تراجم عالمی ادب

مضمون

رنگ برنگ

اسد اللہ میر الحسنی

فلسطین کا شاعرِ مزاحمت و انقلاب اور موت کا ہم سخن  سمیح القاسم

_سمیح القاسم فلسطینی شاعر فلسطینی مترجم_

جس دن میری روح اس آفاق سے نکل کر اُس شے میں داخل ہو جسے موت کہتے ہیں، میری تمنا ہے کہ میرے چہرے کی مسکراہٹ رخصت نہ ہو۔—سمیح القاسم

فلسطین کی مزاحمتی شاعری میں اگر محمود درویش اجتماعی ضمیر کی موسیقی ہیں تو سمیح القاسم اس ضمیر کی للکار اور صریرِ خامہ ہیں۔ جنھوں نے اپنی زبان کی تلوار سے وقت کے سب سے سخت سنگِ گراں پر ضرب لگائی اور بارہا ثابت کیا کہ شعر بھی بندوق کی مانند تقدیر میں دخیل ہو سکتا ہے۔ ان کا نام فلسطین کی جدید تاریخ اور فلسطینی عربوں کی داخلی زیست کے سب سے پیچیدہ سوالات کے ساتھ اس طرح بندھا ہے کہ اس کی گرہیں کھولے بغیر نہ عربی شاعری کی سیاسی جمالیات سمجھ آتی ہے، نہ مزاحمت کے ادبی اسالیب۔

ان کا نام سمیح القاسم ہے۔ وہ فلسطینی عرب شاعر تھے اور قانونی طور پر اسرائیلی شہریت رکھتے تھے۔

 آبادیاتی اصطلاح میں سمیح القاسم ’’عربِ ۱۹۴۸ء؍عربُ الداخل‘‘ میں شمار ہوتے ہیں۔ مذہب و برادری کے لحاظ سے وہ دروز  (الموحّدون؍ بنو معروف) سے تعلق رکھتے تھے، جو ایک باطنی رجحان رکھنے والی عرب برادری ہے اور شام، لبنان، اردن اور فلسطین میں آباد ہیں۔ ان کے والد کا نام محمد القاسم آلِ حسین تھا، جو برطانوی سرحدی فورس میں افسر تھے۔

سمیح القاسم کی پیدائش ۱۱ مئی، ۱۹۳۹ء کو اردن کے شہر الزرقاء میں ہوئی۔  ۱۹۴۵ء سے الرامہ کے لاطینی پرائمری اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں الناصرہ میں ثانوی تعلیم پائی۔  ۱۹۵۷ء  میں میٹرک؍ ہائی اسکول کی سند حاصل کی۔ اسی سال وہ سوویت یونین گئے اور ایک برس تک فلسفہ، معیشت اور روسی زبان کی تعلیم حاصل کی۔

دروز (جنھیں الموحّدون یا بنو معروف بھی کہا جاتا ہے) تاریخی طور پر عربِ مشرق کے اُن گروہوں میں سے ہیں جو اسماعیلی ورثے، ایرانی و ہندی یونانی حکمت اور مقامی روایات کے باہم امتزاج سے ایک باطنی مذہبی روایت میں ڈھلے۔ ان کے مذہبی تشکیل کی صورت بندی مصر میں فاطمی خلیفہ الحاکم بامراللّٰہ (۳۸۶۔۴۱۱ھ؍ ۹۹۶۔۱۰۲۱ء) کے دور میں دو داعیوں، حمزہ بن علی بن احمد اور محمد بن اسماعیل الدرزي، سے منسوب ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام ان کے ہاں تقدیس و وحدت کی علامت ہیں۔ نکبت سے پہلے یہ برادری داخلی و علاقائی سطح پر باہم مربوط ایک اکائی تھی۔ پھر سیاسی زلزلوں نے اسے تنہائی، انقطاع اور پیچیدہ شناختی دباؤ سے دوچار کیا۔ آج قریب ایک لاکھ دروز اسرائیلی شہریت رکھتے ہیں۔

