فسوں کاریاں
میگار (ہنگرین) افسانچہ
مجھے یہاں کی کسی شےکی حاجت نہیں
لاسلو کراسناہورکائی
László Krasznahorkai
تعارف و ترجمہ؍نجم الدّین احمد
میں سب کچھ یہیں چھوڑ جاؤں گا: یہ وادیاں، یہ جبل، یہ راہیں اور چمن کے یہ نیل کنٹھ۔ میں یہیں چھوڑ جاؤں گا، یہ طاؤس و مینا، فلک و ارض اور بہار و خزاں۔ یہاں کی خارجی راہیں یہیں چھوڑ جاؤں گا، مطبخ کی شامیں، آخری فریفتہ نگاہیں، اور لرزا طاری کر دینے والی شہر سے ہمہ سمت نکلنے والی تمام حدیں۔ میں یہیں چھوڑ جاؤں گا، دھرتی پر پڑنے والی دبیز روشنی، کشش ثقل، آس، مسحوری اور قرار۔ میں اپنی محبوب و مقرب ہستیوں کو یہیں چھوڑ جاؤں گا اور ہر اُس شے کو جس نے مجھے مَس کیا، میرا دِل موہا اور مجھے فیض بخشا۔
میں یہاں ہر عظیم، مہربان، دل لبھانے والی اور آسیب ایسی حسین شے، ہر جنم اور ہر وجود کو چھوڑ جاؤں گا۔ سحر انگیزی، معما، فاصلے، لامتناہیت، اور دماغ میں سمایا ابدیت کا سودا یہیں چھوڑ جاؤں گا۔ میں اس دھرتی اور ان ستاروں کو چھوڑ جاؤں گا۔ خالی ہاتھ جاؤں گا کہ میں نے یہاں کا فائدہ جانچ لیا، اور مجھے یہاں کی کسی شےکی حاجت نہیں ۔
۰۰۰

لاسلو کراسناہورکائی
نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۲۵ء کے حق دار کا اعلان اکتوبر ۹؍۲۰۲۵ء کیا گیا۔ منصفین نے ہنگریا کے ادیب لاسلو کراسناہورکائی کو نوبیل انعام سے سرفرازی کے لیے مؤقف اختیار کیا۔ ’’ان کی دل کش اور بصیرت افروز تخلیقی کاوشوں پر، جو کشفی دہشت میں فن کی قوت کی توثیق کرتی ہیں۔‘‘
مختصر سوانح
لاسلو کراسناہورکائی ۵ جنوری؍ ۱۹۵۴ء کو رومانیہ کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی ہنگری کی بیکیس کاؤنٹی کے ایک چھوٹے سے قصبے گیولا میں ایک متوسط یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح کا ایک بعید دیہی علاقہ کراسناہورکائی کے ۱۹۸۵ء میں منصۂ شہود پر آنے والے پہلے ناول ’’شیطانی تانگو‘‘ کا منظر نامہ ہے، جسے ہنگری میں ایک سنسنی خیز ادبی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد، گیؤرگی کراسناہورکائی، ایک وکیل جب کہ والدہ، جولیا پیلنکاس، ایک سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹر تھیں۔ انھوں نے ۱۹۷۲ء میں ایرکل فیرینس ہائی سکول سے گریجوایشن کرنے کے بعد ۱۹۷۳ء تا ۱۹۷۶ء کے دوران جوزف اطالیہ یونیورسٹی (اب یونیورسٹی آف سیگیڈ) اور ۱۹۷۶ء تا ۱۹۷۸ء کے دوران اَیّوٹ ووس لورینڈ یونیورسٹی (ای ایل ٹی ای) سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔
۱۹۷۸ء تا ۱۹۸۳ء کے دوران ای ایل ٹی ای ہی سے ہنگری زبان و ادب میں ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ معروف مصنف و صحافی سینڈور مارائی (۱۹۰۰ء تا ۱۹۸۹ء) کی ۱۹۴۸ء میں کمیونسٹ حکومت سے فرار کے بعد کی تخلیقات اور تجربات پر مبنی تھا۔
عملی زندگی
ادب کی متعلمی کے عرصے میں لاسلو کراسناہورکائی نے ایک اشاعتی ادارے ’’گون ڈولاٹ کونی کیاڈ‘‘ میں بھی ملازمت کی۔ ۱۹۸۵ء میں بطور مصنف عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ۱۹۸۷ء میں پہلی مرتبہ کمیونسٹ ہنگری سے ڈاڈ کی فیلوشپ پر جرمنی گئے اور کئی برس مغربی برلن میں بسر کیے، جہاں انھوں نے چھے ماہ کے لیے فری یونیورسٹی آف برلن میں بطور ایس فشر گیسٹ پروفیسر کے خدمات بھی سرانجام دیں۔ سوویت بلاک کے ٹوٹنے کے بعد متعدد مقامات پر قیام کیا۔ ۱۹۹۰ء میں انھوں خاصا وقت مشرقی ایشیا میں، چین اور منگولیا میں، گزارا۔ وہ ہنگری زبان کے ساتھ ساتھ جرمن بھی جانتے ہیں۔
