خوشبو بہتر بنانے کے لیے چند گلاب کی پتیاں بھی شامل کر لیتا ہے۔ یہ اُسے برا نہیں لگتا کہ وہ پوتر پئے بنانے والے کوٹھیا کے لیے پانچوں مائعات (liquids) بھی ترتیب سے رکھ دے۔ آخرکار گھنٹی بجانے والا تو پوتر پئے بنانے والے کے ماتحت ہوتا ہے۔
آج منّا کی چال میں ایک خاص خوشی ہے۔ اس نے اپنے نئے کمرے کو اتنی بار تصور میں دیکھا ہے، کہ اب وہ ایک یاد کی طرح جیتا ہے۔
وہ مندر کی سیڑھیاں چڑھتا ہے۔ حسبِ معمول، کوٹھیا وہاں موجود ہے، پجاری بھی موجود ہے۔ پرساد بنانے والی وقت پر آ جاتی ہے، اُس کی کیسر رنگ ساڑھی فرش پر لہراتی ہے۔ مگر گھنٹی بجانے والا ندارد ہے — حالانکہ اُسے ہونا چاہیے تھا۔
یہ تو منتقلی (Transference) کے بعد کی پہلی پوجا ہے۔
منّا چپ چاپ پوجا کا سامان پجاری کو پیش کرتا ہے۔ وہ خاموشی سے قبول کر لیتا ہے — کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔
منّا دیکھتا ہے کہ کوٹھیا کتنی سہولت سے پوتر پئے تیار کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ اسی کام کے لیے پیدا ہوا ہو۔ شاید اُس کا انتخاب واقعی درست تھا۔ شاید کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔
چاندی کی تھالی میں پجاری پرساد اور پوتر پئے ترتیب سے رکھتا ہے۔ پرساد بنانے والی خاموشی سے رخصت ہو جاتی ہے — جیسے کوئی سرسراہٹ۔
کوٹھیا کی نظریں ایک لمحے کو اُس پر ٹھہر جاتی ہیں — شاید کچھ زیادہ ہی دیر کے لیے۔
منّا کچھ سمجھ نہیں پاتا — شاید وہ پرساد بنانے والا بننے کی خواہش رکھتا ہے؟
پجاری بننے کے لیے تو یہ صرف دو سیڑھیاں اور ہیں۔ مگر گھنٹی بجانے والا اب تک نہیں آیا۔
’’سورجِ اول کے اس شبھ دن پر، منتقلی ترپن کے بعد، میں آپ کے حضور پہلی روشنی پیش کرتا ہوں۔‘‘ پجاری کہتا ہے —اور دیا جلا کر دیوتا کے قدموں میں رکھتا ہے۔
کوٹھیاسرجھکاتا ہے۔ منّا بھی۔
عام دنوں میں، منّا کو پہلی پوجا دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ وہ صرف سیڑھیوں سے دیکھتا ہے — اپنی ’’جائز‘‘ جگہ سے۔ مگر آج، پجاری کچھ نہیں کہتا۔
’’سورجِ اول کے اس شبھ دن پر، منتقلی ترپن کے بعد، اے بھگوان، یہ پرساد قبول کریں۔‘‘ پجاری کہتا ہے اور پرساد دیوتا کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔
دیوتاساکت رہتا ہے۔
پجاری پرساد کا ایک ٹکڑا توڑتا ہے — پہلے کوٹھیا کو دیتا ہے، پھر خود کھاتا ہے۔
’’سورجِ اول کے اس شبھ دن پر، منتقلی ترپن کے بعد، اے بھگوان، یہ پوتر پئے قبول کریں۔‘‘ وہ کہتا ہے اور کٹورہ دیوتا کے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔
دیوتاساکت رہتا ہے۔
پجاری کٹورہ اُٹھاتا ہے — اور کوٹھیا کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر پوتر پئے انڈیلتا ہے۔
کوٹھیامحض پی لینے کی اداکاری کرتا ہے — جبکہ اصل میں پجاری پیتا ہے۔
کوٹھیاکاکیسر کرتا پوتر پئے کے دھبوں سے رنگا ہوتا ہے — جیسے اس نے جان بوجھ کر گرنے دیا ہو۔
منّا یہ سب فاصلے سے دیکھتا ہے — گھنٹی کے عین نیچے کھڑا۔
پجاری کمزور بدن سے پوجا کی ٹوکری سے مالا اٹھاتا ہے۔
’’سورجِ اول کے اس شبھ دن پر، منتقلی ترپن کے بعد، میں… میں… اہ… اہ…‘‘
پجاری کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں — مالا نیچے گر جاتی ہے۔ اُس کا ہاتھ گردن کو پکڑتا ہے — سانس رُک رہی ہے، منھ سے خون کے چھینٹے نکلتے ہیں۔ رگیں ابھر آتی ہیں، آنکھیں باہر کو پھٹتی ہیں، رنگت پہلے زرد، پھر نیلا، پھر کچھ بھی نہیں۔
اُس کابھاری بدن مندر کے ٹھنڈے فرش پر دھڑام سے گرتا ہے۔
کوٹھیاجھپٹ کر اُس کے گلے کو دبوچ لیتا ہے — ناخن اُس کی جلد میں گاڑ دیتا ہے — اور جو تھوڑی سی جان باقی رہ گئی تھی، اُسے بھی ختم کر دیتا ہے۔
منّا سب کچھ دیکھتا ہے۔ دیوتا ساکت رہتا ہے۔