۱۴۴۹۔۱۹۵۵ء کے درمیان بعض فلسطینی دروز رضاکارانہ طور پر اسرائیلی فوج میں گئے۔ جولائی ۱۹۵۴ء میں قابض اتھارٹی نے اصولی طور پر عرب نوجوانوں کے لیے جبری فوجی خدمت کا فریم متعارف کرایا۔ ۳ مئی،  ۱۹۵۶ء   کی ترمیم کے تحت جبری بھرتی کو عملاً دروز نوجوانوں تک محدود کر دیا گیا؛ یہ (قیادتِ طائفۂ دروز) سے ایک معاہدے کے  تحت نافذ ہوا۔ وقت کے ساتھ اندرونی مخالفت ابھری، جن میں ’’أنا أرفض؍ میں انکار کرتا ہوں‘‘ جیسی تحریکیں نمایاں ہیں۔ تاہم نہ شہریت، نہ فوجی شرکت، نہ ہی میدانِ جنگ میں خدمات، کسی نے بھی دروز زمینوں کو ضبطی سے بچایا۔اُن پر بھی ’’اغیار‘‘ ہونے کا حکم روا رکھا گیا کیوں کہ وہ یہودی نہیں تھے۔ صہیونی آئیڈیالوجی کا شووینی اور نسل پرستانہ مزاج اس امتیاز کی جڑ ہے۔

یہیں سمیح القاسم کا امتیاز طلوع ہوتا ہے۔ وہ جبری فوجی بھرتی کے قانون کے خلاف بغاوت کرنے والے اوائل کے معروف دروز نوجوانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پچاس کی دہائی کے اواخر میں انھوں نے ’’الحركة الشبابية للدروز الأحرار؍ آزاد دروز شبان تحریک‘‘ کی بنیاد رکھی اور بہت سے ہم عصروں کے لیے اخلاقی مثال بنے۔

سمیح نے عرب ابتدائی اسکولوں میں معلمی کی، مگر اسرائیلی وزیرِ تعلیم نے اسرائیل مخالف سیاسی موقف کے باعث برطرف کر دیا۔ حیفا کے صنعتی زون میں مزدوری کی، اسرائیلی انٹیلیجنس کے دباؤ پر وہاں سے بھی نکالا گیا۔ ناصرہ میں شہری منصوبہ بندی میں انسپکٹر رہے، عرب زمینوں کی بندر بانٹ کے خلاف احتجاجاً استعفا دے دیا۔ بعد ازاں صحافت ان کا مستقل میدان بنی۔

اہم صحافتی پڑاؤ

-ناصرہ میں ’’کلّ العرب‘‘ میگزین کے مدیرِ اعلیٰ۔

-’’الغد‘‘ کے مدیر۔

-’’الجديد‘‘ کے معاون مدیر، پھر مدیرِ اعلیٰ۔

-حیفا کے روزنامہ ’’الاتحاد‘‘ کے معاون مدیر۔

– ۱۹۶۶ء میں تل ابیب سے اُوری آونری کے جریدے  ’’هذا العالم؍HaOlam HaZeh‘‘ کے مدیر۔

– ۱۹۷۳ء میں عصام خوری کے ساتھ حیفا میں ’’عربسک‘‘  پبلیکیشنز کی تاسیس۔

-حیفا کی ’’المؤسسة الشعبية للفنون‘‘ کی ادارت۔

-’’اتحاد الکتّاب العرب في إسرائيل‘‘ اور ’’الاتحاد العام للکتّاب العرب الفلسطينيين‘‘ کی قیادت میں فعال کردار۔

-نبیہ القاسم کے ساتھ ثقافتی سہ ماہی مجلہ ’’إضاءات‘‘ کی ادارت۔

سمیح القاسم نے موت کو احتجاج، طنز اور تسلیمِ باوقار کے بیچ ایک مخصوص شعری لہجہ دیا:

– محمود درویش کی یاد میں مرثیہ  ’’خذني معك؍مجھے بھی اپنے ساتھ لے چل‘‘ (۱۰ ستمبر؍۲۰۰۸)

– اپنی ذات کے حوالے سے: ’’میں تم سے محبت نہیں کرتا، اے موت! لیکن میں تم سے خائف بھی نہیں…‘‘

– بیماری پر طنز: ’’اے سرطان! اپنا قہوہ نوش کر کہ میں تیرے نصیب کا فال اس پیالے میں پڑھوں!‘‘

