تراجم عالمی ادب

فسوں کاریاں

فرانسیسی ناولچہ

مقام، ایک مرد کا

اَنّی اَیغنو

Annie Ernaux

انگریزی سے ترجمہ؍مبشر احمد میر

دوسرا اور آخری حصہ

’’ستم زدوں کا آخری سہارا، اُن کا قلم ہے‘‘— ژاں جینٹ

ابا کو ہمیشہ نامناسب صورتِ حال یا شرمندگی سے دوچار ہونے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ایک دِن غلطی سے، وہ گاڑی کے درجہ اوّل والے ڈبے میں سوار ہو گئے، انسپکٹر نے اُن سے دونوں درجوں کا فرق وصول کیا۔ ایک اور خجالت یاد آ رہی ہے، ایک مرتبہ قانونی مشیر کے ہاں، کاغذات کو ، پڑھ کر تصدیق کرتے ہوئے وہ تذبذب کا شکار ہو گئے۔ سوچ سوچ کر اُنھوں نے لکھا۔ ’’پڑھا اور ثابت کیا۔‘‘ واپسی پر اپنی غلطی کے نتیجے میں، جنم لینے والے احساسِ ذلت سے، وہ بدحواس ہو گئے اور اپنے آپ کو مطعون کرتے ہوئے، خود کو برا بھلا کہنے لگے۔

اُس زمانے میں لکھے جانے والے مزاح میں، بالعموم اُس دور کے مشہور فرانسیسی مزاحیہ اداکار، بوروِل (Bourvil) جیسے سیدھے سادے دیہاتی نوجوان کردار ہوتے تھے، جو شہری زندگی اور مہذب طور طریقوں سے نابلد ہوتے تھے۔ ہم اُن کی، اوٹ پٹانگ باتوں اور مضحکہ خیز حرکتوں پر بے ساختہ قہقے لگاتے ہوئے، خود سے، اُن حرکات کے سرزد ہونے کے اندیشے سے ڈرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے (پہلی جنگِ عظیم کے آس پاس، بچوں کے ہفت روزہ (La Semaine de Suzette)  میں شائع ہونے والے مشہور کارٹونی سلسلے کی غلطیوں پر غلطیاں کرنے والی، دردمند معصوم لڑکی) بیکاسین (Bécassine) کے بارے میں پڑھا، جِسے دورانِ تربیت، پہلے بِب پر پرندہ کاڑھنے اور باقی سب پر ’وہی‘ کاڑھنے کا کہا گیا۔ تمام دوپہر وہ ساٹن پر لفظ ’وہی‘ کاڑھتی رہی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتی تھی کہ میں یہی حرکت نہ کرتی۔

ابا جن لوگوں کو اہم گردانتے تھے، وہ اُن کے سامنے، لجاتے ہوئے، گاؤدی نظر آتے تھے اور کبھی کوئی سوال نہیں کرتے تھے۔ ہم کہہ سکتے ہیں، وہ سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اُنھیں اپنے کم تر ہونے کا ادراک تھا، مگر اِسے تسلیم کرنے سے گریزاں تھے۔ صرف یہی نہیں، اِس حقیقت کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش بھی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ، ہیڈ مسٹرس نے اُنھیں کہا۔ ’’آپ کی بیٹی کو ڈرامے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے شہری لباس پہننا ہو گا۔‘‘ ساری شام ہم یہی سوچتےرہے کہ آخر وہ کیا کہنا چاہتی ہیں۔ ہم وہ نہ جاننے پر شرمندگی محسوس کرتے تھے، جِن کا قدرتی طور پر، ہمیں علم ہونا چاہیے تھا۔ کیا ہم وہ، یعنی کم تر، نہیں تھے؟ جو کہ ہم تھے۔

ابا کو ہمیشہ یہی فکر رہتی تھی: ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ اِن لوگوں میں ہم سائے، گاہک اور تمام دنیا شامل تھی۔

ابا نے، اعتراضات کا نشانہ بچنے کی اپنی خواہش کو، جذبات کی لگامیں کستے ہوئے، غیر جانب دار رہ کر، ہر ایسی بات سے گریز کے ذریعے حاصل کیا، جِس پر بعد میں پچھتانا پڑے۔ اگر اُن کا کوئی ہم سایہ سبزی کی کیاری میں کھدائی کر رہا ہوتا، وہ اُس وقت تک اُس کی جانب نہ دیکھتے جب تک وہ مسکراہٹ اُچھال کر اُن کی حوصلہ افزائی نہ کرتا۔ بِن بلائے کسی کے ہاں نہ جاتے، کسی مریض کی عیادت کرنے ہسپتال بھی نہیں جاتے تھے۔ لوگوں کی تنقید سے بچنے کےلیے کبھی ایسے سوال نہ کرتے جن سے حسد یا تجسس کا گمان پیدا ہو۔ کسی سے یہ دریافت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ’’تم نے اِسے کتنے میں خریدا؟‘‘

……

اَب میں اکثر لفظ ’ہم‘ کا استعمال اِس سبب سے کرتی ہوں، کیوں کہ ایک زمانہ تھا، جب میں اُنھی کے انداز میں سوچتی تھی۔ میں نے اُن کی مانند سوچنا،  کب ترک کیا؟ مجھے یاد نہیں۔

……

میرے دادا، دادی دونوں کو صرف مقامی بولی آتی تھی۔

ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہیں گے، جو مقامی بولیوں کے لہجے اور مخصوص اصطلاحات کی دِل کشی اور دِل آویزی پر لٹو ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پراؤسٹ (Proust) مزے لے لے کر ، فرانسس (Francoise) کی گفتگو میں، زبان کی غلطیوں اور متروک الفاظ کی نشان دہی کرتا ہے۔ تاہم، چوں کہ فرانسس اُس کی ماں نہیں، اُس کی خادمہ تھی اِس لیے، اُس کی دانست میں، وہ الفاظ فطری نہیں تھے، چناں چہ، اُس کے نزدیک، زبان کا جمالیاتی پہلو زیادہ اہم تھا۔

میرے ابا، مقامی بولی کو اَکھڑ اور فرسودہ گردانتے ہوئے، کمتر سمجھتے تھے اور کچھ مقامی محاوروں کا استعمال ترک کرنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ اگرچہ وہ معیاری فرانسیسی نہیں بول سکتے تھے، تاہم، جو زبان وہ بولتے تھے، وہ فرانسیسی ہی تھی۔ ای ویتوت میں قیام کے زمانے میں، وہ لوگ جنھیں روانی سے علاقائی بولی بولنے کا ملکہ تھا، روایتی کرداروں کا روپ دھار کر، نارمن فرانسیسی میں مکالمے ادا کرتے، جنھیں سُن کر دیکھنے والے بے ساختہ قہقہے لگاتے۔ مقامی اخبار میں، علاقائی زبان کا ایک ہلکا پھلکا کالم شائع ہوتا تھا۔ جب کوئی ڈاکٹر یا عہدے دار اپنی تقریر میں ’’وہ تَن درست و توانا ہے۔‘‘ کہنے کے بجائے، علاقائی محاورے کا تڑکا لگاتےہوئے یہ کہتا: ’’وہ جنگلی بھینسے کی مانند ہٹا کٹا ہے۔‘‘ میرے ابا یہ سوچتے ہوئے، خوش ہو کر میری امی کو بتاتے کہ اِن عزت دار لوگوں اور ہم میں کچھ باتیں، چند چھوٹی موٹی خامیاں، اب بھی مشترک ہیں۔وہ یہی سمجھتے تھے کہ غیر ارادی طور پر یہ الفاظ اُن کے منہ سے نکل گئے ہوں گے۔ اُن کے نزدیک لوگوں کا، بھلے وہ پادری یا مقامی معالج ہی کیوں نہ ہوں، قدرتی طور پر، بلا سوچے سمجھے، مناسب اور درست الفاظ ادا کرنا ناممکن تھا۔ اُن کا خیال تھا، اُن لوگوں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے، خواہ وہ اپنے گھر کے کھلےماحول میں بات کر رہے ہوں۔

ابا ہمارے علاوہ اپنے گاہکوں سے بھی گپ شپ کرتے، مگر پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے خاموش رہتے یا بات کے درمیان رُک کر، یہ سوچتے ہوئے، کہ مخاطب اُن کا جملہ پورا کر دے گا، ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے، آپ میرا مطلب جانتے ہیں۔ گفتگو کے دوران،  کسی غلط لفظ کی ادائیگی کے خوف سے، وہ ہمیشہ انتہائی محتاط رہتے، جو اُن کے نزدیک سرِعام پادنے کے مترادف تھا۔ 

دوسری جانب وہ مقفیٰ و مسجع جملوں اور  گفتگو میں دَر آنے والے نئے بے معنی فجائیہ الفاظ کو ناپسند کرتے تھے۔ ایک زمانہ تھا، جب ہر ایک شخص زبان پر، یقیناً نہیں، کے الفاظ ہوتے تھے۔ اُنھیں سمجھ نہیں آتا تھا، کہ لوگ بَیک وقت باہم متضاد معنی والے الفاظ کیوں استعمال کرتے ہیں۔ میرے ابا کے برعکس میری امی کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ، کہ اُنھیں پڑھی لکھی خاتون سمجھا جائے،  وہ کسی سے سُنے یا کہیں پڑھے، ہر محاورے کو معمولی ہچکچاہٹ کے ساتھ، استعمال کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ جب کہ ابا ہر اُس لفظ کو استعمال کرنے سے انکار کر دیتے جس کا تعلق  اُن کی دنیا سے نہیں ہوتا تھا۔

……

ایک بچے کی حیثیت سے، میرے لیے، اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے، درست زبان کا استعمال کرنا، کسی اندھیری سرنگ میں چلنے کے مترادف تھا۔

میرے بچپن میں، میرا سب سے بڑا تصوراتی خوف، اپنی کسی استانی کو والد صاحب کے روپ میں دیکھنا ہوتا تھا، جو ہمیشہ مجھے درست زبان بولتے ہوئے ہر لفظ کو صحیح مخرج سے ادا کرنے  پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ بولتے ہوئے فرد کو اپنے منہ کے بولنے والے تمام اعضا کا استعمال کرنا چاہیے۔

چوں کہ میری استانی میری زبان کی اصلاح کرتی تھی، قدرتی طور پر، جب میں اپنے ابا کی تصحیح کرنا اور اُنھیں بتانا  چاہتی، کہ (فرانسیسی محاورے کے مطابق) ’’یاد مٹانا‘‘ اور ’’کسی وقت‘‘ درست نہیں ہیں، اُنھیں شدید غصّہ آتا۔ ایک موقع پر، میں چیختے ہوئے اُن پر پھٹ پڑی۔ ’’جب آپ خود ہمیشہ غلط بولتے ہیں، تو مجھ سے صحیح بولنےکی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘ جس پر  اُنھوں نے، خود کو سخت اذیت میں محسوس کیا۔ اُس زمانے کو یاد کرتے ہوئے، اب میں سمجھتی ہوں، اُس دور میں، پیسے کی نسبت، زبان کے مسائل، زیادہ تکلیف دہ اور پریشان کُن تھے۔

……

میرے ابا زندہ دِل انسان تھے۔

ابا ہنسی مذاق کے شوقین گاہکوں سے ڈھکے چھپے الفاظ میں، بے ہودہ جنسی مذاق بھی کر لیتے تھے، البتہ گہرا طنز اُن کا میدان نہیں تھا۔ ریڈیو پر کوئز اور گیتوں کے پروگرام شوق سے سُنا کرتے تھے۔ مجھے آتش بازی، سرکس اور ہلکی پھلکی فلمیں دکھانے کے لیے، ہمیشہ تیار رہتے۔ میلوں میں، ہم تفریحی ٹرین، رولر کوسٹر پر سیر کرتے اور دنیا کی سب سے فربہ عورت اور بالشتیے کو دیکھنے کے لیے خیمے میں جاتے تھے۔

ابا کبھی بھی کسی میوزیم میں داخل نہیں ہوئے۔ راہ چلتے، کوئی خوب صورت باغ، سرسبز درختوں کا جھنڈ یا شہد کی مکھیوں کا چھتا نظر آنے پر، اُسے سراہنے کی خاطر وہیں رُک جاتے تھے۔ گول مٹول لڑکیاں دیکھ کر، اُن کی آنکھوں میں چمک آ جاتی تھی۔ تنکارویل (Tanciville) کے محصول والے پُل جیسی، جدید شان دار اور فلک بوس عمارتیں پسند کرتے تھے، عوامی موسیقی سننے اور کھلی سڑکوں پر لمبی ڈرائیو کے شوقین تھے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی کھلے میدان میں یا ساحلِ سمندر پر درختوں کے کسی جھنڈ کے پاس، بوگلیون آرکسٹرا (Bouglione Orchestra) سننے کا موقع ملنے پر، خوشی محسوس کرتے تھے۔ تاہم، اِس موضوع پر شاذ ہی گفتگو کرتے، کہ کسی خوبصورت نظارے کو دیکھ کر اور کسی مشہور دھن کو سُن کر، محظوظ ہوتے ہوئے، انسان کیا محسوس کرتا ہے۔ شروع شروع میں، جب میں نے، اپنے سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے، دوستوں کے ہم راہ باہر جانا شروع کیا، ہمیشہ اُن کا یہی سوال ہوتا، کہ مجھے جاز اور کلاسیکی میں سے کون سی موسیقی اور جیکوس تاتی (Jacques Tati) یا رین کلئیر (René Clair)  میں سے کون سا فلم ساز پسند ہے۔جلد ہی مجھ پر اِس حقیقت کا ادراک ہوا، کہ میں ایک نئی دنیا میں آ گئی ہوں۔

ایک مرتبہ گرمیوں میں، ابا اپنے اہلِ خانہ کو تین دِن کے لیے، ساحلِ سمندر پر لے گئے۔ وہ ایک دِن بغیر جرابوں کے، سینڈل پہن کر، باہر گھومتے ہوئے، بلاکوں سے بنے، جرمن مکانات دیکھنے رُک گئے، وہاں کھلی فضا والے ایک کیفے میں بیٹھ کر، اُنھوں نے اپنے لیے بیئر لی، میرے لیے سنگترے کا مشروب منگوایا۔ ابا نے میری پھوپھی کے لیے ایک مرغی کاٹتے ہوئے اُسے اپنی ٹانگوں کے درمیان دبا کر اُس کے گلے پر قینچی چلائی، مرغی کا گاڑھا لیس دار خون، کوٹھڑی کے کچے فرش پر ٹپک رہا تھا۔ دوپہر ڈھلنے تک، کھانے کی میز پر، خالی برتنوں کے سامنےبیٹھے، وہ تصویروں کا تبادلہ کرتے ہوئے، خاندان کی، جنگ کے دنوں کی باتیں یاد کرتے رہتے۔ ’’چھوڑو، لعنت بھیجو، زندگی کے مزے لو۔‘‘

ہر حال میں زندگی کو آسان لینا، شاید اُن کی فطرت میں شامل تھا۔ اُنھوں نے اپنے لیے، ایسی مصروفیات ڈھونڈ لی تھیں، جو اُنھیں کاروبار کے جھنجھٹوں سے آزاد رکھتی تھیں، جیسے خرگوش اور مرغیاں پال لیں، گھر کی زمین پر گودام یا گیراج کی تعمیر شروع کر دی۔ احاطے کا نقشہ، اُن کی منشا کے مطابق بدلتا رہتا تھا۔ پاخانے اور مرغیوں کے ڈربوں کی جگہیں تین مرتبہ بدلی گئیں۔ وہ خود میں چیزوں کو توڑ کر، پھر سے بنانے کی ناقابلِ شکست خواہش محسوس کرتے تھے۔ 

