مضمون
رنگ برنگ
مصنوعی ذہانت اور ہراری کی نئی کتاب
ناصر عباس نیّر

ہر نئی ایجا دکے ساتھ، اس کی ایک کہانی بھی وضع ہوجایا کرتی ہے۔ ٹیلی گراف سے انٹرنیٹ، گوگل،فیس بک اور اب مصنوعی ذہانت کی ایجاد کے پس منظر میں بھی کہانی ہے اور ان کی تشہیر وفروخت اور رواج ومقبولیت بھی کسی نہ کسی کہانی پر منحصر ہے۔ —ناصر عباس نیّر
حال ہی میں اسرائیلی مصنف یووال نوح ہراری کی نئی کتاب شائع ہوئی ہے۔
Nexus:A Brief History of Information Networks from the Stone Age to AI
ہراری ہمارے زمانے کے بڑے نہیں،مقبول عام مصنف ضرور ہیں۔بڑا مصنف ہر شے کو گہرائی میں دیکھتا، کئی اطراف سے دیکھتااور نئے اور بڑے سوالات قائم کرتاہے۔جبکہ مقبول عام مصنف، ایک واضح نقطۂ نظر کو سادہ وسہل زبان میں عوام تک پہنچاتا ہے۔
ہمیں نہیں بھولناچاہیے کہ دنیاکاناک نقشہ،زیادہ ترمقبول عام مصنف بناتے ہیں؛، ہر زمانے کے مقبول عام مصنف۔
بڑے مصنف سراہے زیادہ، پڑھے کم جاتے ہیں۔ سمجھے تو اس سے بھی کم جاتے ہیں۔
دوسری طرف اکثر مقبول عام مصنف بڑے مصنفوں کے خیالات کو سادہ وسہل زبان میں پیش کرنےو الے ہوتے ہیں۔
بہر کیف ہراری ایک مقبول عام مصنف ہیں۔ وہ مقبول عام مصنف ہی کی مانند، مقتدر قوتوں کی ناراضی سے بچتے ہیں۔ اپنی کتابوں میں نازی ازم، سٹالن از م پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ مگر صیہونیت اور استعماریت پر تنقید سے گریزاں؛ بس چلتے چلتے کہیں اشارہ کردیتے ہیں۔
ان کی نئی کتاب ان کی پہلی کتابوں ہی کا تسلسل ہے۔ اس کتاب میں وہ انفارمیشن کی تاریخ (جو جال یعنیNexus کی صورت وجود رکھتی ہے) پتھر کے زمانے سے مصنوعی ذہانت کے عہد تک بیان کرتے ہیں۔ بالکل سادہ؛عام فہم انداز میں۔سادہ اور عام فہم انداز میں کئی اہم باتوں کا ذکر حذف اورتفصیلی بحث سے گریزکرنا پڑتا ہے۔ خاص بات یہ کہ انفارمیشن پر لکھی گئی یہ کتاب، خود انفارمیشن کا درجہ رکھتی ہے۔اگرچہ ا س میں انفارمیشن کو دانائی کے مقابل سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر یہ کتاب،کتاب ِحکمت نہیں؛ تاریخی و معاصر عہد سے متعلق معلومات اور ان کے ضمن میں ایک واضح نقطۂ نظر کی حامل کتاب ہے۔
ہراری مصنوعی ذہانت کو بھی خود کو تباہ کرنے کے سامان میں شامل کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان کی دانش اس وقت کہاں ہوتی ہے، جب وہ اپنے ہاتھوں عالم کو تباہ کرڈالنےو الے آلات ایجاد کرتا اور انھیں عام کرتا ہے؟
اس سے پہلے وہ اپنی کتاب ہومو ڈیوس‘‘ؔ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سماج پر اثرات کو موضوع بناچکے ہیں۔ ان کی اس کتاب ہی سے یہ بات عام وخاص تک پہنچی ہے کہ کس طرح انٹر نیٹ کے الگوردم ہمارے خیالات واحساسات کومخصوص ہیئت دے رہے ہیں اور ہمیں فیصلہ سازی کے اختیار سے محروم کررہے ہیں۔ ہماری زندگیاں، الگوردم کے رحم وکرم پر ہیں۔ وہ اپنی تازہ ترین کتاب میں بھی انفرمیشن ، سچ، دانش، کہانیوں، سیاسی پاپولزم کے ساتھ ساتھ، مصنوعی ذہانت کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے سلسلے میں ان کے خیالات اس قابل ہیں کہ ان کا یہاں ذکر کیا جائے۔