– اپنی آخری رسومات کے لیے ریکارڈ پیغام:

’’جس دن میری روح اس آفاق سے نکل کر اُس شے میں داخل ہو جسے موت کہتے ہیں، میری تمنا ہے کہ میرے چہرے کی مسکراہٹ رخصت نہ ہو… میں اُن سب کا شکر گزار ہوں جو میرے جنازے میں شریک ہوں گے… اللہ آپ سب کو اجرِ عظیم عطا کرے۔‘‘

– جدوجہد:

سمیح نے نکبت (۱۰۴۸)، ہزیمتِ جون (۱۹۶۷ء)  اور اس کے بعد کے قتلِ عام، صبرا و شتیلا  (۱۹۸۲)، غزہ کی جنگیں (۰۹-۲۰۰۸ء، ۲۰۱۴ء) کو اپنی آنکھوں اور لفظوں سے دیکھا-جھیلا۔ ’’عربِ ۱۹۴۸ء‘‘  ہونے کے باعث انھوں نے جلاوطنی کے بجائے سرزمینِ آباء پر رہ کر جدوجہد کو شعار بنایا۔

– ابتدا اسرائیلی کمیونسٹ پارٹی ’’راکاح‘‘ سے یہاں امیل حبیبی، محمود درویش، توفیق زیاد، توفیق طوبی، امیل توما جیسے نام شریک تھے۔

– بعد ازاں اختلاف اور علیحدگی، سوویت یونین کی ایک کانفرنس کے پس منظر میں پارٹی کے اندر بحث کھولنے پر قدغن— اسے آپ اختیاری استعفا یا عملی اخراج سمجھیں— سمیح نے نہ ترقی پسند فکر چھوڑی نہ انقلابی بیانیہ۔

– ۱۹۷۴ء: ناصرہ میں ’’الجبهة الديمقراطية للسلام والمساواة‘‘ (جمہوری محاذ برائے امن و مساوات) کے بانیوں میں، چار اکائیوں کے اتحاد سے: کمیونسٹ پارٹی، جامعہ اساتذہ و معلمین کی انجمن، تاجروں و نجی شعبے کے نمائندے، اور عرب طلبہ کی کمیٹی۔

– الزامات :

سمیح القاسم پر بارہا معمول پرستی کے الزام لگے، صہیونی سیاسی ڈھانچے میں شرکت، سماجی ادارہ جاتی شرکت اور ادبی سطح پر ’’کلّ العرب‘‘ کے ایک اداریے میں ہیلی کاپٹر حادثے کے صہیونی فوجیوں پر گویا مرثیہ۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران تل الزعتر  (۱۹۷۶ء) کے محاصرے و قتلِ عام پر ان کی ’’خاموشی یا ناکافی ردِعمل‘‘ کو بھی ہدف بنایا گیا۔ شام کے صدر حافظ الاسد سے ان کی قربت ’’مدح و مراثی سمیت‘‘ اور ۲۰۰۰ء میں بشار الاسد سے ملاقاتیں بھی زیرِ بحث رہیں۔ تاہم ان کے مجموعی متن میں ترقی پسند فکر، عرب قومیت اور فلسطینی مزاحمت سے واضح انحراف کے شواہد نہیں ملتے۔ ان کے نزدیک شعر ہی ’’عدوّ الشمس‘‘ کے مقابل سب سے سخت ہتھیار تھا۔

 سمیح القاسم ’’عربِ ۱۹۴۸ء‘‘ کی عربی اسلامی تہذیبی نسبت کے مدافع رہے۔ کہتے ہیں کہ نکبت کے بعد اپنی زمین پر ڈٹے ۱۵۰ ہزار فلسطینیوں کی ثابت قدمی عرب افواج کی مجموعی کوشش سے زیادہ اثر انگیز ثابت ہوئی۔ آج یہ تعداد ڈیڑھ ملین سے متجاوز ہے، جسے قابض ریاست اپنی ’’اولین فکرمندی‘‘ اور ’’عبرانی جسم میں آبادیاتی سرطان‘‘ سمجھتی ہے۔ جیسا کہ سمیح کے اپنے الفاظ میں آیا ہے۔