میری امی کا کہنا تھا۔ ’’بہرحال وہ دیہاتی ہیں، اِس کے علاوہ اُن سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘

……

ابا ہر پرندے کی چہکار سے اُسے پہچان لیتے تھے، آنے والے موسم کا اندازہ لگانے کی خاطر، وہ ہر شام آسمان کامشاہدہ کرتے تھے: اُفق پر سرخی ہونے کا مطلب ہوتا تھا، موسم سرد اور خشک رہے گا، چاند کے پانی میں ڈوبنے، یعنی بدلیوں میں گھرے ہونے کا مطلب تھا، تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہو گی۔ پچھلے پہر وہ اپنی سبزی کی کیاریوں میں کام کرتے، جو ہمیشہ صاف ستھری اور باترتیب اور صاف ہوتی تھیں، گندی کیاریوں اور سبزیوں پر توجہ نہ دینے سے یہی مراد لی جاتی تھی کہ مذکورہ فرد، یقینی طور پر، کسی بے تحاشا پینے والے یا اپنے حلیے کا خیال نہ رکھنے والے کی مانند لاپرواہ اور بد سلیقہ ہے۔ اِس کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ ایسا شخص موسموں کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اُسے معلوم نہیں کہ کون سی سبزی کب کاشت کرنی ہے، مزید بَر آں اُس فرد کو، اِس کی کوئی فکر نہیں، کہ لوگ کیا کہیں گے۔ توبہ کے وقفے کے دوران، گاہے گاہے بدنام شرابی، خوب صورت باغیچہ لگا کر، اِس تہمت سے جان چھڑانے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ سبز پیاز یا کسی اور سبزی کی اچھی فصل اُگانے میں ناکام ہونے کی صورت میں، ابا سخت مایوسی کا شکار ہوتے تھے۔ دِن کے اختتام پر اپنی کھودی ہوئی آخری قطار میں فضلے کا برتن خالی کیا کرتے، جس میں پھٹی ہوئی جرابوں کا جوڑا  یا استعمال شدہ قلم نظر آتا تو وہ میرے سیڑھیاں اُتر کر، نیچے جانے کی زحمت نہ کرنے پر غصّے سے آگ بگولہ ہو جاتے تھے۔

کھانا کھاتے وقت، ابا اوپائنل (Opinal)  برانڈ کا جیبی چاقو استعمال کرنے پر، اصرار کرتے۔ وہ ڈبل روٹی کو چھوٹے چھوٹے چوکور ٹکڑوں میں کاٹ کر، اپنی پلیٹ کے ساتھ ڈھیر کر کے، انھیں پنیر اور پورک ساسیج کے ٹکڑوں کے ساتھ پُرو کر، چٹنی میں ڈبو کر کھاتے۔ میری پلیٹ میں بچا ہوا کھانا دیکھ کر، وہ اذیت محسوس کرتے تھے، جب کہ اُن کی پلیٹ، دھوئے بغیر، واپس الماری میں رکھی جا سکتی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے بالا پوش سے پونچھ کر چاقو صاف کرتے تھے۔ ہیرنگ (herring) نامی بدبودار مچھلی کھانے کے بعد، اُس کی بُو سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے، بچی ہوئی مچھلی زمین میں دبا دیتے۔ پچاس کی دہائی کے اواخر تک، وہ ناشتے میں سوپ پیتے رہے۔ بعد میں اِس کے بجائے، اُنھوں نے ناپسندیدگی سے، عورتوں کی مانند نخرے دکھاتے ہوئے، دودھ والی کافی پینی شروع کر دی۔ جِسے وہ سوپ کی طرح، چمچ سے پیتے تھے۔ پانج بجے اپنے لیے چائے بناتے جس میں انڈے، سرخ مولی اور دھیمی آنچ پر پکے ہوئے سیب شامل ہوتے، جب کہ شام کو مزے لے لے کر سوپ کا پیالہ پیا کرتے تھے۔ مایونیز، کیک اور گاڑھی چٹنیاں پسند نہیں تھیں۔

ابا ہمیشہ بنیان اور قمیص پہن کر سوتے تھے۔ ہفتے میں تین مرتبہ، باورچی خانے کے سِنک پر آویزاں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر شیو کرتے۔ جِس وقت اپنی قمیص کے اوپری بٹن کھولتے، مجھے اُن کی گردن کے نیچے، پھیکے سفید رنگ کی جلد دکھائی دیتی تھی۔ جنگ کے بعد، خوش حالی کی علامت سمجھےجانے والے نجی غسل خانوں کا چلن تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ امی نے بھی سیڑھیوں کے ساتھ ایک غسل خانہ بنوایا، مگر ابا نے کبھی اِس کا استعمال نہیں کیا، نیچے باورچی خانے میں منہ ہاتھ دھوتے رہے۔

سردیوں کے موسم میں، باہر صحن میں، ابا چھینکیں مارتے ہوئے، بے فکری سے، یہاں وہاں تھوکا کرتے تھے۔

اگر میں اسکول میں،اپنے والد پر، جواَب مضمون میں، یہ تمام تفصیل بیان کرتی، تو کیا اِسے درست سمجھا جاتا؟ پرائمری اسکول کے آخری سال کے دوران، ایک دِن، ایک لڑکی نے زور دار چھینک ماری، جِس سے اُس کی کاپی ڈیسک سے اُڑ گئی۔ اُستانی تختہ سیاہ پرلکھ رہی تھی۔ اُس نے پیچھے مڑ کر، تعجب کا اظہار کیا۔ ’’واقعی، کچھ لوگوں کے رویے، ایسے ہوتے ہیں۔‘‘

……

ای ویتوت کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ، جن میں سفید پوش ملازم اور شہر کے مرکزی بازار کے دُکان دار شامل تھے، چاہتے تھے کہ اُنھیں گنوار دیہاتی نہ سمجھا جائے۔ کسی کے مزدور طبقے سے ہونے کا مطلب، اَن پڑھ ہونے کے ساتھ ہی، اُس کا ظاہری حلیہ بھی ہوتا تھا، بالفاظِ دیگر اُس کا لباس فرسودہ اور بولنے کا انداز متروک ہوتا تھا۔ اُس زمانے میں، ایک کہانی بہت مشہور تھی، جس کے مطابق ایک مزدور، جو شہر میں اپنے بیٹے سے ملنے جاتا ہے، باورچی خانے میں، واشنگ مشین کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ مشین میں صابن والے پانی کے ساتھ دھلنے والےکپڑوں کو غور سے دیکھتا رہتا ہے۔ کافی دیر بعد، سر ہلا کر، اُٹھتے ہوئے، وہ اپنی بہو سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔ ’’معلوم نہیں۔ مجھے لگتا ہے ٹیلی وژن کو ابھی بہت چلنا ہے۔‘‘

البتہ، ای ویتوت کے لوگ اُن دولت مند زمین داروں پر معترض نہیں ہوتے تھے، جو بازار میں، پچاس کی دہائی کی نئی نکور سیمکا ودیتی (Simca Vedette) کے بعد، سیٹرون ڈی ایس (Citroën DS) اور پھر سیٹرون سی ایکس (Citroën CX) میں نظر آتے تھے۔ کسی کے کسان نہ ہونے کے باوجود، کسانوں جیسا نظر آنے اور اُن جیسا کرنے سے بڑھ کر افسوس  ناک بات کیا ہو سکتی تھی۔

ایک دوسرے کے لیے، فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے، میری امی اور ابا، دونوں کا لہجہ ہمیشہ طنزیہ ہوتا تھا۔ ’’اپنا مفلر لے جانا، بھول نہ جانا۔‘‘ یا ’’تھوڑی دیر آرام سے نہیں بیٹھ سکتیں؟‘‘ سننے میں ہی اہانت آمیز لگتے ہیں۔ دونوں ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑتے رہتے تھے۔ تھوک فروش کا بِل کس نے گم کیا ہے؟   کمرے میں جلتی بتی کِس نے چھوڑی ہے؟ امی کی آواز بلند ہو جاتی، کیوں کہ وہ ہر بات پر جھنجھلا جاتی تھیں، بھلے سامان دیر سے پہنچتا، ماہواری دیر سے شروع ہوتی، خریدار ہوتا یا مقامی حجام کا ہیر ڈرائیر، جو ہمیشہ شدید گرم ہوتا تھا۔ کبھی کبھی وہ ابا پر چِلاتیں۔ ’’تم دُکان دار بننے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔‘‘ جِس کا مطلب ہوتا تھا، تم ہمیشہ مزدور ہی رہو گے۔ اِس توہین کا وہ اپنے معمول کے رویے سے جواب دیتے۔ ’’اچھا ہوتا تجھ گشتی کو وہیں چھوڑ آتا جہاں تو ملی تھی۔‘‘

ہر ہفتے، ایک دوسرے کی بے عزتی کرتے ہوئے، اُن کے درمیان تکرار ہوتی تھی:

’’تمھاری اوقات کیا ہے؟‘‘

’’اور تم بَک بَک کرنے والی پگلی ہو۔‘‘

’’تم انتہائی گھٹیا شخص ہو۔‘‘

’’جاہل، بوڑھی کتیا۔‘‘

وغیرہ وغیرہ۔ اِن باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہوتا تھا۔

گھر میں، ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے، ہمارا لہجہ، ہمیشہ جارہانہ ہوتا تھا۔ صرف اجنبی نرم رویے کے مستحق سمجھے جاتے تھے۔ اِس عادت کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ میرے ابا، جنھوں نے دوسرے لوگوں کے سامنے خود پر تہذیب سے بولنے کی پابندی عائد کر رکھی تھی، مجھے صحن میں پڑے ملبے کے ڈھیر پر چڑھنے سے منع کرتے ہوئے، خود بہ خود جارہانہ انداز اپنا کر، بلند آواز میں نارمن فرانسیسی بولنے لگتے۔ جس سے اُن کی دوسروں پر اچھا تاثر چھوڑنے کی کوشش غارت ہو جاتی تھی۔ مجھے ڈانٹتے ہوئے، وہ ہمیشہ بازاری زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ اور بات کہ اگر وہ شائستہ لہجے میں مجھ سے بات کرتے تو میں بھی اُن  کی تھپڑ کی دھمکی کو سنجیدگی سے نہ لیتی۔

کافی عرصے تک، والدین اور بچوں کے مابین، باہمی ادب پر مبنی تعلقات میرے لیے تعجب کا باعث رہے۔ صرف یہی نہیں، مہذب لوگ، جس شفقت سے مجھے پیش آتے تھے، اُسے سمجھنے میں، مجھے برسوں لگے۔ ابتدا میں مجھے شرمندگی محسوس ہوتی تھی، میں سمجھتی تھی، بہر حال، میں اِس توجہ کی مستحق نہیں ہوں، کبھی مجھے خیال آتا، شاید کسی وجہ سے، وہ مجھے پسند کرنے لگے ہیں۔ بعد میں مجھے ادراک ہوا کہ اُن کے مسکراتے چہرے اور پُر خلوص مشفقانہ گفتگو، منہ بند کر کے کھانا کھانے اور رومال سے ڈھانپ کر احتیاط کے ساتھ ناک صاف کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

اِس وقت ، خاص طور پر اِس وجہ سے، اُن تمام یادوں کو منکشف کرنے کی ضرورت ہے، جنھیں میں نے یہ سمجھ کر بھلایا تھا کہ میرے حال کا اِن یادوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر وہ یادیں باقی بچی ہیں تو اِس کا سبب، صرف اور صرف اُن سے وابستہ احساسِ شرمندگی ہے۔ میں نے اُس دُنیا کی منشا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جِس میں، میں آ گئی تھی، جہاں گھٹیا دور کی یادوں کو یاد کرنا، بد ذوقی کی علامت گردانا جاتا تھا۔

……

شام کے وقت، جب میں باورچی خانے کی میز پر اپنی کتابیں کاپیاں پھیلائے اسکول کا کام کر رہی ہوتی، ابا میری کتابوں، خاص طور پر تاریخ، جغرافیہ اور سائنس کی کتابوں کی، ورق گردانی کرتے۔ اِن مضامین کے بارے میں، وہ اپنا علم پرکھنا چاہتے تھے ۔ ایک دِن اُنھوں نے، یہ ثابت کرنے کے لیے، کہ انھیں ہجے آتے ہیں، اصرار کیا کہ میں اُنھیں اِملا لکھواؤں۔ اُنھیں کبھی معلوم نہ ہوتا تھا کہ میں کِس درجے میں پڑھ رہی ہوں۔ ہمیشہ یہی کہتے تھے، وہ مِس فلاں کی کلاس میں ہے۔ میرے اسکول کا انتخاب، جسے ایک مذہبی تنظیم چلاتی تھی، میری امی نے کیا تھا، میرے  ابا اِس اسکول کو، ایک خوف ناک دنیا سمجھتے تھے، جو میرے رویے کو، گلیورز ٹریولز (Gulivers Travels) کے لیوپوٹا (Laputa) جزیرے کی مانند، بلندی سے اپنے اشاروں پر چلاتی ہے۔ ’’سچ میں، اگراسکول کی استانی، اِس وقت تمھیں دیکھ سکتی۔‘‘ یا ’’تمھاری استانی کو کہوں گا ، وہ تمھیں سیدھا کر دے گی۔‘‘

میرے اسکول کا ذکر کرتے ہوئے، ابا ہمیشہ تمھارا اسکول کے الفاظ استعمال کرتے، ہیڈ مسٹرس کو، بڑی اماں کہتے اور مکمل احتیاط کے ساتھ، درست تلفظ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، احترام سے کونونٹ اسکول کا نام لیا کرتے تھے۔ گویا عمومی تلفظ استعمال کرنےکے نتیجے میں، اُس محدود دنیا کا تاثر اُبھرتا تھا، جس سے اُن کا تعلق تھا، مگر وہ اِس آزادی سے استفاددہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہمیشہ اسکول کی تقریبات میں جانے سے انکار کرتے تھے، بھلے، اُن میں مجھے کوئی کردار ادا کرنا ہوتا۔ اِس پر میری امی جھنجھلا کر کہتیں۔ ’’تمھارے نہ جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘‘ جس کے جواب میں ابا کہتے۔ ’’تم اچھی طرح جانتی ہو، مجھے اِس سب میں کوئی دِل چسپی نہیں۔‘‘

امتحانات میں، خوش قسمتی سے مجھے ملنے والے اچھے نمبروں کے کم ہونے کے اندیشے سے، ابا اکثر سنجیدگی سے، تاثر انگیز لہجہ اپناتے ہوئے، مجھےکہتے تھے۔ ’’اسکول میں جو پڑھایا جاتا ہے اُس پر دھیان دیا کرو۔‘‘ جب بھی میں، اچھا جوابی مضمون لکھتی، بعد ازاں امتحانات میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی، وہ اِسے ایک کامیابی گردانتے اور اِس امید کا اظہار کرتے کہ ایک دِن میں اُن سے آگے بڑھ جاؤں گی۔