’’تم نے کیا کیا، میکر کوٹھیا؟‘‘ منّا کی آواز دھیمی، کمزور ہے۔
’’مجھے کوٹھیا کہو، جیسے پہلے کہتے تھے۔‘‘ کوٹھیا کپکپاتے ہوئے کہتا ہے — اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں۔
’’اُس دن اُس نے جو میرے ساتھ کیا، اُس کے لیے وہ سزاوار تھا۔‘‘
پھر کوٹھیا اپنے ماتھے کو انگوٹھے سے رگڑتا ہے۔ رگڑتا جاتا ہے — یہاں تک کہ جلد کی میل اُس کے ہاتھ پر آ جاتی ہے، اور سبز رنگ اکھڑ کر نیچے گرتا ہے۔ نیچے سے نکلتا ہے — وہی کانسی کا جَمان۔
’’اب کیا ہوگا؟‘‘ منّا پوچھتا ہے — ایک لمبی خاموشی کے بعد۔
کوٹھیا جواب نہیں دیتا۔ مگر جواب تب ملتا ہے جب کوٹھیا تڑپتا ہے — چیختا ہے — سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیتا ہے — زمین پر گرتا ہے۔
سانس لینے میں دشواری — جَمان انتقام لیتا ہے۔
منّا صرف کھڑا دیکھتا رہتا ہے جب اُس کا دوست مچلتا، پھر بےسدھ ہو جاتا ہے۔
مندر کے اندر اب صرف منّا ہے — اور دیوتا۔
’’کیا تم یہ سب روکنے کی طاقت رکھتے ہو؟‘‘ وہ دیوتا سے کہتا ہے۔ ’’یا یہ سب تماشہ ہے — تمھارے لیے بھی؟‘‘
دیوتا ساکت رہتا ہے۔
ایک لمحے کو، منّا کی وہ زندگی — جو ہو سکتی تھی — اُس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرتی ہے۔ مگر وہ بھی — ایک خواب کی گونج بن کر مدھم ہو جاتی ہے۔
منّا کی نگاہ مندر کی گھنٹی کی طرف اُٹھتی ہے۔
وہ ایک فٹ چھوٹا ہے — اُسے چھونے کے لیے کافی نہیں۔
مگر وہ چھلانگ لگاتا ہے۔
——
حواشی
۱۔ جَمان: ایک علامتی یا نیم جاندار مہر؍نشان جو کسی کی خدمت، درجہ یا تقدیر کو ظاہر کرتا ہے۔ ہر شخص کے ماتھے یا کنپٹی کے قریب یہ نشان ثبت ہوتا ہے؛ سماجی کنٹرول، شناخت، یا غلامی کی علامت۔
۲۔ مکھیہ پجاری: اعلیٰ پجاری یا سردار پجاری — مندر کا سب سے طاقتور اور مرکزی مذہبی خادم، جو اکثر اختیارات کی علامت ہوتا ہے۔
۳۔پجاری: مندر میں عبادت انجام دینے والا مذہبی خادم، جو رسومات کی نگرانی کرتا ہے اور روحانی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔
۴۔ چوتر: مندر کی تقسیم میں ایک ’’کوارٹر‘‘ یا مخصوص رہائشی؍خدمت گاہی سیکشن؛ جیسے ’’پہلا چوتر‘‘ یا ’’نواں چوتر‘‘ — جو درجے اور ذمہ داری کی بنیاد پر مخصوص کیے جاتے ہیں۔
۵۔ پوتر: مقدس یا پاک؛ عام طور پر دیویہ اشیاء، افراد یا اعمال کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے پوتر پئے (مقدس مشروب)، پوتر بھجن، پوتر دیہ (پاک جسم)۔
۶۔ پوتر پئے: ایک مذہبی مشروب جو رسومات میں استعمال ہوتا ہے، دیوتا کو چڑھایا جاتا ہے یا پجاری اسے پیتے ہیں— تقدس اور روحانی طہارت کی علامت۔
۷ ۔پرساد: دیوتا کو نذر کیا گیا کھانے کا وہ حصہ جو بعد میں بھکتوں میں بانٹا جاتا ہے — قبولیت، کرم، اور آشیرواد (برکت) کی علامت۔
۸۔ بھجن: عبادتی گیت یا منتر جو دیوتاؤں کی تعریف میں گایا جاتا ہے — اکثر رسومات، پوجا یا تہواروں میں۔
۹۔ گیندے کے پھول: زرد یا نارنجی رنگ کے پھول جو ہندو مذہبی رسومات میں مالا، سجاؤٹ یا نذر کے طور پر استعمال ہوتے ہیں— خوشبو، رنگ، اور عقیدت کی علامت۔
۱۰۔دیوتا: ہندو مت میں خدا یا الوہی وجود؛ مندر میں رکھی جانے والی مورتیاں جن کی پوجا کی جاتی ہے اور جو طاقت، رحمت یا قہر کی علامت ہو سکتی ہیں۔
۰۰۰

امل سنگھ
امل سنگھ ایک نمایاں بھارتی مصنف ہیں، جن کا تعلق ممبئی سے ہے۔ وہ تخیلی فکشن کے میدان میں لکھتے ہیں، اور ان کی کہانیاں انسان، طاقت، تقدیر، اور مافوق الفطرت نظاموں کے بیچ موجود خاموش جدوجہد کو غیرمعمولی انداز میں بیان کرتی ہیں۔
ان کی مختصر کہانیوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، اور ’تھیوڈور سٹرجن میموریل ایوارڈ‘ جیسے معتبر اعزاز کے لیے نامزدگی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے کام ’کلارکس ورلڈ‘ ’ریکٹر‘ اور دیگر ممتاز اشاعتی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکے ہیں۔