سیاسی سرکشی اور ادبی موقف کے سبب انہیں بارہا نوکریوں سے نکالا گیا۔ اندرون و بیرونِ ملک جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں۔قید و نظربندی اور حراستی مراکز کا سامنا کیا۔ ان کے متون کو ریاستی نصاب سے خارج کیا گیا۔

– تصانیف:

نظمیں:                     

پہلی کتاب ’’مواكب الشمس‘‘ (۱۹۵۸ء)، اس کے بعد کئی سارے مجموعے۔ خطیبانہ اسلوب، حماسی نفس اور رزمیہ طویل نظمیں نمایاں ہیں۔ انہوں نے اپنے ملاحم کے لیے ’’سربیہ؍سربیات‘‘ کی اصطلاح برتی، جس کا تخیل کنعانی و شامی اساطیر سے غذا لیتا ہے اور قرآنی و توراتی متن سے مکالمہ کرتا ہے۔ قاسمی آہنگ میں ذاتی اور اجتماعی، محلی اور کونی، سیاست اور جمالیات یگانہ آمیزش پاتے ہیں۔

منتخب مجموعے:

’’سقوط الأقنعة‘‘ (۱۹۶۹ء)، ’’الموت الكبير‘‘ (۱۹۷۲ء)، ’’وما قتلوه وما صلبوه ولكن شُبّه لهم‘‘ (۱۹۷۶ء)، ’’أحبّك كما يشتهي الموت‘‘ (۱۹۸۰ء)، ’’قرابين‘‘ (۱۹۸۳ء)، ’’سأخرج من صورتي ذات يوم‘‘ (۲۰۰۰ء) ، وغیرہ۔

 ڈرامے:

’’قرقاش‘‘، ’’المغتصبة ومسرحيات أخرى‘‘۔

کہانیاں:          

’’إلى الجحيم أيها الليلك‘‘ (۱۹۷۷ء)، ’’الصورة الأخيرة في الألبوم‘‘ (۱۹۸۰ء)  جس میں عسکری صہیونی ریاست کو اپنی خونیں صورت کے روبرو کیا۔ ’’ملعقة سم صغيرة ثلاث مرات يومياً‘‘ (سوانحی حکایت، ۲۰۱۱ء)

تحقیق:

’’مطالع من أنطولوجيا الشعر الفلسطيني في ألف عام‘‘ (حیفا، ۱۹۹۰ء)۔

تنقید:

’’عن الموقف والفن‘‘ (دار العودة، بیروت، ۱۹۷۰ء)۔

خودنوشت:

’’إنّها مجرد منفضة‘‘ (نومبر؍ ۲۰۱۱ء)۔

توثیق:

’’الكتاب الأسود‘‘ اور ’’يوم الأرض‘‘ (صلیبا خمیس کے ساتھ، ۱۹۷۶ء)، ’’الكتاب الأسود‘‘ اور ’’المؤتمر المحظور‘‘ (امیل توما کے ساتھ، ۱۹۸۱ء)۔

ترجمہ:

برتولٹ بریخت کی منظوم حکایت ’’أولاد في حملة خلاص‘‘ (عبرانی سے، ۲۰۱۰ء)۔

مکاتبات:        

محمود درویش کے ساتھ ’’كتابات شطري البرتقالة‘‘ (الاتحاد، ۱۹۹۰ء کی دہائی)۔

تراجم:

انگریزی، فرانسیسی، ترکی، روسی، جرمن، جاپانی، ہسپانوی، یونانی، اطالوی، چیک، فارسی اور عبرانی میں۔

مجموعی کارنامے:

قریب 70 کتابیں — شعر، کہانی، ڈراما، سوانح، مضامین اور ترجمے پر مشتمل۔

خطابات و القاب:

’’فارس الشعراء‘‘، ’’سیّدِ قلاعِ ثلاثہ‘‘(شعر، تاریخ، وطنیت)، ’’شاعرِ مقاومتِ فلسطین‘‘، ’’شاعر مؤرخ‘‘، ’’شاعرِ خطابت‘‘، ’’شاعرِ عروبت بلا منازع‘‘، ’’شاعر العرب الأکبر‘‘، ’’سیّد الأبجدیة‘‘، ’’ابو وطن‘‘، ’’ابو الرجال‘‘، ’’شاعرِ قدی‘‘»، ’’قيثارة فلسطين‘‘، ’’متنبیٔ فلسطین‘‘ اور ’’شاعرِ شمس‘‘۔