……

مجھے تعجب ہے، کَب اِس اُمید نے، اُن کے اُس خواب کی جگہ لی، جس کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے ایک مرتبہ اعتراف کیا تھا کہ وہ  شہر میں ایک شان دار کیفے چلانا چاہتے تھے، جو راہ گیروں کو اپنی جانب کھینچ لے، جس کے سامنے، گاہکوں کے بیٹھنے کے لیے کھلا صحن ہو، بار کے عقب میں، کافی بنانے کی خود کار مشین نصب ہو۔ لیکن اُن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا، جس کا سبب سرمائے کا فقدان، کچھ نیا کرنے سے ہچکچاہٹ اور شکست خوردہ سوچ تھی۔

اِن حالات میں ہم اور کیا توقع کر سکتے تھے؟

اپنی چھوٹی سی دُکان کی دُنیا سے، جو بُری طرح دو حصّوں میں بَٹی ہوئی تھی، ابا کو باہر نہیں نکلنا تھا۔ ایک جانب اچھے گاہک تھے، یہ وہ خریدار تھے، جو سودا لینے اُن کے پاس آتے تھے، دوسری جانب وہ بُرے خریدار تھے، جو خریداری کے لیے کسی دوسری جگہ، جیسے قصبے کے جدید حصّے میں، جاتے تھے، سچ تو یہ ہے، اکثریت اِنھی بُرے خریداروں کی تھی۔ ابا سمجھتے تھے، حکومت یقیناً برے گاہکوں کے ساتھ ہے، کیوں کہ وہ بڑے کاروباریوں کو سہولتیں فراہم کر کے ہمیں تباہ کرنا چاہتی ہے۔ اچھےگاہکوں کی بھی دو قسمیں تھیں۔ واقعی اچھے،جو تمام سودے، ہم سے خریدتے تھے، دوسرے وہ تھے، جو اُسی صورت میں، ہماری دُکان میں قدم رکھتے تھے، جب وہ شہر میں خریداری کرتے ہوئے، خلافِ معمول، دودھ کا ایک پنٹ لینا بھول جاتے۔ اِس سب کے باوجود، اُنھیں ہمیشہ اِس بات کا  دھڑکا لگا رہتا، تھا، کہ واقعی اچھے خریدار بھی قابلِ اعتبار نہیں ہیں اور چھوٹا سا موقع ملنے پر، ہمیں چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ ساری دنیا، اِس سازش میں شریک تھی۔ وہاں نفرت بھی تھی، خدمت گزاری بھی تھی، نفرت، وہ اپنی خدمت گزاری سے کرتے تھے۔ اپنے اندر، کہیں گہرائی میں، اُنھوں نے، ہر دُکان دار والا، خواب پالا ہوا تھا کہ پورے شہر میں صرف اُس کا مال فروخت ہو رہا ہو۔ ابا ڈبل روٹی خریدنے ایک کلومیٹر پیدل چل کر جاتے تھے کیوں کہ ہَم سایہ بیکری والا، ہم سے سودا نہیں خریدتا تھا۔

انتخابات میں اُنھوں نے نظریاتی بنیادوں پر، اُس دور کی پاپولسٹ پارٹی پوجادے (Poujade) کے وعدوں پر اعتبار کیے بغیر، اُسے ووٹ دیا۔ وہ اُن لوگوں میں سے تھے، جو اپنی پسند میں انتہا پسند ہوتے  ہیں۔

……

یہ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ ناخوش ہیں۔ وہاں آرام دہ کیفے تھا، پس منظر میں بجنے والی موسیقی تھی، صبح سات بجے سے شام نو بجے تک، آنے والے گاہکوں کا تسلسل تھا، معمول کے مطابق حال احوال دریافت کیا جاتا تھا۔ ’’ہیلو دوست، کیسا چل رہا ہے؟‘‘، ’’سب ٹھیک ہے۔‘‘ بارش کے بارے میں، صحت کے بارے میں، مرنے والوں کے بارے میں، بیروزگاری کے بارے میں اور اُس سال کی خشک سالی کے بارے میں گفتگو ہوتی تھی۔ خبروں کے بخیے ادھیڑے جاتے تھے، موسیقی کی لہریں ہوتی تھیں۔ پھر آخر میں باہر سڑک پر روانہ ہوتے ہوئے: ’’جناب، خوش رہیں۔‘‘، ’’خوش رہیں، پھر ملیں گے۔‘‘ کیفے کا وقت ختم ہونے پر، راکھ دان خالی کیے جاتے، میزوں کی صفائی کی جاتی، کرسیاں جھاڑی جاتیں۔ 

ابا کو جب بھی فرصت ملتی، وہ  امی کی جگہ دکان سنبھال لیتے۔ تاہم، وہ اِس کام سے لطف اندوز نہیں ہوتے تھے۔ شاید، وہ کیفے میں وقت گزارنا پسند کرتے تھے، یا شاید نہیں کرتے تھے، یا شاید باغیچے کے چھوٹے موٹے کام اور عقبی کوٹھریوں میں ٹھک ٹھک کرنا پسند کرتے تھے۔ بہار کے اواخر میں، سفید رنگ کے تیز خوشبو والے جھاڑی دار پودے پریویٹ (privet) کے پھولوں کی خوشبو، نومبر میں، سردیوں کی آمد کی سناؤنی دینے والی، کتوں کے بھونکنے اور پٹڑی پر چھک چھک کرتی گاڑی کی آوازیں، ابا کے پاس ہر وہ چیز تھی، جو فرد کو طاقت ور اور موثر بناتی ہے، جن کے بارے میں اخباروں کے لکھاری لکھتے ہیں۔ ’’ بہر حال وہ خوش ہیں۔‘‘

اتوار کا مطلب با ضابطہ صاف ستھرا ہو کر چرچ حاضر ہونا اور پچھلے پہر نمبر جوڑنے کی مقبولِ عام بورڈ گیم ڈومینوز (dominoes) کی چند بازیاں کھیلنا یا کار پر مضافات کی لمبی سیر کرنا ہوتا تھا۔ پیر کے دِن کوڑے دان خالی کیا جاتا، منگل کو وائن اور الکحل فراہم کرنے والوں کا حساب چکایا جاتا، بدھ کے دن گروسری کی خریداری کی جاتی، اِسی طرح ہفتے کے ہر دن کی مصروفیات پہلے سے طے تھیں۔ گرمیوں کے دوران، دو مرتبہ دِن بھر کے لیے دَھندہ بند کر کے، ایک ریلوے اہل کار دوست اور اُس کے اہلِ خانہ سے ملنے اور لیزیکس (Lisieux) کی خانقاہ کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے۔ صبح کارملائٹس (Carmelite) چیپل  کے ایوان اور مصوری کے شاہ کار دیکھتے، جس کے بعد، ہمیشہ ایک مخصوص رستوران میں کھانا کھاتے تھے۔ پچھلے پہر وہ لوئی مارٹن کی چھوٹی جھاڑیوں (Les Buissonnets) کے علاوہ  ٹروویلی (Trouville) اور ڈیوویلی (Deauville) کے ریزورٹ دیکھنے جاتے۔ ابا کشتی رانی کی خاطر اپنے ٹراؤزر کے پائنچے موڑ لیتے، جب کہ امی اپنی سکرٹ سمیٹ لیتی تھیں۔ بعد میں جب اِس کا چلن ختم ہو گیا، اُنھوں نے بھی جانا چھوڑ دیا۔ 

اتوار کا مطلب، گھر پر، نفیس کھانے کا اہتمام کرنا بھی تھا۔

اِس کے بعد، ابا کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تاہم، وہ یہی سمجھتے تھے، آپ جتنے خوش ہیں، آپ کو اِس سے بڑھ کر خوشی نہیں مل سکتی۔ 

ایک مرتبہ اتوار کے دِن، دوپہر کے وقت، ابا قیلولہ کر رہے تھے۔ جس وقت وہ بالائی کوٹھڑی کی کھڑکی کے پاس سے گزرے، مجھے صحن سے، اُن کی جھلک نظر آئی۔ وہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی، اُس کتاب کو، واپس اُس کریٹ میں، رکھ رہے تھے، جو نیوی کا ایک آفیسر کوٹھڑی میں چھوڑ گیا تھا۔  جِس وقت اُن کی نظریں، میری نظروں سے چار ہوئیں، اُنھوں نے ہنستے ہوئے قہقہہ لگایا۔ وہ ایک بے ہودہ کتاب تھی۔

……

مجھ اکیلی کی ایک تصویر ہے، جِس میں، میں صحن میں کھڑی ہوں، میری دائیں جانب، بھنڈار کی پرانی کوٹھڑیوں کے ساتھ نئی تعمیر کی گئی کوٹھڑیوں کی قطار نظر آ رہی ہے۔ شاید،اُس وقت مجھے جمالیات کا ادراک نہیں تھا، تاہم یقینی طور پر، مجھے خود کو بہترین انداز میں پیش کرنا آتا تھا۔ چُست سکرٹ میں، بھاری کولہے نمایاں دِکھتے ہیں، پیچھے کی جانب تنے ہوئے کندھے، چھاتی کو اُبھار رہے ہیں، پیشانی پر بالوں کی ایک لَٹ نظر آ رہی ہے۔ میں مسکرا رہی ہوں، تاکہ میرے نقوش دِل آویز نظر آئیں۔ میری عمر سولہ سال ہے۔ میرے سامنے، زمین پر میرے ابا کا سایہ دیکھا جا سکتا ہے، جنھوں نے یہ تصویر کھینچی تھی۔

میرا دِن، اپنے کمرے میں، اپنا نصاب سمجھتے، موسیقی سنتے اور پڑھتے ہوئے گزرتا تھا۔ صرف کھانا کھانے کے لیے سیڑھیاں اُترتی تھی۔ ہم خاموشی سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ میں اپنے گھر میں کھل کر نہیں ہنستی تھی۔ اُسی زمانے میں، میرا رویہ طنزیہ ہو گیا اور میں نے اُن تمام چیزوں سے ناطہ توڑ لیا، جو میرے قریب ترین تھیں۔ آہستہ آہستہ میں سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے اُن حلقوں میں شریک ہونے لگی، جن تک میری رسائی  نوجوانوں کی منڈلیوں کی معرفت ہوئی۔ اِن میں شامل ہونے کے لیے، آپ کا خود پر اعتماد ضروری تھا، جو کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اب مجھے اپنی ہر پسند پینڈو یا دیہاتی لگتی تھی، جس میں مابعد جنگ فرانس میں مقبول سپینش نژاد گلوکار لائی مارینو (Luis Mariano)  اور میری این ڈسمارک (Marie-Anne Desmarets) کے عشقیہ ناول، لپ اسٹک اور گوٹے کناری والے کپڑوں میں ملبوس، میرے تکیے پر رکھی وہ گڑیا، جسے میں نے میلے میں  انعام جیتا تھا، سَب شامل تھے، یہاں تک کہ وہ سوچیں بھی خیالات بھی، جِن کا تعلق میرے پس منظر سے تھا، مضحکہ خیز لگتے تھے، مثال کے طور پر،اُن لوگوں کا یہ ماننا کہ، ’’ہمیں ہمیشہ پولیس کی مدد درکار ہوتی ہے۔‘‘ یا ’’جب تک تم لازمی قومی خدمت سرانجام نہیں دیتے، تم مرد کہلانے کے مستحق نہیں۔‘‘ سب کچھ اُلٹ پُلٹ گیا تھا۔

اَب میں  نے باضابطہ ادب پڑھنا شروع کیا۔ میں اُن اشعار اور اقوال کو اپنی کاپی میں نقل کرتی جو میری دانست میں میری ذہنی کیفیت اور میری ابہام بھری زندگی کا احوال بیان کرتے تھے۔ جیسے ’’مسرت ایک ایسی دیوی ہے، جس کے ہاتھ خالی رہتے ہیں۔‘‘ (فرانسیسی شاعر،  ہنری دی ریگنیئر Henri de Régnier

میرے ابا، اب ایک عاجز، سیدھے سادے اور بھلے انسان بن گئے تھے۔ اَب اُن میں، مجھے اپنے بچپن کی کہانیاں سنانے کی ہمت نہیں تھی، دوسری جانب اب میں بھی اُنھیں اپنے اسکول کی باتیں نہیں بتاتی تھی۔ لاطینی کے علاوہ، جسے بچپن میں اجتماعی دعا کے موقع پر پڑھنے کاموقع ملتا تھا، میرے تمام مضامین اُن کی سمجھ سے باہر تھے، امی کے برعکس، وہ اِن مضامین میں دِل چسپی بھی نہیں لیتے تھے۔ جب بھی میں نصاب پر تنقید کرتی یا کام کی زیادتی کا شکوہ کرتی، وہ جھنجھلا جاتے تھے۔ وہ اسکول میں مروج الفاظ، جیسے بریک (break)، لائنز (lines) یہاں تک کہ پریپ (preap) کا استعمال پسند نہیں کرتے تھے۔ اُنھیں یہی خوف رہتا تھا یا شاید وہ گمان کرتے تھے کہ یہ سب میں کبھی نہ کر پاؤں گی۔

مجھے سارا دِن کتابوں میں غرق دیکھ کر ابا کا پارا چڑھ جاتا، وہ کتابوں کو میری بد مزاجی اوراُترے ہوئے چہرے کا ذمہ دار قرار دیتے تھے۔ رات کے وقت، میرے دروازے کے قدمچوں سے چھن کر آنے والی روشنی، اُنھیں یہ کہنے کا موقع فراہم کرتی کہ میں اپنی صحت کا بیڑا غرق کر رہی ہوں۔ کسی مزدور کے ساتھ زندگی گزارنے سے بچنے اور اچھی ملازمت کے حصول کی قیمت تعلیم تھی۔ ابا کو یقین نہیں تھا کہ بھری جوانی میں، زندگی کے مزے تیاگ کر، میں سَچ مُچ پڑھنے سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔ بسا اوقات ایسا لگتا کہ وہ سمجھتے ہیں میں خوش نہیں ہوں۔

سترہ سال کا ہونے کے باوجود، میرے روزی روٹی کے لیے کام نہ کرنے پر، ابا رشتے داروں اور گاہکوں کے رُوبرو شرمندگی محسوس کرتے اور اِس کا ذمہ دار خود کو سمجھتے تھے۔ میری عمر کی تمام لڑکیاں، دفتروں اور فیکٹریوں میں ملازمت کرتی تھیں یا اپنے والدین کے کاروبار میں اُن کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ اُنھیں خوف تھا کہ لوگ مجھے کام چور سمجھنے لگیں گے، وہ اِس سے بھی ڈرتے تھے کہ اُنھیں شیخی خورا سمجھا جائے گا۔ اکثر معذرت خواہانہ انداز میں کہا کرتے تھے، ’’تم جانتے ہو، ہم نے کبھی اُس پر، اپنی مرضی نہیں تھوپی، وہ ہمیشہ سے یہی چاہتی تھی۔‘‘ اُن کا کہنا تھا کہ میں پڑھائی میں ہمیشہ اچھی رہی ہوں، کام میں ازل سے کم زور ہوں۔ کام تو صرف ہاتھوں سے ہوتا تھا۔