ان کا پہلا ناول’’دی گارڈن ڈیلائٹس ۲۰۲۴ء‘‘ کی’لوکس ریکمنڈڈ ریڈنگ لسٹ‘ میں شامل رہا— جو تخیلی فکشن کی دنیا میں ایک نمایاں اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
امل سنگھ کا اسلوب فکرانگیز، علامتی، اور تہہ دار ہے— جہاں تخیل، سیاست اور روحانیت ایک نرمی سے ٹکراتے ہیں۔
۰۰۰

محمد عامر حسینی
محمد عامر حسینی کا تعلق پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ایک اہم شہر، خانیوال سے ہے۔ وہ ایک تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت صحافی ہیں جنہوں نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستگی کے دوران صحافت کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کی تحریریں نہ صرف قومی سطح پر پڑھی جاتی ہیں بلکہ عالمی قارئین بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ محمد عامر حسینی چھے کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں تنقید، سماجیات، سیاسی تجزیے اور ادبی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف فکشن لکھتے ہیں بلکہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو غیر ملکی ادب کے اردو تراجم ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی ادب کو اردو زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ادب، صحافت اور ترجمے کے میدان میں ان کی کاوشیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
۰۰۰
Authors

امل سنگھ ایک نمایاں بھارتی مصنف ہیں، جن کا تعلق ممبئی سے ہے۔ وہ تخیلی فکشن کے میدان میں لکھتے ہیں، اور ان کی کہانیاں انسان، طاقت، تقدیر، اور مافوق الفطرت نظاموں کے بیچ موجود خاموش جدوجہد کو غیرمعمولی انداز میں بیان کرتی ہیں۔
ان کی مختصر کہانیوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، اور ’تھیوڈور سٹرجن میموریل ایوارڈ‘ جیسے معتبر اعزاز کے لیے نامزدگی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے کام ’کلارکس ورلڈ‘ ’ریکٹر‘ اور دیگر ممتاز اشاعتی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکے ہیں۔
ان کا پہلا ناول’’دی گارڈن ڈیلائٹس ۲۰۲۴ء‘‘ کی’لوکس ریکمنڈڈ ریڈنگ لسٹ‘ میں شامل رہا— جو تخیلی فکشن کی دنیا میں ایک نمایاں اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
امل سنگھ کا اسلوب فکرانگیز، علامتی، اور تہہ دار ہے— جہاں تخیل، سیاست اور روحانیت ایک نرمی سے ٹکراتے ہیں۔
View all posts
محمد عامر حسینی کا تعلق پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ایک اہم شہر، خانیوال سے ہے۔ وہ ایک تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت صحافی ہیں جنہوں نے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستگی کے دوران صحافت کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کی تحریریں نہ صرف قومی سطح پر پڑھی جاتی ہیں بلکہ عالمی قارئین بھی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ محمد عامر حسینی چھے کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں تنقید، سماجیات، سیاسی تجزیے اور ادبی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ وہ نہ صرف فکشن لکھتے ہیں بلکہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو غیر ملکی ادب کے اردو تراجم ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے عالمی ادب کو اردو زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادب، صحافت اور ترجمے کے میدان میں ان کی کاوشیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
View all posts