– رحلت:

۱۹ اگست؍ ۲۰۱۴ء کو صفد کے ایک ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ تین برس پر محیط شدید جگر کے سرطان کی وجہ سے، آخری ایّام آئی سی یو میں بسر ہوئے۔

ــــــ

مستفاد از:

 – سمیح القاسم: دیوان سمیح القاسم، دارالعودۃ، بیروت، ۱۹۸۷ء۔

– العرب، شمارہ ۹۶۵۸، ۲۴ اگست؍ ۲۰۱۴ء: ’’سميح القاسم بين إنصاف النقّاد وغضب الشعوب‘‘۔

– سعاد قطنانی: سميح القاسم اكتمال الغياب واشتغال الذاكرة، القدس العربي، ۲۵ اگست؍ ۲۰۱۴ء۔

– جمعة ناجي: سميح القاسم… رحيل في غبار غزة، رأي اليوم، ۲۵ اگست؍ ۲۰۱۴ء۔

۰۰۰۰

Asad-Ullah_ Mir-Alhassani_اسد اللہ میر الحسنی - اردو مترجم۔ اردو مضمون نگار

اسد اللہ میر الحسنی

اسد اللہ میر الحسنی عصرِ حاضر کے نوجوان اہلِ قلم میں سے ہیں۔ مترجم، کہانی کار اور بین الاقوامی عربی کالم نگار کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ کراچی میں واقع معہد الخلیل الاسلامی میں وہ عربی ادب، لسانیات اور صحافت کے استاد ہیں اور تدریس کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی عالمی علمی و ادبی اداروں جیسے جامعۃ العرب للثقافة والأدب (بغداد)، الاتحاد الدولي للكتاب العرب (لندن) اور النورس الثقافية سے فعال وابستگی رکھتے ہیں۔ سہ ماہی عربی مجلہ ’’المجد‘‘ کے معاون مدیر ہیں۔

ان کے تراجم، مضامین اور فکری مقالات الجزائر، قطر، عراق، مصر، سعودی عرب، پاکستان اور فرانس کے موقر جرائد و مجلات میں شائع ہو کر علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ انھیں عالمی سطح پر متعدد ادبی و فکری ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا جا چکا ہے۔

اس وقت ان کے بعض تراجم سعودی عرب کے ایک عالمی ترجمہ منصوبے کے تحت زیورِ طبع سے آراستہ ہو رہے ہیں، جب کہ وہ مختلف بین الاقوامی جامعات اور پلیٹ فارمز پر لیکچرز دینے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی مجالس کی میزبانی اور ادارت بھی کرتے ہیں۔

نمایاں تصنیفات و تراجم

۱۔سر اليد المفقودة (پاکستان و مصر)، ۲۔دراسة في المصطلحات (پاکستان)، ۳۔قناديل (پاکستان)، ۳۔على ضفاف البحر (ترجمہ ؍پاکستان) – جائزة الشيخ حمد للترجمة والتفاهم الدولي – قطر کے لیے نام زد، ۴۔أحلام ضائعة في الماء (ترجمہ ؍ فرانس)، ۵۔رحلة من الواقع إلى الجنون (ترجمہ ؍ فرانس)، ۶۔سيتا زينب (ترجمہ / فرانس)، ۷۔عيد ميلاد الجثة (ترجمہ ؍ سعودی عرب) – مبادرة ترجم کے لیے نامزد، ۷۔بارش تلے محبت (ترجمہ ؍ پاکستان)، ۸۔شبِ ارزاں (ترجمہ ؍ پاکستان) – زیرِ طبع،۹۔الکابوس (ترجمہ ؍ مصر) – زیرِ طبع، ۹۔الأبطال الخارقون (ترجمہ ؍ پاکستان) – زیرِ طبع، ۱۰۔زین کی شادی (ترجمہ ؍ پاکستان) – زیرِ طبع۔

۰۰۰

Leave a Comment

تراجم عالمی ادب