ابا سمجھتے تھے، اسکول میں پڑھائی جانے والی کتابوں کا، عملی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ وہ سلاد کے پتے، ایک مرتبہ سے زیادہ نہیں دھوتے تھے، اِس لیے سلاد میں، اکثر سنڈیاں نظر آتی تھیں۔ چوتھی جماعت میں، حفظانِ صحت پڑھ کر، جب میں نے اُنھیں مشورہ دیا کہ ہمیں سلاد پانی سے بار بار دھونا چاہیے، تو وہ سٹپٹا گئے۔ ایک مرتبہ مجھے، ایک سیاح کے ساتھ، جسے ہماری دُکان کے ایک گاہک نے لفٹ دِی تھی، انگریزی میں باتیں کرتا دیکھ کر ہکا بکا رَہ گئے کہ ایک دوسرے ملک میں جائے بغیر، میں نے اسکول میں اُس ملک کی زبان سیکھ لی ہے۔ یہ حقیقت، اُن کی سمجھ سے باہر تھی۔

……

اُس زمانے میں، ابا کو گاہے گاہے شدید غصّے کے دورے پڑتے،جن کے دوران، وہ  نفرت کا اظہار کرتے ہوئے، غصّے سے دانت پیسنے لگتے۔ اُن دنوں، میرے اور امی کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی۔ ہماری گفتگو، ماہواری کے مسائل، خوب صورتی کے ٹوٹکوں اور انگیا کے انتخاب سے متعلق ہوتی تھی۔ امی، مجھے خریداری کے لیے روئن کے عظیم گھنٹہ گھر گرو ہورلوج  (Gros-Horloge) لے جاتیں، پھر ہم پرئیر ٹی ہاؤس (Perrier Teahouse) جاتے، جہاں اشرافیہ کی مانند، چاندی کے چھری کانٹے سے پیسٹریاں کھاتے۔ میری امی، اپنے تاثرات کے اظہار میں،  میرے الفاظ، جیسے، ’’ملائمت‘‘، ’’فوقیت‘‘ وغیرہ وغیرہ، اپنانے کی کوشش کرتی تھیں۔ ہمیں ابا کی کمی محسوس نہ ہوتی تھی۔

کھانے کے دوران، کسی معمولی بات پر، تکرار شروع ہو جاتی تھی۔ میں ہمیشہ خود کو درست سمجھتی، کیوں کہ ابا منطقی گفتگو نہیں کر سکتے تھے، اُن کی باتوں کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا تھا۔ کھانے کی میز پر، میں اُن کی حرکتوں اور اندازِ گفتگو کو تنقید کا نشانہ بناتی۔ ظاہر ہے، تعطیلات کے دوران، مجھے باہر نہ بھیج سکنے پر، میں اُنھیں قصور وار نہیں کہہ سکتی تھی۔ تاہم، میں سمجھتی تھی، اُنھیں اپنے اطوار کو بہتر بنانے کا کہنا، میرا حق ہے۔ شاید، وہ بھی یہی چاہتے ہوں گے، کہ اُن کی بیٹی اُن سے کچھ مختلف ہو۔

ایک دِن اُنھوں نے کہا۔ ’’کتابیں اور موسیقی تمھارے لیے ٹھیک ہیں۔ مجھے زندہ رہنے کے لیے، اِن کی ضرورت نہیں۔‘‘

اپنا باقی وقت، اُنھوں نے خاموشی سے گزارا۔ جس وقت میں اسکول سے لوٹتی، وہ باورچی خانے کے کیفے میں کھلنے والے دروازے کے پہلو میں بیٹھے اخبار پیرس نارمنڈی پڑھ رہے ہوتے، اُن کے کندھے جھکے ہوتے تھے، ہاتھوں نے، میز پر پھیلے ہوئے اخبار کو تھاما ہوتا تھا۔ وہ نظریں اُٹھا کر مجھے دیکھ کر کہتے۔ ’’ہوں، لڑکی آ گئی۔‘‘

’’ مجھے بھوک لگی ہے۔‘‘

’’کون سی انوکھی بات ہے۔ جو چاہے، کھا لو۔‘‘

کم از کم، میری ضروریات پوری کرنے پر، وہ خوشی محسوس کرتے تھے۔ اب ہمارے درمیان، اُن باتوں کے علاوہ، کوئی بات نہیں ہوتی تھی، جو ہم اُس وقت کیا کرتے تھے، جب میں چھوٹی بچی تھی۔

میرا خیال ہے، میں سمجھتی تھی، مجھے ابا سے مزید کچھ نہیں سیکھنا۔ اُن کے اقوال اور خیالات، فرانسیسی اور فلسفے کے لیکچر ہالزمیں یا دوسری لڑکیوں کی نشست گاہوں کے عالی شان ارغوانی صوفوں پر بیٹھ کر نہیں سنائی دیں گے۔ گرمیوں میں مجھے اپنے کمرے کی کھلی ہوئی کھڑکی سے، تازہ کھدی ہوئی زمین پر، اُن کے بیلچے کی مسلسل ضربوں کی آواز سنائی دیا کرتی تھی۔ 

شاید میں یہ سب اِس لیے لکھ رہی ہوں،  کہ اَب ہمارے پاس ایک دوسرے کو کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

……

جس زمانے میں ہم ای ویتوت لوٹے شہر کا مرکزی علاقہ کھنڈر بن چکا تھا۔ اَب اِس میں ہلکے پیلے رنگ کے بلاکوں کی  چھوٹی چھوٹی دُکانیں نظر آتی تھیں، جو رات بھر روشن رہتی تھیں۔ ہفتے کے اختتام پر، مقامی نوجوان سڑکوں پر گھومتے یا کافی ہاؤسز میں، ٹیلی وژن دیکھتے نظر آتے۔ ہماری ہم سائیگی میں رہنے والی عورتیں، اپنی اتوار کی خریداری شہر کی خورد و نوش کی بڑی دُکانوں سے کرتی تھیں۔ بالآخر میرے ابا، روغنی بیرونی دیوار اور نیون سائن والی، اپنی دکان کی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو، دِل جمعی سے کیفے چلانے والے، مدتوں سے لکڑی کے ڈھانچے اور دو نمبر شہتیروں والی عمارت میں، پرانے زمانے سے تعلق رکھنے والے، تیل کے متروک لیمپوں کی روشنی میں کام کرتے تھے۔ اُن کی شام بہی کھاتوں میں جمع تفریق کرتے ہوئے، یہ سوچتے گزرتی تھی، ’’سودا مفت دیں، تو بھی وہ نہیں آئیں گے۔‘‘ ای ویتوت میں، جب بھی کوئی نئی دُکان کھلتی، ابا اپنی سائیکل پر اُسے دیکھنے جاتے تھے۔

رہن سہن کے معقول معیار تک پہنچنے کے لیے میرے والدین نے برسوں محنت کی۔ ہماری ہم سائیگی میں، با اختیار طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بجائے، جو ملحقہ غسل خانوں والے، جدید فلیٹوں میں منتقل ہو گئے، مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہوتے گئے، جس کے نتیجے میں، نظر آنے والے لوگوں کا تعلق، کم آمدنی والے طبقے سے تھا، کثیر العیال گھرانوں اور ایسے نوجوان جوڑوں  کی تعداد بڑھتی چلی گئی، جِنھوں نے سرکاری فلیٹ کے لیے درخواست دی ہوتی تھی۔ ’’آپ کل ادائیگی کر سکتے ہیں۔ میں آپ کا انتظار کروں گا۔‘‘ عمر رسیدہ افراد کی رہائش گاہ کے مقیم، بڑے بوڑھے گزر گئے تھے، اُن کی جگہ پُر کرنے والوں کو نشے کی حالت میں واپس آنے کی اجازت نہیں تھی۔ کیفے میں باقاعدگی سے آنے والا اب کوئی نہیں تھا، صرف ایسے آتے تھے، جو آتے، آرڈر دیتے اور ادائیگی کرتے ہوئے، اپنے آپ میں گم ہوتے تھے۔  ابا سمجھتے تھے، اب وہ ایک باوقار کاروبار چلا رہے ہیں۔

……

وہ مجھے تعطیلات میں لگنے والے، مطالعاتی کیمپ  سے لینے آئے تھے، جہاں میں بَطور سپروائزر کام کر رہی تھی۔ مجھے دور سے،  امی کے، شور مچانے کی، آوازیں آ رہی تھیں، پھر ابا نظر آئے۔ اُنھوں نے، سورج کی شعاؤں سے بچنے کے لیے، اپنا سر نیچے کیا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں، چلتے ہوئے اُن کے کندھے آگے کو جھکے ہوئے تھے۔ اُن کے کان گلابی ہو رہے تھے، شاید اِس کا سبب، اُن کا حال ہی میں بال کٹوانا تھا۔ کیتھڈرل کے سامنے، پختہ فرش پر کھڑے، وہ گھر واپسی کے بہترین ذریعے پر بحث کر رہے تھے۔ وہ اُن لوگوں جیسے دکھائی دیتے تھے، جنھیں گھر سے باہر جانے کا تجربہ نہیں ہوتا۔ کار میں، مجھے اُن کی آنکھوں کے پاس، کنپٹی پر،پیلے دھبے نظر آئے۔ زندگی میں، پہلی مرتبہ، میں گھر سے باہر، دو مہینے، آزادانہ ماحول میں، نوجوانوں کے درمیان رہی تھی۔ ابا، اندیشوں میں گھرے ہوئے اور بوڑھے لگ رہے تھے۔ مجھے ایسے لگا، جیسے، مجھے مزید تعلیم حاصل کرنے کی خاطر، یونی ورسٹی جانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

……

ابا کھانا کھانے کے بعدکچھ عجیب سی تکلیف محسوس کرنے لگے تھے، جِس کی وضاحت نہیں کر پاتے تھے۔ چوں کہ ڈاکٹر کو بلانے سے گھبراتے تھے، اِس لیے خود ہی تیزابیت دور کرنے والا مسہل، ملک آف مگنیشیا لے لیتے۔ تاہم، اُنھیں مسلسل تکلیف سے تنگ آ کر ایکس رے کروانا پڑا، روئن کے ایک سپیشیلسٹ نے پیٹ میں بڑھی ہوئی غدود کی نشان دہی کی، جسے فوری طور پر نکالنا ضروری تھا۔ میری امی نے شکوہ کیا کہ ابا  اپنی صحت کی جانب بالکل توجہ نہیں دیتے۔ اِس پر بھی ابا خود کو قصور وار سمجھتے تھے، اُن کے نزدیک اُن کی وجہ سے، گھر کی پونچی خرچ ہو رہی ہے۔ (اُس زمانے میں دُکان دار، ہیلتھ سروس سے فیض یاب نہیں ہو سکتے تھے۔) وہ کہتے تھے۔ ’’میری قسمت میں یہی لکھا ہے۔‘‘

آپریشن کے بعد، قواعد کم سے کم جتنا وقت رہنے کا پابند کرتے تھے، وہ ہسپتال میں رہے، پھر گھر چلے آئے، جہاں اُن کی صحت آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگی۔ تاہم، توانائی اُن کا ساتھ چھوڑ چکی تھی، اب وہ وزنی کریٹ نہیں اُٹھا سکتے تھے، نہ ہی کیاریوں میں گھنٹوں کھدائی کر سکتے تھے، کیوں کہ اِس سے، اُن کے پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ مجھے اپنی امی کو تیز تیز قدم اُٹھاتے، کوٹھڑی سے دُکان کی جانب جانے کے ساتھ ہی سامان کے کریٹ اور آلو کے بورے دُکان کے اندر پہنچا کر، دونوں کا کام سرانجام دینے کے جانے پہچانے مناظر اچھی طرح یاد ہیں۔ باون سال کی عمر میں، ابا احساسِ تفاخر محروم ہو چکے تھے۔ ایک مرتبہ، وہ امی کو کہہ رہے تھے۔ ’’اَب میں کسی کام کا نہیں رہا۔‘‘ اِس کے بہت سے مطلب ہو سکتے تھے۔

اِس سب کے باوجود، ابا اِسے بہتر سے بہتر بنانا اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتے تھے۔  وہ خود کو میسر آنے والی چھوٹی چھوٹی آسائشوں پر خوشی کا اظہار کرنے لگے، اُنھوں نے اپنی صحت کا خیال رکھنا شروع کر دیا۔ خوراک ایک ایسی اہم چیز تھی، جو موافق ہونے کی بنا پر اچھی تھی، جب کہ ناموافق ہونے کی وجہ سے بُری اور مسترد کیے جانے کے قابل تھی۔ کھانا پکانے کے برتن میں، گائے کے گوشت کے پارچے یا مچھلی کے قتلے ڈالنے سے پہلے، ابا اُنھیں سونگھ کر دیکھتے۔ میرے کھانے میں دہی دیکھ کر اُنھیں متلی ہونے لگتی۔ کیفے میں اور خاندان کے اکٹھ پر، اپنی خوراک کے بارے میں، گفتگو کرتے ہوئے، گھر کے بنے شوربے اور سوپ کے پاؤڈر وغیرہ پر تبصروں کا تبادلہ بھی کرتے۔ اُس ماحول میں رہنے والے، ایسے تمام افراد، جو اپنی زندگی کی چھ دہائیاں مکمل کرنے والے تھے، یہی باتیں کرتے تھے۔

ابا اپنی بھوک کی تسکین کے لیے  ایک پورک ساسیج یا  مٹھی بھر کیکڑوں کاپیکٹ  کھا لیا کرتے تھے۔ اِس کھانے سے ملنے والی لذت چند لقموں کے بعد غائب ہو جاتی۔ اِس کے ساتھ ہی، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اُنھیں کچھ نہیں چاہیے، وہ کہتے۔ ’’ہیم کا نصف سلائس دینا۔‘‘ یا ’’صرف آدھا گلاس پیوں گا۔‘‘ اُن دنوں ابا کا رویہ کچھ عجیب ہو گیا تھا، اپنے سیاہ تمباکو والے سگریٹ کھولتے ہوئے، اُس کے کاغذ کو بدمزہ قرار دے کر پھینک دیتے، پھر زگ زیگ برانڈ کے سگریٹ والے کاغذ کو، احتیاط سے لپٹتے ہوئے، نیا سگریٹ بنانے لگتے۔

اپنے معمولات سے چمٹے رہنے سے بچنے کی خاطر، اتوار کے دِن، میرے ابا اور امی دونوں کار پر، سین (Seine) کے کنارے سیر کرتے ہوئے، ساحلی شہروں ڈیپی (Dieppe) اور فی کیمپ (Fecamp) میں اُن گھاٹوں کو پھر سے دیکھنے  جاتے، جہاں کسی زمانے میں ابا کام کیا کرتے تھے۔ اِن مواقع پر اُن کے ہاتھ اِس طرح اُن کے پہلوؤں میں جھول رہے ہوتے کہ ہتھیلیاں  باہر کی جانب ہوتیں، یا اُن کی پشت پر ایک دوسرے کو جکڑے ہوئے ہوتے تھے۔ ابا کو پیدل چلتے ہوئے سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنے ہاتھوں کا کیا کریں۔ شام کے وقت گھر پہنچنے تک، ابا تھک کر چُور ہو چکے ہوتے تھے۔ ’’اتوار کا دِن،  ہفتے کے تمام دِنوں سے، بڑھ کر تھکا دیتا ہے۔‘‘

سیاست پر بھی گفتگو بھی ہوتی، جِس کا محور، ابا کی چارلس ڈیگال سے بے لوث محبت کے علاوہ، یہ اہم سوال ہوتا تھا، کہ اِس (الجزائر کی جنگ، جنرلوں کی بغاوت، امریکہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں) کا انجام کیا ہو گا؟