ذاتی زندگی
۱۹۹۰ء ہی میں لاسلو کراسناہورکائی نے اَنیکو پیلیہی سے شادی کی، جس سے طلاق کے بعد ڈورا کاپسانیی ان کی بیوی بنیں۔ ان تین بچے ہیں: کاٹا، ایگنیس اور پانّی۔ آج کل وہ ہنگری کے پہاڑی علاقے سینتلاسلو میں خلوت نشینی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
تصانیف
ناول
· شیطانی تانگو۔۱۹۸۵ء
· مزاحمت کی افسردگی۔۱۹۸۶ء
· جنگ ہی جنگ۔۱۹۹۹ء
· فلک تلے بربادی اور غم۔۲۰۰۴ء
· وہاں نیچے، سیوبو۔۲۰۰۸ء
· بیرَون وینکہم کی گھر واپسی۔۲۰۱۶ء
· ہرشاہٹ۰۷۷۶۹۔۲۰۲۱ء
· سوملے کو لگتا ہے وہ بیکار ہو گیا۔۲۰۲۴ء (ابھی انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا)۔
ناولچے
· شمالی پہاڑ۔۲۰۰۳ء
· آخری بھیڑیا۔۲۰۰۹ء
· اندر کا وحشی۔۲۰۱۰ء
· محل کی تیاری۔۲۰۱۸ء
· ہومر کے تعاقب میں۔۲۰۱۹ء
افسانوی مجموعے
· وقار بھرے مراسم۔۱۹۸۶ء
· اُرگا کا اسیر۔۱۹۹۲ء
· دنیا چلتی جائے۔۲۰۱۳ء
فلمی سکرین پلے
· عذاب۔۱۹۸۸ء
· آخری کشتی۔۱۹۸۹ء
· شیطانی تانگو۔۱۹۹۴ء
· ویرکمیسٹر ہم آہنگیاں۔۱۹۹۱ء
· لندن سے آیا ہوا آدمی۔۲۰۰۷ء
· ٹورین گھوڑا۔۲۰۱۱ء
اسلوب
لاسلو کراسناہورکائی جدید یورپی ادب کے نمایاں مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ پیچیدہ اسلوب لیکن مانگ والے مصنف سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے اسلوب کو ’’مابعد جدیدیت‘‘ کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے ناول اداسی، بربادی اور انسانی وجود کے بحران جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔
اعزازات
نوبیل انعام سے قبل لاسلو کراسناہورکائی کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں ہنگری کے سب سے مؤقر اعزاز ’’کوسُوتھ پرائز‘‘ سے لے کر ’’مَین بکر انٹرنیشنل پرائز تک شامل ہیں۔
o وِلینیکا پرائز۔۲۰۱۴ء
o دی نیویارک پبلک لائبریری ایوارڈ۔۲۰۱۵ء
o مَین بکر انٹرنیشنل پرائز۔۲۰۱۵ء
o ایگان آرٹ ایوارڈ۔۲۰۱۷ء
o نیشنل بک ایوارڈ فار ٹرانسلیٹڈ لٹریچر۔۲۰۱۹ء
o لٹریچرـجی آر فریز آف دی ایئر پرائزـ ۲۰۱۸ء۔ ۲۰۲۰ء
o آسٹرین سٹیٹ پرائز فار یورپین لٹریچر۔۲۰۲۱ء
لاسلو کراسناہورکائی کی تحریروں کے مزید تراجم

نجم الدّین احمد
نجم الدین احمد انگریزی ادب میں ایم اے ہیں۔ وہ ناول نویس، افسانہ نگار اور مترجم ہیں۔ اُن کے اب تک تین ناول: ’’مدفن‘‘،’’کھوج‘‘ اور ’’سہیم‘‘؛ دو افسانوی مجموعے: ’’آؤ بھائی کھیلیں‘‘اور ’’فرار اور دوسرے افسانے‘‘؛عالمی افسانوی ادب سے تراجم کی سات کتب: ’’بہترین امریکی کہانیاں‘‘، ’’نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی منتخب کہانیاں‘‘، ’’عالمی افسانہ-۱‘‘، ’’فسانۂ عالم (منتخب نوبیل کہانیاں)‘‘، ’’پلوتا (سرائیکی ناول از سلیم شہزاد)‘‘، ’’کافکا بر لبِ ساحل (جاپانی ناول ازو ہاروکی موراکامی)‘‘، ’’کتاب دَدَہ گُرگود (ترک/آذر بائیجان کی قدیم رزمیہ داستان‘‘شائع ہو چکی ہیں۔
علاوہ ازیں نجم الدین احمد نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے انگریزی زبان میں’’ڈسٹرکٹ گزٹیئر ضلع بہاول نگر ۲۰۲۱ء‘‘بھی تحریر و تالیف کیا، جسے حکومتِ پنجاب کی سائٹ پرشائع کیا گیا ہے۔ اُن کی تصانیف پر اب تک انھیں رائٹرز گلڈ ایوارڈ۔۲۰۱۳ء، یو بی ایل ایوارڈ۔ ۲۰۱۷ء اور قومی ادبی ایوارڈ۔ ۲۰۱۹ء سے نوازا جا چکا ہے۔اُن کا ناول یوبی ایل ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ بھی ہوا۔