ہراری کے مطابق انسانوں کو ہوموسیپینز کہا گیا ہے؛ یعنی دانش مند انسان۔ لیکن درحقیقت گزشتہ ایک لاکھ سال سے اس دانشمند انسان نے خود کوتباہ کرنے کا مسلسل سامان کیا ہے۔ہراری مصنوعی ذہانت کو بھی خود کو تباہ کرنے کے سامان میں شامل کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان کی دانش اس وقت کہاں ہوتی ہے، جب وہ اپنے ہاتھوں عالم کو تباہ کرڈالنےو الے آلات ایجاد کرتا اور انھیں عام کرتا ہے؟ ہراری اس سوال کے جواب میں اساطیر اور شاعری کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پہلے وہ یونانی فائیٹون (Phaethon) کی اسطور ہ کا ذکر کرتا ہے۔
فائیٹون، سوریا دیوتا ہیلیوس کا بیٹا ہے۔اسے اپنے اعلیٰ خاندان سے تعلق کا تکبر ہے۔ یہ تکبر اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ (جیسے خود کو تمام مخلوقات سے برتر ہونے کا غرور انسان کو مضطرب رکھتا ہے )۔ وہ ضد کرتا ہے کہ وہ سورج کو کھینچنے والی بگھی کو خود چلا ئے گا۔ یعنی آسمانی مملکت میں داخل ہوکر، آسمانی طاقت کو اپنے اختیار میں لائے گا۔ وہ کسی کی بات نہیں مانتا۔
__________
‘‘ؔ Homo Dues
وہ بگھی پر بیٹھ جاتا ہے۔ بگھی اس کے قابو سے نکل جاتی ہے۔ سورج اپنے مقررہ راستے سے ہٹ جاتا ہے۔یعنی فطرت کے نظم میں ایک عظیم خلل پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں تباہی آتی ہے۔ نباتات اور دیگر مخلوقات جل کر راکھ ہوجاتی ہیں۔ ایسے میں زیوس مداخلت کرتا ہے۔ وہ فائیٹون کو طوفان بادو باراں سے مار ڈالتا ہے۔ وہ متکبر انسان راکھ کے ذروں کی مانند زمین پر گرتا ہے۔ دیوتاآسمانی اختیار بحال کرتے ہیں اور دنیا کو بچالیتے ہیں۔ یہ کہانی،فطرت کو تسخیر کرنے کی ضد اور اس کے عواقب کی کہانی ہے۔ فطرت کو تسخیر کرنے کی کوئی کوشش،مہلک اثرات سے محفوظ ہوسکی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔
گوئٹے کی نظم ’’جادوگر کا بالکا‘‘ (۱۷۹۷ء) میں جادوگر ایک ورکشاپ چلاتا ہے۔وہ کسی کام سے باہر جاتا ہے۔ وہ شاگرد کے ذمے چھوٹے موٹے کام لگا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ندی سے ورکشاپ کے لیے پانی لے آئے۔ بالکا ایک منتر سے جھاڑو کو ندی سے پانی لانے کے بھیجتا ہے۔ وہ منتر بھول جاتا ہے۔ جھاڑو پانی لاتارہتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ پانی ورکشاپ میں جمع ہوجاتا ہے۔ وہ غصے میں جھاڑو کے دو ٹکڑے کرتا ہے۔ دونوں ٹکڑے پانی لانے لگتے ہیں۔ جادوگرخود آکر منتر پڑھتا ہے تو جھاڑو پانی لانا بند کرتے ہیں۔
ان دونوں پرانے متون میں فطرت کو مطیع کرنے ہی کے عمل میں تباہی لانے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ تاہم ہراری ان دونوں کہانیوں پر تنقید بھی کرتا ہے۔ یہ کہ اس میں تباہی کا ذمہ دار ایک شخص کو قرار دیا گیا ہے، جب کہ یہ اجتماعی عمل ہے۔
ہراری مصنوعی ذہانت کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ طب اور دوسرے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی افادیت کا قائل ہے، مگر یہ کہاں ضروری ہے کہ ایک چیز ایک جگہ مفید ہے تو وہ ہر جگہ ہی مفید ہوگی۔
اس طرح دونوں کہانیوں میں ایک فرد کو لامحدود طاقت کا حامل قرار دے کر نجات دہندہ بنایا گیا ہے۔ ہراری نجات کو بھی اجتماعی قرار دیتا ہے۔ وہ ہر انسانی اجتماع یا گروہ کو کہانیوں کی پیداوار کہتا ہے۔ نسل، مذہب، قوم،ثقافت یا کسی از م کی کہانی۔ چنانچہ اگر نجات کہیں ہے تو ان کہانیوں پر تنقیدی نگاہ ڈالنے اور انھیں بدلنے میں ہے۔