……

ابتدائی جماعتوں کی معلمہ بننے کے لیے، میں روئن ٹیچرز ٹریننگ کالج میں داخل ہوئی۔ مجھے کھانا ملتا تھا، یہ بھی کہہ سکتے ہیں، ڈٹ کر کھانے کو ملتا تھا، میرے میلے کپڑوں دھوئے جاتے تھے، جوتوں کی مرمت، جیسے معمولی کاموں کے لیے بھی ایک خدمت گار تھا۔ یہ سب سہولتیں بلا معاوضہ تھیں۔ میرا خیال ہے، ابا اِس نظام کو، جس میں ہر سہولت بطور اعانت ملتی تھی، پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عملی زندگی کی تربیت دوران ہی ریاست مجھے ایک وقار عطا کر رہی تھی۔ ابا کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سال مکمل ہونے سے پہلے میں نے کالج کیوں چھوڑ دیا۔ اُنھیں حیرت تھی کہ میں نے تحفظ کی اُس جنت کو، جہاں کھا کھا کر میں موٹی بطخ بن گئی تھی، کیوں خیرباد کہا؟ اِس کا سیدھا سادہ سبب تھا، مجھے آزادی چاہیے تھی۔

میں ایک لمبا عرصہ لندن میں رہی۔ جن دنوں میں گھر سے دور تھی، مجھے یقین تھا، کہ ابا مجھ سے محبت کرتے ہیں، تاہم، میں اِس محبت کو مضحکہ خیز سمجھتی تھی۔ میرے وہ ایام، اپنی مرضی کی زندگی کی شروعات کے دِن تھے۔ امی، مجھے اپنے گرد و نواح کی خبروں سے آگاہ رکھتی تھی۔ یہاں، سردی کچھ بڑھ گئی ہے، مگر میں نہیں سمجھتی، یہ زیادہ دِن رہے گی۔ اتوار کے دِن ہم اپنے دوستوں سے ملنے گرینویل (Granville) گئے تھے۔ مسز فلاں فلاں مر گئی، اتنی بوڑھی بھی نہیں تھی، ابھی صرف ساٹھ سال کی تھی۔ امی نے اپنے خطوط میں کبھی کوئی مزاحیہ بات نہیں لکھی، اُن کے لیے مناسب الفاظ کا انتخاب اور احساسات کو بیان کرنا کافی مشکل تھا۔ امی نے، جس طرح بولنا سیکھا تھا اُس طرح لکھنا نہیں سیکھا تھا، کیوں کہ لکھنا اُس سے کہیں مشکل ثابت ہوتا۔ ابا خط پر دست خط کر دیتے تھے۔ میں بھی اُن کی مانند، غیر جذباتی انداز میں، جواب لکھتی تھی۔ دِل آویز اُسلوب میں لکھنے کی کوشش رُعب ڈالنے کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔

میں گھر لوٹی، دوبارہ باہر گئی۔ میں روئن یونی ورسٹی میں لٹریچر پڑھ رہی تھی۔ اَب وہ دونوں بہت کم جھگڑتے تھے، صرف معمول کی، ہلکی پھلکی تکرار ہوتی تھی۔ ’’سمجھ نہیں آتی، سارا دِن چرچ کے گرد منڈلانے سے، تمھیں کیا ملتا ہے۔‘‘ یا ’’سنگترے کا مشروب، پھر ختم ہو گیا، سب جانتے ہیں، اُس کا کون ذمہ دار ہے۔‘‘ اگرچہ اَب بھی ابا کے ذہن میں، اُس جگہ کے بہتر بنانے کے منصوبے تھے، مگر اُنھیں اُن اہم تبدیلیوں کا ادراک نہیں تھا، جو گاہکوں کو کھینچنے کے لیے ضروری تھیں۔ وہ اپنے اُن گاہکوں کے ساتھ گزارہ کر رہے تھے، جن کی شہر کی نئی آبادی کے سجے ہوئے صاف ستھرے سٹوروں میں کوئی وقعت نہیں تھی، جنھیں نک چڑھی سیلز گرلز، اوپر سے نیچے تک، حقارت آمیز نظروں سے دیکھتی تھیں۔ ابا کچھ کرنے کی اُمنگ سے، محروم ہو چکے تھے۔ وہ یہ حقیقت تسلیم کر چکے تھے کہ اُن کا کاروبار محض اُن کی بقا کا ذریعہ ہے، جو اُن کے مرتے ہی ختم ہو جائے گا۔ 

ابا نے زندگی سے لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا۔ اَب وہ، امی کے بعد، دیر سے اُٹھتے، کیفے اور  کیاریوں میں ہلکا پھلکا کام کرتے، اخبار کی پہلی خبر سے آخری سطر تک پڑھتے اور ہر شخص سے لمبی گفتگو کرتے تھے۔ کہاوتوں کے ذریعے، اشاروں کنایوں میں وہ، موت کا ذکر کرنے لگے۔ ’’ہم سب جانتے ہیں، کون ہمارا منتظر ہے؟‘‘ جب بھی میں گھر آتی، امی یہی کہتی۔ ’’دیکھو، تمھارے ابا مزے میں ہیں۔‘‘

گرمیوں کے اختتام پر، ستمبر میں، وہ کھڑکیوں کے شیشوں پر منڈلاتی بِھڑوں کو، رومال کی مدد سے پکڑ کر، دہکتے ہوئے کوئلوں کی انگیٹھی میں پھینک دیتے، جسے سردیاں شروع ہونے سے پہلے ہی، جلانا شروع کر دیا جاتا تھا۔ بِھڑیں چُر مُر ہو کر مر جاتیں، جب کہ اُن کا وجود آہستہ آہستہ راکھ میں ڈھل جاتا۔

مجھے ایک اجنبی رنگ میں رنگا دیکھ کر ابا کو کبھی پریشانی یا بے چینی نہیں ہوئی۔ اُنھوں نے یہ حقیقت تسلیم کر لی تھی کہ میں بیس سال بَل کہ اِس سے بھی بڑی ہونے کے باوجود تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔ وہ اپنے گاہکوں کو بتاتے تھے۔ ’’وہ استانی بننے کی خاطر پڑھ رہی ہے۔‘‘جنھوں نے کبھی یہ سوال نہیں کیا۔ ’’کون سا مضمون؟‘‘ مسئلہ تو مضمون کے نام ’’ماڈرن لینگویجز‘‘ کا تھا، جِسے وہ کبھی یاد نہیں کر سکے، جو  اُن کے کانوں کے لیے ریاضی اور ہسپانوی کے جانے پہچانے الفاظ کی طرح جانا پہچانا نہیں تھا۔ وہ ڈرتے تھے کہ لوگ اُنھیں دولت مند سمجھیں گے، جنھوں نے مجھے خصوصی سہولتیں فراہم کی ہیں اور مجھے یونی ورسٹی میں داخلہ دلوایا۔ دوسری جانب، اُنھوں نے یہ اعتراف بھی نہیں کیا کہ مجھےوظیفہ ملتا ہے۔ لوگ کہیں گے، وہ کتنے خوش قسمت ہیں، جن کی بیٹی کو کچھ نہ کرنے کے باوجود ریاست ادائیگی کرتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے،  وہ دوسروں کے، مسلسل تجسس اور حسد کا ہدف ہیں۔ شاید یہ اُن کی معاشرتی حیثیت کی سب سے اہم علامت تھی۔ کئی مرتبہ، میں تمام رات، باہر گزارنے کے بعد، اتوار کی صبح گھر آتی اور شام تک سوئی رہتی۔ اُنھوں نے کبھی ایک لفظ نہیں کہا۔ لگتا تھا، جیسے وہ میرے رویے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں، جس کا مطلب تھا، میں عام لڑکیوں جیسی ہوں، ہر لڑکی کو مثبت تفریحی سرگرمیوں میں حصّہ لینے کا حق حاصل ہے۔یہ بھی ممکن ہے، وہ خوش حال طبقے کی فراست کے اُن مظاہر سے مرعوب تھے، جو اُن کے لیے اجنبی تھے اور جن کا، میں اکثر اظہار کیا کرتی تھی۔ فیکٹری کی کارکن کسی لڑکی کے، شادی کے بعد حاملہ ہوتے ہی، پورے محلے کو خبر ہو جاتی تھی۔

……

گرمیوں کی چھٹیوں میں، میں نے کالج کی چند دوستوں کو اپنے ہاں، ای ویتوت، آ کر رہنے کی دعوت دی، یہ کھلے ذہن کی مالک لڑکیاں تھیں، جو اختلاف کو احترام پر حاوی نہ کرنے کی قائل تھیں۔ اپنے خاندان کے بارے میں، کسی حقارت آمیز تبصرے سے بچنے کے لیے، میں نے اُنھیں متنبہ کر دیا تھا۔ ’’مجھے تمھیں بتانا ہے کہ ہمارے ہاں زندگی کی صرف انتہائی بنیادی ضروریات دست یاب ہیں۔‘‘ میرے ابا اِن پڑھی لکھی نوجوان خواتین کو جی آیاں نوں کہتے ہوئے بہت خوش تھے۔ اُنھوں نے اُن لڑکیوں کے ہر فعل کا گہری دِل چسپی سے مشاہدہ کیا، کافی دیر تک، رکھ رکھاؤ کے ساتھ، اُن سے تفصیلی گفتگو کرتے رہے۔ ابا نے اپنے مزاج سےہٹ کر، ان مہمانوں کو خوش رکھنے کی کوشش کی، مہمانوں کے کھانےمیں کیا ہو، پریشان کُن مسئلہ تھا۔ ’’کیا مادام جنیویو (Geneviève) آلو کھاتی ہیں؟‘‘ دوسری جانب، جب میں اُن دوستوں کے گھر میں مہمان تھی، اُنھوں نے میری موجودگی کو اپنے معمولات میں مخل نہیں ہونے دیا۔ اُنھوں نے مجھے اپنے طرزِ حیات میں شریک ہونے اور اپنی اُس دنیا سے آشنا ہونے دیا، جس دنیا میں میری دنیا کی مانند، چھپانے کو کچھ نہیں تھا، یہ وہ دنیا تھی جو میرے لیے باہیں پھیلائے کھڑی تھی، کیوں کہ میں پہلے ہی، اپنے پس منظر سے تعلق رکھنے والی دنیا کے اطوار، خیالات اور پسند و ناپسند سے ناطہ توڑ چکی تھی۔ کھاتے پیتے طبقے میں، کسی کی بیٹی کے دوستوں کا مہمان کی حیثیت سے ٹھہرنا معمول ہے۔ میرے ابا، اِن مہمانوں کی آمد پر، خصوصی اہتمام کرتے تھے، کیوں کہ وہ میرے دوستوں کو تکریم دینا اور اُنھیں جتلانا چاہتے تھے کہ وہ آداب سے آگاہ ہیں، جب کہ اِس کے برعکس، وہ یہی ظاہر کر پاتے کہ وہ کم تر ہیں، یہ ایک ایسی حقیقت تھی، جس کا لاشعوری طور پر، اظہار کرتے ہوئے، مثال کے طور پر یہ کہتے۔ ’’سر، کیسی گزر رہی ہے؟‘‘

ابا نے ایک دِن مجھے فخریہ انداز میں کہا۔ ’’میں نے کبھی تمھیں شرمندہ نہیں ہونے دیا۔‘‘

ایک سال گرمیوں کے اختتام پر، میں سیاسیات کے ایک طالب علم کو، جس سے میں نے عہد و پیمان کیے تھے، اپنے گھر لے آئی۔ وہ پختہ روایت، جو کسی غیر خاندان میں داخل ہونے کا حق نہیں دیتی، جدید خیالات کے حامل، درمیانے طبقے کے کھاتے پیتے گھرانوں میں، اب دکھائی نہیں دیتی تھی، لڑکیوں کے جنسِ مخالف سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا بلا جھجھک آنا جانا ہوتا تھا۔ ابا نے، اُس نوجوان کا استقبال کرنے کے لیے، بالا پوش پہننے کے بجائے اتوار والے فلالین کے سوٹ پر ٹائی باندھی۔ وہ خوشی سے نہال تھے، کیوں کہ اُنھیں یقین تھا کہ وہ مستقبل میں میرے ہونے والے شوہر سے اپنے بیٹے جیسا خصوصی سلوک کریں گے اور ہم جنس ہونے کے ناطے اُس سے گھلنے مِلنے میں کامیاب ہو کر دونوں کے درمیان پائے جانے والی معاشرتی تفریق پر غالب آ جائیں گے۔ اُنھوں نے اُسے اپنی سبزی کی کیاریاں اور گیراج دکھایا، جِسے اُنھوں نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا۔ یہ سب اُنھوں نے اِس امید میں کیا کہ اُن کی اِس مساعی کو وہ نوجوان سراہے گا، جو اُن کی بیٹی سے محبت کرتا ہے۔ لڑکے میں اُنھوں نے صرف یہ دیکھا کہ وہ اچھے طور طریقوں کا مالک ہے۔ یہ ایسی خوبی تھی، جِسے وہ بہت سراہتے تھے، کیوں کہ اِسے وہ بہت بڑی کامیابی سمجھتے تھے۔ اُنھوں نے یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ وہ محنتی ہے یا شرابی، جو وہ کسی فیکٹری مزدور ہونے کی صورت میں کرتے۔ اُن کا ماننا تھا پڑھا لکھا اور شائستہ ہونا اندر سے اچھا ہونے کی علامت ہے، جو اِن لوگوں میں فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔

یہ ایک ایسی صورتِ حال تھی، شاید جِس کا وہ مدت سے انتظار کر رہے تھے، جو اُن کے ذہن پر سوار تھی۔ اَب اُنھیں تسلی تھی کہ میرا بندھن کسی ایرے غیرے ٹام، ڈک یا ہیری کے ساتھ نہیں ہو گا، نہ ہی معاشرے میں میری حیثیت اچھوت کی سی ہو گی۔ ابا اپنی جمع پونجی نوبیاہتا جوڑے کی اعانت کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اُنھیں توقع تھی فیاضی کا یہ شان دار مظاہرہ اُن کے اور اُن کے داماد کے درمیان پائے جانے والے معاشرتی مقام اور طور طریقوں کی تفریق کو پاٹ دے گا۔ ’’مجھے اور تمھاری ماں کو مزید کچھ نہیں چاہیے۔‘‘

دریائے سین کے کنارے ایک ریستوران میں، شادی کی ضیافت کے موقع پر، ابا اپنے گود میں دھرے نیپکن پر دونوں ہاتھ رکھے، گردن اُٹھائے بیٹھے، کھانے کے اگلے دور کا انتظار کرنے والے، کسی اُکتائے ہوئے شخص کی مانند بلا وجہ مسکرا رہے ہیں۔ اُن کی مسکراہٹ کا یہ مطلب بھی ہے کہ آج کے دِن سب اچھا ہے۔ اُنھوں نے خصوصی طور ناپ لے کر تیار کیے گئے دھاریوں والے نیلے سوٹ کے ساتھ پہلی مرتبہ کف لنکس والی سفید قمیص پہنی ہے۔ یہ منظر میری یاداشت پر ثبت ہے۔ جس پر میری نظر، اپنے مہمانوں کے ساتھ ہنستے ہوئے، اِس یقین کے ساتھ پڑی کہ وہ اِس سب سے لطف انداز نہیں ہو رہے ہوں گے۔

……

ابا اُس کے بعد، گاہے گاہے ہم سے ملتے۔

ہم الپس (Alps) کے ایک تفریحی مقام میں رہتے تھے، جہاں میرے شوہر کو ایک انتظامی عہدے کی پیشکش ہوئی تھی۔ ہم نے دیواروں پر سَن کے پردے لٹکائے، کھانے سے پہلے، بطور اشتہا انگیز مشروب، وسکی پیتے اور ریڈیو پر، سولھویں صدی کی موسیقی سنتے تھے۔ عمارت میں آتے جاتے، دروازے پر متعین نگران سے ایک دو میٹھے بول بولتے۔ میری امی نے خط میں لکھا۔ ’’کیوں ناں چند دنوں کے لیے ہمارے پاس آ جاؤ۔ یہ ایک خوش گوار تبدیلی ہو گی۔‘‘ وہ صرف ہمیں ملنے آ جاؤ، کہنے سے ہچکچاتی تھیں۔ اُن کے داماد کی عدم موجودگی کا اصل اسباب بتائے بغیر، میں اکیلی اُن سے ملنے گئی۔ ہم میاں بیوی نے ان اسباب پر کبھی بات نہیں کی جسے، اپنے حق میں بہتر سمجھتے ہوئے، میں نے بھی دریافت نہیں کیا۔ سفید پوش ماحول میں پرورش پانے والا کوئی شخص، جہاں ڈگریاں حاصل کی جاتی ہیں اور کنائے میں ذو معنی گفتگو کا فن سکھایا جاتا ہے، میرے والدین جیسے، کسی لگی لپٹی بغیر، کھری بات کرنے والے محنت کشوں سے کیا بات کر سکتا ہے۔ اگرچہ میرے شوہر، میرے والدین کی محبت و شفقت کو تسلیم کرتے تھے۔ تاہم، اُن کی نظروں میں یہ کسی طور پُر لطف ادبی گفتگو کا متبادل نہیں ہو سکتی تھی، بدقسمتی سے وہ دونوں ایسی گفتگو کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ مثال کے طور پر،میرے شوہر کے گھر میں، اگر کسی سے گلاس ٹوٹتا، بے ساختہ کوئی فرانسیسی شاعر سلی پردھوم (Sully Prudhomme) کی نظم، شکستہ گُل دان (Le Vase Brisé) کی لائن پڑھتا۔ ’’اِسے نہ چھوؤ، یہ تو ٹوٹ چکا ہے۔‘‘

……

مجھے پیرس کی گاڑی سے لینے، ہمیشہ میری امی آتی تھیں۔ وہ سٹیشن کے دروازے پر کھڑی ہوتیں، میرے کپڑوں کا صندوقچہ اٹھانے پر اصرار کرتے ہوئے کہتیں۔ ’’یہ تمھارے لیے وزنی ہے، تمھیں سامان اُٹھانے کی عادت نہیں۔‘‘ دکان میں گنتی کے چند خریدار ہوتے جنھیں سودا دینا روک کر ابا، اپنے معمول کے مطابق سرسری انداز میں، مجھے چومتے۔ میں باورچی خانے میں جا کر بیٹھ جاتی، جب کہ وہ دونوں کھڑے رہتے، امی سیڑھیوں پر ہوتیں، ابا پیچھے کیفے کو جانے والے دروازے میں ہوتے تھے۔ دِن کے اُس وقت سورج کی روشنی میزوں اور کاؤنٹر کے شیشوں پر پڑ رہی ہوتی تھی، کبھی کبھی ہماری باتیں سننے والا کوئی گاہک ، سورج کی کرنوں کی زَد میں آ جاتا۔ 

گھر سے باہر، میں نے اپنے والدین کے اندازِ گفتگو اور طور طریقوں کو لپیٹ کر اُنھیں شان دار بنا دیا تھا۔ اُس وقت میں ایک مرتبہ پھر، کھلے ڈلے نارمن لہجے میں، اُن کی تُند و بلند آوازیں سُن رہی تھی۔ مجھے ادراک ہوا کہ وہ کسی رَکھ رکھاؤ کے بغیر ہمیشہ سے ایسے ہی تھے اور اُس زبان سے نا آشنا تھے،جسے اب میں درست سمجھتی ہوں۔ مجھے لگا، جیسے میں دو مختلف شناختوں میں بٹی ہوئی ہوں۔ 

میں نے ابا کو تحفہ دیا، جو میں اُن کے لیے لائی تھی۔ اُنھوں نے، بے تابی سے، اُسے کھولا۔ یہ آفٹر شیو کی شیشی تھی۔ وہ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگے۔ ’’یہ کِس لیے ہے؟‘‘ اِس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’اب مجھ سے کچے سیبوں کی خوشبو آئے گی۔‘‘ تاہم، اِسے استعمال کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ تحفے کے غلط انتخاب کا مثالی منظر تھا۔ گزرے دِنوں کی مانند، میں روہانسی ہو گئی۔ ’’کیا وہ کبھی نہیں بدلیں گے؟‘‘

ہم نے اپنی ہم سائیگی میں رہنے والے اُن لوگوں کی باتیں کیں، جن کی شادی ہو گئی تھی، جو مر گئے تھے یا قصبے سے چلے گئے تھے۔ میں نے اُنھیں، اپنی رہائش گاہ، لوئی فلپ سے منسوب ڈیزائن والی، لکھنے کی قیمتی میز (Louis-Philippe writing desk)، اعلا میوزک سسٹم اور سرخ ویلوٹ کے بازؤں والی آرام دہ کرسیوں کی تفصیل بتائی۔ ابا جلد ہی اِن باتوں سے اُکتا گئے۔ اُنھوں نے مجھے اِس لیے پڑھایا تھا تاکہ میں اُن آسائشوں سے لطف اندوز ہو سکوں جن سے وہ خود محروم رہے تھے، چناں چہ وہ خوش تھے، مگر اُن کے نزدیک قدیم نمونے کی اعلا دراز اور ڈنلو پلو (Dunlopillo) کے گدوں کی اہمیت، معاشرتی اعتبار سے کامیابی کی علامت سے، ہٹ کر کچھ نہیں تھی۔ بار بار مجھے کاٹ کر، وہ کہتے۔ ’’تم صحیح کہتی ہو، تم نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔‘‘

میں اپنے والدین کے ہاں، کبھی زیادہ دِن قیام نہیں کرتی تھی۔ ابا نے میرے شوہر کے لیے اعلا برانڈی، کَونیاک (Cognac) کی ایک بوتل دیتے ہوئے کہا۔ ’’کوئی بات نہیں، اگلی مرتبہ اُس سے ملاقات ہو گی۔‘‘ اُنھیں اِس پر فخر تھا کہ وہ اپنے جذبات کو سینے میں چھپا لیتے ہیں اور دوسروں کو اِِن کی ہوا نہیں لگنے دیتے۔

……

ای ویتوت میں پہلی سپر مارکیٹ کھلتے ہی شہر کے ہر حصے کے مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے خریداروں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ کم از کم، ایک ایک چیز کے بارے میں دریافت کیے بغیر، گاہک خود خریداری کر سکتا تھا۔ اِس کے باوجود، وہ مقامی خوردہ فروش کو کچے دودھ کی بوتل خریدنے اور سکول جاتے ہوئے، جیلی کی ٹافیاں لینے یا پاؤنڈ کافی کے اُس ڈبے کی خاطر زحمت دیتے تھے جسے شہر سے لینا بھول گئے تھے۔ ابا کاروبار بیچنے کا سوچنے لگے۔ وہ دو کمروں، باورچی خانے اور ایک کوٹھڑی پر مشتمل، اُس ملحقہ فلیٹ میں منتقل ہو سکتے تھے، جسے اُنھوں نے یقیناً اُس وقت خریدا ہو گا، جس وقت اُنھوں نے دُکان لی تھی۔ وہ شراب کی چند اچھی بوتلیں اور کچھ ٹِن بچا لیں گے۔ تازہ انڈوں کے لیے چند مرغیاں پال لیں گے اور ہمیں ملنے ہوت سیوے (Haute-Savoie) آ سکیں گے۔ ابا کو یہ تسلی تھی کہ اُنھیں پینسٹھ سال کا ہو جانے کے باعث ہیلتھ سروس کی سہولت میسر ہے۔ کیمسٹ کے ہاں سے واپسی پر، وہ میز پر بیٹھ کر، اطمینان کے ساتھ، اپنے طبی اخراجات کے وصولی فارم پر، رسیدوں کا اندراج کرتے تھے۔

وہ زندگی سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے لگے۔

……

گزشتہ نومبر کو گزرے، جب میں نے یہ احوال لکھنا شروع کیا تھا، کئی مہینے ہو چکے ہیں۔ اِس میں زیادہ وقت لگنے کا باعث یہ ہے کہ مجھے بھولی بسری یادوں کو تازہ کرنا، واقعات گھڑنے کی نسبت، کہیں دشوار لگتا ہے۔ آپ کی یاداشت مزاحمت کرتی ہے۔ میں انفرادی حافظے پر اعتماد نہیں کر سکتی۔ پرانے خوردہ فروش کے دروازے پر لگی گھنٹی کی تیز آواز اور گلے ہوئے تربوز کی بُو سے، میرے ذہن میں صرف میری اور گرمیوں کی تعطیلات کےدوران ای ویتوت میں گزارے گئے، دنوں کی تصویر اُبھرے گی۔ آسمان کا رنگ اور دریائے واز (Oise) کے پانی میں پاپولر کے درختوں کا عکس  میری کوئی رہ نمائی نہیں کرتا۔ یہ تو اجنبی ہیں، جنھیں اپنے بچوں سے مخاطب ہوتے، انتظار گاہوں میں بیٹھ کر جمائیاں لیتے اور پلیٹ فارم پر الوداع کرتے وقت ہاتھ ہلاتے دیکھتی ہوں، تو مجھے اُن میں اپنے ابا کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ گلی کی نکڑ پر یا کھچا کھچ بھری ہوئی بس میں کسی کی ایک جھلک، جس پر اَن جانے میں کامیابی یا ناکامی کی چھاپ نمایاں ہو، مجھے اُن کی کیفیت یاد دلا دیتی ہے۔

بہار کا موسم نہیں آیا تھا۔ مجھے لگتا تھا، جیسے میں نومبر سے اُسی موسم کی اسیر ہوں۔ جو شدید سردی کے موسم میں بھی اَبر آلود اور خوش گوار رہا۔ اپنی کتاب کے اختتام کے بارے میں، میں نہیں سوچ رہی تھی۔ مجھے معلوم ہے، وہ وقت اب قریب ہے۔ جون کے آغاز میں، گرم موسم کا آغاز ہو گیا۔ گہری سانس لے کر، آپ اندازہ کر سکتے ہیں، یہ دِن، اچھا ہو گا۔

عنقریب، میرے پاس، مزید لکھنے کو، کچھ نہیں ہو گا۔ میں آخری صفحات لکھنا، التوا میں ڈال کر، اُنھیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا پسند کروں گی۔ اِس کے ساتھ ہی، بیان کیے گئے میں، کوئی تبدیلی کرنے یا کوئی تفصیل بیان کرنے، حتا کہ یہ جاننے کی کوشش کرنے میں، کہ ابا کے نزدیک خوشی سے کیا مراد تھی، پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے۔ اپنے معمول کے مطابق، میں صبح سویرے جانے والی گاڑی پکڑوں گی اور شام کے جھٹپٹے سے پہلے، وہاں نہیں پہنچوں گی۔ اِس مرتبہ ، میں اپنے ہم راہ اُن کے اڑھائی سالہ نواسے کو لے کر اُن سے ملانے جا رہی ہوں۔

امی ریلوے اسٹیشن کے خارجی دروازے پر میرا انتظار کر رہی تھیں۔ اُنھوں نے اپنے دُکان میں پہنے جانے والے کوٹ کے اوپر، سوٹ والی جیکٹ چڑھائی ہوئی تھی، سر پر  لپٹے سکارف میں گرہ لگی ہوئی تھی، میری شادی کے بعد، امی نے اپنے بال رنگنے چھوڑ دیئے تھے۔ لمبے سفر سے تھکے، بے حال بچے نے، جسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، نانی کے بوسے اور اُن کی انگلی پکڑ کر چلنے کی مزاحمت نہیں کی۔ گرمی زیادہ نہیں تھی۔ میری امی، جو اب بھی اپنے مخصوص انداز میں تیز  تیزچل رہی تھیں، اچانک اپنی رفتار آہستہ کر کے، پُر مسرت آواز میں بولیں۔ ’’ہمیں اِس معصوم کی ننھی ٹانگوں کا خیال رکھنا چاہیے۔‘‘ باورچی خانے میں، ابا ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ بوڑھے نہیں دِکھتے تھے۔ امی نے نشان دہی کی کہ اُنھوں نے اپنے نواسے کے اعزاز میں ایک دِن پہلے اپنے بال ترشوائے ہیں۔ یہ ایک ہنگامہ خیز منظر تھا، جس میں، بچے کے جواب کا انتظار کیے بغیر، دونوں چیختی ہوئی آواز میں تابڑ توڑ سوال کرتے ہوئے، ایک دوسرے پر بچے کو پریشان کرنے کا الزام دھر رہے تھے۔ تاہم، دونوں بہت خوش تھے اور اندازے لگا رہے تھے کہ اُس کی شباہت خاندان کے کس فرد پر گئی ہے۔ امی نے اُسے ٹافیوں کے مرتبان دکھائے۔ ابا، پہلے سڑا بیری اور پھر بطخیں اور خرگوش دکھانے، اُسے باہر لے گئے۔ اُنھوں نے، بچے کو اپنی تحویل میں لے کر اُس کے بارے میں، ہر فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے لیا، جیسے اب بھی، میں ایک چھوٹی لڑکی ہوں، جو ایک بچے کو نہیں سنبھال سکتی۔ تعلیم یافتہ افراد والے میرے خیالات، مثلاً دوپہر کے وقت قیلولہ، مٹھائی سے پرہیز وغیرہ کو، وہ مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے۔ ہم چاروں، کھڑکی کے ساتھ والی میز پر بیٹھ کر، اِس حالت میں کھانا کھاتے کہ بچہ میری گود میں ہوتا تھا۔ یہ پریشانیوں سے آزاد، انتہائی خوش گوار اور سحر انگیز شام ہوتی تھی۔

میرا پرانا سونے کا کمرا، دِن بھر سورج کی تپش کے نتیجے میں تاحال گرم تھا۔ میرے پلنگ کے ساتھ، چھوٹے بچے کے لیے، ایک پلنگڑی رکھی گئی تھی۔ مطالعے کی کوشش کے بعد، دو گھنٹے تک مجھے نیند نہیں آئی۔ میرے پلنگ کے پہلو میں دھرے لیمپ کا پلگ لگاتے ہی چنگاریاں نکلیں، تار جَل گئی اور بلب کا فیوز اُڑ گیا۔ لیمپ ایک گلوب کی شکل میں سنگِ مرمر کے پیندے پر نصب تھا، جس کے پہلو میں پیتل کا ایک خرگوش، پنجے پھیلائے بیٹھے تھا۔ یہ لیمپ، جو کسی زمانے میں، مجھے خوب صورت لگتا تھا، یقیناً، مدتوں پہلے ٹوٹ چکا ہو گا۔ اُنھوں نے گھر کی کسی چیز کی کبھی مرمت نہیں کروائی، وہ اِن چیزوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔

……

یہ ایک دوسرے وقت کا ذکر ہے۔

میں دیر سے جاگی۔ ساتھ والے کمرے میں امی، ابا سے دھیمے لہجے میں باتیں کر رہی تھیں، بعد میں، امی نے مجھے بتایا، صبح سویرے ابا کی طبعیت اتنی بگڑ گئی، کہ وہ کموڈ تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ امی کے خیال میں، یہ بدہضمی، گزشتہ روز دوپہر کے کھانے پر بچی ہوئی مرغی کھانے کا نتیجہ تھی۔ ابا یہ جاننے کے لیے بے چین تھے کہ امی نے فرش صاف کر دیا ہے یا نہیں، وہ اپنی چھاتی میں درد کی شکایت بھی کر رہے تھے۔ اُن کی آواز بدل گئی تھی۔ جب چھوٹا اُن کی طرف گیا، اُنھوں نے اُس پر کوئی توجہ نہ دی اور کسی حرکت کے بغیر، پشت کے بَل چِت لیٹے رہے۔

ابا کو دیکھنے ڈاکٹر سیدھا اوپر گیا۔ میری امی دُکان میں کام کر رہی تھیں، مگر جلد ہی، وہ اُس کے پیچھے گئیں، پھر دونوں اِکٹھے نیچے آئے۔ سیڑھی سے اُترتے ہی ڈاکٹر نے دبی آواز میں کہا، فوری طور پر، اِنھیں روئن کے ہسپتال لے جانا چاہیے۔ امی چکرا کر بیٹھ گئیں۔ وہ ہمیشہ سے یہی کہا کرتی تھیں۔ ’’وہ ایسی چیزیں کھانے پر اصرار کرتے ہیں، جو انھیں موافق نہیں ہیں۔‘‘ اور اُن کے لیے منرل واٹر لے کر آتیں، تو کہتیں۔ ’’اپنے اوٹ پٹانگ پیٹ کے بارے میں تم اچھی طرح جانتے ہو۔‘‘ وہ اپنے ہاتھوں میں اُس دُھلے دسترخوان کو مروڑتی رہیں، جسے ڈاکٹر نے ابا کی دھڑکن جانچنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ میرے ابا کے مرض کی سنگین نوعیت، جسے ہم بدہضمی قرار دے کر رد کر چکے تھے، اُنھیں سمجھ نہیں آ رہی تھی اور نہ ہی وہ اِسے قبول کرنے پر آمادہ تھیں۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لیے شام تک انتظار کر لیں، ہو سکتا ہے یہ گرمی کے نتیجے میں ہوا ہو۔

میں دوائیاں لینے باہر گئی۔ آسمان پر، سرمئی بادل چھائے ہوئےتھے۔ دوا فروش نے، مجھے پہچان لیا۔ ایک سال پہلے کی نسبت، جس وقت میں یہاں آئی تھی، سڑک پر آمد و رفت بہت کم تھی۔ چوں کہ یہاں ہر چیز، لگ بھگ ویسی ہی تھی، جیسی میرے بچپن میں ہوا کرتی تھی، چناں چہ میرے لیے، یہ تصور کرنا محال تھا، کہ میرے ابا واقعی کسی سنگین مرض میں مبتلا ہیں۔ میں نے اسٹیو پکانے کے لیے کچھ سبزیاں خریدیں۔ چند گاہکوں نے سیٹھ کی خیریت دریافت کرتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا کہ وہ اتنے خوشگوار دن ٹھیک نہیں ہیں۔ اُنھوں نے ابا کی طبعیت کی خرابی کے سیدھے سادے اسباب گنواتے ہوئے، اُن کی تائید میں، اپنے تجربات بیان کیے۔ ’’کل عقبی باغیچے میں درجہ حرارت کم از کم چالیس ہو گا، اگر میں بھی اُس کی طرح کھڑا رہتا، بے ہوش ہو جاتا۔‘‘  یا ’’سچ میں، یہ گرمی بندے کو توڑ دیتی ہے۔ کل مجھ سے کچھ نہیں کھایا گیا۔‘‘ میری امی کی مانند، وہ بھی یہی سمجھتے تھے، کہ میرے ابا کی بیماری کا سبب، نامناسب رویے کا اظہار کرتے ہوئے، فطرت کے اصولوں کو توڑنا ہے۔ اُس کے نتیجے میں وہی ہوا، جس کا وہ سزاوار تھا، تاہم، اُسے آئندہ اِس غلطی سے بچنا ہو گا۔

جب بچے کے قیلولے کا وقت ہوا، وہ بستر کے قریب گیا اور مجھ سے سوال کیا۔ ’’ماما، یہ بزرگ کیوں سو رہے ہیں؟‘‘

گاہکوں کا وقفہ ہوتے ہی امی تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتیں۔ گھنٹی بجتے ہی، پرانے معمول کے مطابق، میں چلا کر اُنھی کو آواز دیتی کہ نیچے آ کر دُکان میں گاہک کو سودا دیں۔ اگرچہ ابا صرف پانی پی رہے تھے، تاہم اُن کی حالت مستحکم تھی۔ شام کو  ڈاکٹر آیا تو اُس نے ہسپتال کا ذکر نہیں کیا۔

اگلے دِن، جَب بھی، امی یا میں، ابا سے اُن کی طبعیت دریافت کرتے، ابا غصے سے غراتے یا شکوہ کرتے کہ اُنھوں نے دو دِن سے کچھ نہیں کھایا۔ قبل ازیں، میں جب بھی ڈاکٹر کو سیڑھیوں سے اُترتا دیکھتی، میں کسی ہلکے پھلکے چٹکلے کی توقع کرتی تھی۔ وہ از راہِ تفنن کہا کرتا تھا۔ ’’پریشانی کی کوئی بات نہیں، گیس باہر نکلنے کے بجائے اوپر چڑھ گئی ہے۔‘‘ خلافِ معمول، اِس مرتبہ ڈاکٹر نے ابا کی صحت کے بارے میں کوئی مذاق نہیں کیا۔ اُسی شام امی نے، نظریں چراتے ہوئے، مجھے کہا۔ ’’سمجھ نہیں آتا، کیا ہونے والا ہے؟‘‘ یہ پہلی مرتبہ تھی جب امی نے تسلیم کیا کہ ابا مر سکتے ہیں۔ ’’ پچھلے دو دِن، ہم نے کھانا کھاتےاور بچے کو سنبھالتے ہوئے، ابا کی بیماری کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ جواب میں، میں نے صرف اتنا کہا۔ ’’ہوں، دیکھتے ہیں۔‘‘ جس زمانے میں، میں تقریباً اٹھارہ سال کی تھی، امی مجھے ڈانٹتے ہوئے اکثر کہتی تھیں۔ ’’اگر تمھیں کچھ ہو گیا  جانتی ہو، تم کسی جوگی نہ رہو گی۔‘‘ضروری نہیں ہوتا کہ معین الفاظ میں بات کی جائے، صاف صاف لفظوں میں، ’’حمل ہو گیا۔‘‘ کہے بغیر، ہم دونوں کو معلوم تھا، کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔

جمعہ کی رات، ابا کے لیے سانس لینا دشوار ہو گیا، سانس لیتے ہوئے وہ ہانپ رہے تھے۔ اِس کے بعد، اُن کی سانس کی آواز سے ہٹ کر، دہشت زدہ کر دینے والی، مسلسل غرغراہٹ کی آواز آنے لگی، جس کے بارے میں ہم نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ آواز اُن کے پھیپھڑوں سے آ رہی ہے، یا معدے سے؟ ایسے لگتا تھا، جیسے جسم کے تمام اعضا، ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر نے ابا کو پُرسکون کرنے کی خاطر ایک انجکشن لگایا، جِس سے وہ پُرسکون ہو گئے۔ دِن کے پچھلے پہر، میں نے کپڑوں کی الماری میں دُھلی ہوئی لینن کی چادریں رکھیں۔ تجسس کے ہاتھوں، میں نے گلابی دھاریوں والی ایک چادر اُٹھا کر بستر کے کنارے پر رکھی تو ابا نے سہارا لے کر اپنا سر اٹھایا اور مجھے مخاطب ہو کر اپنی بدلی ہوئی نئی آواز میں بولے۔ ’’یہ تمھاری میٹرس  پر بچھانے کے لیے ہے، تمھاری ماں پہلے سے یہ طے کر چکی ہے۔‘‘ اُنھوں نے اپنی میٹرس دکھانے کے لیے کمبل کو اوپر کھینچا۔ خود پر بیماری کا حملہ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اُنھوں نے، اپنے نزدیک موجود، کسی چیز میں دِل چسپی کا اظہار کیا تھا۔ اِس وقت مجھے خیال آیا، اِس کا مطلب ہے، ابھی امید باقی ہے۔ یہ الفاظ ادا کر کے، وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ بیمار نہیں ہیں۔ تاہم، حقیقت میں، اِس کا سبب یہ تھا کہ وہ زندگی سے دور جا رہے تھے، چناں چہ اِس سے چمٹے رہنے کی تمنا میں یہ کوشش کر رہے تھے۔

اِس کے بعد، ابا نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ وہ نرس کو کمرے داخل ہوتا دیکھتے ہی ٹیکا لگوانے کے لیے، پہلو کے بَل ہو جاتے، امی کے دریافت کرنے پر، درد تو نہیں ہو رہا؟ کچھ پیؤ گے؟ واضح الفاظ، ہاں یا نہیں، میں جواب دیتے،وقتاً فوقتاً، احتجاج کرنے کی کوشش کرتےہوئے کہتے۔ ’’اگر میں کچھ کھا لیتا۔‘‘ گویا اُن کے نزدیک صرف کچھ کھانے سے اُن کے مرض کا وہ علاج ہو جائے گا، جسے کسی نامعلوم ہستی نے روکا ہوا ہے۔ اُنھیں یاد نہیں تھا کہ اُنھوں نے کتنے دنوں سے کھانا نہیں کھایا۔ میری امی یہی کہتیں۔ ’’تھوڑے پرہیز سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔‘‘ میرا بیٹا باغیچے میں کھیل رہا تھا۔ میں اُس پر نظر رکھتے ہوئے، مشہور فرانسیسی فلسفی مصنفہ سیمون دی بیوویر (Simone de Beauvoir)  کا ناول لامینڈرینز (Les mandarins) پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ ایک ضخیم کتاب تھی، جسے پڑھنے میں مجھے مزہ نہیں آ رہا تھا۔ میں سمجھتی تھی، جب میں ایک خاص صفحے پر پہنچوں گی، میرے ابا گزر جائیں گے۔ گاہک اب بھی، ابا کی طبیعیت کے بارے میں، سوال کر رہے تھے۔ وہ معین طور پر جاننا چاہتے تھے کہ اصل مسئلہ گرمی کا ہے یا دِل کا؟ امی کے غیر یقینی، مبہم جوابات پر، وہ حیرت کا اظہار کرتے، جیسے اُن کی دانست میں، ہم اُن سے کچھ چھپا رہے ہیں۔ جب کہ ہم سمجھتے تھے، اب بیماری کے نام کی کوئی اہمیت نہیں۔

اتوار کی صبح، وقفے وقفے سے، سنائی دینے والی ، مترنم بُڑبُڑاہٹ کی آواز سُن کر، میری آنکھ کھل گئی۔ یہ کیتھولک چرچ میں سب سے بڑھ کر گھبراہٹ پیدا کرنے والی، وہ آخری رسوم تھیں، جو کسی مرتے ہوئے شخص کے سرہانے ادا کی جاتی ہیں۔ میں نے اپنا سر تکیے میں چھپا لیا۔ امی پو پھٹتے ہی، بڑے پادری کے صبح کی مناجات سے فارغ ہوتے ہی، اُنھیں ملنے کی خاطر، اُٹھ گئی  ہوں گی۔ اُسی دِن، بعد میں، جِس وقت امی گاہکوں کو سودا دے رہی تھیں، میں سیڑھیاں چڑھ کر ابا کو دیکھنے گئی۔ پلنگ کے کنارے پر، میں نے اُنھیں بیٹھے دیکھا، اُن کا سَر آگے کو جھکا ہوا تھا، وہ مایوسی کے عالم میں کرسی کو گھور رہے تھے۔ اُن کے پھیلے ہوئے بازو میں ایک خالی گلاس تھا، اُن کا ہاتھ بُری طرح کپکپا رہا تھا۔ پہلے تو مجھے سمجھ نہ آیا کہ وہ گلاس کو کرسی پر رکھنا چاہتے ہیں۔ صدیوں پر محیط چند سیکنڈوں تک، میں اُن کے کانپتے ہاتھ اور چہرے پر چھائی، شدید مایوسی کو ٹکر ٹکر دیکھتی رہی۔ پھر میں نے اُن کے ہاتھ سے گلاس لیا اور اُن کی ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے، اُنھیں واپس بستر پر لِٹا دیا۔ میں نے خود کو مشورہ دیا۔ ’’میں یہ کر سکتی ہوں۔‘‘ یا ’’مجھے ایسی لڑکی بننا ہو گا، جو یہ کر سکتی ہے۔‘‘ پھر میں نے حوصلہ کر کے، اچھی طرح، اُنھیں دیکھا۔ اُن کے چہرے میں، اُس چہرے کی برائے نام شباہت نظر آ رہی تھی، جو چہرہ میں، ماضی میں، ہمیشہ دیکھتی آئی تھی۔ مصنوعی بتیسی کے اوپر، جس کے لگے رہنے پر، اُنھوں نے اصرار کیا تھا، اُن کے ہونٹوں کے مڑنے کے نتیجے میں، اُن کے مسوڑھے نمایاں ہو گئے تھے۔ وہ اُن عمر رسیدہ افراد کی رہائش گاہ کے بستر سے لگے بوڑھوں جیسے ہو گئے تھے، جہاں ہماری ہیڈ مسٹرس ہمیں کرسمس کے موقع پر، مذہبی گیت گا کر سنانے کے لیے، لے جاتی تھی۔ اِس کے باوجود، میں سمجھتی تھی، اِس حالت میں بھی، وہ کچھ عرصے تک زندہ رَہ سکتے ہیں۔

تقریباً ساڑھے بارہ بجے، میں نے بیٹے کو بستر پر لٹایا۔ اُسے نیند نہیں آ رہی تھی، وہ اپنے گدے پر اُچھل رہا تھا۔ ابا کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، سانس مشکل سے آ جا رہی تھی۔ امی نے اپنے اتوار کے معمول کے مطابق ایک بجے کے لگ بھگ دُکان اور کیفے کو بند کیا اور اوپر والی منزل چلی گئیں۔ جِس وقت میں برتن دھو رہی تھی، میری خالہ اور خالو آ گئے۔ ابا کو دیکھنے کے بعد، وہ دونوں باورچی خانے میں بیٹھ گئے۔ میں نے اُنھیں کافی دی۔ مجھے اپنے اوپر، فرش کے تختے پر، اپنی امی کے، نیچے اُترتے، قدموں کی چاپ سنائی دی۔ اُن کے آہستہ آہستہ اُٹھتے قدموں کے باوجود میں یہی سمجھی کہ وہ کافی پینے نیچے آ رہی ہے۔ سیڑھیوں کے موڑ پر پہنچ کر، اُنھوں نے دھیمی آواز میں کہا۔ ’’سب ختم ہو گیا۔‘‘