ہر نئی ایجا دکے ساتھ، اس کی ایک کہانی بھی وضع ہوجایا کرتی ہے۔ ٹیلی گراف سے انٹرنیٹ، گوگل،فیس بک اور اب مصنوعی ذہانت کی ایجاد کے پس منظر میں بھی کہانی ہے۔ اور ان کی تشہیر وفروخت اور رواج ومقبولیت بھی کسی نہ کسی کہانی پر منحصر ہے۔
ہراری تسلیم کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی یہ کہانی ابھی منقسم ہے۔مثلاً امریکی سرمایہ دار مارک اینڈریسین کہتا ہے کہ مصنوعی ذہانت، انسانیت کے تمام مسائل حل کردے گی۔یہ دنیاکو برباد نہیں کرے گی،بلکہ بچائے گی۔ دوسری طرف ہراری یوشو بیجیو،جعفری ہنٹن،سام آلٹمان،ایلون مسک اور مصطفیٰ سلیمان کا ذکر کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اے آئی ہماری تہذیب کو تباہ کردے گی۔ہراری ان کا ہم نو اہے۔ ہراری مصنوعی ذہانت کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ طب اور دوسرے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی افادیت کا قائل ہے۔ مگر یہ کہاں ضروری ہے کہ ایک چیز ایک جگہ مفید ہے تو وہ ہر جگہ ہی مفید ہوگی۔
دوسرا سبب یہ ہے کہ بہ قول ہراری، مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کی پہلی ٹیکنالوجی ہے جو خود فیصلے کرسکتی ہے اور خیالات تخلیق کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے کی تمام ٹیکنالوجیز صرف انسانوں کی مدد کرتی تھیں، فیصلے نہیں کرتی تھی۔…… وہ یہ دعوٰی بھی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نیا جینیاتی کو ڈرقم کرسکتی ہے یا غیر نامیاتی کوڈ سے غیر نامیاتی چیزوں کو نامیاتی بناسکتی ہے۔ حالانکہ ابھی مصنوعی ذہانت کا انقلاب، بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ہراری مصنوعی ذہانت کو سب سے بڑا خطرہ چند اسباب کے تحت قرار دیتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ دنیا کے موجود ہ تصادمات کو بڑھائے گی؛کم نہیں کرے گی۔ انٹرنیٹ سے اربوں انسانوں میں فوری ابلاغ کا رشتہ؛انھیں فکری وجذباتی طور پر قریب کرنے کی امیددم توڑ چکی۔ لوگوں کے ہر نوع کے تعصبات مزید پختہ ہوئے اور انٹر نیٹ ان تعصبات کو مزید گہرا کرنے اور ان کے بے روک ٹوک اظہار کا ذریعہ بنا۔ ہراری کے مطابق، مصنوعی ذہانت سلیکون کرٹن پیدا کرنے جارہی ہے۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت کے مالکان ہوں گے، دوسری جانب پوری دنیا۔ گویا پوری دنیا، ان نئے حکمرانوں کے رحم وکرم پر ہوگی۔
دوسرا سبب ،بقول ہراری، مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کی پہلی ٹیکنالوجی ہے جوخودفیصلے اورخیالات تخلیق کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے کی تمام ٹیکنالوجیز صرف انسانوں کی مدد کرتی تھیں، فیصلے نہیں کرتی تھیں۔بندوق خود فیصلہ نہیں کرتی تھی، بندوق بردار فیصلہ کرتا تھا۔ اب بندوق خود فیصلہ کرے گی کہ اسے کب اور کس پر گولی برسانی ہے۔ مصنوعی ذہانت فیصلہ سازی میں انسانوں کو بے دخل کرنے جارہی ہے۔ اس کے فیصلے کیاہوں گے، کچھ معلوم نہیں۔
یہ ہم سب دیکھ چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت نظمیں لکھ سکتی ہے؛موسیقی ترتیب دے سکتی ہے۔مگر ہراری کہتا ہے کہ یہ زندگی کی نئی صورتیں بھی ایجاد کرسکتی ہے۔ وہ یہ دعوٰی بھی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نیا جینیاتی کو ڈرقم کرسکتی ہے ۔ بلکہ غیر نامیاتی کوڈ سے غیر نامیاتی چیزوں کو نامیاتی بناسکتی ہے۔ حالانکہ ابھی مصنوعی ذہانت کا انقلاب، بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔
مصنوعی ذہانت کے پاس اپنے جذبات نہیں ہیں۔ مگر ہراری کے مطابق، اسی سبب سے وہ انسانی جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں پہچان سکتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے جذبات کو پہچاننے میں اس لیے غلطی کرتا ہے کہ وہ خود اپنے جذبات کے جنگل میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔
انسانی تخلیقیت کو بھی مصنوعی ذہانت سے سنگین خطرہ ہے۔تخلیق کیاہے؟ ہراری جواب میں کہتا ہے کہ تخلیق کے دو مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ کسی پیٹرن کو پہچاننا ہے۔ دوسرا مرحلہ اسے توڑنا ہے۔ مصنوعی ذہانت کسی بھی پیٹرن کو عام انسانوں سے بہتر سمجھ سکتی ہے۔ پیٹرن کو توڑنے کے کئی طریقے ہیں۔ یعنی کوئی نئی نظم تخلیق کرنے کے کئی امکانات ہیں۔ مصنوعی ذہانت چونکہ خود فیصلہ سازی کرسکتی ہے، اس لیے وہ کسی پیٹرن کوتوڑنے کے امکانات میں سے بہترین امکان کو منتخب کرنے کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔
اب ہمارے پاس کیا چارہ ہے؟ یہ کہ ہم تخلیق کے نئے پیٹرن وضع کریں، ایسے پیٹرن جن کا ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے پا س نہیں۔
یا پھر موجود پیٹرن کو ان طریقوں سے توڑیں، جن تک مصنوعی ذہانت کا’’تخیل‘‘ نہیں پہنچتا۔
یا پھر ہم دنیا کو نئی نظر سے دیکھیں۔ دنیا کو دیکھنے کو ہماری اب تک کی جو کنڈیشننگ ہوئی ہے، اس سے آزادی حاصل کریں۔
آخری بات یہ کہ مصنوعی ذہانت کے پاس اپنے جذبات نہیں ہیں۔ مگر ہراری کے مطابق، اسی سبب سے وہ انسانی جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں پہچان سکتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے جذبات کو پہچاننے میں اس لیے غلطی کرتا ہے کہ وہ خود اپنے جذبات کے جنگل میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ اسے وہ پرسکون، بے خلل ذہنی کیفیت کم ہی نصیب ہوتی ہے، جب وہ دوسرے انسان کی جذباتی حالت کو اس کی اصل صورت میں سمجھ سکے اور اس کے لیے مناسب زبان اختیار کرسکے۔
اب تک ادب، سائنس اور تاریخ نے انسانی جذبات کو جس طور سمجھا ہے، جنریٹو مصنوعی ذہانت کے پاس وہ سب محفوظ بھی ہے، اور اسے بے داغ ذہانت کے ساتھ بروئے کار لانے کا طریقہ بھی ہے۔
مصنوعی ذہانت کاکوئی اپنا جذباتی بیابان نہیں ہے۔اس لیے وہ اپنے وسیع ڈیٹا کی مدد سے انسانی جذبات کو بے خلل انداز میں سمجھ لیتی ہے۔ اب تک ادب، سائنس اور تاریخ نے انسانی جذبات کو جس طور سمجھا ہے، جنریٹو مصنوعی ذہانت کے پاس وہ سب محفوظ بھی ہے، اور اسے بے داغ ذہانت کے ساتھ بروئے کار لانے کا طریقہ بھی ہے۔
شاعری میں بھی، مصنوعی ذہانت اسی لیے نئے انسانی جذبات کا اظہار کرسکتی ہے۔شاعری کے موجود ومحفوظ پیٹرن کو پہچان کرا ور پھر توڑ کر۔
یہ خطرہ معمولی نہیں ہے۔
انسان کے پاس تخلیق سے بڑا کوئی شرف نہیں ہے۔ جنریٹو مصنوعی ذہانت، اس کے لیے بڑا،سنگین، حقیقی خطرہ ہے۔
۰۰۰

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر
معروف پاکستانی ادیب ڈاکٹر ناصر عباس نیّر افسانہ نویس اور نقاد ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج ، لاہور میں اردو زبان و ادب کےمعلم اور اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ ۲۵ اپریل ۱۹۶۵ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی۔ ۱۹۸۷ء میں بی اے اور ۱۹۸۹ء میں ایم اے (اردو) جامعہ پنجاب، لاہور سے کیا۔۲۰۰۳ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ’’اردو تنقید میں جدیدیت اور مابعد جدیدیت‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ایم فل کیا اور بہاء الدّین ذکریا یونیورسٹی، ملتان سے ’’اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا۔۲۰۰۱ء میں انھیں ہائیڈل برگ یونیورسٹی، جرمنی کی طرف سے ’’اردو ادب کا نوآبادیاتی دور‘‘ کے موضوع پر پوسٹ ڈاکٹورل اسکالرشپ ملی۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی تنقیدی جہات
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کو جرمنی میں قیام کے دوران نو آبادیاتی عہد کی سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا جس نے اُن کے وژن کو تبدیل کر دیا اور وہ بالکل نئے زاویے سے اردو ادب کے تخلیقی عمل کی ترجیحات کو دیکھنے لگے۔ وہ کئی علوم کے تناظر میں اُس عہد کی ادبی سرگرمی اور تخلیقی عمل کو دیکھتے ہیں جس کے سبب ان کے ہاں ایک الگ تنقیدی جہت آ جاتی ہے۔ انھوں نےنئی اصطلاحات کی حامل ایک نئی تنقیدی زبان اردو ادب میں متعارف کروائی ہے ۔ تنقید کا یہ انداز اگر چہ مغرب سے مستعار لیا گیا ہے مگر اس کی وجہ سے اردوکے فکشن نگاروں اور شاعروں کے تخلیقی کام کی نئی جہات سامنے آئیں۔
تخلیقات
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نےتنقید کی بے شمار کتب تخلیق کیں جن میں’’دن ڈھل چکا تھا‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’چراغِ آفریدم‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’جدیدیت سے پس جدیدیت تک‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’نظیر صدیقی: شخصیت اور فن‘‘ (۲۰۰۳ء)؛ ’’جدید اور ما بعد جدید تنقید‘‘ (۲۰۰۴ء)؛ ’’ساختیات:ایک تعارف‘‘ (۲۰۰۶ء)؛ ’’مابعد جدیدیت:نظری مباحث‘‘ (۲۰۰۷ء)؛ ’’مجید امجد: شخصیت اور فن‘‘ (۲۰۰۸ء)؛ ’’لسانیات اور تنقید‘‘ (۲۰۰۹ء)؛ ’’مابعد جدیدیت: اطلاقی جہات‘‘ (۲۰۱۰ء)؛ ’’آزاد صدی مقالات‘‘(بہ اشتراک ڈاکٹر تحسین فراقی) (۲۰۱۰ء)؛ ’’متن، سیاق اور تناظر‘‘ (۲۰۱۳ء)؛’’مابعد نوآبادیات اردو کے تناظر میں‘‘ (۲۰۱۳ء)؛ ’’مجید امجد حیات: حیات، شعریات اور جمالیات‘‘ (۲۰۱۴ء)؛’’ ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری‘‘(۲۰۱۴ء)؛ ’’عالمگیریت اور اردو‘‘ (۲۰۱۵ء)؛’’اردو ادب کی تشکیلِ جدید‘‘(۲۰۱۶ء)؛ ’’اس کو ایک شخص سمجھنا تو مناسب نہیں‘‘(۲۰۱۷ء)؛ ’’نظم کیسے پڑھیں‘‘ (۲۰۱۸ء)؛ ’’جدیدیت اور نو آبادیات‘‘ (۲۰۲۱ء)؛ ’’یہ قصہ کیا ہے معنی کا‘‘(۲۰۲۲ء)؛ ’’نئے نقاد کے نام خطوط‘‘ (۲۰۲۳ء)؛ انگریزی میں تنقید کی کتاب’’کالونیلٹی، ماڈرنٹی اینڈ اردو لٹریچر‘‘ؔ؛ (۲۰۲۰ء)؛سفرنامہ: ’’ہائیڈل برگ کی ڈائری‘‘ (۲۰۱۷ء)۔
اُن کے افسانوی مجموعوں میں:’’خاک کی مہک‘‘ (۲۰۱۶ء)؛’’فرشتہ نہیں آیا‘‘ (۲۰۱۷ء)؛’’ایک زمانہ ختم ہوا ہے‘‘ (۲۰۲۰ء) شامل ہیں۔
___________
‘‘ؔ Coloniality, Modernity and Urdu Literature
تحسین و توصیف
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کی علمی و ادبی خدمات کو ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی میں جنوب ایشیائی زبانوں کے سربراہ ڈاکٹر ہنس ہارڈر اور بھارت کے ممتاز اردو نقاد پروفیسر شمیم حنفی جیسی شخصیات نے سراہا ہے۔
۰۰۰