……

کاروبار بند ہو چکا ہے۔ اب یہ ایک نجی رہائشی مکان ہے، جس کی اُس کھڑکی میں، جو کبھی دُکان کی کھڑکی ہوتی تھی، ٹیریلین کے پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ میری امی کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد، اِس جگہ کی کاروباری شناخت ختم ہو گئی۔ اَب امی شہر کے وسطی علاقے کے قریب ایک فلیٹ میں رہتی ہیں۔ اُنھوں نے ابا کی قبر پر آویزاں کرنے کے لیے سنگِ مرمر کا ایک سادہ، مگر خوب صورت کتبہ بنوایا ہے، جس کی دیکھ بھال کا خصوصی اہتمام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کتبے پر اُن کی پیدائش کا سال ۱۸۹۹ء اور وفات کا سال ۱۹۶۸ء گُدا ہوا ہے۔ 

……

اَب میں نے اُس ورثے کو پھر سے پا لیا ہے، جسے میں نے، پڑھی لکھی بورژوا دنیا میں داخل ہوتے وقت، کھو دیا تھا۔

……

جِس وقت میں بارہ سال کی تھی، ایک اتوار، چرچ سے فارغ ہو کر ابا اور میں ٹاؤن ہال کی بل کھاتی شان دار سیڑھیاں چڑھ کر، اوپر گئے۔ ہم عوامی لائبریری تلاش کر رہے تھے۔ ہمیں اِس سے پہلےوہاں جانے کا کبھی موقع نہیں مِلا تھا، چناں چہ میں انتہائی پُرجوش تھی۔ دروازے کی دوسری جانب، کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ بہر حال میرے ابا نے دھکیل کر دروازہ کھولا۔ اندر مکمل خاموشی تھی، اتنی خاموشی تو چرچ میں بھی نہیں ہوتی۔ چلنے سے لکڑی کا فرش چرچراتا تھا، ہوا میں ایک عجیب بساند تھی۔ ایک اونچے کاؤنٹر کے، جو کتابوں کی شیلفوں کی راہ میں رُکاوٹ بنا ہوا تھا، عقب میں بیٹھے ہوئے، دو آدمی ہمیں آتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ ابا نے مجھے بولنے کا اشارہ کیا۔ ’’ہم عاریتاً کچھ کتابیں لینا چاہتے ہیں۔‘‘ اُن میں سے ایک نے فوراً سوال کیا۔ ’’آپ کو کون سی کتابیں چاہئیں؟‘‘ گھر میں ہمیں خیال نہیں آیا تھا، کہ کتابوں کے ناموں کی فہرست تیار کر لیں، یا بسکٹوں کے برانڈز کی طرح زبانی رَٹ لیں۔ اُنھوں نے میرے لیے، انیسویں صدی کے فرانسیسی رومانی ناول نگار پروسپر میرمی (Prosper Mérimée) کا ناول کولمبا (Coolomba) اور ابا کے لیے،مشہور فکشن رائیٹر موپساں (Mapussant) کے ایک ہلکے پھلکے ناول کا انتخاب کیا۔ اُس کے بعد، ہم کبھی لائبریری میں نہیں گئے۔ ممکنہ طور پر، میری امی نے، کتابوں کے زائدالمعیاد ہونے کے بعد، لازماً وہ کتابیں واپس جمع کرا دی ہوں گی۔

ابا، اچھے بُرے، ہر موسم میں، مجھے سائیکل پر اسکول پہنچانے کے لیے، شہر کے ایک سرے سے، دوسرے سرے تک جایا کرتے تھے۔

اُن کی طمانیت، نیز ممکنہ طور پر اُن کی زندگی کا جواز، یہ حقیقت تھی کہ میرا تعلق اُس دنیا سے تھا، جس نے اُنھیں ٹھکرا دیا تھا۔ 

وہ بڑے شوق سے موسیقار جارج بٹرورتھ (George Butterworth) کا ترتیب ہوا نغمہ ’’شبنمی گھاس پر چلنا، گوالن کی ترو تازگی بخشتا ہے۔‘‘ (For roving in the dew makes the milk-maids fair) گنگنایا کرتے تھے۔

مجھے ایک کتاب کا نام، میرا حدود کا تجربہ، (LExpérience des Limites) اچھی طرح یاد ہے۔ کتاب شروع کرتے ہی مجھے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ اِس میں صرف مابعد طبیعیات اور ادب کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔

یہ کتاب لکھتے ہوئے، میں طالب علموں کے پرچے جانچنے کے علاوہ اُن کی رہ نمائی کے لیے نمونے کے مضمون بھی لکھ رہی تھی، کیوں کہ اِسی کام کا مجھے معاوضہ ملتا ہے۔ علمی نوعیت کی اِن سرگرمیوں سے مجھے کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے میں عیش کر رہی ہوں۔ جب کہ دونوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، دونوں نے مجھے رُلایا۔

……

گزشتہ اکتوبر، ادائیگی کے کاونٹر پر، اپنے سامان کی ٹرالی کے انتظار میں کھڑے، میں نے اپنی ایک سابقہ سٹوڈنٹ کو پہچان لیا، یا شاید یہ کہنا مناسب ہو گا، مجھے یاد آیا کہ کیشیر کوئی پانچ چھ سال پہلے میری طالب علم تھی۔ مجھے اُس کا نام اور کلاس یاد نہیں آ رہی تھی۔ میری باری آنے پر، میں نے یوں ہی اُسے کہا۔ ’’کیسا چل رہا ہے؟ تمھیں یہ کام پسند ہے؟‘‘اُس نے جواب دیا۔ ’’جی، جی، بہت اچھا۔‘‘ مشروبات اور ماکولات کا اندراج کرنے کے بعد، اُس نے ندامت آمیز لہجے میں کہا۔ ’’ٹیکنیکل سکول میں، میں نہیں چَل سکی تھی۔‘‘ لگتا تھا، جیسے وہ سمجھتی ہے، مجھے اب بھی اُس کا احوال یاد ہے، جب کہ مجھے یاد نہیں تھا، کہ اُسے ٹیکنکل کالج میں کیوں بھیجا گیا تھا اور اُسے کس شعبے میں داخل کیا گیا تھا۔ میں نے اُسے خدا حافظ کہا۔ اِس سے پہلے ہی، وہ اگلے گاہک کو نمٹاتےہوئے، کسی مشین کی مانند، اشیا کو بائیں ہاتھ سے آگے کرتے ہوئے، دائیں ہاتھ سے، اُن کا کیش رجسٹر میں اندراج کر رہی تھی۔

(نومبر ۱۹۸۲ءجون ۱۹۸۳ء)

۰۰۰

Annie_Ernuax_French_Writer_Nobel_Laureate_2022

اَنّی ایغنو

اَنّی ایغنو فرانسیسی ادیبہ ہیں جنھیں ۲۰۲۲ء کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اُنھیں نوبیل انعام سے سرفراز کرتے ہُوئے نوبیل کمیٹی نے اُنھیں اِس انعام کا حق دار اُن کے فکشن میں موجود اِن خصوصیات کی بِناء پر دیا : ’’اُن کے اُس حوصلے کے لیے جس سے وہ اپنی ذاتی یادوں کی جڑیں، بے اعتنائیاں اور اجتماعی پابندیوں کو لاتعلّق نکیلے پن سے بے نقاب کرتی ہیں۔‘‘

سوانح حیات

 اَنّی ایغنو [پیدائشی نام: اَنّی ڈُشَّین (Annie Duchesne)] یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کو فرانس کے علاقے  لِلّے بون، نارمنڈی (Lillebonne, Normandy) میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہُوئیں۔ کچھ سال بعد اَنّی کے والدین اِزِیٹو (Yvetot) چلے گئے، جہاں انھوں نے قصبے کے محنت کش طبقے کے علاقے میں ایک کیفے اور کریانے کی دکان کھول لی۔ اُن کے والد ایک کیفے اور والدہ کیفے سے ملحق کریانے کی دُکان چلاتی تھیں جو اُن کے گھر کے بیرونی حِصّے میں قائم کیے گئے تھے۔

اَنّی ایغنو  نے اِزِیٹو کے ایک نجی کیتھولک  ثانوی سکول میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھیں اپنے سے زیادہ نچلے متوسط طبقے کے پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے واسطہ پڑا، اور پہلی مرتبہ اپنے والدین اور ماحول کے محنت کش طبقے   کے پس منظر سے تعلق ہونے پر شرمندگی کے شدید احساس اور سماجی طبقاتی جدوجہدسے سے روشناس کروایا جس نے تاحیات اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔  ۱۹۵۸ء میں، اٹھارہ سال کی عمر میں، وہ  پہلی مرتبہ سمر کیمپ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پورے موسمِ گرما کے لیے اپنے گھر سے نکلیں، جہاں انھیں اپنے ہم سن ایک گروہ کے ساتھ پہلی بار رہتے ہوئے اپنے پہلے جنسی تجربات ہوئے۔

 

۱۹۶۰ء میں ایک جوڑے کے طور پر لندن میں قیام کرنے کے بعد انھوں واپس فرانس لوٹ کر جامعہ  رُوآں (Rouen)  سے فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی اور ثانوی مکتب کی فرانسیسی کی معلمہ بن گئیں۔ پھر وہ۱۹۷۷ء میں سی نیڈ (Cned ـسینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن) میں ایک عہدے پر متمکن ہو گئیں۔    ۱۹۶۷ء میں اُن کے والد کے انتقال کے بعد اُن کا خاندان، جس میں اُن کی صرف ایک ماں تھی،  ۱۹۷۷ء میں پیرس میں بننے والی ایک نئی آبادی سہرجی پونٹواہز (Cergy-Pontoise) میں منتقل ہو گیا۔ ۲۰۰۰ء میں اپنے تدریسی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنے آپ کو لکھنے کے لیے وقف کر دیا۔

تخلیقات

اُنھوں نے اپنا پہلا ناول ’’صفایا‘‘ ۱۹۷۴ء میں شائع کیا، جو اُن کے ۱۹۶۴ء میں اسقاطِ حمل کے تجربے سے گزرنے کا افسانوی بیانیہ ہے۔ لیکن اس کے بعد  انھوں نے  روایتی تحریروں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے سوانحی موضوعات کا اپنی لکھتوں کا محورومرکز بنا لیا۔ اُن کی اب تک منصۂ شہود پر آنے والی کتب میں ’’وہ کچھ کہتے ہیں یا نہیں‘‘ (۱۹۷۷ء)؛ ’’ایک منجمد عورت‘‘ (۱۹۸۱ء)؛ ’’مقامِ مرد‘‘  (  ۱۹۸۳ء)؛ ’’کتھا ایک عورت کی‘‘  (۱۹۸۸ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’خارجی ‘‘ (۱۹۹۳ء)؛ ’’حیا‘‘ (۱۹۹۷ء)؛ ’’میں تاریکی میں رہتی ہوں  ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’سادہ جذبہ‘‘ (۱۹۹۱ء)؛ ’’بیرونِ حیات‘‘ (۱۹۹۳ء،۱۹۹۹ء،۲۰۰۰ء)؛ ’’وقوعہ؍حادثہ‘‘ (۲۰۰۰ء)؛ ’’گم شدگی ‘‘ (۲۰۰۱ء)؛ ’’پیشہ ‘‘ (۲۰۰۲ء)؛ ’’فوٹوگرافی کا استعمال‘‘ (۲۰۰۵ء)؛ ’’برس ہا برس‘‘ (۲۰۰۸ء)؛  ’’دخترِ ثانی‘‘ (۲۰۱۱ء)؛ ’’روشنیاں دیکھو، میرے پیارے‘‘ (۲۰۱۴ء)؛ ’’کتھا ایک دوشیزہ کی‘‘ (۲۰۱۶ء)؛ ’’ہوٹل کاسانووا‘‘ (۲۰۲۰ء)؛ ’’نوجوان‘‘ (۲۰۲۲ء) شامل ہیں۔

اسلوب

اَنّی ایغنو اپنے سوانحی ناولوں کے لیے پہچانی جاتی ہیں جو سماجی طبقے، جنس اور ذاتی یادداشت کے موضوعات کو کٹھور اور معروضی انداز کے وسیلے سے کھوجتی ہیں۔ اُن کی پہچان ایک منفرد ادبی نقطۂ نظر کی حامل کے طور پر ہے، جسے ’’آٹو-سوشیو-بایوگرافی‘‘ یا ’’سماجی خودنوشت‘‘کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی تخلیقات میں اکثر اپنی زندگی کو بطور موضوع برتتے ہوئے مستقل طور پر صنف، زبان اور طبقے کے تفاوت کا جائزہ لیتی ہیں اور  ویرل، معروضی، اور بے ساختہ نثر برتتے ہوئے بغیر کسی پچھتاوے کے، چھلنی استعمال کیے بغیر مخصوص یادوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں ایک ایسا انداز جس کی وجہ سے وہ نوبیل انعام سے سرفراز ہوئیں۔

اعزازات و انعامات

یوں تو اَنّی ایغنو کو اُن کے تخلیقی ادب پر بے شمار اعزازات و انعامات سے نوازا گیا ہے، جس کا آغاز ۱۹۷۷ء سے Prix d’Honnneur for Ce qu’ils dissent rien سے ہی ہو گیا تھا۔ تاہم، ۲۰۱۴ء میں سہرجی پونٹواہز یونیورسٹی، فرانس نے اُنھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے  نوازا۔ ۲۰۱۹ء میں اُن کی خود نوشت ’’برس ہا برس‘‘ بُکر انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی اور ۲۰۲۲ء میں نوبیل انعام برائے ادب سے سرفراز ہوئیں۔ ۲۰۰۸ء  میں شائع ہونے والی کتاب ’’برس ہا برس‘‘  (The Years) کو، جس میں ذاتی اور اجتماعی تاریخ کا ادغام کیا گیا، بیشتر ناقدین نے اس کے مواد اور اختراعی شکل دونوں کے لحاظ سے اَنّی کی اہم کامیابی گردانا ہے ۔

۰۰۰

اَنّی ایغنو کی تحریروں کے مزید تراجم

فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
دخترِ ثانی  (پہلا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
تعارف و ترجمہ؍نجم الدّین  احمد
فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
ترجمہ؍مبشر احمد میر
Mubashri_Ahmad_Mir_Urdu_Writer_Urdu_Translator مبشر احمد میر ۔ اردو مترجم

مبشر احمد میر

۳؍ اکتوبر۱۹۵۳ء کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔بچپن بہاول پور میں گزرا، بسلسلہ ملازمت مختلف شہروں میں رہنے کا موقع ملا۔محکمہ تعلیم، کمرشل ونگ سے بطور چیف انسٹرکٹر ۲؍ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو سبکدوش ہوئے۔ ۲۰۱۳ء میں گجرات سے ریٹائر ہونے کے بعد راولپنڈی میں قیام ہے۔  چند افسانے لکھے، جو اجرا، زیست اور تناظر میں شائع ہوئے۔ بدیسی ادب کو سمجھنے کی کوشش میں ترجمے کا رخ کیا۔ جو نقاط، تناظر، مکالمہ، اجرا اور زیست کی زینت بنے۔ حوزے سارا ماگو کے ایک ناول کا ترجمہ اکادمی ادبیات سے شائع ہو چکا ہے۔ جب کہ دو مزید ناولوں کے  تراجم زیرِ طبع ہیں۔

۰۰۰

مبشر احمد میر کے تازہ تراجم

فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا (دوسرا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
ترجمہ؍مبشر احمد میر
فسوں کاریاں
فرانسیسی ناولچہ
مقام، ایک مرد کا (پہلا حصہ)
اَنّی ایغنو
Annie Ernaux
ترجمہ؍مبشر احمد میر

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب